All India Congress Committee - AICC
 
 
 

وقت کی لکیر

 

 

کانگریس کے قیام کا سال

اتحاد وتنظیم اور مابعد

خود مختاری کا مطالبہ

آزاد ہندستان کی اساس

مکمل آزادی کا مطالبہ

آخری مرحلہ

آزادی کے بعد

محترمہ اندراگاندھی کی آمداکیسویں صدی کی طرف

درمیانی دور

پارٹی کی نئی زندگی

مئی 2004- میں عام انتخابات

محترمہ سونیا گاندھی نے وزارت عظمی کا عہدہ قبول کرنے سے انکارکیا۔

 

کل ہند کانگریس کا تاریخی پس منظر

 

قیام کا سال

 

 

غربت کے خاتمے کی فکر

قرارداد

لوگوں کی بڑھتی مفلسی

ملک کی دولت کی غیرممالک میں ذخیرہ اندوزی

1848 کے بعد کسانوں کی حالت میں مسلسل گراوٹ اور لوگوں کو غذا کی قلت تقریباً چالیس ملین لوگوں کو محصولہ ایک وقت کی روٹی اور کبھی وہ بھی نہیں

 

مختلف جگہوں پر کانگریس پارٹی کے سالانہ اجلاس

 

پورے ملک کی ترقی کیلئے صوبائی اجلاس

 

ہندوستان کے حق میں برطانوی شہریوں کے طرز فکر کو مثبت رخ دینے کی کوشش

 

سرکار میں نمائندگی حاصل کرنے پر اصرار

 

مدن موہن مالویہ‘‘ نمائندگی کے بغیر ٹیکس نہیں‘‘


کل ہند کانگریس کا - تاریخی تعارف

اجلاس - مقام- صدر - اہم واقعات

 اکیسویں صدی کی طرف

   وُمیش چندر بنرجی ممبئی 1885
  جناب بدرالدین طیّب جی مدراس 1887
   جارج یُل الہٰ آباد 1888
  دادابھائی نوروجی کلکتہ 1889

  لندن میں برطانوی پارلیمنٹ پر دباؤ ڈالنے کیلئے انڈین نیشنل کانگریس کی

برطانوی کمیٹی کا جولائی 1889 میں قیام

سرولیم وڈربرن ممبئی 1889
 سرفروزشاہ مہتا کلکتہ 1890

 1892 میں دادابھائی نوروجی کا

برطانوی پارلیمنٹ میں انتخاب

 پی۔ آنند چارلو ناگپور 1891
 وُمیش چندر بنرجی الہٰ آباد 1892

1892 ہندستانی  کونسل ایکٹ‘‘ کانگریس کی ایک بڑی کامیابی

اس کے باوجود تاحال منتخب نمائندگی سے محروم

 دادابھائی نوروجی لاہور 1893
جناب الفریڈ بیب مدراس 1894

 

اتحاد وتنظیم اور مابعد

 

مالیاتی ذمہ داری کا مطالبہ

 

 

ملازمت میں ہندوستانیوں کی تقرری کی مانگ

 

 

معاشی بد نظمی کی مخالفت

 

حکومت کی قدرتی آفات کے تئیں بے حسی

 

قحط ، ہیضہ ، سیلاب

 

لوک نائک تلک کی پونا کے سیلاب زدگان  کیلئے امدادی کارروائی ۔“پنجاب کیسری‘‘ میں شائع

 

مضمون کےذریعے فساد بھڑکانے کے الزام میں قید

 

کرزن وائس رائلٹی ۔ متعدد ظالمانہ اقدامات ۔

  بغاوت ایکٹ۔ عوام کی بنیادی آزادی پرپابندی کے متعلق آفیشیل سپرایکٹ

جس کےتحت اپنےکو بےقصورثابت کرنے کی ذمہ داری ملزم پر ۔

 

تقسیم بنگال کے خلاف وسیع پیمانے پر احتجاج ۔

 

 

جناب سریندر ناتھ بنرجی پونا 1895
1896 برطنیہ کو قحط کا ذمہ دارٹھرانے کی قرارداد۔  جناب رحمت اللہ سیانی کلکتہ 1896
 جناب سی۔ شنکرن نائر امراوتی 1897
1898 پارٹی کے پہلے دستورکی تشکیل۔  جناب آنند موہن بوس مدراس 1898
1900 کانگریس کی تحریک کے خلاف۔  جناب رمیش چندر دت لکھنئو 1899

