All India Congress Committee - AICC
 

انڈین نیشنل کانگریس
24، اکبرروڈ
نئی دہلی۔ 110011انڈیا
فون۔ 23019080 -011
فیاکس ۔23017047

Hindi
English
Search
 

 

حق اطلاعات کا قانون 2005

حق اطلاعات کا قانون 2005 پارلیمنٹ نے منظور کرلیا ہے -  اب یہ قانون نافذ بھی کردیا گیا ہے- اس قانون کے تحت ہندوستان کے ہر شہری کو ایک انتہائی اہم حق حاصل ہوگیا ہے- اس قانون کے بارے میں مکمل تفصیلات کی فراہمی کےلئے یہ ہدایت نامہ تیار کیا گیا ہے تا کہ لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ یہ قانون ان کی کس طرح سے مدد کرے گا اور مختلف محکموں میں اسے کس طرح نافذ کریں گے-

'' کانگریس پارٹی کے وعدے کے مطابق حق اطلاعات  کا تاریخی  بل 15/ جون 2005 کو منظور ہو چکا ہے - اس سے قبل حق اطلاعات قانون کا ایک کمزور ایکٹ تھا- اب ہمارے خیالات کے بموجب اطلاعاتی حقوق کا ایک مضبوط ایکٹ ہے جس کے توسط سے زیادہ سے زیادہ سچ سامنے آئے گا - اس سے انتظامیہ کی ہر سطح پر زیادہ شفافیت رہے گی اور ذمہ داریاں بھی طے ہوں گی -اب گاؤں، قصبوں اور شہروں کے سبھی باشندوں کو یہ حق ہے کہ وہ ان پالیسیوں ، پروگراموں اور منصوبوں کی سچی تصاویر طلب کریں، جن کا تعلق ان کی روز مرہ کی زندگی سے ہے- اس ایکٹ کے نفاذ کا ایک بڑا اور تازہ فائدہ یہ ہوگا کہ ابھی حال میں جو قومی دیہی روز گار گارنٹی منصوبہ منظور ہوا ہے ، اس کی  نگرانی ہو سکے گی- یہ معلوم ہو جائے گا کہ وہ ٹھیک طریقے سے نافذ ہورہا ہے یا نہیں؟ مثال کے طور پر اب کاموں اور کام کرنے والوں کی فہرست سب کو مہیا ہوگی-  رضا کار تنظیمیں، معاشرہ میں متحرک دیگر انجمنیں اور ورکنگ گروپ اس حق کا استعمال کر کے یہ یقینی بنا سکیں گے کہ دیہی ترقی اور سماجی بہبود کے کئی منصوبوں کا فائدہ ان غریبوں اور کمزور درجات کو ملے ، جن کیلئے وہ بنے ہیں ''

سونیا گاندھی

لوک سبھا میں 10 / مئی 2005 کو وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے خطاب کا خلاصہ

آج کی دنیا میں ہم بے حد مشکل معاشرہ کے ساتھ رہ رہے ہیں - ان سماجوں کو اپنے روز مرہ کے کام کاج میں سرکاروں کے وسیع رول کی ضرورت پڑتی ہے - ہمارے اپنے ملک میں بھی حکومت کا کل خرچ مجموعی گھریلو پیداواری شرح   (G.D.P) کا 33 فیصدہے اور یہ مر کزی حکومت ، ریاستی حکومتوں اور آزاداداروں کے ذریعہ کیا جاتا ہے- اس کے علاوہ اقتصادی امور سے متعلقہ عام تصرف میں بھی حکومتوں کو بہت سے حالات کی مجبوریوں کے باعث دخل دینا پڑتا ہے- اور ایسا الگ الگ انضباطی اداروں کی وساطت سے کیا جاتا  ہے-

جب حکومت ملک کے کل خرچ کے اتنے بڑے حصے کو خود برداشت کرتی ہے جب عام باشندگان ملک کی زندگی سے جڑے معاملات میں اتنا زیادہ دخل رکھتے ہیں ، تب یہ بے حد ضروری ہو جاتا ہے کہ حکومت اپنے حقوق کا استعمال بہت ہی سوچ سمجھ کر اور مفادات عامہ کو ذہن میں رکھ کر ہی کرے-

دنیا بھر کی مہذب حکومتیں بدعنوانی کے مسائل اور حکومت کے با اثر ہونے میں دخیل ہونے والی خامیوں سے نمٹنے کی ہر سطح پر کوشش کررہی ہیں - ہمارے ملک میں بد عنوانی کو روکنے کے لئے عدلیہ ہے اور پارلیمانی نظام سے پیدا شدہ متعدد نمائندہ ادارے ہیں جو یہ دھیان رکھتے ہیں کہ تصرف میں آنے والی رقوم حقیقی معنوں میں عوامی مفادات کیلئے ہی خرچ ہوں- لیکن صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ حکومت پانچ برسوں میں ایک بار عوام کے دربار میں چلی جائے-

