یوتھ کانگریس ضلع صدور کی کانفرنس گاندھی اسمرتی اور گاندھی درشن کمیٹی راج گھاٹ نئی دہلی 26جولائی 2006


آج آپ کی تین روزہ کانفرنس کا آخری دن ہے۔ اس کو میں ٹریننگ کی جگہ جان بوجھ کر کانفرنس کہہ رہی ہوں۔ جیسا کہ اس کے نام سے ہی ظاہر ہے۔ اس میں آپ کو ایک دوسرے سے پیغامات کے تبادلے یعنی گفتگو کرنے اور رائے مشورہ کا موقع ملا ہوگا۔ یہ بھی ایک بڑی بات ہے ۔ آپس میں میل جول اور آپسی سمجھ کے ذریعہ پارٹی کی طاقت بڑھتی ہے۔ مل جل کر آگے بڑھنے کا حوصلہ اور اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ جہاں تک ٹریننگ کیمپ کا سوال ہے میری رائے ہے کہ وہ کم از کم پانچ دن کے ہونے چاہئیں۔ جس کا آغاز نیچے سے ہونا چاہئے۔ پہلے بلاک اور ضلع کی سطح پر کیمپ لگائے جائیں پھر ریاست کی سطح پر اس کا انعقاد ہو اور پھر ملکی سطح پر ہونا چاہئے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کیمپوں میں کارکنان کو تعلیم کون دے؟ اس کے لیے پہلے آپ کو ٹریننگ دینے والے افراد تیار کرنے ہوں گے۔ انہیں ٹریننگ دینی ہوگی، ایسے جوان لڑکے اور لڑکیاں جنہیں کانگریس کی تاریخ اور نظریات کا علم ہو، ملک اور قوم کی تاریخ اور تہذیب کا علم ہو، مختلف سیاسی جماعتوں کے نظریات میں فرق کی انہیں مکمل معلومات ہو،ان کی تلاش اور انتخاب کرنا ہوگا۔انہیں اس بات کی ٹریننگ دینی ہوگی کہ وہ نوجوان کانگریس کے کارکنان کو کس طرح ٹریننگ دیں گے یہ پہلی سیڑھی ہے۔ اس کے بعد ہی صحیح طریقے سے آپ کی ٹریننگ کا کام شروع ہوسکے گا۔ لیکن آپ کے پاس غو ر و فکر میں وقت گزارنے کے لیے موقع نہیں ہے۔ ملک اور دنیا کی سیاست میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ ہمارے یہاں بھی  نئے سیاسی حالات ہیں۔ کانگریس نے مرکز میں پہلی مرتبہ مخلوط  حکومت بنائی ہے۔ مختلف ریاستوں میں ہمارے سامنے چیلینجز ہیں۔مذہب اور ذات برادری کی بات کرنے والے طبقات کے تنگ نظریے نے سماج کے سامنے ڈھیر سارے سوال کھڑے کر دئے ہیں۔ ہمیں ان کا حل تلاش کرنا ہے۔ گاؤں اور اپنے کسان بھائیوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے بھی ابھی بہت کام کرنا ہے۔ دہشت گردی کی دقتیں بھی سامنے ہیں، یہ پورے ملک کے لیے ایک چیلنج ہے۔ میں جانتی ہوں کہ آپ سب لوگ ہمت کے ساتھ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ابھی اسی 21مئی کو سری نگر میں یوتھ کانگریس کی ریلی پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا۔ ہمارے تین بہادر نوجوان شہید ہوئے تھے، ہمیں ان پر فخر ہے۔ ایسی قربانی رائیگاں نہیں جاتی۔ ملک کی سب سے عظیم قدیم اور ذمہ دار پارٹی ہونے کے ناطے کانگریس اپنی ذمہ داری اچھی طرح سمجھتی ہے۔ ملک کے سامنے جب بھی کوئی بڑا چیلنج آتا ہے تو اس کا مقابلہ نئی نسل کرتی ہے۔ ہمارے ملک کی تاریخ جتنی پرانی ہے آج عمر کے لحاظ سے ہندوستانی نوجوان بھی اتنا ہی تازہ ہے۔ باشندگان وطن میں سب سے زیادہ تعداد نوجوان طبقہ کی ہے، آپ سب کی ہے۔ اس لیے میں صرف یہ نہیں کہتی کہ مستقبل آپ کا ہے۔ میں تو یہ کہتی ہوں کہ حال بھی آپ کا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی اور پرانی دونوں نسلوں کو اس کا احساس ہونا چاہئے۔ نئی پیڑھی کا فرض ہے کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ سنبھل کر لیکن مضبوطی کے ساتھ اپنے قدم بڑھائیں اور پرانی پیڑھی کا یہ مذہب ہے کہ وہ نئی پیڑھی کو آگے بڑھنے اور اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنے کا موقع دیں۔ اس کا راستہ آسان کرے، اس ہدف کے لیے ٹریننگ ضروری ہی نہیں بلکہ نہایت لازمی ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ اس پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔
جہاں تک کانگریس پارٹی کا سوال ہے، ہماری مرکز کی یوپی اے سرکار اور ہماری ریاستی سرکاریں اپنی اپنی سطح پر پارٹی کی پالیسیوں، پروگرام اور منصوبوں کے مطابق کام کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مرکز میں تمام حلیف جماعتوں نے مل کر جو کم از کم مشترکہ پروگرام بنایا تھا اس پر تیزی کے ساتھ عمل ہورہا ہے۔ آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ اس کم از کم مشترکہ پروگرام میں زیادہ تر مدے اور وعدے وہ ہیں جو ہمارے انتخابی اعلانات میں تھے۔ ہم مرکز کی مخلوط حکومتوں کی تاریخ میں اپنے کام سے ایک مثال قائم کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے مخالفین کو کافی تکلیف ہے۔ وہ قدم قدم پر دقتیں کھڑا کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ پارلیامنٹ کی کارروائی میں مشکلات حائل کرنا بھی ان کی سیاست کا ایک حصہ ہے۔ مگر ہمارا عزم ہے کہ ہمیں اپنے راستے پر چلتے رہنا ہے۔ ملک کے فائدے میں قدم اٹھانا ہے۔ ہر مشکل کا سامنا کرنا ہے۔ جس کے دل میں اپنے ملک اور قوم کے لیے درد ہو اس کے قدم کبھی پیچھے نہیں ہٹتے۔میں مانتی ہوں کہ نوجوان بنیادی طور پر اصول پسند ہوتا ہے۔اس لیے میں آپ سے امید کرتی ہوں کہ آپ چھوٹی چھوٹی باتوں میں نہ پڑ کر اپنے اصولوں اور ہدف پر نگاہیں رکھیں۔ ہمیں عوام کی خدمت کرنی ہے، سماج سے بھید بھاؤ، نا انصافی اور ظلم کو مٹانا ہے۔ غریب، کمزور، دلت ، آدی واسی، اقلیت اور بہنوں کا ساتھ دینا ہے۔ غریبوں اور کمزوروں کا ساتھ دینے سے زیادہ پاکیزہ اور کوئی بھی کام نہیں ہوسکتا۔ ابھی حال ہی میں مرکزی حکومت نے قومی دیہی روز گار ضمانتی قانون ، حق اطلاعات جیسے قوانین اور بھارت نرمان جیسے پروگرام بنائے ہیں جو اپنے میں ایک تاریخی قدم ہے۔ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ ہم ہر سال اپنے کاموں کی رپورٹ عوام کو دیں گے۔ دو سال مکمل ہونے پر ہماری دوسری رپورٹ سامنے آچکی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ وہ رپورٹ اپنی تمام اکائی تک پہنچائیں اور لوگوں کو صحیح اطلاعات فراہم کرائیں۔ کوئی بھی نوجوان تنظیم تب تک صحیح طریقے سے مضبوط اور مثالی جماعت نہیں ہوسکتی جب تک وہ تحریک کی شکل نہ اختیار کر لے۔ آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں زیادہ تر عظیم اور انقلابی تبدیلیاں نوجوان تحریک کے ذریعہ ہی منظر عام پر آئی ہیں۔ اگر 1942کا احتجاج نہیں ہوتا، تو ہمیں آزادی شاید اتنی جلدی اور آسانی سے نہیں مل جاتی۔ یہ حقیقی طور پر نوجوان تحریک تھی اور اس زمانے میں اس کے لیڈر جواہر لال نہرو اور ان کے دوسرے معاونین تھے۔ میں آپ کو فخر کے ساتھ بتانا چاہتی ہوں کہ اندرا جی نے اپنے وقت میں نوجوان نمائندگی کو سب سے زیادہ فوقیت دی تھی۔ راجیو جی تو نوجوان نسل کے لیے تھے ہی۔ آج میں خود یہ محسوس کرتی ہوں کہ نئی نسل کو آگے بڑھنے کا زیادہ سے زیادہ موقع ملنا چاہئے۔ اس لیے میں چاہتی ہوں کہ آپ چلینجز کو قبول کرنے کے لیے اپنے آپ کو فوراً تیار کر لیں۔
آج ہماری سیاسی جماعتوںمیں ایک بہت بڑی کمی ہے۔ ہم صرف سیاسی کام کرتے ہیں اور سیاسی پروگرام چلاتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو عوامی اور عملی کام ضرور کرنے چاہئے۔ اس کے بغیر عوام کی حمایت اور تعاون نہیں ملتا۔ عوام اور عملی کاموں سے خود کو بھی اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ روح کی طاقت بڑھتی ہے۔ آج بھی ہمارے سماج میں متعدد برائیاں ہیں۔ جن کے خلاف لوگوں میں بیداری پیدا کرنی ہے۔ ان میں لڑکیوں کے جنین کا قتل، جہیز اور مظالم جیسے نقصان دہ گناہ ہورہے ہیں۔ ایچ آئی وی اور ایڈس جیسی بیماریاں ہیں۔ آبی وسائل فروغ اور پیڑ پودے لگانے جیسے عوامی مفاد کے کام ہیں، جو ہمیں کرنے چاہئیں۔
قومی دیہی روز گار ضمانتی اسکیم اور سروشکشا ابھیان  (سب کے لئے تعلیم ) جیسے پروگراموں میں نوجوان طبقہ کا کافی بڑا کردار ہوسکتا ہے۔ ان پروگراموں کو موثر  بنانے میں حق اطلاعات کا قانون ایک اوزار ثابت ہوسکتا ہے۔ میں امید کرتی ہوں کہ اس ایکٹ کے بارے میں خاص طور سے آپ پوری جانکاری حاصل کرکے اس کا استعمال کریں گے۔ اس کے لیے ہمیں مشقتیں برداشت کرنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ پوری لگن اور عزم کے ساتھ قدم اٹھانے ہوں گے۔ نوجوان نسل میں صلاحیت اور جذبے کی کمی نہیں ہے۔ صرف عزم اور حوصلے کی ضرورت ہے، یہ آپ کو خود پیدا کرنا ہوگا۔میں مانتی ہوں کہ آپ میں صلاحیتیں اور اہلیت کی کبھی کمی نہیں رہی، صرف اس کے پھلنے اور پھولنے کا موقع فراہم ہونا چاہئے۔ وہ مواقع فراہم کرنے کی ہم کوشش کریں گے لیکن آپ کو بھی کوشش جاری رکھنی ہوگی۔مجھے امید ہے کہ ہم مل جل کر کامیاب ہوں گے۔ کانگریس اور ملک کی پھر سے ایک نئی تاریخ بنے گی۔
 

 


 

سوانح عمری

 تقریر

انٹر ویو/ گفتگو

گیلری

 ایثار  

مکرر ایثار  

دستاویز

آرکائیوز
اسکرین سیور