 1900 برطانیہ کا ردّ عمل۔

ہندستانیوں کیلئے حصول تعلیم پرپابندی۔ یونیورسٹی ایکٹ انگریزی تعلیم کی اشاعت پر روک۔

جناب رمیش چندر دت لاہور 1900
1901، پہلی بار مہاتما گاندھی کانگریس کے اسٹیج پر جلوہ افروزہوئے  جناب دنشا ایدُل جی واچا کلکتہ 1901
جنوبی افریقہ میں جاری جد وجہد میں تعاون کرنے کی اپیل۔  جناب سرندر ناتھ بنرجی الہٰ آباد 1902
  جناب لال موہن گھوش مدراس 1903
  سرہنری کاٹن ممبئی 1904

 

کرزن دورحکومت پرردّعمل

 

لارڈ کرزن کے ذریعہ ایک علیحدہ ریاست قائم کرنے کی مذموم کوشش ۔ کانگریس قانونی طریقوں اورپرامن تحریک کے ذریعہ تبدیلی

لانے کی طرفدار اعتدال پسند جماعت اورضرورت پڑنےپر

 

کانگریس میں اعتدال پسند لوگوں کے ذریعہ بدلاؤ کے لئے۔ تشدد کے ذریعے تبدیلی حاصل کرنے کے حمایتی انتہاپسند

جماعت کے درمیان کشمکش۔

 

انڈین نیشنل کانگریس تاریخی تعارف

اجلاس- مقام- صدر- اہم واقعات

 اکیسویں صدی کی طرف


  جناب گوپال کرشن گوکھلے بنارس 1905

1906، خودمختاری کا مطالبہ

برطانوی سامان کا بائیکاٹ

دادابھائی نوروجی کلکتہ 1906

اعتدال پسند جماعت اور انتہا پسند جماعت کے درمیان پھوٹ

ڈاکڑ راس بہاری گھوش سورت 1907

تنظیم پر اعتدال پسندجماعت کا نصف قبضہ۔

 ڈاکڑ راس بہاری گھوش مدراس 1908
1909، منٹو مورلے اصلاحات نے ہندستانی کاؤنسل میں نمائندگی دی۔ پنڈت مدنموہن مالویہ لاہور 1909

  مگر اسکے ساتھ ہی علیحدہ علیحدہ رائے دہندہ گاں بنانے کے

فیصلے سے فرقہ وارانہ تصادم کا بیج بودیا ۔

 سرولیم بیڈربرن الٰہ آباد 1910
 1909، ہندومسلم رشتے میں کشیدگی کی پہلی علامت۔  پنڈت بشن نرائن در کلکتہ 1911
آر۔ این۔ مدھولکر بانکیپور 1912
1911، تقسیم بنگال کی منسوخی۔ نواب سید محمد بہادر کراچی 1913
   بھوپندر ناتھ بوس مدراس 1914

 

 

آزاد ہندستان کی بنیاد
تحریکِ خود مختاری
گاندھی کی آمد
تحریک ِ خلافت
تحریکِ عدم تعاون

  

 

انڈین نیشنل کانگریس تاریخی تعارف

اجلاس - مقام - صدر - اہم واقعات

اکیسویں صدی کی طرف

 

1916 ، کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان لکھنئو معاہدہ

سرستیندر پرسنّا سنہا ممبئی 1915

1917، کانگریس کے پرچم کی تجویز

( جو بعد میں قومی ترنگا بنا)

 امبیکا چرن مجُمدار لکھنئو 1916

1917، زبان کی بنیاد پراصول تقسیم منظور۔

آگے جاکرلسانی شناخت کی بنیاد پر ریاستوں کی تشکیل ۔

محترمہ اینی بِسنٹ کلکتہ 1917

1917، چمپارن میں گاندھی جی نے سیاسی احتجاج کا مضبوط طریقہ

"بھوک ہڑتال ‘‘ متعارف کرایا۔

حسن امام  ممبئی  1918
1918، گجرات میں "بھوک ہڑتال‘‘ کی تحریجک کامیاب۔  پنڈت مدن موہن مالویہ دلّی 1918