ضروری یہ بھی ہے کہ عوام کو حقوق یافتہ بنانے کےلئے طریقے تلاش کئے جائیں تا کہ انہیں یہ احساس ہو کہ حکومتی انتظام وانصرام کا مقصد رائے عامہ کے منزل تک پہنچنا ہے- اطلاعات کی فراہمی تک رسائی کا حق دینا ایک ایسے نظام کو قائم کرنا ہے جس سے ملک کے باشندوں کو یہ جاننے کا اور اس کا اندازہ کرنے کا قانونی حق ملے گا کہ ان کی حکومت واقعتاً سب کے مفاد میں کام کررہی ہے یا نہیں؟ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ سب طرح کے اعلانات کا غلط استعمال بھی کیا جاسکتا ہے- اس لئے بہت کچھ اس پر بھی منحصر کرے گا کہ اطلاعات حاصل کرنے والے کس نیت سے اطلاع مانگ رہے ہیں- میں اس کے پس پردہ خطرات کو اس لئے اچھی طرح سمجھتا ہوں کیونکہ اطلاعات ہمارے نظام میں اصلی طاقت ہے- لیکن اس طاقت کو زیادہ سے زیادہ لوگوں میں تقسیم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اطلاعات پر کچھ ہی لوگوں کا تسلط نہ رہنے دیا جائے-

میرے خیال سے یہ ایکٹ اطلاعات کے حصول کا ایسا انتظام کرتا ہے جو آسان ہے، سہل ہے ، وقت کا پابند ہے اور سستا ہے -  اس ایکٹ میں یہ نظم ہے کہ اطلاعات کی فراہمی میں ناکام رہنے والوں یا اطلاعات کی فراہمی میں خلل ڈالنے والوں کو سخت سزا ملے- دراصل اس ایکٹ میں ایسا انتظام کیا گیا ہے کہ مختلف ایجنسیاں لوگوں کو اپنے آپ ہی اطلاعات مہیا کرائیں تا کہ کوئی اطلاع حاصل کرنے میں زیادہ خرچ نہ آئے-

ہم سبھی جانتے ہیں کہ ترقیاتی عمل میں کئی کڑیاں باہم مشترک ہوتی ہیں- ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ سب سے غریب طبقے کو ملنے والا فائدہ ان تک نہیں پہنچتا ہے- ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ غریبوں اور کمزوروں کے لئے خرچ کئے جانے والے سرمائے کو دراصل کس طرح معاشرے کا با اثر طبقہ کھا جاتا ہے - مجھے امید ہے کہ اطلاعات تک رسائی کا حق عوامی سرمائے کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے ان لوگوں کے ہاتھ میں ایک کار گر ہتھیار دے گا جو مفادات عامہ کو سب سے زیادہ اہمیت بخشتے ہیں- اس لئے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک تاریخی ایکٹ ہے - یہ بل منظور ہوا تو ملک میں جمہوریت کی بنیاد اور مستحکم ہوگی- یہ بل منظور ہوا تو شفاف اور انسانیت پر مبنی انتظامیہ کی راہ مزید ہموار ہوگی- یہ بل منظور ہوا تو ہماری انتظامیہ ہمیشہ سے زیادہ جوابدہ بنے گی-

اس بل کی منظوری سے نظام حکمرانی میں ایک نئے عہد کا آغاز ہوگا- اپنا کام بہتر طریقے سے مکمل کرنے کی خواہش کا عہد - اپنا کام تیزی سے پائیہ تکمیل تک پہنچانے کا دور- ترقیات کے فائدوں کو معاشرے کے تمام طبقات تک مساوی طور پر پہنچانے کا دور- بد عنوانی کے وسیع خطرات کو اکھاڑ پھینکنے کا عہد- عام آدمی کی فکر مندیوں کو انتظامی عمل کے سبھی حصوں تک پہنچانے کا دور- ایک ایسا زمانہ جو ہماری جمہوریہ کے مرد خواتین حضرات کی امیدوں کو حقیقی معنوں میں پورا کرے گا-

اطلاعات مانگنے والوں کے کاندھوں پر بھی بڑی ذمہ داری آنے والی ہے - اور ان پر بھی ، جنہیں اطلاعات کی فراہمی کا فریضہ انجام دینا ہے- مجھے پورا اعتماد ہے کہ ہماری مملکت میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو صحیح توازن برقرار رکھنا جانتے ہیں- ہمیں ایک باقوت اور مستحکم حکومت کی ضرورت ہے- ہمیں ایسے نظام حکمرانی کی ضرورت ہے جو اپنے عہد کے چیلنجوں پر کھری اترے اور جو ہمیں اتنا قوت دے کہ ہم اپنے طے مقاصد کے حصول کی سمت میں تیزی سے بڑھ سکیں - ساتھ ہی ساتھ میں یہ بھی مانتا ہوں کہ اس ملک کا روشن مستقبل جمہوریت کی بنیاد کو مضبوط کرنے پر ہی منحصر ہے- یہ بل شفافیت کی تہذیب کو تنوع بخشنے کی سمت میں ایک مستحکم قدم ہے- جوابدہی کے اصول کو ترقی بخشنے میں ایک اہم چھللانگ ہے- اور یہ یقینی بنانے میں ایک بڑا قدم ہے کہ حکومت صرف مفاد عامہ میں ہی کام کرے - ہندوستانی جمہوریہ کے قیام کے معماروں کا بھی یہی خواب تھا-

حق اطلاعات کا قانون کے بارے میں عام طور پر دریافت کئے جانے والے سوال اور ان کے جواب

