صدر کانگریس کی تقریر
کل ہند کانگریس کمیٹی اجلاس- بنگلور
17 - مارچ 2001
کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ممبرس
مرکزی انتخاب کمیٹی کے اراکین
صوبائی کانگریس کے صدر، ایم ایل اے جماعت کے لیڈر
سبھی قائد، ساتھیواورمیری پیاری بہنوں،
میں اکیسویں صدی کےاس پہلےعظیم اجلاس میں آپ سب کا استقبال کرتی ہوں ۔ آپ نے جس بڑی تعداد میںمجھےاپنا تعاون دیا، اس کیلئےمیں آپ لوگوں کا شکریہ اد اکرتی ہوں۔
ہم جس کرناٹک صوبے کی زمین پر یہاں جمع ہوئے ہیں اسکی بہت شاندار تاریخ ہے۔ یہاں بھارت کی کئی عظیم ہستیاں پیدا ہوئی ہیں۔ میں اس موقع پرسبھی آزادی کے سپاہیوں اور شہیدوں کی نشانیوں کو سلام کرتی ہوں۔ بھارتی تہذیب وتمدن میں جو کچھ سب سےاچھا ہے۔ وہ ہمیں اس زمین میں دکھائی دیتا ہے۔ کانگریس کی تاریخ میں اس صوبہ کاایک خاص درجہ ہے۔ بابائےقوم مہاتما گاندھی نےکانگریس کےصرف ایک اجلاس کی صدارت کی تھی اور وہ کرناٹک میں ہوا تھا۔آج سے23 سال پہلے یہاں کےلال باغ گلاس ہاوس میں اندراجی نے جس خیال کا اظہار کیا تھا ان سے ملک میں ایک بجلی کی لہر سی دوڑ گئی اور نئی تبدیلی کا دور شروع ہوا۔
آپ نےمجھ پرجوامیداوراعتماد ظاہر کیا ہے، اسکامجھےشدت سےاحساس ہے۔ ہمارے پیچھےایک عظیم وراثت ہے، ایک ایسی وراثت جس نےہندستان کوآزاد کرایا، ایک ایسی وراثت جس نےایک قدیم تہذیب کے بیچ ایک نئےملک کی بنیاد رکھی۔ یہ ہماری پارٹی تھی، جس نےبیسویںصدی کوکانگریس کی صدی بنایا اور آج ہمارامستحکم ارادا ہے کہ ہم 21 ویں صدی کو بھی کانگریس کی صدی بنائینگے۔
بیسویں صدی کے پہلےآدھےحصےمیں ہماری پارٹی کی ہی انتھک جدوجہد اورایثاروقربانی کیوجہ سےامن کےذریعہ ہمیں اس شہنشاہیت کی غلامی سےایک ملک کی شکل میں آزادی دلائی۔ ان کےعظیم شاگرد جواہرلال نہرونےملک کی آزادی کوعوام کی آزادی میں بدلا۔
دنیا میں کتنے ملک ہیں، جہاں آدھی صدی پہلے کا دستورآج تک ٹکا ہوا ہے کتنےملکوں میں ترقی سے پہلے جمہوریت کی بنیاد پڑی ہےکتنے ملک ہیں، جہاں فوج نےاپنےکوسیاست سےدور رکھا ہے ہندستان کےعلاوہ کون سی جگہ ہے، جہاں سماج کےدبائےاورستائے گئےطبقوں کوبرابری کا درجہ اوریکساں مواقع دینےکی نتیجہ خیز شروعات ہوئی ہےایسا کون سا ملک ہے جہاں اتنی خوبصورت یکجہتی ہےوہ کون سی جگہ ہے جہاں اتنی زبردست یکجہتی کے باوجود تمام مذہب برابر ہیں کو اپنایا گیا ہے۔
گاندھی جی نے ہمیں باربار یاد دلایا ہےکہ سیاست ذمہ داری اوراصولوں کیلئے ہے۔ آزادی کی آدھی صدی سےبھی زیادہ وقت میں گاندھی جی کے ایک منترنے ہمیں راستا دکھایاہے، اور وہ منتر ہے بند ہء خدا کی خدمت، ہم نے سب سے پہلےغریب آدمی کواپنے فکرمیںمرکزیت دی ہے،اسکا فائدہ ہماری کامیابی کا پیمانہ رہا ہے۔ اختیارات اور ترقی سے پریشان لوگوں کی بھلائی، ہمارے لئےسب سے پہلے ہے۔
