All India Congress Committee - AICC
 
 
 

مہاتماگاندھی کی سیتہ گرہ کے مراکز


 

 

ہندستان کے سیاسی منظرنامے پر گاندھی جی کی آمد سے پہلے تک، ہندستانی قوم پرستوں کے سامنے ہندستان کو خوداختیاری کی جانب لےجانے کی جدوجہد کے صرف دوراستے تھے۔ ایک طریقہ جسےنرم خیالوں اور کم وبیش انتہا پسندوں نے بھی اختیار کیا قراردادیں منظور کرنےاور عرض داشتیں پیش کرنےاوران کے ذریعے حکومت پر نکتہ چینی یا اس کی مذمت کرنےاوراس کے ساتھ ہی احتجاج اور رائے عامہ کو متوجہ کرنے کا تھا۔ دوسرا طریقہ جسے نوجوانوں ‘انقلابیوں ‘ نےاختیار کیا بموں اور تشدد کےدیگر ذرائع کو استعمال کرنے کا تھا۔ اول الذکرطریقہ غیر موثر تھا اور محض چند افراد کیلئے ہی ممکن تھا کیونکہ اس میں حکومت کی جانب سے جوابی تشدد اور استبدادی کارروائی کا شدید اندیشہ تھا جیساکہ جلیاں والا باغ کے ساتھ ہی گہری مایوسی اور نامرادی کے احساسات کی آگ میں جل رہا تھا۔

 

گاندھی جی جنوبی افریقہ میں اپنے راست اقدام کے طریقے کو کامیابی کے ساتھ آزماچکے تھے جسے پہلے‘ انفعالی مزاحمت ‘ اور بعد میں ‘ ستیہ گرہ ‘ کانام دیا گیا۔ لیکن اس میں یہ اندیشہ بھی تھا کہ جوطریقہ جنوبی افریقہ میں وہاں کی کم آبادی کے پیلش نظر کامیاب رہا عین ممکن ہے کہ ہندستان کی بہت بڑی آبادی اور مختللف مذاہب ، صوبوں ، عقیدوں ، زبانوں ، مفادات وغیرہ ، کی موجودگی کے سبب کامیابی سے ہم کنارنہ ہو سکے۔ اس کے باوجود گاندھی کو اپنے طریقے کے حق بہ جاب ہونےاوراس کے ہندستان کے حالات کے مطابق ڈھل جانے کی صلاحیت پر گہرا یقین تھا۔

ہندستان کے تمام صوبوں میں بہار کو مہاتما کےان بہت سے تجربات کی پہلی تجربہ گاہ بننے کا اعزاز حاصل ہے جنہیں بعد میں گاندھی جی نے قومی احیاء وتجدید کی اپنی مہم کے مختلف مرحلوں میں استعمال کیا۔

 

چمپارن

 

1917 کے 10 اپریل کے دن کو بہار کی تاریخ یا یوم جشن کہا جاسکتا ہے کیونکہ ہندستان کی آزادی کے معمار نےاسی دن بہار کے بے نام ونشان لوگوں کی آواز پر اس سرزمین پر پہلی بار قدم رکھے تھے۔ جائدادوں پرغاصبانہ قبضہ کرنے والے یورپی نوآبادکار ، جو برطانوی راج کی اصل طاقت کی بنیاد تھےاور چمپارن کےلاکھوں بے دست وپا لوگوں کو جن کے چنگل سے رہائی دلانےکیلئے گاندھی جی یہاں پہنچے تھے ان کی راہ روکنے کیلئے ان کے خلاف صف آراہوگئے ۔ ‘ اسٹیٹسمین ‘ انگلش مین‘ اور پانئیر‘ جیسے اخباروں نے بھی ، جو اینگلو انڈین مفادات کے طاقتور ترجمان تھے، ان کے خلاف زبردست محاذ کھول دیا۔ سارے ہندستان کی نگاہیں بہار پر لگی ہوئی تھیں جہاں ہندستان کی آزادی کی جدوجہد کا پہلا مرحلہ شروع کردیا گیا تھا کیونکہ یہ بات بہت جلد واضح ہوگئی کہ چمپارن کے کسانوں کی رہائی کیلئے کی جانے والی یہ جدوجہد نہ صرف یورپی نوآبادکاری کے خلاف تھی بلکہ ہندستان کی انگریز نوکر شاہی کے خلاف بھی تھی۔ ترہٹ ڈویزن کے کمنشنر کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے، چمپارن کے ضلع مجسٹریٹ نے مہاتما گاندھی کو فورا ضلع چھوڑکر چلے جانے کا حکم دیا۔ مگر انسانوں کا یہ مسیحا اس سرکاری حکم کا احترام کرکےاپنے مشن کو چھوڑکر کیسے جاسکتا تھا؟ انہوں نے یہ حکم نہیں مانا اور اس کیلئے انہیں عدالت میں گھسیٹا گیا۔ عداالت میں مہاتما گاندھی نےاپنے بیان میں کہا ؛-

