متحدہ ترقی پسند محاذ کی صدر محترمہ سونیا گاندھی کی تقریر کا خاص حصہ جودھری رنویر سنگھ کےاستقبالیہ کتاب کا رسم اجرا ، بمقام - تالکٹورہ اسٹیڈیم ، نئی دہلی مورخہ 26 نومبر، 2005 آج ہم سب ایک خاص مقصد سےیہاں جمع ہوئےہیں۔ میں نےاسےایک خاص مقصد اس لئے کہا، کیونکہ آج کےاس پروگرام میں ہم ایک مجاہد آزادی کی تعظیم کررہے ہیں ۔چودھری رنویر سنگھ کے خاندان کی دونسلوں نے ہماری آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا اور ان کی چار نسلیں کانگریس سےجڑی ہوئی ہیں ۔ ہمارے جن مجاہد آزادی نے مہاتما گاندھی ، جواہر لال نہرو، سردار پٹیل اور مولاناآزاد جیسے قائدوں کے ساتھ چل کر ملک کو آزادی دلائی ، ہمیں ان کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنی چاہیے ، ان سے سیکھنا چاہیے۔ یہ ہمارے لئے خوش قسمتی کی بات ہےکہ چودھری رنویر سنگھ جی جیسےبزرگ آج ہمارے درمیان موجود ہیں۔ جب ہمارے آزادی کےسپاہی آزادی کیلئےجدوجہد کررہے تھے، اس وقت انہیں نہیں معلوم تھا کہ وہ اپنی زندگی میں ہی آزادی کی صبح دیکھ سکیں گے۔لاکھوں لوگوں کےساتھ یہی ہوا۔انہوں نےبڑی مصیبتیں برداشت کیں ،ایثاروقربانیاں دیں ، آزادی کیلئےاپنی زندگی نچھاور کردی۔ان کی قربانیوں کے باوجود ملک نےحوصلے کا دامن نہیں چھوڑا۔ ارادے کو اور تقویت ملی ، بیداری کی ایسی لہر پیدا ہوئی کہ کارواں بڑھتا گیا اور ہمارا ملک دنیا کے پیچ سر اٹھا کرشان سے کھڑا ہوگیا۔ ہمارے مجاہد آزادی نے جو کچھ دیا ہے ، اس کا بدلا ہم نہیں چکاسکتے۔ہم صرف ان کی عزت افزائی کرسکتے ہیں، ان کے سامنے سرجھکا سکتے ہیں ۔ آج اس جلسے میں ہم وہی کررہے ہیں۔ اس کتاب میں چودھری رنویر سنگھ جی نےاپنی زندگی کے کچھ اہم واقعات کا ذکرکیا ہے۔اپنی کچھ یادیں تحریر کیں ہیں ، کانگریس کےاوراپنےخاندان کےکچھ اصولوں کاذکر کیا ہے۔وہ دستور سبھا، پنجاب اسمبلی ، پارلیمنت کےدونوں ایوان کےممبر رہے، دوریاستوں میں وزیر رہے، ان کی طویل سیاسی زندگی رہی ۔لیکنن مجھےخوشی اس بات کی ہے، کہ اپنی سترسال سےبھی زیادہ کی سیاسی زندگی میں انہوں نے کانگریس اور ہندستانی روایتوں کےاعلی اصولوں کو اپنی آنکھوں سےاوجھل نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ شروع سےہی انہوں نے غریب ،کمزور ، کسان ، دلت اور غم زدوں کا ساتھ دیاہے، ان کیلئےجدوجہد کیا، گاؤں کی ترقی اور خوشحالی کیلئےکام کیا ، بدعنوانی کےخلاف لڑائی لڑی ہے۔سماج میں یکجہتی کی کوشش کی ہے ۔ کوئی بھی انسان اپنی زندگی میں اس سے زیادہ کیا کرنا چاہتا ہے اور کیا کرسکتا ہے؟۔ آجکل سماج اور سیاست کا ماحول کچھ بدلا بدلا ضرور نطر آتاہے۔بہت سےلوگ صرف اپنی فکر کرنے لگے ہیں ۔ ایک ،دوسرے کو برداشت کرنےکوتیارنہیں ہے۔ میں مانتی ہوں کہ ایک دوسرے سےآگے بڑھنے کی کوشش ایک حد تک تو ٹھیک ہے، کیونکہ یہ انسانی فطرت میں ہے ۔ لیکن جب یہ مرض بن جائےتومسئلہ پیداہوجاتا ہے ۔ ویسے تھوڑی بہت دقتیں گذشتہ زمانے میں بھی تھیں ۔ رنویر سنگھ جی کی کتاب میں بھی اس کا ذکر ہے ۔ جب انہوں نےگاندھی جی کے ستیہ گرہ میں شامل ہونےکا فیصلہ کیا اوراپنےپتاجی اور ضلع کانگریس صدر پنڈت شری رام شرما جی سےاجازت مانگی تو دونوں نےانہیں پہلے یہی تاکید کی کہ پجناب کی گروپ بازی سےدور رہنا۔ اس وقت ہریانہ نہیں تھا، پنجاب ہی ہواکرتاتھا۔ان کے پتا چودھری ماتورام جی نے کہا ۔‘ بیٹے کانگریس بہت اچھی پارٹی ہے ۔ اس کی مرکزی قیادت بہت ہی اعلی ہے۔ پر پنجاب کی قیادت کافی کمزور ہے ۔گروپ بازی کا ہرطرف چلن ہے ان باتوں کا دھیان رکھتے ہوئے کام کرنا۔ اچھاہوکہ اب ہماری نئی نسل کےجولوگ سیاست میں آرہے ہیں وہ بھی ان باتوں کاخیال رکھیں ۔گروپ بازی اورخودغرضی کی سیاست سےدور رہیں اپنےسے پہلے، ملک اورسماج کادھیان رکھیں۔ ایسےموقع پر بہت سے باتیں کہی جاسکتی ہیں۔لیکن میں آپ کا اور زیادہ وقت نہیں لینا چاہتی ۔ویسے بھی کافی دیر ہوچکی ہے ۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ لوگ بہت دیر سےآئے ہوئے ہیں ۔ سبھوں کوواپس بھی جانا ہے۔ یہاں ہمارے بہت سےبزرگ ہیں، زیادہ دیر ہونے سےانہیں تکلیف ہوگی ۔اس لئے میں انہیں لفظوں کےساتھ چودھری رنویرسنگھ جی کومبارکباد اورنیک خواہشات پیش کرتی ہوں ، کیونکہ آج ان کا یوم پیدائش ہے۔ میری خدا سےالتجا ہے کہ وہ آنے والے کئی سالوں تک ہمارے بیچ رہیں اور نئی نسل کو صحیح راستے پر چلنے میں رہنمائی کرتے رہیں۔ میں انہیں یہ بھی یقین دلاتی ہوں کہ آپ کے بزرگوں اور آپکی نسلوں نے جو مشعل جلایا ہے وہ ہمارے دلوں میں آج بھی روشن ہے، ہم اسےکبھی بجھنےنہیں دیں گے۔ |