سوال : اطلاعات کا حق دینے والا قانون کب نافذ ہوا ؟

جواب : یہ قانون 12 / اکتوبر 2005 سے نافذ ہو چکاہے گا - اس قانون کے بعض مندرجات (ضوابط) فوراً نافذ ہو گئے ہیں- اہلکاروں کے فرائض (ذمہ داریاں) پبلک انفارمیشن افسروں، ڈپٹی پبلک انفارمیشن افسروں (معاون) کے عہدوں کی تخصیص، مرکزی اطلاعاتی کمیشن ، ریاستی اطلاعاتی کمیشنوں کے قیام ، خفیہ محکمہ اور سیکورٹی اداروں پر ایکٹ کے عدم نفاذ اور اس ایکٹ کے لئے ضابطے وضع کرنے کے لئے حقوق فراہم کرانے والی دفعات فوری عمل سے نافذ ہو چکی ہیں-

سوال : اس قانون کے دائرے میں کون کون آتا ہے ؟

جواب : اس قانون کے دائرے میں ریاست جموں وکشمیر کو چھوڑ کر پورا ہندوستان ہے-

سوال : اطلاع کی تعریف کیا ہے؟

جواب : اطلاع کا مطلب ہے کسی بھی شکل میں رکھی گئی ایسی کوئی بھی اشیاء جس کی کسی بھی سرکاری افسر کو قانوناً جانکاری ہے- ان میں ریکارڈ ، دستاویز، عرض داشت، ای میل، صلاح ومشورہ، پریس ریلیز، مکتوبات، احکامات، لاگ بک، رجسٹر، رپورٹ، کاغذ- خط ، نمونے، ماڈل اور کسی بھی الکٹرانک شکل میں رکھا گیا ڈاٹا شامل ہے- اطلاع کی تعریف میں نجی اداروں سے متعلق ایسی تمام جانکاریاں بھی شامل ہیں، جنہیں موجودہ قوانین کی بنیاد پر کوئی بھی سرکاری اہلکار حاصل کرسکتا ہو- لیکن اطلاع کی تعریف میں فائلوں پر تحریر کردہ تبصرے (ریمارکس) شامل نہیں ہیں-

سوال : اطلاعات کے حق کا مطلب کیا ہے؟

جواب : اس قانون میں عام لوگوں کو درج ذیل حقوق حاصل ہیں-

  • کاموں، دستاویزات اور ریکارڈ کا جائزہ لینا

  • دستاویزات اور مخطوطات کے نوٹس لینا، ان کے بعض حصوں یا مکمل دستاویز کی فوٹو کاپی حاصل کرنا-

  • اشیاء کے مصدقہ نمونے حاصل کرنا

  • پرنٹ آؤٹ، ڈسک، فلاپی، ٹیپ، ویڈیو کیسٹ یا دیگر کسی بھی الکٹرانک ذرائع سے اطلاعات حاصل کرنا-

افسروں کی ذمہ داریاں

سوال : پبلک سرونٹس (سرکاری افسر) کی تعریف میں آنے والے افسروں کی ذمہ داریاں کیا ہوں گی؟

جواب : پبلک سرونٹس (سرکاری افسر) کے دائرے میں آنے والا افسر 2/ اکتوبر 2005 تک درج ذیل باتوں کا عوامی طور پر اعلان کرے گا -

  • اپنی تنظیم / ادارہ/ دفتر کی تفصیل، اس کے کام اور فرائض

  • اس کے افسروں اور ملازمین کے حقوق اور ذمہ داریاں

  • فیصلے لینے کے عوامل اور نگرانی وجوابدہی

  • کام کے نبٹارے کیلئے بنائے گئے اصول وضوابط

  • کام کی تکمیل کیلئے ملازمین کے ذریعہ  استعمال کئے جانے والے ضوابط، اصول، ہدایات، مینوئل اور ریکارڈ

  • اس کی تحویل  رکھے ہوئے دستاویز کی درجہ بندی

  • ایسے کسی بھی انتظام کی موجودگی کی مکمل تفصیل، جواصولوں کے وضع کرنے اور انہیں نافذ کرنے کیلئے عوامی نمائندوں کی آراء لینے کے سلسلے میں ہوں یا سماج کے اراکین کو نمائندگی بخشنے سے متعلق ہوں-

  • نتظیم / ادارہ/ دفتر کے ذریعہ تشکیل شدہ بورڈ، کونسلوں، کمیٹیوں اور دیگر ادارہ جات کی تفصیلات کے اعلان ، جس میں دویا اس سے زائد افراد ہوں-ساتھ ہی یہ اطلاع کہ ان کی نشستیں عوام کیلئے کھلی ہوئی ہیں یا نہیں۔ اور ان کی میٹنگوں میں ہوئی کارروائی کی تفصیلات عوام کو فراہم کرائی جاتی ہے یا نہیں-

  • افسروں اور ملازمین کے نام ، پتے اور ٹیلی فون کی تفصیلات

  • افسروں اور ملازمین میں سے ہر ایک کو ملنے والی ماہانہ تنخواہ اور ضابطے کے تحت ملنے والی اضافی رقم کا گوشوارہ