1919، گاندھی جی رولیٹ ایکٹ کے خلاف ملک بھرمیں "بھوک ہڑتال " کا

اہتمام کیا۔

پنڈت موتی لال نہرو امرتسر 1919
1919، جلیان والا باغ قتل عام لالہ لاجپت رائے کلکتہ 1920
1920، تحریکِ خلافت سی۔ وجئےراگھوا چاریر ناگپور 1920

1920، گاندھی جی نے تحریک عدم تعاون کےاہتمام کیلئے پورے ملک کا

دورہ کیا۔

 حکیم اجمل خاں احمدآباد 1921
1920، کانگریس نے ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کی ۔ دیش بندھو چترنجن داس  گیا 1923
1920، پورا ملک مہاتما گاندھی کے ساتھ متحد  مولانا محمد علی جوہر کوکاناڈا 1923
بیلگام مہاتما گاندھی 1922، مہاتما گاندھی حراست میں لئے گئے۔ مولانا ابوالکلام آزاد دلّی 1924
1924، ہندو مسلم فساد کے خلاف خود گاندھی جی کا رات دن کا فاقہ۔      
       

 

 

 

مکمل خود مختاری کا مطالبہ
گاندھی اٍرون معاہدہ
بنیادی حقوق کی تشریح

 

 

انڈین نیشنل کانگریس تاریخی تعارف

1925، کل ہند کانگریس کمیٹی کےاجلاس کیلئے ہندی دفتری زبان بنائی گئی۔  محترمہ سروجنی نائڈو کانپور 1925
1926، دستورہند میں اصلاحات کی تجویزکیلئےسائیمن کمیشن کا اعلان ۔ ایس۔ سرینواس اینگار گوہاٹی 1926
1927، سائیمن کمیشن کے بائیکاٹ کرنےکی قرارداد۔ ڈاکڑ ایم۔ اے۔ انصاری مدراس 1927
1928، سائیمن کمیشن کی آمد پرکامیاب کل ہند ہڑتال پنڈت موتی لال نہرو کلکتہ 1928
1928۔ آزاد ہندستان کےدستورکا مسودہ تیار کرنے کیلئے پنڈت موتی لال نہرہ کی قیادت مین کل ہند جماعت کی تشکیل۔ پنڈت جواہر لال نہرو لاہور 1929

1928میں سردار پٹیل کی قیادت میں باردولی کی کامیاب بھوک ہٹرتال۔

سردار ولّبھ بھائی پٹیل کراچی 1931
 1929 ارون گاندھی مذاکرہ۔  پنڈت مدن موہن مالویہ دلّی 1932
1929 مکمل آزادی کے مطالبہ کی قرارداد۔ محترمہ نلّی سین گپتا کلکتہ 1933
1930 سول عدم تعاون کا اعلان۔ ڈاکڑ راجندر پرساد ممبئی 1934
1930، 26 جنوری کو مکمل یوم آزادی منانے کی منظوری۔      

1930 نمک ہڑتال - ڈانڈی مارچ۔

     
  1930 کانگریس کے تمام بڑے رہنماگرفتار۔      

1930 کل ہند کانگریس کمیٹی غیرقانونی تنظیم قراردی گئی ۔

     

1930 گول میز کانفرنس کی مخالفت۔

     

1931 بنیادی حقوق کی وضاحت

     

1931 کل ہند کانگریس کمیٹی کےممبران کی رہائی کانگریس کووائسرائے کے ذریعے ہندستان کے مستقبل کے متعلق غور خوض کرنے کا دعوت نامہ۔

     

1931 کانگریس کی جانب سےبرطانیہ سرکار سے گفت وشنید کیلئے گاندھی جی کو اختیار دیاگیا۔

     
1931 گاندھی ارون معاہدہ۔      

1931- 32 برطانیہ کا ظلم وتشدد اور جدوجہد آزادی کا دوبارہ آغاز۔ اور گاندھی جی گرفتار۔

     

1932 پونا معاہدہ دلتوں اور آدیواسیوں کیلئے سیٹوں کے ریزرویشن کی گارنٹی .

     

1933 گاندھی جی کا دلتوں کے مفاد کیلئے 21 دنوں کا بھوک ہڑتال.

