کانگریس صدر کی تقریر ،

ڈانڈی سفر کے اختتام پر،

ڈانڈی، گجرات , 6 اپریل،2005

 

 

ہمارا اس مبارک سفر کا آج آخری دن ہے۔ یہ سفر اس بات کا ثبوت ہےکہ باپو آج بھی ہم سب کےدلوں میں موجود ہیں۔ سب سےپہلے میں ان نوجوان ساتھیوں کومبارکباد دیتی ہوں اور شکریہ اداکرتی ہوں، جنہوں نےچھبّیس دن تک لگاتارچلکر یہ سفر پوراکیا ہے۔ اسمیں دوسرے ملکوں سےآئےہوئےکچھ ساتھی بھی ہیں، جنہوں نےپیدل پورے جوش اورسچّےجذبےکے ساتھ اسمیں حصہ لیا ہے۔ میں انکوخاص طور سے مبارکباد دیتی ہوں۔

 

ان چھبّیس دنوں میں ملک کےہرحصےسےکانگریسیوں اوردوسرے سماجی کارکنوںنےاس سفرمیں حصہ لیا ہے۔ لہذا ایک طرح سےاسمیں پورے ملک کی نمائندگی ہے۔ مہاتما گاندھی فاؤندیشن اوردوسرے کئی لوگوں اورتنظیموں نےاس مبارک پروگرام میں تعاون دیا ہے۔ میں سبھی لوگوں کا اپنی طرف سےاورانڈین نیشنل کانگریس کی طرف سےشکریہ ادا کرتی ہوں اورمبارکباد بھی دیتی ہوں، کہ اس اہم اہتمام میں انہوں نےاپنا تعاون دیا ہے۔ یہ ایک نیک کام کا آخری قدم تھا، جو آج پورا ہورہا ہے۔

 

اس سے قبل بھی لوگوں نے یہ سفر کیا ہےانّیس سواٹّھاسی میں جب راجیوگاندھی وزیراعظم تھے، تب بھی ایک ڈانڈی سفرہوا تھا ۔ آخر گاندھی جی کےڈانڈی سفرمیں وہ کون سی بات ہے۔ جوہم سب کو باربار اپنی طرف کھینچتی ہے؟ گاندھی جی نےاپنےاس سفرکو ڈانڈی کوچ کہا تھا۔ یہ لفط عام طور سےفوجیوں کی روانگی کیلئےاستعمال ہوتا تھا اور فوج ہارنےکیلئےنہیں ، جیتنے کیلئے نکلتی تھیں۔ گاندھی کی جی یہ فوج بھی ہارنے کیلئے نہیں، جیتنے کیلئے نکلی تھی۔ مگر دوسری فوجوں اوراس فوج میں ایک بہت بڑا فرق تھا۔

 

بارہ مارچ انّیس سو تیس میں،گاندھی جی کی جو چھوٹی سی فوج نکلی، وہ بغیراسلحہ اوربے سروسامان کی فوج تھی ۔ وہ صداقت اورعدم تشدد کی فوج تھی، خوداعتمادی اورمستحکم ارادے کی فوج تھی، ناانصافی اورغلامی کےخلاف انصاف اورآزادی کی فوج تھی۔ بارہ مارچ کی صبح سفرپرروانہ ہونےسےقبل گاندھی جی نےاپنے حجرے میں کہا تھا، " ہم زندگی اورموت کی مذہبی لڑائی لڑنےجارہےہیں، ایک کارگرعبادت کرنےجارہے ہیں،جسمیں ہم اپنی قربانی دینا چاہتے ہیں"۔ یہ گاندھی جی کا عزم تھا جسمیں ساراملک انکا ساتھ دے رہا تھا۔ یہ گاندھی جی کا روحانی سچ تھا، جوسب کو صاف صاف نظرآرہا تھا اور جس کی بدولت پورے ملک میں ایک نئی زندگی رونما ہوئی۔

 

آج کےدورمیں اکژ یہ محسوس ہوتا ہے، کہ ہماری روحانی سچّائی گم ہوگئی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو گاندھی جی کےملک کی سیاست میں اس طرح کی بیماریاں نہیں دیکھائی دیتیں، جیسی آج دیکھا ئی دے رہی ہے۔ اصولی طور پرسیاست اقتدار پانےکا ذریعہ نہیں ، بلکہ ایک جذبہ ایک ایثار ہے۔ یہ کچھ پانا نہیں ہے، بلکہ کچھ کھوکر،کچھ تکلیف اٹھاکراپنے سماج اور ملک کی خدمت ہے۔ اقتدارکی منزل تک پہونچ کرسیاست کا مقصد پورانہیں ہوجاتا۔ اصلی راستہ تواسکےبعد شروع ہوتاہے۔ اس راستےکی کوئ انتہا نہیں ہے۔ خد مت کی منزل کہیں رکتی نہیں ہے۔ وہ نسل درنسل چلتی ہے۔ ہم جس راستے پر چلتے ہیں، وہ لمبا ہوتا جاتا ہے، منزل دور بنی رہتی ہے۔ کیونکہ وقت بدلتا ہے، حالات بدلتے ہیں، وقت کی ضرورتیں بدلتی ہیں، زندگی کا طرز بدلتاہے۔ ایسی حالت میں ہمیں وہیں سے روشنی مل سکتی ہے۔ جو خود زندگی بھر چلتا رہا ہو، اپنا سب کچھ لوٹاتارہاہو، سماج اور ملک کو اپنی زندگی دے رہا ہو۔ جب تک دنیا میں یہ جذبہ رہیگا، تب تک یہ دنیا قائم ہے۔ یہ جذبہ جتنا کم ہوگا، اتنی مشکلیں بڑھیں گیں، یہ جذبہ جتنا مضبوط ہوگا، دنیا میں اتنی ہی خوشی امن وسکون بڑھیگا۔