  • سبھی منصوبوں پر ہونے والا مجوزہ خرچ، منصوبوں کیلئے دی جا چکی رقم اور کام کرنے کیلئے مختلف ایجنسیوں کو الاٹ بجٹ

  • سبسڈی منصوبوں کو پورا کرنے کا طریقہ کار، اس کیلئے خرچ کی جانے والی رقم اور ان پروگراموں کا فائدہ دینے والوں کی تفصیل

  • رعایتیں، پرمٹ اور حقوق نامہ پانے والے افراد کی تفصیل

  • الکٹرانک طریقے سے رکھی گئی اطلاعات سے متعلق تفصیلات

  • اطلاعات حاصل کرنے کیلئے شہریوں کو فراہم کردہ سہولتوں کی جانکاری اور عوامی استعمال کے لئے تعمیر کسی لائبریری یا مطالعاتی مراکز کے نظام الاوقات کی جانکاری

  • پبلک انفارمیشن افسر کے نام، عہدے اور دیگر تفصیلات

سوال : پبلک اتھارٹی سے مراد کیا ہے؟

جواب : آئین کے ضوابط اور، پارلیمنٹ میں بنائے گئے قوانین کے ذریعہ نیز ریاستوں کی قانون سازی کے ذریعہ کسی بھی قانون کے تحت تشکیل کسی بھی اتھارٹی ، ادارے یا خود مختار انتظامی اداروں کو پبلک اتھارٹی مانا گیا ہے- حکومتوں کی ملکیت والی حکومت کی مالی مدد سے چلنے والی انجمنیں (ادارے) اسی دائرے میں آتی ہیں- ایسی غیر سرکاری تنظیمیں بھی پبلک اتھارٹی مانی جائیں گی جو حکومت کے بالواسطہ یا بلا واسطہ مالی تعاون سے اپنا کام کرتی ہیں-

سوال : پبلک انفارمیشن افسر کون ہوں گے؟

جواب : شہریوں کو اطلاعات فراہم کرانے کیلئےسرکاری اداروں کے ذریعہ نامزد کئے جانے والے اہلکار کو انفارمیشن افسر کہا جائے گا- محکمہ کے تمام اہلکاروں اور ملازمین کو اطلاعات کی فراہمی کے عوامل میں پبلک انفارمیشن افسر کی پوری مدد کرنی ہوگی تا کہ وہ شہریوں کے ذریعہ طلب کردہ اطلاعات انہیں دے سکے-

سوال : پبلک انفارمیشن افسر کی ذمہ داریاں کیا ہوں گی؟

جواب : پبلک انفارمیشن افسر کی ذمہ داریاں درج ذیل ہیں-

  • اطلاعات طلب کرنے والے شخص سے موصولہ درخواست پر پبلک انفارمیشن افسر کارروائی کرے گا-

  • تحریری گزارش کرنے میں شہریوں کو مناسب مدد کرے گا

  • اگر موصولہ اطلاع کسی دیگر محکمہ سے تعلق رکھتی ہے تو پبلک انفارمیشن افسر کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ 5 دنوں کے اندر درخواست دوسرے محکمہ کو بھیج دے اور درخواست گزار کو فوراًاس کی جانکاری فراہم کرے کہ اس کی درخواست کس محکمہ یا ادارہ کو بھیج دی گئی ہے-

  • پبلک انفارمیشن افسر کو یہ حق ہوگا کہ وہ اپنی ذمہ داری کی ادائیگی کیلئے کسی بھی دوسرے افسر کی مدد لے-

  • اطلاعات پانے کیلئے فیس سمیت درخواست ملنے کے 30 دنوں کے اندر پبلک انفارمیشن افسر کو یا تو درخواست گزار کو اطلاعات فراہم کرانی ہوگی یا وجہ بتاتے ہوئے درخواست نا منظور کرنی ہوں گی-

  • اگر کسی شہری کے ذریعہ طلب کردہ اطلاع کا تعلق اس کی زندگی کی سلامتی یا شخصی آزادی سے ہے تو پبلک انفارمیشن افسر کو ایسی اطلاع درخواست ملنے کے 48گھنٹوں کے اندر فراہم کرانی ہوگی-

  • اگر ضابطے کے مطابق مقررہ میعاد کے اندر اطلاع فراہم نہیں کرائی جاتی ہے تو از خود یہ مان لیا جائے گا کہ پبلک انفارمیشن افسر نے درخواست گزار کی گزارش منظور کر لی ہے-

  • گزارش نا منظور کردینے کی حالت میں پبلک انفارمیشن افسر کودرخواست دہندہ کو یہ بتانا ہوگا کہ نا منظوری کی وجہ کیا ہے- نا منظوری کے خلاف شہری کتنے دنوں کے اندر اپیل کرسکتا ہے اور اپیل کہاں کی جائے ؟

  • شہریوں کو اطلاعات عام طور پر اسی شکل میں فراہم کرائی جائے گی ، جس شکل میں اطلاعات طلب کی گئی ہے- لیکن اگر وسائل نہ ہونے کی وجہ سے یا کسی ریکارڈ کی حفاظت یا رکھ رکھاؤ سے متعلقہ اسباب کی بنا پر طلب کردہ شکل میں اطلاع فراہم نہیں کرائی جاسکتی ہے تو پبلک انفارمیشن افسر درخواست گزار کو دوسری صورتوں میں اطلاعات فراہم کراسکتا ہے-