 

‘‘ قانون کے پابند شہری کی حیثیت سےاس حکم پر میرا پہلا ردعمل یہی تھاکہ میں یہاں آیا ہوں اپنےاحساس فرض کی خلاف ورزی کئے بغیر میں ایسا نہیں کرسکتا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ میں ان کےدرمیان رہ کر ان کی خدمت کرسکتا ہوں۔ لہذا میں اپنی مرضی سے یہاں سے نہیں جاسکتا ۔ اپنے احساس فرض کی اس کشمکش کے درمیان میں صرف یہ کرسکتا ہوں کہ اپنے یہاں سے نکالے جانے کی ذمے داری انتظامیہ پر ڈال دوں‘‘

یہ بات قابل غور ہے کہ چمپارن ہی وہ جگہ ہے جہاں ستیہ گرہ کا نظریہ اور عمل پہلی بار آزادی کی جدوجہد سے وابستہ کیا گیا۔ اس جدوجہد کی تمام ترحکمت عملی بھی یہیں مرتب کی گئی ۔ سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ گاندھی جی کی گرفتاری کی صورت میں کیا کیا جائے؟ کئی تجاویز پیش کی گئیں ۔ مگر یہاں بھی مہاتما جی کے اسی طریقے کو مناسب ترین سمجھا گیا جسے وہ جنوبی افریقہ میں استعمال کرچکے تھے۔ فیصلہ کیا گیا کہ اگر مہاتما گاندھی جیل بھیج دئے گئے تو ان کی جگہ مولانا مظہرالحق اور بابو برج کشور پرساد قیادت کریں گے۔ اور اگر انہیں بھی جیل میں ڈال دیا گیا تو بابو دھرنی دھر اور بابو رام نومی پرساد ان کی جگہ سنبھالیں گے۔ اور گر انہیں بھی حراست میں لے لیا گیا تو ان کی جگہ بابو راجیندر پرساد ، بابو شمبھوسرن اور بابو انوراگ نرائن سنگھ قیادت کی ذمے داری سنبھالیں گے۔

 

مہاتما جی نے چمپارن کے گاؤں گاوں جاکرلوگوں کو محبت اور یقین واعتماد برقراررکھنے کا پیغام دیا۔ یہاں انہوں نے محسوس کیا کہ عوام کو اوپر اٹھانے کی ان کی کوششیں تب تک دوررس نتائج پیدا نہیں کرسکتیں جب تک عوام میں اس کی گہری طلب پہیدا نہ کی جائے ۔ اس کیلئے ان کی ذہنی تربیت ضروری تھی۔ مہاتما گاندھی نے13 نومبر 1917 کو موتیہاری سے کوئی بیس میل مشرق میں واقع بربروا لکھن سنگھ گاؤں میں اپنا پہلا اسکول کھولا۔ انہوں نےایک اوراسکول 20 نومبر کو بھیتی ہروا گاؤں میں قائم کیا۔ انہوں نے تیسرا اسکول 17 جنوری 1918 کو موھوبنی میں کھولا جس کے اساتذہ میں مہادیو ڈیسائی بھی شامل تھے۔

 

یہ بات قابل ذکر ہے کہ چمپارن کی ستیہ گرہ کےزہر اثرآچاریہ کرپلانی اور دیش رتن ڈاکڑ راجیندر پرساد جیسےدورضاکار مادروطن کی خدمت کیلئےوقف ہوئے۔ بہار نہ صرف اس لئے کہ گاندھی جی نےاس کے لاکھوں لوگوں کو انگریز نوآبادکاروں کے چنگل سے رہا کرایا بلکہ اس کی روح میں ایک نیا جوش وجذبہ دوڑانے کیلئے بھی ہمیشہ ان کا احسان مند رہے گا۔

