مورخہ 17نومبر 2007
قابل احترام صدر کانگریس محترمہ سونیا گاندھی جی !
کانگریس پارٹی کے معزز لیڈران
کانگریس پارٹی کے کارکنان
ہم آج یہاں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی کانفرنس میں تقریباً 2 سال کے بعد مل رہے ہیں۔ ہم جنوری 2006میں گزشتہ سمینار میں ملے تھے۔ جہاں ہم نے کانگریس پارٹی اور سرکار کے کام کاج کا جائزہ لیا اور کئی اہم فیصلے کئے تھے۔ اس درمیان 22مہینوں میں کئی واقعات سامنے آئے، کئی انتخابات ہوئے ہیں۔ سرکار کے ذریعہ کئی قدم اٹھائے گئے ہیں اور کئی مدعوں پر اختلاف اور حمایت کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ آج وقت ہے کہ ہم ملک کا ،سرکار کا اور پارٹی کے موجودہ حالات کا جائزہ لیں اور مستقبل میں ہمیں کیا کرنا چاہئے اس کے متعلق کچھ سوچیں۔
بھائیو اور بہنو!
یہ نہایت مسرت کی بات ہے کہ کانگریس پارٹی کی قیادت میں چل رہی متحدہ ترقی پسند محاذ (U.P.A)سرکار نے ساڑھے تین سال کی مدت پوری کر لی ہے۔ مئی 2004میں کانگریس اور اس کی حلیف جماعتوں کو حکومت چلانے کا عوام نے موقع فراہم کیا تھا۔ اس کا کریڈٹ ہماری محترم لیڈر محترمہ سونیا گاندھی جی کو جاتا ہے جن کی قیادت میں ہم سب متحد ہوکر انتخاب لڑے اور ملک کی عوام کو یقین دلایا کہ صرف ہماری سرکار ہی عام آدمی کی تکالیف کو سمجھ سکتی ہے اور ان کی دقتوں کو دور کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ چناومیں میں فتح یاب ہونے کے باوجود سونیا گاندھی نے قربانی، ایثار اور ملک کی خدمت کے جذبے کو آگے رکھتے ہوئے وزیر اعظم بننے سے انکار کر دیا۔ لیکن ہماری سرکار نے گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں جو کچھ بھی کیا ہے اس میں ان کا تعاون، رہنمائی اور حوصلہ افزئی ہمیشہ ملتی رہی ہے۔
بھائیو اور بہنو!
چند سال قبل ملک کے حالات کیسے تھے۔ اسے ہم بھول نہیں سکتے۔ آپ تمام 2004کے پہلے کے حالات کے بارے میں سوچیں، ملک میں چاروں طرف فرقہ وارانہ تناو کا ماحول تھا اور لوگ مذہب، ذات، زبان اور علاقائی مدعوں میں تقسیم ہورہے تھے۔ گجرات میں 2002میں کیا گزا اسے بتانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جہاں تک امن و قانون کی بات تھی، دہشت گردی چاروں سمت پھیلی ہوئی تھی۔ چاہے جموں کا رگھوناتھ مندر ہو، چاہے گجرات میں اکشردھام اور چاہے ہماری پارلیامنٹ ہی کیوں نہ ہو دہشت گردوں کے ہاتھ تمام مقام پر پہنچے۔ کسان قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے اور کچھ ریاستوں میں کسانوں کی خودکشی کا سلسلہ جاری تھا۔ ملک کی اقتصادی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ زراعت، دیہی علاقے، تعلیم، صحت اور پسماندہ علاقے سرکاری مدد سے محروم تھے۔ اور جہاں تک خارجہ پالیسی کی بات تھی ہمارے پڑوسی ملک کے ساتھ رشتے لڑکھڑا رہے تھے۔ ایک جانب لاہور اور آگرہ میں امن بات چیت تو دوسری طرف کارگل میں ہونے والی خونخوار جنگ جاری تھی اور ان سب کے باوجود کہا جارہا تھا کہ India Shining یعنی ”چمکتا بھارت“کس کے لیے Shining، کس علاقے کے لیے Shining، کس طبقے کے لیے Shining؟
اس India Shining کو ٹھکراتے ہوئے ملک کے عوام نے ہمیں سرکار چلانے کے لیے موقع دیا کہ ہم ملک میں تناو کے ماحول کو سدھاریں۔ ذاتیات، مذاہب اور علاقائیت کے درمیان اختلافات کم کریں۔ ملک کو ترقی کے راستے پر دوبارہ لے جائیں اور اپنے ہر کام میں عام آدمی اور خواتین کو اپنا مرکزی نشانہ بناکر کام کریں۔
اس منشا کو پورا کرنا ہمار فرض تھا اور فرض ہے۔ ہم نے اپنی حلیف جماعتوں کے ساتھ بیٹھ کر قومی کم از کم مشترکہ پروگرام تیار کیا۔ جو ہماری سرکار کی تمام پالیسیوں کی نشانہ راہ ہے۔ ہم نے NCMP میں کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے جی توڑ محنت کی ہے۔ آج ہم فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہم اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں کافی کامیاب رہے ہیں۔
بھائیو اور بہنو!
گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں بہت کچھ کام ہوا ہے۔ لیکن اگر ہم پیچھے مڑ کر دیکھیں کہ ہماری کونسی اہم کامیابی رہی ہے تو چند موضوعات ہمارے سامنے ابھر کر نظر آتے ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک کی ترقی کی فیصد 9 فیصد کے آس پاس چل رہی ہے۔ یہ ترقی کی شرح اس لیے اہم ہے کیونکہ اقتصادی ترقی کے بغیر ہم ان باقی تمام چیزوں پر آگے نہیں بڑھ سکتے جو ہم کرنا چاہتے ہیں۔ وعدے کرنا آسان ہے، لیکن انہیں پورا کرنے کے لیے رقم کی ضرورت ہوتی ہے اور ہمیں دھن دولت مہیا کرنا ہے۔ یہ جب ہی ممکن ہوسکے گا۔ جب ملک میں اقتصادی ترقی ہوگی۔ یو پی اے حکومت نے اب تک چار بجٹ پیش کئے ہیں اور یہ فخر کی بات ہے کہ چار سالوں میں ہم نے ترقی پر ہورہے اخراجات کو دوگنا کر دیا ہے۔ اخراجات میں اس اضافہ کا راج ہمارے ملک میں تاریخی اقتصادی ترقی ہے۔
اس اقتصادی ترقی میں خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ ترقی صرف کچھ علاقوں اور انڈسٹریز تک ہی محدود نہیں ہے۔ ہماری کوششوں سے زراعت کے شعبے بھی 4فیصد کی تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور انڈسٹریل شعبہ بھی 10فیصد کی شرح سے آگے بڑھ رہا ہے۔
اس کا ایک اور نتیجہ ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے، کئی علاقوں میں غریبی کم ہورہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ملک کو اسی راستے پر بنائے رکھیں تو آئندہ 10سالوں میں غریبی کو ہم 10فیصد تک مزید کم کرسکتے ہیں۔
زراعت اور انڈسیٹریل ترقی کے علاوہ قومی دیہی روزگار گارنٹی منصوبہ کا بھی اہم رول رہا ہے۔ اس قانونی حق کی طاقت پر ملک میں کروڑوں دیہی خاندان کو روزگار اور روزی روٹی ملنے کے انتظامات فراہم کرائے جارہے ہیں۔ اب تو ہم نے مذکورہ قانون کو 330اضلاع سے بڑھا کر یکم اپریل 2008سے پورے ملک میں لاگو کرنے کا فیصلہ لے لیا ہے۔ آپ سب کو یہ بات یاد رکھنی ہوگی کہ یہ قانون کانگریس پارٹی کے انتخابی اعلانات میںشامل تھا اور اس قانون کو لاگو کرنے کا کریڈٹ کانگریس پارٹی کو جاتا ہے کسی اور کو نہیں۔آپ کو ملک کے کونے کونے تک لے کر جانا ہوگا کہ مذکورہ قانون کانگریس پارٹی اور محترمہ سونیا جی کی دین ہے۔ ہماری ایک اور اہم کامیابی یہ ہے کہ ہم کئی دقتوں کے باوجود مہنگائی کو قابو میں رکھنے میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ جب ہم سرکار میں آئے تھے تب دنیا میں پٹرول کی قیمت تقریباً 35ڈالر فی بیرل تھی جو اب تقریباً 100ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ساری دنیا میں غلے، تیلہن اور خوردنی تیل کی قیمتیں بھی کافی بڑھ گئی ہیں لیکن ہماری یہی کوشش رہی ہے کہ ملک کے غریب لوگوں پر نہ پڑے جس میں ہم کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ آج مہنگائی 3-4 فیصد کے حساب سے بڑھ رہی ہے جو گزشتہ 20سالوں میں سب سے کم ہے۔ جہاں تک ترقی کی بات ہے ہم نے کئی نئے منصوبے شروع کئے ہیں۔ چاہے تعلیم کے شعبہ میں ہو، چاہے صحت کے شعبہ میں یا کسانوں کے لیے ہوں، چاہے خواتین کے لیے یا پسماندہ طبقات کے لیے، چاہے درج فہرست ذات کے لیے، چاہے دیہی علاقوں اور شہروں میں اصل ڈھانچے کے لیے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نہ صرف سرکاری خرچے میں 2-3گنا اضافہ ہوا ہے بلکہ ہم نے ترقی کا ایک نیا ڈھانچہ بنایا ہے جو آئندہ 4-5 سالوںمیں پورے ملک کے چہرے کو بدل دے گا۔ سرکاری خرچ میں بڑھوتری کی وجہ سے ریاستوں کے پاس رقم کی کمی نہیں ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ تین سال قبل جب ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ مجھ سے ملنے آتے تھے تو صرف زیادہ سے زیادہ رقم کا مطالبہ کرتے تھے، آج کوئی ایسا وزیر اعلیٰ نہیں ہے جو مرکز سے زیادہ رقم کا مطالبہ کر رہا ہو۔ اس کا واحد مطلب یہ ہے کہ مرکزی سرکار اپنی ذمہ داری بخوبی نبھا رہی ہے۔ اب ذمہ داری ریاستی سرکاروںکی ہے کہ وہ اس رقم کا صحیح استعمال کریں اور اپنی ذمہ داری کو صحیح طرح سے نبھائیں اور اس ذمہ داری کو نبھانے میں آپ سبھی اپنا تعاون دے سکتے ہیں۔ آپ کو ریاستی سرکاروں پر دباؤبنائے رکھنا ہوگا تاکہ ترقی کے نتائج جو ہم چاہ رہے ہیں وہ مل سکیں۔
بھائیو اور بہنو!
میں ترقی سے ہٹ کر کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ کانگریس پارٹی اور UPAسرکار سیکولرازم پر یقین رکھتی ہے۔ ہماری کوشش سے آج پورے ملک میں امن اور بھائی چارہ کا ماحول ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات کم ہوئے ہیں۔ دکھ کی بات ہے کہ کچھ شہروں اور قصبوں میں دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں۔ جس میں کچھ بے گناہ لوگوں کی جانیں گئیں، لیکن ان سبھی علاقوں میں لوگوں نے تحمل اور ضبط بنائے رکھا، امن کے ماحول کو بگڑنے نہیں دیا۔ ہم دہشت گردی کا مقابلہ کرتے رہیں گے اور ان کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
لیکن خوشی اس بات کی ہے کہ آج ملک میں ہر انسان روزی روٹی کمانے اور ترقی لانے میں شب و روز مصروف ہے۔ یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس لیے کہ ایسے ماحول کے بغیر ہماری ترقی کی تمام کوششیں ناکام رہ جائیں گی۔ تمام کانگریسی کارکنان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے کونے کونے تک یہ پیغام پہنچائے کہ کانگریس سرکار کے رہتے ہوئے ہم ملک کے کسی بھی علاقے میں کسی قسم کا بھید بھاؤہونے نہیں دیں گے اور ملک کا ہر شہری پرامن ماحول میں رہ سکتا ہے۔
ہم نے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ ہمارے ملک کے ہر طبقہ کو ترقی میں حصہ دار ضرور بنانا ہے اور تمام کو برابری کا حق دلائیں گے۔ اسی سلسلے میں ہم نے خواتین کو طاقت ور بنانے کے لیے کئی قانون بنائے ہیں۔ انہیں خاندان اور وراثت میں برابری کا حق دلایا ہے اور ان کی ترقی کے لیے تعلیم اور صحت پر زور دیا ہے۔ کانگریس پارٹی چاہتی ہے کہ سیاست میں خواتین کی حصہ داری بڑھے۔ ہم پارلیامنٹ اور اسمبلی میں خواتین کو ریزروشن دینے کے لیے پابند عہد ہیں اور اس پر عام رائے بنانے کے لیے کوشش جاری رکھیں گے۔ پسماندہ طبقہ اور درج فہرست ذات کے لوگوں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے ہم نے مرکزی سرکار میں 50ہزار ریزور عہدوں پر بھرتی کی ہے۔ جنگلوں میں بسنے والے لوگوں کو زمینی حق دلانے کا قانون بنایا ہے۔ اقلیتوں کے صحیح حالات جاننے کے لیے ہم نے سچر کمیٹی بنائی تھی جس نے یہ ثابت کیا ہے کہ واقعتا ملک کی اقلیتوں کے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ ان کے حالات میں بہتری لانے کے لیے ہم نے وزیر اعظم کا 15نکاتی پروگرام شروع کیا ہے۔ اقلیتوں کی تعلیم کے لیے بہت بڑے وظیفے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ہم انہیں 121اضلاع کی ترقی کو خصوصی توجہ دے رہے ہیں جہاں اقلیتیں زیادہ تعداد میں رہ رہی ہیں۔ ان اضلاع میں تعلیم اور صحت خدمات اور بینکوںسے قرض دلانے کے لیے زیادہ سے زیادہ کوشش کی جارہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہماری کوششوں کی وجہ سے تمام محروم طبقہ ملک میں ہونے والی ترقی میں جلد ہی شامل ہوجائے گا۔ محروم طبقہ کے ساتھ ساتھ محروم علاقوں کو بھی خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ پنچایتوں کے حوالے سے ملک کے 250اضلاع میں سالانہ 5ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے ہم نے Backward Regions Grant Fundمنصوبہ شروع کیا ہے جس کے ذریعہ یہ اضلاع اپنے پچھڑے پن سے ابھر کر باقی اضلاع کے برابر آسکیں گے۔ جموں و کشمیر اور شمال و جنوبی ریاستوں کی جانب خصوصی توجہ دی جارہی ہے اور اس کے اچھے نتائج سامنے آرہے ہیں۔ جموں و کشمیر سے امن بات چیت کی وجہ سے وہاں کے ماحول میں بہتری آئی ہے اور اب وہاں کے باشندے ایک اچھی زندگی جینے کی امید کر رہے ہیں۔
بھائیو اور بہنو!
میں ترقی کے سبھی منصوبوں کے متعلق زیادہ نہیں کہنا چاہتا لیکن 2-3 اہم شعبوں پر آپ کا دھیان دلانا چاہتا ہوں۔ تعلیم کا شعبہ ہماری سرکار کا سرتاج ہے۔ اس پر ہم نے بہت زیادہ زور دیا ہے۔ سروشکشا ابھیان پورے ملک میں لاگو ہیں اور ملک میں12کروڑ بچے اسکول میں دوپہر کا کھانا حاصل کر رہے ہیں۔ آئندہ پنج سالہ پروگرام میں تعلیم کے شعبہ میں ہونے والے خرچے کو ہم 5گنا بڑھا کر ڈھائی لاکھ کروڑ روپے کرنے جارہے ہیں۔ ہم ملک کے تمام بلاک میں بہترین اسکول کھلنے میں مدد کریں گے اور تمام بچوں کے لیے سکنڈری اسکول کی سہولیات فراہم کرائیں گے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ملک میں ایک کروڑ نوجوانوں کو ووکیشنل تعلیم مل سکے۔ جس سے وہ ہنرمند بن کر اچھے روزگار حاصل کرنے میں کامیاب ہوں۔ ہم 30نئی سینٹرل یونیورسٹیز بھی کھولنے جارہے ہیں۔ ان تمام کوششوں کے لیے ہم رقم دستیاب کر رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ان منصوبوں کی وجہ سے ملک کا ہر نوجوان مستقبل کی طرف امید بھری نگاہوںسے دیکھنے کا اہل ہوگا۔ دوسرا شعبہ جس پر ہم خصوصی توجہ دے رہے ہیں وہ ہے زراعت اور کسان۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ کئی سالوں کے بعدگزشتہ 3سالوں میں زراعت میں 4فیصد ترقی ہوئی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ مستقبل میں یہ رفتار بنی رہے۔ ہم نے زراعت شعبہ کی ترقی کے لیے قومی زراعتی ترقی منصوبہ اور قومی Food Security Mission شروع کیا ہے۔ ان پر 35ہزار روپے کروڑ خرچ ہوں گے۔ ہم نے کسانوں کی بھلائی کے لیے گیہوں اور چاول کی قیمتوں میں کافی زیادہ اضافہ کیا ہے۔ کسانوں کو ملنے والا قرض دوگنا ہوچکا ہے۔ تمام اضلاع میں ایگری کلچر سائنس سینٹر شروع کئے گئے ہیں۔
آنے والے دنوں میں ہم کسانوں کی اقتصادی اور حقیقی حالات میں سدھار لانے کے لیے کئی اور قدم اٹھائیںگے۔ مجھے یقین ہے کہ آنے والے سالوں میں شعبہ زراعت اگر اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو ہمارے دیہی علاقوں کا چہرہ بدل جائے گا۔ ویسے تو ہم بھارت نرمان کے ذریعہ گاؤں میں اصل ڈھانچے میں سدھار لا رہے ہیں۔ ہر ایک گاؤں میں سڑک، بجلی اور ٹیلی فون کی سہولیات پہنچا رہے ہیں۔ بھارت نرمان سے ہی ملک کی تعمیر نو ممکن ہے۔ گاؤں کے ترقی پر دھیان دیتے ہوئے ہم شہروں کو نظر انداز نہیں کر رہے ہیں۔ Jawaharlal Nehru Urban Renewal Mission کے ذریعہ 63 بڑے شہروں پر جو خرچ ہورہا ہے وہ پہلے کبھی نہیں ہوا ہے۔ اسی کے ساتھ نقل و حمل کی جدید سہولیات فراہم کرائی جارہی ہیں۔ جگی جھوپڑی اور چھوٹی بستیوں کو سدھارا جارہا ہے۔ شہروں کے تعمیر نو سے نہ صرف بہتر زندگی گزار پائیں گے بلکہ کروڑوں روزگار کے نئے مواقع ملیں گے۔
ساتھ ہی ملک بھر میں نئے Infrastructure کی تیزی سے تعمیر ہورہی ہے۔ نئی ریل لائنیں، نئی سڑکیں، نئے ہوائی اڈے، نئے بندرگاہ بنائے جارہے ہیں۔ آپ جدھر دیکھیں ادھر تیزی سے کام چل رہا ہے۔ یہ ہماری سرکار کی محنت کا نتیجہ ہے۔ ہمارا منصوبہ ہے کہ آئندہ 5سالوں میں Infrastructure پر 20لاکھ کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے اور مجھے یقین ہے کہ یہ ضرور ہوگا۔
بھائیو اور بہنو!
ملک کے زیادہ تر لوگ اپنی روزی روٹی خود کماتے ہیں وہ کسی اور کے یہاں نوکری نہیں کرتے۔ ملک کے 90فیصد عوام ایسے ہی جیتے ہیں اور انہیں عوامی تحفظ کا فائدہ نہیں ملتا ہے۔ ان کی بھلائی کے لیے ہم نے تین بہت بڑے قدم اٹھائے ہیں۔ سب سے پہلے ہم نے پرانے بزرگوں پینشن کو بدلتے ہوئے اس میں 65سال سے زیادہ عمر کے تمام غریب بزرگوں کو شامل کیا ہے۔ دوسرا ہم عام آدمی ”بیمہ پروگرام “کے ذریعہ ملک کے ہر ایک دیہی باشندوں کو زندگی اور حادثے میں بیمہ کی سہولت دے رہے ہیں۔ تیسرا ہم نے ایک صحت بیمہ پروگرام بھی منظور کیا ہے، جس سے تمام لوگوں کو صحت بیمہ کا فائدہ مل سکے گا۔ صحت خدمات اچھی ہوں اور تمام کو ڈاکٹر اور اسپتال کی سہولیات ملیں اس کے لیے ہم نے National Rural Health Missionشروع کیا ہے۔ یہ تمام منصوبے نئے ہیں اور اگر انہیں 2-3 سالوں میں صحیح ڈھنگ سے لاگو کیا جائے گا تو ملک کے کروڑوں خاندان کو ذہنی اور اقتصادی تحفظ مل سکے گا۔
بھائیو اور بہنو!
