اردو اخباروں کے مدیران سے وزیر اعظم کی ملاقات
(وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے گزشتہ 10اپریل2009 کی شام نئی دہلی کے تاج پیلس ہوٹل میں ملک بھر سے آئے ہوئے اردو اخبارات کے مدیران سے ملاقات کی۔اس موقع پر وزیر اعظم سے مختلف موضوعات پر سوالات بھی کئے گئے جن کے وزیر اعظم نے اطمینان بخش جوابات دئے۔اس موقع پر انڈین نیشنل کانگریس کے انتخابی منشور کے اردو ایڈیشن کی کاپیاں بھی تقسیم کی گئیں اور انڈین نیشنل کانگریس کی اردو ویب سائٹ سے بھی حاضرین کو روشناس کرا یا گیا۔ اس تقریب کے سلسلے میں مختلف اخبارات اور خبر رساں ایجنسیوں نے جو رپورٹیں شائع کی ہیں، ان میں سے چند یہاں پیش کی جارہی ہیں)
نئی دہلی،11/ اپریل (معصوم مرادآبادی) وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اعلان کیا ہے کہ گیارہویں پنج سالہ منصوبہ میں اقلیتوں کی فلاح وبہبود کے لئے سات ہزار کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ گزشتہ شب یہاں ملک بھر سے آئے ہوئے اردو اخبارات کے ایڈیٹرز سے تفصیلی ملاقات کے دوران انہوں نے اعتراف کیاکہ ملک میں مسلمانوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے اور انہیں بعض جگہوں پر دہشت گردی کے نام پر ہراساں کیاجارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک سکھ ہونے کے ناطے مسلمانوں کے اس دردکو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اس لئے دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں کو پریشان کیا جانا کبھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر اردو مدیران کے کئی ترش وشیریں سوالوں کے جوابات دئیے
کانگریس پارٹی کے انتخابی منشور کے اردو ایڈیشن کے اجراءاورکانگریس کی اردو ویب سائٹ کا افتتاح کرتے ہوئے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے مزید کہاکہ جب تک ملک کی ترقی میں 15 کروڑ مسلمانوں کی حصہ داری نہیں ہوگی اس وقت تک ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی مہم چلانی ہوگی جس سے ملک کا ہر مسلمان ترقی کا شریک بن سکے۔
وزیراعظم نے اس موقع پر سچر کمیٹی ،15 نکاتی پروگرام ،رنگاناتھ مشرا کمیٹی اور دیگر امور پر کھل کر اظہار خیال کیا اور یہ پہلا موقع تھا کہ کسی وزیراعظم نے بار بار مسلمانوں کا نام لے کر ان کے مسائل پر گفتگو کی اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ یہ مسلمانوں کے ساتھ کسی بھی سطح پر برتی جانے والی ناانصافی کا ازالہ کیا جائے گا۔ سچرکمیٹی کی تشکیل اور اس کی سفارشات پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس رپورٹ سے یہ ثابت ہوگیاہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کو کن مشکلات کا سامنا ہے اور ترقی کے عمل میں ان کی حصہ داری کی صورتحال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سچر کمیٹی کی تشکیل کا مقصد دراصل مسلمانوں کی معاشی تعلیمی اور سماجی کیفیت کاپتہ لگاناتھا اوراس کمیٹی نے مسلمانوں کے مسائل کی نشاندہی کرکے جو سفارشات پیش کی ہیں ان پر عمل درآمد جاری ہے لیکن اس راہ میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ۔ وزیراعظم کے15 نکاتی پروگرام میں اس کا پورا عکس موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمتوں اور نیم فوجی دستوں میں اقلیتوں کے تناسب میں اضافہ سچر کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کا ہی ایک حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی غلبہ والی آبادیوں میں سروشکشا ابھیان کے تحت اسکول قائم کرنے اور بینکوں سے آسان قرض کی فراہمی کےلئے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔
وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا کہ اقلیتوں کی ترقی کے اس عمل کوجاری رکھنے اور ان میں خود اعتمادی اور تحفظ کا احساس پیدا کرنے کے لئے یہ بے حد ضروری ہے کہ ملک کی حکومت ایک سیکولر پارٹی کے ہاتھوں میں ہو۔ کانگریس ہی ایسی پارٹی ہے جو مذہب ذات پات یا کسی کے ساتھ کوئی تفریق نہیں کرتی کیوں کہ اس پارٹی میں تمام مذاہب اور عقیدوں کے لوگ ایک خاندان کی طرح رہتے ہیں ۔ انہوں نے اس موقع پر اردو اخبارات کے مدیروں سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ سیکولر کانگریس کا یہ پیغام تمام مسلمانوں تک پہنچانے میں ہماری مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ وعدہ ہے کہ مسلم پرسنل لاءمیں اس وقت تک کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی جب تک کہ خود مسلمانوں کی طرف سے اس کا مطالبہ نہ کیا جائے۔
وزیراعظم نے مسلمانوں کی مشکلات کوسمجھنے اورانہیں حل کرنے کے سلسلے میں اقلیتی امور کی وزارت کے قیام اوراس کی کارکردگی پر روشنی ڈالی۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں رنگاناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کو پارلیمنٹ میں پیش نہ کئے جانے کا سبب بتاتے ہوئے کہا کہ اس میں اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کی جو سفارش کی گئی ہے اس پر قومی سطح پر مفاہمت پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اگر ہم اس مفاہمت کو پیدا کئے بغیر پارلیمنٹ میں رپورٹ پیش کرتے تو دوسری پارٹیوں کواس پر اعتراض ہوتا-انہوں نے دہشت گردی کے نام پر بے گناہ مسلمانوں کی گرفتاری کے بارے میں کہا کہ وہ مسلسل صوبوں کو اس بات کی یہ ہدایت دیتے رہے ہیں کہ انسانی حقوق کی پامالی کسی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی۔ اور اس سلسلے میں ہر صوبے میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں اقلیتی فرقہ کے لوگوں کو بھی نمائندگی دی جائے گی۔ انہوں نے مسلمانوں سے یہ اپیل کی کہ وہ پوری شدومد کے ساتھ دہشت گردی کی مخالفت کریں کیوں کہ دہشت گردی کی زد میں آنے والے بہت سے لوگ غریب مسلمان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو کسی مخصوص فرقے کو اس کا نشانہ بنایاجاتا ہے ۔ انہوں نے آسام کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے دھماکے میں متاثرہ افراد میں بہت سے غریب مسلمان تھے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا الزام پورے فرقہ پر تھوپنا ملک کا بڑا نقصان ہے ۔ پارلیمنٹ میں زیرالتوا فسادمخالف قانون کے بارے میں انہوں کہا اس مسودہ پر بہت سی مسلم تنظیموں کو اعتراض تھا۔ اس لئے اس بل کی خامیاں دور کرنے کے بعد اسے دوبارہ پارلیمنٹ میں لایاجائے گا۔ وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ مسلمانوں کی مشکلات کے ازالہ کیلئے اردو ایڈیٹرز کی کچھ کمیٹیاں تشکیل دینے پر غور کریں گے جو مختلف وزارتوں کے تحت ہوں گی۔
اس موقع پر کانگریس اقلیتی ڈپارٹمنٹ کے چیئر مین عمران الرحمن قدوائی نے اردو مدیروں اور وزیراعظم کے درمیان رابطہ کا کام کیا اور تمام مدیران کا استقبال کرتے ہوئے ملک کی سیکولر اقدار کے فروغ میں اردو اخبارات کے رول کو سراہا۔
جب تک ملک کے 15کروڑ مسلمان پیچھے رہیں گے
ہندوستان آگے نہیں بڑھ سکتا:وزیر اعظم
نئی دہلی، 11/ اپریل (یو این ائی) وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ جب تک ملک کے پندرہ کروڑ مسلمان ترقی کے میدان میں پیچھے رہیں گے ہندستان آگے نہیں بڑھ سکتا اس لئے ان کی حکومت اقلیتوں کو نہ صرف نیم فوجی دستوں میں ان کے تناسب کے حساب سے نمائندگی دینا چاہتی ہے بلکہ سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹر میں بھی ان کی مناسب حصہ داری کے لئے کوشاں ہے۔’نیم فوجی دستوں میں مسلمانوں کی نمائندگی دس فیصد سے زیادہ ہوچکی ہے لیکن ہماری یہ کوشش ہے کہ یہ نمائندگی 15 فیصد تک پہنچے۔ اسی طرح سرکاری اداروں میں مسلمانوں کو ریزرویشن مہیا کرنے کے لئے ہم قومی اتفاق رائے قائم کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہاں بھی ان کی نمائندگی متناسب ہوسکے۔‘ اس ضمن میں انہوں نے کہا کہ سرکار پوری طرح سرگرم عمل ہے۔ان باتوں کا خلاصہ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کل یہاں ملک بھر سے آئے اردو اخبارات کے ایڈیٹروں اور سینیئر صحافیوں کے ساتھ ایک مفصل ملاقات میں کیا۔ اس ملاقات میں مسلم نوجوانوں کو ہراساں اور پریشان کرنے کے واقعات کو بھی وزیراعظم کے علم میں لایا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ’میں ایمانداری سے کہتا ہوں کہ مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں اور پبلک سیکٹر کے بنکوں میں حصہ نہیں مل رہا ہے۔ یہ حصہ جتنا ملنا چاہئے اتنا نہیں ہے۔ اسی لئے کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کا عہد کیا ہے۔بہت سارے صحافیوں نے مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے جھوٹے معاملات میں پھنسانے میں سیکورٹی ایجنسیوں کے رول پر نکتہ چینی کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں وزیر داخلہ کے علاوہ متعلقہ وزرائے اعلٰی سے بھی رجوع کریں گے اور تفصیلات حاصل کریں گے۔ اگر یہ ثابت ہوا کہ کسی بے گناہ کو ملوث کیا گیا ہے تو متعلقہ حکام کے خلاف حسب ضابطہ کارروائی کی جائے گی اور متاثرین کو معاوضہ بھی دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت انسانی حقوق کی پامالی کو قطعی برداشت نہیں کرے گی ’میری حکومت اس معاملے میں کسی بھی زیادتی کو رتی برابر برداشت نہیں کرے گی۔‘ڈاکٹر سنگھ نے تجویز رکھی کہ انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات کی جانچ پڑتال کے لئے ایک غیر جانبدار کمیٹی تشکیل دینی چاہئے اس کمیٹی میں معاشرے کے مختلف طبقوں کے نامور سماجی ارکان کے علاوہ انسانی حقوق کے نمائندوں کو شامل کرنا چاہئے۔دہشت گردی کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ اسے مذہب کے ساتھ جوڑنا سراسر ناانصافی ہوگی کیونکہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم سب کو متحد ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سکھ ہونے کے ناطے انہیں اس بات کا احساس ہے کہ مسلمانوں کو اس وقت کن دشواریوں سے گزرنا پڑرہا ہے۔وزیراعظم نے اس بات کا اعتراف کیا کہ سچر کمیٹی کی سفارشات اور 15 نکاتی پروگرام پر عمل درآمد میں کافی رکاوٹیں پیش آرہی ہیں اور کہا کہ ہمیں ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اقلیتوں سے متعلق اسکیموں پر عمل درآمد پر کڑی نگاہ رکھی جاسکے اور یہ پتہ چل سکے کہ عمل آوری میں کہاں خلل پڑرہا ہے۔ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ یو پی اے حکومت نے فسادات روکنے کےلئے ایک بل پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا لیکن بہت ساری مسلم تنظیموں نے اس میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی جس کی وجہ سے اس پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ اگر یوپی اے کو دوبارہ اقتدار ملتا ہے تو اولین فرصت میں ایک جامع بل پاس کرنے کی کوشش کی جائے گی۔وقف جائیداد کو ناجائز قبضوں سے آزاد کرانے کےلئے بھی انہوں نے عملی اقدامات کا وعدہ کیا تاکہ رحمان خان کمیٹی کی سفارشات عمل میں آسکیں اور ان جائیداد کا فیض حقیقی مستحقین تک پہنچ سکے۔انہوں نے جسٹس مارکنڈے کٹجو کے داڑھی سے متعلق مبینہ ریمارک پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا لیکن اس بات کا یقین دلایا کہ ان کی حکومت مسلم پرسنل لا میں کوئی بھی تبدیلی نہیں لائے گی اور اردو ٹی وی چینل، مولانا آزاد ایجوکیشن فاونڈیشن، قومی اقلیتی ترقیاتی و مالیاتی کارپوریشن کو مسلمانوں کیلئے فعال بنانے کے مزید اقدامات کئے جائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ اقلیتوں کی مشکلات کے ازالے کےلئے اردو ایڈیٹرس کی کمیٹیاں تشکیل دینے پر غور کیا جائے گا۔ کانگریس کے اقلیتی محکمے کے چیئرمین عمران قدوائی نے اس موقع پر کہا کہ ان کی پارٹی اردو صحافیوں کے ساتھ برابر رابطہ رکھے گی تاکہ ان کی ذریعہ بھی اقلیتوں کے مسائل کے بارے میں جانکاری حاصل ہوسکے۔انہوں نے اردو اخبارات کے سیکولر کردار کی ستائش کی اور کہا کہ صحافت کے میدان میں اردو جرنلزم نمایاں کردار ادا کررہی ہے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کانگریس پارٹی کی اردو ویب سائٹ کا افتتاح بھی کیا۔