جناب راجیو گاندھی کا کہنا تھاکہ ‘‘ کارناموں کی ایک صدی رخصت ہورہی ہے ۔ جدوجہد کی ایک صدی ہمیں بلارہی ہے۔ ہماری درخشاں تہذیب جو مسلسل ہزاروں سالوں سے دیناکو منورکرتی آئی ہے آج ہزاروں سال آگے برتری کی طرف دیکھ رہی ہے۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ہندستان کی عظمت کیلئے کوشش کریں۔ عظیم ملک وہ نہیں ہے جس کا صرف تابناک ماضی ہے۔ بکلہ عظیم ملک وہ ہے جو اس شاندار ماضی سے ایک روشن وتانباک مستقبل پیداکرے۔ ہم ایک ایسے ہندستان کی تعمیرکریں جو اپنی آزادی پرفخر کرے۔ اپنی آزادی مستحکم ہو۔ زراعت، صنعت اور جدید ٹکنالوجی میں خود کفیل اور مستحکم ہو۔ غربت کے بندھن سےآزاد ہو۔ عدم مساوات ، ذات پات، نسل اورعلاقائی عصبیت سے بالا تر ہوکر قومی اتحاد کا علمبردارہو۔ ایک ایسا ہندستان جومنظم اور موثر ہو۔ اخلاقی اور روحانی قدروں سے مستحکم ہو۔ دنیا میں امن وسلامتی کے قیام کیلئے ایک بے خوف طاقت ہو۔ دیناکی ایسی تعلیم گاہ جو روح کے اندرونی سکون کو مادّی ترقی سے جوڑتی ہو۔ ایک نئی تہذیب جسمیں ہماری وراثت کی طاقت ہو اور ہماری جان امنگوں کی قوت تخلیق۔ عوام کا ایک ناقابل تسخیر جذبہ ہو۔ عظیم کارناموں کے لئے عظیم قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ صرف ہماری نسل اور ہمارے اسلاف کی قربانیاں ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی قربانیاں بھی درکار ہوتی ہیں ۔ تہذ یبیں صرف ایک یا دو نسلوں سے قائم نہیں ہوتی ہیں ۔ تہذیبیں بنتی ہیں کئی نسلوں کی انتھک کوششوں سے۔ تہذیبیں ختم ہوتی ہیں سستی اور کاہلی سے ۔ ہم کو زوال سے چوکنا رہنا چاہیے۔ ہمیں آج ہندستان کودنیا کی عظیم طاقت بنانے کی کوشش میں اپنے آپکو عہد بند کرناہے۔ وہ عظیم طاقت جو ہندستان کی عظیم تہذیب کی مکمل طاقت اور رحمدلی کا آئینہ ہو۔ ‘‘ اس مہم کے لئے میں اپنے آپکو وقف کرتاہوں‘‘۔ |