مجھے معلوم ہے کہ کچھ لوگ ضروری خوردنی اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے فکر مند ہیں، کسی حد تک زراعت کے شعبہ میں جو کوششیں ہم کر رہے ہیں۔ اس سے ہمیں فائدہ یقینا ملے گا۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ کئی وجہوں سے ساری دنیا میں خوردنی اشیا کی قیمتیں کافی بڑھ گئی ہیں۔ ان وجوہات پر ہمارا کنٹرول نہیں ہے۔ پھر بھی ہماری کوشش ہمیشہ یہی رہے گی کہ تمام ضرورت مند اور غریب طبقات کو خوردنی اشیا صحیح قیمتوں پر فراہم کی جاسکیں۔ اس سلسلے میں ہم نے آنگن باڑیوں کی توسیع کی ہے، انتودے خوراک پروگرام کی توسیع کی ہے اور مستقبل میں راشن کے شعبہ میں بھی بہتری لانے کی کوشش کی جائے گی۔
بھائیو اور بہنو!
جہاں تک خارجہ پالیسی کی بات ہے ہماری سرکار پڑوسی ممالک کے ساتھ، دنیا کے طاقت ور ممالک کے ساتھ، عرب ممالک اور ایشیا و افریقہ کے ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے میں کامیاب رہی ہے۔ امریکہ کے ساتھ ہم تاریخی سمجھوتہ کر رہے ہیں۔ جس کے ذریعہ ملک میں جوہری توانائی میں بے انتہا اضافہ ہوسکے گا۔ اس معاہدہ کے متعلق کئی لوگوں کے ذہن میں سوالات اور شکوک ہیں۔ ہماراملک جس رفتار سے ترقی کر رہا ہے اس سے توانائی کی ضرورت دن بدن بڑھ رہی ہے۔ ہم جتنی بھی کوششیں کریں ہم کوئلے اور ندیوں سے اپنی ضرورتوں کو پورا نہیں کر پائیں گے۔ اگر ہمیں اور ترقی کرنی ہے اور ملک کے غریبی مٹانی ہے تو ہمیں توانائی کے نئے راستے ڈھونڈنے ہوں گے۔ جوہری توانائی ایک راستہ ہے، اب تک یہ راستہ بند تھا۔ ہماری کوشش ہے کہ جوہری معاہدہ کے ذریعہ ہم اس بند دروازے کو کھولیں، امریکہ ، روس، فرانس اور دیگر ممالک سے جوہری ایندھن اور ٹکنالوجی حاصل کریں اور ملک میں توانائی کی مشکلات کو حل کریں۔ یہ بات آپ کو اپنی ریاستوں میں ہر ایک شہری تک پہنچانی ہوگی۔ عرب اور خلیجی ممالک سے ہمارے پرانے تعلقات رہے ہیں۔ اور آج وہاں ہمارے 50لاکھ شہری برسرِ روزگار ہیں۔ ہم ہمیشہ یہی چاہتے ہیں کہ وہاں امن ہو، چاہے عراق میں، چاہے ایران میں، چاہے دیگر ممالک میں کیوں کہ اسی علاقہ سے ہمیں پٹرولیم ملتا ہے اور ہماری توانائی کی ضرورتیں وہاں کے حالات پر منحصر ہیں۔ ہماری کوشش یہی رہی ہے کہ وہاں امن رہے اور تناؤ کم ہو۔ چین پاکستان، روس،یوروپین ممالک اور ایشین، جاپان اور دیگر ممالک کے ساتھ ہمارے رشتے اچھے ہیں۔ پاکستان کے ہمراہ ہماری کوشش یہی رہی ہے کہ دونوں ملک کے درمیان رشتے بہتر ہوں۔ دونوں کا آنا جانا بڑھے اور تجارت و اقتصادی تعلقات مضبوط ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کی تقدیر جڑی ہوئی ہے۔ دونوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد دونوں ملک کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے اور دونوں ملکوں میں امن و خوشحالی کے لیے خطرے ہیں۔ اس لیے ہمیں مل کر امن قائم کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔ ہماری کوشش یہی رہی ہے کہ اگر ہمارے چاروں طرف امن اور بھائی چارہ ہو تو ہمارے ملک کی ترقی کے لیے مزید نئے راستے کھلیں گے۔
بھائیو اور بہنو!