  • اگر مطلوبہ کردہ اطلاع کا کوئی حصہ فراہم نہیں کرایا جاسکتا ہے تو پبلک انفارمیشن افسر درخواست گزا کو یہ نوٹس دے گا کہ اسے ریکارڈکے اس حصہ کی بنیاد پر ہی اطلاعات مہیا کرائی جارہی ہے جسے عام کیا جاسکتا ہے - وہ درخواست گزا رکو یہ بھی بتائے گا کہ کس دستاویز یا ریکارڈ کے باقی حصے کو عام نہیں کئے جاسکنے کا فیصلہ لینے والے اہلکار کا نام اور عہدہ کیا ہے- درخواست گزارکو یہ معلومات بھی فراہم کرائی جائے گی کہ پوری اطلاع نہیں دیے جانے کی وجہ سے کیا اسے فیس کا کوئی حصہ واپس دیا جائے گا اور ریکارڈ کو مکمل طور پر عام نہیں کرنے کے فیصلے کا تجزیہ کرانے سے متعلق اس کے اختیارات کیا ہیں؟

  • اگر درخواست دہندہ کے ذریعہ طلب کردہ اطلاع کسی تیسرے فریق کو حاصل کرانی ہے اور وہ دعوی کرتا ہے کہ اطلاع پوشیدہ ہے تو پبلک انفار میشن افسر 5 دنوں کے اندر تیسرے فریق کو نوٹس دے گا اور اسے نوٹس ملنے کے 10 دنوں کے اندر اپنی بات رکھنے کا موقع دے گا-

اطلاعات کی حصولیابی

سوال : کن اطلاعات کو مہیا نہیں کرایا جاسکتا ؟

جواب : درج ذیل معاملات میں اطلاعات مہیا نہیں کرائے جانے کی چھوٹ ہے-

  • جس اطلاع کو عام کرنے سے ہندوستان کی سلامتی، وحدت، حفاظت، سائنسی مفادات یا اقتصادی امور اور بین الاقوامی تعلقات پر منفی اثر پڑتا ہو یا کسی جرم کے ارتکاب کی تحریک ملتی ہو-

  • جس اطلاع کو ظاہر کرنے پر عدالت نے روک لگا رکھی ہو یا جسے عام کرنے سے عدلیہ کی توہین ہوتی ہو-

  • جس اطلاع کو فراہم کرانے سے پارلیمنٹ یا کسی ریاست کی قانون ساز اسمبلی یا قانون ساز کونسل کے خصوصی اختیارات کو نقصان پہنچتا ہو-

  • جس اطلاع سے کارو باری اعتماد ، تجارتی راز داری، ثقافتی ورثہ سے متعلقہ معاملات پر منفی اثر پڑتا ہو لیکن اگر پبلک انفارمیشن افسر کو یہ اعتماد ہو جاتا ہے کہ ایسی اطلاع فراہم کرانا مفاد عامہ میں ضروری ہے کہ وہ اطلاع دے تو وہ اطلاع دے سکتا ہے-

  • کسی بھی غیر ملکی حکومت سے آپسی اعتماد کے تحت حاصل ہونے والی اطلاعات-

  • جس اطلاع کو ظاہر کرنے سے کسی شخص کی زندگی خطرے میں پڑتی ہو یا اس کی جسمانی حفاظت کیلئے خطرہ پیدا ہو جاتا ہو یا اطلاعات کے ذرائع کی شناخت کی وجہ سے اور اعتماد میں دی گئی مدد کے معاملے میں کوئی خطرہ پیدا ہو تا ہو یا کسی بھی طرح کے حفاظتی انتظامات کو خطرہ پیدا ہو سکتا ہو-

  • جس اطلاع کو عام کرنے کی وجہ سے جرائم کی تفتیش اور جرائم پیشہ عناصر کی گرفتاری میں رکاوٹ آئے-

  • وزارتی کابینہ کے ایسے کاغذات دستاویز، جن پر وزراء سکریٹریوں اور دیگر اہلکاروں کے صلاح ومشورہ اور تبصرے کا ریکارڈ شامل ہے-

  • جس اطلاع کو عام کرنا مفاد عامہ میں ضروری ہے اور نہ جس سے عوامی مقاصد کی تکمیل ہوتی ہو اور جس سے کسی فرد خاص کی نجی زندگی اور راز داری کے حقوق پر منفی اثر پڑتا ہو-

  • ایسی کسی بھی اطلاع جس کا عام کیا جانا بھلے ہی مفاد عامہ میں ہو مگر جس کے اظہار سے محفوظ مفادات کو نقصان زیادہ ہوتا ہو -

سوال : کیا اطلاعات کو جزوی طور پر عام کرنے کی اجازت ہے-

جواب : کسی ریکارڈ کے ایسے حصے کو جس کی اطلاع عام نہیں کی جاسکتی ہے، اس ریکارڈ کے باقی حصے کو اس سے الگ کیا جاسکتا ہے- اس کے بارے میں درخواست گزار کو اطلاع فراہم کرائی جاسکتی ہے-