 

کیرا

 

1917 میں بارش بہت کم ہوئی تھی جس سے گجرات کےضلع کیرا میں فصلیں بارآور نہ ہوسکیں ۔ ان دنوں احمدآباد میں گجرات سبھا نام کی ایک پرانی تنظیم ہوا کرتی تھی جو گجرات کے سیاسی ، سماجی اوراقتصادی بہبود کیلئے کام کرتی تھی۔ اس کا طریقہ کار بھی نرم خیالوں کے طریقے یعنی حکومت کو عرض داشتیں پیش کرنے پر مبنی تھا۔ گاندھی جی کو اس تنظیم کی صدارت قبول کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔

 

گاندھی جی گجرات سبھا کی قیادت کرتے ہوئےاسے راست اقدام کےنئے راستے پرڈال دیا۔ سبھا نے حکومت کو کسانوں سے لگان وصول کرنے سے متعلق ایک عرض داشت پیش کی تھی مگر حکومت اس پر کوئی فیصلہ ہونے سے پہلے ہی لگان وصول کرنے لگی ۔ گاندھی جی سبھا کو اس بات پرآمادہ کیا کہ وہ کسانوں کو عرض داشت فیصلہ ہونے تک لگان ادا نہ کرنے کی ہدایات جاری کرے۔ گاندھی جی نے عوامی کاموں کےاپنے مخصوص انداز کےمطابق سبھا کے سکریڑیوں کو ہدایت دی کہ وہ کسانوں کو دی گئی اپنی ہدایات کی نقل ڈویزنل کمیشنر کوارسال کریں ۔ یہ پہلا موقع تھا جب کسی عوامی جماعت نے نوکر شاہی کے سامنے ایک مضبوط موقف اختیار کیا تھا۔ ڈیویزنل کمیشنر نے سبھا کے ذریعے کسانوں کو دی گئی ہدایات کو ماتحت حکام کو حکم عدولی کرنے کیلئے آمادہ کرنے کی کوشش قراردیا اور دھمکی دی کہ اس کے خلاف حالات کےجو کارروائی بھی سمجھی جائے گی ، کی جائے گی۔ اس کےنتیجے میں سبھا کی مینیجنگ کمیٹی کیلئے ایک نہایت سنگین صورتحال پیدا ہوگئی کیونکہ وہ لوگ اب تک صرف نرم اقدامات کے عادی تھے۔ اس مرحلے پر گاندھی جی نے سبھا کے تمام معاملات اپنی ذاتی نگرانی میں لےلئے اور اس کا صدر دفتر احمد آباد سے نڈیاڈ منتقل کردیا جو ضلع کیرا کا ایک مرکزی مقام تھا۔ تمام کارکنوں نے بھی اپنا صدر دفتر تبدیل کرلیا اور گاندھی جی نے بہت سے دیہات کا ذاتی دورہ کرکے اور گاؤوں کے دوروں پر مامور کئےگئے کارکنوں کی رپورٹوں اور فصلوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے بعد اس معاملے میں حکومت کے ساتھ خط وکتابت شروع کی ۔ گاندھی جی ایک آزاد تحقیقاتی کمیٹی مقرر کئے جانے سے مطمئن ہوسکتے تھے۔

 

مگر جیسی کی توقع تھی حکومت نے تحقیقاتی کمیٹی مقرر کرنے سے انکار کردیا کیونکہ ڈیویزنل کمیشنر نے مستعفی ہونے کی دھمکی دے دی تھی۔ حکومت کے اس اقدام کے بعد گاندھی جی نے کسانوں کو لگان ادانہ کرنے کا مشورہ دیا جو اس فرضی بنیاد پر عائد کیا گیا تھا کہ فصلیں ناکام نہیں ہوئیں ہیں۔ ہندستان میں بڑے پیمانے پرایسا اقدام پہلی بار کیا گیا تھا۔ موتیہاری میں مجسڑیٹ کا حکم ماننے سے انکار ذاتی سول نافرمانی کی مثال تھا، حالانکہ یہ معاملہ صرف ایک ضلع تک محدود تھا۔ یہ جدوجہد کئی ماہ تک جاری رہی ۔ کاشتکاروں کو زمینیں ضبط کرنے کی نوٹیسں دے کر ہرممکن دباؤ ڈالا گیا مگر گاندھی جی کی موجودگی اور سارے میں جگہ جگہ ان کے دوروں کے زیر اثر لوگ نہ عدم تشدد پر کار بند رہے بلکہ وہ اس اجتماعی مقصد کیلئے ہر قربانی دینے کے مضبوط عزم کے ساتھ پوری طرح تیار رہے۔

