کل ہند کانگریس کا اویبھرو
ایچ۔ او۔ مّتل
ہندستانی تاریخ میں کل ہند گانگریس کا مقام بے مثال ہے۔ اس تنظیم نے برطانوی حکومت سےآزادی پانے کیلئے60 سال سے بھی زیادہ وقت تک بغیر آرام کئے جدوجہد کیا ہے۔ ڈاکڑ پتّابھی سیتارمیہ نےٹھیک ہی کہاتھا، کانگریس کی تاریخ حقیقت میں ہندستان کی آزادی کی تاریخ ہے۔ 1885 میں اس کا قیام اس لئےکیا گیا تھاکہ عوام کوبرطانوی حکومت کےخلاف بےاطمئنانی سےنجات دلائی جائے۔ اس کا قیام ایک انگریزریٹائرڈ افسرجناب ایے۔ او۔ ہیوم کی مدد سےکی گئی تھی۔ وہ ترقی پسند لیڈر تھے۔ مختلف حصوںمیں خاص طور سےکسانوں میں بڑھتی ہوئی بیچینی اورمایوسی سے وہ اچھی طرح واقف تھے۔ انہیں یہ فکر تھی کہ یہ نااطمئنانی تعلیم یافتہ طبقےکو بھی ڈس لیگا۔ اس طرح جناب اے۔ او۔ ہیوم نے کل ہند کانگریس کا قیام کے سلسلے میں سوچا تاکہ یہ تنظیم کل ہند طرز پر بنے جسمیں تعلیم یافتہ طبقے کے جوش اور دوراندیشی کو آئین کے تحت کام کرنے کی جہت ملے۔
اس میں شک نہیں کہ جناب ہیوم نے کانگریس کو قائم کرنے میں بڑی اہم کوشش کی لیکن انہیں دنوں جناب سریندرناتھ بنرجی، سر جمشید جی، جناب وشونات مانڈ لک اور دادابھائی نوروجی نے بھی اسی طرح سے تنظیم کے قیام کے بارے میں سوچا۔1877میں دلّی دربار ہواتھا تب ان عظیم شحصیتوں نے آپس میں کہا،‘‘ اگر ملک کے راجہ اور اعلی درجہ کے لوگوں کو مرضی کےمطابق وائسرائےکی شان وشوکت بڑھانے کےمقصد سےجمع ہونے پرمجبور کیا جاسکتا ہے توآپ لوگوں کوآئین کےتحت من مانی طرز کی انتظامیہ کے بیجا روئیوں کو روکنےکیلئےکیوں نہیں جمع ہونے دیا جاسکتا۔ ؟
لیکن یہ خیال 1885تک عمل میں نہیں لایا جاسکا۔
پہلے کی تنظیمیں
1۔ اراضی سے متعلق تنظیم
الف۔ 1837میں بنگال میں زمینداری اسوسییشن کےقیام سے ہندستان کی آئینی سیاست کی شروعات ہونی۔ جانب پرسنّا کمار ٹیگور اسکے خاص ممبر تھے۔ پہلے تویہ تنظیم صرف زمیداروں کےحقوق کیلئے کام کرتی تھی لیکن بعد میں اسکی مصروفیت میں عام لوگوں کے حقوق کو بھی شامل کرلیا گیا۔
ب۔ 1843میں بنگال بریٹش انڈیا سوسائیٹی کا قیام ہوا۔ اسے کلکتہ کے ایک اہم تاجر رامگوپال گھوش نے زمینداروں کیلئے ہی قائم کیا تھا۔ اس تنظیم کا مقصد برطانوی ہندستان کےلوگوں کی حقیقی حالت، ملک کے قوانین، تنظیمیں اور ذرائع سے متعلق خبروں کو اکٹھا اور مشتہر کرنا تھا اور ایسےامن اورجائز طریقے اپنانے تھے جن سےملک کے باشندوں کے سبھی طبقوں کے حقوق کی بہتری ہوسکے، انہیںبہتر اختیارمل سکےاور انکے حقوق کو بڑھاوادیا جاسکے۔
ت۔ 1851میں بریٹش انڈیا اسوسییشن کا قیام ہوا۔ یہ صرف زمینداروں کی ہی ہندستانی تنظیم تھی۔ اس تنظیم میں کارگردونوں تنظیموں کوملا کر ایک کردیا گیا گھا یہ تعلیم یافتہ زمینداروں کی تنظیم تھی اوراسکے پہلےصدر، راجہ رادھاکانت بہادرتھے۔ یہ پہلی سیاسی تنظیم تھی جسکا ایک لائح عمل تھا اور اسکے حصول کیلئے اسنے طریقےاپنائے۔اس تنطیم کی پہلی سالانہ ریپورٹ میں کہا گیا ہےکہ اکا مقصد ملک کےمقامی انتظامیہ میں اورپارلیمنٹ کےذریعہ حکومت کےطورطریقےمیں اصلاح کرناتھا۔ اسکی اہمیت اس بات میں ہےکہ سیاسی جماعتوں کےقیام کے پہلےاس تنظیم نےبرطانوی حکومت اور ہندستانی سماج کےدرمیان رابطے کا کام کیا۔
2۔ درمیانی لوگوں کی تنظیم
2 اپریل 1670 کے ستاراکے اوندھ ، ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ایک عام جلسہ کیا گیا۔ اس جلسےکا مقصد جنوب کےاورملکوں کےلوگوں کی سیاسی بھلائی اوربڑھاوا دینا تھا۔ جناب ایم۔ جی۔ راناڈے نےعام جلسےکےقیام میں بھی جماعت کی قیادت کی، انہوں نےالتجائیہ سماج کا قیام اوربیوہکی دوسری شادی تنظیم قائم کرنےمیںحصہ لیا تھا۔ یہ قابل غوربات ہےکہ یہ تنظیم تجویز جاری کرنے والی سیاسی تنظیم تسلیم نہیں تھی۔ اس تنظیم نےاور بھی عوامی فلاح کےکام کئےجیاے کہ 1870-75 کی پانچ سالہ کی مدت کی میں مہاراشٹرا میں سوکھا پڑا ان دنوں اس تنظیم نے کسانوں کی الجھنوں کو سلجھانے کی کوشش کی ۔ یہ تنظیم ہر سال کلکتہ میں وفد بھیجا کرتی تھی اور راحت دلاتی تھی۔
ہندستانی تنظیم( انڈین اسوسییشن) بھی ایک طرح سےاوسط درجے کے لوگوں کی تنظیم تھی۔ اسکا قیام 23 جولائی 1873میں ہوا تھا۔ یہ سیاسی تنظیم تھی۔ اسکے خاص چلانے والے جناب سریندرناتھ بنرجی نے اس سلسلے میں کہا تھاکہ ‘ اس پر اوسط درجے کے لوگوں کا دھیان مرکوز ہوا اور یہ بنگال کے تعلیم یافتہ طبقے کے خاص ارکان کا مرکز بن گیا۔‘‘ اس نے اعلان کیا کہ اس تنظیم کا مقصد حکومت کے سامنے لوگوں کی رہنمائی کرنا تھا اور ایسے رائےعامہ کو تیار کرنے میں تعاون کرنا تھا تاکہ اس سے باہمی سیاسی حقوق کیلئے مختلف ہندستانی ذاتوں میں اتحاد پیداکیاجاسکے۔ اسکی مصروفیت صرف بنگال تک ہی مخصوص تھی۔ پھر بھی اس بات سےانکارنہیں کیا جاسکتا کہ اس کےبعد ہی کل ہند کانگریس تنظیم کےبنیاد کی زمین تیار ہوئی۔
ہندستانی تنظیم جیسےکچھ اورسیاسی تنظیم بھی بنی۔ دو دوسرے ریاستوں میں اسطرح کی تنظیم بنی۔ مدراس میں مہاجن سبھا اوربمبئی میں پریسیڈینسی اسوسییشن۔ مدراس کی مہاجن سبھاکو ‘ہندو‘اخباراوردوسرے کئی لیڈروںجیسےجناب آنند چارلو،جناب رنگیچ نائڈواورسُبرامنییم آیرکی حمایت حاصل تھی۔ جناب فیروزشاہ مہتا، جناب کے۔ ٹی۔ تولنگ اورطیب جی جیسےلوگ پریسیڈنسی اسوسییشن کو حمایت دے رہے تھے۔
یہ سبھی اوسطی تنظیم نہ صرف آزادی چاہتے تھے بلکہ برابری یا یہ کہیئے‘‘ ایک طرح کی حصےداری‘‘ چاہتے تھے۔ انہوں نے ایسے سبھی قانون کو ختم کرنے کی مانگ کی جن میں یورپ کے باشندوں کےدرمیان کسی طرح کے تعصب کی بو آتی تھی۔ ایسا ہی ایک قانون تھا‘‘ آرمس ایکٹ‘‘۔ اس طرح کی سبھی مانگوں کا عام مقصد یہی تھا کہ انگریز اور ہندستانی کا فرق ختم ہو، ریاستوں میں مساوات کے ذریعہ ملک کی انتظامیہ میں ذاتی میزان کو ختم کردیا جائے۔
مذکورہ سبھی تنظیموں میں یہ بڑی کمی تھی۔ اسکی بنیاد علاقائی تھی اور یہ رکنیت اور نظرئے میں بھی ریاستی تھی۔ اس وقت ضرورت ایک ایسی کل ہند تنظیم کی تھی جوبڑے پیمانے پر لوگوں کو متحد کرسکے۔ یہاں پر یہ بتانا مناسب ہوگا کہ البرٹ بل پر جواختلاف کھڑا ہوا اس سے ایک اور بڑی تنطیم کی ضرورت محسوس ہوئی جو اینگلو انڈین کے بھی چیلنجوں کا سامنا کرسکے۔ اس سلسلے میں جناب سریندر ناتھ بنرجی نے پہل کی، جسکے نتیجےمیں 1883میں کلکتہ کے البرٹ ہال میں ایک سیاسی جلسہ منعقد کیا گیا۔ اس جلسہ میں ملک کے مختلف حصوں سےآنے والے شرکاء نے حصہ لیا۔ اسکی صدارت جناب آنند موہن گھوش نے کی ۔ انہوں نے اسے ‘‘ قومی ایم۔ پی۔ کی طرف سے ‘ پہلا قدم ‘‘ سے موسوم کیا۔ جناب ایس۔ این۔ بنرجی نے اپنےافتتاحی تقریر میں دلّی جلسے کا خاص طور سے حوالہ دیا اور کیا کہ سب کے حقوق کیلئے کام کرنے والی سیاسی تنظیم کی یہ ایک مثال ہے۔ جناب امبیکا چرنداس مجمدارنے کہا تھا، ‘‘ یہ بے مثال منظر تھا‘‘ مصنف کے دل میں اسکی جو عقیدت اور لگاؤ ہے وہ صاف عیاں ہے جو کہ اس تیسرے اجلاس میںدیکھنے کو ملا۔ اجلاس کے اختتام پر ہرآدمی جووہاںموجود تھا ایک نئی روشنی اور جذبات سے سرشار ہوا۔ ‘‘ اس اجلاس میں کونی تجویز جاری نہیں کی گئی‘‘۔
بعد کے سالوں میں ہ سلسلہ جاری رہا اور جناب اے۔ او۔ ہیہوم نے اس سلسلے میں پہل کی۔ مارچ 1885میں پہلی جانکاری دی گئی کہ آنے والے دسمبر میں پونا میں پہلا کلہند قومی سندھ کی نشست کے متعلق بتایا گیاتھا۔ اس طرح کل ہند قومی کانگریس کا قیام ہوا۔ قابل تحریر یہ ہے کہ اسوقت کے وائسرائےلارڈ افرن نے بھی جناب ہیوم کے منصوبے میں انکی دلچسپی ایک سیا سی تنظیم کے طور پرتھی جوتنظیم۔۔۔۔۔۔ کی کمی کو پورا کرپاتی ۔ انکی خواہش تھی کہ ۔۔۔۔۔۔۔ میں ایک وفادار حزب مخالف ہواور اسی کردار میں کانگریس نے اپنے قیام کے بعد کچھ دنوں تک نبھایا۔
صرف سیاسی طاقتوں اور جذباتی لگاؤ سے ہی کانگریس وجود میں آئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کانگریس کے کچھ سیسی اصول تھےاور یہ بھی سش ہے کہ اسکےقیام کے پیچھے قومی دوسری بیداری کی تحریک کارفرما تھی۔ اس سلسلےمیں ڈاکڑ پٹّا می سیتا رمّیہ نےکہا ہے۔ ‘‘ کانگریس کے قیام سےپہلے پچاس سال سے بھی زائد وقتوں تک قومی دوسری بیداری کا سلسلہ کار آمد رہا۔
انیسویں صدی کے درمیان میں قومیت کا جذبہ پیدا ہو تبھی ۔۔۔۔۔ ریاست سے آزاد ملک کے خیال ظاہر ہونے شروع ہوئے اور اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوںمیں بیداریل پیداہوئی۔ یہ قابل غور بات ہے کہ ان دنوں کئی مذہبی اور سماجی مصلحوںنے کئی سماجی اور مذہبی تحریک چلائی تھی اور اسکے نتائج ہمیں اس قومی بیدری میں نظر آئی ۔‘‘ ایسٹ اندیا کمپنی ‘‘ نے جومتزلزل ماحول پیدا کیا تھا اس ماحول سے راجہ رام موہن رائے کی اصلاحی تحریک نے پہلے پہل بنگال کو نکالا۔ انکے ذریعہ قائم برہمن سماج نے اصلاح کی شکل اصلاح کی شکل میں اتنا اہم کردار ادا کیا کہ انہیں ‘‘ نئے زمانے کا موجد کہا جاتاہے۔‘‘
سوامی دیا نند کا آریہ سماج بھی اتنا ہی اہم تھا۔ اسکا وجود 1875میں ہوا۔ اس سماج ن مذپبی پرائیاں اور سماجی شدت پر حملہ کیا۔ انہوں نے آریہ سماج کو سوراج کا منتر دیا جس سے آریہ سماج قومی تنظیم کی شکل میں سامنے آیا۔
انیسویں صدی کی دوسری بے مثال تنظیم تھی‘‘ رامہ کرشنا مشن ‘‘ اس مشن نے سیاست کو غیر معمولی طور پر متائثر کیا۔ اس تنظیم نے قومی بیداری چلانے کا کام کیا اور لوگوں کے بتایا کہ مغرب کی پیروی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
ایک اور تحریک‘‘ سماجی اصلاحی تحریک‘‘ ( شوشل ریفارم موومینٹ) نےبھی قومی دوسری بیداری میں اہم تعاون کیا ہے اوراس تحریک کا محرک بھی بنگال ہی تھا اور وہیں سے اس کی شروعات ہوئی۔ اس تحریک کے شہطیر تھے جناب ششی پاد بنرجی۔ اندھی تقلیدوں اور دوسری مذہبی، سماجی برائیوں کے خلاف لڑائی میں اس سبھی سماجی اور مذہبی تنظیموں نھے بہت اہم اور موئثر کردار اداکیا۔ ان تنظیموں نے حب الوطنی کے جذ بے پر کافی زور دیا اور قومی پیداری پر اسکا مثبت اثر پڑا۔
اسی ماحول میں قومی کانگریس کا خیال پیدا ہوا، یہ کہا جاسکتا ہے کہ سماجی، سیاسی، مذہبی واقعات کے باہمی مناسبت کے نتیجے میں کانگریس کا وجود عمل میں آیا۔ در حقیقت کانگریس کے قیام کا سہرا اتنا ہی جاتاہے ہندستان کے اعتدال پسن طبقوں کاجاتا ہے، جتنا کہ حکومت کو، دونوں کے مقاصد میں یکسانیت تھی۔ ہندستانیوں اور حکمرانوں دونوں کیلئے ہی یہ وقت کی پکار تھی۔
کانگریس کے وجود سے قبل کی زمینی حقیقت
ڈاکڑ پٹّامی سیتارمّیہ
کانگریس کی تاریخ سچ پوچھیں تو اس لڑائی کی تاریخ سے شروع ہوتی ہے جو ہندستان نے اپنی آزادی کیلئے لڑی ہے۔ کئی صد یوں سے ہندستانی قوم غیرملکیوں کی غلام بنی رہی۔ غلامی کی شروعات ملک ہندستان میں ایک تجارتی برطانوی کمپنی کے ابتدا کے ساتھ ہوئی۔
قبل کے حالات
ایسٹ انڈیا کمپنی کا تجارتی اور سیاسی دور دورا کئی سو سالو تک رہا۔ اسی دوران اس نے ہندستان کے کچھ بڑےبٹے حصوں پر اپنا قبضہ کرلیا اور تجارت کی جگہ ایک طاقتورحکمراں بن گئی۔1772کے بعد برطانوی پارلیمنٹ وقے وقفے پر انکے کاموں کی چھان بین کرنےلگی اور جب جب اسکو نئی سند( چارٹر) دی جاتی تب تب برطانوی پہکے برطانوی حکومت کی طرف سے کاموں کی تفتیش کرلی جاتی تھی کیونکہ اسکا تجارتی کام پیچھے پڑتاجا رہا تھا۔ یہ تفتیش اور بھی باریکی کے ساتھ ہونے لگی ۔ مگر اس سے یہ خیال کرنا تو ٹھیک نہ ہوگا کہ اس کے کام پر کوئی گہری دیکھ ریکھ کی جاتی رہی ہو، ہاں کچھ ایسے برطانوی لوگ ضرورتھے جو ہندستان کےسوالوں کا گہرائی سے مطالعہ کرتے تھے۔ وہ کمپنی کے کام اور پروگرام کو غور سے اور آنکھیں کھول کر دیکھا کرتےتھے اوراسے پارلیمنٹ کی نظر سےگذارنے مین کبھی کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے تھے۔ ١ٹھارویں صدی کے چوتھے حصے میں ایڈمن اور بارک شریڈن فاکس نام کےلوگوں نے اس موضوع میں بڑی دلچسپی لی۔ اس سے کمپنی کےایجنٹوںکے کارنامے کی طرف لوگوں کا دھیان کھینچ لیا۔ حالانکہ وارن ہوسنگٹس پر چلائےگئےمقد مے کی غرض ہوری نہ ہوسکی، پھر بھی اس نے کمپنی کی ناانصافی ظلم کو لوگوں کےسامنے اجاگرکردیا۔ بغیر سند دئے پہلے جب جب جانچ پڑتال کی گئی، تب تب اسکے مطابق مستقبل میں آنے والے نتائج میں کچھ نہ کچھ اصولوں کو تبدیل ضرور کیا گیا مگر وہ صرف کاغذ پر ہی لکھے رہجاتے تھے، کئی بار یہ پالیسی طئے کی گئی کہ کمپنی کےایجنٹ اپنے اپنے علاقوں کی سرحد بڑھانے کی کوششش نہ کریں لیکن ہربار کوی نہ کوئی ایسا موقع آجاتا تھا یا پیدا کرلیا جاتا تھا جس سے اس حکم کی تعمیل نہ ہوتی تھی اور انکے علاقے کی سرحد بڑھتی ہی چلی گئی۔ اپنے اختیار میں لیتے وقت کی گئی غداریوں اور کالی کرتوتوں سے بھرا ہواہے، جسمیں ضمیر فروش، لالچی لوگوں نےاپنا رنگ خوب دیکھایا ہےاور جس میں ضابطے اور شرطیں کو قدم قدم پر توڑے گئےہیں اور نہ یہاں اس بات کی ضرورت ہی کہ کچھ لوگوں نے جو آپس میں غداری اور نمک حرامی کی ہیں انکا زکر کیا جائے، نہ کمپنی کے ایجنٹوں کے ذریعہ کام میں لائےگئے ان ذرائع اور تدبیروں پر تبصرہ کرنے کی ضرورت ہے جن کی شہ پر انہوں نہ صفر کمپنی اور اسکے ڈائریکڑوں کو مالا مال کردیا بلکہ خود اپنی جیبیں بھی بھر لیں، صرف اتنا ہی کہدینا کافی ہوگا کہ انہوں نے بے پناہ دولت، جائداد حاصل کرلی، جس نےآگے چل کر ان کیلئے ایک بڑے سامائے کا کام دیا اور جس کے بل پر برطانیہ اسٹیم( بھاپ) انجن چلانے میں اور انیسویں صدی میںدنیا میں اپنی صنعت کو قائم کرنے میں کامیاب ہوسکا۔
