| کانگریس صدر کی تقریر، دلت کے جلوس میں مقام، اندرگاندھی میدان، سلطان پوری 19-8-2001 بزرگو، بہنوں اور بھائیو کل راجیوگاندھی کی یوم پیدائش ہے۔ آج کےاس عظیم دلت اجتماع نے انکی یاد کو تازہ کردیا ہے۔ راجیوگاندھی، اس ملک کیلئےجیئےاور اس ملک کیلئے شہید ہوئے۔ اور یہ اہم وراثت ہم سب کےسپرد کرگئے۔ آپ کی آواز بلند کرنا اوراس کےہدف کوحاصل کرنا ہمارافرض ہے۔ سماج کےکمزور طبقوں کیلئے، خصوصا دلتوں اورآدیواسیوں کیلئےاندرا گاندھی اور راجیوگاندھی کےجوجذبات تھے، میں انہیں جذبےاورعزم کے ساتھ انکےخوابوں کو پورا کرنا اپنا اخلاقی فرض سمجھتی ہوں۔ مجھےیاد ہےکہ دلّی کی بستیاں، جہاں ہمارے غریب بھائی بہن رہتے ہیں، وہ سب اندراگاندھی نےبسائی تھیں۔ انکی قیادت میں دلّی میں ہزاروں غریب خاندانوں کو رہنے کیلئے مکان اور زراعت کیلئے زمینیں ملیں تھیں۔ راجیوگاندھی انکےنقشٍ قدم پرچلےاورملک کے کونےکونے،میں غریبوں کی گلی کوچوں اور جھونپڑیوں تک پہونچے۔ انکےدِلوں پردستک دی کران کے درد سےرشتہ جوڑا۔ انہیں یہ احساس ہوا کہ سرکاری پالیساں کاغذپرمحدود ہوکررہ جاتی ہیں۔ جن کیلئے وہ بنائی جاتی ہیں، انہیں بہت کم فائدہ مل پاتا ہے۔ راجیوگاندھی مانتے تھے کہ عام شہری کی اقتدارمیں حصےداری ہی اس ہدف کو پورا کرسکتی ہے۔ انہوں نے" پنچایت راج تحریک " شروع کی، تاکہ لوگ اس کے ذریعہ ترقی کرسکیں۔ راجیوگاندھی کا یہی خواب تھا۔ راجیو گاندھی کی تحریک سے مرکزی کانگریس حکومت نے نیا پنچایتی راج کا نیا قانون اورآپ جانتے ہیں کہ اسمیں دلتوں اورآدیواسیوں کوریزرویشن دیا گیا ہے۔ ہماری بہنوں کیلئے ایک تہائی جگہ مخصوص کی گئی ۔ جمہوریت کے باغ کے رنگ نظرآنےلگے۔ راجیوگاندھی کی قیادت میں دلتوں پرہونے والےمظالم کےخلاف ایک قانون بھی بنا۔ سماجی انصاف کا سورج طلوع ہوا اور صدیوں کی تاریکی دورہونے لگی۔ آج کیا بات ہے کہ حالات پھر بگڑ رہے ہیں، ہرروزاخباروں میں دلتوں اور کمزور طبقوں پر مظالم کی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں ۔ پورے سماج پر سوالیہ نشان لگ رہے ہیں مگر موجودہ مرکزی حکومت کھوکھلی ہمدردی دکھانےکےعلاوہ کوئی کاروائی نہیں کرتی۔ دلتوں اور سماج کے دوسرے کمزور طبقوں کے حقوق ہمارے عظیم آئین کی بدولت ہیں، جسے ڈاکٹر امبیڈ کر نے بنایا تھا۔ انکو کانگریس پارٹی کے رہنماؤں کی حمایت حاصل تھی۔ یہ کوئی سیاسی چال نہیں بلکہ ہماری قومی سوچ اور سماجی نظرئے کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔ بی جے پی ۔ اور اسکی متحدہ سرکار نظرثانی کےنام پر اسکو بھی بدلنا چاہتی ہے مگرکانگریس پارٹی نے انکی کوشش کی شروع سےمخالفت کی ہے ہم ایسا کبھی بھی ہونےنہیں دینگے ۔ ہم دلتوں اورغریبوں کے حقوق کےخلاف کوئی بھی چال کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ اس وقت گیارہ صوبوں میں ہماری حکومتیں ہیں۔ میں نےاپنےسبھی وزرائےاعلی کو ہدایت دی ہے کہ دلتوں اورآدیواسیوں کی معاشی اور سماجی ترقی ہمارے سیاسی پروگرام کی مظبوط بنیاد ہونی چاہیے۔ ان کی کامیابی میں ہی ہماری کامیابی ہے۔ ہم نےاپنی پارٹی کے بنگلور اجلاس میں صاف صاف کہا ہےکہ ہم ریزرویشن کےمعاملےمیں کوئی کمی نہیں آنےدینگے۔ گذشتہ دنوں مرکزی حکومت نےدلت اور آدیواسی سرکاری ملازمین کے سلسلے میں کچھ حکم نامےجاری کیئےتھے،جوان کےروشن مستقبل کیلئےخطرناک ہے۔ ہمارامطالبہ ہےکہ ان کوفورًا واپس لیا جائے۔ ریزرویشن کےمعاملےمیں کسی طرح کی مفاہمت ہمارے سماج کیلئےنقصاندہ ثابت ہوگی۔ ہم ریزرویشن کوانصاف کی ترازوکا ایک حصہ مانتے ہیں۔ میں مانتی ہوں کہ ریزرویشن کا فائدہ ان لوگوں کوملے،جوسب سے پسماندہ ہیں، سب سےزیادہ غریب ہیں، یہی انصاف کا تقاضہ ہے۔ میں اپنی دلّی کی حکومت کو مبارکباد دیتی ہوں کہ اس نےدلتوں اورآدیواسیوں کی مسائل کو دورکرنے کیلئےانکا ایک روشن مستقبل بنانےکا فیصلہ کیا ہے۔ صفائی ملازمین کےفروغ کیلئے"صفائی کرمچاری کمیشن" بنانےکا اعلان بھی ہوچکا ہے۔ کانگریس پارٹی جب بھی کوئی پالیسی اورپروگرام بناتی ہے،توانہیں سماج کےغریب بھائی،بہنوں کی امیدوں اورآرزوؤں کےمطابق بناتی ہے۔ ہم دلّی کےدیہی علاقوں پربھی توجہ دے رہےہیں۔ دیہی علاقوں کی ترقی کیلئےبھی جلد ہی ایک بورڈ کی تشکیل ہونے والی ہے۔ عوام کی فلاح وبہبودگی اورترقی کیلئےحکمرانوں کے ارادے پختہ ہونے چاہیے، نیت اورنظریہ صاف ہونا چاہیے۔ کام کرنےکی لیاقت اورقوت ارادی ہونی چاہییے۔ آج مشکل یہ ہے کہ مرکزی حکومت چلانے والوں میں ایسی کوئی بھی علامت نہیں ہے۔ ان کی پالیسیوں نے ہمارے ملک کو برسوں پیچھےکردیا ہے۔ بہت سنجیدہ سوالوں پر بھی پوری تیاری کئے بغیرقدم بڑھا دئیے جاتےہیں۔ اسکی تازہ اور درد ناک مثال آگرہ میں پاکستان کے ساتھ گفتگو ہے۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ پاکستان سےگفت شنید ہو، مگرپوری تیاری کےساتھ ہو۔ ہمارے تعاون کےباوجود بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ سرحدوں پراور جموںوکشمیرمیں دہشت گردی وانتہاپسندی کی وارداتیں بڑھتی جارہی ہیں بے قصورلوگ مارے جارہے ہیں،ان کےخاندان برباد ہو رہے ہیں۔ یہ سرکار بغیرسوچےسمجھےایک کےبعدایک غلط فیصلےکررہی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہےکہ شمال مشرق کے صوبوں میں بھی احتجاج اور تشدد کا ماحول ہے۔ راجیوگاندھی نے ملک کے لئے اقتصادی ترقی کاایک خواب دیکھا تھا ۔ آج ملک کی اقتصادی حالت اتنی خراب ہےکہ عام آدمی کا جینا دشوار ہوگیا ہےاورلوگوں کی خود اعتمادی کو ٹھیس لگی ہے۔ ہرطرف بدعنوانی کا بول بالا ہے۔ آپ نےٹی وی پرسرکار کےحمایتیوں اور بھاجپا کے لیڈروں کورشوت لیتے دیکھا۔ تہلکہ مواصلات، شیئربازار، کسٹم، یو ٹی آئی، نہ جانے کہاں تک انکی بدعنوانی کا تاریک سلسلہ چلتارہےگا۔ ان ہی لوگوں نےراجیوگاندھی پرانگلیاں اٹھائی تھیں ۔ان کےصاف شفاف کردار پر کیچڑ اچھالنےوالے،آج خود بدعنونیوں کےکیچڑ میں سنےہوئے ہیں۔ عوام سےدورگھمنڈ میں چور،یہ حکومت عوام کا دل اوراسکا درد کیا جانے؟ ہزاروں،لاکھوں ہم وطنوں نےاپنےبچوں کےمستقبل کیلئے، اپنےبڑھاپےکیلئےچھوٹی، موٹی بچت کرکے،ملک کااہم ادارہ بنایا تھا۔ بدعنوانی کاسرطان وہاں بھی پہونچ گیا ۔ آج کروڑ سےزیادہ بھائی بہنوں کا پیسہ ڈوب رہا ہےاورسرکار کا جواب ہے کہ ان کو اب تک پتا نہں چلا،اسی طرح کا جواب وہ سرکار دے رہی ہےجس نےایماندار اور صاف ستھری حکومت دینےکا وعدہ کیا تھا۔ بی جے پی۔ این ڈی اے سرکار کی پالیسیوں کی وجہ سےمہنگائی اور بےروزگاری مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔ سماج میں امتیازوتفریق کا نظریہ لگاتار پھیل رہا ہے۔ جب ہم اردگرد نگاہ ڈالتےہیں، توہرطرف مایوسی نظرآتی ہے، تاریکی دکھائی دیتی ہے۔ مستقبل میں اسکا انجام بہت خطرناک ہوسکتا ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے،کہ ایسی پالیسیوں کےخلاف آوازبلندکریں۔ ہمارافرض ہےکہ ہم اپنےبزرگوں کی وراثت کی حفاظت کریں،راجیوگاندھی کےخوابوں کوچکناچور نہ ہونے دیں ۔ انڈین نیشنل کانگریس پارٹی کی روایت جدوجہد کی روایت ہے، ملک کے تعمیر کی روایت ہے۔ غریبوں اور کمزورں کا ساتھ دینے کی روایت ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ کانگریس پارٹی ہمیشہ ان روایات پر قائم رہیگی۔ آپ سب تکلیف برداشت کرکےاس اجتماع میں شریک ہوئے، آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔ اورمیںخاص طوپران سبھی لیڈروں اورورکروں کا شکریہ اداکرناچاہتی ہوںجنہوں نےاس جلسہ کو کامیاب بنانےکیلئے رات دن کام کیے۔ ‘‘جئے ہند‘‘ |