ابوالکلام آزاد کا پیغام مسلمانانِ ہند کے نام
ڈاکٹر خاور ہاشمی
میرے عزیزو! آج تم ایک ایسے انتشار، بکھراؤ اور بے سمتی میں مبتلا ہو جس سے نکلنے کا تمہیں کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا ہے۔ تمہاری صفوں میں اتنی پارٹیاں اور اتنے لیڈر پیدا ہو چکے ہیں جنہوں نے تمہیں ذات پات، مسلک اور مختلف عنوانات سے تقسیم کرکے اپنے اپنے محدود مفادات کے لئے استعمال کیا اور کر رہے ہیں۔ اتحادِ ملت کے نعرے اور دعوے بہت ہوئے اور ہو رہے ہیں ۔ تمہاری قیادت کا دعویٰ بہت سوں کو ہے لیکن ان میں کتنے ہیں جنہیں مسلمانوں کے سواد اعظم کا اعتماد حاصل ہے۔ جمہوری دور میں قیادت زمین سے پیدا ہوتی ہے، آسمان سے نازل نہیں ہوتی۔ قوم کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے ایثار، خدمت اور اپنے مقصد کے ساتھ سچی اور بے لوث لگن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لئے نہ جانے کتنی صبر آزما اور حوصلہ شکن آزمائشوں سے سرخ رو گزرنا پڑتا ہے۔سر سید نے کچھ کم 150سال پہلے ہندوستان کے مسلمانوں کو ملک کی سیاست میں شامل نہ ہونے کا مشورہ دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں میں عصری تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے سیاسی شعور پیدا نہیں ہوا تھا اور وہ دھوکہ کھا سکتے تھے۔ تقریباً وہی صورتِ حال آج بھی ہے۔آزادی سے پہلے فرقہ پرست طاقتیں برابر مسلمانوں کے خلاف منصوبہ بند ریشہ دوانیوں میں مصروف تھیں اور اس ملک کو ہندو راشٹر بنانے کا خواب دیکھ رہی تھیں لیکن میں اور حکیم اجمل خاں، ڈاکٹر انصاری اور علماءدیوبند کے ساتھ ملک کے بیشتر ہندو دانشور کانگریس کی صفوں میں موجود تھے اس لئے ان کا خواب شرمندہٴ تعبیر نہ ہو سکا۔ دوسری طور مسلم لیگ کی فرقہ پرست سیاست نے پاکستان کا سبز باغ دکھا کر مسلمانوں کی ہمدردیاں حاصل کیں جس کے نتیجے میں تقسیم ہند کا وہ المناک واقعہ ہوا جس نے مسلمانوں کی کمر توڑ کر رکھ دی اور مسلم لیگ کی قیادت تم سب کو بے سہارا چھوڑ کر اپنی بنائی ہوئی جنت کی طرف کوچ کر گئی۔ اگر تمہارے ذہنوں میں سیاسی پختگی، تاریخی شعور، دور اندیشی اور مستقبل کے امکانات کا احساس ہوتا تو تم آج کسمپرسی میں مبتلا نہ ہوتے۔ آزاد ہندوستان میں سماج کے ہر طبقہ کو اپنی سیاسی پارٹی بنانے کا حق حاصل ہے لیکن ملک کی موجودہ صورت حال میں اگر ایسی کوئی پارٹی بنائی گئی تو اندورونی اور بیرونی طاقتیں تمہارا استحصال کریں گی اور دوسری طرف فاشسٹ قوتوں کو زیادہ تیزی سے آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔
عزیزانِ ملت ! اب سے 60سال پہلے جامع مسجد شاہجہانی کے منبر سے مجھے خطاب کرنے کا موقع ملا تھا۔ اس زمانے میں تم نہایت مايوس، بے سہارا اور افراتفری کی کیفیت میں مبتلا تھے۔ نو زائیدہ سرحدوں کے دونوں طرف بے گناہوں کا خون بہہ رہا تھا اور مظلومین اور مقتولین کا کوئی پرسانِ حال نہیں تھا۔ تمہارے اعصاب پر احساس جرم طاری تھا اور تمہارا ماضی قریب نہایت خوفناک شکل میں تمہارا تعاقب کر رہا تھا __ اس وقت بھی تم سے کہنے کے لئے میرے پاس کوئی نئی بات نہیں تھی۔ میرے پاس تمام وہی باتيں تھیں جو میں اپنے سیاسی کیریئر کی ابتداءہی سے تم سے کہتا چلا آ رہا تھا۔ ابتلاءاور آمائش کے اس دور میں شاید تمہیں پہلی بار میری باتوں میں سچائی اور حقیقت پسندی کا احساس ہوا تھا۔ تمہیں یاد ہے کہ میں نے اس زمانے میں بھی تمہارے اندر خود اعتمادی اور تاریخ کی تازہ حقیقتوں کے اعتراف کے ساتھ تمہارے اندر جینے کا حوصلہ اور تمہارے قدموں میں استقامت پیدا کرنے کی کوشش کی تھی جس سے سر زمینِ ہند پر تمہارے قدم ایک بار پھر جم سکیں۔ پارلیمانی جمہوریت کا تجربہ ہندوستان کو پہلی بار ہوا تھا اور سماج کا ہر طبقہ اس دور میں اپنے تشخص، تحفظ اور اپنے سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق کی بازیافت کے لئے تازہ حکمت عملی بنانے میں مصروف تھا۔ اس کے علاوہ سماج کے ہر طبقہ کو ملک میں جمہوری تقاضوں اور مطالبوں کو سمجھنے اور نئے دور میں آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنے کے لئے منصوبہ بند اور اجتماعی کوششوں کا خاکہ تیار کرنے کی جدوجہد جاری تھی۔ میں نے اس دور میں بھی تمہیں ہندوستان کی قومی زندگی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے پورے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کا مشورہ دیا تھا۔
اے مسلمانو ! تقسیم ہند کے فوراً بعد لکھنوٴ میں ہونے والے اولین مسلم کنوینشن کے موقع پر بھی میں نے سیکولر جمہوری تقاضوں پر تمہارا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی تھی اور کہا تھا کہ انڈین نیشنل کانگریس کے پلیٹ فارم سے تمہارے لیڈروں نے برطانوی سامراج کے خلاف جو طویل جدوجہد جاری رکھی اور بے حساب قربانیاں پیش کیں، اب تمہارے لئے وقت آگیا ہے کہ انڈین نیشنل کانگریس سے اپنے بزرگوں کی قربانیوں کا حساب لیتے ہوئے قومی زندگی میں اپنے حقوق کی بازیابی کا مطالبہ کرو۔اگر تم انڈین نیشنل کانگریس کے تعلق سے قومی کارناموں پر نظر ڈالو گے تو تمہیں معلوم ہوگا کہ تمہارے بزرگوں نے جن میں خاکسار بھی شامل تھا صرف ہندوستان کی آزادی کے لئے ہی نہیں بلکہ عام اسلام کی آزادی کے لئے بھی جدوجہد کی۔ تمہیں یاد ہوگا کہ خلافت کا مسئلہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ تھا۔ انگریزی سامراج عالمِ اسلام کے اتحاد کی اس آخری علامت کو مٹانے کے لئے ریشہ دوانیاں کر رہا تھا۔ تمہیں یہ بھی یاد ہوگا کہ تحریک خلافت کی قیادت میں مہاتما گاندھی پیش پیش تھے اور پوری کانگریس پارٹی اس جدوجہد میں مسلمانوں کی پشت پناہی کر رہی تھی۔ قومی تحریکوں کی مسلم لیڈر شپ نے جس کا ایک حصہ خود میری ذات بھی تھی جس طرح بلا تفریق مذہب و عقیدہ ہندوستانی عوام کا اعتماد حاصل کیا وہ ہماری تاریخ کا ایک سنہری عنوان ہے ہم نے ہندوستانی عوام اور پوری دنیا پر یہ ثابت کر دیا تھا کہ ہندوستان اور اسلام باہم اس قدر مربوط اور مضبوط ہیں کہ انہیں ایک دوسرے سے جدا کرنا ممکن نہیں ہے۔ ملک کے غیر مسلم عوام کا اتنا زبردست اور غیر مشروط اعتماد حاصل کرنا کوئی آسان مرحلہ نہیں تھا۔ اس مرحلہ کو آسان بنانے والی قوت کیا تھی؟ یہ قوت تمہاری لیڈر شپ کا خلوص انسان دوستی اورتمام تعصبات اور عصبیتوں سے پاک صاف مقصد اور نقطہٴ نظر تھی۔
میرے نادان عزیزو! ہندوستان کی تاریخ میں تم نے ہر انقلاب کی قیادت کی۔ جنگ آزادی کے ہر محاذ پر تم نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا لیکن ہمیشہ خسارے میں رہے۔ تمہاری تاریخ کی یہ حقیقت ایک بار پھر آج تمہاری توجہ اور تمہارے غور و فکر کی طلب گار ہے۔ تم نے تاریخ سازی کا عظیم الشان کام تو ضرور کیا لیکن تاریخ سے سبق لینے کی کوشش کبھی نہیں کی۔ اسی لئے تاریخ خود کو بار بار دوہراتی رہی اور تمہیں خواب غفلت سے بیدار ہونے، زندگی کی تازہ حقیقتوں کی روشنی میں اپنا کردار ادا کرنے کا پیغام دیتی رہی۔