     

1934 گاندھی جی کی کانگریس سے علحدگی ۔

     

1934عدم تشدّد اور کھادی کوبنیادی مسلک بنانےکیلئےکانگریس کے دستورمیں ترمیم ۔

     

 اکیسویں صدی کی طرف

 

آخری مرحلہ

 

 مقام- صدر- اہم واقعات

اجلاس -

 

 

فوری آزادی کا مطالبہ
عوامی بھوک ہڑتال

 

انڈین نیشنل کانگریس تاریخی تعارف

اجلاس- مقام- صدر- اہم واقعات

اکیسویں صدی کی طرف

 

 

1935 ہندستانی حکومت ایکٹ  پنڈت جواہرلال نہرو  لکھنئو 1935
1935 گاندھی جی کاسماجی اصلاحات پرتوجہ دینے کا فیصلہ۔  پنڈت جواہرلال نہرو فیض پور 1936

1935 کانگریس کے ذریعہ نئے دستورکی مذمت مگر انتخابات میں حصہ لینےکا فیصلہ۔

     
1936 نہروجی کی صدارتی تقریرفسطائیت کی مذمت ۔      
1937 انتخابات میں 9 ریاستوں میں سے 5 ریاستوں میں کانگریس کی فتح ۔     1937
    سبھاش چندر بوس ہریپورہ 1938

  کانگریسی وزارت کا استعفی اور عملی قانون سازی سے علیحدگی۔

سبھاش چندربوس تریپورہ 1939
1939 رائے عامہ کےذریعے " مجلس قانون ساز" منتخب کرانے کا مطالبہ ۔     1939
1940جنگی تیاریوں میں عدم تعاون کا فیصلہ۔     1940
1940 قومی حکومت کا مطالبہ۔     1940
1940، 19 اگست ہندستان چھوڑو قرارداد۔     1940
1940 عوامی گرفتاریاں ۔ ملک بھرمیں عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری۔

 اچاریہ جے۔ بی۔ کرپلانی

میرٹھ 1946

44-1943 گاندھی جی اور دوسرے رہنما جیل سے رہا برطانیہ سرکار کے ساتھ گفت وشنید سےانکار۔

    1947

44-1943جنگ میں اتحادیوں کی فتح- برطانیہ کا رویہ مزید سخت۔

     

44-1944 ملک کے بٹوارے پرجناح بضد۔

     
1945 شملہ کانفرنس کی ناکامی      

1946 ہندستان کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کیلئے کابینہ کا مشن۔

بحری فوج کی بغاوت

     

1946 مجلس دستورساز کے انتخابات میں کانگریس کی اکثریت سے جیت۔

     

 

 

آزادی کے بعد
فرقہ ورانہ

 

30 جنوری، 1948 مہاتما گاندھی کی شہادت
نوابی ریاستوں کا انضمام

جمہوریت کی تخلیق

پہلا عام انتخابات
اصل جمہوریت کا قیام
پنڈت نہرو نے کانگریس کے پیغام کی وضاحت کی

 

 

گاندھی کی قیادت میں پرائنا تحریک کے ذریعے سیاسی آزادی حاصل کرنے کے بعد اب نیشنل کانگریس کو معاشی آزادی کیلئےمحنت کرنی ہوگی تاکہ اسکا فائدہ بغیر کسی مذہب ونسل کی تفریق کے ہرہندستانی کو برابر مل سکے۔

  

 

اشتراکیت کی راہ پر

 

 ڈاکڑ پٹّابھی سیتا رمیا جے پور 1948
پرُشتّم داس ٹنڈن ناسک 1950
جواہرلال نہرو نیو دلّی 1951
 جواہرلال نہرو حیدراآباد 1953
 جواہرلال نہرو کلیانی 1954
5

 

انڈین نیشنل کانگریس تاریخی تعارف

اجلاس- مقام- صدر- اہم واقعات

اکیسویں صدی کی طرف

 

محترمہ اندرا گاندھی کی آمد

 

  جناب یو۔ این۔ ڈھیبر آوازی 1955
 

اشترکیت کی طرز پر ملک کا نظام تشکیل دینے کی قرار داد

   
  جناب یو۔ این۔ ڈھیبر امرتسر 1956
  سماجی اور معاشی تشکیل نو کا تصور۔   1955
   جناب یو۔ این۔ ڈھیبر اندور 1957
  جناب یو۔ این۔ ڈھیبر ناگپور 1959
   این۔ سنجیوا ریڈی بنگلور 1960
   این۔ سنجیوا ریڈی بھونیشور 1961
  این۔ سنجیوا ریڈی پٹنہ 1962