یہ راستہ آسان نہیں تھا۔آزادی کےچند مہینوں کےاندر سرودھرم سمبھاؤ کے دشمنوں نے، ہمیں راستہ دکھا نےوالے بابائے قوم کوقتل کرکے ہم سےچھین لیا۔ آزاد بھارت کےسترہ سالوں کی قیادت میں جواہرلال نہرو کو ملک کےاندر تخریب پسندوں اور بیرون ملک سے تباہی پھیلانے والی طاقتوں کی طرف سےچیلنج ملا۔ لیکن ملک کےاندرفسادی لوگ ہارگئےاوروہ بیرونی طاقتیں جوچاہتی تھیں کہ ہم انکےاشارے پرچلیں، انکی سمجھ میں آگیا کہ بھارت کی داخلی نظریہ کی شکل میں ہماری آزاد حیثیت سامنےآئی ہے۔ اپنےتھوڑے سےوقت میں لال بہادرشاستری کوملک میںقحط اورسرحدوں پرپاکستانی حملےکا سامنا کرنا پڑا۔ ان دونوں مسئلوں کیلئےانکا جواب تھا، جئے جوان، جئے کسان۔ آئندہ قریب دوصدی کےدرمیان اندرا جی اپنے وقت کی سب سےعظیم عورت کی شکل میں سامنےآئیں۔ انہوں نےملک کا دھیان سب سےپہلےاوربنیادی فرض غریبی ہٹاؤ پرلگایا۔ انہوں نےزرعی انقلاب ، کی شروعات کی ۔ وہ بنگلادیش کی آزادی میں معاون بنیں۔ ان کے بعد راجیو جی آئے۔ وہ بھارت کی امیدوں اورخواہشوں کےنوجوان مثال تھے۔ انہوں نے گاندھی جی کے( پورن سوراج کو گرام سوراج ) میں بدلنے کی کوشش کی، اکیسویں صدی کےبھارت کا تصور کیا اورملک میں اطلاعاتی تیکنا لوجی کے عہد کی شروعات کی آج جو لوگ اطلاعاتی تکنا لوجی کے عہد کی وکالت کررہے ہیں، اس وقت جس طریقےسےانہوں نے راجیو جی کی تنقید کی تھی، آپ سب جانتے ہیں۔ اسی کےسال کی شروعات سےاندراجی اور راجیو جی کی قیادت میں معاشیات میں ، خاص طورسے زراعت، کارخانے،اشتہاراور ٹکنک میں شاندار ترقی دکھائی دیتی ہے۔ ملک کے نوجوانوں کیلئے یہ نئی امیدوں کا وقت تھا۔ راجیوجی نےانسانی تہذیب کے بیچ نئی نسل کے سامنے بھارت کیلئےاپنی تاریخی حیثیت بنانےکا مقصد رکھا۔ ہم اس منزل کے قریب پہونچ ہی رہے تھے، لیکن بد قسمتی کہ راجیو جی کی شہادت کی وجہ سے وہ خواب پورا نہیں ہوسکا - انکے بعد 90 کی دہائی میں جناب پی۔ وی۔ نرسمہاراؤ کی قیادت میںجوآخری کانگریس حکومت بنی ، اسنے بھارت کو سنجیدہ معاشی اور سیاسی مصیبت سے باہر نکالا۔ سبھی ملی جلی حکومتوں سے کانگریس کی ہی حکومتوں نے ہمیشہ ملک کومستحکم اورمعاشی حالت کوبڑھاوادیا ہے۔ مرکزکی غیرکانگریسی حکومت کی اقتصادی پالیسی ملک کیلئےایک بڑھتی ہوئی مصیبت ثابت ہوئی ہے۔
آج ہم ایسےوقت یہاں جمع ہوئےہیں،جب معاشی ترقی اورپیداوارمیں کمی کا دور ہےاورسرکاری سرمایہ میں قحط کی حالت ہے۔ روزگار میں اضافہ بالکل بند ہے۔ بھاجپا کی ملی جلی قیادت اس اصول عامہ پر حملہ کررہی ہے، آج ہم ایسےوقت یہاں جمع ہوئے ہیں، جب انیس سوتنتالیس کےبنگال کے قحط کے بعد پہلی دفعہ ایسےاحتجاجی جلسہ جلوس کی حالت پیداہوئی ہے، جب گودام غلّہ سے بھرے ہوئے ہیں لیکن لوگوں کےپیٹ خالی ہہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں اسکی حمایتی حکومت نےغریبوں کیلئےاناج کی قیمت دوگنی کردی ہے۔ وہ راشن کی دکانوںسے بھی اناج خریدنےکے لائق نہیں رہے۔ گوداموں میں قریب پانچ کروڑ ٹن اناج بھرا ہوا ہے۔ دوسری طرف ملک کےسب سے زیادہ کمزورعلاقوںمیں غریبی اوربھک مری کی حالت ہے، لیکن وہاں ایک کارگر طریقے پر کام کے بدلےاناج، پروگرام چلانے کی کوئی کوشش نظرنہیں آتی ۔ اس سے نہ صرف ان علاقوں میں لوگوں کو روزگار ملتا، بلکہ ایک یکجہتی کا جذ بہ ت پیدا ہوتا۔ اگر آج ہماری حکومت ہوتی توہم نے سب سے زیادہ ترجیحی بنیاد پر کے طرز پر یہ کام کیا ہوتا۔
آج ہم ایسےوقت یہاں جمع ہوئے ہیں جب بھاجپا اور اس کے حمایتوں کےذریعہ ہمارے دستور سےچھیڑ چھاڑکی مہلک کوشش ہو رہی ہے۔ ہمارا دستور ایک ایسا شاندار دستاویز ہےجس سے ملک کے کچھ عظیم لائق فائق لوگوں نے بنایا تھا۔ ہمارادستور ہماری سب سےانمول وراثت ہے، ایک امن پسند انقلاب کا اعلانیہ ہے۔ اسنے ہمارے ملک میں علاقائی جمہوریت کی بنیاد رکھی ہےاور اسکی جڑوں کو مضبوط کیا ہے۔
