کانگریس صدر کی تقریر

کسان، سیمنار

مقام ۔ بکسواہا، چھترپور( مدھیہ پردیش)

12- اپریل 2003

 

 

 

بزرگوں، بہنوں اور بھائیوں،

 

میں آپ سب کو مبارکباد دیتی ہوں کہ آپ گرمی کےاس موسم میں خاص طورسے جب فصل کی کٹائی چل رہی ہے، کھلییان کا وقت ہے، اس وقت اتنی بڑی تعداد میں آپ یہاں آئے۔

 

مدھیہ پردیش کامعاشی نظام توزراعت پرمنحصرہے ہی۔ سچائی یہ ہے کہ ہمارے ملک کی معاشی حالت کی بنیاد اورمرکزکاشتکاری اور ہمارے کسان بھائ ہی ہیں۔ ملک میں کوئی بھی حکومت اورانتظامیہ کسانوں کونظر انداز کرکے کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ملک کو خوشحال بنانے کیلئے سب سے پہلے ہمارے گاؤں کو، ہمارے کسانوں کو خوشحال بنانا ضروری ہے۔

 

اس درمیان میں ملک کےکئی حصوں میں اپنےکسان بھائیوں کےبیچ گئی ہوں۔ میں نےاپنی آنکھوں سےان کی تکلیفیں اورپریشانیاں دیکھی ہیں، انہیں محسوس کیا ہے۔ مجھے آپ کی مشکلوں کا احساس ہے۔ مدھیہ پردیش کے ساتھ جن 15 صوبوں میں کانگریس کی حکومتیں ہیں وہ اپنےطورپر فلاح عام کی تمام اسکیمیںچلا رہی ہیں۔ آپ کے ہیاں بھی کئ اسکیمیں شروع ہوئی ہیں۔ ان میں سینچائی کی سہولتوں کوفروغ، کھیتی کیلئے نئی ٹیکنک کی جانکاری،پانی روکوتحریک،راجیوگاندی جل میشن جیسے منصوبے شامل ہے۔ مجھےجانکاری ملی کہ آپکواپنی فصل کی مناسب قیمت دلانےکیلئے بھی کچھ قدم اٹھائےگئے ہیں۔  مجھےامید ہےکہ اس سب کا کچھ نہ کچھ فائدہ آپ کو ضرورملےگا۔ میں بارباراس بات پرزور دیتی ہوں کہ ہمارے کسان بھائیوں کو بجلی ، پانی جیسی بنیادی سہولتیں دینےکے سبھی ضروری اورہرممکن قدم بنا تاخیر کےفوراً اٹھانےچاہیں۔

 

لیکن یہ بھی ایک سچائی ہے کہ کوئی بھی ریاستی حکومت اپنےکسانوں کا بھلا نہیں کر سکتی۔ کسانوں کی ہی نہیں، نوجوانوں،عورتوں،غریبوں اورسماج کےدوسرے کمزور طبقوں کیلئے قومی سطح پرکارگر پالیسیاں بنانےکی ذمہ داری بنیادی طور سےمرکزی حکومت کےاوپر ہے۔ جب تک ان معاملوں میں مرکزی حکومت کی نیت اورنظریہ صاف نہیں ہوگا، تب تک پورے ملک میں کسانوں اور سماج کےدوسرے طبقوں کی ضرورتیں پوری نہیں ہوسکتیں، انکی زندگی میں امن چین ، خوشی اور اطمینان نہیں آسکتا۔

 

یہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ گذشتہ چندسالوں سے مرکز میں بھاجپا کی قیادت میں جس طرح کی حکومت چل رہی ہے وہ عوام کیلئےعوامی حکومت نہیں ہے۔ موجودہ مرکزی حکومت صرف اقتدار کیلئے بنی ہے اور بھاجپا جیسی پارٹیاںصوبوںمیں بھی جیسے تیسےکرکے کرسی تک پہونچنا چاہتی ہیں۔

 

ہمارے لئےسیاست کا مقصد صرف اقتدارنہیں ہے۔ کانگریس پارٹی 118 سالوں سےاپنےطرزفکر،اصولوں اور پالیسیوں کی وجہ سےہی اس ملک میں قائم ہے۔ ہم نےموقع کی مناسبت سےنہ کبھی اپنےاصول بنائےہیں اورنہ اپنےمطلب کیلئےاصول بدلے ہیں۔ ہماری پالیسی اوراصول تواسی وقت طئےہوگئےتھےجب آزادی کی جنگ چل رہی تھی،جب گاندھی جی نےگرام سوراج کا نعرہ دیا تھا۔ انڈین نیشنل کانگریس نےڈاکٹرامبیدکرکےقیادت میں ملک کا جودستور بنایا وہ ہندستان کی شاندار روایات کی دستاویز ہے۔ ہم اسی دستورکےمطابق عمل پیراہیں اورآج بھی عوام کی خدمت ہی ہماری منزل ہے۔

 

آزادی کے بعد جواہر لال نہرو،اندراگاندھی جی اور راجیو جی جیسےقومی رہنماؤں نےپورے ہندستانی سماج کو اپنے پریوارکی طرح سمجھا، کسی کے ساتھ تفریق نہیں کی، سبھی کے مفادات کاخیال رکھا۔ لیکن اس کےساتھ ہی دستورکےجذبات کےمطابق،انسانیت کے اصولوں  کےمطابق،دلت، آدیواسی، پسماندہ، اقلیتوں، عورتوں اوردوسرے دبائےستائے گئے غریب اور کمزور طبقوں کا الگ سےزیادہ خیال رکھا۔ یہ بات فخرکےساتھ کہہ سکتی ہوں کہ آج سماج کےسبھی طبقوں کی زندگی میںجو تبدیلی اوربہتری نظرآتی ہےوہ صرف کانگریس پارٹی کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ کانگریس کی پالیسی کی وجہ سے ہی ملک میںبڑی بڑی صنعتیں اور کارخانے لگے، کروڑوں لوگوں کو ملازمت اور روزگار ملے، سٹرکیں، بندھ ،اور نہریں بنیں، ملک میں تعلیم کافروغ ہوا۔

