ہندوستانی مسلمانوں سے ایک اپیل
غریب اور پسماندہ، آدمی کو ہر شخص مشورہ دینا اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے ، کچھ ایسی ہی صورت حال ہمارے ملک میں ہر چھوٹے بڑے انتخابات کے موقع پر سامنے آتی ہے- مسلمانوں کی ہر پارٹی اور ہر دانشور مسلمانوں کو یہ مشورہ دینا نہیں بھولتا کہ وہ صرف سیکولر امیدوار کو ہی اپنا ووٹ دیں- آج ہر امید وار ہر پارٹی خود کو سیکولر بھی قرار دیتی ہے اور مسلمانوں کے سب سے بڑے بہی خواہ ہونے کا دعوی بھی کرتی ہے، یہاں تک کہ آر ایس ایس، بی جے پی ، شیو سینا جیسی مسلم دشمن پارٹیاں بھی خود کو سیکولر ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں-چنانچہ سیکولرزم کے جنگل اور بہی خواہوں کی بھیڑ میں عام طور پر مسلمانوں کے ذہن میں انتشار پیدا ہوتا ہے اور وہ کسی صحیح نتیجہ تک نہیں پہنچ پاتے- کوئی پارٹی یا کوئی دانشور عام مسلمانوں کے سامنے کوئی دوٹوک بات کہنے سے گریز کرتا ہے- خدا کا شکر ہے کہ گزشتہ 60 سال میں مسلسل سیاسی اور سماجی آزمائشوں کی بھٹی میں تپنے کے بعد ہندوستانی مسلمانوں میں بہت کچھ سیاسی اور سماجی شعور پیدا ہو چکا ہے اور حالات، واقعات اور حادثات کے تجزیہ کی روشنی میں ان کے اندر قوت فیصلہ بھی پیدا ہو چکی ہے-آج ہندوستانی مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ اسے کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے- باہمی تبادلہ خیال کی ضرورت آج بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گی- لہذااسی ضرورت کے پیش نظرآج ہم ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے موجودہ سیاسی ریشہ دوانیوں کی صورت حال پیش کرتے ہوئے ان سے ایک درد مندانہ اپیل کررہے ہیں- اس اپیل میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو عملی سیاست کے طویل تجربات اور مشاہدات اپنے دامن میں رکھتے ہیں اور وہ سیاسی مفکرین بھی ہیں جن کا عملی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ ہندوستان کے گزشہ 60 سال کے سیاسی سفر اور اس کے نشیب وفراز کی تاریخ اور مدوجزر کی روشنی میں اپنی ایک مدلل رائے رکھتے ہیں- یہ مشورہ نہیں، ایک اپیل کی صورت میں مسلمانوں کے سامنے ایک نقطہ نظر پیش کیا جارہا ہے تا کہ موجودہ عام انتخابات میں وہ اپنے ووٹ کا فیصلہ کرتے وقت اس نقطہ نظر کو سامنے رکھیں-
موجودہ عام انتخابات کئی اعتبار سے ایک خاص اہمیت رکھتے ہیں- پہلی بات تو یہ ہے کہ جب ہم ہندوستانی مسلمانوں نے آزاد ہندوستان میں قدم رکھا تو ہمارے ذہنوں میں ایک قسم کا احساس جرم اور ناکردہ گناہوں کا شدید احساس طاری تھا-خدا کا شکر ہے کہ اس زمانے میں وہ قدآور رہنما موجود تھے جنہوں نے انڈین نیشنل کانگریس کے پلیٹ فارم سے ہندوستان کی جنگ آزادی میں اپنی پوری زندگیاں جھونک دی تھیں، اور بہ یک وقت ہندو فرقہ پرستی، مسلم لیگی فرقہ پرستی اور برطانوی سامراج سے مقابلہ کیا تھا- ان بزرگوں نے ہمارے اندر ایک نیا اعتماد پیدا کرتے ہوئے جمہوری سماج میں ہمارے حقوق کی بے باک اور نہایت جراٴت مندانہ وکالت کی-پھر بھی تقسیم ہند کاکابوس کسی نہ کسی طرح ہمارے وجود پر سوار رہا جس کی وجہ سےآگے بڑھنے کی ہمارے رفتار بہت سست رہی لیکن مختلف آزمائشوں سے گزرنے کے بعد آج خدا کا شکر ہے کہ وہ صورت حال باقی نہیں ہے-
سیکولر طاقتوں کی کمزوری اور انتخابی مجبوری اور آئین کی دی ہوئی بعض آزادیوں کے نا جائز اور غیر قانونی استعمال کی وجہ سے فاشسٹ قوتوں نے سر اٹھا نا شروع کیا جن کی زد سب سے پہلے مہاتما گاندھی پر پڑی- یہ طاقتیں ایک طرف پاکستانی فرقہ پرستی اور ملک کی تقسیم کے لئے مسلمانوں کو ذمہ دار قرار دے کر انہیں معتوب قرار دے رہی تھیں-ان کے معاشی اور جمہوری حقوق کی بازیابی میں رخنہ ڈال رہی تھیں اور دوسری طرف کانگریس پارٹی ان کی دشمنی اور عتاب کا نشانہ اس لئے بنی ہوئی تھی کہ وہ برابر مسلمانوں اور دوسرے پسماندہ طبقات کے تحفظ اور ان کی بقا کے لئے لڑائی لڑرہی تھیں- کانگریس کے علاوہ کوئی بھی دوسری پارٹی ایسی نہیں تھی جو پورے اعتماد کے ساتھ مظلوم اور محروم مسلمانوں کی با معنی مدد کے لئے آمادہ ہوتی-چنانچہ آج تک ملک میں فاشسٹ قوتوں کے مقابلے میں ملک گیر سطح پر تنہا کانگریس پارٹی ہی ایک مضبوط حریف کی حیثیت سے ڈٹی ہوئی ہے اور وہ اپنی بنیادی پالیسیوں یعنی سیکولرزم، جمہوریت اور سماجی انصاف کی پابند ہے-
ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں کوئی سیاسی قیادت ایسی نہیں ہے جس میں وقت کے ساتھ بعض کمزوریاں پیدا نہ ہوئی ہوں- کانگریس کا ایک دور تھا جب 1950 میں پرشوتم داس ٹنڈن سردار پٹیل کی حمایت سے کانگریس کی صدارت تک پہنچے-آزاد ہندوستان میں پہلے انتخابات قریب تھے چنانچہ پنڈت جواہر لال نہرو ہرگز نہیں چاہتے تھے کہ ٹنڈن صاحب کو کانگریس کے صدر کی حیثیت سے پارٹی کے سیکولر نظریات کی قیمت پر سمجھوتہ کرنے کا کوئی موقع ملے- چنانچہ انہوں نے کانگریس ورکنگ کمیٹی سے استعفی کا اعلان کردیا جس سے پوری پارٹی میں کھلبلی مچ گئی، یہاں تک کہ ابو الکلام آزاد ، رفیع احمد قدوائی اور دوسرے قد آور لیڈروں نے ٹنڈن صاحب کو استعفی دینے پر مجبور کرنے کے لئے ایک علیحدہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ کیا اور پنڈت جی کو اس ورکنگ کمیٹی میں شمولیت کے لئے تیار کیا چنانچہ بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ میں پرشوتم داس ٹنڈن کو استعفی دینا پڑا-پنڈت جواہر لال نہرو ہندی کی بے جا وکالت اور ان کی مہا سبھائی وچار دھارا کی ہمیشہ مخالفت کرتے رہے تھے- لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ظاہر کہ پنڈت جواہر لال نہرو، ابو الکلام آزاد، رفیع احمد قدوائی اور ان کے ہمعصر قدآور لیڈروں جیسی استقامت کم ہوتی چلی گئی، پھر بھی کانگریس پارٹی کی بنیادی پالیسیوں میں کوئی فرق نہیں آیا-یہ صحیح ہے کہ مسلمانوں کو ان کے جمہوری حقوق اور اقتدار میں وہ حصہ نہیں ملا جس کے وہ مستحق تھے- ان کے تشخص کے تحفظ کا مسئلہ بھی پوری طرح حل نہیں ہو سکا-اس عرصہ میں مرکزی حکومت میں بھی تبدیلیاں ہوئیں- وشو ناتھ پرتاپ سنگھ کی حکومت میں فاشسٹ قوتوں کو پوری آزادی ملی اور انہیں حکومت میں بھی شامل کیا گیا- اجودھیا میں رام مندر کے نام پر لال کرشن اڈوانی کی خونی یاترا بھی اسی دور میں شروع ہوئی، نتیجہ یہ نکلا کہ بابری مسجد کی شہادت کا اندوہناک واقعہ پیش آیا- کانگریس نے اپنی اس کمزوری کو نہ صرف بار بار تسلیم کیا بلکہ اس کے لئے معافی بھی مانگی-اس حقیقت کے پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ بابری مسجد کی شہادت سے ایک طرف مسلمانوں کو نا قابل برداشت ، جذباتی تکلیف اور پھر خوں ریز فسادات سے گزرنا پڑا لیکن دوسری طرف کانگریس کو بھی اقتدار اعلی سے ہاتھ دھونا پڑے- نقصان مسلمانوں اور کانگریس پارٹی دونوں کو ہوا، صرف نوعیت مختلف تھی-
میڈم سونیا گاندھی ایک صاف ذہن، ایک مضبوط قوت فیصلہ کی مالک ہیں- ان کی قیادت میں کانگریس پارٹی ایک بار پھر سیکولرزم، جمہوریت اور سماجی انصاف کی بنیادی پالیسیوں کی روشنی میں اپنے کھوئے ہوئے وقار اور اعتماد کو حاصل کرنے کے لئے تیزی سے قدم بڑھا رہی ہے-چونکہ وہ خود بھی ایک ایسی مذہبی اقلیت سے تعلق رکھتی ہیں جو مسلسل ظلم اور نا انصافی کا شکار ہے اس لئے ان سے زیادہ اقلیتوں کا درد کوئی دوسرا محسوس نہیں کرسکتا-
ان مختصر گزارشات کی روشنی میں مسلمانوں کو بھی اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنا چاہئیےکیونکہ کانگریس پر ان کا حق ہے- جسٹس بدر الدین طیب جی سے لے کر آج تک وہ کانگریس پارٹی کی تشکیل وتعمیر میں پیش پیش ہیں- کانگریس پارٹی ہی ایک واحد پارٹی ہے جس سے مسلمانوں کا مزاج مطابقت رکھتا ہے- اپنی پارٹی کو چھوڑدینا ہمارے مسائل کا حل نہیں ہو سکتا- آپ دیکھ رہے ہیں کہ جن لوگوں نے جوش وجذبات میں اپنی پارٹی چھوڑی ہے-آج وہ کسمپرسی میں مبتلا ہیں- اس لئے جو مسلمان لیڈر کانگریس کی صفوں میں شامل ہیں ان کی آواز کو با اثر بنانے کے لئے بھی ضروری ہے کہ ان عام انتخابات میں کانگریس کو ووٹ دے کر ان کی آواز کو مزید با اثر بنائیں تاکہ پارٹی پر ایک جمہوری دباؤ بنانے میں مدد ملے-