آج ہم ایسے وقت ہیاں جمع ہوئے ہیں جب آر۔ ایس۔ ایس اوربھارتیہ جنتا پارٹی کی باہمی تعاون کے ذریعہ ملک کےعوامی ادروں کے بھگواکرن اور ہمارےسیکولرتعلیمی نظام کی جڑیں کھودنےکاخطرناک کام مسلسل ہورہا ہے۔ ملک کی سیاست کوکھلے عام جانبدار بنایا جارہا ہے۔ ہمارے علمی اور سماجی بنیادوں کو ایک بناوٹی شکل دینےکی کوشش ہورہی ہے۔ سچائی یہ ہیکہ جولوگ ہندستانی تمدن کےپرستارہونے کا دعوي کرتے ہیں، وہ لوگ ان قیمتی بنیادکوہی ختم کررہے ہیں۔ جہاں تک ایودھیا کا سوال ہے،بھارتی جنتا پارٹی نےآر۔ایس۔ایس۔ وی۔ ایچ۔ پی۔ اورنام نہاد مذہبی ایم۔ پی کے عام اعلان سےاپنےآپکوالگ نہیں کیا ہے۔ وہ لوگ اب قانون کواپنے ہاتھ میں لینےکی دھمکی دے رہے ہیں، لیکن بھارتیہ جنتاپارٹی قیادت سے خالی حقیقت سےآنکھیں موندے ہے۔ وزیراعظم کےاپنے بیانوں نےانکی اپنے اعتقاد اورارادوں کے بارے میں تشویشناک شک پیداکردیا ہے۔
آج ہم ایسے وقت میں یہاں جمع ہوئے ہیں، جب حکومت کثرت میں وحدت کےایک بڑےعلاقے جموں وکشمیر کےبارے میں مسلسل خوفناک پروپیگنڈہ کررہی ہے۔
آج ہم ایسے وقت میں یہاں جمع ہوئے ہیں جب بھارت کی خارجی پالیسی بد نظمی کا شکار ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے نےہماری ناوابستہ پالیسی کو صحیح ثابت کیا ہے۔ یہ عالمی معاملوں میں کانگریس کا بڑا تعاون ہے۔ اس پرآگے بڑھنےکےبجائے بھاجپا گٹھ بندھن پالیسی نےبھارت کی خارجہ پالیسی اور اس کے وقارکومجروح کیا ہے۔
آج ہم ایسےوقت یہاں جمع ہوئے ہیں جب بھارتیہ جنتاپارٹی نےپچاس برسوں کے قومی اتحاد کو توڑدیا ہے۔ ہندستان ایٹمی توانائی والاملک بن گیا ہے۔ لیکن ہم سب حکومت کی ایٹمی پالیسی کی نسبت سےتاریکی میں ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ایٹمی اسلحوں کا اتفاقاً یاارادتاً کبھی استعمال نہ ہو، تو کوئی اصول ضروربننا چاہیے۔ مرکزی حکومت کےپاس گذشتہ اٹھارہ مہینوں سےقومی تحفظ صلاح کاربورڈ کے ذریعہ تیارکی گئی ایٹمی پالیسی سےمتعلق تجویز پڑی ہوئی ہے۔ ہم کونہیں معلوم کہ اسکا کیا ہوااورکیا ہونےوالا ہے۔ ہماری رائےمیں تباہی لانےوالےاسلحوں کےخاتمےکیلئے بین الاقوامی طور پر کوشش ہونی چاہیے اوربھارت کو ان کوششوں کی پہل اور رہبری کرنی چاہیے۔
دوستو، آج ہم ایسے وقت یہاں جمع ہوئے ہیں جب کہ ملک بھارتیہ جنتا پارٹی کی قربانی منظورکرنےکی کبھی نہ مٹنے والی بھوک کے سائے سےآلودہ ہے۔ یہ سب ہماری فوجوں اورملکی حفاظت کی قیمت پرہورہاہے۔ حال کےرازفاش نےکرپشن اوررشوت خوری کےبھیانک چہرے سےخوش نما چہروں کا نقا ب اتارکرتارتار کردیا ہے۔ ایک لمبے وقت سےاقتدارکی گلیوںمیںجوگفت شنید چل رہی تھی، اب وہ ساری دنیا میں اجاگر ہوچکا ہے۔ اعلی اصولوں کی دہائی دیکر حکومت کرنےوالےمردوں اورعورتوں نےاپنےمنصب کی حرمت مٹھی بھردولت مندوں کے لئے بیچ دی ہے۔ اسے معاف نہیں کیا جاسکتا۔ کوئی رعایت نہیں دی جاسکتی۔ بھاجپا حلیفوں نے حکومت کرنے کا اخلاقی اختیار کھو دیا ہے۔ بنگلورسے یہ پیغام جانا چاہیے کہ ہم ملک کو اس کرپٹ، شرمناک اورمتعصب حکومت کی بیڑیوں سےآزادکرائینگےاوراسکے لئے کسی بھی احتجاج کے لئے کسی بھی قربانی کے لئے تیار ہیں۔ میں نےگذشتہ رات سبھی صوبے کے کانگریس صدوراورایم۔ ایل۔ اےجماعت کےلیڈروں سےملاقات کی لہےاور کرپٹ، رشوت بی۔ جے۔ پی اوراسکےحمایتیوں کی اصلیت کواجاگرکرنےکیلئےایک نکاتی پروگرام پربحث کی ہے۔اس منصوبہ بندی کاکل دہلی میں اعلان کیاجائیگا ہرصوبے، ہرضلع ایک ایک شہر،قصبےاورگاؤں میں کانگریس پارٹی کی یہ آواز گونجنی چاہیے کہ بھاجپا حمایتی نےملک کےساتھ دھوکہ کیا ہے۔