1964 وزیراعظم پنڈت نہروکا سانحہ ارتحال ۔

کے۔ کامراج بھونیشور 1964
       

 

انڈین نیشنل کانگریس تاریخی تعارف

اجلاس- مقام- صدر- اہم واقعات

اکیسویں صدی کی طرف

 

1965 وزیر اعظم جناب لال بہادر شاشتری کا انتقال  کے۔ کامراج درگاپور 1965
1965 محترمہ اندراگاندھی کا بحیثیت وزیراعظم انتخاب۔ کے۔ کامراج  جے پور 1966
1969 بینکوں کا قومیانا۔ ایس ۔ نیجالنگّپا حیدرآباد 1968
1969 ہندستان کے صدرکے انتخاب کے مسئلے پر کانگریس میں پھوٹ۔ ایس ۔ نیجالنگّپا فریدآباد 1969
   1971درمیانی انتخاب میں محترمہ اندرا گاندھی کی یکطرفہ جیت۔ جگجیون رام ممبئی 1969
  1972 صوبائی انتخابات میں کانگریس کی شاندارکامیابی۔ ڈاکڑ شنکر دیال شرما کلکتہ 1972
1975 ایمرجینسی کا نفاذ۔ جناب ڈی۔ کے۔ بروآ چنڈیگڑھ 1975
1977 عام انتخابات میں نقصان۔ محترمہ اندراگاندھی دلّی 1978
1977 کانگریس پارٹی میں تقسیم۔لوک تانترک کانگریس کا وجود۔ 

محترمہ اندراگاندھی

کلکتہ 1983
1978 کانگریس میں پھوٹ۔      
1978 کرناٹک اور آندھراپردیش کے اسمبلی انتخابات میں محترمہ اندراگاندھی کی یکطرفہ جیت۔      

1980- 300 نششتیں جیت کراندراجی دوبارہ برسراقتدار۔

     

31 اکتوبر1984 محترمہ اندراگاندھی کی شہادت۔

 

1984 پارلیمنٹ میں 401 نشستیں جیت کرجناب راجیو گاندھی نے کانگریس کو بے مثال کامیابی دلائی۔

 

ملک کی سیاسی ،معاشی حالت کی تبدیلی کیلئے پہلی بار کچھ اقدامات۔

عرصئہ دراز سے زیر غور تنازعات کے حل کرنےکےاقدامات۔

 

میزو معاہدہ، آسام معاہدہ

پنجاب معاہدہ، چین کا تاریخی دورہ

 

 راجیو گاندھی

ممبئی 1985

 

 

جناب راجیو گاندھی کا کہنا تھاکہ ‘‘ کارناموں کی ایک صدی رخصت ہورہی ہے ۔ جدوجہد کی ایک صدی ہمیں بلارہی ہے۔ ہماری درخشاں تہذیب جو مسلسل ہزاروں سالوں سے دیناکو منورکرتی آئی ہے آج ہزاروں سال آگے برتری کی طرف دیکھ رہی ہے۔

 

 

یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ہندستان کی عظمت کیلئے کوشش کریں۔ عظیم ملک وہ نہیں ہے جس کا صرف تابناک ماضی ہے۔ بکلہ عظیم ملک وہ ہے جو اس شاندار ماضی سے ایک روشن وتانباک مستقبل پیداکرے۔ ہم ایک ایسے ہندستان کی تعمیرکریں جو اپنی آزادی پرفخر کرے۔

 

اپنی آزادی مستحکم ہو۔ زراعت، صنعت اور جدید ٹکنالوجی میں خود کفیل اور مستحکم ہو۔ غربت کے بندھن سےآزاد ہو۔ عدم مساوات ، ذات پات، نسل اورعلاقائی عصبیت سے بالا تر ہوکر قومی اتحاد کا علمبردارہو۔

 

ایک ایسا ہندستان جومنظم اور موثر ہو۔ اخلاقی اور روحانی قدروں سے مستحکم ہو۔

دنیا میں امن وسلامتی کے قیام کیلئے ایک بے خوف طاقت ہو۔

 

