کانگریس کا انتخابی منشور اورمسلمان

معصوم مراد آبادی

کانگریس کی قیادت والی یو پی اے کی مخلوط سرکار نے اگرچہ پانچ سال کا عرصہ مکمل کر لیا ہے اور کانگریس کے انتخابی منشور پر یقین کیا جائے تو اس میں کامیابیوں کی طویل فہرست ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت والی مخلوط حکومت نے اپنے حلیفوں کی کھینچ تان کے باوجود اپنی مدت پوری کی ہے اور اس نازک مرحلہ کو بھی عبور کرنے میں کامیابی حاصل کی جو امریکہ کے ساتھ نیوکلیائی معاہدے کے نتیجہ میں پیش آیا تھا۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے اس معاہدہ کے سوال پر ٹھہرے پانی کو سیلاب میں بدل دیا تھا اور ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ حکومت اب ڈوبی کہ تب۔ بائیں بازو کی پارٹیاں اس معاملہ میں اتنا آگے چلی گئیں کہ انھوں نے حکومت کو زمیں بوس کرنے کا فیصلہ کر لیالیکن یوپی اے حکومت نے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے اپنی مدت کار پوری کر لی۔

کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں دیگر باتوں کے علاوہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس منشور میں سب سے زیادہ دلچسپ نعرہ ریزرویشن کا ہے۔ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو آئینی حقوق دلانے کے اپنے عہد پر کاربند رہنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ حکومت اور دوسرے اداروں میں ان کی نمائندگی بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس ضمن میں وقف املاک کے تحفظ اور ترقی کے لیے وقف ترقیاتی کارپوریشن کا قیام، مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے کارپس کو دوگنا کرنے اور ملک میں ایک قومی سطح کی یونانی یونیورسٹی قائم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔

اس منشور میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ توجہ کا مرکز وہ وعدہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کیرالہ، کرناٹک اور آندھرا پردیش میں سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں اقلیتوں کو ان کی سماجی اور معاشی پسماندگی کی بنیاد پر جو ریزرویشن دیا گیا ہے اسے قومی سطح پر نافذ کیا جائے گا۔

دراصل ریزرویشن ایک ایسا موضوع ہے جو اس وقت پورے ملک کے مسلمانوں کی متحدہ آواز ہے۔ طویل غور و خوض اور بحث و مباحثہ کے بعد مسلم دانشور اور باشعور سیاست داں اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ریزرویشن ہی وہ ہتھیار ہے جس کی بدولت مسلمان اس ملک میں اپنے آئینی حقوق حاصل کر سکتے ہیں۔ کیونکہ آزادی کے 61 سالوں میں جس انداز میں مسلمانوں کا سیاسی استحصال کیا گیا ہے اور انھیں جس طرح تفریق و تعصب کا نشانہ بنا دیا گیا ہے، اس سے نجات پانے کا واحد راستہ سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں ریزرویشن کا حصول ہی ہے۔ کیرالہ، کرناٹک اور آندھرا پردیش ملک کی ایسی ریاستیں ہیں جہاں تعلیمی اور معاشی پسماندگی کی بنیاد پر مسلمانوں کو 4 فیصد ریزرویشن دیا گیا ہے۔ لیکن ابھی تک شمالی ہندوستان میں کسی بھی ریاست میں یہ اقدام نہیں کیا گیا ہے جب کہ مسلمانوں کی سب سے زیادہ آبادی ان ہی ریاستوں میں ہے۔ یہاں مسلمان جنوبی ہند کے معاملے میں انتہائی پسماندہ بھی ہے۔ شمالی ہندوستان کے مسلمانوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ان میں صالح، دور اندیش اور مستحکم قیادت کا فقدان ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اب شمالی ہندوستان کے مسلمانوں میں بیداری کی ایک لہر چل رہی ہے اور ان کی پسماندہ برادریوں میں نیا شعور پروان چڑھ رہا ہے۔ معاشی اور تعلیمی پسماندگی کی بنیاد پر آئین میں ریزرویشن کی جو گنجائش رکھی گئی ہے، اس کا فائدہ بلاشبہ ان ہی برادریوں کو پہنچ سکتا ہے جو پیشے کے اعتبار سے اس زمرے میں آتے ہیں۔ اگرچہ مسلمانوں میں تعلیمی اور معاشی پسماندگی کا مسئلہ بالعموم پوری قوم کا ہے۔ اس معاملے میں اشراف اور اجلاف کی بحث اس لیے بے معنی ہے کہ مسلمان مجموعی طور پر پسماندگی کی دلدل میں ہیں اور بہت کم لوگ خوشحالی کی زندگی جی رہے ہیں۔ ان مٹھی بھر خوشحال لوگوں کی تعداد اعلیٰ اور ادنیٰ دونوں ہی طبقوں میں موجود ہے۔ اس کے باوجود اگر معاشی اور تعلیمی پسماندگی کی بنیاد پر مسلمان ریزرویشن کا فائدہ اٹھاتے ہیں تو یہ سب سے بہتر بات ہے۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت اس معاملے میں کس حد تک سنجیدہ ہے اور وہ کس قسم کے عملی اقدامات کرنا چاہتی ہے۔

وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور حکومت کو اگر مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے زاویہ سے دیکھا جائے تو ان کے سیاسی اعمال نامہ میں دو اہم ترین دستاویز ہیں جس کا کریڈٹ انھیں بہرحال دیا جانا چاہیے۔ یہ دونوں دستاویز ہندوستانی مسلمانوں کے ماضی حال اور مستقبل سے وابستہ ہیں۔ اس میں پہلا دستاویز جسٹس راجندر سچر کی قیادت میں تشکیل دی گئی کمیٹی کی وہ رپورٹ ہے جو تعلیمی، اقتصادی، معاشی اور سماجی میدانوں میں مسلمانوں کی زبوں حالی کا احاطہ کرتی ہے۔ دوسرا سب سے اہم دستاویز رنگاناتھن مشرا کی قیادت میں تشکیل دی گئی کمیٹی کی رپورٹ ہے جس میں پہلی بار مسلمانوں کو ایک پسماندہ طبقہ تسلیم کرتے ہوئے اقلیتوں کے لیے سرکاری ملازمتوں اور تعلیم کے میدان میں 15 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے کی پرزور سفارش کی گئی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس 15 فیصد کوٹے میں سے 10 فیصد کوٹہ مسلمانوں کے لیے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مرکز میں پہلی بار اقلیتی امور کی وزارت کا قیام بھی ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ہرچند کہ انتخابی منشور کا اجراءکرتے ہوئے وزیراعظم نے یہ کہا ہے کہ ان کے دور حکومت میں سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کا تناسب 4 فیصد سے بڑھ کر 6-7 فیصد ہوگیا ہے لیکن اس کے بھی کوئی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں کہ سرکاری ملازمتوں میں دو تین فیصد کا اضافہ کون سی مذہبی اور لسانی اقلیتوں کا ہوا ہے۔ وزیر اعظم نے اپنے بیان میں اقلیتی امور کی وزارت کے ذریعہ 4 لاکھ سے زائد اقلیتی طلباءکو وظائف دینے اور 15 نکاتی پروگرام کے تحت اقلیتوں کی غالب آبادی والے 90 اضلاع میں ترقیاتی کام شروع کرنے کی بات بھی کی ہے۔

وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور کانگریس صدر سونیا گاندھی دونوں ہی اقلیتی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی زبوں حالی دور کرنے کے خواہشمند ہیں، جس کا سب سے بڑا ثبوت سچر کمیٹی اور جسٹس رنگناتھن مشرا کمیٹی کی رپورٹیں ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی سفارشات کو نافذ کرنے کے لیے انھیں پارٹی میں اور اپنے حلیفوں سے جو طاقت ملنی چاہیے وہ نہیں مل پا رہی ہے۔ مضبوط قوت ارادی کے مالک ان دونوں لیڈروں سے یہ توقع کی جانی چاہیے کہ اگر وہ دوبارہ مرکز میں واپس آتے ہیں تو سب سے پہلا کام سچر کمیٹی اور مشراکمیشن کی رپورٹوں کی سفارشات کو عملی جامہ پہنانے کا کریں گے، یہی اصل ایفائے عہد ہے۔

(بشکریہ روز نامہ ”جدید خبر “ نئی دہلی)