ہم یہاں صرف اس لئے جمع نہیں ہوئے ہیں کہ مرکز کی بی۔ جے۔ پی۔ اوراسکی حمایتی حکومت کے برے کاموں کی طرف ملک کی توجہ مرکوز کریں۔ ہم یہاں اس لئےبھی جمع ہوئے ہیں کہ ملک کو یہ بھی توجہ دلائیں کہ آخرکانگریس ہی کیوں،آج کانگریس ہی کیوں ملک کے نوجوانوں اوران سبھی بھارتیوں کی پہلی پسند ہونی چاہیے جوموجودہ حالات اورمستقبل کیلئے فکرمند ہے۔
کانگریس ہندستان کاآئینہ ہے۔ یہ ہندستان کی یکجہتی کی قیادت کرتی ہےجو کوئی دوسری پارٹی نہیں کرتی۔ کانگریس واحد پارٹی ہے جس سے ہمارے سماج کےایک ایک طبقےسےتعاون اورطاقت ملتی ہے، جو ذات فرقے، مذہب، زبان اور علاقے کی تفریق کئے بغیر سبھی ہندستانی باشندوں کو اپنی طرف کھیچتی ہے اور ان سے سبق حاصل کرتی ہے۔
دوسری جماعت ہماری عالمی رواداری کو، ہمیں باننٹے کیلئےاستعمال کرتے ہیں۔ کانگریس واحد پارٹی ہے جو رواداری کا استعمال ہماری یکجہتی کیلئے کرتی ہے۔ کانگریس پارٹی ہے جومانتی ہےکہ سماجی اتحاد کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ہے۔ بکھراہندستان مکمل نہیں ہوسکتا، آپس میں بٹا ہواہندستان ترقی نہیں کرسکتا۔ دوسری پارٹیاں ترقی کے کاموں میں سیاست لے آتی ہیں۔ ہم سیاست میں ترقی کے کام کرتے ہیں۔ ہماری سیاست ترقی کی سیاست ہے۔ یہ خیال ہمارے سماجی ،معاشی انصاف، سماجی دیدار سے آیا ہےدوسری جماعت جب اقتدارمیں ہوتی ہے تو متنازعہ مسئلوں کوپسٍ پشت رکھنے کی صلاحیت کو قبول کرتے ہیں،لیکن جب وہ اقتدار سےباہر ہوتے ہیںتواسے بھول جاتے ہیں۔ دوسری طرف ہم اقتدارمیں ہوں یاباہر،اپنی پالیسیوں اورپروگراموں پرہمارےعزم میں کوئی فرق نہیں آتا۔ کانگریس حکومت صوبےکی حکومت کا کام کاج غیرکانگریسی صوبے کی مقابلے میں ایکدم الگ اور بہتر دکھائی دیتی ہے۔ صرف کانگریس ہی ایک مضبوط مرکز، مضبوط صوبہ اور گاوں، قصبوں اور شہروں میں ایک سدھری مقامی حکومت کے تناسب میں وعدے کرسکتی ہے۔ اگرہم ہوشیا رنہیں رہے توعلاقائیت کی سیاست ایک بھیانک شکل اختیارکرلیگی اوروہ ہمارےقومی اتحاد کوکمزورکرے گا۔آج ضرورت یہ کہ مرکز،صوبوں اورمقامی شاخوں کےدرمیان ایک خوبصورت توازن بنائےرکھاجائے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں ان تینوں کی انتظامیہ اور معاشی صلاحیتوں کو ٹھیک کریں۔انمیں سے ہرایک کو ایک دوسرے سےمدد ملنی چاہئیے۔ صرف کانگریس ہی اس توازن کوبرقراررکھ سکتی ہےاورہمارے صوبائی نظم وضبط کواستقلال مستحکم اورخود اعتمادی کوقائم رکھ سکتی ہے۔ سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہےکہ جب ہم صوبوں کو زیادہ معاشی، سماجی اورخود مختاری دیتے ہیں، جب پنچایتیں اور نگرپالیکائیں ہمارے جمہوریت کی پہلی تہ کی شکل میں قائم ہورہی ہے تو مرکزی حکومت کیلئے اپنے مقصد اور جہت کا صحیح علم ہونا ضروری ہے۔ ہندستان ایک ہےاور اسی وقت مختلف بھی ہے۔اس شبیہ کی حفاظت اوراسکی نگہبانی ہونی چاہییے۔ اپنی تاریخ،اپنی بیش قیمت ماحولیات اورانتظامیہ کے تجربےکی وجہ سے صرف کانگریس ہی اسے سمجھ سکتی ہے- اور یہ توازن برقرار رکھ سکتی ہے۔