 

بالآخر ایک باعزت مفاہمت کے بعد یہ معاملہ ختم ہوا اور کئی نوٹسیں واپس لے لی گئیں اور ضبط شدہ زمینوں کو واپس کردیا گیا۔ اس طرح لوگوں کو ایک نیا راستہ نظر آیا جس کے ذریعے وہ اپنا اظہار کرسکتے تھے اور اپنی بات منواسکتے تھے۔

 

باردولی

 

حیرت کی بات ہے کہ وہ لوگ جو کسی مزدور اور کسان تحریک کی بات کرتے ہیں جوکانگریس کی ‘‘ برژوا ‘‘ تحریک سے مختلف ہو، ہر صورتحال کوایک بنے بنائےسانچے میں ڈھالنے کی اپنی کوشش میں اکثر وبیشتر اس حقیقت کونظرانداز کردیتے ہیں کہ گاندھیا ئی کانگریس کیلئےفیضان اور طاقت کا سرچشمہ اس کا ایک عوامی یا کسانوں کی تحریک ہونا تھا۔ ہندستان میں یہ دونوں چیزیں ہم معنی رہی ہیں۔ باردولی دراصل ایک فوجی زرعی تحریک تھی۔

 

گاندھی جی شروع سے ہی اس بات پر یقین رکھتے تھےکہ سوراج کی بنیاد دیہات ہیں ۔ ان کی حکمت عملی یہ تھی کہ ایک چھوٹا سا نشانہ مقرر کیا جائےاور ایک ایسے معاملے پر تمام ترقومی طاقتوں کومرکوز کردیا جائے جو بظاہر معمولی ساہو مگر دراصل واقعات کے دھماکہ خیز سلسلہ اورایک پوری عمارت کی بنیاد ہو۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ انہوں نے چمپارن اور کیرا میں کس طرح برطانوی اقتدار پر سیدھا حملہ کیا تھا۔ درحقیقت عدم تعاون تحریک باردولی سے شروع کئے جانے والےایک انقلاب کیلئے محض تیاری کا مرحلہ تھا، حالانکہ چوری چورا کے واقعات کے پیش نظر ایک دو کوششوں کے بعد اسے ترک کرنا پڑا۔

 

باردولی کی کہانی صرف آزادی کی جانب پیش قدمی کے ایک سنگ میل کی حیثیت سے ہی اہم نہیں ہے بلکہ اس لئے بھی کہ اس کے ذریعے ، ایک اعلا تر سطح پر، گاندھیائی تکنیک کا اصل قرنیہ اور کردار سامنےآیا۔ سارے ملک کو ‘بارودلیانہ‘ قومی تحریک کی آرزو اور منصوبہ بندی کی بنیاد بن گیا۔ اس تکنیک کے تجزیے سے یہ نکات حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ (1) کسی جائز، اعتدال پسندانہ اور راست معاملے کا انتخاب (2) عوام کو بے خوفی اور نظم وضبط کے ساتھ نافرمانی اور مزاحمت کیلئے تیار کرنا (3) تحریک کے ساتھ ہی عوام کی تعلیم ، اخلاقی بلندی اور مادی بہتری کیلئے کام کرنا (4) فریق مخالف کے ساتھ بات چیت اور سمجھوتہ کیلئے تیار رہنا (5) تحریک کو چابک دستی کے ساتھ مرحلہ بہ مرحلہ شدید تراور وسیع تر کرتےرہنا جس میں ایک جانب ہر قربانی اور تکلیف اٹھانے کیلئے تیار رہا جائے اور دوسری جانب اقتدار کی جارحانہ نافرمانی کی جائے۔

 

