| کانگریس صدر کی تقریر مقام - نیو یارک 24- جون 2001 پیارے بہنو اور بھا ئیو! مجھےاس بات کی بے حد خوشی ہےکہ اس شام کوآپ سب یہاں جمع ہوئے۔ میں مانتی ہوں کہ جب ہم اپنے ملک سے باہرہوں تواپنےگھریلو سیاست کوایک کنارے رکھ دینا چاہیے۔ واپس وطن جانے پر توپھروہی سب کچھ کرناہے۔آپ سب کی موجودگی سےاتنا توصاف ہےکہ آپکےدل میں کانگریس کیلئے اچھےخیالات ہیں اور آپ اسکی حمایت کرتے ہیں۔ یہ صحیح ہےکہ نئی دہلی میں مرکزی حکومت اسوقت کانگریس کی نہیں ہے۔ لیکن ملک کےاٹّھا ئیس صوبوں میں سےگیارہ صوبےمیں ہماری حکومتیں ہیں۔ ہماری حکومتیں دوسروں کےمقابلے کافی اچھانظم چلارہی ہیں۔ عوام کی خدمت کررہی ہیں۔ وہ اقتصادی اصلاحات، غریبی کا خاتمہ کرنے اور سماجی ترقی کےکاموں پر زیادہ توجہ دے رہی ہیں۔ جن ریاستوں میں کانگریس کی حکومت ہےان میں کئی بڑے صوبے ہیں اوراقتصادی نقطہ نظر سے ان کی اپنی خاص جگہ ہے۔ اسکا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ملک کےایک کافی بڑے حصے میں کانگریس کےخیالات کا اثر ہے، ہمیں عوام کا پیار اور تعاون مل رہا ہے۔ گذشتہ ایک سو پندرہ سالوںسےکانگریس ہندستان کی زندگی کےساتھ وابستہ ہے۔غالباًاسی لئے ہم یہ مانتےہیں کہ اسکے بارے میں سب لوگ سب کچھ جانتےہیں۔ پھربھی درمیان میں اپنےکواوردنیا کو یہ بتانےکی ضرورت پڑتی ہیکہ ہم کیا ہیں؟کن مسئلوں کو لیکرچلتے ہیں،اور دوسری پارٹیوں میں اور ہم میں کیا فرق ہے؟ دراصل کانگریس ہندستان کی وحدت کی تصویر ہے۔ کانگریس کےعلاوہ کوئی دوسری پارٹی ایسی نہیں ہے جوہندستان کےملےجلےسماج کی نمائندہ ہو۔ صرف یہی ہندستان بھرکی ایک پارٹی ہےجوذات،پات، قومیت،مذہب،زبان اورعلاقائی عصبیت کے بغیر ہرہندستان سےجڑی ہےاورجسکو سب سےحوصلہ اورطاقت ملتی ہےکثرت میںوحدت ہی ہندستان کی امتیازی شان ہےاسکااستعمال باہمی تفرقہ کےلئےنہیں ہوناچاہیئے۔ صرف ہماری پارٹی ہی ملک کے تنوع کی قدر کرتی ہےاوراسی میں ہندستان کےاتحاد کودیکھتی ہے۔ بکھرا ہوا ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ کانگریس تنہاایک ایسی سیاسی پارٹی ہے جسکی بنیاد مثبت اورتعمیری ہے،جسکا نظریہ تنگ نہیں ہے،جو فرقہ پرست نہیں ہےاور جسکی نظر میں تمام ہندستانی یکساں ہیں۔ مرکز میں اقتدارسےدور رہنے کےباوجود ہم سنجیدہ قومی مسئلوں پرتفریق کی سیاست نہیں کرتے۔ گذشتہ تین سالوں میں پارلیامنٹ میں ہمارا کرداراس کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ کانگریس دِل سےسیکولرہے۔ ہندستان کےاتحاد اورسیکولرزم پرٹکی ہوئی ہے۔ ہمارے لئے یہ ایک اصول ہے۔ کانگریس وہ پارٹی ہےجسکے رہنماؤں نےاسکی قربان گاہ میں اپنی جانوں کی قربانی دی ہے۔ ہمارے لئےسیکولرزم کا مطلب یہ ہےکہ تمام مذاہب کا یکساں احترام کیاجائےایک طرح کی عزت ملے۔ کانگریس ان عناصر کے بالکل خلاف ہے جو اپنے آپ ہندستانی تہذیب و تمدن کے ٹھیکداربن گئے ہیں۔ سچ بات یہ ہے کہ ایسے لوگ ہماری روایتوں اور وراثتوں کو مسخ کرکے پیش کررہے ہیں۔ راجیو گاندھی نےہندستان میں پنچایت راج کومضبوط کرنےکا ایک بڑا کام کیا تھا ۔ آج ان کے اس کام سے دیہی علاقوں کی شکل بدل رہی ہے، تقریبًا تیس لاکھ منتخب نمائندے اپنی ذمہ داری کو انجام دے رہے ہیں اور زمینی سطح پر جمہوریت کی بنیاد کو مستحکم کررہے ہیں۔ انمیں سے ایک تہائی خواتین ہیں۔ اس طرح آگے بڑھتی ہوئی جمہوریت ہم سب ہندستانیوں کے لئےقابل فخرہے۔ ہندستان میں ان سب لوگوں کواقتدارمیںحصہ داری مل رہی ہےجنکواس سے قبل کبھی نہیں ملی تھی۔ ہم نےجسطرح کےموثرطریقہ اپنائے ہیں دنیا میں انکی مثال نہیں ہے۔ اسکی وجہ سے ہندستانی سماج کےان طبقوں کواختیارات ملےہیں،ان کی آواز بلند ہوئی ہے،جو صدیوں قومی دھارے میں نہیں تھے۔ سماج میں نئے قسم کا تال میل ہورہا ہے،نئےطرح کے رشتے قائم ہورہے ہیں۔ یہ صحیح ہےکہ اسکی وجہ سےکہیں کہیں انتخابی نتیجوں پر اثرپڑتا ہے،استحکام آتا ہے۔ تب ایسا ہونا لازمی ہے۔ ہندستان کےجنوبی اورمغربی ریاستوںمیں اقتصادی ترقی اورسماجی انصاف کاکام ساتھ ساتھ ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ دوسری جگہوں پر بھی اسےممکن بنایا جاسکتا ہے۔ |