عام انتخابات اور مسلمان
ڈاکٹر خاور ہاشمی
ایک بار پھر امتحان قریب آ گیا ہے لیکن حسب سابق مسلمانوں نے اس کے لئے سنجیدگی کے ساتھ کوئی تیاری نہیں کی ۔ ایک بار پھر وہ ہوم ورک کئے بغیر میدان میں اتریں گے اور حسب سابق خالی ہاتھ واپس آئیں گے۔ عام انتخابات میں صرف چندر روز باقی ہیں۔ ہم مسلمانوں کو فرداً فرداً اور اجتماعی طور پر کوئی ایسی حکمت عملی بنانی ہوگی جس سے ملّی اور قومی مفادات وابستہ ہوں۔ جمہوریت میں جہاں ایک طرف فرد کی بنیادی اہمیت ہوتی ہے وہیں دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ اجتماعی اور اکثریتی فیصلوں سے ملک و قوم کی تقدیریں بنتی اور بگڑتی ہیں۔ اس کے باوجود کہ موجودہ دور میں ہمارا ملک اور ہماری قوم سیاسی انتشار کا شکار ہے۔ ہر سیاسی لیڈر اور پارٹی کا اولین مقصد اقتدار حاصل کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی نظام سے عام لوگوں کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔ کوئی پارٹی یا اس کا کوئی لیڈر ایسا نہیں ہے جسے واقعی عوام کا اعتماد و احترام اور محبت حاصل ہو۔ عوامی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والا ہر لیڈر خود کو عوام کے درمیان غیر محفوظ سمجھتا ہے۔ چنانچہ لیڈر کے بڑے اور چھوٹے ہونے کا پیمانہ وہ سیکورٹی بن چکی ہے جو اسے سرکاری طور پر حاصل ہوتی ہے۔ یہ سب زمینی حقیقتیں ہیں جنہیں ہم اچھی طرح سمجھتے بھی ہیں اور ان کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ہم نے اپنے ووٹ کی طاقت سے سیاسی نظام میں اصلاح اور تبدیلی کی کوشش کی ہو۔ میں یہاں مسلمانوں سے مخاطب ہوں کیونکہ وہ جس مذہب کے پیروکار ہیں وہ خود ایک فیصلہ کن انقلاب تھا جس کا مقصد اقتدار حاصل کرنا نہیں تھا۔ اسی لئے اس ہمہ گیر انقلاب نے لوگوں کی زندگیاں، سماجی فکر، زندگی اور کائنات کے تعلق سے ان کے نقطہ نظر میں جو تبدیلی پیدا کی اس کے دور رس اثرات سے آج بھی دنیا کی باطل پرست قوتیں خوفزدہ ہیں جن کی نمائندگی عالمی سطح پر امریکہ اور ملکی سطح پر آر ایس ایس کے ہاتھوں میں ہے اسی لئے مسلمانوں کو جمہوری تقاضوں کو سمجھتے ہوئے نہایت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوگا۔
ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنا ہے کہ انتخابات کے تناظر میں پارٹیوں کی اہمیت سب سے زیادہ ہوتی ہے اس لئے کہ جو پارٹی اکثریت حاصل کرتی ہے اسی کے زیر اثر سیاسی اور معاشی نظام ہی نہیں بلکہ فکر و عمل کے تمام گوشے آ جاتے ہیں۔ انفرادی طور پر بہت سے لوگ الیکشن کے میدان میں اترتے ہیں جنہیں آزاد امیدوار کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ علاقائی پارٹیاں بھی مسلمانوں کے ووٹوں کی طلب گار ہوتی ہیں اور اپنی پارٹیوں کے امیدوار میدان میں اتارتی ہیں۔ لیکن ایسے لوگ اور پارٹیاں مسلم ووٹوں کا سودا کسی بڑی پارٹی سے کر لیتی ہیں اور مسلمانوں کا اعتماد دوسروں کے ہاتھوں فروخت کر دیا جاتا ہے۔ اس لئے سب سے پہلے مسلمانوں کو ایسی انتخابی حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی جس سے کوئی بھی امیدوار یا پارٹی ان کے اعتماد کو دوسرے کے ہاتھوں فروخت نہ کر سکے۔ چنانچہ ہمیں کسی نہ کسی ملک گیر پارٹی کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ملک میں جو بڑی پارٹیاں ہمارے سامنے ہیں ان میں کوئی ایک اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر آئندہ حکومت بنائے گی۔کانگریس اور بی جے پی کے علاوہ کوئی تیسری پارٹی یا چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کا گٹھ بندھن ایسا نہیں جسے سیاسی اقتدار حاصل ہونے کا امکان ہو۔ ان حالات میں ہمیں مذ کورہ دو بڑی پارٹیوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی بنیادہی مسلم دشمنی اور اسلام دشمنی پر رکھی گئی ہے۔فاشزم کی وچار دھارا پر چلنے والی اس پارٹی کے پاس مسلم دشمنی کے علاوہ کوئی ایجنڈا نہ پہلے تھا اور نہ آج ہے۔ یہ پارٹی آر ایس ایس کے ایک سیاسی ونگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے فکرو عمل کی زد میں تو صرف مسلمان اور عیسائی ہیں لیکن وہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے ہندو عوام کو بھی بری طرح مسلم فوبیا میں مبتلا کرکے ان کے اندر نفرت، فریب اور خوف کی ذہنیت پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کی وجہ سے خود ہندو سماج کو زبردست نقصان پہنچ رہا ہے اور پورے ملک میں بد امنی اور سیاسی و سماجی عدم استحکام کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ مسلم مخالف رجحانات بڑھتے بڑھتے اب پورے ہندوستانی سماج میں کینسر کی طرح پھیلنے لگے ہیں ۔انتہا یہ ہے کہ اس دہشت گرد وچار دھارا کے سہارے وزارت عظمیٰ کو کرسی تک پہنچنے والے مہا کوی سویم سیوک شری اٹل بہاری واجپئی کو کہنا پڑا تھا ”میں دنیا کو کیا منہ دکھاؤں گا“۔ اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ایک طرف تو بابری مسجد اور گجرات مسلمانوں اور بی جے پی کے درمیان میں حائل ہے اور دوسری طرف ایک مسلمان تمام تر خرابیوں کے باوجود فاشزم کی حمایت نہیں کر سکتا۔
صوبہ سندہ کی دھرتی سے دو مہا پروشوں نے جنم لیا ایک مسٹر محمد علی جناح اور دوسرے سویم سیوک لال کرشن اڈوانی۔ دونوں مہاپروشوں کی سوچ میں، طریقہ کار میں جتنی مماثلت ملتی ہے وہ کسی بھی پارٹی یا کسی بھی ملک کے دو لیڈروں کے درمیان نہیں ملتی۔ مسٹر محمد علی جناح نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے برٹش سامراج کے آشیِرواد اور سرپرستی کے ساتھ ہندو مسلمانوں میں تفریق پیدا کرکے ویر ساورکر کے پیش کردہ دو قومی نظریے کی از سر نو بنیاد ڈالی اور اسی بنیاد پر عظیم تر ہندوستان کی تقسیم کا مطالبہ کیا۔ پاکستان کی تحریک مختلف مرحلوں سے گزرتی ہوئی آگے بڑھتی رہی اور ہندوستان کے علماءاسلام اور سیکولر طبقے اسے روکنے میں ناکام رہے۔ اسلام کے نام پر مشترکہ سماج کی تقسیم اگر جائز ہوتی تو علماءاسلام پاکستان تحریک کی ہرگز مخالفت نہ کرتے۔ چونکہ مسٹر جناح برائے نام ہی مسلمان تھے۔ اس لئے اسلامی عقائداور مزاج کو سمجھنے سے قاصر تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں جتنی معلومات مہاتما گاندھی کو تھی اس کے مقابلے میں مسٹر جناح اس کا عشرِ عشیر بھی اسلام کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔ انہوں نے پاکستان کا کیس ایک مقدمہ کی طرح لڑا اور کامیاب ہوئے۔پارٹیشن کا اعلان ہوتے ہی اسلام اور مسلمانوں کے یہ نام نہاد مسیحا، کروڑوں ہندوستانی مسلمانوں کو ہندوستان میں بے سہارا چھوڑ کر کراچی کی طرف کوچ کر گئے اور ہندوستانی مسلمان اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا آج تک بھُگت رہے ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سب سے بڑے لیڈر سویم سیوک شری لال کرشن اڈوانی بھی یہی کام کر رہے ہیں اور انہوں نے بھی ملک کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان خلیج پیدا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جناح صاحب اور اڈوانی جی کا مزاج اور ذہن کس حد تک ملتا ہے، ان دونوں مہاپرشوں میں کتنے گہرے اور مضبوط جذباتی رشتے ہیں، اس کا ثبوت سویم سیوک شری لال کرشن اڈوانی کی پاکستان یاترا سے ملتا ہے۔ پاکستان پہنچ کر اڈوانی جی یہ بھول گئے کہ جس سنگھ پریوار میں ان کی تربیت ہوئی اور جس کے بل بوتے پر وہ ہندوستان کے نائب وزیر اعظم کے عہدے تک پہنچے اس کی پوری عمارت ہی پاکستان اور مسلم دشمنی پر کھڑی ہے۔ انہوں نے پاکستان میں نہ صرف قائدہ اعظم محمد علی جناح کے مزار پر پوری محبت اور عقیدت کے ساتھ حاضری دی بلکہ وہ اپنی وچار دھارا اور ہندوستان میں اپنے آشرے داتاؤں کو اس حد تک بھول گئے کہ سنگھ پریوار کی پالیسیوں اور وچار دھاراؤں کے بالکل خلاف مسٹر جناح کا قصیدہ پڑھنے لگے۔ ہندوستان واپس آنے کے بعد انہیں اپنی اس سنگین بد عنوانی کے لئے معتوب ہونا پڑا لیکن سنگھ پریوار اور اڈوانی جی دونوں ایک دوسرے کی ضرورت اور ایک دوسرے کی کمزوری تھے اس لئے بڑی مشکل سے ان کی خطائیں معاف ہوئیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی اڈوانی جی کی قیادت میں لوک سبھا الیکشن کے میدان میں اتری ہے۔ اس کہن سالی اور بزرگی کے باوجود اڈوانی جی ہندوستان بھر میں یاترائیں کرکے ایک بار پھر ہندو عوام میں مسلم فوبیا پيدا کرکے اپنے لئے کامیابی کے راستے بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس عمر میں جبکہ انہیں آرام اور گیان دھیان کی ضرورت تھی وہ یہ ساری زحمت اور سفر کی پریشانیاں کیوں برداشت کر رہے ہیں۔ اس سوال کا جواب وہ خود اور ان کی پارٹی کے تمام لیڈر دے چکے ہیں۔ ان کا مقصد صرف اور صرف ہندوستان کا پردھان منتری بننا ہے اس لئے ان کی تمام یاتراؤں کا رخ 7ریس کورس روڈ کی طرف ہے۔
انسان کے فکر و عمل کی تمام ريشہ دوانیاں اس کے مقصد کے تابع ہوتی ہیں۔ اڈوانی جی کے پیش نظر نہ تو ہندوستان اور اس کے عوام کی خوشحالی اور ترقی ہے اور نہ ان کے سامنے ملک و قوم کا کوئی مسئلہ ہے ۔ ان کا اصل اور بنیادی مقصد پردھان منتری کی کرسی پر قبضہ کرنا ہے۔ انہیں نہ اپنی پارٹی عزیز ہے اور نہ اس کے کارکنان۔ وہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے یہ تمام جدوجہد کر رہے ہیں۔ اب ذرا سوچئے کہ جس ليڈر اور اس کی پارٹی کا مقصد صرف اقتدار کی کرسی ہے وہ ہندوستان کے مستقبل اور اس کے مفادات کے لئے کیا کر سکتا ہے؟