سوال : حق اطلاعات قانون کا نفاذ کن کن پر نہیں ہے؟

جواب : آئین کی دوسری شق میں شامل خفیہ محکمہ اور دیگر دفاعی تنظیمیں کوئی اطلاع دینے کے لئے مجبور نہیں ہوں گی- خفیہ بیورو، را، محصولات سے متعلقہ خفیہ ڈائرکٹوریٹ مرکزی مالیاتی خفیہ بیورو، نار کو ٹکس کنٹرول بیورو، پرورتن ندیشالیہ ، ہوابازی ریسرچ سنٹر، سرحدی فورس(خصوصی)، بارڈر سیکورٹی فورس، سی آرپی ایف ، ہند تبت سرحدی پولس، سنٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس، آسام رائیفلس، اسپیشل سروس بیورو، انڈمان نیکو بار لکشدیپ اور دادرنگر حویلی پولس، کی خصوصی سی آئی ڈی شاخیں اور ریاستی حکومت کے ذریعہ اعلانیہ جاری کر کے مستثنی رکھے جانے والے کوئی بھی محکمے- لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان تمام محکموں کو اطلاعات کی عدم فراہمی کی مکمل چھوٹ دے دی گئی ہے- ان سبھی محکموں اور تنظیموں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بد عنوانی اور حقوق انسانی کی خلاف ورزی کے الزامات سے متعلق اعلانات فراہم کرائیں- حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں سے متعلقہ معاملات میں اطلاعات مرکزی یا ریاستی اطلاعاتی کمیشن سے اجازت ملنے کے بعد ہی دی جاسکتی ہے-

حصول اطلاعات کی گزارش کے طریقے

سوال : اطلاعات کی طلبی کےلئے درخواست دینے کے طریقے کیا ہیں؟

جواب : ہندی انگریزی یا متعلقہ ریاستوں کی سرکاری زبان میں پبلک انفارمیشن افسر (پی آئی او) کو تحریری درخواست دیں یا الیکٹرانک ذرائع سے درخواست انہیں ارسال کریں- مطلوبہ  اطلاعات کی وجوہات بتانا نا ضروری نہیں ہے- درخواست کے ساتھ مقررہ فیس جمع کرنی ہوتی ہے- خط افلاس سے نیچے کے درجہ میں آنے والے عرضی گزاروں کیلئے درخواست کی کوئی فیس نہیں ہے -

سوال : اطلاعات کتنے دنوں میں موصول ہو جاتی ہیں ؟

جواب : درخواست دینے کی تاریخ سے 30 دنوں کے اندر اطلاعات فراہم کرادی جاتی ہے- کسی شخص کی زندگی کی حفاظت یا آزادی سے متعلقہ اطلاعات 48 گھنٹوں کے اندر موصول کرانی ہوتی ہیں- اگر درخواست معاون اطلاعاتی افسر کے پاس بھیجی گئی ہے تو اطلاع 35 دنوں میں ملتی ہے - اگر اطلاع دینے سے کسی تیسرے فریق کے مفادات متاثر ہوتے ہوں تو اطلاع 40 دنوں میں فراہم کرائی جاتی ہے- طے شدہ میعاد میں اطلاع نہیں ملتی ہے تو مانا جائے گا کہ اطلاع دینے سے انکار کردیا گیا ہے-

سوال : درخواست کے ساتھ کتنی فیس جمع کرنی ہوتی ہے؟

جواب : اطلاعات کے لحاظ سے فیس طے کی جائے گی اور وہ مناسب لگنے والے اعدادوشمار ہوں گے- اگر اعدادوشمار وغیرہ اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے اور اس کیلئے اضافی فیس لینی ہو تو درخواست گزار کو اس کی تحریری اطلاع دی جاتی ہے- درخواست گزا ر کو حق ہے کہ فیس کے سلسلے میں اپیل کر سکے- خط افلاس سے نیچے گزر بسر کرنے والوں سے کوئی فیس نہیں لی جاتی ہے- اگر اطلاع معینہ وقت کے اندر فراہم نہیں کرائی جاتی ہے تو وہ درخواست گزار کو بعد میں اطلاع بغیر کسی فیس کے دی جاتی ہے-

سوال : اطلاع دینے سے انکار کی  وجوہات کیاہو سکتی ہیں؟

جواب : اگر اطلاعاتی حقوق سے متعلقہ قانون کی دفعہ 8 کے دائرے میں متعلقہ اطلاع دینے سے چھوٹ ملی ہوئی ہو یا دفعہ 9 کے مطابق کوئی اطلاع کسی شخص کے کاپی رائٹس کو متاثر کرتی ہو ایسی اطلاع عام کرنے سے انکار کیا جاسکتا ہے-

اطلاعاتی کمیشن کی تشکیل

سوال : مرکزی اطلاعاتی کمیشن کیسے تشکیل دی جاتی ہے؟

جواب : مر کزی حکومت کی جانب سے اعلانیہ جاری کر کے مرکزی اطلاعاتی کمیشن کی تشکیل ہوتی ہے- کمیشن میں ایک چیف اطلاعاتی کمشنر اور زیادہ سے زیادہ دس اطلاعاتی کمشنر ہوتے ہیں- ان سبھوں کی تقرری صدر جمہوریہ کریں گے- سبھی کمشنروں کو صدر جمہوریہ حلف دلائیں گے - کمشین کا صدر دفتر دہلی میں ہوگا- مرکزی حکومت کی منظوری سے ملک کے دیگر خطوں میں بھی کمشین کے دفاتر کھولے جاسکتے ہیں- کمشین اپنے حقوق کے استعمال کے لئے کسی سے ہدایت نہیں لے گا -

