ایثار
دوستو! گذشتہ 6 سالوںسے جب سے میں نے سیاست کی دنیا میں قدم رکھا ہے ایک بات میرے ذہن میں بالکل واضح تھی،اوریہ کئی مرتبہ اپنی گفتگومیں دوہراچکی ہوں کہ وزارتِ عظمی کا منصب میرامقصد نہیں ہے۔
میراذہن بالکل صاف تھا کہ جب کبھی اسطرح کی صورتحال پیداہوگی جوآج نمودارہوئی ہےاس وقت میں اپنے دل کی آواز پر عمل کروں گی۔ آج میرا ضمیر مجھ سے کہہ رہاہےکہ اس منصب کو قبول نہ کروں۔
آپ نے اتفاق رائے سے مجھکو اپنا لیڈر منتخب کیا ہے۔ یعنی آپ نے میرے اوپر اپنے مکمل بھروسہ اور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اس اعتماد اور یقین نے میرے ذہن پر بہت دباؤ ڈالاکہ میں اپنے فیصلے پر نظرثانی کروں۔ مگر اصولوں نے مجھے مجبور کردیا کہ میں انہیں کی اطاعت کروں اوور وہ میرے لئے ہمیشہ مشعل راہ رہی ہیں۔
اقتدارنے مجھے کبھی نہیں لبھایا ہےاورنہ ہی حصول منصب میر انصب العین رہاہے میرا مقصد اپنےملک کی سیکولر بنیاد کی حفاظت اورغریبوں کے مفاد کا تحفظ رہاہے۔ جو اندارگاندھی اور راجیو گاندھی کا مسلک تھا۔
اس سمت میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ہم نے کامیابی کے ساتھ ایک مہم سرکی ہے۔ لیکن ابھی ہم نے جنگ جیتی نہیں ہے۔ یہ ایک لمبی اور بہت مشکل لڑائی ہے ہم پختہ ارادے کے ساتھ اسکو جاری رکھینگے۔
لیکن میں آپ سے درخواست کروں گی کہ آپ میرے عزم مصمم کو سمجھئیےاورمیرے فیصلے کو قبول کیجئیےاوریہ مان لیجئے کہ میرا یہ فیصلہ اٹل ہے۔
اس نازک وقت میں ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم ہندستان کو ایک سیکولر، مستحکم اور پائیدار حکومت فراہم کریں۔
دوستو! آپ نے مجھکو بھرپورتعاون دیا۔ آپ نے نامساعد حالات میں میرے ساتھ جدوجہد کی۔ آپ کے کاروان کےایک ساتھی اور کانگریس پارٹی کی صدر کی حیثیت سے میں عہد کرتی ہوں کہ میں آپ کے ساتھ مل کر ملک کی خدمت کرتی رہوں گی۔
دراصل اپنے اصولوں، نظریوں اور خیالوں کے لئے جدوجہد کرنے کا میرا عزم پہلے کے مقابلہ میں اب کہیں زیادہ بختہ اور مصمم ہوگا۔
18مئی 2004 ،محترمہ سونیا گاندی کا خطاب کانگریس پارلیمنڑی پارٹی میں
عزم
کل ہم نےجب کانگریس پارلیمانی پارٹی کوخطاب کیاتھاتو مجھےتوقع تھی کہ کچھ مایوسی اور پژمردگی کا ماحول ہوگا۔ لیکن تقریبا ملک کےکونےکونے سےجن وفورجذبات کا اظہارہواان سے میں بہت متاثراور جس طرح کی محبت اور تعلق کا مسلسل لوگوں نے مظاہرہ کیا وہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔
مجھکوآپ تمام حضرات سےجومایوس یا مغموم ہیں یہ کہناہےکہ میں کہیں نہیں جارہی ہوں،میں تاہنوزسیاست سےوابستہ ہوں جب تک آپ چاہینگےمیں کانگریس کی صدراورپارلیامنٹ میں کانگریس پارٹی کےقائد کی حیثیت سےکام کرتی رہونگی۔ میں آپ میں سےایک ہوں اوراسمیں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔
میں نےفرض شناسی اور ذمہ داری کےایک احساس کےساتھ سیاست کی دنیا میں قدم رکھا۔ میرے خاندان نےسیاست کوہمیشہ ایک بہتر ہندستان کی تعمیر کیلئےایک جہاد سمجھا۔ انداراگاندھی اورراجیو گاندھی نےاپنےملک کیلئےعظیم قربانیاں دیں۔ انکی مثالوں نےہم سب کوخاص طورپرمجھکو بہت حوصلہ دیا ہے۔ میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ انکی بہت ہمت اورجرات سےمیں تقویت حاصل کرتی ہوں۔ خواہ کتنی ہی مشکلات اوردشواریوں کا مجھےسامناکرنا پراہو، ان کےمقابلہ ان کی کوئی حییت نہیں ہے۔ یہ انہیں کی روحانی قوت اورطاقت ہے جومیری اورکانگریس پارٹی کی رہنمائی کررہی ہے۔
میں آپ کی مایوسی کوسمجھتی ہون مگرآپ سےاپیل کرتی ہوں کہ آپ میرے احساس کی گہرائیوں کو سمجھئیے ، جب میں اصرار کررہی ہوں کہ میں اپنا فیصلہ واپس نہیں لے سکتی۔ ہم ایک ایسےدورمیں زندگی گذاررہے ہیں جہاں سیاست کا مقصد اقتدارکا حصول ہے۔ ہمیں دنیا کو دکھانا چاہیے کہ کانگریس پارٹی کےنزدیک سیاست اقداراور دیانتداری کیلئے ہے۔
جیسا کہ میں نےکہاکہ میں آپ کی محبت سےبہت متاثر ہوں ۔ لیکن اب ضرورت ہےکہ ہم پچھلی سرکار کےنقصانات کے تدارک میں سنجیدگی سےمصروف ہوں اوراپنے خوابوں کے ایک نئے ہندوستان کی تعمیر کو یقینی بنائیں۔
میں آپ سے اپیل کرتی ہوں کہ آپ نئے وزیر اعظم سےتعاون کیجئے اور میں آپ سے یہ بھی درخواست کرتی ہوں کہ نئی کابینہ کی بھرپور مدد کیجئے۔ کانگریس پارٹی میں قابلیت وصلاحیت کی بہتات ہے۔ آئیے ہم سب مل کر ہندستان کواس کےشایان شان حکومت فراہم کریں۔ میں اپنی طرف سے یقین دلاتی ہوں کہ میں ہمیشہ یہیں رہونگی اور پارٹی کی خدمت کرتی رہونگی۔ کانگریس میری زندگی ہے۔آپ سب ہمارے خاندان کے فرد ہیں۔ آئیے ہم سب مل کر 21ویں صدی کا ایک نیا ہندوستان تعمیر کریں جس کاخواب راجیو گاندھی نے دیکھاتھا۔
جئے ہند!