میرے عزیز مسلمان بھائیو! میں نے لکھنوٴ کے مذ کورہ کنوینشن میں تم کو اپنی علیحدہ سیاسی پارٹی بنانے سے گریز کا مشورہ بھی دیا تھا اور یہی کہا تھا کہ انڈین نیشنل کانگریس کو اپنی پارٹی سمجھو اور اسی جماعت کے پلیٹ فارم سے جمہوری عمل میں آگے بڑھتے رہو۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ تم پسماندہ اور درماندہ تھے۔ میں جانتا تھا کہ علیحدہ پارٹی بنانے کا رجحان تمہاری صفوں میں باقی ماندہ اتحاد کو بھی پارہ پارہ کر سکتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ تم نے میرا مشورہ مانا اور برابر کانگریس کی حمایت کرتے رہے۔ یہ بھی صحیح ہے کہ کانگریس نے تمہیں وہ حقوق نہیں دئیے جس کے تم مستحق تھے۔ اس کے بھی کچھ بنیادی سبب تھے۔ کانگریس میں ہمیشہ نرم دل اور گرم دل دونوں شانہ بشانہ شامل رہے۔ کانگریس میں خود میری صدارت اور قیادت کے طویل دور میں بھی یہی صورت حال رہی لیکن مسلمانوں نے اپنے مسائل اور حقوق کے بارے میں جس استقامت، خود اعتمادی اور استدلال کی قوت سے کانگریس کے پلیٹ فارم سے آواز اٹھائی اسے کوئی نظر انداز نہیں کر سکا۔ تم جانتے ہو اور کانگریس کی تاریخ اس کی گواہ ہے کہ میرا اور میرے ہمعصر مسلم قائدین کا سیاسی وجود کانگریس کا مرہون منت نہیں بلکہ ہماری طاقت تمہاری اس اجتماعی آواز کی ترجمانی تھی جو ہم کر رہے تھے۔ تم یہ بھی جانتے ہو کہ مجھے اور میرے ہمعصر مسلم قائدین کو بیک وقت تین محاذوں پر لڑنا پڑا۔ ہندو فرقہ پرستی، مسلم فرقہ پرستی اور برطانوی سامراج سے ہم لوگوں نے بہ یک وقت لڑائی لڑی اور ہندوستان کی قومی جدوجہد میں اپنی حیثیت و اہمیت کو منوایا۔ مجھے افسوس ہے کہ کانگریس میں مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کی گئی اس کی بنیادی وجہ ہندوستانی مسلمانوں کا انتشار ، اضمحلال اور مایوسی تھا۔ تمہیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ تم نے خود ملّی تعمیر اور اتحاد کے لئے کیا کام کیا؟ قرآن حکیم کا فرمان ہے کہ جو قوم خود اپنی حالت کو بدلنے کی جدوجہد نہیں کرتی اس کی حالت اللہ تعالیٰ بھی نہیں بدلتا ہے۔
میرے عزیزو ! بلا شبہ کانگریس پارٹی کی حکومتوں نے گزشتہ 60سال کی مدتوں میں تمہاری تعلیمی، معاشی اور ملّی مسائل کو حل کرنے میں وہ دلچسپی نہیں لی جو اس کا فرض تھا۔ میں یہ بھی مانتا ہوں کہ کانگریس مین اسٹریم Main Streamمیں شامل کرکے ہندوستان کے وسیع تر تعمیری منصوبوں میں تمہارا واجب حصہ دینے میں کانگریس ناکام رہی، میں یہ بھی مانتا ہوں کہ کانگریس فرقہ پرستی کے بڑھتے قدموں کو مکمل طور پر روک نہیں سکی __ان تمام حقائق کے باوجود کانگریس سے کنارہ کشی کر لینا تمہارے مسائل کا حل نہیں۔ کانگریس اقتدار میں رہے یا نہ رہے پھر بھی ملک گیر سطح پر سب سے بڑی اور طاقتور پارٹی ہے۔
برادرانِ ملت! جمہوری نظام کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ بار بار عوام کے ہر طبقہ کو اپنی تاریخ اور تقدیر بنانے کا موقع دیتی ہے۔ پارلیمانی انتخابات قریب آ چکے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں جمہوریت نے ایک موقع اور دیا ہے۔ نہایت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرو۔ میں پھر کہتا ہوں کہ تمام خرابیوں کے باوجود کانگریس ہی ایک ایسی پارٹی ہے جس سے تمہارا مزاج ملتا ہے۔ کانگریس نے ایک بار پھر اپنے انتخابی منشور میں مسلمانوں کے بہت کچھ گنجائش رکھی ہے۔ تمہارا کام یہ ہے کہ اجتماعی طور پر کانگریس کی حمایت کر کے اسے اپنی جمہوری طاقت کا احساس دلاؤ۔ یہ بھی یاد رکھو کہ غیر مشروط حمایتوں کا وقت گزر چکا ہے۔ اپنے جائز اور آئینی حقوق کی بازیابی کے لئے تمہاری جدوجہد میں صرف مسلمان ہی نہیں کانگریس کے بیشتر ہندو لیڈر بھی تمہاری حمایت میں پیش پیش ہوں گے۔
(بشکریہ روزنامہ’ جدید خبر‘ نئی دہلی)