دیناکی ایسی تعلیم گاہ جو روح کے اندرونی سکون کو مادّی ترقی سے جوڑتی ہو۔

 

ایک نئی تہذیب جسمیں ہماری وراثت کی طاقت ہو اور ہماری جان امنگوں کی قوت تخلیق۔ عوام کا ایک ناقابل تسخیر جذبہ ہو۔

 

عظیم کارناموں کے لئے عظیم قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ صرف ہماری نسل اور ہمارے اسلاف کی قربانیاں ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی قربانیاں بھی درکار ہوتی ہیں ۔

 

تہذ یبیں صرف ایک یا دو نسلوں سے قائم نہیں ہوتی ہیں ۔

 

تہذیبیں بنتی ہیں کئی نسلوں کی انتھک کوششوں سے۔

 

تہذیبیں ختم ہوتی ہیں سستی اور کاہلی سے ۔ ہم کو زوال سے چوکنا رہنا چاہیے۔

 

ہمیں آج ہندستان کودنیا کی عظیم طاقت بنانے کی کوشش میں اپنے آپکو عہد بند کرناہے۔ وہ عظیم طاقت جو ہندستان کی عظیم تہذیب کی مکمل طاقت اور رحمدلی کا آئینہ ہو۔

 

‘‘ اس مہم کے لئے میں اپنے آپکو وقف کرتاہوں‘‘۔

 

 

جناب راجیو گاندھی جی کے زریعہ ممبئی میں دئے گئے صدارتی خطبہ کا اقتباس۔

 

1989میں197 سیٹیں حاصل کرکے کانگریس اکیلی سب سے بڑی پارٹی بنی مگر واضح اکژیت نہ ملنے کی وجہ سے جناب راجیو گاندھی نے حزب اختلاف میں بیٹھنا منظور کیا۔

 

انڈین نیشنل کانگریس تاریخی تعارف

اجلاس - مقام - صدر- اہم واقعات
اکیسویں صدی کی طرف

 

درمیانی مدت

 

1991 پارلیامنٹری انتخابات میں انتخابی مہم کےدوران  شری پرومبدور میں جناب راجیو گاندھی کی شہادت۔

 

1991جنا ب راجیو گاندھی کی شہادت سے پیداہوئی ہمدردی کی بدولت کانگریس اقتدار میں واپس آئی۔

 

1991جناب پی۔ وی۔ نرسمہاراؤ وزیراعظم بنے۔

 

 

1991 ڈاکڑ منموہن سنگھ کے وزیرِ خزانہ کی حیثیت سے پہلی بار ملک کی معاشی پالیسی کی عالمی تجدید کے اقدامات کئےتاکہ مسابقت کا سامنا کرسکے۔

 

  جناب پی۔ وی۔ نرسمہاراؤ

تروپتی 1996

 

جناب سیتارام کیسری

کلکتہ 1997

 

عام انتخابات میں کانگریس کی شکست۔

 

1996 جناب پی۔ وی۔ نرسمہاراؤ کا پارٹی صدر کے عہدے سے استعفیٰ ۔

 

1996 جناب سیتارام کیسری کے نئےِ صدر منتخب ہوئے۔

 

1997 کےعام انتخاب سےقبل کانگریس میں مایوسی اور کئی لیڈروں کےذریعہ پارٹی چھوڑنے کی دھمکی۔

 

 

تمام پیشن گوئی کرنے والوں نے پارٹی کی مکمل تباہی کی پیشن گوئی کی ۔

 

انڈین نیشنل کانگریس کا تعارف

اجلاس - مقام - صدر- اہم واقعات
اکیسویں صدی کی طرف

 

1997 محترمہ سونیا گاندھی پر پارٹی کو انتشار سےبچانےکیلئے انتخابی مہم میں حصہ لینے کیلئے دباؤ۔

 

محترمہ سونیا گاندھی کی آمد بازیابی کا راستہ پارٹی میں نئی روح۔

 

14 مارچ 1998 محترمہ سونیا گاندھی سے کانگریس صدر کے منصب کو قبول کرنے کی التجا۔

 

1999 صدر کے منصب کی گذارش۔

 

 محترمہ سونیا گاندھی

بنگلور

2001

 

