| صدرکانگریس کی تقریر، مقام - بیوہری - شاہڈول( مدھیہ پردیش) 12- اپریل 2003 بہنوں اور بھائیو! اس گرام سماج جلسہ میں آپ سب سےایک ساتھ مل کرمجھےبیحد خوشی ہوئی اوراطمئنان ہوا. آج اگرراجیو جی ہمارے بیچ ہوتےتو سارے ملک میں نئی پنچایت حکومت نظام کوکارآمد طریقےسےکام کرتےدیکھ کر، انہیں یہ محسوس ہوتاکہ ان کی محنت اوران کا خواب پوراہوگیا ہے. وہ جانتے تھے کہ ہندستان مختلف رنگ و روپ والا عظیم ملک ہے. ہمارا متحدہ تہذیب و تمدن ہے. ملک میں الگ الگ زبانیں، روایتیں، رسم و رواج ہیں. ایسےبے مثال ملک میں جمہوری نظام ہی چل سکتا ہے. لیکن ہماری جمہوریت تب تک کامیاب نہیں ہوسکتی، جب تک وہ بنیاد سےمضبوط نہ ہو. گاندھی جی کی گرام سوراج اورپنچایت راج کا تصورہماری جمہوریت کی بنیادی شکل کومضبوط کرنےکیلئے ہے. آزادی ملتےہی پنڈت جواہرلال نہروکی قیادت میں کانگریس نےاپنی حکومتوں کےذریعےیہ نظام نافذ کیا. لیکن وقت کےساتھ اس میں کچھ تبدیلی بھی لائی گئی. جب راجیو جی وزیر اعظم بنے، اور ملک بھرمیں گھوم گھوم کراپنے گاؤں کےحالات دیکھے ، غریب کی جھونپڑی تک جاکر یہ محسوس کیا کہ اپنے ارد گرد کی ترقی میں انکی آواز کی کوئی قیمت نہیں ہے، توانہیں بہت تکلیف ہوئی . انہیں لگاکہ جب تک پنچایت راج کےنظام کونئےسرے سےمضبوط نہیں کیا جاتا، تب تک گاؤں، ضلع، صوبہ اورمرکزکےدرمیان ترقی اورنشوونماکا وہ رشتہ نہیں بنےگا، جوگاندھی جی اورپنڈت جی جیسےقائد چاہتےتھے. انہوں نےرات دن محنت کرکے نئےپنچایتی راج کا خاکہ تیارکیا اورملک کےسامنےپیش کیا بد قسمتی سےانکے زمانئہ حیات میں، تب کی حزب مخالف سےضروری تعاون نہیں ملا اورد ستورمیں ترمیم نہیں ہوسکی ۔ لیکن91 کےانتخاب کےبعد جب مرکزمیں کانگریس پارٹی کی حکومت بنی تواس نےراجیو جی کی کوشش سےپنچایت راج قانون بنایا جو آج سارےملک میں نافذ ہے۔ آپ سب لوگ زمینی سطح پرعوام کےحقیقی نمائندے ہیں اورجمہوریت کےمحافظ ہیں. میں آپ سبکو اسکی مبارکباد پیش کرتی ہوں. مجھےاس بات کی خوشی اورفخر ہے کہ ہماری مدھیہ پردیش حکومت پنچایت راج کے معاملے میں سب سےآگے ہے.اس نے پورے ملک میں ایک مثال قائم کی ہے. یہ معمولی بات نہیں ہے کہ صوبہ کے 52 ہزارسےبھی زیادہ گاؤں میں گرام سبھائیں کام کررہی ہیں. مجھے بتایا گیا ہےکہ آئندہ انتخاب میں ہرگاؤں میں گرام پنچایت بنانےکا ارادہ ہے. اس سے گرامن قیادت کی نشو ونما ہوگی، اسےآگےبڑھنے کا موقع ملےگا. پنچایتی راج نظام میں دلتوں، ادیواسیوں، عورتوں اور دوسرے پسماندہ طبقوں کو ریزرویشن ملا ہے. یہ ان لوگوں کو طاقت دینےکی کوشش ہے، جو اب تک سماج کی قطارمیں سب سے پیچھےکھڑے تھے. مجھے یہ سن کربہت اچھا لگا کہ صوبےکے45 اضلاع میں سے20 ضلع پنچایتوں کی صدرمیری بہنیں ہیں. صوبےکی نئی پالیسی سے بھی عورتوں کوکافی فائدہ ملےگا .