 

یہ گاندھی کا راستہ ہے۔ ہندستان ہی نہیں، پورے عالم انسانیت کیلئے اسکےعلاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ جیسے جیسے وقت گذررہاہے، ویسے ویسے ساری دنیا کو گاندھی جی کی یاد اور زیادہ آرہی ہے، کیونکہ مہاتما گاندھی کا فکرانکی زندگی اور کام، انسانی قدروں کا آئینہ ہے۔ وہ پوری انسانیت کے حق میں ہے، کیونکہ وہ سب سے پہلے ایک انسان کی بات کرتے ہیں ، سب سے پہلے سب سےغریب اور کمزورکا ساتھ دیتے ہیں ۔ وہ دور بینی مطلب سےنہیں، ایثار سے پیدا ہواہے، وہ اقتدار کی لالچ سےنہیں ، پیار، رحمد لی اورعدم تشدد کےجذبے سے پیدا ہوا ہے۔ جب تک دنیا میں دکھ اور تکلیف ہے، ناانصافی اور ظلم ہے، تب تک باپو کی ضرورت اپنی جگہ قائم رہیگی ۔

 

نا انصافی کے خلاف لڑنےکیلئے صداقت اور عدم تشدد سے بڑا اسلحہ کوئی دوسرا نہیں ہے۔ اس اسلحہ کے سامنے کوئی بھی طاقت ٹک نہیں سکتی ۔ ڈاندی سفر کے دوران ایک اپریل کی شام کو مہاتما گاندھی نےاپنے ایک عام جلسہ میں کہاتھا۔

 

میں نے ایک لمحہ کیلئے بھی یہ نہیں مانا، کہ اس حکومت کےپاس اقتداریا طاقت نہیں ہے۔ اس حکومت کےپاس فوج ہے، گولا، بارودہے۔ وہ مجھ جیسوں کو چٹکی میں مسل سکتی ہے۔ لیکن یہ حکومت یکایک اپنی پاسداری سے تجاوز نہیں کر سکتی۔ کیونکہ وہ پھر دنیا کو اپنا مہنہ کیسے دیکھائےگی۔؟

جب تک انسان کی زندگی ہے، تب تک کسی نہ کسی کاوش کی ضرورت بھی رہیگی اوراسی لئےگاندھی کی دور اندیشی کی اہمیت بنی رہیگی ۔ اس سفر کےدوران ہم نےاسی لئےکہاہے۔

 

"گاندھی ماضی نہیں:

مستقبل بھی ہے:

 

میں یہاںایک بات خاص طورپر کہنا چاہتی ہوں ۔ اپنی ہزاروں سال کی تاریخ میں انسانی تہذیب کی جو ترقی ہوئی ہے، وہ تشدد اور کوشش سے نہیں، تعلیم بردباری اور آپسی اتحاد سے ہواہے۔ آپ میںسے جن لوگوں نے ڈانڈی سفر کے دوران گاندھی جی کی تقریروں کو پڑھا ہوگا، وہ جانتے ہیں، کہ شائد ہی کوئی ایسا دن رہاہوجب انہوں نے یکجہتی اور سماجی اتحاد پرزور نہ دیا ہو۔ انہوں نےڈانڈی سفر کے دوران جو کہا، وہی خطرہ بد قسمتی سےآزادی کےوقت سامنےآیا، اوراسی خطرے سے کبھی کبھی آج بھی ہمیں ہوشیار رہنا پڑتاہے۔ اسی لئے ڈانڈی سفرکےاختتام کےاس مبارک موقع پر میں آپ سے گذارش کرتی ہوں کہ ہم سب آج ہی یہ تہیہ کریں کہ ہم نہ صرف اپنے سماجی اتحاد کو قائم رکھینگے، بلکہ ہر قیمت پر، ہرخطرہ اٹھاکراسےلگاتار مضبوط کرینگے۔ ہم مل جل کر آگے بڑھینگے، اُوپراٹھینگےاور سبھی چیلنجوں کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کرینگے۔

 

ہم سب کو باپو سے سبق لیکر صبر کےساتھ سنگ ریزے پر چلنا ہے، بہوجن کرے اور بہوجن پائے‘ کے جذبے سے جینا مرنا ہے، کیونکہ ہمارے لئے۔

 

مہاتما گاندھی ہی سچ ہیں۔

مہاتما گاندھی ہی روشنی ہیں۔

مہاتما گاندھی ہی ایک راستہ ہیں۔

 

 


 

سوانح عمری

 تقریر

انٹر ویو/ گفتگو

گیلری

 ایثار  

مکرر ایثار  

دستاویز

آرکائیوز
اسکرین سیور