صرف کانگریس پارٹی ہی ہے جسکی روح سیکولر ہے۔ ہمیں اس کیلئے کسی کے سند کی ضرورت نہیں ہے۔ سکولرزم ہمارے لئے امید کی کرن ہے۔ ہمارے لیڈر سیکولرزم کی قربانگاہ میں شہید ہوئے ہیں۔ ہمارے لئے سیکولرزم کےمعنی مذہب کی آزادی ہے، مذہب سے آزادی نیں ہے۔ ہمارے لئےسیکولرزم ایک مذہب کودوسرے مذہب کےخلاف کھڑاکرنا نہیں ہے۔ ہمارے لئےیہ ہندستانی تہذیب کونفرت کےسوداگروں اورزہر کی دکان لگانے والوں سےبچانےکیلئے ہے۔ ہمارے لئےیہ ایک سچ ہے، راستےکئی ہیں کہ اس حکمراں اصول کی پھرسے یاد دیہانی کرنے کیلئے ہے،جو ہمیں ہزاروں سال پہلے ملا تھا۔ جواہرلال نہرو نے ہمیں یاد دلایا تھا کہ ہندوستان ایک ایسی عمارت ہےجسکےاوپرخیالوں اورخوابوں کی ورقدرورق عبارت لکھی ہوئی ہے۔ لیکن اگلے کسی ورق میں جو کچھ پہلےلکھا تھا، نہ تواسےچھپنےدیا ہےاورنہ مٹایا ہے۔ اسیطرح مولانا ابوالکلام آزاد نے کانگریس صدر کے شکل میں انیس سو چالیس میں رام گڑھ اجلاس میں کہا تھا ، ہندستان کیلئے قدرت کا یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ اسکی سرزمین انسان کی مختلف نسلوں مختلف تہذیبوں اور مختلف مذہبوں کے قافلوں کی منزل بنے۔ ابھی تاریکی کی صبح نمودار نہیں ہوئی تھی کہ ان قافلوں کی آمد شروع ہوگئی اورپھرایک کے بعد ایک سلسلہ جاری رہا۔ اسکی وسیع سرزمین سبکا استقبال کرتی رہی اوراسکی فیاض گود نےسب کیلئےجگہ نکالی۔ میرا اس پاک وراثت پر پکّا یقین ہے۔
یہاں پر مجھے ایک اورمسئلے پر کچھ کہنا ضروری لگتا ہے جواکژ ذرائےابلاغ اور سماج کے دوسرےعلاقوں کےبیچ چرچہ میں رہتا ہے۔ یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کانگریس بھارتیہ جنتاپارٹی کی مخالفت کیوں کرتی ہےآخرکار بھارتیہ جنتاپارٹی کانگریس کی ہی معاشی نظریوں کو تونافذ کررہی ہے۔ یہ چلن پوری طرح سچ نہیں ہے۔ ہماری پالیسیاں نافذ نہیں کی جارہیں۔ انہیں بگاڑکر پیش کیا جارہا ہے۔عام علاقے،غلہ کےعلاقےمیںمعاشی مدد اور بینکوں کے غیر قومی جیسے مسئلوں پر ہمارا بنیادی اختلاف ہے۔ صرف کانگریس نے معاشی پالیسی اورکارگر سماجی پالیسی کے درمیان تال میل بنایا ہے۔ بھارتیہ جنتاپارٹی ہی معاشی نرم کاری کی پالیسی کا دعوی کرسکتی ہے،لیکن اسکے محدود سماجی نظریہ اور بند دماغی نےانہیں بالکل ناپسند یدہ بنادیا ہے۔ ہندستان میں کانگریس اعتدال پسند واحد پارٹی ہےجو اپنےنطریےمیں نہ توفسادی ہےاورنہ بنیاد پرست۔ کانگریس ہی ایسی پارٹی ہےجواقتدار سےباہررہنے پربھی مصیبت،معاشی مسئلوں پرسیاست نہیں کرتی۔ ہمارا گذشتہ تین سالوں کا پارلیمنڑی تاریخ اسکی مستند ثبوت ہے۔
دوستو، یہ نئی شروعات کا وقت ہے۔ یہ نئےارادے کا وقت ہے، ایک ایسا وقت جب ہمیں کانگریس کواسکا پرانا فخر واپس لانے،اور قومی سیاست کے صف میں اپنی اوّلیت قائم کرنے کی قسم لینی ہے۔ اس لئے پہلی بار ہمارے اجلاس کا ایک مرکزی مضمون رکھا کیا گیا ہے۔ نئی صدی، نیا جذبہ، یعنی نئی صدی کے جئےایک نیا عظم- صدی بھلے ہی نئی ہو مگر ہمارےآس پاس چیلنج پہلے سے ہے۔ لیکن ہم اعتماد اورجوش کی نئی طاقت سے لیس ہوکرانکاسامنا کرینگے۔ صرف خودمطمئن ہو کربیٹھنےاورغلطیوں کےنظارےکی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ چیلنج کئی ہیں اوربہت بڑے ہیں۔ لیکن ہم انکا مقابلا کرینگے،ہمیں فکرمند نہیں ہونا ہے۔ ہمیں اپنے نظراپنی پررکھنی ہے۔