کانگریس جیت کی راہ پر گامزن ۔ کئی صوبائی انتخابات میں کامیاب۔

 

2002
    2003
    2004

 

 

کانگریس کا ہاتھ غریب کے ساتھ

 

28 - 29 مارچ 2003 پہلی بار تمام بلاک صدور کا دلّی میں اجلاس

غریبی دورکرنے پر زور۔

 

کانگریس کا ہاتھ عام آدمی کے ساتھ

مئی 2004 میں عام انتخابات

 

7 ،8 اور9 جولائی 2003 شملہ مذاکرہ جلسہ، پارٹی نے شملہ منشورکو منظورکیا۔

 

بی۔ جے۔ پی۔ کی قیادت والی این۔ ڈی ۔ اےحمایت کی شکست فاش ۔ محترمہ سونیا گاندھی کی قیادت میں کانگریس اور متحدہ ترقی پسند محاذ کی کامیابی

 

محترمہ سونیا گاندھی پارلیمانی پارٹی کی رہنما منتخب ہوئیں۔

 

محترمہ سونیا گاندھی نےوزیراعظم کا منصب قبول کرنےسےانکار کیا۔

 

محترمہ سونیا گاندھی کو بحیثیت وزیراعظم ترقی پسند محاذ کی قیادت کرنے کی پیشکش ۔

 

‘‘ مجھے ہمیشہ یقین تھا کہ اگر میں کبھی اس موڑ پر پہنچوں گی جہاں میں آج ہوں تومیں اپنے ضمیرکی آواز پرعمل کروں گی۔ آج وہ آواز مجھ سے کہہ رہی ہے کہ میں اس منصب کو قبول نہ کروں ۔۔ محترمہ سونیا گاندھی۔

 

ڈاکٹر منموہن سنگھ کانگریس پارلیمنٹری جماعت کےلیڈر منتخب ہوئے۔

 

 

 

ڈاکٹر منموہن سنگھ نے 22 مئی 2004 کو وزیراعظم کے عہدہ کا حلف لیا۔

 

قومی دیہی روز گار گارنٹی قانون نافذ

    2005
حق اطلاعات کا قانون   2005      
جنگل کےتحفظ کا قانون محترمہ سونیا گاندھی

حیدر آباد

2006

"امن  ، عدم تشدد اور خود مختاری اکیسویں صدی میں گاندھی فلسفہ" نئی دہلی کانفرنس 30-29 جنوری 2007

    2007

راہل گاندھی جی نے کانگریس کے جنرل سکریٹری کا عہدہ سنبھالا

     

سونیا گاندھی جی کی تاریخی کوشش - اقوام متحدہ کے ذریعہ 2 اکتوبر کو گاندھی جینتی کو" عالمی یوم عدم تشدد کے منانے کا اعلان"

     

ملک کے سبھی ضلعوں میں  NERGA نافذ

 

  2008
کسانوں کے قرض 72,000  کروڑ روپئے معاف      

نیو کلیئر  قرار داد پر پارلیمنٹ میں کانگریس کی جیت-

بھارت اب عالمگیر نیو کلیئر  گروپ  کا رکن

 

 

 

بلاک وضلع صدور کا قومی اجتماع، اتوار 8، فروری 2009

رام لیلا  میدان ،  دہلی

 

 

2009

 

عام آدمی کے بڑھتے قدم

ہر قدم پر بھارت بلند

 

عام انتخابات اپریل / مئی 2009 میں منعقد ہوئے

 

 


یوپی اے نے عام انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی

 کانگریس نے اسی الیکشن میں خود 206 نشستوں پر کامبیابی کا پرچم لہرایا

ڈاکٹر منموہن سنگھ نےدوسری بار ملک کے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا

 

 


وقت کی لکیر

کانگریس کے گذشتہ صدور

کل ہند کانگریس کے اجلاس

1885سے 1946

کانگریس قیام کی زمینی حقیقت

آزادی کی جنگ

کانگریس اور تحریک آزادی

جدوجہد آزادی پر دوبارہ نگاہ

مہاتماگاندھی کے سیتہ گرہ  مراکز

قومی پرچم

تعمیری پروگرام اور کانگریس

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Sitemap           Search           Feedback

© Copyright AICC 2009 | Privacy policy. Best viewed with IE 5 + browsers at 1024 X 768 resolution.