باردولی ایک لاکھ سے کم آبادی والی ایک عام سی تحصیل تھی جہاں کے بیشتر لوگ کاشتکاری سے وابستہ تھے مگر کچھ سود کاکاروبار کرنے والے ، چند چھوٹے موٹے تاجر اور بڑی بڑی زمینوں کے مالک بھی موجود تھے۔ جنوبی افریقہ میں گاندھی جی کے ستیہ گرہوں میں ایک اچھی خاصی تعداد باردولی کے لوگوں کی تھی جن میں بہت سے مسلمان بھی شامل تھے۔ 1922 میں گاندھی جی کی گرفتاری کے بعد سے باردولی میں زبردست تعمیری سرگرمیاں مثلا قومی اسکولوں اور کھادی مراکز کا قیام ، سماجی اصلاحات ، شراب بندی وغیرہ انجام دی گئیں۔

 

باردولی کی تحریک، جسے باقی سارے ملک کیلئےایک مثال اور سرچشمئہ فیضان بننا تھا، کی قیادت کیلئے پوری طرح سوچ سمجھ کر ولبھ بھائی کا انتخاب کیا گیا۔ ولبھ بھائی بہت پہلے گاندھی جی کے زیر اثر آچکے تھے اور انہوں نے کیرا میں اپنے ایک نئے کردار کا مظاہرہ کیا تھا۔

 

گاندھی جی نے ایک بار انقلابیوں کے ساتھ بحث کے دوران کہا تھا کہ وہ ایک تلوار کے دھنی شخص کے حق میں بھی دست بردار ہوسکتے ہیں اگر وہ شخص سچ مچ عوام کا آدمی ہو اور جوہل کو چھوڑ کر تلوار اٹھاسکے۔

 

باردولی میں کئے گئے اس وعدے کو پورا کرنے کا موقع چھہ سال بعد 1928 میں آیا۔ اس زمانے میں باردولی میں زمین اور مال گذاری کے معاملات پر نظرثانی کی جانے والی تھی جو ہر بیس تیس سال پر کی جاتی تھی اور ہربارلگان میں تقریبا 25 فیصد کا اضافہ کردیا جاتا تھا۔ باردولی کے لوگ بڑھا ہوالگان اداکرنے کو تیار نہیں تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان دیہات کے اقتصادی حالات ، ٹیکسوں کے بوجھ اور سڑکوں کی حالت وغیرہ امور کی آزادانہ جانچ کرائی جائے۔ حکومت کوایک تحقیقاتی کمیٹی مقرر کرنےپرآمادہ کرنےکیلئے تمام تر آئینی طریقےاستعمال کئے گئے۔ اس کے بعد ایک الٹی میٹم دیا گیا اور ٹیکس ادانہ کرنےکی مہم شروع کی گئی ۔ کسانوں نےاپنی تعلقہ کانفرنس کےدوران ولبھ بھائی کواس مہم کی قیادت کرنے کی دعوت دی۔

 

ولبھ بھائی ان گاؤں کے ساتھ انہی جیسا بن کر رہنے کیلئے پہنچ گئے ۔ عباس طیب جی اور امام صاحب جیسے پرانے رہنما مسلمانوں کے ساتھ رابطہ کرنے میں ان کی مدد کررہےتھے۔ انہیں بہت سےتربیت یافتہ کارکنوں کا تعاون حاصل تھا اور ان کے علاوہ کاشتکاروں نے خود اپنےاندر سےبہت سےرضاکار فراہم کردئے تھے۔ ان لوگوں کو اپنے اپنے گاؤں میں معلومات جمع اور فراہم کرنے کی خدمات انجام دینی تھیں ۔ روزانہ خبرنامے اور ولبھ بھائی کی تقریروں پرمشتمل پمفلٹ چھاپے جاتے تھے اورانہیں دیہات ہی میں نہیں بلکہ باردولی کے باہر کےشہروں اوردیہات میں بھی تقسیم کیا جاتا تھا۔ ولبھ بھائی کے جذبات انگیز سادہ الفاظ نےاس زمانےمیں باردولی ہی میں نہیں بلکہ سارے گجرات میں ایک ہیجان برپا کردیا تھا۔ ان کےالفاظ تھے۔

 