1774ریکولیٹنگ ایکٹ پاس ہوااورکمپنی کورٹ آف ڈائریکڑس (سنچالک سبھا) کےاوپربورڈ آف کنڑول( نیایک منڈل) اورکاؤنسل کےعلاوہ ایک گورنرجنرل کا تقرری ہوئی گوئا اسوقت برطانوی پارلیمنٹ نےپہلےپہل ہندستانی علاقوں کےانتظامیہ کےکچھ ذمہ داریاں اپنےاوپرلےلی۔ آہستہ آہستہ یہ اختیار(کنڑول)بڑھتا چلاگیا اور1785میں ایک دوسرا قانون پاس ہوا1793-813-1833 اور1835میں تحقیقات کرنےکےبعد نئےسند(چارٹر) دئےگئے1833میں ایک قانون بنایا گیا کہ ماقبل ریاستوں کےکوئی بھی باشندے یا بادشا ہوں کےوارثین، جو وہاں رہتے ہوں،محض اپنےمذہب، جائےپیدائش، خاندان یا کمبے کی خاطر کمپنی میں کسی مقام،عہدے یا ملازمت سے محروم نہ رکھے جائینگے‘‘اور کورٹ آف ڈائریکڑس نےاسکی اہمیت کواس طرح سےسمجھایا۔
‘‘ اس ایکٹ کے مد نظر کورٹ یہ مانتی ہے کہ برطانوی ہندستان میں کوئی حکومت کرنے والی ذات نہ رہیگی۔ انکی اہلیت کے دوسرے کچھ بھی معیاررکھے جائیں، ذات یا مذہب کا کوئی امتیاز نہ رکھا جائیگا۔ بادشاہوں کے وارثوں میں سے کسی کو۔ پھر وہ چاہے ہندستانی ہو برطانوی یا اعلی ذات کے ہوں انہیں انکی ملازمت سے محروم نہیں رکھا جائیگا اور نہ ہی سند کے ذریعہ حا صل ملازمت سے محروم رکھے جائینگے۔ اگرچہ وہ دوسری باتوں میں اسکے اہل ہوں۔
اس قانون کے تحت کمپنی کا ہندستان میں تجارت کرنے کا اختیار اڑادیاگیا اور اسکے بعد سے وہ ایک مکمل حکمران ِ اقتدار کی شکل میں سامنے آئی۔
اس وقت ہندستان میں انگریزی تعلیم کو رائج کرنے یا نہ کرنے کے موضوع پر ایک بحث کھڑی ہوگئی۔ ہندستانیوں میں راجہ رام موہن رائے اور انگریزوں میں میکالے انگریزی تعلیم دینے کے زبردست حمایتی تھے۔ لامحالہ ہندستان زبان وادب کی جگہ پر انگریزی زبان کی حمایت میں فیصلہ ہوا۔
ان دنوں انگریزوں کے ذریعہ چلائے جارہے اخباروں کے علاوہ کوئی مقامی اخبار نہ تھے۔ ان بھی بعض بعض اخباروالوں کو ملک بدر کی سزا بھگتنی پڑی تھی۔ گورنر جنرل لارڈ ولیم بینٹک کی حکمرانی ماقبل اصلاحوں کی وجہ کر بھی مشہور ہوئی تھی۔ انکی پالیسی اخباروں کیلئےنرم تھی۔ انکے قائم مقام سرچارلس مڑکاف نے اخباروں پر سے لگی پابدیاں ہٹالیں۔ پھر لارڈ لیٹن کےوائسرائےہونے تک اخبار اسی طرح آزادی سےچلتے رہےصرف 1857 کےغدر کے زمانےکوچھوڑکر۔
لارڈ ڈلہوزی کی پالیسی اور فوجی بغاوت
1833اور53 کےدوران پنجاب اورسندھ جیت لئےگئےاورلارڈ دلہوزی کی پالیسی نےکمپنی کا علاقہ وسیع کردیا۔ لارڈ ڈلہوزی کئی لاوارث ریاستیں ضبط کرلیں اوراودھ کی ریاست بھی انتظامیہ کےخراب ہونےکی وجہ بتاکربرطانوی ہندستان میں ملا لیا۔ اسکےعلاوہ معاشی استحصال بھی جاری تھا۔ جس سےلوگ دن بدن خستہ حال ہوتےگئے۔ ادھرریاستیں چھن گئیں اورانکی جگہ غیرملکی حکومت قائم ہوگئی، یہ بات لوگوں کوچبھ رہیںتھیں اوروہ دل ہی دل میں رنج ہورہےتھے۔ نتیجہ یہ ہواکہ1857میں انہوں نےغیرملکی حکومت کےطوق کو(جوئے)اتارکرپھینک دینےکا آخری حربہ استعمال کرنےکا اعادہ کرلیا۔ ہاں اس بغاوت میں کچھ مذہبی جنون بھی کارفرما تھا۔ لیکن ایک طرف دلّی کے نام نہاد بادشاہ جوکے اکبر اوراورنگ زیب کی اولاد تھےتودوسری طرف پونا کے پیشواؤں کی نسل سےتھے۔ ان دونوں کے پرچم کےنیچے جمع ہوکر لوگ ہندستانی حکومت قائم کرنا چاہتےتھے۔ اس یہ ظاہر ہوتا ہےکہ یہ غدر1857کے پلاسی جنگ کےبعد سوسالوں تک ہندستان میں جو کچھ واقعےپیشآتے رہے۔ اسکےخطرناک نتائج بن کر سامنےآئے۔ یہی نہیں بلکہ وہ ہرایک ملک اور ہرانسان کےدل کی اس فطری عمل سےبھی باخبر کرتا تھا کہ ہم اپنےہی لوگوں کےذریعہ حکمراں ہوںدوسروں کےذریعہ ہرگزنہ ہوں۔ حالانکہ غدر بیکار گی، لیکن اسکےساتھ ہی ایسٹ انڈیا کمپنی .. .. بھی گئی اور ہندستان کی حکومت کا رشتہ سیدھا شہنشاہیت، برطانوی پارلیمنٹ کے ہاتھوں میں آگیا۔ لیکن اس موقع پرملکہ وکٹوریا نے ایک اعلا شائع کروایا، جس سے امن اور اعتماد کا ماحول پیداہوا۔ جو کچھ امن باقی رہا اب اسکا کوئی سہار باقی نہیں رہ گیا تھا۔ راجہ اور خاص کرنواب بالکل برباد ہوچکے تھے۔ کوئی نام نہاد بھی نہیں رہ گیا تھا جسکے آس پاس لوگ جمع ہوجاتے اور آگے1857کی طرح کوئی گڑ بڑ پیدا کردیتے۔ اب لوگ یہ سمجھنے لگ گئے تھے کہ ہندستان میں انگریزی حکومت قدرت کی ایک دین ہے اور لوگ اسی غمزدہ اور بجھے ہوئے دل سے اپنے کام میں لگ گئے۔
برطانوی پارلیمنٹ کےہاتھ میں انتظامیہ کی ڈور چلی جانےکے بعد بھی ہندستانی حکومت کی حرکت پہلے کی ہی طرح جاری رہی ، ہاںایک بات ضرور ہوئی کہ اسکا نظام 20سال تک بغیر کسی بد امنی کےجاری رہا، اس درمیان کوئی جنگ وغیرہ نہیں ہوئی۔ لیکن اسکے یہمعنی نہیں کہ کوئی رشہ کشی کوئی بد امنی نہیں تھی۔ برطانوی انتظامیہ میں بڑی بڑی خرابییاں تھیں جنہیں کی مسڑ ہیوم جیسی ہمدرد انگریز افسر دیکھایا بھی کرتے تھے اور کوشش بھی کیا کررتے تھے کہ وہ دور ہوں ۔
جیسا کہ مذکور ہے۔1833کےقانون کےمطابق ہندستانی باشندے ان تمام جگہوں پر لینےکےقابل قراردئےگئے،جنکےلئےوہ اہل سمجھےجاتےتھے۔ 1853میں جبکہ سند (چارٹر) زیر غورتھا، پارلیمنٹ میں یہ بات کھلےعام کہی جاتی تھی کہ قانون نےحالانکہ ہندستانی باشندوں کو ملازمت دینے کا راستہ صاف کردیا ہے، پھر بھی انکو ابھی تک انکو کوئی جگہ نہیں دی گئی ہےجوکہ اس قانون کےپہلےانہیں دی جاسکتی تھیں، جبکہ1853میں سول سروس کیلئے ۔۔۔۔امتحان جاری کئےگئےتب اس بات کی طرف توجہ دلائی گئےتھی کہ اس سےہندستانیوں کےراستےمیں بڑی رکاوتیں پیش ائینگی۔ کیونکہ ان کیلئےبرطانیہ جاکرانگریز لڑکوں کےساتھ انگریزی زبان میں بازی مارلینا دشوار یوگا،اوریہ ان ملازمت کیلئےجوعام طورپربہت مشکل تھیں مگراس دشورری کےہوتےہوئےبھی آخرکارکشھ ہندستانی سمندرپارکرکےگئےاورانہوں نےکامیابی بھی حاصل کی۔ اسی دوران قسمت سےلارڈ سلس بری نےامتحان میں بیٹھنےکی عمرکم کردی،اس سےہندستانیوں کو لینےکے دینے پڑگئے،کیونکہ ادھروہ انگریزوں کی مدد سےہندستان اوربرطانیہ میں ساتھ ساتھ کرانےکا شورمچارہےتھے،ادھرلارڈ لیٹن نے مقامی زبان کےاخباروں کا مہنہ بند کردیا، جوکہ میٹکاف کےوقت سے لیکراب تک انگیزی اخباروں کےساتھ ساتھ آزادی کی خوشی محسوس کررہےتھے۔ انہوں نےایک مکمل قانون بھی پاس کیا تھا جس کےمطابق نہ صرف ہندستانی باشندوں کےاسلحہ رکھنےکےاختیارکو چھیں لیا بلکہ ہندستانیوں اورانگریزوں کےدرمیان ایک اورزہریلا امتیاز پیدا کردیا۔
پھر قحط کا دوردورہ رہا اناج کیکمی انتنی نہیں تھی جتنیکی اس کےخرید نےکےذرائع کم تھے۔ ان قحط سے ملک میں ہزاورں لاکھوں آدمیموتکےشکارہوگئے۔ اس کےعلاوہ افغان جنگ ہوئی جس میں بڑا خرچ اٹھانا پڑا۔ ادھر تو ایک اور قحط اور موت کا سلسلہ شروع ہورہا تھا ادھر دلّی میں ایک دربار کرنے کی تجویز مناسب سمجھی گئی ، جسمیں ملکہ وکٹوریہ نےہندستان ۔۔۔ کا خطاب حاصل کیا۔
ہیوم صاحب کی دور اندیشی
کسان بھی ظلم کےشکار تھے۔انکی کچھ تکلیفوں کا ذکرمسڑرہیوم نےسرآکلینڈ کولوین کولکھےاپنےمشہورخط میں کیا ہے۔انکی اہم شکایتیں یہ تھیں(الف) دیوانی عدالتیںغیرتسلی بخش اورخرچیلی ہیں( ب) پولیس رشوت خورہےاور بڑی زیادتیاں کرتی ہے۔(ت) ٹیکس (لگان) کا طریقہ سخت ہے( ث)اسلحہ اورجنگل قانون کاعمل چھبنےوالا ہے۔ اسلئےلوگوں نےدعائیں کیں کہ انصاف سستہ اورجلد ملاکرے(ج) پولس ایسی ہوکہ جسےوہ اپنا دوست اورمحافظ سمجھ سکیں،(ح) ٹیکس(لگان)کا طریقہ زیادہ لچیلا ہواورکسانوں کےساتھ رعایت کوسامنےرکھ کر بنایاگیا ہو،(خ)اسلحہ اورجنگل کے قانونوں کا عمل کم سختی سےکیا جائے۔ لیکن یہ منظورنہیں ہوا۔1880کی شروعات کےمیںایسی ہی حالت تھی ۔ یہاں تک کہ سرولیم بیڈربین کہتےہیں کہ نوکرشاہی نےنہ صرف نئی سہولتوں کوروکنےمیں ہی اپنی طرف سے کوئی کسرنہیں رکھی، بلکہ جب جب موقع ملا گذشتہ مخصوص اختیار بھی چھین لئےگئے،جیسےکی پریس کی آزادی، جلسہ کرنےکا اختیار، میونسپل سوراج اورعالمی یونیورسیٹیوں کی آزادی، سرولیم لکھتےہیں-‘‘ایک تویہ نہس اور۔۔۔ قانون، دوسرے روس کےجیسےپولس کا زیادتی۔ اس سےلارڈ لیٹن کےوقت میں ہندستان میں کوئی انقلابی دھماکہ ہونےوالا تھا کہ،مسٹر ہیوم کوٹھیک موقع پرسوجھی اورانہوں نےاس کام میں ہاتھ ڈالا۔ ‘‘ اتنا ہی نہیں، بلکہ سیاسی بحران اندرہی اندربڑھ رہا ہے۔ اسکا۔۔۔ نتیجہ بھی مسٹرہیوم کےپاس تھا۔ انکےہاتھ اسی رپورٹ کی 7جلدیں لگیں،جنمیںمختلف ضلعوں کےاندربغاوت پھیلنےکا ذکرتھا۔ مختلف استادوں کےکچھ شاگردوں اورمذہبی پیشواؤں اورصوفیوں سےجوخطوط موصول ہوئے،اسکی بنیادپروہ تیارکی گئی تھیں۔ یہ حال ہےلارڈ لٹن کی تحت انتظامیہ کےآخری مرحلے کا، اسکےعلاوہ گذشتہ صدی کے70سے لیکر80 سال کے درمیان کا۔ یہ ریپورٹ ضلع ، تحصیل سب ڈیویزن کےمطابق تیار کی گئی تھی اور شہر،قصبہ اورگاؤں بھی انمیں شامل تھے۔ اسکا یہ مطلب نہیں کہ کونی منظم بغاوت کےجلد ہونےوالی ہے۔ بلکہ لوگوں میں مایوی چھائی ہوئی تھی، وہ کچھ کرگذرنا چھاہتےتھے، جس سے صرف اتنا ہے ۔۔ ۔۔ ممکن ہے۔ لوگ جگہ جگہ اسلحہ لیکر ٹوٹ پڑےاور جن سے وہ نفرت کرتے تھے، انکا خون خرابہ کرنے لگیں۔ سیٹھ ساہوکاروں کے یہاںچوری اورڈاکے ڈالنے لگیں اور بازاروں میں لوٹ مار کرنے لگیں،یوں تو یہ کام صرف قانون کی خلاف ورزی کرنےوالےہیں لیکن اگر ضرورت کے مطابق طاقت اورتنطیم کاسہارامل جائے تو کسی بھی دن ایک فوجی بغاوت کی شکل میں ۔۔۔۔۔۔ ہوسکتےہیں۔ بمبئی کےجنوبی علاقےمیں کسانوں کےایسےجھگڑے ہوبھی چکےتھے۔ یہ دیکھ کر ہیوم صاحب نےاس کوظاہر کرنےکا آسان طریقہ ڈھونڈ نکالا،جوکہ ہماری یہ موجودہ کانگریس ہے۔ اسی وقت انکےدماغ میں یہ خیال آیا کہ ہندستانیوں کی ایک قومی کانفرنس قائم کی جائےاورانہوں نے1 مارچ 1883کو کلکتہ یونیورسیٹی کے گریجوٹوں کے نام ایک خط لکھا جو کہ دل کو ہلادینے والاتھا،اس میں انہوں نے50 ایسےآدمیوں کی مانگ کی تھی جو،بھلے، سچے، بےغرض،خودار، ذمہ دااری کو سمجھنے والے اور دوسرے کے حق کو سامنے رکھنے والے ہوں ۔ اگرصفر پچاس بھلےاورسچےآدمی تنظیم کومل جائیں توجلسہ قائم ہوسکتاہے اور آگے کا کام آسان ہوسکتاہے۔ اور ان لوگوں کے سامنے اصول کیا پیش کیا گیا؟، یہ کہ جلسہ کا۔۔۔ ۔۔۔ اور انکا یہ اصول ہوکہ جوتم میں سے سب سے بڑاہےاسی کوخدمت گذارہونے دو۔ خط میں انہوں نے گول مول باتیں نہیں کیں، بلکہ صاف لفظوں میں کہدیا کہ اگرآپ اپنا سکھ چین نہیں چھوڑ سکتے تو کم سے کم اس وقت ہماری ترقی کی ساری امید بےمعنی ہے۔ اور یہ کہنا ہوگا کہ ہندستان سچ مچ موجودہ سرکار سے بہتر نظام حکومت نہ تو چاہتے ہیں اور نہ اسکے لائق ہیں۔
اس تفصیلی خط کا آخری حصہ اس طرح ہے۔
اوراگرملک کےفکرمند رہنما بھی یا تو سبکےسب ایسےکمزور جاندارہیں، یا اپنی صحت کی فکر میں ہی اتنےغرق ہیں کہ اپنے ملک کیلئے کوئی جرئتمندانہ کام نہیں کرسکتے ، تب کہنا ہوگاکہ وہ صحیح اور واجب طور پر بھی دباکر رکھےاور پاؤں سے کچلے گئے ہیں، کیونکہ اس سے زیادہ اچھے برتاؤکے لائق نہیں تھے۔ ہرملک قریب قریب ( ٹھیک ٹھیک) ویسی ہی سرکار حاصل کرلینا ہے جس کے قابل وہ ہوتاہے۔ اگر آپ جوملک کے چنندہ لوگ ہیں،جوبہت ہی اعلی تعلیم حاصل کئے ہوئے ہیں، اپنے سکھ چین اورصحت سےجٹرے ہوئےمقاصد کو نہیں چھوڑ سکتےزیادہ سےزیادہ آزادی حاصل کرنے کیلئےلڑنےکا فیصلہ نہیں کرسکتے جس سےآپ کےملک کےباشندوں کومزید غیرمتعصب انتظامیہ کا فائدہ ہووہ اپنےاسلحہ اورطاقت کااستعمال کرنےمیں زیادہ سےزیادہ حصہ لیں، تب ماننا ہوگاکہ ہم، جوکہ آپ کےدوست ہیں،غلطی پرہیں اور جوہمارے مخالف ہیں انکا کہنا ہی صحیح ہے، تب ماننا ہوگا کہ لارڈ رپن کی آپکےحق کےسلسلےمین جو اونچے خیالات ہیں وہ ادھورے ہونگے اور وہ خیالی ٹہرائینگے ، تب کہانا ہوگاکہ ترقی کی تمام امیدیں اب برباد سمجھنی چاہیے اور ہندستان سچ مچ اسکی موجودہ ھکومت سے بہتر انتظام وانصرام حاصل کرنا نہ توچاہتاہے اور نہ ہی اسکےلائق ہے۔ اور اگر یہی بات سچ ہے تعو پھر سنہ تو آپ کو اس بات پر مہئہ ہی بنانا چاہیئے نہ شکایت کرنی چاہیئے،کہ ہم زنجیروں میں جکڑ دئے گئےہیں اور ہمارے ساتھ بچےکا سا برتاؤ کیا جا تا ہے۔ اورنہ آپ کواس کےخلاف میں کوئی جماعت کھڑی کرنی چاہیئے کیونکہ آپ اپنے کو اسی لائق ثابت کرینگے۔ جو آدمی ہوتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ کام کیسےکرنا چاہیےے،اسلئےاب سےآپ اس بات کی شکایت نہ کئجئگا کہ بڑے بڑے عہدوںپرآپکے بنسبت انگریزوں کوکیوں ترجیح دی جاتی ہے،کیونکہ آپ میں وہ خدمت عامہ کاجذ بہ نہیں ہےوہ اعلی قسم کا خدمت خلق کاجذ بہ نہیں ہےجو مفاد عامہ کےسامنےذاتی عیش وآرام کوچھوٹا کردیتی ہے۔ وہ جذبہ حب الوطنی بھی نہیں ہےجس نےکی انگریزوں کوویسا بنادیا جیسےکہ وہ آج ہیں۔ اورمیں یہی کہونگا کہ وہ ٹھیک ہی آپکی جگہ ترجیح پاتےہیں اورانکا لازمی طورپرآپکا حکمراں بن جانا بھی ٹھیک ہےبلکہ وہ آگے بھی آپکےافسر بنےرہیگنے ،اورآپکےکندھوں پررکھا یہ جوا تب تک تکلیف دہ نہ ہوگا جب تک آپ اس کڑوی سچائی کوآزمانہ لیں اوراسکےمطابق چلنےکی تیاری نہیں کرلیتےکہ خود کی قربانی اور بےلوث ہونا ہی آرام اور آزادی کےراہبر ہیں ۔