پارٹی تنظیم میں ہرطرز پرسماج کےکمزورطبقوں کومکمل قیادت اورحصہ دینے کیلئےہم نےکولکتا اوراس اجلاس کےدرمیان اپنی پارٹی کےدستور کو بدلا ہے۔ کانگریس ایک ایک ہندستانی کے ذریعہ بنی ہے، ایک ایک ہندستانی کے لئے ہے او ایک ایک ہندستانی کی ہے۔ لیکن اسکے ساتھ ساتھ ہمارے اسپر ایک مخصوص فرض یہ ہے کہ ہم عورتوں، دلتوں، آدیواسیوں، اقلیتوں اور پسماندہ طبقوں کو سماجی،معاشی اور سیاسی کے اہم صف میں لائیں۔ جب میں چھ اپریل ١٩٩٨کو کانگریس صدر بنی تھی، تب میں کہا تھا کہ ہمارے سماج کے کمزور طبقے برابری چاہتے ہیں، مہربانی نہیں۔ آج میںوہی لفظ پھر سے دہراتی ہوں۔ ہمنے یہی کرنے کا تہیہ کیا ہے اور ہم یہ کام مسلسل کرتے رہینگے ۔
انتخاب کسی بھی سیاسی جماعت کیلئےزندگی کی لکیرہےاورجمہوریت کی بھی زندگی کی لکیر ہے۔ اسی لئےیہ لازم ہیکہ ہم اپنےکوانتخاب کیلئےتیاررکھیں،چاہےوہ پنچایتوں اورنگرپالیکاؤں کےہوں یااسمبلی اورپارلیمنٹ کے۔ لیکن یہ بھی طئےہیکہ سیاست میں انتخابات کےاتارچڑھاؤ کےعلاوہ بھی بہت کچھ اہم ہے۔ ضروری ہےکہ ہمیںسیاست کوانتخابات کی نظرسے ہی نہیں ایک زمرے میں دیکھنا چاہییے۔ سیاست سماجی تشکیل کے لئے ہے۔ سیاست ہمارے سماج کےمستقبل، ہندستانیوں کی فلاح اوربہبود سےمنسلک کارگرمسئلوںپرغوروفکر کیلئے ہے۔ جیسا کہ گاندھی جی نے ہم سے بار بار کہا ہے، سیاست کی بنیاد پالیسی اور ذمداری پرمنحصر ہونی چاہیے۔ ہم میںسے کتنے لوگ ہیں جو سچ مچ سیاست کے اس کارآد معنی اور اسکے بہتر سماجی نظریوں کے متعلق رک کر سوچتے ہیں۔ ہم سب اپنے کو انتخاب کے لئے ضرور تیار رکھیں مگر میں چاہتی ہوں کہ ہم یہ سب بھی کریں۔ اگرہم نےسیاست کو ایک نیا اقتصادی نظام مہیا کردیا تو مجھے یقین ہے کہ ہمارے سماج کےوہ سب سےاچھےاورلائق فائق لوگ پھر سے سیاست کی طرف راغب ہونگے جنہوں نے اپنے کس اس وقت سیاسی ماحول سے الگ کرلیا ہے۔
اب میں اس مضمون پرکچھ کہناچاہتی ہوں جسکارشتہ ہماری شخصیت اور ہمارے کاموں سے ہے۔ جسکا رشتہ اس بات سے ہےکہ ہم اپنے کو کس شکل میں دیکھتے ہیں اور دوسرے ہمیں کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ پارٹی میں اتحاد اور نظم کے بارے میں کچھ کہنا مجھے ضروری لگ رہا ہے۔ یہ سہی ہے کہ پارٹی میں مختلف مسا ئل پرالگ الگ رائےاور نظرئےہوتے ہیں۔ یہ بھی ضروری ہیکہ لوگ کھلکراورجمہوری طریقےسےاپنی رائے ظاہرکریں ۔ لیکن اتحاد کی ضرورت آج سب سے زیادہ ہے۔
خدمت کی روایت اور تفکر ہماری تنظیم کےتناظرکامرکزی نکتہ ہے۔ یہ ایک حسن اتفاق ہے کہ " سیوادل کے" بانی ڈاکڑ نارائن سُبّا راؤ ہاڈیکر کرناٹک کےہی ہونہار فرزند تھے۔ انکی دوراندیشی نے ہماری پارٹی تنظیم کوایک مخصوص درجہ دیا۔ جب بھی میںسوادل کےمرد،عورت کام کرنے والوں کو ترنگے کا استقبال کرتے دیکھتی ہوں، وندے ماترم اورحب الوطنی کےدوسرے گیتوں کو گاتےسنتی ہوں، پارٹی جلسےکی شروعات وقت شدید دھوپ میں کھڑے ہوکر جذباتی ہجوم کی مدد اور رہنمائی کرتے دیکھتی ہوں تو میرا دل مسرت سے بھر جاتاہے- اپنی یگانہ لباس والی اس فوج کے ہم بیحد مقروض ہیں۔ ہم سب کوسوادل کےاصولوں کوعملی زندگی میں لاناچاہیے۔ ہمارے پارٹی کےدستورمیں سرگرم ممبرکوسماجی فلاح کےکاموںمیں حصہ لینےکا حکم دیا گیا ہے۔ اور ہمارےآس پاس تمام ایسےکام بالکل صاف دکھائی دے رہے ہیں جنکی طرف ہمارا دھیان جانا چاہیئے۔ ہمیں دنیا کو دکھا دینا چاہیئے کہ کانگریس ورکرس پارٹی کےلئےسچےجذبات سےواقف ہیں۔ اور سماج کی خدمت کی لگن سے سرشار ہیں۔