سوال : ریاستی اطلاعاتی کمشین کیسے تشکیل دیے جائیں گے ؟

جواب : ریاستی حکومتیں اپنی سرکار میں اطلاعاتی کمشین کی تشکیل کا نوٹی فکیشن جاری کریں گی- ریاستی اطلاعاتی کمیشن میں ایک ریاستی چیف اطلاعاتی کمشنر ہوگا اور زیادہ سے زیادہ دس اطلاعاتی کمشنر - ان کی تقرری گورنر کریں گے- گورنر ان سبھوں کو حلف دلائیں گے- ریاستی حکومتیں یہ طے کریں گی کہ کمیشن کا صدر دفتر کہاں ہوگا؟ ریاست کے مختلف حصوں میں کمشین کے دفاتر کھولنے کے بارے میں بھی وہی فیصلے کریں گی- ریاستی اطلاعاتی کمشین بھی کسی بھی محکمے سے ہدایت حاصل کئے بغیر اپنا کام کریں گی-

سوال : ریاستی چیف اطلاعاتی کمشنر اور ریاستی کمشنروں کی تقرری کیلئے کیا اہلیت ہوگی؟ اور ان کی تقرری کیلئے کیا ضوابط اختیار کئے جائیں گے-

جواب : تقرری کمیٹی کے صدر وزیر اعلی ہوں گے - باقی اراکین میں مقننہ کے حزب مخالف کے رہنما اور وزیر اعلی کے ذریعہ نامزد ایک کابینی رفیق شامل رہیں گے- ریاستی کمشین ، چیف کمشنر اور کمشنروں کی تقرری کیلئے اہلیت مرکزی کمیشن میں کی جانے والی تقرری جیسی ہی ہوگی- ریاستی چیف اطلاعاتی کمشنر کی تنخواہ مرکزی اطلاعاتی کمیشن کے کمشنر کی تنخواہ کے مساوی ہوگی- اور ریاستی اطلاعاتی کمشنروں کی تنخواہیں ریاست کے چیف سکریٹریوں کی تنخواہ کے برابر ہوں گی-

سوال : اطلاعاتی کمیشن کے حقوق اور کام کیا ہوں گے-

جواب : مرکزی اطلاعاتی کمیشن اور ریاستی اطلاعاتی کمیشنوں کا فرض ہے کہ وہ ایسے افراد سے شکایت حاصل کریں

  • جو اس لئے اطلاعات حاصل کرنے کی درخواست نہیں دے سکا کہ پبلک انفار میشن افسر کی تقرری ہی نہیں ہوئی تھی-

  • جسے اطلاعات کی فراہمی سے انکار کردیا گیا ہو-

  • جسے طے شدہ میعاد کے اندر حصول اطلاعات کی کوئی اطلاع نہ ملی ہو-

  • جس سے درخواست کے ساتھ فیس کے طور پر ایسی رقم طلب کی گئی ہو ، جسے وہ درست نہیں مانتا-

  • جسے محسوس ہوتا ہو کہ فراہم کردہ اطلاعات ادھوری ہو، مضحکہ خیز ہو یا صحیح نہ ہو-

  • جسے اس قانون کے تحت اطلاعات کی فراہمی سے متعلق کوئی اور شکایت ہے، کمیشنوں کو یہ حق ہوگا کہ اگر انہیں محسوس ہوتا ہے کہ شکایت مناسب ہے تو وہ اس پر جانچ کی ہدایت دیں- مرکزی چیف اطلاعاتی کمشنر اور ریاستی چیف اطلاعاتی کمشنروں کو سول کورٹ کی طرح ہی درج ذیل آئینی حقوق حاصل ہوں گے-

  • کسی کو سمن کرنا، اپنے سامنے حاضر ہونے کے لئے کہنا، حلف لے کر زبانی گواہی دینے کے لئے کہنا، حلف لے کر تحریری ثبوت پیش کرنے کو کہنا اور دستاویز پیش کرنے کےلئے مجبور کرنا-

  • دستاویز کا جائزہ لینا

  • حلف نامہ پر ثبوت لینا

  • کسی عدالت یا دفتر سے کوئی بھی عوامی ریکارڈ عکسی کاپیاں طلب کرنا

  • گواہوں سے پوچھ تاچھ یا دستاویز کے جائزے کیلئے سمن جاری کرنا

  • اس سے متعلق دیگر کوئی بھی موضوع یہ ضروری ہوگا کہ قانون کے دائرے میں آنے والے سبھی دستاویز مرکزی اطلاعاتی کمشنر اور ریاستوں کے اطلاعاتی کمشنروں کو حاصل کرائے جائیں اور انہیں ایسے ریکارڈ بھی فراہم کرانے ہوں گے جنہیں عام کرنے سے چھوٹ ملی ہوئی ہو-