پہلے کی عظیم شخصیتیں اور تنظیمیں
کانگریس کی پیدائش کی تفصیل بیان کرنے سے پہلے اگر ہم کانگریس کے دور کے ان برے بڑے لوگوں کےنام شامل کرلیں تو بے موضوع نہیں ہوگا، جنکے کام کرنے کے طریقے نے ایک طرح سے اس ملک میں عام زندگی کی بنیاد ڈالی ہے۔
سب سے پہلے بنگال کے برطانوی انڈین اسوسییشن کا نام آتاہے1851 میں اسکو قائم کیا گیا تھا اور یہ تنظیم ہے جسکےنام کے سایہ میں ڈاکڑرا جندر لال مترااور رامگوپال گھوش جیسےلوگ بیسوں سال تک کام کرتےرہے۔ یہ اسوسییشن خود بھی کوئی پچاس سال تک ملک میں ایک طاقت بنارہا ، بمبئی میں عام کام کی تنظیم تھی، بمبئی اسوسییشن ، بنگال اسوسییشن کے مقابلے میں وہ تھوڑے وقت تک رہا مگر کا م اس نے بھی اسی زور شورسے کیا، اس کے لیڈر تھے سرمنگل داس تاتھو بھائی اور جناب روجی فرمند جی، مرحوم دادا بھائی نوروجی اور جگن ناتھ شنکر سیٹھ نےاسکی بنیا د ڈالی تھی،مگر بعد میں گذشتہ صدی کےآخری دورمیں ایسٹ انڈیا اسوسیشن نےانکی جگہ لےلی تھی۔ مدراس میں خدمت عامہ کی حقیقی شروعات ‘‘ ہندو‘‘ کے ذریعہ ہوئی جسکےکہ بانیوں میں، ایم ویرو راگھواچاریہ، محترم رنگییہ نائڈو، جی سبررمنیم ایراوراین سباراؤ پنتولو جیسےمشہورومعروف شخص تھے۔ مہاراشٹرامیں پونا کےعام جسلہ کا روج اسی وقت ہوا جبکہ ‘‘ ہندو‘‘ کا ہواتھا اوراسکے ذریعہ راؤ بہادراور جناب چپلونکر جیسےمعروف لوگ مفاد عامہ کا کام کرتے رہے۔
بنگال میں 1873 میں انڈین اسوسیشن کا قیام ہوا۔ جسکی روح روان سرندرناتھ بنرجی تھے اور جسکے پہلے وزیر تھے آنند موہن بسو۔ یہ دھیان میں رکھنا ہوگا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔ ہاں اخبار اس زندگی کا ایک حصہ تھا۔ 1857میں کوئی 475 اخبار تھے، جنمیں سے زیادہ ترعلاقائ زبانومیں شائع ہوتےتھے۔ انہین دنوں ملک کی خوش قسمتی سےسرندرناتھ بنرجی سول سروس سےسبکدوش ہوچکےتھے۔ انہوں نےشمالی ہندستان کےپنجاب اوراس متصل ریاستوںمیں سیاسی سفرکی۔ وہ 1877کےمشہوردلی دربارمیں ملک کےراجہ مہاراجاؤں اورمعزز حضرات کو ایک جگہ جمع دیکھکر ہی پہلے پہل سرندر ناتھ بنرجی کےدل میں یہ کہ خیال پیدا ہو کہ ایک خالص ملکی سیاسی پارٹی بنائی جائے۔ 1878میں سرندرناتھ بنرجی نے بمبئی اور مدراس ریاست کا سفر کیا ، جسکا مقصد یہ تھاکہ لارڈ سلسبری نے سول سروس کا امتحان کی عمر کم کرکے جو 19 سال کردی تھی اسکے خلاف رائے عامہ کے ذریعہ ایک ممورنڈم تیار کیا جائے۔
لارڈ ریپن کی ہمدردی
اسی وقت لارڈ لیٹن کے ۔۔ اقتدار کی شروعات ہوتی ہے۔ انکےزمانےمیں 1878 وربا کیولر پریس ایکٹ بنا، افغان جنگ ہوئی، خوب فراخدلی کے ساتھ دربارکیا گیااور 1877میں ہی کپاس ٹیکس ختم کردیا گیا۔ لارڈ لیٹن کےبعد لارڈ ریپن کا دور ہوا ،جنہوں نے افغانستان کےامیر کے ساتھ صلح کرکے،ورناکیولر پریس ایکٹ کو رد کرکے، مقامی سوراج کی شروعات کرکےاورالبرٹ بل کی موجودگی میں ایک نئےدور کی شروعات کی گئی۔ یہ آخری بل ہندستان حکومت کےاس دورکےقانون ممبرمسٹرالبرٹ نے1883میں جاری کیا تھا جسکا مقصد یہ تھاکہ ہندستانی منصفوں پرسے یہ رکاوٹ ہٹا لی جائےجسکےذریعہ وہ یوروپین اورامریکن مجرموں کےمقدمےکےفیصلےنہیں کرسکتےتھے۔ اس پرگورے لوگ انتےبگڑے کہ کچھ لوگوں نےتوگورنمنٹ ہاؤس کےوزیروں کو ملا کروائسرائے کو جہاز پر بٹھاکر برطانیہ ھیجنے کی ایک سازش ہی کر ڈالی ۔ اس سازش میں کلکتہ کے کئی لوگوں کاہاتھ تھا، جنہوں نے یہ تہیہ کرلیا تھ اکہ اگتر حکومت نےاس بل کوآگےبڑھایا، تو وہ اس سازش کو کامیاب بنا کر چھوڑینگے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اصلی بل اسی سال قریب قریب ہٹا لیا گیا اور اسکی جگہ یہ اصول تک مان لیاگیا کی صرف ضلع مجسڑیٹ اور جج کو ہی ایسا اختیار رہیگا ۔ جب لارڈ ریپن ہندستان سے جارہے رہے تھے تو ملک کے ایک سرے سے لیکر دوسرے سرے تک کے لوگوں نے انہیں تہہ دل سے الوعدہ کیا۔ انگریزوں کےلئے وہ ایک خوشی کا موقع تھا۔ لیکن اس سے بہت سارے لوگوں کی آنکھیںبھی کھل گئی تھیں۔
سیاسی تنظیمیں
اس بل کے مناسبت میں گورےلوگوں کو جو کامیابی مل گئی، اس سے ہندستانی جاگ اٹھے اور انہیوں نے بہت جلد اس بل سےآنے والی مشکلات کو پہچان لیا۔
گورے یہ منواناچاہتےتھےکہ ہندستان پرگورےذات والوں دبدبہ ہےاوروہ ہمیشہ رہیگا۔ اس نےہندستان کےاس دورکےخدمت گاروں کوتنظیم کی اہمیت کا درس دیا اورانہوں نےفوراً ہی 1883میں کلکتہ کےالبرٹ ہال میں ایک سیاسی نشست کا اہتمام کیا،جسمیںسریندرناتھ بنرجی اورآنندموہن بسو دونوںموجود تھے۔ اس جلسہ میں سرندرناتھ بنرجی نےاپنےشروعاتی تقریر میںخاصطور پراس بات کا ذکرکیا کہ کسطرح دلی دربار نےانکےسامنےایک سیاسی تنظیم ،جو کی ہندستان اپنےحق کےحصول کیلئےتیاررہےاسکاجو نمونہ پیش کیا تھا۔ اس سلسلےمیں بابوامبیکا چرنداس مجمدارنےاپنی ‘‘ The Indian National Evaluation ''نام کی کتاب میں اس طرح لکھاہے۔ ‘‘پریشد کی شکل مشکوک تھی،میری آنکھوں کےسامنے اس وقت کے تینوں دن کے جوش وخروش کی ہوبہو تصویرآج بھی کھڑی ہے۔ جب پریشد ختم ہونےلگی تومانو ہرایک آدمی کوجواسمیں موجود تھا، ایک نئی روشنی اورایک انجانی سی خوشی حاصل ہورہی تھی ۔ اسکےدوسری ہی سال کلکتہ میں عالمی پریشد ہوئی اورمدراس میں علاقائی پریشد کا اجلاس ہوا۔ مغربی ہندستان میں 31 جنوری،1885کو مہتا ، تولنگ اور طیب جی کی مشہور منڈلی نے ملکر بامبے پریسیڈنسی اسوسییشن قائم کیا۔
مذکورہ تحریر سےتو یہ ظاہر ہے کہ پورے ہندستان نے دل ہی دل میں کسی کل ہند تنظیم کی ضرورت کو محسوس کرتاتھا۔ یہ تو ابھی تک ایک راز ہی ہےکہ کل ہند کانگریس کا خیال حقیقت میں کس کےذہن کی ایجاد ہے۔ 1877 کےدرباریا کلکتہ کی عالمی نمائش کےعلاوہ تھیوسوفیکل کنونشن کا بھی نام اس سلسلےمیںلیا جاتاہے، جوکی دسمبر1884میںمدراس میں ہواتھا۔ وہاں17 آدمیوں کی ایک ذاتی میٹنگ ہوئی، جسمیں یہ سونچا گیا۔ مسٹرایلن آکٹیوین ہیوم نےسول سروس سےموقع حاصل کرنےکے بعد جوانڈین یونین قائم کی تھی وہ بھی کانگریس کی کوشش بتائی جاتی ہے،خیرکوئی بھی اس خیال کا موجد ہواورکہیں سےیہ پیدا ہوئی ہو،ہم ان نتیجوں پرضرور پہنچتےہیں کہ یہ خیال فضاء میں گشت ضرورلگا رہاتھا اورایسی نتظیم کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔ مسٹ یے۔ او۔ ہیوم نےاسمیں سب سے پہلے قدم بڑھایا اور 23 مارچ 1885میں اسکےسلسلےمیں پہلی نوٹس جاری کی گئی ، جسمیں بتایا گیا تھا کہ اگلےدسمبرمیں پونا میں انڈین نیشنل یونین کا پہلا اجلاس کیا جائیگا۔ اسطرح اب تک جو ایک خیال فضاء میں پر پھڑ پھڑا رہاتھا اور جو شمام ،جنوب، مغرب، مشرق سبھی جگہ کےمفکرمدبر ہندستانیوں کےخیالوں کو طاقت دے رہی تھی اس نے اب ایک طئے شکل اختیار کرلیا اور ایک کارآمد پروگرام کی شکل میں ملک کے سامنے آگئی ۔
جو بھرانہیں ہے ہواؤں سے
بہتی جسمیں رسدھار نہیں ۔
وہ دل نہیں ہے، پتھرہے،
جسمیں اپنے ملک کا پیارنہیں ہے۔
رام نریش ترپاٹھی
کانگریس کا پہلا اجلاس
کانگریس کےقیام کامقصد شروع میں حکمراں اورمحکوم کو قریب ترلانے کا تھا۔ مسٹر ہیوم کا خیال شروع شروع میں یہ تھ اکی کلکتہ کےاندین اسوسییشن، بمبئی کےپیرسیڈنسی اسوسییشن اور مدراس کےمہاجن سبھا جیسی علاقائی تنطیمیں سیاسی سوالوں کو ہاتھ میں لیں اورآل اندیا نیشنل یونین بہت کچھ سماجی امور میں ہی ہاتھ ڈالے۔ انہوں نےلارڈ ڈفرین سے اس موضوع پر مشورہ لیا، جو کہ فی الحال ہی وائسرائے بن کر آئے تھے۔ انہوں نے جو مشورہ دیا وہ اُمیش چندر بنرجی کے الفاظ میں اس طرح ہے۔
‘‘بہتوں ‘کو یہ ایک نئی بات معلوم ہوگی کہ کانگریس کی پیدایش کس طرح ہوئی اورکس طرح وہ تب سےابتک چلائی جارہی ہے، وہ حقیقت میں لارڈ ڈفرین کا کام تھا، جب کی وہ ہندستان کے وائسرائےکی بجائےاگر ہندستان کےعظیم سیاستداں سال میں ایک بار یکجہ ہوکر سماجی موجوع پر تبادلہ خیال کرلیا کریں اور ایک دوسرے سے دوستی کا رشتہ قائم کر لیں تو اس سےبڑا فائدہ ہوگا وہ یہ نہیں چاہتےتھےکہ اگر ملک کےمختلف حصوں کے سیاستداں جمع ہوکر سیای موضوع پر چرچہ کرنے لگینگے تواس سےان علاقائی تنطیموں کی اہمیت کم ہوجائیگی۔
وہ یہ چاہتےتھےکہ جس علاقہ میں یہ جلسہ ہو وہاں کا گورنراسکا صدر جلسہ ہو،جس سےکہ حکومت اورغیرحکومتی سیاستدانوں میں اچھےرشتے قایم ہوں۔ ان خیالوں کو لیکر وہ 1885میں لارڈ ڈفرین سےشملہ میں ملے۔ لارڈ دفرین نےانکی باتوں کوغور سےاور دلچسپئی سےسونا اور کچھ وقفےکے بعد مسٹر ہیوم سےکہا کہ میری سمجھ میں یہ تجویز، کہ گورنر صدرجلسہ بنے،سودمند نہ ہوگا، کیونکہ اس ملک میں ایسا کوئی عام منڈل نہیں ہے کہ برطانیہ کی طرح یہاں حکومت کی مخالفت کا کام کرے۔ حالانکہ یہاں اخبار ہیں اور وہ عوامی رائےکو اجاگر کرتے ہیں، پھر بھی ان پراعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ اور انگریز جو ہیں، وہ جانتے ہیں کہ لوگ انکےاورانکی پالیسی کے بارے میں کیا خیال کرتے ہیں۔ اسلئے ایسی ملک میں یہ اچھا ہوگا اور اسمیں حکمراں اور محکوم دونوں کا فائدہ ہے کہ یہاں کےسیاستداں ہرسال اپنا اجلاس کیا کریں اور حکومت کو بتایا کریں کہ انتظامیہ میں کیا خامیاں ہیں اور اسمیں کیا کیا اصلاح کئےجائیں۔ انہوں نےیہ بھی کہا کہ ایسےاجلاس کا صدر مقامی گورنرنہ ہوناچاہییے،کیونکہ اسکےسامنےممکن ہے،لوگ اپنےصحیح خیال ظاہرنہ کریں۔ مسٹر ہیوم کو لارڈ ڈفرین کی دلیل پسند ائی اورجب انہوں نے کلکتہ ،بمبئی، مدراس اوردوسری جگہوں کےسیاستداں کےسامنےاسےرکھا تب انہیوں نےلارڈ ڈفرین کی صلاح کو ایکدم سے پسند کرلیا اوراسکےمطابق کاروائی بھی شروع کردی۔ لارڈ ڈفرین نےمسٹر ہیوم سے یہ شرط کرالی تھی کہ جب تک میںاس ملک میں ہوں تب تک اس صلاح کے بارےمیں میرا نام کہیں نہ لیا جائے۔ مسٹر ہیوم نے پوری طرح اس پر عمل بھی کیا۔
مارچ، 1885میں یہ طئےہواکہ بڑے دنوں کی تعطیل میں ملک کےسب حصوں کے رکن کی ایک کانفرنس کی جائے۔ پونا اسکےلئےسب سےمناسب جگہ سمجھی گئی۔ اس نشست کےلئےایک گشتی خط جاری کیا گیا، جسکا مخصوص حصہ نیچے دیا جاتاہے۔
‘‘ 25سے31دسمبر1885تک پونا میں انڈین نیشنل یونین کی ایک پریشد کی جائیگی۔ اسمیں بنگال، بمبئی اور مدراس صوبوں کے رکن،مع سیاستداں شامل ہونگے۔
‘‘ اس پریشدکےہرایک مقصد یہ ہونگے۔ (1) ملک کی ترقی کے کام میں جی جان سے لگے ہوئے لوگوں کا ایک دوسرے سے تعارف ہونا۔ (2) اس سال میں کون کون سے سیاسی کام منعقد کئے جائیں اس پر گفتگو کرکے فیصلہ کرنا۔
‘‘بنیادی طور پریہ پریشد ایک ملکی پارلیمنٹ کی شکل اختیار کریگی اور اگر اسکا کام صحیح طریقے سے چلتا رہا تو تھوڑے ہیدنوں میں اس منصوبے کا مہنہ توڑ جواب ہوگا کہ ہندستان ۔۔ ۔۔ انتظاییہ اور تنظیموں کے بالکل نا اہل ہے۔ پہلی پریشد میںیہ طئےہوگا کہ دوسری پریشد پونا میں ہی کی جائے یا برطانوی اسوسییشن کیطرح ہر سال ملک کے بڑے بڑے حصوں میں کی جائے۔ یہ انداز ہےکہ پونا کے وزیروں کے علاوہ ہمبئی، مدراس اور بنگال سے کوئیی بیس بیس اراکین آئیگے، اور انسے آدھے نئی ریاست اور پنجاب سے۔
اسطرح سےخود کووائسرائےکی نطرکرم سےمحفوظ کرکےہیوم صاحب برطانیہ پہنچےاوروہاں لارڈ ریپن،لارڈ ڈلہوزی، سرجمس کیارڈ، جان برائٹ ،ایم۔ ریڈ، ایم۔ سلیگ اودوسرے مشہورلوگوں سےمشورہ کیا انکےمشورہ سےانہوں نے وہاں ایک اجتماع کیا۔ جوآگےچل کر برطانیہ کےانڈین پارلیمنڑی کمیٹی کی شکل میں موسوم ہوگیا اورجسکا مقصد تھا پارلیمنٹ سے یہ وعدہ کروانا کی وہ ہندستان کےمعاملوں میںدلچسپی لینگے.انہوں نے وہاں ایک انڈین ٹیلیگراف یونین بنائی، جاکا مقصد تھا برطانیہ کے بڑے بڑے علاقوں حصوں کواہم موضوع پر ٹلیگرام بھیجنے کیلئے دولت جمع کرنا۔
اجلاس پونا ہیں ہوا
ہم پہلےاجلاس کا بٹرے دلجسپ انداز میں لکھنے کی کوشش اپنی کتاب ‘‘انڈیا رائٹ فار فریڈم ‘‘نام کی کتاب میں محترمہ بیسنٹ نے کیا ہے، جس سے نیچےلکھا حصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔
‘‘لیکن پہلااجلاس پونامیںنہیں ہوا،کیونکہ بڑےدن کےپہلےہی وہاںطاعون شروع ہوگیا اوریہ تھیک سمجھا گیا کہ پریشدجسےاب کانگریس کہتےہیں،بمبئی میں کی جائے۔ گوکلداس تیج پال سنسکرت کالج اورھاسٹل کےمنتظمین نےاپنےبڑی کوٹھی کانگریس کےحوالےکردی اور27 دسمبرکی صبح تک ملک ہندستان کےاراکین کےاستقبال کرنےکی پوری تیاری ہوگئی۔ ملک ہندستان کےاراکین وفد کےاستقبال کی پوری تیاری ہو گئی۔ جو شخص اس وقت وہاں موجودتھے۔ انکےناموں کی فہرست پرایک نظردالتےہیں توانمیں سے کتنے ہی آگے چل کر ہنستان کی آزادی کی لڑائی لڑتےہوئےبہت مشہور ہوگئےتھے۔ جوشخص رکن نہیں بن سکتےتھےانمیں تھےرادھوکر دیوان بہادراوررگھوناتھ راؤ، ڈپٹی کلکٹر، مدراس، عزت مآب مہادیو گاوندرانا ڈے کاؤنسل کےممبراورجج اسمال کوج کورٹ پونا، جو آگےچل کربمبئی ہائکورٹ کےجج ہو گئےاورجوایک باعزت اوربا اعتماد لیڈرتھے، لالا بیجناتھ، آگرہ، جوبعد کوایک نامورعالم اور مصنف مشہور ہوئےاوراستاد کےسندر رمن اور راما کرشنا گوپال بھنڈاکر۔ وفد میں نامی گرامی رسالوں کےمدیر تھے،جیسےکیان پرکاش،جو کہ پوناجلسہ عام کا تیماہی رسا لہ تھا، مراٹھا، کیسری، نوویبھاکر،انڈینمیرر،نسیم، ہندستانی،ٹربیون،انڈین یونین، اسپکٹیڑ،اندوپرکاش، کریسنٹ، انکےعلاوہ نیچے لکھےمعززاور جانے مانےلوگوں کے نام بھی چمک رہے تھے۔ ہیوم صاحب شملہ، اُمیش چندر بنر جی اور نرندرناتھ سین، کلکتہ، وامن سداشیو آپٹے اورگوپال گنیش اگرکر، پونا، گنگاپرساد ورما، لکھنئو، دادابھائی نوروجی، کاشی ناتھ، ینبک تیلنگ، فیروز شاہ مہتا، بمبئی کارپریشن کےلیڈر،دنشا ایلجی واچہ، بہرام جی مالاواری، نارائن گنیش چنداورکر،بمبئی پی۔ رگیّہ نائڈو، پریسیڈنٹ ،مہاجن سبھا،ایس۔ سبر ہینےایر،پی آنند چارلو جی سبرامنیم ایر،ایم۔ ویر راگوھ اچاریہ، مدراس۔ پی کیشیو پلّے اننتاپورم۔ ان میں وہ لوگ بھی تھے جوہندستان کی آزادی کیلئے قربان ہوچکے،اور وہ بھی تھےجواب بھی زندوہ ہیں اوراسکیلئےاذیت میں اٹھا رہے ہیں۔
‘‘ 28 دسمبر 1885 کو دن کے 12بجے گوکل داس تیجپال سنسکرت کالج کے بھون میں کانگریس کا پہلا اجالس ہوا۔ پہلی آواز سنائی پڑی ہیوم صاحب کی محترم ایس سبراہینے ایر کی طرف اورعالی جناب کاشی ناتھ ینبک تیلنگ کی۔ ہیوم صاحب نے جناب امیش چندر بنرجی کی صدارت کی تجویز اس وقت کا تقاضہ تھا۔ جسمیں مادر وطن کی ذریعہ عزت افزائی پانے والےلوگوں میں پہلے مرد پہلا قومی مہاسبھا کی صدرات کی جگہ پائی۔
''کانگریس کی اہمیت کی طرف اراکین کا دھیان دلاتےہوئےصدر محترم نے کانگریس کا مقصد اس طرح بتلایا۔
ک) سامراج کے مختلف حصوں میں ملک کے مفاد کے لئے لگن سے کام کرنے والوں کی آپسی میل اور دوستی بڑھانا۔
کھ) سارے محب وطن کےاندر دوستانہ برتاؤ کے ذریعہ نسل، مذہب اور علاقے سے منسلک تمام غیر مہذب روایتوں کو ختم کرنا اور قومی یکجیتی کی ان تمام جذباتوں کا جو لارڈ ریپن کے دور نظام میں نمودار ہوا، پالنا اور تبدیل کرنا۔
گ) اہم اور ضروری سماجی سوالوں پر ہندستان کے تعلیم یافتہ لوگوں میں اچھی طرح غور وفکرکےبعد جوبات سامنے آئے ان پر عمل کرنا۔
گھ) ان طریقوں اور راستوں کا تعین کرنا جنکے ذریعہ ہندستان کے سیاست داں ملک کے حق میں کام کریں۔
اس پہلےاجلاس میںنوتجاویزمنظورہوئے۔ جنکےذریعہ ہندستان میں گاؤں کےبننےکی شروعات ہوتی ہے۔ پہلی تجویز کےذریعہ ہندستان کےدورانتظامیہ کی جانچ کیلئےایک رائل کمیشن بیٹھانےکی مانگ کی گئی۔ دوسرے کےذریعہ انڈیا کاؤنسل کوتوڑ دینےکی رائےدی گئی۔ تیسری تجویزکےذریعہ دھاراسبھا کی فہرست دیکھائی گئی، جن میں اب تک نامزدممبرتھے انکےبجائےچنےہوئےکوسوال پوچھنےکا حق دینے کا یکت پرانت اور پنجاب میں کاؤنسل قائم کی جانے کی طرف کامن سبھا میں استھائی سمیتی قائم کرنےکی مانگ کی گئی اس امید سے کہ کاؤنسل میں اکثریت سےجومخالفت ہوان پراسمیں تبادلہ خیال کیا جائے۔ چوتھےکےذریعہ یہ گذارش کی گئی کہ آئی سی ایس کےامتحان برطانیہ اورہندستان میں ایک ساتھ ہواورامتحان دینےوالوں کی عمربڑھادی جائے۔ پانچوا اورچھٹا فوجی خرچ سے منسلک تھا اور ساتویں میں اپربرما کو ملا لینے اور ہندستان اسےشامل کرلینےکی تجویز کی مخالفت کی گئی تھی آٹھویں کے ذریعہ یہ گذارش کی گئی کہ یہ تجویزسیاسی جلسوں کو بھیج دئے جائیں۔ اسکےمطابق پورے ملک میں تمام سیاسی منڈلوں اورعوامی جلسوں کے ذریعہ ان پر خرچ کی گئی اور کچھ معمولی ترمیم کے بعد وہ بڑے سے پاس کئے گئے۔ آخری تجویز میں اگلے اجلاس کی جگہ کلکتہ مورخہ 28 دسمبر طئے ہوئی۔ ۔
کانگریس کا دعوا
جس طرح یک بڑی ندی کا جز ایک چھوٹے سےسوتےمیں ہوتا ہےاسے طرح عظیم تنظیموں کی شروعات بھھی بہت معمولی ہوتاہے ۔ زندگی کی شرعات میں وہ بٹی تیزی کےساتھ دوڑتی ہے، لیکن جیسے جیسے وہ کارگر ہوتے جاتی ہے ویسے ویسے انکی رفتار کم مگر ساکت ہوتی جاتی ہےاور وہ اسکو زیادہ سے زیادہ ۔۔۔۔ بناتی جاتی ہے۔ یہ مثال ہماری کانگریس کی ترقی پر بھی حامل ہوتاہے۔ اسےاپنا راستہ بڑی بڑی رکاوٹوں میں سےطئےکرنا تھا، اسلئےشروعات میں اسنےاپنےسامنےچھوٹےچھوٹےاصول رکھے، لیکن جیسےہی اسےسارے ہندستاننیوں کےدلی لگاؤ کا سہاراملا،اس نےاپنا راستہ وسیع کردیا اوراپنےعروج میں ملک کی کئی سماجی ذمہ داری کےہلچلوں کو بھی جزب کرلیا۔ شروعاتی دور میں اسکےکاموں میں ایک قسم کی ہچکچاہٹ اورتزبزب دیکھائی دیتی تھی ۔ لیکن جیسےجیسےوہ بالغ ہوتی گئی ویسے ویسےاسے اپنی طاقت اور صلاحیت کا علم ہوتا گیا اور اسکی نظرموثر بنتی گئی۔ ۔۔۔۔ کو چھوڑکر ۔۔۔۔کےاصول کواپنایا ۔ ادھر رائےعامہ کو تعلیم یافتہ کرنے کےلئے زورشور سے اعلان کئے جانے لگے، جس سے ملکی تنطیم بن گئی ۔ یہاں تک کہ سیدھےحملےتک کرنے کاپروگرام بناناپڑا۔ شکایتوں اور دکھ درد کودورکرانے کے ارادے سے شروعات کرکے کانگریس ملک کی ایک ایسی بھروسےمند تنطیم کی شکل میں مشہور ہوگئی ہےجو بڑے اعتماد کے ساتھ اپنی مانگیں بھی پیش کرنے لگی۔ حالانکہ شروعات کے دس پانچ سالوں میں انتظامیہ سے منسلک معاملوں میں اسکی نظریہ کی ایک حد بنی ہوئی ہوئی تھی، پھر بھی جلد ہی وہ ہندستانیوں کی تمام سیاسی ضرورتوں کی ایک زبردست اور اقتدار حاصل کرنے والی بن گئی ۔ اسکا دروازہ سب درجوں اور سب ذات کے لوگوں کیلئے کھول دیا گیا۔ شروعات میں وہ ان سوالوں کو ہاتھ میں لیتےہوئےجھجھک محسوس کرتی تھی جو سماجی کہے جاتے تھے، لیکن مناسب وقت آتےہی اسنےاس بات کو ماننےسےانکار کردیا کہ زندگی الگ الگ حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اوراس قدیم روایتی خیال کے آگے جاکر، جو زندگی کے سوالوں کو سماجی اور سیاسی سرحدوں میں باندھ دیتاہے، اسنے ایک ایسا موثر کارآمدا اصول پنےسامنے رکھا ، جسمیں کہ ساری زندگی ، یہاں سے وہاں تک ایک اورسلسلہ ہے۔ اس طرح کانگریس ایک ایسی سیاسی تنظیم ہے، جہاں برطانیہ، ہندستان اورملکی ریاستوں کا فرق ہے، نہ ایک ریاست اوردوسری ریاست کا۔ اس میں نہ اعلی طبقہ یا عوامی فرق ہے،نہ شہراو گاؤں کا، اورنہ غریب امیرکا فرق ہےنہ کسان مزدور کا ذات پات اور مذہبوں کا فرق بھی اسمیں نہیں ہے۔ گاندھی جی نے دوسری گول میز کانفرنس کےوقت فیڈرل اسٹرکچر کمیٹی کے سامنے جو زبردست دلیل دی تھی اور جسمیں انہوں نے کانگریس کے بارے میں ہی دعواکی تھا، اسکے ضروری حصے نیچے دیدینا بہتر ہوگا۔
اگر میں غلطی نہں کرتا ہوں تو کانگریس ہندستان کی سب سے بڑی تنطیم ہے۔ اسکی حالت لگ بھگ 50 سال کی ہے، اور اس عرصہ میں وہ بغیلرکسی رکاوٹ کےبرابراپنے سالانہ اجلاس کرتی ری ہے۔ سچےمعنی میں وہ قومی ہے۔ وہ کسی خاص ذاتی یا فرقے کے رکن ہونے کا دعوہ کرتی ہے۔ میرے لئے یہ بتانا سب سے بڑی خوشی کی بات ہے کہ اسکی ایجاد شروع می ایک انگریز دماغ میں ہوئی۔ ایلن اوکٹیوین ہیوم کو کانگریس کے فادر کی شکل میں ہم جانتے ہیں۔ دو عظیم پارسیوں --- فیروز ساہ مہتا اور دادا بھائی نوروجی نے جہیں ساراہندستان شیخ پتاما کہنتے میں خوشی محسوس کرتی ہے، اسکی پرورش کی ۔ شروع سے ہی کانگریس نے مسلمان عیسائی ، گورے وغیرہ شامل تھے، بلکہ مجھے یوں کہناچاہیے کہ اس مینسب مذہب ، فرقے اور حقوق کا تھوڑی بہت ۔۔ کےساتھ شمولیت ہوتی تھی۔ مالمان اور پارسی بھی کانگریس کےصدر رہے۔ میں اس وقت کم سے کم ایک ہندستانی عیسائی جناب امیش چندر بنرجی کا نام بھی لے سکتاہوں۔ جناب کالی چرن بنرجی نے ، جن سے تعارف کا مجھے موقع نہیںملا ۔ اپنے کو کانگریس کے ساتھ ایک کردیا تھا۔ میں اور بلاشبہ آپ بھی، اپنے درمیان جناب کے۔ ٹی۔ پال کا طریقہ محسوس کررہے ہونگے۔ ویسے تو میں ٹھیک نہیں جانتا لکین جہاں تک مجھے معلوم ہے، وہ منظم طور پر کبھی کانگریس میں شامل نہیں ہوئے، پھر بھی وہ پورے وطن پرست تھے۔
جیا کہ اپ جانتے ہیں مرحوم مولانا محمد علی جنکی موجودگی کا بھی آج یہاں اثر ہے، کانگریس کے صددرتھے، اور اس وقت کانگریس کی کارگزار کمیٹی کے 15 اراکین میں ٤ رکن مسلمان ہیں۔ خواتین بھی ہماری کانگریس کی صدر رہ چکی ہیں۔ پہلی محترمہ اینی بیسنت تھیں اور دوسری محترمہ سروجنی نائڈو جو کارگر کمیٹی کی ممبر بھی ہیں، اور اس طرح جہاں ہمکارے یہاں ذات اور مذہب کی تفریق نہیںہے، وہاں کسی طرح کا مرد وزن کی تفریق نہیں ہے۔
کانگریس نےاپنے شروع سےہی اچھوت کہلانےوالوں کےکام کو اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔ایک وقت تھا جبکہ کانگیرس پانےہرایک سال اجلاس کےوقت اپنےحمایتی تنظیم کی طرح سماجی ہرئشد کا بھی اجلاس کیا کرتی تھیں، جس سےمرحوم رانا ڈے نےاپنےکئی کاموں میں ایک کام بنا لیا تھا اورجسےانہوںنے اپنےطاقتیںوقت کی تھیں۔ آپ دیکھینگےکہ انکی قیادت میں سماجی طرز کے پروگراموں میں اچھوتوں کےاصلاح کےکام کوایک خاص جگہ دیا گیا تھا۔ مگر1920میں کانگریس نےایک بڑا قدم آگےاٹھایا اور۔۔۔۔۔کےسوال کو سیاسی اسٹیج کا ایک بنیادی سطون بناکرسیاسی پروگرام کا ایک مخصوص حصہ بنادیا۔ جس طرح کانگریس ہندومسلم ایکٹ، اوراس طرح سب ذاتوں کےمطابق ایکٹ، کومنظورعام کیلئےضروری سمجھتی تھی اسی طرح سوراج حاصل کرنےکیلئےچھواچھوت کی لعنت کودورکرنا بھی ضروری سمجھنے لگی۔ 1920 میں کانگریس نےجوحیثیت اصل کی تھی، وہ آج بھی بنی ہوئی ہے،اوراس طرح کانگریس نےاپنےشروع سےہےاپنےکو سچےمعنوں میں قومی ثابت کرنے کافیصلہ کیا۔ ہے۔ اگربڑے راجہ سب مجھےاجازت دیں تومیں یہ بتلانا چاہتا ہوں کہ کانگریس نےانکی اوربھی خدمت کی ہے۔ میں اس تنظیم کع یاد دلانا چاہتا ہوں کہ وہ شخص ہندستان کا۔۔پیتاما ہی تھا۔ جس نےکشمیراورمیسورکےسوالوں کوہاتھ میں لیکرکامیابی کوپہنچایا تھا۔ اورمیںبصد احترام یہ دونوںبڑےگھرانےجناب دادابھائی نوروجی کی ۔۔۔۔کیلئےکم قربانی نہیں ہے۔ ابتک بھی انکےگھریلواوراندرونی معاملوںمیں دخل اندازی نہ کرکےکانگریس انکی خدمت کرتی رہی ہے۔ میں امید کرتاہوں کہ اس مختصرتعارف سے،جسکا دیا جانا میں نےضروری سمجھا، تنطیم اور کانگریس کےدعوے میں دلچسپی رکھتےہیں وہ جان سکینگےکیہ اسنےجو دعوہ کیا ہے، وہ اسکےمطابق ہے۔ میں جانتا ہوں کبھی کبھی وہ اپنےاس دعوے کوقائم رکھنےمیں ناکام بھی ہوئےہیں، لکین میں یہ کہنےکی جرات کرتاہوں کہ اگرآپ کانگریس کی تاریخ دیکھنگےتوآپکومعلوم ہوجائیگا کہ ناکام ہونےکی بنسبت وہ کامیاب ہی زیادہ ہوئی ہےاور ترقی کےساتھ کامیاب ہوئی ہے۔ سب سےزیادہ کانگریس حقیقت میں اپنےملک کےایک کونےسےدوسرے کونے تک 7،00،000 گاؤں میں بکھرے ہوئے کروڑوں مہنہ تکتی ننگی بھوکی زندگیوں کی زبان ہے یہ بات ظاہرہے کہ یہ لوگ طرطانیہ ہندستان کےنام سےپکارے جانےوالے ملک کےہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اس لئےکانگریس کےتعاون سےہرایک کےحق، جوحفاظت کےقابل ہے،ان لاکھوں مہنہ رکھنے والی زندگیوں کےحقوق کا انتظام ہونا چاہیے۔ ہاں آپ وقت وقت پر ان الگ الگ حقوق کےسلسلے میںمخالفت دیکھتےہیں۔ لیکن اگرحقیقت میں؛کوئی موضوع مخالفت ہوتومیں کانگریس کی طرف سےبغیر کسی جھجھک کےیہ بتا دینا چاہتاہوں کہ ان لاکھوں بھوکےلوگوں کےحق کیلئےکانگریس ہرحق کوقربان کردیگی۔ اس لئے یہ خاص طور سے کسانوں کی تنظیم ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ انکی بنتی جارہی ہے۔ آپکو اور اس تنطیم کے ہندستانی ممبر وں کو بھی یہ جانکر حیرت ہوگی کہ کانگریس نے آج کل ہند اخراجات کے نام سے اپنی تنظیم قریب دو ہزار گاؤں کے تقریبا ٥٠ہزار خواتین کو ( اب یہ تعداد 1،80،000ہے) روزگار میں لگا رکھا ہے، اور انمیں غالبا ٥٠فیصدی مسلمان خواتین ہیں۔ ان میں ہزاروں اچھوت کہلانے والے ذات بھی ہیں۔ اس طرح ہم اس بہتر کاموں کے ذریعہ گاؤں کیں داخل ہوچکے ہیں اور 7،00،000 گاؤں میں ہرایک گاؤں میں ، داخل ہونے کا اعادہ کیا جارہا ہے۔ یہ کام عام انسان کی طاقت سےباہرکی بات ہے۔ پھر بھی اگر انسان کی کچھ کوششوں سے ہوسکتاہے، تو آپ کانگریس کو ان سب گاؤں میں پھیلی ہوئیی او رانہیں چرکھوں کا سندیش سناتی ہوئی دیکھینگے۔