ملازمت کے شعبےمیں عورتوں کےاپنی مدد آپ مہم کا ایک پروگرام ہوا. میرا دل خوشی سے بھر جاتاہے کہ ان منصوبوں سے اب ہماری بہنیں معاشی پہلوسے بھی اپنے پیروں پر کھڑی ہورہی ہیں. اس سےانہیں خاندان اور سماج کے بیچ نئی عزت ملے گی۔ اپنے آس پاس فروغ اورترقی سےکے کون سے کام ہونے چاہیے، اسے آپ سے بہتر کون جانتاہے پہلے کبھی کبھی یہ ہوتا تھاکہ جہاں سٹرک کی ضرورت ہے وہاں نہر کی پلاننگ ہوتی تھی، جہاں اسکول چاہیے، وہاں تالاب کی تجویزآتی تھی. اب کم سےکم ایسا نہیں ہوگا. ترقی کے کام ٹھیک سے ہونگے۔ آپ جانتےہیں کہ میں لگاتاراس بات پرزوردے رہی ہوں کہ ہم انتخاب کےوقت عوام سےجووعدے کریں انہیں پورابھی کریں۔ وقت پرمیں اپنےسبھی وزیراعلی کی میٹنگ بلاتی ہوں، اورصوبوں میں اپنی حکومتوں کےکاموں کامحاسبہ کرتی ہوں. میں یہ مانتی ہوں کہ جوپارٹیاںخود اپنےانتخابی منشورمیں کئےگئےوعدے پورےنہیں کرتیں، وہ عام آدمی کےمفاد میں کوئی بھی کام نہیں کرسکتیں . کانگریس اوردوسری پارٹیوں میں یہی فرق ہے۔ گذشتہ سال انتخاب میں بھاجپا اورمرکزی حکومت میں شامل دوسری پارٹیوں نےبڑے بڑے وعدے کئےتھے۔ بھاجپا نےتوکہا تھا کہ ہم سارے ملک میں سماج سےڈر، بھوک اورکرپشن مٹا دینگے. ہرسال ایک کروڑ نوجوانوں کوروزگار دیں گے. لیکن کیا ملا ملک میں جگہ جگہ خوف اور دہشت ہے. لوگوں کے پیٹ خالی ہیں۔ موجودہ سنٹرل حکومت نےگھپلوں گھوٹالوں اورکرپشن کےشعبوں میں نئی نئی مثالیں قائم کی ہیں۔ اپنےکارناموں کی وجہ سےجب یہ لوگ عوام کوجواب نہیں دے پاتےتوانتخاب سےٹھیک پہلےلوگوں کوگمراہ کرنے کیلئےایسےایجنڈے اورنعرے اچھالتےہیں جن سےسماج میں زہر پھیلتا ہے. ہمارا سماجی اتحاد کمزورہوتا ہے. کون نہیں جانتا کہ ہندستان کی قومی یکجہتی کیلئےسب سےپہلےسماجی اتحاد ضروری ہے.اسطرح سےجو ہماری سماجی یکجہتی کو کمزورکرتا ہےوہ بھارت کےقومی یکجہتی کو بھی کمزور کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کو وطن پرست کیسےکہا جاسکتا ہے۔ ہمیں آپ سےبہت امیدیں ہیں۔ اگرآپ طےکرلیں تودنیا کی کوئی بھی طاقت ہماری قومی یکجہتی کوکمزورنہیں کرسکتی ۔ ہمیں مل جل کرآگےبڑھنا ہے۔ یہی پنچایت راج کا جذبہ ہے۔ سب کے دل سے یہ آواز نکلنی چاہیے کہ ۔ گاؤں ہمارا ہے صوبہ ہماراہے اور ملک ہماراہے اسی جذبہ سے سب کا مستقبل بنےگا،آنے والی نسلوں کا مستقبل بنےگا. مجھے پورا یقین ہےکہ مدھیہ پردیش ترقی اور بلندی کی نئی نئی منزلوں کی طرف لگا تار بڑھتا رہے گا۔ آپ سب لوگ دور دور سے اپنے کھیت کھلیانوں کا کام چھوڑکر جلسہ میں حصہ لینے کیلئےآئے، اس کیلئے میں آپکو بہت بہت شکریہ ادا کرتی ہوں۔ جئے ہند! |