عزت مآب صدر، جناب وزیر اعظم، قابل احترام سرکردہ لیڈران اور میرے نوجوان ساتھیو، بھائیو، بہنو
نمسکار
آج میں آپ کے سامنے اے آئی سی سی کے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے کھٹرا ہوں- آپ نے مجھے یہ ذمہ داری دے کر مجھ میں اپنا اعتماد ظاہر کیا ہے- اس کے لئے میں عزت مآب سونیا جی، پارٹی کے سرکردہ لیڈروں اور آپ سب کا بے حد مشکور ہوں- میں سچے دل سے اس ذمہ داری کو پورا کروں گا-
میں اپنے جواں سال ساتھیوں کی جانب سے عزت مآب وزیر اعظم کو مبارکباد دیتا ہوں ہمیں ان کی رہنمائی سے حوصلہ ملتا ہے-
آج ہندوستان تیزی سے ترقی کررہا ہے – ہم سب فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان کی اقتصادی حالت مستحکم ہے - ہمارے بزرگوں نے اس تبدیلی کی بنیاد رکھی- ہمیں ان پر فخر ہے – اپنے نوجوان ساتھیوں پر بھی فخر ہے جن کے بل پر ہندوستان آگے بڑھ رہا ہے-
لوگ ہندوستان کے باشندوں کو الگ الگ نگاہ سے دیکھتےہیں- میرا بھی اپنا نظریہ ہے- جب بھی میں ملک کے کسی شہری سے ملتا ہوں مجھے اس کی صرف ہندوستانیت دکھائی دیتی ہے- میرے لئے اس کی پہچان ہے- اپنے ملک کے باشندوں کے بیچ نہ مجھے مذہب ، نہ طبقہ نہ کوئی اور تبدیلی دکھائی دیتی ہے – اگر مجھے کوئی فرق دکھائی دیتا ہے تو صرف ایک وہ موقع کا فرق ہے-
ہمارے ملک میں ایک طرف وہ لوگ ہیں جنہیں ملک کی تعمیر میں حصہ لینے کا موقع ملتا ہے- دوسری جانب وہ لوگ ہیں – جنہیں اس ترقی میں شراکت کا موقع نہیں مل پاتا ہے- یہی فرق میری سیاسی فکر میں اہمیت رکھتا ہے – آخر غریبی کیا ہوتی ہے – بغیر موقع کا امیر غریب کہلاتا ہے- ہمیں اپنی صلاحیتوں پر فخر ہونا چاہیے – لیکن اس سے بھی زیادہ ہمیں ان کروڑوں برادران وطن پر فخر ہونا چاہئیے جنہیں ابھی تک ترقی کا موقع نہیں مل پا یا ہے- وہ غریب، وہ کسان وہ مزدور جو دن رات ایک محنت کر کے بھی کچھ نہیں پاتے لیکن اس کے باوجود اپنے ملک کے تئیں ان کےدلوں میں عزت اور عقیدت کا جذبہ برقرار رہتا ہے – وہ ترنگے پر نچھاور ہونے کو ہمیشہ تیار رہتے ہیں-
کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ غریبوں کو ترقی دینا ایک طرح کا احسان ہے- یہ سوچ بالکل غلط ہے- یہ نظریہ اس بات سے انکار کرتا ہے کہ ہندوستان کی عوام ہی ہماری سب سے بڑی دوست ہے، انہی کے دلوں میں وہ جوالہ ہے، تبدیلی کی تمنا ہے جس کی بنیاد پر ملک کی تعمیر ہوگی اس جوالہ کو آگ میں بدلنے کے لئے ہمیں ہندوستان کے غریب اور پسماندہ لوگوں کو ملکی اور عالمی اقتصادیات سے جڑنا ہوگا میں سمجھتا ہوں کہ یہی ہماری پیڑھی کا سب سے بڑا چیلنج ہے-
جنوب سے آئے ہوئے اپنے ساتھیوں کے لئے اب میں کچھ الفاظ انگریزی میں بولوں گا:
ہم ہندوستان کو سڑکیں، بجلی، ٹیلی کمیونیکیشن، ریلوے اور دیگر انفراسٹرکچر سے جوڑناچاہتے ہیں، ہم ہندوستان کو تعلیم اور تربیت سے جوڑنا چاہتے ہیں، ہم ہندوستان کو معاشی طور پر ملازمت کے مواقع اور دووقت کی روٹی کے ذریعہ جوڑنا چاہتے ہیں-
ہم ہی وہ جوان ہیں جو مستقبل کے معمار ہیں- کل کا لیڈر ہم میں سے ہی نکلے گا، مجھے اس بات پر یقین ہے کہ یوتھ کانگریس ان نوجوان ہندوستانیوں کے لئے انجن کا کام کرے گی جو ملک کی خدمات کرنا چاہتے ہیں-
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ہم نے اپنے کارکنان اور آفس ذمہ داران کے ہمراہ بہت سارے لمحات گزارے ہیں، میں یہ فخر کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ان میں بہت سارے ایسے ہیں جن میں صلاحیت ہے اور وہ ملک کی خدمات کا جذبہ رکھتے ہیں لیکن کام ہو گیاہے- ہم سے اپنے سفر کے دوران اکثر دو طرح کے سوالات پوچھے جاتے ہیں پہلا نوجوانوں کی طرف سے جو یہ پوچھتے ہیں کہ ''میں سیاست میں کیسے آؤں اور ہندوستان کی خدمت کروں '' اور دوسرا جو یوتھ کانگریس اور این ایس یو آئی کی جانب سے ہوتا ہے کہ ''میں اس تنظیم کو کیسے ترقی دے سکتا ہوں''
یہ دونوں سوالات دل سے کہتے ہیں کہ آخر کچھ تبدیلی کی ضرورت ہے- کیا ہماری حقیقت اس تنظیم کی ہو گئی ہے جو ہندوستانی نوجوانوں کی نمائندگی کرتی ہے-کیا ہم نے صحیح معنوں میں ایسے لیڈر پیدا کئے ہیں جس پر ملک فخر کرسکتا ہے ہم یہ دونوں کرنا چاہتے ہیں ان دونوں کی ضرورت ہے-
سب سے پہلے ہمیں ایک ایسی تنظیم بنانا ہوگا جس کا دروازہ سب کے لئے کھلا ہو اور اس کا وسیع نظریہ ہو جس کے تحت ہندوستان کی نوجوان نسل ہمارے اقدار پر یقین کرتے ہوئے ملک کی خدمت کرے-
دوسری چیز یہ کہ ہمیں ایک صلاحیت پر مبنی تنظیم بنانی ہے- نوجوان ہماری تنظیم میں نئی روح اور نئی طاقت ڈالیں گے ہمیں اس بات کا بھی دھیان رکھنا ہوگا کہ وہ ہمارے رکن ہیں اور ہمیں اس کو بھی یقینی بتانا ہوگا کہ ان کی صلاحیتوں کی قدر کریں-
آج میں یہاں کھڑا ہوا ہوں اور تمام نوجوانوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ آپ اپنے خوابوں کے ادارہ کے قیام اپنے اقدار اوراپنی صلاحیتوں کے نکھار کے لئے ہم سے جڑے اور ہماری مدد کریں-
جے ہند