کانگریس کیسی عظیم تنظیم ہے، اس کی بہت خوبصرت اور مختصر جملےمیں گاندھی جی نے کیا ہے۔ اگر کانگریس نےاورکچھ نہیں کیا تو کم سےکم اتنا ضرورکیا کہ اس نےاپنا جانز مقام کھوج لیا ہےاورملک کےخیالوں اورتبدیلیوں کو ایک نکتہ پرلاکر کھڑا کریا ہے۔اس نے ہندستان کےکروڑوں بے بس مفلس بےکس لوگوں کےدلوں میں ایک بیداری پیدا کردی ہے،ان کےاندراتحاد، امید اورخود اعتمادی کی سنجیونی ڈالدی ہے۔ کانگریس نے ہندستانیوں کے خیالوں اور امیدوں کوایک ملکی قومی شکل دیدیا ہے۔ جسکےذریعہ انہوں نےاپنی قومی زبان ، قومی ادب کو، اپنے ۔۔۔۔۔۔ تک کو کھوج نکالا ہے۔ لیکن یہاں یہ کہنا ہوگا کہ اسکی زندگی کے یہ گذشتہ 50 سال یوں ہی اور آسانی سے نہیں گذرے ہیں ۔ اس میں کئی نشیب وفرازآئے ہیں۔ اسمیں لوگوں کی امید ناامیدی، انکے احتجاجوںاور کوششوں میں ملی کامیابی اور ناکامی سب کی تاریخ چھپی ہوئی ہے۔
آزادی کی خلش
حقیقی امید
ماکھن لال چترویدی
چاہ نہیں، میں سربال کے گہنوں میں گوتھا جاؤں ،
چاہ نہیں ، عشق میں مگن معشوق کو للچاؤں،
چاہ نہیں، حکمرانوں کی لاش پر ہےہری، ڈالا جاؤں،
چاہ نہیں دیو کے سر پر چڑھوں قسمت پر اتراؤں،
مجھے توڑ دینا باغ کے مالی،
اس راہ میں دینا پھینک،
مادر وطن پر شیشہ چڑھانے ،
جس راہ پر جائیں جانباز کئی
ویلاس پور۔18 فروری، 1922، یگ چرن
قربانی
انگریز منصف نے ہندستانی انقلابی کو سزاسناتے ہوئے کہا‘‘ تمہارے لئے دو سزائیں ہیں-- ایک پھانسی اور دوسری بیس سال کی قید ‘‘ بتاؤ کون سی سزا پسند ہے۔؟
‘‘پھانسی ‘‘مسکراتے ہوئے بہادر نوجوان نے جواب دیا ۔ ‘‘کیا تمہیں زندگی پیاری نہیں نوجوان؟ ایس کہوں کہتے ہو؟ ‘‘جواب ملا ‘‘ نہیں مجھے زندگی سے زیادہ وطن سے پیار ہے۔ کل مر کر دوبارہ جنم لونگااور بیس سال بعد جوان ہوکر پورے جوش سے پھر لڑونگا۔ بیس سال کی سزا کاٹ کر تو میں بوڑھا ہو جاؤنگا اور میری جد وجہد کی طاقت ختم ہوجائیگی۔ میری آنکھیں کے سامنے ہی تم میرے ملک کو نا انصافی کے پاٹوں کے درمیان پیستے رہوگے ۔ دوسرے دن قربان مسکرارہا تھا۔
کانگریس کے شروعاتی سال
ڈاکڑ راجندر پرساد
ہماراقومی جلسہ عظیم( کانگریس) پچاس سال قبل پہلے پہل، کچھ تھوڑےسےرکن کی موجعدگی میں، بمبئی میں ہوئی تھی۔ جولوگ وہاں موجودتھے، وہ مختب اراکین توشائد ہی کہےجا سکیں، لیکن تھے سچے خدمت گار۔ بس ، تبھی سے یہ ہندستنی عوام کی لئے خود مختاری حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ شروع میںاسکا مقصد صاف تھا۔، لیکن ہمیشہ اسنے حکمرانی کےایسے جمہوری نظام پر زور دیا ہے،جو ہندستانی عوام کے لئے ذمہ وار ہو جا میں اس عظیم ملک میںرہنے والی سب ذاتوں اور طبقوں کے رکن ہو۔ اسکی شروعات اس امید اور یقین کو لیکر ہوا تھا کہ برطانوی سیاست دان جو سچ مچ وفد ہوں اور جن سے ہندستانی عوام کو ہندستان کےحق کےنطریہ سےہندستان کا انتظام کرنےکا اختیارملے۔ کانگریس کی ابتدائی تاریخ اس عقیدت مند اعتماد کی بتائی ہوئی تجویزوں اور تقریروں سے ہی بھرا ہے۔ کانگریس کی جو مانگے ہیں ، وہ بھی ایسےتجویزوں کے ہی شکل میں ہیں،جن میں یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ یا تو اصلاح ہونی چاہیئے اور کون سےاعتراز کاروائئیاں رد ہونی چاہیے، اور ان سب کامرکز یہ امید ہی رہی ہے، کہ اگر برطانوی پارلیمنٹ کو ہندستان کی اس حالت کا اورہندستانیوں کی مرضی کا کسی صورت پتا چل جائے تو وہ غلطیوں کو درست کرکےآخر میں ہندستان کو سوساشن کی گراں قیمت بخشش دیدینگے، لیکن ہندستان اور برطانیہ میں برطانوی حکومت نےجو کاروائیاں کیں، ان سے یہ امید اور اعتماد آہستہ آہستہ پر مکمل طورپر برباد ہوچکی ہے۔ جب جب ہماری قومی بیداری بڑھتی گئی ، تب تب برطانوی حکومت کا رخ بھی سخت سےسخت ہوا گیا۔ برطانوی انتطامیہ کےاصول پرشروع میںجو ہمارا بھروسہ تھا، اسمیں لارڈ کرزن کے، جنہوں نے بنگال کو ویبھکت کردیا تھا۔، اسی دوراقتدار میں دھکا لگا۔ اس بد ترحالت کی خلاف جو عظیم احتجاج ہوا وہ دراصل قومی پیداری کی اٹھتی ہوئی لہر تھی ، جو کہ بیسویں صدی کے شروع میں روس پر جاپان کی جیت جیسی عالمی واقعات کچھ کم متاثر نہی تھی، پھربھی انگریزوں پر سے ہمارا بھروسہ بالکل ختم نہیں ہوا تھا، اس لئےجنگ عظیم کےوقت کچھ تو اس بھروسے کے ہی وجہ ،جو کہ بنگ بھنگ رد ہوجانےسےپھر قائم ہوگیاتھا اورکچھ سارے حالات کو اچھی طرح نہ سمجھ سکنے کی وجہ سے ، برطانوی حکمراں کی مصیبت کے وقت اسے مدد دینے کی برطانیہ سرکار کی پکار پر ملک نےاس کا ساتھ دیا۔ ہندستان نے اس مصیبت کی گھڑی میںجو بیش قیمت مدد کی ،اس کی سب برطانوی سیاستدانوں نےتعریف کی ،اورہندستانیوں کے دل میں یہ امید پیدا کردی گئی کہ جو جنگ ہرایک ملکوں کی قسمت کے فیصلے کےاصول اور جمہوری نظام کو محفوظ کرنے کے مقصد سے لڑی جارہی ہے اس کے نتیجتے ہندستان میں بھی قائم مقام نظام کا قیام ہوجائیگا۔ 1917میں برطانوی حکومت کی طرف سے بل کی شکل، جوکہ آخر 1920میں ہندستانی نطام ایکٹ( گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ) بن گیا، ظاہر ہوتے گے، ویسے ویسے اختلاف بھی بڑھتاچلاگیا۔ بل ابھی بن ہی رہا تھاکہ جنگ عظیم ختم ہو گئی ، اور اسمیں برطانوی حکومت کی جیت رہی۔ تب ہندستان کو یہ محسوس ہونے لگاکہ جنگ کی طجہ یورپ میں برطانوی حومت کو جو مشکل کا سامنا ہواتھا، جنگ میں اسکی جیت جانےسے، چونکہ اب وہ دور ہوگیا ہے، ہندستان کے لئیے سکا رخ بدل گیا ہے اوربہلےسے کہیں خراب ہوگیا ہے۔ خلافت کے معاملےمین جو کچھ ہوا، جسےکی مسلمانوں سےفریب کہا گیا، اور(ملک کی رائےعامہ کے ہوتے ہوئے بھی) ان بلوں کومنطورکرلئےجانےسے، جوکہ رولٹ، بلوں کے نام سےمشہور ہےاورجنکے ذریعہ عوامی صہولیت کوآزاد شہری کے بنیادی حقوق سےمحروم کرنےوالی ہندستانی تحفظ ایکٹ کی ان سخت قانوں کو پھرسےعمل میں لانےکا انتظام کیا گیا تھا جنہیں کہ جنگ عظیم کےوقت ڈھیلا چھوڑدیاگیا تھا،اس جذبےکواوربھی تعاون اور بڑائی ملی۔ ان باتوںسےفطرتا؛ سارے ملک میںزوردار ہلچل مچ گئی اور شمالی افریقہ کےعلاوہ چھوٹے پیمانے پرہندستان کے کھوڑا و چمپارن ضلعوں میں جس ستیہ گرہ کا استعمال کیا جاچکا تھا، اسے پہلی بنار مہاتما گاندھی نےان اوردگرشکایتوں سےملک کےآزای پانےکےذریعہ کےطورپر جاری کیا۔ بدقسمتی سےاس سلسلےمیں بنجاب اوراھمداآباد میں عوام کی طرف سےکچھ زیادتی ہو گئی، جس سے لوگوں کی جان مال کا نقصان ہوااورجلیانوالا باغ قتال وپنجاب میں فوجی نظام کی بدترین حالت سامنےآئی۔ فطری طورپرپورے ملک میں ایک ہلچل مچ گئی اورغصہ چھا گیا۔ اس حادثوں کی جانچ کے لئے ہنٹر کمیٹی بنائی گئی۔ لیکن اسکی ریپورت بھی اس ہلچل اورغصہ کوکم نہ کرسکی، الٹےپارلیمنٹ میں اس ریپورٹ پرجوبحث ہوئی،اس سےاسےاور بھی تقویت ملی۔ تب گیرتعاون احتجاج شروع ہوا۔اسمیں ایک طرف توسرکاری خطاب کوواپس کرنااورسرکاری کاؤنسلوں،سرکار کےذریعہ چلائےجارہےتعلیم گاہوں،عدالتوں اورغیرملکی کپڑوں کی مخالفت کاپروگرام رکھاگیا،اوردوسری طرف جگہ جگہ کانگریس کمیٹیوں کا قیام، کانگریس ممبروں کی بھرتی،تلک سوراج کوش کیلئے روپیہ جمو کرنا، قومی تعلیم گاہوں کا قیام، دہی لوگوں جھگڑے ختم کرنے کلئتےپنچایتوں کا قیام اورہاتھ کی کتانی بنائی کو دونارہ زندہ کرتےہوئے ۔۔۔۔۔۔۔اور لگان بندی تک پہنچ جانے کا پروگرام رکھا گیا۔ سوراج حصول‘رکھا گیا۔ اس سےپورےملک میں بیداری کی لہرچھا گئی اورسرکار نےبھی اپنا بربریت کا سلسلہ جاری کردیا۔ دیھتے دیھتے1921کےآخر تک ہزاروں مرد و زن، جن میں ملک کےکچھ نہایت ہی معتبر لیڈر بھی تھے،قید خانوں میں جا پہنچے۔ سرکار کےساتھ معاہدے کی بات چیت بھی چلے، پروہ کامیاب نہ ہوئی۔ مگراسی درمیان وسطی علاقےکےچوری چورامقام میں خطرناک طرح فساد ہوجانےکی وجہ سے باردولی میں ٹیکس بندی کےاحتجاج کاجو پروگرام طئےہوا تھا،اسےترک کردینا پڑا۔اس کےبعد ایک ایک کرکےغیر تعاون پروگرام کی دوسری باتیں بھی کلعدم کردی گئیں اورکانگریس وادی کاؤنسلوں میں داخل ہوئے۔ ۔
1920کےبعد انتظامہ ایکٹ کےعمل کی جانچ کے لئے برطانوی پارلیمنٹ نے جو کمیسن بنایا تھا، جوکہ سائمن کمیشن کے نام سے ہشور ہے،اسمیں ہندستانیوں کےنہ رکھےجانےسے ملک میں پھر ہلچل مچی۔ تب، دوسری عام تنظیموں کے ساتھ ملکر، کانگریس نے سرکار کی منظوری کیلئے، ہندستان کیلئےایس نظام ایکٹ بنایا، جسمیکں، ہندستان کا مرکز برطانوی سامراج کے دوسرے معاون ملکوں کی چیزیں ( ڈومینین اسٹیس) کا حصول رکھاگیا، لیکن سرکار نے اس کا کوئی معقول جواب نہیںدیا۔ تب دسمبر، 1929میں لاہورکےاپنےاجلاس میں کاگیس نے اپنا مقصد بدل کر امن اور بہتر طریقوں سے دوبارہ سوراج( دوبارہ ازادی) کا حصول کردیااور 1930 کےآرہ میں ۔۔۔۔۔ ۔۔ اور ٹیکس بندی کا احتجاج مرتب کیا۔ برطانیہکی سرکار نے ایک طرف تو لندن میں ایک ایکٹ کا احتمامکیا، جس میں ہندستان کے لئے حکمران ایکٹ بنانے کے سلسلے میں مشورہ دینے کیلئے کچھ ہندستانیوں کو نامزد کیا گیا،اور دوسری طرف ہندستان میں باہمی احتجاج کوکچلنےکیلئےکئی سخت ترین تشدد سے پرآرڈیننس کے ساتھ طریقےاختیار کئےگئے۔ مارچ 1931میں سرکار کی طرف سےوائسرائےلارڈ ارون اور کانگریس کی طرف سے مہاتما گاندھی کےدرمیان ایک معاہدہ ہوا، جسکےنتیجے میں مخلوط احتجاج ملتوی کردیا گیا اور 1931کے آخری دنوں میں مہاتما گاندھی لندن میں ہونے وقلی گول میز کانفرنس میںشامل ہوئے۔ لیکن، جیسا کہ خیال تھا، اس کانفرنس سے سے کوئی نتیجہ حاصل نہ ہوا اور1932 کی شروعات میںہی کانگیس کو پھرسےاحتجاج شروع کر دینا پڑا، جو 1934 تک چلتارہا۔ 1934میں وہ پھر ملتوی کردیا گیا۔ 1930 اور1932 ان دونو بار کےاحتجاج میں ہزاروں مرد وزن اور بے تک جیلوں میں گئے، لاٹھی چارج اور دوسری تکلیفوں کو انہوں نےسہا، اور اپنی جائداد کا نقصان بھی برداشت کیا۔ سرکاری فوج کے ذریعہ بھیڑ پر شلائی گئی گولیوں کی وجہکر بہت سےلوگ مارے بھی گئے۔ سیتہ گرہ کرنےوالوں نےاس موقع پر اپنی تنظیم اور تکلیف برداشت کرنے بےپناہ طاقت کا مظاہرہ پیش کیا اورکثیر سے کثیر جذباتوں کے درمیان بھی سب مل کر، پوری طرح عدم تشدد پرقائم رہے۔ کانگریس تنطیم کنے سرکار کی بڑے چڑھائی کےباوجود قائم رہکرثانت کردیا کہ وہ غیرجاندار نہیں ہیں اوراپنےکو وقت کے مطابق ڈھالنے کی انمیں صلاحیت ہے۔ یہ ٹھیک ہےکہ ملک کا جو مقصد ہےوہ مکمل سوراج ابھی (1935میں ) ہمیں حاصل نہں ہواہے، لیکن اسمیںشک نہیں کہ ملک اس آتشی امتحان میں قابل تعریف پاراترا ہے۔
کراچی کے اجلاس میں کانگریس نے ایک تجویز کے ذریعہ سب ہندستانیوں و انکےکچھ ذاری کا بھروسہ دلایا ہے ۔اورملک کے سامنے ایک معاشی اور سماجی پروگرام پیش کیا ہے۔ اسمیں یہ صاف کردیا گیا ہے کہ عوامی صہولت کا استحصال ختم کرنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ سیاسی آزادی میں بھوکوں مرنے والےکروڑوں لوگوں کی حقیقی معاشی آزادی کا بھی حل ہو، اور تقریر، اجلاس، جان، مال مذہب اوردل کی آواز سےمنسلک آزای کے بنادی حقوق کا اعلان کردیا گیاہے۔ یہ بھی فیصلہ کر دیا گیا ہے کہ کارخانوں میں کام کرنےوالوں کے لئے کام کی ۔۔۔۔۔ کام کے ۔۔۔ گھنٹے، اپسی جھگڑے کے فیصلے کیلئے مناسب تنظیم اور بڑھاپے، بیماری و بیکاری کے اقتصادی بریشانیوں سے تحفظ اور مزدور جماعت بنانے کے انکے اختیار کو قائم رکھنے کے کی شکل انکے حقوق کاخیال رکھا جائیگا۔ کسانوں کو اس نے یقین دلایا ہے کہ یہ لگان ٹیکس معاف کراکراور چھوٹی چھوٹی زمینوں کھےمالکوں کواس کمی کی وجہ سے جو نقصان ہوگا،اسکے حساب سے مناسب اور ریایتی چھوٹ کی مدد دیکر یہ انکے زراعت سے متعلق بوجھ کو ہلکا کریگی۔ زراعت، سے ہونے والی آمدنی پر، اسکے ایک مناسب معقول نتیجے سے اوپر، اس نے کام پرٹیکس لگانے لگانے کا بھی انتظام کیا ہے۔ ساتھ ہی ایک مطئین رقم سے زیادہ آمدنی والی جائداد ہر۔۔۔ بڑھتا جانے والاوراثت کا ٹیکس لگانے، جوجیو ملکی انتطامیہ کےاخراجات میں کثیر کمی کرنےاور سرکاری ملازموں کی تنخواہ 500 رہپئے ماہوار سے زیادہ نہ رکنھے کےلئے کہا ہے۔اسکےاعلاوہ ایک اقتصادی اور سماجی پروگرام بھی پیش کیا گیا ہے، جس میںغیر ملکلی کپڑے کی مخالفت، ملکی کارخانے کاروبار کا تحفظ شراب اور دوسری نشیلی چیزوں کی مناہی، بڑے بڑے کارخانوں پر سرکاری دخل ، کسانوں کا قرضہ داری سے فائدہ، کرنسی اور ۔۔۔۔ کی پالیسی کاملک کے حق کے نظریہ سےچلانا اور ملک کے تحفظ کے لئے شہریوں کو فوجی تعلیم دینے کا حکم ہے۔
