کانگریس صدر ،کی تقریر کا خاص حصہ،

سرینگر ۔ مظفر آباد، بس سروس کی شروعات

سرینگر7 اپریل، 2005

 

 

 

آج کا دن ایک طویل مدّت تک یاد کیا جائیگا۔ ایک نئی تاریخ بن رہی ہے۔آج جو شروعات ہورہی ہے، وہ ایک بہت بڑا قدم ہے۔ کل یہاں ایک واقعہ پیش آیا۔ اسکی تفصیل میں نہیں جاناچاہتی۔ میں صرف آپکی تعریف کرنا چاہتی ہوں، کیونکہ آپ نےاس طرح کے حادثے کا سامنا پہلے بھی بہت بار کیا ہے۔ اسمیں آپ نےاپنےعزیزں کو کھویا، آپکی زندگی میں تباہی آئی۔ پھربھی آپ بہادری کےساتھ حالات کا سامنا کرتےہوئےآگےبڑھ رہے ہیں۔ آپکواچھی طرح احساس ہےکہ ایسےکچھ لوگ ہیں، جو کشمیرمیں امن وچین نہیں چاہتے۔ وہ سمجھتےہیں کہ انکی حرکتوں سے ہمارے قدم رک جائینگے۔ انہیں غلط فہمی ہے۔ ایسا نہیں ہوگا۔ امن کےسپاہی،اپنی جان پرکھیل کر بھی انسانیت کے کام کرتے ہیں۔ آج جو بَس سروس شروع ہورہی ہے، یہ دِلوں کو جوڑنے کی کوشش ہے۔ دِلوں کو توڑنے والے اسکی قیمت نہیں سمجھ سکتے۔ میں دونوں طرف کے لوگوں کو دلی مبارکباد دیتی ہوں ، کیونکہ اس سے ہمارے آپسی رشتے مضبوط ہونگے۔

 

جہاں تک میراذاتی سوال ہے، میرےلئےتو یہ دوہری خوشی کی بات ہے۔ میرےاجداد کشمیری تھے - ہمارا کشمیرکےذرے ذرے سےگہراجذباتی رشتہ ہے۔ جواہرلال نہرو کشمیرکےہر معاملےمیں ذاتی دلچسپی لیتےتھے۔ انکےدل ودماغ میں کشمیر ہروقت رہتا تھا اسی پیاراور جذبےکےساتھ اندراجی اور راجیو جی بچپن سے لیکر اپنی شہادت تک لگاتار کشمیر کے ساتھ جڑے رہے۔ میں آج اپنےلئے بھی یہی کہہ سکتی ہوں۔

 

لیکن کئی باروقت کی آندھی بہت کچھ بدل دیتی ہے۔ انیس سوسینتالیس کےسیاسی حالات نےان کےساتھ جوظلم کیا، اسکا دردآج بھی لوگوں کےدلوں میں ہے۔ اسی کی وجہ سےاس برصغیرکےلوگ ایک دوسرے سےجداہوئے، تکلیفیں بڑھیں، کام کام کاج چوپٹ ہوئے۔ اس سب کا درد سب سے زیادہ میری بہنوں، بچوں اورنوجوانوں کو برداشت کرنا پڑا۔ ہندستان اورپاکستان کےبیچ یقین اوربھروسےکی جگہ، شک کا رشتہ بن گیا ۔ دونوں آزاد ملکوں کو سگےبھائیوں کی طرح پیارسےرہنا تھا۔ بدقسمتی سےیہ رشتہ نہیں بنا۔ لیکن اسکےباوجود اس زمین کے لوگوں نےانسانی اصولوں کےمطابق چلنےکی کوشش کی۔ یہاں کےلوگوں نےسیکولرزم اورآپسی بھائی چارے کو قائم رکھنے کیلئےجوقربانی دی ہے، وہ تاریخ میں ہمیشہ درج رہیگی۔

 