کمیشنوں کو اپنے فیصلے پر عمل در آمد کرانے کیلئے درج ذیل طاقتیں بخشی گئی ہیں-

  • اطلاعات تک شہریوں کی رسائی سہل کرانا تا کہ مخصوص شکل میں اسے اطلاعات مل سکے

  • اگر پبلک انفارمیشن افسر اور معاون پبلک انفارمیشن افسروں کی تقرری کہیں نہیں ہوئی ہو تو متعلقہ محکمے کو یہ تقرری کرنے کی ہدایت دینا

  • اطلاعات اور اس کے مندرجات کو شائع کرانا

  • ریکارڈ رکھے جانے کے طریقے اس نظم کے طریقے اور ریکارڈ ضائع کئے جانے سے متلعق اصولوں میں تبدیلی لانا

  • حق اطلاعات کے بارے میں اہلکاروں کی تربیت کے دائرے کو بڑھانا

  • حق اطلاعات قانون پر عمل درآمد کے سلسلے میں مختلف محکموں سے سالانہ رپورٹ طلب کرنا

  • شکایت کرنے والے کو ہوئے کسی بھی نقصان کی تلافی کرانا

  • اس قانون کے تحت جرمانہ کرنا

  • درخواست کو نا منظور کرنا

سوال : قانون پر عمل کی رپورٹ کیسے بنے گی؟

جواب ؛ ہرسال کے اخیر میں مرکزی اطلاعاتی کمشین قانون کے تقاضوں کو نافذ العمل کرنے کے سلسلے میں مرکزی حکومت کو ایک رپورٹ بھیجے گاریاستی اطلاعاتی کمیشن ریاستی حکومتوں کو رپورٹ ارسال کرے گا- ہر وزارت کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ اپنے ما تحت آنے والے محکموں ، تنظیموں سے آئی رپورٹ کو یکجا کرا سے مر کزی اطلاعاتی کمیشن/ ریاستی اطلاعاتی کمیشن کو ارسال کرے- ہر رپورٹ میں موصولہ درخواستوں کی تعداد، نا منظور کی گئی درخواستوں کی تعددا، منظور کردہ درخواستوں کی تعداد، اپیلوں کی تعداد، کی گئی تادیبی کارروائیوں کی تفصیل، فیس یا معاوضہ کے طور پر موصولہ  رقم کی تفصیل وغیرہ ارسال کرنا ہوگا- مرکزی حکومت مرکزی اطلاعاتی کمیشن سے موصولہ رپورٹ کو پارلیمنٹ میں پیش کرے گی- ریاستی حکومت ریاستی اطلاعاتی کمیشن کی سالانہ رپورٹ کو ریاستی اسمبلی میں پیش کرے گی-

سرکاروں کے رول / کردار

سوال : حق اطلاعات قانون کے معاملے میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کا کیا رول رہے گا؟

جواب : حکومتیں اس قانون کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کا کام کریں گی- ایسے تعلیمی پروگرام بنائیں گی کہ لوگوں کو اس قانون کے ذریعہ حاصل اپنے حق کی وسیع جانکاری ملے- حکومت کے مختلف شعبوں اور تنظیموں کو ایسے پروگراموں میں شر کت کی ترغیب دی جائے گی جن سے لوگ بیدار ہوں- صحیح معلومات عوام تک پہنچانے کیلئے تشہیر وتبلیغ کی جائے گی - حکومتیں اپنے اہلکاروں کو تر بیت دینے کا کام کریں گی اور انہیں تربیتی وسائل فراہم کرائیں گی- ریاستی حکومتیں اپنی اپنی سرکاری زبانوں میں اس قانون کے بارے میں ہدایت نامہ شائع کر کہ اس کو وسیع پیمانے پر تقسیم کریں گی - وہ پبلک انفار میشن افسروں کے نام ، عہدے، پتے اور ان سے رابطہ کرنے کے باقی تفصیلات شائع کریں گی حکومتیں فیس کے بارے میں اور اس قانون میں لوگوں کو دیے گئے حقوق کے بارے میں تفصیل سے معلومات کی اشاعت اور ترسیل کریں گی-

سوال : اس قانون کے نفاذ کیلئے ضابطہ سازی کا حق کسے ہے؟

جواب : مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتیں اس قانون کے مندرجات کو نافذ کرنے کیلئے ضوابط بنا سکیں گی- اس قانون کی دفعہ 2 (ای) میں بتا یا گیا ہے کہ اور کنہیں قانون سازی (ضابطہ سازی ) کا حق ہوگا

سوال : اگر اس قانون کو نافذ کرنے میں کوئی دقت آئی تو اس سے کیسے نپٹا جائے گا؟

جواب : قانون کی دفعہ 30 کے مطابق مرکزی حکومت کو حق ہوگا کہ اگر اس قانون کے کسی ضابطے کے نفاذ میں کوئی مشکل پیش آتی ہے تو حکومت  ایک حکم نامہ شائع کر کے اس مشکل کو دور کرنے کیلئے لازمی ضوابط بنا لے-

 

 


 

Sitemap           Search           Feedback

© Copyright AICC 2009 | Privacy policy. Best viewed with IE 5 + browsers at 1024 X 768 resolution.