کانگریس کے آخری اجلاس میں ، جوکہ اکتوبر1934 میں بمبئی مین ہوا تھا، کاؤنسل داخلے کی پالیسی کو منطور کرلیا گیا لے اور ملک کے سامنے کارآمد پروگرام رکھا گیا ہے جسمیں ہاتھ کی کتائی بنائی کو سراہا اور دوسرئی زندگی دینے،کےلائق دہی اور دوسری چھوٹی دستکاریوں کی ترقی کرنے ، معاشی، جانکاری سماجی اور علم صحت کے نظریہ سے دہی زندگی کا دوبارہ قائم کرنے، ۔۔۔۔ کا نشہ کرنے، ذاتی اتحاد کی ترقی کرنے، مکمل ۔۔۔۔ قومی تعلیم ۔۔ عورتوں مردوں میں کارآمد تعلیم کا بڑھاوا دینے،کل کارخانوں میں کام کرنے والےمزدروں وکاشتکاروں والے کسانوں کی تنطیم اورکانگریس تنظیم کو مضبوط بنانے کی باتیںبھی ہیں ۔ کانگریس ایکٹ میں ترمیم کرکے، نئےایکت میں ، اراکین کی تعداد کم کرکےکانگریس رجسڑ میں درج جتنے ممبر ہیں انکے مطابق کردیا گیاہے، ساتھ ہی اس بات پر بھیزور دیا گیا ہے کہ کانگریس کمیٹی سب منتخب ممبر جسمانی محنت کرنے اورعادتاً عادی پہنے والے ہوں۔
اس طرح کانگریس قدم بہ قدم آگےبڑھتی گئی ہے اور قومی ہلچل کے ہر ایک حصے میں اس نے اپنا داخلہ کرلیا ہے۔ اس وقت وہ مشبت کام میںلگی ہوئی ہے جس سے نہ صرف عام لوگوں کی مالی حالت ہی ٹھیک ہوگی، بلکہ اسکو پورا کرنے سے ان میں وہ اعتماد بھی بحال ہوگا جس سے وہ مکمل سوراج حاصل کرسکینگے۔ ایک چھوٹی تنظیم کی شکل میں شروع ہوکراب یہ اتنی بڑی ہوگئی ہے کہ سارے ملک میں اسکی شاخیں ہیں اور ملک کے ہرخاص و عام کا اسکو اعتماد حاصل ہے۔ اس کے کہنے پرملک کے سب درجے کے لوگوں نے سوراج حاصل کرنے کیلئے بہت بڑے پیمانےپرقربانی دی ہے، اوراسکے کاموں اور اسکی کامیایبوں کی ملک میں ایک عظیم مثال ہے، جسکی حفاظت اور بڑھانا ہر ایک ہندستانی کا فرض ہونا چا ہییے۔ آزادی کی اس لڑائی میں ، جو ابھی بی ہمیں لڑنا باقی ہے، طئے ہےکہ یہ زیادہ سے زیادہ حصیہ لیتی رہیگی۔ یہ وقت سستانے یا آرام کرنے کا نہیں ہے۔ ابھی تو بہت سا کام کرنے کو باقی پڑا ہے، جس کے لئلے بہت صبر کےساتھ تیاری کرنے، لگاتار قربانی دینےاورحتمی فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مکمل سرراج سےکچھ کم پر ہم ہرگز اطمئنان نہیں کرینگے۔
ساتھ ہی، پوری عزت کےساتھ، ہمیں ان لوگوں کی خدمت کا بھی احترام کرناچاہیئے، جنہوں نے، کہ اس تنظیم کی بنا ڈالی ہے اور اپنی بے غرض محنت اور اپنی قربانیوں سے اسکی پرورش کی ہے۔ پچاس سال پہلےجوچھوٹا پودھا لگایا گیا تھاوہ اب بڑھ کرایک مضبوط درخت بن گیا ہے، جسکی شاخیں اس عظیم ملک میں ہرطرف پھیل گئیں ہیں اوراب قربان ہوئےمرد وزن کی شکل میں اس میں کلیاں چٹخی ہیں۔ اب جولوگ باقی بچے ہیں، انکا فرض ہےکہ وہ اپنی خدمت اور قربانیوں سےاسکی پرورش کریں، تاکہ قدرت نے جس مقصد سےاسکو بنایا ہےوہ مکمل ہو، اسمیں پھل لگیں اور ان سے پورا ہندستان آزادی اور خودمختار ملک بن جائے۔
12 دسمبر، 1935
جنگ کا زمانہ اور پنجاب پر ظلم
جولائی 1914میں پہلی عالمی جنگ چھڑ گئی اس دنوں کانگریس کے پورانے قائد عوامی تعاون کھوتےچلے جارے تھے۔ 1915میں گوکھلیے کا انتقال ہوگیا اور اسی سال سر فیروز ساہ مہتا کا بھی انتقال ہوگیا واچہ اکیلے بڑگئے تھے۔ سرندر ناتھ بنرجی کی اہمیت بھی کم ہوچکی تھی لالالاجپت رائے امریکہ میں بدحال تھے۔
عالمی شہرت یافتہ محترمہ بیسنٹ جو ایک سماج مخالف، غریبوں کی دوست اور ہنسان کے لئے اپنی بے پناہ ہمدردی کی وجہ سے اپنی ایک الگ شخصیت قائم کرچکی تھیں، اب ہندستانی سیاست کے منچ پر ایک نئی طاقت کی شکل طلوع ہورہی تھیں، لوکمانیئے تلک طویل قید ملنے کے بعد مانڈلے سےلوٹ آئے تھے۔
گاندھی جی سمالی افریقہ سابھی لوتے ہی تھے۔ وہ ابھی اتنے مقبول عام نہیں ہوئے تھے۔ اپنے ‘‘ سیاسی استاد‘‘ گوکھلے کی رہبری میں وہ اس وقت کے حالات کا مطالعہ کرنے کے لئے ملک کا دررہ کررہے تھے۔ 1915میں بمبئی اجلاس میں گاندھی جی کو موضوع کمیٹی ( سبجکٹ کمیٹی ) میں چنانہیں جاسکا۔
لوک مانیئے ، مقبول عام رہبر کی شکل میں
لوک مائیتے تلک کانگریس کے گرم جماعت اور سرد جماعت کے درمیان اتحاد لانے کی کوشش میں لگے ہوئے تھےتاکہ سوراج کا مقصد حاصل کرنے کیلئے پوری کانگریس کی طاقت لگائی جاسکے۔ اس سلسلے میں کامیاب نہ ہونے پر 1915میں لوکمائئیے نے ہونا میں ہورول لیگ کی بناڈالی۔ وہ شچے معنوں میں عوام کے مقبول لیڈر تھے لیکن انگریز حکومت انہیں اپنا شدید دشمن مانتی تھی اورآئےدن انکے خلاف مہم چلاتی رہتی ۔ وہ دوردور تک سفراورجلسہ کرنےکےلائق نہیں رہےتھے۔ اگر وہ ایسا کرپاتے تووہ مہاراشڑا کے ہی نہیں بلکہ پورے ہندستان کے بےتاج بادشاہ بن گئے ہوتے۔ محترمہ بینسنٹ کےساتھ ایسی کوئی پریشانی نہیں تھی۔ انہوں نے بھی ایک دوسرے‘‘ ہوم رول فر اند‘یا لیگ‘‘ کی بنیاد ڈالی جسکا مرکز مدراس میںتھا۔
1916میں کانگریس لیگ مرکز لگاتار کامیابی حاصل کررہے تھا۔ 1916میں کل ہند کانگریس کمیٹی کی نششت نرم جماعت کے لیڈر پنڈت موتی لال نہورو کے گھر پر ہوئی۔ ان دنوں پندت موتی لال شہرت کے مینار پر نہیں پہنچے تھے۔
1916میں لوکمانیے تلک ،سورت کے بعد پہلی بار، لکھنئو اجلاس میں شامل ہوئے۔ ان کےساتھ کثیر تعداد میں انکی جماعت کے کارکن بھی ممبر بن کرآئے۔ لکھئو اجلاس کی خاصیت یہ رہی کہ اس اجلاس مین لیگ اورکانگریس اورنرم دل اور گرم دل کےدرمیان اتحاد ہوگیا اسی اجلاس میں سوراج کی شکل مرتب کی گئی۔ اجلاس میں سرندرناتھ بنرجی اورراس بہاری گھوش جیسے نرم مزاج اورمحموداباد کے راجہ، مظہرالحق اور نوجوان جناح جیسےمسلم قائد شامل ہوئے۔ محترمہ بیسنٹ اپنے دوقریبی حمایتی ارون ڈیل اورباڈیا کےساتھ آئیں جہنوں نےہوم رول کے پرچم اٹھا رکھے تھے۔ گاندھی جی اور پولک بھی اس اجلاس میں موجود تھے۔
چمپارن سے کچھ لوگ گاندھی جی کو وہاں مدعو کرنےکیلئے آئے تھے۔ اجلاس میں چمپارن کے کسان کے بارے میں ایک تجویز پاس کیا گیا۔
کانگریس لیگ منصوبہ منظور کر لیا گیا اور ہندستان میںمخلوط انتظامیہ کیلئے اسے ایک آزاد زخیرہ اندوز کا درجہ دینے کا اعلان کرنے اور وعدہ کر نے لئے کہا گیا۔
ہوم رول احتجاج اور محترمہ اینی بیسنٹ
اس اجلاس کی ایک قابل تحریر بات یہ بھی تھی کہ ہندستانی تحفظ قانون اور 1818کے بنگال لیگولیشن ایکٹ 3 کے خلاف بھی ایک تجویز جاری کی گئی ۔ یہ تجویز جاری کی گئی کہ ملک کے باہر ہو رہے حادثوں کی فکرمند تھا۔ 1917 میں محترمہ نیسنٹ نے پورے ملک میں ہوم رول احتجاج ہورے زور شورسےشروع کیا۔ محترمہ بیسنٹ کی نظر بندی نےان کےاحتجاج کو اور بھی مقبول عام بنا دیا۔ نظربند کئے گئے لوگوں کی رحائی کے لئے ستیہ گرہ چھیڑنے کا منصوبہ تیار کیا گیا۔ حقیقت میں یہ عوامی بیداری عالمی جنگ کی وجہ سے بڑی طاقتون کے عروج کا نتیجہ تھا۔
اس عالمی جنگ میں، کثیر تعداد میںہندستانی فوج کےغیر ممالک میں گئےاور انہوں نے فرانس، فرلینڈس اور جنگ کے کئی مورچے پراپنی موجوگی کے پرچم لہرائے گئے۔ مغربی طاقتوں اورانگریزوں کی خاصیت کا بھرم ٹوٹ چکا تھا۔ ہندتان میں مٹھی بھر انقلابی غیرملکی حکومت کےخلاف تنہا لیکن پورے جوش کےساتھ جدوجہد کر رہے تھے۔ آئرش لوگوں کا احتجاجی جوش اور محرک ایک دوسرا سوت تھا۔
حکومت کی طرف سےسختی
جنگ کے حالات، مہنگائی ، جنگ کیلئے نئےسپاہیوں کی بحالی اور دوسری چیزیں مہیا کرنے کیلئے عوام پر حکومت کے ذریعہ طاقت کا استعمال ( جیسے کہ جنرل ڈائرنے پنجاب میں کیا) قتل عام سے لوگوں کے دلوں میں حکومت سے غصہ پیدا ہورہا تھا۔ مسلمانوں میں بھی، جو اب تک الگ تھلگ تھے، غیر اطمئنانی تھی، کیونکہ ترکی، دوست ملکوں میں نہیں تھا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب اقبال، شبلی اور آزاد جیسی شخصیتیوں نے مسلمانوں کی بیچینی کو محسوس کیا۔ مولانا آزاد کا ‘‘ الہلال ‘‘ ظفر علی کا ‘‘زمیندار‘‘ محمدعلی ‘‘ کامریڈ‘‘ اور ‘‘ ہمدرد‘‘ مذہب اور سیاست پر ایک نیا نظریہ پیش کررہے تھے۔ اس کےاثرات نے 1916 میں مسلم لیگ کو کانگریس کے نظرئےکے ساتھ کھڑا کردیا۔
حکومت ان نئی طاقتوں سے بیخبر نہیں تھی۔ خاص کر جو اصول جاری کئے گئےاور جذباتی رہنماؤں کو یا تو جیل بھیج دیا تھا تھا یا نظربند کردیا گیا تھا۔ علی برادران اور آزاد کو نظربند کردیا گیا تھا جن لوگوں پر انقلابیوں سےبڑے ہونے کا شبہ تھا ان پر مقدمے چلائے گئے۔ نرم مزاج قائدوں کو اپنی طرف کرنے کی کوشش کی گئی۔ حکومت نے عجلت میں ایک اعلان جاری کیا جسمیں وزیر داخلہ مونٹیگیو نے کہا کہ ہندستان میں برطانوی انتظامیہ کا مقصد صحت مند تنظیموں کا دھیرے دھیرے ترقی کرنا ہے تاکہ آہستہ آہستہ ایک قائم مقام ہندستانی حکومت کا قیا کیا جاسکےجو برطانیہ مملکت کا ہی ایک خاص حصہ ہو۔ ‘‘مونٹیگیو چیمسفور اصلاحوں ‘‘کیلئے ‘‘نرم مزاج لوگوں کی حمایت حاصل ‘‘کرنےکےارادے سےمونٹیگیو ہندستان کےسفر پرآئے تھے۔
محترمہ بیسنٹ اورانکےساتھیوں کورحا کردیا گیا۔ لیگ اورکانگریس کی کارکارنی کی 6 اکتوبر کوالہٰ آباد میں نشست ہوئی اورستیہ گرہ چھوڑ دیا گیا۔ سی۔ وائی۔ چنتا منی کےساتھ 12 ممبروں کی کمیٹی بنائی گئی۔ کمیٹی سے کہا گیا کہوہ وزیر داخہ اور وائسرائے سےملیں اور کانگریس لیگ منصوبہ پر ان کی حمایت حاصل کریں ۔
1917میں کانگریس کے کلکتہ اجلاس میں محترمہ بیسنٹ( ہلکےسے احتجاج کے بعد ) صدرچنی گئیں۔ کلکتہ اجلاس میںکانگریس لیگ منصوبے کی حمایت کی گئی اور قائم مقام حکومت کی مانگ کی گئی۔‘‘اس پورے معاملے کو ایک طئے وقت کےاندر حاصل کیا جائیگا اور یہ طئے وقت کسی قریبی حالت پراسکےمطابق مطئین کیا جائیگا۔اسی اجلاس میں ترنگا پرچم اپنایا گیا۔ ابھی تک یہ ہوم رول لیگ کا پرچم تھا۔ کلکتہ اجلاس میں ایک دوسری تجویز جاری کرکے رولٹ کمیٹی منتخب کئےجانےاور ہندستانی تحفظ کےقانون اور1818 کا ریگولیشن 3 کےبے جا استعمال کرنےکی مزمت کی گئی ۔ محترمہ بیسنٹ ایسی پہلی کانگریس صدرتھیں جنہوںنےاس اصول پرعمل کیا کہ سالانہ اجلاس کا صدرپورے سال تک کانگریس کا صدررہیگا۔ انہپوں نےہندستان اوربرطانیہ میں تشہیر کا کام اور لوگوں کو تعلیم دینےکےاپنےکام کو زورںسےجاری رکھا ۔اسی دوران ہندستانی تحفظ قانون کا ہرمقام پرسختی سےاستعمال کیا گیا۔
1917میں گاندھی جی چمپارن میں مشغول تھے۔ انوہںراجندرپرساد جیسےاپنےدوسرے ساتھیوں کو بتایا کہ سوراج کیلئےمناسب جدوجہد تو چمپارن میں کیا جا رہا ہے۔ بعد میں وہ وائسرائے کی جنگ پریشد میںشامل ہوگئے۔ لوکمانئیے تلک کو سپاہیوں کی بحالی ککے کام پر لگایا گیا حالانکہ حکومت ان پر اعتامد نہیں کرتی تھی۔ اگست 1918 میں لوکمائیے تلک نےگاندھی جی کو 50،000 روپئےکا چیک بھیجا اورکہا کہ اگر وہ جنگ کیلئے500 مراٹھوں کو بحال نہ کرسکےتو یہ رقم ضبط کرلی جائے لیکن شرط یہ ہوگی کہ گاندھی جی حکومت سےیہ وعدہ کریں کہ ہندستانیوں کو بھی فوج میں شامل کیا جائیگا یعنی انہیں کمیشنڈ افسرکے طورپربحال کیا جائیگا۔
مونتیگیو چیمسفورڈ ریپورٹ جون 1918میں شائع کی گئی۔ ریپورٹ کے ارے میں کانگریس والوں میں فوری اختلافات ہوگئے۔ اگست 1918 میں بمبئی میں ایک خاص اجالس بلایا گیا۔ اجلاس میں ان اصلاحوں کو غیر تسلی بخش بتایا گیا اور کانگیس لیگ منصوبہ عمل میں لانے کی مانگ پھر دہرائی گئی۔ لیکن مختلف اختلاف کو سلجھا لیا گیا، زیادہ ترکانگریسی میں اتحاد قائم رہا۔ پھر بھی کچھ نرم مزاج لیڈروں نے بمبئی اجلاس میں حصہ نہیںلیا ۔ بد میں انہوں نے ‘‘ دی لیبرل پارڑی‘‘ نام سے اپنا ایک نیا دل بنا لیا۔
مسلم لیگ نے بھی اپنا اجلاس بمبئی میں کیا اور اسنے بھی اس اجالس میں کانگریس کے فیصلے کے مطابق ہی فیصلے کئے۔
جنگ کا آخری سال بہت اہم تھا۔ حکومت کی تشدد پسند پالیساں روزبروز زیادہ ہوتی جارہیں تھیں۔ اخبارپربنے قانون سختی سے عمل میں لائے جارہے تھے۔ لوکمانیہ تلک اور محترمہ بیسنٹ کی حرکتوں پر پابندی لگادی گئی۔ بنکال میں نظربند کئے گئے نوجوانوں کی تعداد تین ہزار تک پہنچ گئی ۔ لوگوں پربہت ظلم کئے جارہے تھے اور ہر طرف غصہ امڑ رہا تھام خاص طور سے بنجاب میں جنگ کے لئے حکومت کی جانب س زبردستی بحالی اور چندہ وصولے جانے کے کی وجہ کر چاروں طرف بیچینی کا عالم تھا۔ رولٹ کمیٹی اپنی ریپورٹ اور سفارشیں جاری کر چکی تھی۔ بمبئی کے بعد کانگریس اجلاس دلّی میں ہوا۔ لوکمانئیہ تلک کو صدر چنا گیا لیکن وہ سر ولینٹاون چیرول کے ساتھ اپنے مقدمے کی وجہ کر لندن میں الجھے ہوئے تھے۔ آخر انہوں نے اہمیت ظاہر کردی ۔ ان کی جگہ پر پنڈت مدن موہن مالویا کو صدر بنایا گیا۔
دلّی اجلاس شروع ہونے تک جنگ ختم ہوچکی تھی۔ حمایتی ملکوں کی جیت ہوئی۔ صدر مملکت ولسن ،لارڈ جارج اور دوسرے سیاسی لیڈروں نے اپنے فیصلے کےاصول کا اعلان کیا۔ ان نئے حالات کےمطابق دلّی اجلاس میں کانگریس نےمونٹیگیو چیمپفورڈ منصوبہ کےسلسلہ میں اپنی حیثیت پر دوبارہ اپنی بات کہی۔ ‘‘ آزاد ۔۔ ۔۔۔ کی مانگ پھراٹھائی گئی اورامن اجلاس میں شممولیت کی مانگ کی گئی۔ اسکے لئے لوکمانیہ تلک، گاندھی جی اورحسن امام پرمشتمل ایک وفد بنایا گیا۔ کانگریس نے سبھی تشدد والے قانون کو واپس لینے کی درخواست کی۔
لیکن دلّی اجلاس کی مانگوں کی نہ صرف تنقید ہی کی گئی بلکہانگریز حکومت، جنگ ججتنےکے نعد، ہندستان میں احتجاج اور مخالفت کو اپنے طریقے سے دبانےکےلئے اب آزادہوگئی تھی اور 1919 نےیہ دکھا بھھیدیا ۔ فروری 1919میں ۔۔۔۔۔ اسمبلی میں رولٹ ویدھیک پیش کیا گیا۔
