| صدرٍکانگریس کی تقریر، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کا اجلاس مقام تالکٹورا اسٹیڈیم، نئی دہلی ، مورخہ 21،اگست 2004 جناب وزیر اعظم ! کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اراکین کل ہندکانگریس کمیٹی کے ممبران دوستو اور بھائیو! آپ کےروبروکھڑےہوتےہی میراذہن تمام یادوںسےبھرگیاہے۔ مجھےایک جوان فعّال اورترقی پسندوزیراعظم کی یاد آرہی ہےجن کا دماغ افکارونظریات سےمعمورتھااورجوعمل پریقین رکھتےتھے۔ کل ہم نےان کا ساٹھ واں یومٍ پیدائش منایا ۔ راجیو گاندھی ہروقت ہمارے ساتھ ہیں۔ان کی شخصیت سےجس طرح جوش کی ایک لہرپیداہوئی تھی اس نےان کو ہر دلعزیز بنادیا تھا۔ وہ صرف ایک رہمنا ہی نہیں تھے،کچھ لوگوں کیلئے وہ ایک دوست تھے،کچھ کیلئےمددگار تھے،کچھ کیلئے بھائی تھے۔ میں جانتی ہوں کہ انکو کتنا پیار ملتا تھا اور آج تمام کانگریسیوں کو وہ دل کی گہرائی سے کس طرح یاد آرہے ہیں۔ ان کی سنجید گی اورانہماک آج بھی ہمارے لئےحوصلہ بخش ہے۔آج وہ سب یاد کرنےکاوقت ہے،جوسیاست میں آکرانہوں نےقلیل مدت میں کردکھایا، یہ ان ہی کی کوشش تھی جس کی بدولت"پنچایت راج" کا انقلاب رونماہوا،لاکھوں عورتوں، دلتوں اورآدیواسیوں کولوکل سیلف گورنمنٹ میںحصہ داری ملی ۔ یہ ان ہی کی محنت تھی جسکی وجہ سے پنجاب،آسام،میزورم، دارجلنگ اورتری پورا جیسےمتائژہ علاقوں میں امن کا ایک نیا ساماحول پیدا ہوا۔ یہ ان ہی کی قیادت تھی جس کی بدولت امریکہ، پاکستان اور چین کے ساتھ ہمارے تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا۔ یہ ان ہی کی دوراندیشی تھی جسکی بدولت ہندستان اطلاعاتی ٹکنالوجی، کمپیوٹراورمواصلات کی دنیامیں پیش قدمی کی اورپینے کےپانی، ٹیکے،خام تیل،خواندگی اورتوانائی جیسےمیدانوں میں تکنکی مشن شروع ہوسکے۔ ماحولیات سے انکی یہ گہری وابستگی تھی جس کی وجہ سے انہوں نےہندستان کوہرابھرا زرخیز بنانےاور گنگاندی کی صفائی کامشن چلایا۔ انہوں نےہماری دفاعی صلاحیتوں کو مستحکم کیا، ساتھ ہی ساتھ نیوکلیائی طاقت سے آزاد دنیا بنانے کی انتھک کوشش کی۔ انہوں نےایک جدیداور سائنسی تعلیم کی وکالت کرتے ہوئےملک کوایک نئی تعلیمی پالیسی فراہم کی جوسیکولرزم، ترقی پذیراقداراورہماری بہترین تہذیبی روایتوں پرمبنی تھی۔ انہوں نے ہمارے صنعت کاروں اور تاجروں کیلئے نئےافق کے دروازے کھولے۔ راجیو گاندھی نےبہت کچھ کیا پھربھی انہوں نےہمارے ،کام کرنےکیلئےبہت کچھ چھوڑا ہے۔ آج ہم جب یہاں جمع ہوئےہیں توصرف انہیں یاد کرنا ہی نہیں ہےبلکہ ان کےنظریات کےسامنے پھرسےخود کوسپرد کرنا ہے۔ وہ جوکچھ کرناچاہتےتھےاورجو کچھ انہوں نےکیا وہ ہمارے لئےایک مثال ہے۔ لیکن وہ جو کچھ کرنا چاہتے تھے آج وہ اور زیادہ اہم اور کار آمد ہے۔ متحدہ ترقی پسند محاذ( U. P. A)میں کانگریس پارٹی کومستحکم بنانےاوراس کےبنیادی اصولوں کوکارگر بنانےکیلئےمیں جوکچھ بھی کرسکتی تھی اس کے لئے میں دسمبر،1997میں سرگرم سیاست میں داخل ہوئی۔ ہم نے ساتھ ساتھ متعدد انتخابی جنگوں کا سامنا کیا ۔ ہم نےفتح حاصل کی اور شکست کا مزا بھی چکھا حالیہ پارلیمانی انتخاب کےدوران اور اس سےقبل بہت سے پیشن گوئی کرنے والے سیاسی پنڈتوں نے ہمیں دوڑسے باہر کردیا تھا۔ لیکن ہم اپنی جگہ ثابت قدم رہے،اورکامیابی سے ہم کنار ہوئے۔ ہم اس لئے کامیاب ہوئے کیونکہ ہمارے ملک کے عوام نے ہم پر پورا بھروسہ کیا، ہم پراعتماد کیا - انہوں نے ہمیں جس بھروسےکےذریعہ جیت سے سرفرازکیا، ہم انکا شکریہ کس طرح ادا کرسکتے ہیں صرف ان کی خدمت کرکے، اپنی پوری لگن اور محنت سےاور اپنے تمام وعدوں کو پوراکرکے ہی ہم ایساکرسکتے ہیں۔ ہم پورے ملک کےلاکھوں کارکنوں کےانتھک کوششوں کی بدولت کامیاب ہوئے ہیں۔ انہوں نےاپنے ذاتی فائدے اورانعام کی پروا کئے بغیر اور سیاسی پنڈتوں کی پیشن گوئیوں سے متائژہوئے بغیر سخت محنت کی۔ ہم سب کو انکےتعاون کا اعتراف کرنا ہے اورانکی تعریف وتحسین کرنی ہے۔ مجھےاس بات کااحساس ہے کہ تمام کانگریسی کارکن اورخیرخواہ چاہتےتھےکہ میں وزیراعظم بنوں، لیکن آپ سب نےمیرے فیصلےکوسمجھااورقبول کیا میں، اس کیلئےآپ کی شکرگذارہوں۔ یہ فیصلہ میرے دل کا ہے۔ کئی سالوں کےبعد ہمارے پاس وزیراعظم اورصدرکانگریس دونوں ہیں۔ یہ ایک نیا تجرجہ ہے،لیکن مجھے کوئی شبہ نہیں ہےکہ اس سے پارٹی اورحکومت دونوں مزید مضبوط ہوکرسامنے آئیں گی۔ ڈاکٹرمنموہن سنگھ کی شکل میں ہندستان کوایک ایسا وزیراعظم ملا ہےجن کے پاس علم ہے،انتظامیہ کاوسیع تجربہ ہےاورصاف شفاف شہرت ہے۔ ہم ایک بارپھرانکا استقبال کرتےہیں،اورانکومبارکباد دیتے ہیں۔ ہم سب کےلئےمرکز میں مخلوط حکومت کابھی ایک نیا تجربہ ہے۔ ہم نےاپنےمخالفین اورناقدین کوغلط ثابت کرتے ہوئےبہت آسانی سےاپنایاہےاور بہت ہی قلیل مدت میں اپنے کم از کم مشترکہ پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ کم از کم مشترکہ پروگرام زیادہ تر ہمارےاپنےانتخابی منشور پر مبنی ہےاس میں کئی میدانوں میں،یو۔ پی ۔اے۔ حکومت کی ترجیحات،منصوبوں اور پروگراموں کا خلاصہ ہے۔ اسکا ایک ایسےچارٹرکی شکل میں استقبال ہواہےجوہماری سیاست، ہمارےاقتصادی نظام اورسماج کوایک نئی جہت دیتا ہے۔ بی ۔ جے ۔ پی اوراین۔ ڈی ۔اے ۔ نےجو نقصان پہنچایاتھا یہ اس کا تدارک کرے گا اور ایسا کرکے یہ 2004 کےعوامی فیصلے کا احترام کرے گا۔ 2004 کا فیصلہ یہ فیصلہBJP اور NDA کےخلاف بالکل صاف اورواضح فیصلہ ہے۔ ان کےغرور،اقتدارکی ہوس اور ذاتی مفاد کےنشے نےان کی آنکھیں بند کردیں تھیں۔ وہ سمجھ بیٹھےتھےکہ انہیں سیاسی ابدیت مل گئی ہے۔ صاف ہےکہ بی۔ جے۔ پی۔ کو گمان بھی نہیں تھا کہ وہ شکست سےدوچار ہوگی ،لیکن وہ ہار گئی۔