کانگریس صدر کی تقریر

دلت، ادیواسی، جلسہ

مقام۔ سپرو ہاوس، نیو دہلی

2002-2001

 

 

بزرگو، بہنو اور بھائیو،

 

آج سےصرف چھ دن بعد ہم اپنےعظیم جمہوری ملک کی آزادی کےپچاس سال پورے کرینگے۔ ہمارے دستورکی بنیاد مساوات،انصاف اورباہمی اخّوت کے پاک اصول پررکھی گئی ہے۔ تاریخ کے اس موڑپریہ ضروری ہےکہ ہم جائزہ لیں کہ ان سالوں میں ہم نےکیا پایا اورکیا کھویا ہے۔ یہ صحیح ہےکہ جوہرلال نہرو،اندراگاندھی اورراجیوگاندھی کی قیادت میں کانگریس پارٹی نےآدیواسیوں، دلتوں، پسماندہ لوگوں،عورتوں، اقلیتوں اورسماج کےدوسرے غریبوں کیلئےبہت کچھ کیا ہے۔ لیکن میں یہ محسوس کرتی ہوں کہ ابھی بہت کچھ کرنےکی ضرورت ہے۔

 

دلت اورآدیواسی بھائی بہن ہمارے ملک کی کل آبادی کےبہت بڑے حصہ ہیں۔ آزادی کےبعد سےاب تک ان کی فلاح وبہبوداورترقی کیلئےمنصوبےبنائےاورنافذ کئےگئےہیں۔ جس حد تک ان پرصحیح طرح سےعمل ہواہے،اس حدتک انکی زندگی میں بہتری بھی آئی ہے، لیکن جہاں انکےعمل میں کمی رہ گئی ہے، وہاں اب بھی حالت اچھی نہیں ہے۔ بابا صاحب امبیڈکرنے دستورنافذ ہونےکےوقت اس خطرےسےہوشیا ر کیا تھا۔ انکا کہنا تھاکہ اگرہم اپنی جمہوریت کوسماجی جمہوریت بنانےمیں کامیاب نہیں ہوئےتوہماری جمہوریت اورآزادی کوایک خطرناک چیلنج کاسامناکرنا پڑے گا۔ آج دستور کی گولڈن سالگرہ مناتے وقت ہمیں اپنی جمہوریت اورپورے ہندستانی سماج کو پھر سےاسی نظریےسےدیکھنےکی ضرورت ہے۔ کچھ لوگ،غریبوں اورپسماندہ لوگوں کیلئے بنائےگئے منصوبےکا اپنےمفاد کیلئےغلط استعمال کررہےہیں۔ اس خطرناک بیماری پرقابو پاناہوگا۔

 

مہاتما گاندھی کی قیادت میں کانگریس پارٹی نےدلتوں اورآدیواسییوں کی دشواریوں کوگہرائی سےسمجھااورانہیں ملک کے قومی دھارے میں لانےکی کوشش کی۔ اسی کوشش کا نتیجہ تھا کہ ان طبقوں کیلئےریزرویشن کا بندوبست شروع ہوا اوریہ ہمارے دستورکا حصہ بنا۔ اندرا جی نےدلت سب پلان اورمخصوص کنموننٹ پلانٹ بنایا،جسکےذریعہ آدیواسیوں اوردلتوں کیلئےخصوصی پروگرام نافذ کیاگیا۔انہوںنےتمام مرکزی وزیروں اور ریاستوں کے وزرائےاعلی کولکھا تھا،کہ ان طبقوں کی دشواریوں کےحل کیلئےتمام قدم مضبوطی سےاٹھا ئےجائیں۔ بابوجگجیون رام نے بھی شروع سےلیکر اپنی زندگی کےآخری دنوں تک دلتوں اورآدیواسیوں کےحق کیلئےجد وجہد کیا۔ مختلف منصوبےاورقانون بنانےمیں انکا بہت تعاون رہا ہے۔ نفرت کی حدتک ذاتی تفریق کو مٹانےکےقانون کو، شہری حقوق کےقانون کی شکل دینا اسکی ایک مثال ہے۔

 

آپ جانتے ہیں کہ راجیو گاندھی نےپنچایت راج میں آپ سب کو ریزرویشن دینےکا فیصلہ کیا تھا۔ ان کی کوشش سےجو نیا پنچایت راج قانون بنا اسکا فائدہ اب پورے ملک میں مل رہا ہے۔ اسی طرح انہوں نےدلتوں اورآدیواسیوں پر ہونےوالی زیادتیوں کو روکنےکیلئے سخت قانون بنایا۔ اگر اس پر ایمانداری سےعمل کیا جائے تو پورے ملک میں دلتوں اور آدیواسیوں کے ساتھ کوئی ناانصا فی نہیں ہوسکتی ۔

 

میں نےاپنےدورے کےدوران ملک میں دلتوں اورآدیواسیوں کی زندگی انکی دشواریوں کوبہت نزدیک سےدیکھاہے۔ انکی ناخواندگی، حق تلفی،غریبی اور بےروزگاری کا دردمحسوس کیا ہے۔ تعلیم کےبغیرسماج کاکوئی حصہ ترقی نہیں کرسکتا۔ کانگریس پارٹی دلتوں اورآدیواسیوں کےبچوں کوہرسطح پرتعلیم کی بہترسہولتیں دینا چاہتی ہے۔ میںچاہتی ہوں کہ جن صوبوںمیں کانگریس پارٹی برسرِاقتدارہےوہاں کی حکومتیں اس پرزیادہ سے زیادہ توجہ دیں ۔