‘‘ میں جانتاہوں کہ آپ میں بعض لوگوں کو اپنی زمینیں ضبط کرلئے جانے کا اندیشہ ہے۔ ضبطی کیا ہے؟ کیا وہ لوگ ان زمینوں کو اٹھاکر انگلینڈ لے جائیں گے؟ برےسے برا یہ ہوسکتا ہے کہ ان زمینوں کو سرکاری کتابوں میں حکومت کے نام درج کردیا جائے لیکن اگر آپ متحد ہیں تو آپ ان زمینوں پر کاشتکاری کرنے کیلئےآنے والے کسی شخص کا بھی مقابلہ کرسکتے ہیں ۔ اور یقین رکھئے کہ اگر آپ اپنی زمینوں کے ضبط کئے جانے کو تیار ہیں تو سارا گجرات آپ کے ساتھ ہوگا‘‘۔

 

‘‘ اپنے گاؤں کو منظم کیجئے اور اس طرح آپ دوسروں کیلئے ایک مثال قائم کریں گے۔ لڑائی شروع ہوچکی ہے۔ اب ہرگاؤں کو ایک مسلح مرکز ہونا ہے۔ ہرگاؤں کی خبریں روزانہ اور پابندی کے ساتھ تعلقہ کے صدر دفتر پہنچنی چاہیئں اور صدر دفتر سے جاری کی جانے والی ہر ہدایت پر فورا عمل کیا جانا چاہیے ۔ نظم وضبط اور اورتنظیم کا مطلب ہے آدھی جنگ جیت لینا ۔ ہرگاؤں میں زیادہ ایک پٹیل اور تلا تی ہی ایک حکومت کے ساتھ ہے مگر گاؤں کا ہربالغ شخص ہمارا رضاکار ہے ‘‘

ایک جانب دیہات میں یہ تیاریاں جاری تھیں تو دوسری جانب ولبھ بھائی حکومت کے ساتھ خط وکتابت کررہے تھے۔ مگر حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی تھی۔ الٹے حکومت کی جانب سے انتباہ دیا گیا کہ اگر باردولی کے لوگوں نےخود اپنےطورپر یا باہر کےلوگوں کے مشورے پر لگان ادا نہ کیا تو انہیں اس کا انجام بھگتنا ہوگا۔ ولبھ بھائی نے اس دھمکی کیلئے حکومت کا شکریہ اداکرتے ہوئے ریونیو سکریڑی کو یاد دلایاکہ وہ واضح طورپر‘‘ اس حقیقت کو بھول رہے ہیں کہ اس حکومت میں جس کی وہ نمائندگی کرتے ہیں بیرونی لوگوں کا غلبہ ہے‘‘۔

 

حکومت نے جلد ہی کارروائی شروع کردی ۔ ڈرانے دھمکانے جھوٹ موٹ کی خوشامد ، دونوں طریقےاستعمال کئے گئے ۔ ایک گاؤں میں بعض بنیوں نےنئی شرح کے مطابق ادائیگی کردی ۔ مگرلوگوں کا حوصلہ پست نہیں ہوا۔ ولبھ بھائی نے انہیں ایسی غداریوں کا سامنا کرنے کیلئے تیار کررکھا تھا۔ چناچہ تمام گاؤں کے لوگوں کے دستخط سے ایک ستیہ گرہ کا عہد نامہ تیار کیا گیا۔

 

ولبھ بھائی کی کاشتکاروں اور گاؤں والوں کی زبان میں کی جانے والی روح میں تلاطم پیدا کردینےوالی تقریروں نےان کے جوش وخروش کو حددرجہ بلندیوں تک پہیچادیا تھا اور ان میں ایک بے خوف عزم پیدا کردیا تھا۔ وہ کہہ رہے تھے۔‘‘ میں دیکھ رہا ہوں کہ گذشتہ پندرہ دنوں نے آپ کو اپنے دلوں سے سارے ڈرخوف کو نکال باہر کرنے کی ہمت دی ہے۔ مگر آپ ابھی تک اس سے پوری طرح ازاد نہیں ہوئے ہیں ۔ روپے میں دوآنے اب بھی باقی ہیں ۔ اسے بھی نکال باہر کیجئے ۔‘‘ ‘‘ ایسا لگتا ہے کہ آپ نے برائی کے خلاف جائز اور حق بجانب غصے کی صلاحیت کھودی ہے۔ میں کبھی کبھی دیر رات میں آپ کے گاؤں سے گذرتا ہوں مگر کہیں سے بھی یہ آواز نہیں آتی، ‘ ٹھرو! کون ہے ؟ ‘۔ یہی خاموشی ہی آپ کی ناکامی کا باعث ہے۔ میں آپ کو بے خوف بنانا چاہتاہوں ۔ میں چاہتاہوں کہ آپ پوری طاقت کےساتھ زندہ رہیں ۔ مجھے آپ کی آنکھوں میں برائی کے خلاف غصے کی آگ نظرنہیں آتی‘‘۔