اس کےباوجود بی جے پی جسطرح کا سلوک کررہی ہےاس سےاندازہ ہوتا ہےکہ عوام کےاس فیصلےکو دل سےقبول نہیں کررہی ہے۔ وہ یہ تسلیم کرنے کوتیار نہیں ہے کہ لوگوں نے،عوام نےان کو مستردکردیا ہے۔ ہم نےہمیشہ تسلیم کیا ہےکہ عوام کی خواہش سب سےاوپرہے۔ 6، برسوں تک ہم نےایک ذمہ دارحزب مخالف کا کردار اداکیا ہے یہاں تک کہ جب ہماری رائے بھی نہیں مانگی گئی تب بھی ہم نے پارلیامنٹ میں قانون پاس کرنےمیں اپنا تعاون دیا ہے۔ ہم نےخارجہ پالیسی، جموں و کشمیراوردوسرے قومی مفاد کےمتعدد معاملوں میں حکومت کی پیش قدمی کی ، حمایت کی ہے۔ یہ صحیح ہےکہ ہم نے مخالفت بھی کی ،ہم نے احتجاج بھی کیا ہےلیکن ہم نےمنطقی مخالفت اورجان بوجھ کررکاوٹ پیداکرنےکےدرمیان " لکشمن ریکھا " کو کبھی نہیں توڑا۔ ہم نے بےعّزتی برداشت کی ہے لیکن کبھی بےعّزتی نہیں کی ۔ بی۔ جے۔ پی میں صاف طور پربے چین ہےاسکے "غوروخوض کیلئے ہونے والی نششتیں" فکر و تشویش کی نششتوں میں بدل گئی ہے۔ ہمیں کوئی مغالطہ نہیں ہوناچاہیے۔BJP نےعوام کےفیصلےکوقبول نہیں کیا،BJP عوام کےاس فیصلے کی توہین کررہی ہےلیکن ایسا کرکےوہ سب کےسامنےواضح کردے گی کہ وہ جمہوریت مخالف ہے، سفاک اور فرقہ پرست ہے۔ ہم سب کواس سےایک سبق لینا ہے۔ وہ یہ کہ ہمیں کسی بھی صورت میں اقتدارکےغرورکا شکارنہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنی نگاہ سےاس حقیقت کواوجھل نہیں ہونے دینا چاہیے کہ ہم یہاں ملک کے عوام کی خدمت کے لئے ہیں۔ موجودہ سیاسی مسائل اب میں آپ سے کچھ ان ضروری مسائل کے بارے میں بات کرنا چاہتی ہوں جو ہمارے سامنے ہیں۔ ساتھیو،اسوقت شمال مشرق میں جوکچھ بھی ہورہاہےاسکی ہم سب کوفکرہےاورہونی بھی چاہیے۔ بی۔ جے۔ پی اوراسکی حمایتی پارٹیاں،ان حساس علاقوں میں خطرناک کھیل کھیلتی آرہی ہے۔ لیکن بعض لمحات ایسے بھی ہوتےہہیں جب ہمیں امتیازو تفریق کی سیاست کوایک کنارے رکھ دینا چاہیے۔ بغاوت اورسرکشی کا سرکچلناہوگا۔ گفت وشنید کا سلسلہ بھی جاری رکھنا ہوگا۔اس علاقےمیں بنیادی ڈھانچے کاجلدازجلد فروغ ہونا بھی ضروری ہے۔ تمام شمال مشرق کی ریاستوں کی اقتصادی صلاحیت کا پورااستعمال ہونا چاہیےتاکہ اس خطّےکےلوگوں کو اس کا براہ راست فائدہ حاصل ہو۔ دوسال قبل ہماری پارٹی نےجموں وکشمیرمیں ملی جلی سرکاربناکرایک جرا ئتمندانہ قدم اٹھایا ہے۔اسکی بدولت وہاں ترقی کا کام دوبارہ ہونےلگا ہے۔ صوبائی سرکارنےزخموں پرمرہم لگانےکی جو پالیسی اختیارکی ہےاس کی وجہ سےریاست کےلوگوں میں ایک نئی امید اور شرکت کا جذبہ پیدا ہوا ہے۔ یقینی طورپرجولوگ جموں وکشمیرمیں امن وسکون نہیں چاہتےان کےخلاف احتیاطی تدابیر میں کوئی تساہل نہیں برتا جاسکتا۔ لیکن ہم یہ بھی چاہتےہیں کہ جولوگ جمہوری عمل کاحصہ بننا چاہتے ہیں انکوصحیح مقام ملےاورانکی آوازسنی جائے۔ متعددریاستوں میں کئی آدیواسی علاقےایسےہیں جہاں نکسلی تشدد پھیلا ہے۔ یہاںسرکاریں جوکچھ کررہی ہیں اسک علاوہ پارٹی کوبھی اس چیلنج کاسامنا کرنےکیلئےاپناکرداراداکرناچاہیے۔ہمارانصب العین عوام کی سچی نمائندگی کرناہے۔ اسلئےہمیں اپنی آدیواسی بہنوں اوربھائیوں کےمسائل سے خود کو جوڑنا ہوگا۔ میں کل ہند کانگریس کمیٹی کا ایک عملی گروپ بنانے کے بارے میں غورکررہی ہوں جو اس اہم مسئلہ کا گہرائی سے مطالعہ کرے اور تمام سفارشات پارٹی کے سامنے پیش کرے ۔ پانی کا تنازعات لگا تارآپسی جھگڑوں کے سبب بن رہے ہیں۔ ہرصوبےکااپنازاویہ نظرہے۔ اسکی سنوائی ہونی چاہیےاوراس پربحث ہونی چاہیے۔ ہرصوبے کو اپنےصوبےکےمفادات کو دیکھنا ہے۔ لیکن کیا ملک کامفاد سب سےاوپر نہیں ہے۔ ؟ کیا ملک کا جائز حق نہیں ہے کہ وہ اس کا ایک مناسب حل تلاش کرے؟ ہندستان کے بیش قیمت آبی وسائل کا ملک کے تمام لوگوں کی بہتری کے لئے صحیح استعمال ہونا چاہئے۔ ریاستوں کی اپنی اور ملک کے تئیں یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مل جل کر اس کا مناسب حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ موجودہ اقتصادی مسائل، اب میں کچھ ان مسئلوں پر بات کرنا چاہتی ہوں جن کا تعلق لوگوں کے روزانہ کی زندگی سے ہے۔ حال کےبجٹ میں کاشتکاری،روزگار،تعلیم اورصحت پرکافی زوردیاگیاہے۔ یہ ہمارےانتخابی منشورکےمطابق ہے۔ یہ اطمینان کی بات ہےکہ یو۔ پی ۔اے(متحدہ ترقی پسند محاذ)حکومت نے کم از کم مشترکہ پروگرام کوعملی جامہ پہنانےکیلئےاس مرتبہ دس ہزارکروڑکی اضافی رقم مختص کی ہے۔ یہ عام طورپر'' تعلیمی مشن‘‘ کام کےبدلےاناج،روزگارگارنٹی پروگرام،دوپہرکوکھانے کی تقسیم، غریبوں کیلئےصحت بیمہ پالیسی پر خرچ کیلئے ہے۔ اس کے ذریعہ سینچائی منصوبوں کو بھی تیزی سے ہوراکرنے میں مدد ملیگی۔ لیکن عوام کےتئیں ایک جوابدہ پارٹی کےناطےہم مانتےہیں کہ صرف زیادہ خرچ کرنا ہی کافی نہیں ہے۔ ہمارادھیان اس پرہوناچاہیےکہ لاگت کےحساب سےنتائج بھی برآمد ہوں۔ وزیراعظم پلاننگ کمیشن، کے ذریعے خود اس معاملے کی نگرانی کررہے ہیں ۔ یہ ضروری ہے کہ جن کیلئے پرگرام بنے ہیں ان سب کوخاص طور سے ضرورت مند،غریب اورمحروم لوگوں کوزمینی سطح پران کا پورا فائدہ حاصل ہو۔ راجیوگاندھی کیطرح میں بھی مکمل طورپریہ مانتی ہوں کہ گاؤں کی حالت بدلنےکیلئے منتخب پنچایتی اداروں کوقانون کےمطابق فنڈ،اورکام کرنےوالے ملنے ضروری ہیں۔اس کےعلاوہ رقم کےاستعمال میں مکمل شفّا فیت اورجوابدہی بھی ہونی چاہیے۔ لوگوں کی بہبودگی کیلئےجورقم دی گئی ہےاس کےاستعمال کاعلم ان کوہوناچاہئے۔اس کیلئے‘‘اطلاعات‘‘کےحق کو ایک اوزار کےطور پراستعمال کیا جاسکتا ہے۔اس کے ذریعہ عام شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جان سکے کہ کس سرکاری محکمہ میں کہاں کیا ہورہا ہے۔ظاہر ہے کہ اس سےنظام میں بہتری آئےگی۔ کچھ ریاستوں میں اس کےمتعلق قانون بھی بن چکے ہیں۔ خوشی کی بات ہےکہ یہ کام زیادہ ترکانگریس کی صوبائی حکومتوں نے کیا ہے۔ ہماری پارٹی کے کارکنوں اورکلیدی تنظیموں کوملک بھرمیں اس مشن کی رہبری کرنی چاہیے۔ پچھلےکچھ ہفتوں میں،آسام،بہاراورگجرات جیسی ریاستوں کوسیلاب کی خطرناک مصیبت سےگذرنا پڑا ہے۔ وزیراعظم اورمیں نےکئی متا ثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے۔ ہمارے کئ معاون بازآبادکاری کےکام میں لگےہیں۔ یہ راحت کی بات ہےکہ کئی علاقوں کا ڈرتھاوہاں تاخیرسےہی صحیح بارش ہوئی ہے۔ لیکن تاخیرکیوجہ سےنقصان بھی کافی ہواہے۔ مجھےمعلوم ہےکہ سرکاران ریاستوں کےمکمل ربط میں ہے۔ جیسا کہ کئی سائنسدانوں نےکہا ہے۔ شائد یہی وقت ہےجب قحط اورسیلاب سےنپٹنےاوراچھےموسم کا فائدہ اٹھانےکیلئےضلعی سطح پرایک موسماتی کوڈ کی ضرورت ہے۔ اس سےخراب بارش کااثر کم کرنےاوراچھی بارش کا فائدہ اٹھانے کی ہماری صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ ہمارے انتخابی منشور اور سی ۔ایم۔ پی۔ میں ہمارے سماج کے کمزور طبقوں کےمعاشی اور سماجی استحکام اور دیگر اقدامات کےکئی وعدے ہیں ۔ ہم مانتے ہیں کہ ان وعدوں کو پوراکرنا ہمارا اولین فرض ہے۔ پچھلی کانگریس سرکاروںنےدلتوں،ادیواسیوں،صفائیملازموں،پسماندہ طبقوں،اقلیتوںاورمعذوروں بہبودگی کیلئےعلیحدہ معاشی اورترقیاتی کمیشن بنا ئے تھے۔ ان کمیشنوں کےبنیادی ڈھانچےاورفنڈ کی پوریامداد ملنی چاہی،تاکہ وہ ڈاکڑامبیڈ کرکےخوابوں اورامیدوں کےمطابق غریبوں کی خدمت کرسکیں۔ پارٹی کی تنظیم اب میں پارٹی کی تنظیم کےبارے میں کچھ کہناچاہیتی ہوں۔ ابھی پچھلےہفتےہم نےاپنی آزادی کی سالگرہ منائی ہے۔اس وقت ہم سب نےاپنےمجاہدین آزادی مہاتما گاندھی،جواہرلال نہرو،سردارپیٹیل،مولانا آزاد، لال بہادرشاشتری،اندراگاندھی جیسےعظیم رہنماؤں کےایثاراورقربانیوں کویاد کیاہے۔ انہیں کےاصولوں پر چلتے ہوئے ہم یہاں تک پہنچےہیں اورہمیں یقین ہےکہ ہمارےقدم ہمیشہ آگےبڑھتے رہیں گے۔ یہ بات تسلی بخش ہےتمام مشکل حالات کےباوجودحالیہ پارلیمانی انتخاب میں ہم سب سے بڑی پارٹی کی شکل میں سامنے آئے ہیں۔ اپنےحلیفوں اور دوسری سیکولرپارٹیوں کےساتھ سرکار بنائی۔ لیکن اس سےخوش ہوکربیٹھ جانےکی گنجائش نہیں ہے۔ کیونکہ کچھ ریاستوں کے نتائج مایوس کن ہیں۔کچھ جگہوںمیں اندرونی جھگڑوں اورآپسی رسہ کشی کیوجہ سےہمیں بہت نقصان ہواہےاورجہاں٢٠٠٣کےنتیجوں کو ہمیں الٹناچاہیےتھاوہاںبھی ہم منظم طورپرکوشش نہیں کرپائے۔ لیکن کچھ صوبےایسےہیں جہاں ہم کامیاب ہوئےہیں وہاں ہم نےدکھادیاکہ جب کانگریس متحد منظم اور ایک ہدف کے ساتھ آگے بڑھتی ہے تو وہ کیا نہیں کرسکتی ؟ جن ریاستوںمیں ہم حزب مخالف ہیںوہاں ہم بغیرکچھ کئے ہم اس امید پریہ تسلیم کرکے بیٹھےنہیںرہ سکتےکہ لوگ دوسری پارٹیوں کی موجودہ سرکاروں سےتنگ آکراپنےآپ ہمیںووٹ دیدیں گے۔ وہاں کسانوں، مزدوروں اورسماج کےدوسرےکمزور طبقوں کےمسائل کےحل کیلئے پیدل سفراورعوامی رابطےکا پروگرام ہمارری روزمرّہ کی زندگی کاحصہ ہوناچاہئے۔آئندہ کچھ مہینوں میں مہاراشڑ،اروناچل پردیش، بہار،ہریانہ، اور جھارکھنڈ کےاسمبلی انتخابات ہوں گے۔ ہم انکی تیاری کررہےہیں۔ ہمارے لئےہرانتخاب اہم ہےاورہمیں متحد ہوکراپنی کامیابی کے لئے کام کرنا ہے۔ جلد ہی تنطیمی انتخابات کا عمل شروع ہوگا۔ میری آپ سےاپیل ہےکہ ممبرسازی کےعمل میںپوری طرح مصروف ہوجائیں۔ ہمیں سماج کےہرطبقوں کواپنی پارٹی سےجوڑناہے۔ خاص طور سےدلت،آدیواسی،پسماندہ طبقے،اقلیتوں اورخواتین کو زیادہ سے زیادہ ممبر بنانا ہے۔ کانگریس ملک کی تنہا ایسی سیاسی جماعت ہےجس نےسماج کےکمزورطبقوں کواپنی تنظیم میںریزرویشن دیا ہے۔ میری ذاتی کوششوں کے باوجود خواتین کی تعداد کافی کم ہے۔ ہم سب کو حتمی طور پراسکو ٹھیک کرنا ہے۔ اس کےعلاوہ مختلف شعبئہ حیات کےپیشہ ور لوگوں کو بھی پارٹی میں شامل کرنا ہے۔ دوسال قبل ہم تمام وزرائے اعلی اور صوبائی کانگریس کمیٹیوں کو انتخابی ضوابط اور سادگی سے متعلق ایک سرکولر بھیجا تھا ۔ابھی تک اس پر عمل آوری نہیں ہوئی ہے۔ یہ بہت افسوسناک ہے۔ ہمارے ارد گرد کتنے لوگ محرومی کے شکار ہیں۔ اس کے باوجود ہم غریبی کی بات تو کرتے ہیں لیکن خود شان وشوکت کا اظہار دولت کی نمائش اور فضول خرچی کرتے ہیں۔ ہم لوگ جو گاندھی جی کی پیروی کرتے ہیں انکو دوہرا معیار نہیں اپنانا چاہیئے ہمیں اپنے ضمیر کوجگانا چاہیئے اورعوامی زندگی کے ان اصولوں کو اپنانا چاہیے۔ جن میں سادگی اور ایمانداری ہو۔ مجھکو ایسا لگتاہے کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ کل ہند انجمن طلبہ (NSUI ) یوتھ کانگریس، خواتین کانگریس اور ِسیوادل کو کچھ نئے طریقے سے سوچنا چاہیئے۔ مخالفت اور احتجاج کی سیاست کی اپنی ایک الگ اہمیت ہے اور رہے گی ۔ لیکن اس کے ساتھ دوسرے کام بھی ضروری ہیں ۔ لوگوں کوانکےاختیارات سے باخبرکرنا اور انکا حق دلا نا ایک ایسا سیاسی کام ہے جسکو پارٹی موئژ انداز سے کرسکتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیئے کہ سیاست میں انتخابات کے علاوہ بھی کام کرنے کیلئے بہت کچھ ہے۔ مثال کے طور پر خواتین کے حقوق اور بچوں کے فروغ سے متعلق سماجی قوانین پرعمل درآمد کرانےکے مشن کی قیادت ہماری کلیدی تنظیمیں کرسکتی ہیں۔ جہیز، خواتین پر تشدد، کمزور طبقوں پر ظلم وزیادتی، کم عمری کی شادی، بچیوں کا قتل ہے۔ کچھ ایسی سماجی برائیاں ہیں جن کے خلاف زبردست سیاسی کارروائی کی ضرورت ہے۔ میں مانتی ہوں کہ یہ کام خاص طور سےآپ سب نوجواں ہی کرسکتے ہیں۔ میں یہ بھی چاہتی ہوں کہ انٹک (INTUC ) بھی اپنے آپ کو اور زیادہ فعال بنائے اورغیر منظم سیکٹر کے کروٹوں مزدوروں کے سماجی تحفظ کے لئے جدوجہد کرے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ صحت مند دماغ اور جسم کیلئے صحت مند ماحول ضروری ہے۔ لیکن کتنے لوگ صحت مند ماحول میں سانس لے پاتے ہیں؟ کیا ہم لوگ اس کی با بت کچھ نہیں کرسکتے؟ ضرور کرسکتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے عہد کرنا ہوگا۔ ہماری ذیلی تنظیمیں اور کانگریس پارٹی یہ کام کرسکتی ہیں۔ مجھے معلوم کہ اس سے متعلق سرکاری پروگرام موجود ہیں ۔ مگر ہمیں گاندھی جی کی طرح صفائی اور صحت کیلئے انفرادی اوراجتماعی دونوں سطحوں پر کوششیں کرنی چاہییے۔ میں چاہتی ہوں کہ آج ہم سب یہ عہدکریں کہ ہم ایک صحت مند ماحول مشن شروع کریں گے۔ ہم میں ہرایک اپنےگاؤں، قصبے اور شہر میں کہیں نہ کہیں کسی ایک خاص کام کی ذمہ داری لے گا۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ ضروری قوانین کے باوجود اب بھی ملک کی اس راجدھانی اورگاندھی جی کی پیدائشی سرزمین جیسے مقامات پر بھی(Scavenging) غلاظت ڈھونے کا عمل اب بھی جاری ہے۔ عام طور سے ہوتاہےکہ جب پارٹی ایک الکشن جیت جاتی ہے تو سرکار بنالیتی ہے اور تنظیم پیچھے چلی جاتی ہے۔ایسا بالکل نہیں ہونا چاہیے۔ لوگ پارٹی کو ووٹ دے کر اقتدارمیں لاتے ہیں اور پارٹی ا پنی حکومت بناتی ہے۔ اور اسکو اقتدارمیں قائم رکھتی ہے۔ پارٹی اور سرکار کے درمیان یہ گہرا تعلق ہمیشہ قائم رہناچاہیئے، یہی نہیں اسکو مستحکم ہونا چاہیئے، دونوں کے درمیان بات چیت اور تبادلئہ خیال کا سلسلہ جاری رہنا چاہیئے۔ ہماری سرکاریں خواہ مرکز میں ہوں یا ریاستوں میں ان کوتمام کارکنوں کی ضرورتوں کے لئے کافی حساس ہونا چاہیئے۔ اسی طرح جولوگ سرکار میں نہیں ہیں انکو بھی سرکار کی مجبوریوں اور انکی حدوں کو سمجھنا چاہیئے۔ لیکن جولوگ سرکار میں ہیں انکی ذمہ داری زیادہ ہے انکو یہ یقینی بنانا چاہیئے کہ پارٹی کارکن ان تک پہنچ سکیں۔ انہیں یہ محسوس نہ ہوکہ انکو نظراندازکیا جارہا انکے ساتھ دھوکہ ہواہے۔ کچھ ریاستوں میں انتخابات کرانے کی وجہ یہ بھی رہی ہے کہ وہاں سرکار پارٹی سےاوپر ہوگئی۔ سرکاری پروگرام پارٹی کے پروگرام کی شکل میں سامنے نہیں آئے۔ پارٹی اپنی سرکاروں کے کارناموں کو صحیح طریقہ سے پیش نہ کرسکی۔ مستقبل میں ایسا نہیں ہوناچاہئیے۔ نظریاتی جدوجہد میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ بی۔ جے۔ پی۔ کے ساتھ ہماری لڑائی محض انتخابی نہیں ہے۔ بی۔ جے۔ پی۔ کے ساتھ ہماری لڑائی نطریاتی ہے۔ کانگریس اور بی۔ جے۔ پی۔ کے درمیان یہ لڑائی صرف عہدہ اوراقتدار حاصل کرنے کے لئے نہیں ہے۔ اصولی طور پریہ لڑائی ہندستان کے ماضی اور ہندستان کےمستقبل کیے بارے میں دونوں کے بالکل متضاد نظرئے کی ہے۔ کانگریس کی حب الوطنی ہندستانی تہذیب وتمدن اور بہترین روایات پرمبنی ہے۔ یہ ایک سیکولر،آزاد اورسب کوساتھ لےکرچلنےوالی حب الوطنی ہے۔ بی۔ جے۔ پی۔ کی وطن پرستی امتیازوتفرقہ نفرت اور تعصب پرمبنی ہے۔ وہ ان تمام قدروں کے خلاف ہے جوہمارے ملک کی میراث ہے اور جو ہردل میں رچی بسی ہیں ۔ کانگریس کی حب الوطنی ہندستانی روایتوں پر فخر کرنے اور بی۔ جے۔ پی۔ کی وطن پرستی تفرقہ اور نفرت پرمبنی ہے۔ ایک ایسا پیغام ہے جسے ہم سب کو گھرگھر پہنچانا چاہئیے۔ RSS اور اسکی تنظیموں کے خلاف ہماری لڑائی میں کوئی کمی نہیںآنی چاہیئے۔ جب ہمارے مجاہدین آزادی ملک کی آزادی کے لئے جدوجہد کررہےتھے اس وقت بھی RSS کے لوگ سماج میں فرقہ پرستی کا زہر گھول رہے تھے۔ ہماری پارٹی اور ہمارے رہنماؤں کی توہین کرنا انکا تنہا نصب العین رہا ہے۔ آزادی کے بعد ہمارےرہنماوں نےقومی تعمیر کےمہم میں اپنےآپکو جھونک دیا تھا اس وقت بھی RSS نےانکو اور انکی کوششوں کو نیچادکھانےملک کےاتحاد اور یکجہتی کو کمزور کرنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی۔ کسی بھی طرح کی فرقہ واریت اورمذہبی کڑپن جو ہمارے سماجی امن کو تہس نہس کرنا چاہتا ہے اس کے خلاف ہماری لڑائی میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ اسی لئے پچھلے کل ہندکانگریس کمیٹی کے اجلاس کے بعد ہم نے" سدبھاؤنا کے سپاہی" کی تشکیل کی تھی۔ اسی لئےشملہ غوروخوض نشست کے بعد "ہاپوتعلیم یکجہتی ٹرسٹ" کا قیام عمل میں آیا تھا۔ ہم سب میں سے ہرایک کو اسطرح کے کاموں میں حصہ لینا چاہیئے جو بھی طاقتیں ہماری سماجی تانےبانے کو تارتار کرناچاہتی ہہیں انکو روکنے کی ہرممکن کوشش کرناہے۔ اختتام دوستو! آج ہم پورے حق کے ساتھ ایک احساس کا تجربہ کررہے ہیں۔ ہم نے نامساعد حالات پرفتح حاصل کی ہے اور اپنے مخالفوں کو شکست دی ہے۔ لیکن اب یہ وقت اپنے کو چھی طرح منظم کرنے کا ہے۔ یہ وقت اپنے وعدوں کو مکمل کرنے کاہے۔ یہ وقت اپنے عہد وپیماں کو دوہرانے کا ہے اورجو امیدیں لوگوں کے دلوں میں جگائی ہیں انکوپورا کرنے کاہے۔ اسکے علاوہ مستقبل میں جو دشواریاں آنے والی ہیں انکو بھی نظرانداز نہیں کرناہے۔ آئیے ہم سب پورے اعتماد اور مستحکم ارادوں کے ساتھ اپنےقدم آگے بڑھائیں۔ انتخابی نشیب و فراز لازمی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے ملک کے لوگوں کےساتھ خاص طور پر غریبوں، محروموں اور ناداروں کے ساتھ وابستہ ہیں کہ نہیں؟ خاص بات یہ ہےکہ ہم اپنےنظریوں پر کھرے، وعدوں پرثابت قدم اور عمل میں صاف شفاف ہیں یا نہیں؟ چھ سال قبل ایک نئے سفر کے آغاز میں میں نے اس کاروان میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی ہن شانہ بشانہ ہوکر اپنی تقویت کو دوبارہ حاصل کی ہے، اپنے اقدارکو پھرسےمستحکم کرنے کی اور اپنی قوت کے سرچشموں کی پھر سے سراغ لگانے کی کوشش کے ہے۔ یہ سفر جاری ہے۔ آئیے ہم خوشی کے لمحوں میں بغیر مدہوش ہوئے، ناامیدی کے لمحوں میں بغیر ڈگمگائےاور اپنےارادوں میں ثابت قدم رہ کر آگے بڑھیں۔ ( جئے ہند ) |