رولٹ ایکٹ پر تبصرے
انہوںنے اعلان کیا کہ اگر رولٹ سفارش جاری کی گئی تو وہ ستیہ گرہ شروع کردینگے۔ لیکن وہ پورے ملک کے دورے پر نکل پڑے۔ ہر جگہ پر انکا پورے جوش سے استقبال کیا گیا۔ ١٨ مارچ کو انہوں نے یہ اعادہ شائع کیا۔
‘‘ ہمارے خیال میں 1919کا ہندستانی فوجداری قانون ترمیم بل تعداد ایک اور1919کا فوجداری قانون ہنگامی طاقت بل تعداد 2، نا انصافی پر مبنی ہے۔ یہ بل آزادی اور انصاف کےلئے خطرناک ہے اور شہریوں کے ان بنیادی حقوق کا استحصال کرتے ہیں جن پر سچ مچ ہندستان اور خود ریاست کی حفاظت ٹکی ہوئی ہے۔ ہم پوری وثوق سےدعوہ کرتے ہیں اگر ان بلوں کو قانونی شکل دی گئی تو ہم ان قانونوں پرتب تک عمل کرینگے، جب تک انہین واپس نہ لےلیا جائے ۔ اسکے بعد بنائی گئی کسی کمیٹی نےاگر ایسےہی دوسرے قانون بنائےجانے کی سفارش کی تو ہم انکی بھی اسی طرح پامالی کرینگے۔ ہمیہ بھی اعادہ کرتے ہیں کہ ہم اپنی کوشش میں سچ کا تہہ دل سے پالن کرینگے اور تشدد کا استعمال بالکل نہیں کرینگے جس سےکہ کسی شکص اورکسی کی زندگی اور کو نقصان ہو‘‘ ہڑتال کے لئے30 مارچ 1919کا دن طئے کیا گیا لیکن بعد میں اسے6 اپریل کردیا گیا۔
6 اپریل1919 ہندستان کی تاریخ میں بہت اہم دن تھا،لوگوں نے مہاتما گاندھی کے اس اعلان پر جس طرح سے جوش دکھایا اس سے نہ صرف حکومت بلکہلیڈروںکو بھی حیران کردیا۔ جنگ میں جیت کی خوشی نے انگریز حکومت کا دماغ خراب کردیا تھا۔ اسی امید میںوہ لوگوں پر ٹوٹ پرے۔ کئی جگہوں پر گولی چلی۔ دلی میں جب انگریزی فوج نے سوامی شردھانند کو گولی مارنے کی دھمکی دی تو سوامی جی سیانا کھول کر بندوق کے سامنے تن کر کھڑے ہوگئے۔ ہندو مسلم یکجہتی کے کئی بے مثال منظر دیکھنے میں آئے۔ سوامی شردھانند کو جامع مسجد کے اسٹیج سے اپنی تقریر کرنے کی اجازت دی گئی۔ پورے ملک میں اس نئے خیال کو مشتہر کیا گیا۔ لوگ جیسے اسی طرح کے کسی مثال کے انتظار میں تھے۔
قومی جدوجہد کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ جلد ہی پنجاب کے سانحہ نے قومی بیداری کی ایک نئی ، لہر کو پیدا کردیا۔
پنجاب میں ظلم کا سلسلہ
پنجاب کی کہانی ہر شخص کو معلوم ہے۔ اسکی شہادت دنیا کے سامنے ہے اور انکی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔
1919میں کانگریس کااجلاس امرتسر میں ہونا تھا۔ سر مائیکل اوڈائر نے کانگریس کے دو مقامی لیڈروں ڈاکڑ صیف الدین کچلو اورڈاکڑ ستپال کو اپنے یہاں بلایالین انہوںنےحراست میںلیکر کسی نامعلوم جگہ پر بھیج دیا۔ 10 اپریل 1919کے حادثہ ہے۔ لوگوں کا ایک سیلاب سڑکوں پر امڈ پڑا۔ وہ ضلع مجسریٹ سےمل کریہ جاننا چاہتے کہ انکے عزیز لیڈر کہاں ہیں ۔ لیکن وہاں گولی چلی، بتھربازی ہوئی اور کئی لوگ زخمی ہوگئے۔ لوگ جذباتی ہوگئےاورمجمع نے پانچ انگریزوں کو مارڈالا۔ ایک بینک اور کچھ دوسری عمارتوں کو آگ لگادی۔
گجرانوالا اور کسور میںبھی ایسے ہی حادثہ پیش آیا۔ کچھ دوسری جگہوں پر بھی چٹ پٹ مخالفت ہوئی۔ اسی دن پورے پنجاب میں مارشل لاء لگادیا۔
مارشل لاء کے دنوں پنجاب میںکیسی کیسی وارداتیں ہوئیں، لوگوں کو کیسی کیسی اذیتیں دی گئیں اور جلیانوالاباغ میں کیسے بے قصور لوگوں کو گولیوں سے بھون ڈالا گیا۔ انکا اختصار سے ذکر کیا جارہاہے۔
جلیانوالا باغ کی چہاردیواری میں غیر مسلح مجمع پر تب تک گولیوں کی بارش کی گئی جب تک کی ساری گولی، ختم نہیں ہوگیا۔ حکومت نے خود یہ قبول کیا کہ 379 لوگ مارے گئے ااور 1200 زخمی ہوئے جن کے لئے دوا علاج کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ سر پی۔ ایس۔ شیو سوامی ائیر نے جلیانوالا باغ میں کئے گئے بربریت کا اس طرح ذکر کیاہے۔
‘‘ جلیانوالا باغ میں غیر مسلح جمع ہوئے لوگوں کو ادھر اُدھر ہونے کا کوئی موقع دئے بغیر ان کو مارڈالاگیا۔ گولی واقعہ میں زخمی سیکڑوں لوگوں کے درد سہ وچوٹوں کے سلسلے میں جنرل ڈائر کی لاپروہی، ہٹ رہی بھیڑ او بھاگتے ہوئے لوگوں پر مشین گنون سے گولیاں برسائیں گئیں، لوگوں کو سرعام کوڑوں کی سزا، ہزاروں طلباء کو حاضری دینے کےلئے حکم دیا گیا جن کی وجہ سے انہوں نے ہرایک دن تقریبا 16 مییل چلنا پڑا،500 طلباء اور اساتذہ کی گرفتاری اور انہیں حراست میں رکھنس، پرچم کو سلامی دینے کیلئے پانچ سے سات سال تک کے اسکولی بچوں کو پریڈ کیلئے مجبور کیا جانا، جن لوگوں کی دیواروں پر مارشل لاء کےاشتہار چسپاں کئے گئے ان کی حفاظت کی ذمہداری انہیں پر ڈالنا،بارات کوڑے لگانا، خطوط پر نگرانی کرنا، لوگوں کو بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے گرفتار کرنااورحراست میں لے لینا، خاصطور پران کوبھی جنہوں نے جنگ کے زمانے میں معاشی اور دوسرے طرح سے حکومت کو تعاون کیا تھی، اسلامیہ اسکول چھ بڑے بچوں کو سف اسلئے کوڑوں سے سزا دینا کیونکہ وہ اسکولی بچے تھے، اور بڑے تھے، گرفتار لوگوں کو بند کرنے کے لئے کھلا پنجرہ بنایا جانا، رینگنے یا میڈک کی اچھلنے جیسی نئی نئی سزائیں دینا جن کا کسی فوج یا فوجی قانون میں کہیں کوئی ذکر نہیں ملتا ، لوگوں کو ہتھکڑی ڈالکر یا رسی سے باندھر کر پندرہ گھنتوں تک کھلےٹرکوں میں رکھنا، غیر مسلح شہریوں کے خلاف جہازوں لیوس گنوں اور جدید اسلحوں کا استعمال کرنا، لوگوں کو بندھک بنانا اور غیر حاضر لوگوں کی موجودگی کیلئے ان کےخاندان اور رشتہ داروں کی جائداد ضبط کرلینا یا برباد کردینا، مسلم اور ہندو اتحاد کو جوڑے بنا کر ہتھکڑی ڈالنا تاکہ لوگوں کو دکھایا جائے کہ ہندو مسلم یکجہتی کا انجام یہ ہوگا، ہندستانیوں کے گھروں سے پانی بجلی کاٹ دینا، ہندستانیوں کے گھروں سے پنکھے اتار کر اور ہندستانیوں کی ساری گاڑیوں کو لیکر انہیں ہورپیوں کو استعمال کیلئے دیدینا ، لوگوں کے مقدموں کو اس نیت سے جلدی جلدی تمام کرنا تاکہ انہیں مارشل لاء ہٹائے جانے سے پہلے ہی مارشل لاء اصول کے تحت سزا دی جا سکے ۔ یہ سب مارشل لاء کے دنوں کے انتظامہ کے کارنامے کی صرف چند جھلکیاں ہیں ۔ اسی بربریت کے ماحول نے پنجاب میں دہشت کی حکومت قائم کردی تھی اور لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ‘‘
کانگریس نے ایک کمیٹی کے ذریعہ جانچ کرائی اس کمیتی میں گاندھی جی، موتی لال نہرو، سی ۔ آر۔ داس، عباس طیب جی او رجیکر شامل تھے۔ حقیت کے سامنے آتے ہی ایک کارگر احتجاج شروع کردیا گیا۔ اس احتجاج کو دیکتے ہوئی حکومت نے لارد ہنڑ کی صدارت میں ایک کمیٹی بنائی ۔ کمیٹی کو اپنی جانچ کے دوران کئی کھنونی حرکتوں کا پتاچلا لیکن اس نے مناسب ھھہرانے کی کوشش کی۔ ہاؤس آف کامرس نے ڈائر کی عزت میں کوی کسر نہ چھوڑی۔ برطانیہ میں لوگوں نے اپنے اس نائک کا استقبال کرنے لئے عام طور چندہ جمع کیا۔ ڈکٹیٹر شپ کا اصلی چہرہ ہندستانییوں کے سامنے ا گیا اور تب سے یہ چہرہ ان کی جانے سے بھی ختم نہیں ہوا۔
ہندستانی سیاست کے مینار پر گاندھی جی کا عروج
گاندھی جی کی قیادت میں کانگریس ایک متحرک تنظیم بن گئی
جواہرلال نہرو
کانگریس تنطیم میں گاندھی جی نے آتے ہی فورا ہی اسکے دستور میں مثبت تبدیلی کردی۔ انہوں اسے جمہوری اور عوامی تنظیم کی شکل دیدی۔ یہ پہلے بھی جمہوی تھی، مگراسکا جمہوری عمل ابتک صرف رائے دہی کے اختیار تک ہی محدود تھا اور اسکا دائرہ اعلی طبقوں تک ہی محدود تھا۔ اب اسمیں کسان بھی شامل ہونے لگاے اور اپنےنئی تبدیلی میں یہ رمتوسط طبقے کے لوگوں کے تھوڑے لیکن معتبر گروپ کے ساتھ ایک کارآمد جماعت کی شکل اختیار کرنے لگی ۔ آگے بھی یہ کاشتکاری کی صورت بنتی گئی۔ مل میں کام کرنے والے مزدور بھی اسمیں شامل ہوئے لیکن شخصی طور پر نہ کہ گروپ کی شکل میں۔
امن پسند طریقوں پر احتجاج - یہی اس تنطیم کا طرزو عمل تھا۔ ابتک اسکے متبادل رہے تھے؛ کشمکش اور تجطیز پاس کرنا یاپھر دہشت گردی حرکتیں۔ ان دونوں کا ہی خاتمہ کردیا گیا اور دہشت کی تو خاصطور سےیہ کہہ کر مزمت کی گئی کہ یہ کانگریس کی بنیادی پالیسی کے ہی خلاف ہے۔ احتجاج کی ایک نئی جدید ایجاد کی گئی جو پوری طرح امن پسند تھی - لیکن اسمیں یہ بھی پالیسی تھی کہ جسے کمتر سمجھا جائے اسکے سامنے سر نہ جھکایا جائے اور اسکے نتیجے میں دکھ درد پھیلنے کی ضرورت پڑے تو اسکےلئےجدو جہد کو تیار رہیں۔ گاندھی جی ایک اگک قسم کے امن پسند تھے، روحانی طاقت سے بھرپور۔ قسمت یا کسی بھی ایسی چیز کےسامنےوہ گھٹنے نہیں ٹیکتےتھے جسے وہ برا امجھتے تھے، ان میں دفاع کی پوری صلاحیت تھی لیکن امن پسند و بردبار۔
اندولن کا نعرہ دوہرے معیاروالا تھا۔غیر ملکی انتظامیہ کو چیلنج دینے اور اسکی مخالفت کرنا تو احتجاج میںشامل ہی تھا، ہمیں اپنی سماجی نظریے کے خلاف جہاد بھی چھیڑ نا تھا۔ ہندستان کی آ زدی اور امن پسند احتجاج اس بنیادی مسائل کے علاوہ کانگریس کے ایم مدعے تھے۔ قومی یکجہتی جسکے لئے اقلیتوں کی پریشانیوں کو سلجھانا اور دلت طبقے کو اوپر اٹھانا اور چھواچھوت کی لعنت کو دورکرنا ضروری تھا۔
یہ محسوس کرکے کہ انگریزی راج کو ڈر، وقار اور لوگوںو برطانیہ حکومت سے حاصل مفاد کی وجہ سے جڑے کچھ طبقے کےمرضی کے مطابق مدد کا ہی سہارا ہے۔ گاندھی جی نے برطانوی انتظامیہ کےانہیں بنیادی سطون پر حملہ کیا۔ اسکیے تحت برطانوی انتظامیہ کے ذریعہ دئے گئے اعزاز و عہدوں کو لوٹانا تھا۔ حالانکہ کاگریس کے اس اعلان پر بہت کم عہدیدار نے عمل کیا، انکے لئےعام لوگوں میں احترام گھت گیا؛ اور یہ خطاب ہتک آمیز سمجھا جانے لگا۔ نئے ۔۔ اور قیمت سامنےلائی گئی ۔ وائسرائے کےدربار کی چمک دمک اور ریاستوں کی اثر انداز شان وشوکت پھکی پڑنے لگی۔
کانگریس کے پورانے لیڈروں کو جو کم اور کہین زیادہ لاڈپیار کی رویتوں میں پلے بڑھےتھے، انہیں یہ نئےطور طریقے راس نہیں آئے اور بڑھتے ہوئے زنجبار سے انہیں پریشانی محسوس ہوتی ۔ لیکن لوگوں کے جذباتوںمیں آیا سیلاب کچھ اتنق زبر دست تھا کہ اس سے انمیں سے کچھ متائژ ہوئے بغیر نہیںرہے۔ جو متائثر نہیںہوئے، انمیں ایک تھے جناب محمد علی جناح۔ وہ کانگریس اس لئےنہیں چھوڑ گئےکہ ہندو مسلم سوال پر انکا اختلاف تھا۔وہ کانگریس اس لئے چھوڑ گئے کیونکہ وہخود کو اس نئے اور زیادہ اچھے اصول سے نہیں جوڑ پائے۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ کاگریس اس وجہ سےبھی چھوڑ گئے کیونکہ کانگریس میںبڑی تعداد میںشامل ہو رہے ہندستانی بولنے والے خستہ حالوں کی بھیڑ انہیں برداشت نہیں کرسکے۔ سیاست کے بارےمیں انکا خیال ہیکچھ الگ تھا، وہ کچھ اعلی قسم کی سیاست پسند کرتے تھے، جو ودھان سبھا گلیارہ یا کمیٹی میںبیٹھ کر کی جاتی ہو۔کچھ سال تک تو وہ سیاست سے بالکل غائب ہی ہو گئے اور یہاں تک کی ہندستان چھوڑنے کا بھی فیصلہ کر بیٹھے۔ وہ انگلینڈ میں جا بسے اور وہاں کئی سال تک رہے۔
ایسا کہتے ہیں، اور میرے خیال سے یہ سچ بھی ہے کہ ہندستانیوں کے سوچنے سمجھنے کا ڈھنگ لچیلا، امن پسند ہے۔ شائد پچھلی قومیں زندگی سے متعلق یہی رویہ اپنا لیتی ہیں، قدیم روایتوں کی وجہ ہی ایسا ہوتا ہے۔ لیلکن کاندھی جی مکمل ہندستانی ہونے کے باوجود اس خاموشی اختیار کرلینے کے عمل کے بالکل خلاف ہے۔ وہ ہمت جسارت سے بھرہور ہیں ۔ ایسے شخص ہیں جو خود تو متائثر ہوتے ہی ہیں، دوسروں کو بھی متائثر کرتے ہیں ۔ ہندستانیوں کی خاموشی ختیار کرنے کی اس روایت کو بدلنےاور اسکے لئےلڑنے کیلئے جتنا کچھ گاندھی جی نے کیا ، جہاں تک مجھے معلوم ہے، کسی اور نے اتنا نہیں کیا۔
انہوں نے ہمیں گاؤں میں بھیجا اور گاؤں ان نئے طریقوں کے بےشمار پیغام دینے والوں کے تبدیلی سے بھر اٹھے۔ کسان بیدار ہونے لگے اور اپنی چہاردیوری سےباہر آنے لگے۔ اسکا ہم پر کچھ الگ ہی اثر بڑا ۔ لیلکن یہ اتنا ہی دشوار بھی تھا کیونکہ ہمیں پہلی بار مٹی کے جھوپڑوں اور بھوک کے سایہ سے گھرے دیہی لوگ دیکھنے کوملے ۔ گاؤں کے اس سفر سے ہم نے ہندستانی ماہر اقتصاد کا جو علم حاصل کیا ، وہ اس سے کہیں بہت زیادہ تھا جتنا ہم نے تقریروں اور کتابوں سے حاصل کیا تھا۔ اس سفر کی وجہ سے انسے ہم جذباتی طور پرکچھ اتنا گہرے جڑگئے کہ یہ طئے ہوگیا کہ ہمارے خیالوں میں چاہے بعد میں جتنی بھی تبدیلی آئے، ہم اپنی پچھلی زندگی یا پچھلے ضبط کی طرف کبھی واپس نہیںلوٹینگے۔
اقتصادی، سماجی اوردوسرے معاملوں پر گاندھی جی کےاپنے الگ نظریہ تھے۔ انہوں نے سب کو کانگریس پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی حالانکیہ وہ اپنے خیالوں کوہمیشہ میزان پر تولتے رہے او رتحریروں کے ذریعے اپنا نظریہ پیش کرتے رہے۔ انہوں نےاحتیاط برتا تو صرف اس لئے کہ وہ لوگوں کو اپنے ساتھ لے چلنا چاہتے تھے۔ کبھی کبھی تو وہ کانگریس سے بہت آگے پہونچے ہوتےاور بعد میں اپنے قدم واپس کرلیتے۔ ایسے لوگون کی تعداد بہت نہیں تھی جو ان سے پورے متفق تھے، کچھ کو تو انکے خاص اصولوں پر ہی اعتراض تھا۔ لیکن جب انہیں موجودا حالات کے تقاضے کے مطابق اصلاح کر کے کانگریس میں پیش کیا جاتا تو بڑی تعداد میں لوگ انہیںمنظور کرلیتے ۔ دوطرح سے انکے فکر کی زمینی حقیقت صاف مگر جذباتی ہوتی تھی ۔ بنیادی طور پر ہم جو کچھ کرتےیا سوچتے تھے۔ اسکو پرکھنے کا آلہ یہ ہوتا کہ اس سے عوام کو کتان فائدہ پہنچے گا۔ اسکے علاوہ ، ہم اپنے ذرائع کو بھی ہمیشہ اہمیت دیتے تھے اور کسی بھی حالت میں انکو نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا۔