اڈوانی جی کے مینی فيسٹو میں صرف دو ايشوز ہیں پہلا ایشو یہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف شدید نفرت اور دشمنی پیدا کرکے ہندو ووٹ حاصل کئے جائیں۔ اس ایجنڈے کا اعلان وہ بڑی ہوشیاری کے ساتھ ایک نا پختہ نوجوان ورون گاندھی کے ذریعے پیلی بھیت میں کر چکے ہیں۔ پھر اس اعلان کے بعد کی کیفیت بھی قابل غور ہے۔ پہلے تو ورون کی پارٹی نے اس اعلان سے بیزاری اور علیحدگی کا اعلان کیا لیکن اس کے فوراً بعد وہ اس نوجوان کی حمایت پر اتر آئے۔ اس لئے کہ ان کی توقع کے خلاف یوپی سرکار نے ورون کے خلاف قانونی کارروائی کی۔ ورون گاندھی نے اپنا زہریلا بیان دینے کے بعد بار بار یہ اعلان کیا ہے کہ اس میں نہ ان کے الفاظ ہیں اور نہ ان کی آواز۔ ورون گاندھی کے اس بیان میں نصف سچائی ہے یعنی آواز تو ان ہی کی ہے جس سے وہ انکار نہیں کر سکتے لیکن الفاظ انہیں شری لال کرشن اڈوانی نے فراہم کئے ہیں۔ اپنے مینی فيسٹو کے دوسرے اہم ایجنڈے کا اعلان اڈوانی جی اپنی جن سبھاؤں اور دوسرے موقعوں پر اپنے بیانات میں کر چکے ہیں وہ ایجنڈا ہے افضل گرو کو پھانسی پر لٹکانا۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک مجرم کا جرم ثابت ہو چکا ہے۔ اس کی سزائے موت کی سپریم کورٹ نے بھی تصدیق کر دی ہے۔ اور اب آخری مرحلہ میں اس کی رحم کی درخواست صدر جمہوریہ ہند کے زیر غور ہے۔اور ایک نہ ایک دن اسے اپنے جرم کی سزا ملنی ہی ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ اس وقت 22مجرم ایسے ہیں جنہیں قانون نے سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس فیصلے پر ابھی تک عمل نہیں ہو سکا ہے اور ان 22مجرموں میں آخری نام افضل گرو کا ہے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ کسی ایک شخص کو پھانسی پر لٹکا دینے سے ملک و قوم کے کون سے مسائل حل ہو جائیں گے۔ ان حالات کی روشنی میں سوچئے کہ جس پارٹی اور اس کی لیڈر شپ کے پاس نہ کوئی ایشو ہے اور نہ کوئی پروگرام وہ ملک و قوم کے لئے بھلائی اور ترقی کے لئے کیا کر سکے گی۔ ذرا غور کیجئے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے منفی نقطہٴ نظر کے مطابق ہمیشہ کام کرنے کی پابند رہی ہے۔ اس کی حکمت عملی یہ رہی ہے کہ ایک طرف تو ہندوستان میں مذہب، اونچ نیچ اور ذات پات کے فاصلوں کو برابر بڑھایا جائے اور دوسری طرف دوسری پارٹیوں ميں ايک منصوبہ بند سازش کے تحت اپنے زیادہ سے زيادہ ایجنٹ داخل کئے جائیں تاکہ وہ اس پارٹی کو اندر سے سبوتاز کریں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی دراصل مجبور ہے کہ اس کی اپنی جھولی میں سوائے نفرت کے اور کچھ نہیں ہے جس کے ذریعہ وہ سیاسی اقتدار حاصل کر سکے۔ بابری مسجد سے لیکر گجرات تک ایک خونی تاریخ ہے جس نے ہندوستان جیسے عظیم اور قدیم ملک کو جو وسیع روایات اور گاندھیائی آدرشوں کے وسیلے سے جانا پہچانا جاتا ہے، اقوامِ عالم میں جس قدر بد نام اور ذلیل و رسوا کیا گیا وہ ہماری تاریخ کی ایک درد ناک کہانی ہے۔ خود این ڈی اے کے وزیر اعظم سویم سیوک مہا کوی شری اٹل بہاری واجپئی کو بی جے پی نے دنیا ميں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا تھا جس کا اعتراف خود واجپئی جی نے کیا تھا__ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت کسی بھی سطح پر اور کسی بھی طرح سے دراصل فاشزم کی حمایت ہوگی۔ یہ بھی یقین رکھئے کہ فاشزم صرف مسلمانوں اور دوسری مذہبی اقلیتوں کا ہی دشمن نہیں بلکہ ہندوؤں کی تمام نچلی ذاتوں اور محنت کش عوام کا بھی دشمن ہے۔ اس کی زد پر آج صرف مسلمان اس لئے ہیں کہ فاشزم کے آقا یہ جانتے اور سمجھتے ہیں کہ ہندوستان اور پوری دنیا میں فاشزم کا سب سے بڑا دشمن اسلام ہی ہے۔ اگر ہندوستان میں آپ امن اور خوشحالی، ترقی اور عروج چاہتے ہیں تو بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت سے قطعی گریز کیجئے۔ آزاد امیدواروں اور چھوٹی چھوٹی پارٹيوں کو ووٹ دینا بھی دراصل بی جے پی کی حمايت ہوگی کیونکہ اس طرح مسلمانوں کے ووٹوں کو بے اثر کرکے بی جے پی کے لئے راستہ ہموار کیا جا رہا ہے۔ اس سازش سے بھی ہوشیار اور با خبر رہنے کی ضرورت ہے۔
دوسری بڑی پارٹی ہمارے سامنے کانگریس پارٹی ہے جس نے سیکولرزم اور سماجی انصاف کو اپنی سیاسی پالیسیوں کی بنیاد بنا کر سیاسی سفر شروع کیا۔ چونکہ ہندوستان ايک ايسا ملک ہے جس میں مختلف مذاہب کو ماننے والے، مختلف تہذیبی اور سماجی نقطہ ہائے نظر کے حامل لوگ صدیوں سے رہتے چلے آ رہے ہیں۔ ان لوگوں میں سب سے زیادہ با اثر اور قائدانہ رول ادا کرنے والے ہندوستانی مسلمان ہیں۔ انہوں نے ملک کے لسانی، تہذیبی اور تاریخی ارتقاءميں جو زبردست رول ادا کیا ہے اس سے پوری دنيا واقف ہے۔ برطانوی سامراج کے خلاف پہلی جنگ آزادی 1857میں بھی مسلمان ہی پیش پیش تھے۔ اس لئے يہ عرض کرنا بے جا نہ ہوگا کہ 1857میں ہی دہلی شہر میں کم و بیش 52 ہزار علماءاسلام کو نہایت وحشيانہ طریقے سے قتل کیا گیا اور دہلی کے مسلمانوں پر جو زبر دست تباہی برپا ہوئی اس کی شہادت خود انگریز مورخین کے بیانات اور مرزا غالب کے خطوط سے ملتی ہے۔
کانگریس کے وجود میں آنے سے بہت پہلے برطانوی سامراج کے خلاف آزادی کی تحریک ہندوستانی مسلمان شروع کر چکے تھے اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ قومی تحریکوں میں جو کلیدی رول مسلمانوں نے ادا کيا اور کانگریس کی قیادت میں اس تحریک کو ملک کے کونے کونے تک پہنچانے میں مسلمانوں نے جو ہمہ گیر جدوجہد کی وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ جس زمانے میں مہاتما گاندھی جنوبی افریقہ میں ممبئی کے ایک بڑے مسلمان تاجر کی وکالت کے ساتھ ساتھ برطانوی سامراج کی نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کر رہے تھے اسی زمانے ميں شیخ الہند مولانا محمود الحسن ملک میں انگریزی سامراج کے خلاف کھلم کھلا بغاوت کا اعلان کر رہے تھے۔ دوسری طرح آزادی کی شعلہ بار تقریروں نے برطانوی اقتدار میں سخت بوکھلاہٹ پیدا کر دی تھی ۔ چنانچہ قومی تحریکوں کی تقریباً ایک صدی کی تاریخ میں قدم قدم پر مسلمانوں کے سب سے زیادہ گہرے اور نمایاں اثرات ملتے ہیں۔ کانگریس کی قیادت میں جدید ہندوستان کی تعمیر اور تشکیل میں اور دوسری طرف ہندوستان کے جغرافیائی اور فرقہ وارانہ اتحاد کے لئے مسلمانوں نے جو عظیم الشان جدوجہد کی اس کے نتیجہ ميں حصول آزادی کی راہیں روشن ہوئیں۔ سر زمینِ ہند نے اس تحریک کو جو قد آور مسلمان رہنما دئيے وہ سب ملک کی مشترکہ تہذیب کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔ اس تہذیب کی بنیاد دہلی کے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے ڈالی تھی بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جدید ہندوستان کی تہذ یبی نشات الثانیہ کا آغاز ہندوستان کے اسی بوڑھے سردار نے کیا تھا۔ سماجی اور نظریاتی ہم آہنگی کی بنیاد پر ایک ہمہ گیر انسان دوستی اس تہذیب میں روح کی طرح جاری و ساری تھی۔ چنانچہ کانگریس کی تشکیل میں اور اس کی جدوجہد میں مسلمانوں نے زبردست کردار ادا کیا۔
جب آزادی کا پہلا سورج طلوع ہوا تو ہندوستان ہر سطح پر تقسیم ہو چکا تھا__اس تقسیم میں نظریاتی اور مذہبی عمل اور رد عمل کے ایک طویل سلسلے کے علاوہ خود مسلمانوں کی وہ جذباتیت بھی شامل تھی جس نے ابھی تک ان کا دامن نہیں چھوڑا ہے۔ چونکہ ملک کی تقسیم مذہب کے نام پر ہوئی، اس لئے مسلمان اپنی تمام تر قومی خدمات کے باوجود معتوب اور مردود قرار پائے۔ مخالفت اور دشمنی کی اس فضا نے ملک میں مسلم دشمن طاقتوں کو زبر دست قوت بخشی۔ مسلمانوں سے ہر ہر قدم پر ہندوستان میں ان کے رہنے کا جواب اور جواز طلب کیا جانے لگا۔ کانگریس نے اس خطرناک موڑ پر مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کی۔ مولانا آزاد اور دوسرے قوم پرست مسلم رہنماؤں نے کانگریس کی قیادت اور حمایت میں مسلمانوں کے ٹوٹے ہو ئے حوصلوں کو بحال کرنے کی کوشش کی اور سرزمین ہند پر ایک بار پھر ان کے قدم جما کر انہیں جمہوری سماج میں ان کے حقوق کا شعور عطا کیا۔ ہندوستان میں فاشزم کا سیلاب اپنی تمام تر قوتوں کے باوجود مہاتما گاندھی جیسی چٹان کو عبور نہیں کر سکتا تھا چنانچہ اس کا سب سے پہلا وار مہاتما گاندھی پر ہی ہوا۔ 30جنوری 1948 کو مہاتما گاندھی کا قتل کر دیا گیا۔ یہ قتل آر ایس ایس کے زیر اثر ناتھو رام گوڈسے نے کیا تھا اور مہاتما گاندھی کا سب سے بڑا جرم یہ بتایا گیا تھا کہ انہوں نے نہایت کسمپرسی کے عالم میں مسلمانوں کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کی تھی۔ مہاتما گاندھی کی شہادت کے بعد یہ سیلاب تیزی سے پھیلنے لگا۔
کانگریس کی تاریخ شاہد ہے کہ اس کی صفوں میں ہمیشہ ہی ہرطرح کے عناصر شامل رہے ہیں۔اپنے مزاج اور پالیسیوں کے اعتبار سے کانگریس نے ہر موڑ پر اور ہر میدان ميں اقلیتوں اور پسماندہ طبقوں کی حمایت سے منہ نہیں موڑا۔ رفتہ رفتہ انتخابی جمہوریت کی مصلحتوں اور جواہر لال نہرو جیسے انصاف پسند لیڈر کے اٹھ جانے کے بعد کانگریس کی پالیسی میں تبدیلی پیدا ہوئی لیکن پھر بھی اندرا گاندھی جیسے مضبوط اور با اثر لیڈروں کی موجودگی میں فرقہ پرستی اپنے عزائم اور مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