 

جنگل، پانی اورزمین ہمارےآدیواسیوں کی زندگی ہے۔ جنگلوں کی حفاظت کرتےہوئےانکا فائدہ آدیواسیوں کوملنا چاہیے۔ اندراگاندھی نےجنگلوں کی حفاظت کا قانون اسی حساب سےبنوایا تھا۔ آدیواسیوں کی زمینوںپربہت جگہ ناجائز قبضے ہوئےتھے۔ کانگریس پارٹی کی حکومتوں نے یہ زمین واپس دلانےکیلئے قانون بنائے ہیں ۔

 

میں یہ محسوس کرتی ہوں کہ میری دلت اورآدیواسی بہنیں، مردوں کےبرابر محنت کرتی ہیں اوراپنی ذمہ داری نبھاتی ہیں۔انکی تعلیم اورانکی ترقی کیلئے مزید مواقع فراہم کرنی کی ضرورت ہے۔ خاص طور سے لڑکیوں کی تعلیم پر ہمیںخصوصی دھیان دینا چاھئیے۔

 

کچھ لوگ دلتوں،آدیواسیوں اورغریبوں کےجذبات بھڑکاکراپنا سیاسی مفاد پوراکرتےہیں۔ انہیں آپکی زندگی میںتبدیلی لانےکی کوئی فکرنہیں ہے۔ کانگریس پارٹی اس طرح کےنظرئےکے ہمیشہ خلاف رہی ہے۔ آپکواپنا حق ملناچاہیے۔ کسی کی مہربانی نہیں۔ مجھے یہ کہتے ہوئےفخر ہےکہ کانگریس پارٹی نےآپ کیلئے اپنا دستور بدلا ہے۔ آپ کیلئے جگہ محفوظ کی گئیں ہیں۔ ہم اقتدارمیں بھی آپکی پوری حصےداری چاہتے ہیں ۔

 

چنددنوں قبل شعبئہ ملازمت نےکچھ ایسےہدایات جاری  کئےتھے، جس سےدلتوں اورآدیواسیوں کی ملازمت میںتقرری اورانکی ترقی میں کافی دشواریاں پیداہوئیں۔ موجودہ حکومت نےیہ اعلان کیا ہےکہ وہ دستورمیںترمیم کرکے،کانگریس کی حکومت میںدی ہوئی سہولت کودوبارہ بحال کریگی۔ محض اعلان سےمسئلہ حل نہیں ہوتا۔ ہم چاہیں گےکہ حکومت اس مسئلےسےمتعلق آئندہ پارلیمانی اجلاس میںبل لائےجسکی ہم حمایت کرینگے ہم یہیں نہیں رکتے۔ جیساکہ ہم نےآپنےانتخابی منشور میں کہا تھا کہ موقع ملا توہم تحفظ بل بنائینگے۔

 

ہم چاہیں گے کہ یہ حکومت اگر دلتوں اورآدیواسیوں کو انصاف دینا چاہتی ہے،عزت دینا چاہتی ہےتو یہ قانون بنانےکیلئے جلد اقدامات کرے۔ ہم ساتھ دینگے۔

 

مجھے امید ہے کہ یہ جلسہ دلتوں اورآدیواسیوں کی پریشانیوں پرپوری سنجیدگی سےغور کریگا۔ زندگی کےتمام زمرے میں آپکو اپنا کردار نبھانےکا پوراموقع ملنا چاہیے۔ برابری اورانصاف صرف لفظی نعرہ نہیں بلکہ یہ ہمارےاقدار ہیں۔انکوہرخاص وعام کاعزم بنانا ہے۔

 

ایک سال بعد ہم نئ صدی میں داخل ہونگے۔ ساری دنیا اسکی تیاری کررہی ہے، ہمیں پیچھےنہیں رہنا ہے۔ راجیوگاندھی نےآج سےپندرہ سال پہلےاسکی تیاری شروع کردی تھی۔ انہوں نےاکیسویں صدی میں ایسےہندستان کی تمنّا کی تھی جسےاپنی آزادی پر فخر ہو۔ جس میں غریبی نہ ہو،سماجی اورمعاشی غیر برابری نہ ہو۔ غربت، بےروزگاری اورناانصافی پر قابوپائےبغیر ہم اپنی آزادی پرفخرنہیں کرسکتے۔ میں چاہتی ہوں کہ نئی صدی میں کانگریس پارٹی پوری قوت سےانکومٹانے کیلئے جدوجہد کرے۔ بیسویں صدی ہندستان کی آزادی کی صدی ہے۔ بیسویں صدی کو ہمیںمساوات، انصاف اورتمام علاقوں میں ہندستان کے احترام کی، ہرباشندے کی عزت کی صدی بنانا ہے۔

 

آپ لوگ الگ الگ ریاستوں سے، اوردور دراز سے یہاں آئےہیں۔ میں آپ سب کو مبارکباد دیتی ہوں۔

 

ُجئے ہند!

 

 


 

سوانح عمری

 تقریر

انٹر ویو/ گفتگو

گیلری

 ایثار  

مکرر ایثار  

دستاویز

آرکائیوز
اسکرین سیور