ہم سب جانتے ہیں کہ، کشمیرکےلوگوں کیلئےجہلم والی شاہراہ جذباتی طور پربہت قیمتی ہے۔ یہ سڑک اس جگہ کو تمام دوسرےعلاقوں سے جوڑتی ہے۔ اس لئےجب یہ بند ہوئی تو لوگوں کو بہت تکلیف ہوئی۔ قریب اٹّھاون سال بعد بس سروس کے ذریعےجو قدم اٹھایا جا رہا ہے، مجھےامید ہے کہ اس سےآپسی رشتوں میں زبرداست تبدیلی آئیگی۔ انے والےوقت میں دوسری سڑکیں بھی شروع ہوسکتی ہیں، آنےجانےاور تجارت کے نئےنئے راستے اور دروازے کھل سکتے ہیں۔

 

یہ تسلّی بخش بات ہے کہ پچھلےکچھ عرصہ سے ہندستان اورپاکستان کےدرمیان رشتوں میں بہتری ہوئی ہے۔ سب سے خوشی کی بات تو یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے لوگ یہ محسوس کرنے لگےہیں کہ آپسی لڑائی،جھگڑے سےکسی کا فائدہ نہیں ہوگا۔ امن کےساتھ رہنےمیں ہی فائدہ ہے۔ اسی نظریےسےبات چیت کا سلسلہ بڑھااورہم کافی دورتک آگےآئے ہیں۔ اٹّھاون سالوں سےالگ الگ رہنےکےباوجود ہمارے سماجی، تہذیبی اورجذباتی رشتےنہیں ٹوٹے۔ ہمارے دونوں ملکوںمیں کسی چیزکی کمی نہیں ہے۔ قدرت کی مہربانی ہے۔ اعلی دماغ کےلوگ ہیں، محنتی لوگ ہیں، کھولےدل کےلوگ ہیں۔اگرہم ان سب کاصحیح استعمال کرکےمظبوط ارادےاورپیار کےساتھ آگےبڑھیں، توہندستان اورپاکستان دنیا کےکسی بھی دوسرے ملک سےپیچھےنہیں رہ سکتے۔ جب دوسرے ملک آپس میںمل جل کر آگےبڑھ سکتےہیں توہم دونوں بھائی، آپسی جھگڑوں کی وجہ سےپیچھے کیسے رہ سکتے ہیں؟ آج کل دنیا میں اکثر یہ بات سننے کو ملتی ہے کہ اکیسویں صدی ایشیا کی صدی ہوگی۔ ہم دونوں ملکوں کو مل جل کر اسے ایک سچّائی میں بدلنا ہے۔

 

جہاں تک اس ریاست کی ترقی کا سوال ہے، میں آپ سےکہنا چاہتی ہوں کہ ہماری طرف سےاسمیں کوئی کمی نہیں آئیگی۔ ابھی گذشتہ نومبرمیںجب وزیراعظم ڈاکڑمنموہن سنگھ یہاں آئےتھے، توانہوں نےجموںوکشمیراورلدّاخ کیلئےتعمیری منصوبہ کااعلان کیاتھا۔ میں آپکو پورایقین دلاتی ہوں کہ ہم ہرقدم پر آپکے ساتھ کھڑے ہیں۔

 

میں آج اس مبارک موقع پراس پاربسےہوئےبھائی بہنوں کواپنی کانگریس پارٹی اورپورےملک کی نیک خواہشات ارسال کرتی ہوں، ہم سرینگرمیں ان کےاستقبال کاانتظارکررہے ہیں۔

 

میری دلی تمنّا ہے کہ اب کشمیر، ہندستان اور پاکستان کی گفتگو ساری دنیا میں پیاراور بھائی چارے کیلئے ہو، امن اور ترقی کیلئے ہو، ایک نئی تہذیب کیلئے ہو،جوہمارے لئے خوشحالی کا پیغام لائےاورساری دنیا کیلئے انوکھی مثال بنے۔

 

 


 

سوانح عمری

 تقریر

انٹر ویو/ گفتگو

گیلری

 ایثار  

مکرر ایثار  

دستاویز

آرکائیوز
اسکرین سیور