ہمارے کسان بھائیوں کوسہولتیں ملیں،ان کاحوصلہ بڑھا اورانہوں نےاندراجی کی قیادت میں اپنی محنت سےملک میں زرعی انقلاب لادیا۔ یہ معمولی بات نہیں تھی کیونکہ ہمیں اس سےپہلےاپنی ضرورتیںپوری کرنےکیلئےدوسرےملکوںسےغلّہ منگانا پڑتاتھا۔عزت کےساتھ جینے کیلئےسب سےپہلے اپنے پیروں پرکھڑاہونا ضروری ہے۔

 

آج ہر وطن پرست کو یہی فکر ہے کہ ہمارے ملک کامستقبل کیا ہوگابھاجپا کی قیادت میںمخلوط سرکارآج مرکزمیںچل رہی ہےاس کی پالیسیوں سے مہنگائی، بیکاری، بےروزگاری، دنگا، فساد، تفرقہ، کرپشن اورجرائم کی باڑھ آ گئی ہے۔ سب طرف گراوٹ اوربربادی کا ماحول ہے۔ انہیں اس بات کی بالکل فکرنہیں ہےکہ عام آدمی کا کیا ہوگا غریبوں کا کیا ہوگا کسانوں اورکھیت مزدوروں کا کیا ہوگا نوجوانوں کا کیا ہوگا ہماری بہنوں کا کیا ہوگا انکو سب سےزیادہ اس کی فکرہےکہ انکا کیا ہوگا۔

 

جن لوگوںنےکروڑوںنوجوانوں کوروزگاردینےکاوعدہ کیاتھا،انہیں کی حکومت میں کروڑوں نوجوان بےکار گھوم رہےہیں۔ منافع دینےوالے صنعتیں اورکارخانے بھی ذاتی ہاتھوں میں جارہے ہیں۔ تجارت اوراس کے ذرائع بند ہورہے ہیں۔ جن کسان بھائیوں نےاپنےمحنت سےسرکاری گوداموں میں غلہ کا ڈھیر لگادیا ہےوہ کئی حصوں میں زندگی کی مصیبتوں سے تنگ آکرخودکشی کررہےہیں۔ جب ہورے ملک کاپیٹ بھرنےوالا کسان خود کشی کرنےپرمجبورہوتوکانگریس جیسی پارٹی چپ کیسےرہ سکتی ہے؟کانگریس نےپارلیامنٹ کےاندراورباہرکسانوں کےحقوق کیلئےزوردار طریقےسےآوازاٹھائی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہیکہ مرکزی حکومت نےاپنےنئے بجٹ میں کھادوں کی جو قیمت بڑھائی تھی انہیں واپس لینا پڑا۔

 

موجودہ مرکزی حکومت کےکرپشن، گھپلوں اورگھوٹالوں کی اتنی طویل فہرست کہ اسےگنا کر میں آپ کا وقت برباد نہیں کرنا چاہتی۔ اسکےبارے ہم آپ جانتےہیں ساراملک اوردنیا جانتی ہے۔

 

آپ یہ بھی جانتےہیں کہ بھاجپا اوراسکےساتھی ہر چناؤ سے پہلےسماج میں تمام طرح کی غلط فہمی پھیلانےکی کوشش کرتےہیں۔ وہ مدھیہ پردیش میں بھی یہی کوشش کررہے ہیں اورآگے بھی کرینگے۔ لیکن ہمیں ہوشیاررہنا ہے۔انہیں اس زمین سے بھی وہی جواب ملنا چاہییے،جوابھی حال میں ہماچل جیسی سرزمین نے دیا ہے۔ ہم سماجی ہم آہنگی چاہتے ہیں، سماج کے سبھی طبقوں کی خوشحالی چاہتے ہیں۔

 

مطلب کی سیاست تفریق کی سیاست اور تنگ دلی سے کوئی بھی سماج اور ملک ترقی نہیں کرسکتا ہمیں مل جل کرآگے بڑھنا ہے۔ مجھےخوشی ہے کہ مدھیہ پردیش حکومت کی قومی یکجہتی اس وقت کانگریس یکجہتی کیلئےپورےصوبہ میں ایک مہم چلارہی ہے۔ اسی کیلئےکانگریس سارے ملک میں جدوجہد کررہی ہے۔ اسی راستےسےمدھیہ پردیش آگےبڑھےگا اوراسی راستےسےپورے ملک میں پھرسےفروغ اورترقی کا ماحول بنےگا۔ یہی ہماراراستہ ہےاوریہی ہماری منزل ہے۔ اسی کیلئےہمیشہ کی طرح ہمیں آپ کا تعاون اورمدد چاہیے۔ کانگریس کاہاتھ ہرقدم پرآپ کے ساتھ ہے۔

 

جئے ہند !

 

 


 

سوانح عمری

 تقریر

انٹر ویو/ گفتگو

گیلری

 ایثار  

مکرر ایثار  

دستاویز

آرکائیوز
اسکرین سیور