 

اس دوران حکومت کی جانب سے ان زمین مالکوں کو جو کمزوری ظاہر کرسکتے تھے زمین کی ضبطی کے نوٹس جاری کئے جانے لگے۔ مگر اسکا کوئی اثر نہیں ہوا۔ گاؤں والوں کی طاقت اور تنظیم میں روز بہ روز اضافہ ہوتا گیا۔ مرد اور خاتون کارکنوں اور پیسے کی صورت میں اب باہر کی مدد بھی آنے لگی ۔ باہر کے لوگ دھیرے دھیرے باردولی کے واقعات سے باخبر ہوتے جارہے تھےاور ان میں ہیجان پیدا ہورہا تھا۔ باردولی کے دیہات میں جوش وخروش کی لے دن بہ دن اونچی ہوتی جارہی تھی۔ ان دنوں وہاں ہونے والے زبردست جلسوں میں شریک لوگ انہیں کبھی بھول نہیں سکتے۔

گاؤں میں پیدا ہونے والی نئی زندگی کئی صورتوں میں ظاہر ہونی شروع ہوئی۔ اس کے زیراثر صفائی ستھرائی کی حالت بہتر ہوئی، نظم وضبط پیدا ہوا، کھادی کی تجدید ہوئی، عورتوں میں بیداری آئی اور اسکول اور آشرم قائم کئے گئے۔

 

لوگوں کے ساتھ قریبی رابطےاوراس زبردست جوش وخروش کےماحول میں جوولبھ بھائی خود محسوس کررہےتھے اور دوسروں میں پیدا کررہےتھےانہیں کسانوں کی حالت زار کا تجربہ ہوا جو ہندستان کی بنیادی اور بھیانک سچائی تھی ۔ یہ بات ان پرواضح تر ہوتی چلی گئی اور انہوں نے کسانوں کے بارے میں دوبنیادوں پراپنا نقطئہ نظر قائم کیا۔ یہ بنیادیں تھیں ملک کے حقیقی سماجی واقتصادی معاملات میں کسانوں کی حددرجہ اہمیت اور کسانوں کی حالت زارپر گہری درد مندانہ تشویش جنہیں حکومت نے‘ تعلیم یافتہ ‘ طبقوں کے تعاون سے اس حالت کو پہنچا دیا تھا۔ گاندھی جی کے لفظوں میں ‘‘ ولبھ بھائی کو اپنا ولبھ (خدا) باردولی میں ملا‘‘ باردولی نےاپنا ‘سردار ‘پیدا کرلیا تھا۔ حکومت نےجلد ہی اپنی ساری مشینری کو بروئےکار لاتےہوئے شدید استبدادی کارروائیاں شروع کردیں ۔ بڑی تعداد میں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور خصوصی مجسٹریٹوں کےذریعےفرضی عدالتی کارروائی کےبعد جیل بھیج دیا گیا۔ باردولی اب تک سارے ملک کی نگاہوں کا مرکز بن چکا تھا۔ اس نے تمام توقعات کے برخلاف پر ابتلا وآزمائش میں ثابت قدم رہنے کا ثبوت دیا تھا۔ اس کی صفوں میں شگاف ڈالنے کی تمام کوششیں اور سازشیں ناکام ہوچکی تھیں اور بنیے ، پارسی اورمسلمان ، سب کے سب متحد نظر آرہے تھے۔ باردولی کی سادہ مزاج عورتوں کی بہادری سارے ملک کیلئے سرچشمئہ فیضان بن گئی۔

 

