صدر کانگریس کی تقریر

صوبے کے صدور کی نشست، کل ہند خواتین کانگریس

تین مورتی بھون، نئی دہلی۔

16- جون 2001

چندریش کماری جی اور بہنوں۔

مجھےیہ جان کربہت خوشی ہوئ کہ خواتین کانگریس نےاپنےلئےپانچ نکاتی پروگرام تیارکیا ہے۔ جس میںتعلیم،صحت کی واقفیت،ماحولیات اورخواتین کےلئےمعاشی مواقع جیسےاہم میدان کا انتخاب۔ کانگریس واحد ایسی پارٹی ہے جس نےخواتین کو اختیار دینے کےمعاملےمیں پیش قدمی کرتے ہوئے پنچایت اورنگرپا لیکاؤں میں خواتین کو33 ،فیصد ریزرویشن دینےکا انقلابی نظریہ پیش کیااوربعد میں اسےنافذ بھی کیا۔اس قدم سے مقامی سطح پرانتظامیہ میں کافی تبدیلی آئی۔ ہماری پارٹی نے ہی اپنی تنظیم میں خواتین کیلئے ایک تہائی جگہ محفوظ کی ہے۔ ہم اسے مکمل طورپرنافذ کرنےکی کوشش کررہےہیں۔ اس کے باوجود میںمحسوس کرتی ہوں کہ ابھی بہت کچھ کرنےکی ضرورت ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ خواتین کانگریس اپنی، پارٹی کی صوبائی حکومتوں کے ربط میں رہےاور ان سے خواتین سے منسلک پروگراموں کے بارے میں رابطہ بنائےرکھے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے وزیراعلی اسمیں تعاون کرینگے۔

ابھی حال ہی میں دوہزارایک کی رائےشماری سامنےآئی ہے۔ اعداد وشمارکے مطابق تعلیم کےمعاملےمیں ہم نے کا فی ترقی کی ہے اس سےنئی امید اوراعتماد پیداہوتاہے۔ لیکن ایک ایسی سچائی بھی سامنےآئی ہے، جس کےبارے میں فورًا قدم اٹھانےکی ضرورت ہے۔ چھ سال تک کےعمرکےبچوںمیں لڑکوں کےمقابلےلڑکیوں کا تناسب کافی کم ہوا ہے۔ پنجاب، ہریانہ، دلی اورہماچل میںحالت زیادہ خراب ہے۔ یہ ایسےعلاقے ہیں جہاں دوسری جگہوں کےمقابلےمعاشی حالت بہتر ہے۔ یہاںپرلڑکیوں کی تعداد کم ہوناحیرانی کی بات ہے۔انکا کہنا ہےکہ خاندان کے لوگ حمل کےوقت ہی یہ طئےکرلیتے ہیں کہ انہیں لڑکی چاہیے یا لڑکا، وجہ خواہ جو بھی ہو،میں چاہتی ہوں کہ خواتین کانگریس اس معاملےپرسنجیدگی سےغورکرے،اس کیلئےسماج میں شعور پیداکرےاوراسےاپنےسیاسی کام کا ایک حصہ بنائے۔ تعلیم کےمعاملےمیں بھی کچھ اسی طرح کا حال ہے۔ دوہزارایک میںجہاں مردوں کی تعلیمی شرح75 فیصدی ہے, وہیں خواتین کی شرح54 فیصدی ہے۔ ہمارے سامنے یہ بھی ایک اہم چیلنج ہے۔

اس موقع پرمیں آپ سے ایچ۔ آئی۔ وی۔ اور ایڈس کے مرض کےبارے میں بھی کہنا چاہتی ہوں۔ ملک میں تقریباً 40 لاکھ لوگ اس مہلک بیماری سے متاثر ہیں یہ فکر کی بات ہے۔ مہاراشٹر، تامل ناڈو، آندھرا پردیش، کرناٹک، منی پوراور ناگالینڈ جیسے صوبوں میں۔اسکا اثرزیادہ ہے۔ اس بیماری کے خلاف لڑنے کا کام صرف حکومتوں پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ سیاسی جماعت اور دوسری سماجی تنظیموں کو بھی اس میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ آپ اپنے لئےجوچاہیں پروگرام طئے کریں میں آپ سے کہنا چاہتی ہوں کہ اسمیں ایڈس کے خلاف تحریک بھی شامل کریں۔ یہ ملک میں صحت کےفروغ کیلئے بہت بڑاکام ہوگا۔

انگریزی میں جسے(Self help gorup) سیلف ہلپ گروپس یا (Micro Credit)مائکرو کریڈٹ، یعنی چھوٹےقرض کا منصوبہ کہتے ہیں،اسکےذریعےحالیہ برسوں میں دیہی علاقوں میں کافی بہتری اور تبدیلی آئی ہے۔

ِسوا،جیسی تنظیموں کا بھی اثرپڑا ہے۔ میں نےاپنےوزرائےاعلی سےاس سلسلےمیں بات کی تھی۔ مدھیہ پردیش اورکرناٹک جیسےصوبوں نےایسےمنصوبےنافذ کئےہیں، جنکا خواتین پراثرپڑاہے۔ خواتین کانگریس کواس طرح کےکاموں میں بھی پیش قدمی کرنی چاہئیے۔

 


 

سوانح عمری

 تقریر

انٹر ویو/ گفتگو

گیلری

 ایثار  

مکرر ایثار  

دستاویز

آرکائیوز
اسکرین سیور