اگر ہم غور کریں تو خود ہم نے بھی اپنے حقوق کے لئے وہ ٹھوس اور بامعنی جدوجہد نہیں کی جو ہمارا آئينی حق تھا۔ مسلمانوں کی صفوں میں ذات پات اور مسلک کے نام پر جو انتشار پھیلا، اس نے مسلمانوں کی جمہوری حیثیت کو اور ان کی آواز کو کمزور اور بے اثر بنا دیا۔ آج مسلمانوں کی قیادت کے نام پر بے شمار دکانیں سجی ہوئی ہیں۔ اس کے باجود ملک میں صرف اور صرف کانگریس پارٹی واحد پارٹی ہے جس پر ہمارا حق ہے اور آج بھی کانگریس ہمارے اس حق سے انکار نہیں کر سکتی۔ ہم نے آج تک اجتماعی طور پر جمہوری آداب کے تحت اپنے اتحاد کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ہمارے ووٹوں کی طاقت بھی بکھرتی چلی جا رہی ہے۔ کانگریس نے مسلمانوں کے جمہوری حقوق دینے میں وہ دلچسپی نہیں لی جو اس کا منصب تھا،لیکن پھر بھی سیکولرزم اور سماجی انصاف کے نام پر ہم کانگریس کی حمایت کريں گے لیکن شرط یہ ہے کہ کانگریس ملک میں ایک بار پھر اقتدار میں آنے کے بعد مسلمانوں کو سیاسی اور معاشی سطح پر وہ تمام حقوق دے گی جس کے وہ حقدار ہیں اور ان کی جن کی سفارش سچر کمیٹی کی رپورٹ نے کی ہے۔ کانگریس کی قیادت کو یہ بھی احساس ہونا چاہئے کہ مسلمانوں کے اعتماد سے محرومی نے اسے بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے اور اسی کے نتیجے میں آج کانگریس جیسی ملک گیر اور سیکولرزم کی علمبردار پارٹی کو بےساکھیوں کی ضرورت پڑی ہی ہے۔ اس لئے مسلمانوں اور دوسرے پسماندہ طبقوں کی حمایت اور اعتماد حاصل کرنے کے لئے اسے یہ عہد کرنا ہوگا کہ مسلمانوں اور کمزور طبقوں کے آئینی حقوق بہر حال دینے ہی ہیں۔ یہی کانگریس کا فرض بھی ہے اور منصب بھی۔
ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں ایک بار پھر کانگریس اقتدار میں آئے۔ اس کے لئے ہم مسلمان اس کی حمایت کریں گے۔ کانگریس کو مسلمانوں کی حمایت ملنے کی ایک وجہ یہ بھی ہوگی کہ فاشزم کے بڑھتے ہوئے قدموں کو مسلمان ہی روک سکتے ہیں اور اس کے لئے ہم کانگریس سے سمجھوتہ کر سکتے ہیں۔ مسلمانوں نے اب تک برابر کانگریس کی حمایت کی ہے اور انہیں آئندہ بھی یہ حمایت جاری رکھنی چاہئے کیونکہ پارٹی کو چھوڑ دینا ہمارے مسائل کا حل نہیں ہو سکتا۔ بڑے بڑے قد آور اور با اثر لیڈروں نے اپنی پارٹی چھوڑی اور ان کا سیاسی انجام ہمارے سامنے ہے مزید برآں ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اب تک جو پارٹیاں اور لیڈر مسلمانوں کی سچائی کا دعویٰ کرکے ان کے سہارے اقتدار تک پہنچتے رہے انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ انہوں نے بھی مسلمانوں کو انسان نہیں بلکہ اپنے اقتدار کے لئے ایک وسیلہ سمجھ کر کام کیا۔کانگریس کے علاوہ کسی بھی پارٹی پر ہم اپنا حق ثابت نہیں کر سکتے۔ ملک میں کانگریس کا کوئی متبادل نہیں ہے اس لئے ان حالات میں ہمارے لئے ہر راستہ کانگریس کی طرف جاتا ہے۔