احمد آباد ہو یا بمبئی ہرجگہ باردولی سے متعلق خبروں کا بے چینی سےانتظار کیا جاتا تھا۔ جگہ جگہ احتجاجی جلسے ہوئےاور راحت کا سامان جمع کیا گیا۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی نےاپنے بمبئی اجلاس میں باردولی سےمتعلق ایک قرارداد منظور کی جس کی گونج سارے ملک میں سنائی دی ۔ بمبئی قانون ساز اسمبلی کے کئی اراکین پہلے ہی مستعفی ہوچکے تھے ۔ کئی رہنماؤں نے باردولی کا دورہ کیا۔ جمنا لال بجاج کے لفظوں میں یہ رہنما اپنےآپ کو پاک وصاف کرنےاور ان دیہات میں روشن کی گئی مقدس آگ کی گرمی حاصل کرنے کیلئے وہاں پہنچ رہے تھے۔ باردولی دھیرے دھیرے زیادہ سے زیادہ توجہ کا مرکز بنتا چلا گیا۔ وہاں مکانات ویران پڑے تھے وہاں کرہ ارض کو جلاڈالنے ، کی پالسی پر عمل کیا گیا تھا اور لوگ جنگی خندقوں جیسی جگہوں میں رہ رہے تھے ۔‘ بامبے ٹائمز ، کے خصوصی نامہ نگار نے باردولی کےمعاملات کی رہورٹ ‘ کسانوں کی بغاوت ؛ باردولی بولشویک حکومت ، کی جلی سرخی کے ساتھ دی ۔ خبررساں ایجنسی ‘ رائڑ ‘ نے برطانیہ کو خبردار کیا کہ باردولی میں سوویت یونین جیسا نظام قائم کیا جارہا ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ کےایوان زیریں ، ہاؤس آف کامنز ، میں اس سلسلے میں سوالات کئے گئے۔ حکومت نے گھبراہٹ میں استبدادی کارروائیاں تیز تر کردیں اور باردولی میں فوجی طاقت میں اضافہ کردیا ۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے ولبھ بھائی کے ساتھ بات چیت شروع کی۔ ایک ہاتھی اپنے آپ کو مچھروں کے سامنے بھی طاقتور محسوس کرنے لگا تھا۔ مگراس کے باوجود اس تحریک کو کچل دینے کی دھمکیاں دہرائی جاتی رہیں۔ ولبھ بھائی نےاپنا ذہنی سکون اوراعتدال برقرار رکھا اور اپنے مطالبات میں مضبوطی کے ساتھ منصفانہ اور معتدل رویہ اخیتار کیا۔ باردولی اب ایک ملک گیر اہمیت کا حامل معاملہ بن چکا تھا اور ولبھ بھائی کو گرفتار کرنے سے بھی حکومت کاکوئی بھلا ہونے والا نہیں تھا ۔ آخرکار سمجھوتہ کیا گیا نظم وضبط کے ساتھ لڑی گئی یہ انقلابی جدوجہد کسانوں کی فتح پر ختم ہوئی جنہوں نے سچائی اور صبر وتحمل کے ہتھیاروں سے ایک ایسے دشمن کے خلاف تمام تکلیفیں برداشت کرتے ہوئے جدوجہد کی جو انہیں کسی بھی وقت کچل کر ریزہ رہزہ کرسکتا تھا۔

یہ بڑے پیمانے پر کی گئی ستیہ گرہ کی پہلی زبردست کامیابی تھی جس میں جیتنے اور ہارنے والے دونوں ہی کامیاب رہے۔

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ باردولی کی مثال ہماری تحریک آزادی کو بعد کی ہر جدوجہد کے دوران ایک سرچشمئہ فیضان ثابت ہوا۔ اس نے برطانوی نوکر شاہی کو بھی یہ احساس دلایا کہ ایک غیر مسلح انقلاب میں بھی کتنی طاقت ہوسکتی ہے۔

 

 


وقت کی لکیر

کانگریس کے گذشتہ صدور

کل ہند کانگریس کے اجلاس

1885سے 1946

کانگریس قیام کی زمینی حقیقت

آزادی کی جنگ

کانگریس اور تحریک آزادی

جدوجہد آزادی پر دوبارہ نگاہ

مہاتماگاندھی کے سیتہ گرہ  مراکز

قومی پرچم

تعمیری پروگرام اور کانگریس

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Sitemap           Search           Feedback

© Copyright AICC 2009 | Privacy policy. Best viewed with IE 5 + browsers at 1024 X 768 resolution.