ہندستانی نوجوان کانگریس اورہندستانی قومی طلباء تنظیم کوچاہیئےکہ وہ نئی نسل کےسامنےمختلف مسا ئل پراپنےفکروخیال کااظہاکرتے ہوئےاپنی زندگی کی طاقت اور توانائی کو خدمت اور فیاضی کی طرف بھی موڑیں۔ یہ تنظیم مستقبل کے قیادت کے طلوع کی جگہ ہے۔
راجیو جی نے پنچایتوںمیں عورتوں کوریزرویشن دیکردیہی ہندستان کی شکل بد ل دی ہے۔ خواتین کانگریس کو چاہیئےکہ وہ اپنےکو چُنی ہوئی خاتون قائدوں سے رابطہ رکھیں جس سے اقتدار کی مرکزیت اور ترقی کےکاموں کا فائدہ ہر گھر تک،خاص طور سےغریبوں اور محروم تک پہونچے۔
آپ سب جانتے ہیں کہ ہمیں کتنےمشکل سیاسی کام کرنے ہیں۔ اترپردیش، بہار،تامل ناڈواور مغربی بنگال جیسےپردیشوںمیں کانگیرس کونئےسرے سے بنانےکی ضرورت ہے۔ اگلے ساٹھ دنوں میں ہمیں پانچ پردیشوںمیں انتخاب کا سامنا کرنا ہے۔ ہم سب ایک ہوکریہ انتخاب جیتنے ہین۔ میں جانتی ہوں کہ کیرل اورآسام کےلوگ مارکسوادی کمیونیسٹ پارٹی اورآسام گن پریشد کےپانچ سال کی ابترحکومت سےتنگ آچکےہیں اور ہمیں نیا عوامی تعاون دینے کو تیار ہیں۔ لیکن ہمیں اس بات سے مطمئن ہوکر بیٹھ نہیں جانا ہے۔ تامل ناڈواورپانڈیچری میں ہمارے ہمنواؤں کی جیت تقریباً طئے ہے۔ مغربی بنگال میں ہم نےایک اصولی فیصلہ لیا ہے جسکافائدہ مستقبل میںضرورملیگا۔ان صوبوں میں ہمیں اپنےکولوگوں کی امیدوں کےمطابق ثابت کرتے رہنا ہے۔
اس طرز پرپارٹی تنظیم میں رائےعامہ کا ماحول پیداکرنے کی ضرورت ہے۔ جن صوبوں میں ہماری حکومتیں ہیںوہاں ہمیں عوام کی امیدوں کو پورا کرنا ہے اور جہاں ہم اقتدار میں نہیں ہیں ، وہاں ہمیں لوگوں کے فائدے کا دھیان رکھنے والے ذمہ دار اور ہوشیار حزب مخالف کا کردار نبھانا ہے۔
پارٹی تنظیم سےجڑےہوئےدوسرے کئی مسئلےبھی ہیںجن پرتوجہ دینی چاہیے۔ جب میںملک میںپارٹی کےلوگوںسےملتی ہوں اوران سےبات کرتی ہوںتوالگ الگ خیال اورمشورےمجھ سےملتےہیں۔ جن میںسےکچھ پرمیں آپ سبھوں سےگفتگوکرناچاہیتی ہو۔کچھ لوگ یہ بھی چاہتےہیں کہ ہمیں ابتدائی اورایکٹیوممبروں کا فرق ختم کردیناچاہیئے۔ پارٹی میںصرف ایک ہی طرح کی رکنیت ہونی چاہیے،کچھ لوگوں کاخیال ہےکہ ضلع اکائی کی جگہ پارلیمنٹری اوراسمبلی علاقوں کی بنیاد پرپارٹی اکائی منظم ہونی چاہیئے۔ میں اگلےچھ مہینوںمیں‘‘پنچمڑی‘‘کی طرزپر ایک اورغوروفکرکیمپ لگانےکی سوچ رہی ہوں،جس سےہم سب کواورخاص طور سے کانگریس کی دوسری نسل کومثبت تبادلئہ خیال کاموقع ملے۔ پارٹی کےاندر تنظیمی معاملوں کے علاوہ ایک اور بڑا مسئلہ ہےجس پر سبھی سیاسی جماعتوں کوغور کرنا چاہیئے۔اسکارشتہ سیاسی پارٹیوں کو ملنے والی دولت سے ہے۔اسکے بارے میں باتیں بہت ہوئیں ہیں لیکن آگے کوئی ترقی نہیں ہوئی۔ مجھےلگتا ہےکہ ہم کانگریسی کواسمیںپہل کرنی چاہییےاوراپنی سیاسی کارروائیوں کے لئےچنداجمع کرنے میں ایک زیادہ صاف شفّاف اورایماندارانتظام اپنانا چاہیئے۔