مذہبی مگر انقلابی
گاندھی جی بلاشبہ مذہبی تھے، پوری طرح ہندو، لیکن اسکے باوجود انکے مذہبی طور طریقے کا اندھی تقلیدوں یا رسم ورواج یا روایت سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔ خاصطور سے انکے اصول اخلاقی فکر میں کامل یقین سے جڑے تھے۔ جسے وہ سچائی کا راستہ یا محبت کہتے تھے۔ سچائی اور عدم تشدد بھی انہیں ایک ہی یا ایک ہی چیز کے الگ الگ پہلو نظر آتے تھے اور دونوں لفظوں کا استعمال، وہ ایک دوسرے کی جگہ پرکیا کرتے۔ ہندوازم کی خاص جذباتی وجہ کوسمجھانے کا دعوہ کرتے ہوئے، وہ ہراس تحریری یا غیرتحریری رویتوں کو ماننےسےانکار کرتے، انہیں رد کردیتے جو انکی ذاتی رائےکے خلاف ہوتے۔‘‘میں کسی بھی ایسی پرانی مانیتاؤں ، روایتوں کا غلام نہیں بن سکتا جسے میں عقلی طورنہ تو سمجھ سکتا ہوں نہ ہی مناسب کہہ سکتا ہوں ،‘‘ انکا کہنا تھا۔ اسلئے وہ اپنی مرضی کا راستہ اختیار کرنےکو، اسکے مطابق خود کو بدلنےاور چلنے کو، اپنی زندگی مثل آئینہ بنانے کیلئےآزاد تھے۔ اس سلسلے میں وہ صرف اخلاقی طور طریقوں کو دھیان میں رکھتے ہیں۔ انکا دوس صحیح ہے یا غلط، اس پر بحث کی جا سکتی ہے لیکن وہ ہرچیز کو اپنے انہیں بنیادی اصولوں پر، خاصکر اپنے کو پرکھتے ہیں۔ ساست میں ، زندگی کے دوسرے پہلوؤں کی طرح ہی اسکی وجوہات ، پریشانیاں ،خاصطور سےغلط فہمیاںپیدا ہوجاتی ہیں ۔ لیکن کوئی بھی پریشانی انہیں اس سیدھےراستے پر نہیں نہیں چلنے کے لئے کنبور نہیں کرپاتی، حالانکہ بدلتی ہوئی حالت کے مطابق وہ خود کو ڈھالنے کی مسلسل کوشش کررہے ہیں ۔ وہ جب بھی اصلاح کا کوئی مشورہ دیتے ہیں ، جب کبھی دوسروں کو کوئی صلاح دیتے ہیں، اسےاپنےاوپر بھی سیدھےسیدھے نافذ کررے ہیں اورانکی قول و فیل میں کبھی فرق نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ چاہےجو بھی ہو ، وہ اپنا توازن بنائے رکھتے ہیں اور انکی زندگی و عمل میں ہمیشہ یکسانیت رہتئی ہے۔ تبھی تو ناکامیوں میں بھی انکی شخصیت روشن ہی دکھائی دیتئی ہے۔
مستقبل کے ہندستان کی خواہش
اس ہندستان کےبارے میں انکی کیا خواہش تھی، جسےوہ اپنی مرضی اوراصولوں کےمطابق ڈھالنے کی کوشش کررہےتھے۔ ؟‘‘میں ایک ایسے ہندستان کےتعمیرکیلئےکام کرونگا جسمیںایسی ترتیب ہوگی کہ سب سےغریب لوگ بھی اسےاپنا ہی ملک مانینگے، جسکےتعمیرمیں انکی آوازاثراندازہوگی اورہندستان ایک ایسا ملک ہوگاجہاں اونچےیا نیچے درجےکےلوگ نہیں ہونگے، جہاں ہرفرقےکے لوگ ایک مکمل سماج کےطورپرساتھ رہ سکینگے۔ ۔۔ایسے ہندستان میں نہ تو چھوت چھات کی لعنت ہوگی، نہ شراب خوری یا نشہ خوری،۔۔ خواتین بھی مردوں جتنے حق پائینگی ۔۔۔ میرے خوابوں کا ہندستان ایسا ہی ہے۔‘‘ انہیں اپنے ہندو ہونے پرفخرتھا اوراسی وجہ سے انہوں نے ہندوازم کو ایک عالمی شکل دینے کی کوشش کیا اور سچائی کے دائرے میں سبھی مذاہب کو ضم کرلیا۔ اپنی تہذیبی وراثت کووہ بہت بڑا مانتے تھے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ‘‘ہندستان تہذیب ، ٹھیک ٹھیک کہا جائے تو نہ ہندوازم ہے، نہ اسلامی ہے، اسکے دائرے میںسب آتے ہیں ۔‘‘بعد میں بھی انہوں نھے لکھا ہے کہ ‘‘میں چاہتاہوں کہ میں جہاں رہتا ہوں ، اسکےارد گرد سبھی ملکوں کی تہذیب پھلے پھولے۔ پھر بھی میں اسکے لئے قطعی تیار نہیں ہوں کہ ان میں سے کسی ایک کی وجہ سےمیرے پاؤں اکھڑ جائیں ۔ میں دوسروں کے گھروں میں‘‘ ایک لمحہ بھی بے بس ‘‘یا بھیکاری ،غلام بنکر رہنےکو تیار نہیں ۔‘‘جدید خیالوں سے متائثر ہونے کی وجہ کر انہوں نے تو اپنی پرانی روایتں چھوڑیں، نہ ہی ان کو ترک کیا بلکہ انکی گہرییوں مییں چلے گئے۔
غریبوں کے مسیحا
اسی لئےانہوں نے مزکورہ باتوں کو اپنا اہم مقصد بنایا، لوگوں کے جذباتی اتحاد کو پھر سے بحال کرنے کا اور مغربی اتحاد سے متائثر اوپر بیٹھے چند لوگوں اور عوام کے درمیان رکاوٹ کو دور کرنے کا ، قدیم روایتوں میں زندگی کی لہر پیداکرنے اور انہیں آگے بڑھانے کا، لوگوں کو سستی سے نکال کر تیزرفتار بنانے کا۔ اپنی ہی اکیلی راہ پر چلنے مگر عوامی شخصیت کی وجہ سے انکی جو چھاپ کسی پر پڑتی وہ تھی عوام کے ساتھ انکی عاجزی انکساری کی ، نہ صرف ہندستان بلکہ دنیا بھر کے حقوق سے محروم، مفلسوں کے ساتھ اتحاد اتفاق کیا۔ ان دلت لوگوں کو اوپر اٹھانے کی انکی چاہت اتنی زیادہ تھی کہ اسکے سامنے سب بے معنی لگتا ، چاہے مذہب ہی کیوں نہ ہو ، اسکے سامنے انہیں کم لگتا۔ ‘‘ کسی بھوکی قوم کیلئے نہ کوئی مذہب ہوسکتا، نہ فن، نہ ہی انکی کوئی تنظیم ہوسکتی ہے۔ ‘‘ لاکھوں بھوکوں کیلئے جو چیزخوبصورت ہوسکتی ہے ، وہی میرے ذہن کو بھاتی ہے۔ آئیئے ہم انہیں زندگی کیلئےضروری چیز یں دیں، پھر زندگی کو سجانے سنوارنے کی ہرچیز اپنے آپ آجائیگی ۔۔ مجھے ایسا فن چاہیے، ایسا ادب چاہیے جو لاکھوں لوگوں سے مخاطب ہوسکے۔‘‘ لاکھوں لوگوں کیلئے کڑی عبادت، ریا ضت ہے، لاکھوں غمزدہ دلت لوگ انکے فکر کے مرکز میں ادھر اُدھر گھومتے رہتے تھے۔ جیسا کہ انہوں نے خود کہا ہے، انکا ایک ہی مقصد ہے، سب کی آنکھوں کے آنسو پوچھ ڈالےجائیں۔‘‘
اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کی خود اعتمادی اور غیر معمولی طاقت سے بھرہور، ہرکسی کی برابری اور آزادی کیلئے کوشش کووہ سب کو کسوٹی پر رکھ کر دیکھنے والے اس مسحور حیرت انگیز برائی سے ہندستان کے سارے لوگ سحر زدہ تھے اور انہیں اپنی طرف مقناطیس کیطرح کھینچتے تھے۔ وہ انہیں ماضی اور مستقبل کے درمیان پل دیکھائی دیتے تھے، زندگی اور امید سے سیراب مستقبل کے راہبر لگتے۔ اور ایسا صرف عام لوگوں کے ساتھ ہی نہیں ، دانشمدوں کے ساتھ بھی ہوتا حالانکہ وہ اکثر پریشان اور بھرجاتے کیونکہ طویل مدت سے چلی آرہی عادتیں آسانی سے نہیں بدلتیں ۔ اس طرح ، گاندھی جی نے نہ صرف انکے لئے ایک کارگر نفسیاتی انقلاب لادی جو انکی قیادت میں یقین رکھتے تھے بلکہ انکے لئے بھی جو انکے مخالف تھے یا ایسے غیر جانبدار لوگ تھے جو طئے نہیں کرپا رہے تھے کیا سونچیں کیا کریں۔
کانگریس پر گاندھی جی کا غیرمعمولی اثر تھا اور یہ کچھ عجیب سا اثر تھا کیونکہ کانگریس ایک سنجیدہ انقلابی، ایک بڑی حمایتی تنظیم تھی، اسمیں رائےدہی کی شکل مختلف تھی اور اسے ادھر اُدھر بہکا کر لے جانا آسان نہیںتھا۔ گاندگی جی اکثر دوسروں کی خواہش پوری کرنے کیلئے کسی بات پر بہت زیادہ زور نہیں ڈالتے، کبھی کبھی تو ہر ایک معقول فیصلےکومان لیتے۔ جن باتوں کو وہ اپنی نظر میں بہت اہم مانتےتھے، ان پر وہ اٹل رہتے تھے اور ایسے کئ موقع آتے جب انمیں اور کانگریس میں اختلاف پیدا جاتا۔ مگر وہ ہمیشہ ہندستان کی آزادی اور پیدار وطنیت کی مثال رہے۔ ہندستان کو غلام بنائے رکھنے کی خواہش سےمتائثر لوگوں کے صدا دشمن بنے رہے۔ اور انکا یہی چہرہ لوگوں کو انکےارد گرد بنائے رکھتا، انکی قیادت قبو کراتا ، چاہے دوسرے معاملوں میں وہ گاندھی جی کی مخالفت کیوں نہ کرتے ہوں۔ جب کوئی متحرک احتجاج نہیں چل رہا ہوتا تو وہ اس قیادت کو ضروری نہیں کہ قبول ہی کرلیتےلیکن جب احتجاج چل رہا ہوتا تو یہ صورت سب سے زیادہ اہم ہوجاتی اور دوسری تمام چیزیں بے معنی ہوجاتیں۔
پائیدار آزادی کا اعادہ
اس طرح 1920 میں قومی کانگریس نے اور کل ملاکر تقریبا پورے ملک نے انکا نیا اور بغیرمشاہدہ کیا ہوا راستہ اپنا لیا اور برطانوی انتطامیہ کے ساتھ جدوجہد میں شامل ہوگیا۔ یہ جد وجہد اسکے طریقوں اور نئی پیدا صورتحال ، دونوں میں اتفاق تھا۔ پھربھی ان سب کے پیچھے کوئی سیاسی دخل اتار چڑھاؤ اور عملی مطابقت نہیں، بلکہ ہندستانی عوام کو مہذب بنانے کی خواہش ہی اہم داخلے کی طاقت تھی کیونکہ صرف یہی وہ طاقت تھی جسکی بدولت آزادی پائی اور برقرار رکھی جاسکتی تھی۔ ایک کےبعد ایک مخلوط حتجاج شروع ہو گیا، تکلیف کی کوئی حد نہیں رہ گئی لیکن تکلیف چونکہ اپنی مرضی سے مول لئے ہوئےتھے، اس لئے ان سے طاقت ملتی تھی یہ تکلیف ویسی نہیں تھی جنکی وجہ سے آدمی ہمت ہار جاتاہے۔ اس میں مایوسی اور نا امیدی پیدا ہونےلگتی ہے، یوں توجو بھی اسمیں شرکت کرنےکے خواہش مند تھے، انہیں بھی درد سے دوچار ہونا پڑا کیونکہ سرکارکی طرف سے کی گئی زیادتی کے گھیرے نے انہیں بھی اپنےاندرسمیٹ لیاجبکہ کبھی کبھی اسیے بھی موقع آئے جب اپنی مرجی سے حصہ لینے والے بھی تشدد سےٹوٹ گئے، شور شور ہوگےمگر کبھی یا اس وقت بھی جب اسکی قسمت بلندی پرنہیں تھی ،کانگریس طاقت یا غیر ملکی انتطامیہ کے سامنے نہیں جھکی ۔ یہ ہندستان کی آزادی کی بے مثال حسرت بنی رہی ، غیر ملکی تشدد پسند قیاد ت کے خلاف انکے قدم اپنی جگہ قائم تھے۔ یہ وجہ تھی بڑی تعداد میں ہندستانی رائے شماری امید کے ساتھ دیکھنا شروع کردیا۔ حالانکہ ان میںسے ایسے لوگوں کی تعداد بہت تھی،جو بہت کمزور، بے بس تھے ایسے حالات میںپھنس گئے تھے جن میں رہ کر وہ کچھ بھی کرنےکےاہل نہیں تھے ۔ کانگریس ایک طرح سے ایک پارٹی تھی مگرمختلف پارٹیوں کیلئے ایک متحدہ محازتھی، لیکن سچائی تو یہ ہےکہ ان کے علاوہ کچھ اور ہی تھی کیونکہ یہ عوام میں اکثریت کی قیادت کرتی تھی، اسکے ممبروں کی تعداد بھی کافی تھی پھربھی اس عظیم ملک کی قیادت کی ایک جھلک ہی کہا جاسکتاہے کیونکہ رکنیت لوگوں کی اس خواہش پر منحصر نہیں کرتی ہے کہ لوگ اسمیں شامل ہونا چاہتےہیں بلکہ اس پرمنحصر کرتی ہے کہ ہم کس حد تک دور دراز گاؤںتک پہنچ پاتے ہیں ۔ حالانکہ یہ قانون کی آنکھوں میں ذرا بھی نہیں سہاتاتھا اور ہماری کتابیں اور کاغذات پولیس آٹھاکر لے جاتی تھی۔
اس وقت بھی جب مخلوط احتجاج نہیں چل رہے تھے ، ہندستان میں برطانوی حکومت کیلے غیر تعاون کے عام جذبات مگر وہ حملہ آور نہیںتھے۔ لیکن اسکا یہ مطلب کسی انگریز کے ساتھ غیر تعاون ہر گز نہیں تھا، جب کئی ریاستوں مین کانگریس کی حکومت بنی سرکاری عہدے اور کام کے ساتھ بہتر طور پر تعاون ہوا ۔ اسکے باوجود اس زمینی حقیقت میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔ اور ہندستانی قومیت اور کسی غیر ملکی شہنشاہیت کے درمیان کبھی بھی امن قائم نہیں رہ سکتا حالانکہ عارضی طور پر کبھی کبھی تعاون ہوجاتا صرف آزاد ہندستان ہی یکساں طور پر برطانیہ کے ساتھ تعاون کرسکتا ہے۔
ہندستان کی کھوج
نہرو
کانگریس کا تاریخی اعلان
کانگریس کا 44 واں اجلاس 1929 میں ندی کنارے لاہور میں پندڈت جواہر لال نہرو کی صدارت میں ہوا۔ حب الوطنی کی امنگ میں ہورا مجمع جھوم رہا تھا۔ اس موقع رپ پنڈت جی نے زور دار لفظوں میں کہا کہ غیر ملکی نظام سے اپنے ملک کو ہوشیار کرنے لئے اب ہمیں کھلی چال چلنی ہے اور ہمارے سبھی مرد وزن اس میں شامل ہونے کیلئے تیار ہیں ۔ لیکن سمجھ لیجئئے کہ ہمیں اسکی قیمت اذیتوں کی شکل میں، جیل جاکر یا شائد موت سے چکانی پڑسکتی ہے۔
کانگریس کا 1929 کا اہم مدّا مکمل آزادی کے سلسلے میں تھا ۔
‘‘ اپنیویشک سرکار کے بارے میں 31 اکتوبر کو وائسرائے صاحب نے جو اعلان کیا تھا اور جس پر کانگریس اور دوسری جماعتوں کے لیڈروں نےملاجلا تائثر شائع کیا تھا اس کے تناظر میں کئی گئی کارگر کمیٹی کی کاروائی کا یہ کانگریس حمایت کرتی ہےاورسوراج کے قومی احتجاج کو ختم کرنے کیلئے وائسرائے کی کوششوں کی قدر کرتی ہے۔ لیکن اسکے بعد جو واقعے پیش آئے ہیںاوروائسرائے صاحب کے ساتھ مہاتاما گاندھی، پنڈت موتی لال نہرو اور دوسرے لیڈروں کی ملاقات کا جو نتیجہ نکلا ہے اس پرغور کرنے پر کانگریس کی یہ رائے ہے کہ تبادلئہ خیال کے لئے گول میز کانفرس میں کانگریس کے شامل ہونے سے کوئی فائدہ نہین ۔ اسلئے اسی سال کلکتہ کے اجلاس میں کئے ہوئے اپنے فیصلے کے مطابق یہ کانگریس اعلان کرتی ہے کہ کانگریس دستورکے پہلے قلم میں ‘سوراج ‘لفظ کا مطلب مکمل آزادی ہوگا۔ کانگریس یہ بھی اعلان کرتی ہے کہ نہرو کمیٹی کی ریپورٹ میں درج سارے منصوبے ختم سمجھے جائیں ۔ کانگریس امید کرتی ہے کہ اب پور کانگریس کے حمایتی اپنی ساری دولت سرزمین ہند کی مکمل آزادی کو حاصل کرنے پر ہی لگائینگے ۔ چونکہ آزادی کی کوشش کو متحد کرنا اور کانگریس کی پالیسی کواسکےنئے مقصد میں زیادہ سے زیادہ موافق بنانا نہایت ضروری ہے، اس لئے یہ کانگیس طے کرتی ہے کہ کانگریسی اور قومی احتجاج میںشرکت کرنے والےدوسرے آنے والے انتخاب میںخود یا کسی اور کی طرف سے کوئی حصہ نہ لیں اور کاؤنسلوں اور کمیٹیوں کے موج&