میں اپنی ایک اورگہری فکر آپکے سامنے رکھنا چاہتی ہوں۔ جب میں ملک کے مختلف حصوں میں جاتی ہوں تو مجھے یہ دیکھکر بہت تکلیف ہوتی ہے کہ آج بھی ہمارے لاکھوں بھائی،بہن محروم اور مغموم ہیں، غریبی سے سب بے حال ہیں۔ لیکن کیا ہماری زندگی کے طرز کے بیچ ایسی کوئی شکل یا شبیح دیکھائی دیتی ہے کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ کچھ لوگ غریبوں کی باتیں کرتےہیں،مگر خودامیری کی زندگی جیتے ہیں۔ جیسا کہ ہمارے ایک سائنسداں نےحال میں ہی کہا تھاHe was refering to the culture of 'Talking poor and living rich ہم میں سےکتنے لوگ اپنی زندگی میں احتیاط اورسادگی پرعمل کرتے ہیں ایسےکتنے لوگ ہیں،جودکھاوااور دولت کی بیجا نمائش سےدور رہتے ہیں یہاں بھی ہمیں مہاتما گھاندھی کی طرف واپس لوٹنا ہوگا۔ ایمانداری سے صرف یہ یاد کرلینا کافی نہیں ہے کہ گاندھی جی نے کیا کہا اور کیسے جئے۔ ہمیں انکے راستے پر چلنا ہوگا۔ گاندھی جی نے یہ بھی کہا تھا کہ میری زندگی ہی میرا پیغام ہیں۔ ہماری زندگی کا بھی یہی طریقہ ہونا چاہیے۔
آج مرکز میں کانگریس کی حکومت نہیں ہے۔ لیکن آج ہمارے نو(9) وزیر اعلی ہیں۔ یہ اطمینان کی بات ہے کہ کانگریس کی صوبائی حکومتوں نے معاشی اور سماجی پالیسیاں،ترقی اورانتظامیہ کےمیدان میں دوسروں کو راستہ دکھایا ہے۔ ہماری حکومتوں اور غیر کانگریسی صوبائی حکومتوں کے کام کاج میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ میں آپکی طرف سے اپنے سبھی وزرائےاعلی کو مبارکباد دیتی ہوں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی یاد دلانا چاہتی ہوں کہ لوگوں کو ہم سے بہت امیدیں ہیں اور انہیں پورا کرنے کیلئے ہمیں ہہت کام کرنا ہوگا۔ میں نے وزرائےاعلی کو ہدایت دی ہے کہ وہ انتظامیہ کی بہتری کےمیدان میں ذاتی طور پردھیان۔ یہ طئےکرنا ہوگا کہ انتظامیہ ذمہ داراور حسّاس ہو۔ روز مرہ کی زندگی اوربرتاؤمیں حکومت کی تنظیموں اور دفتروں میں ہرشہری کی آوازسنی جائے،اور انکی پریشانیاں فورًا دور کی جائیں۔ کسی بھی شہری کو ستایا نہ جائے، خاص طور جو لوگ غریب اور کمزور ہیں، جنکی آواز عام طور سے نہیں سنی جاتی، انہیں پریشان کرنے کا سلسلہ فورًا ختم ہو۔
کانگریس کے وزرائےاعلی کو ایک اوربات کاخاص کیال رکھنا چاہیے۔ ہمیں ترقی کی ضرورتوں اور ماحولیات کے درمیان توازن بناکر چلنا ہے۔ یہ صحیح ہےکہ ہم نےخوب ترقی کی ہے۔ لیکن حقیقی معنوں میں ہمیں اسکی بہت بڑی قیمت چکانی پڑی ہے۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ آنے والی نسلوں کواسکی اور زیادہ قیمت نہ چکانی پڑے۔
یہ سب کرنے لئے ہمیں بہت صبرکرنا ہوگا۔اپنی تنظیم کو ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لائق بناناہوگا۔
کانگریس کی نئی پائیداری آج ملک کی ضرورت ہے۔ ملک کو ایک زندہ کانگریس چاہیے۔اسلئےآج ہم اپنے کو پھر سے،ایک نئی کانگریس بنانے کے تاریخی کام کیلئے وقف کرتے ہیں۔ایک ایسی کانگریس جسےاپنےماضی پر فخر ہے، جو حال میں ہوشیار ہےاورجسکومستقبل پربھروسہ ہے۔ ایک ایسی کانگریس جو پورے ہندستان میں خاص طور سےغریبوں،حقوق سےمحروم اور دبے ہوئے لوگوں میں نئی امید کا ۔۔۔۔ میری تمنّا ہےکہ ہم سب یہی پیغام لیکر بنگلورسےواپس جائیں۔
جئے ہند!