ابھی تک جو کچھ میں نے کہا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب کرنے کے لیے کچھ بھی باقی نہیں رہ گیا ہے۔ ہم نے تو صرف ترقی کا ایک نیا ڈھانچہ تیار کیا ہے۔نئے پروگرام کا آغاز کیا ہے اور سرکاری اکراجات کو بڑھایا ہے۔ ابھی تو ہم نے اگلے پانچ دس سال تک اس بات پر دھیان دینا ہے کہ یہ ترقی کا ڈھانچہ صحیح سلامت آگے بڑھ سکے۔ ترقی کا منصوبہ صحیح طریقے سے روبہ عمل رہے اور ریاستوں کو دی گئی رقم کا صحیح استعمال ہو۔ تعلیم اور صحت کے شعبہ میں جو توسیع ہم کر رہے ہیں اس کا اثر ہر ایک شہری تک پہنچانا ضروری ہے۔ خواتین،پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے لیے جو منصوبے شروع کئے گئے ہیں ان کا فائدہ ملک کے کونے کونے تک پہنچایا جانا لازمی ہے۔ اس کے سرکار کو انتھک محنت کرنی ہوگی۔ تمام سرکاری ملازم کو چاہے وہ وزیر ہو یا عوامی نمائندہ یا سرکاری اسٹاف۔ انہیں تب تک آرام نہیں کرنا چاہئے جب تک ہمیں ہماری منزلیں حاصل نہیں ہوتی۔ ریاستی سرکاروں کو نکسلی تشدد، دہشت گردی اور فرقہ پرست عناصر کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا اور اس جنگ میں کانگریس پارٹی کے رضاکاروں کو آگے رہنا ہوگا۔ غریبی مٹانے کے لیے اور گاؤں کے حالات سدھارنے کے لیے ہمیں پختہ ارادے کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔
بھائیو اور بہنو!
آپ تمام کی شراکت بہت ہی اہم ہے۔ کانگریس پارٹی کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہمیشہ عام لوگوں کے ساتھ جڑ کر ان کی خواہشات اور مرضی کو اپناتے ہوئے ملک کی ترقی کے لیے کام کرنا ہوگا۔ کانگریس پارٹی نے ہندوستان کو آزادی دلائی اور بابائے قوم مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو وغیرہ کی نمائندگی میں ملک کو ترقی کے راستے پر لگایا۔ ہمارے آئین میں ایک ترقی پذیر، خوشحال، مذہبی ہم آہنگی والے ہندوستان کا خواب ہے۔ وہ کانگریس پارٹی کا ہی خواب ہے۔ کانگریس نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ ملک کے کسی بھی علاقے اور طبقے ملک کی خوشحالی میں برابر کے حصہ دار بنیں اور ملک میں سبھی لوگ اپنی مرضی سے اپنا کام کریں۔ آزادی کے بعد گزشتہ 60سالوں میں ملک نے جو ترقی دیکھی ہے اس کا کریڈٹ کانگریس پارٹی کو ہی جاتا ہے۔ مہاتما گاندھی اور نہروجی کے بعد اندرا گاندھی جی اور راجیو جی جیسے لیڈران نے ملک کو اسی راستے پر بنائے رکھا۔ وہ ملک میں منافقت پیدا کرنے والی طاقتوںسے ہمیشہ لڑتے رہے اور ملک کو جدید اور طاقت ور بنانے کے لیے کام کرتے رہے۔ اس لیے ملک کی ہر ریاست میں ہر طبقات کو اور ہر عمر کے لوگوں کو کانگریس پارٹی پسند ہے۔ ہمیں اسے بنائے رکھنا ہوگا۔ کانگریس پارٹی ایک تاریخی جماعت ہی نہیں بلکہ ملک کو مستقبل کی طرف لیجانے والی پارٹی ہے۔ ہمارا ملک ایک نوجوان ملک ہے اور ہمارے یہاں نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ہمارے ملک کے نوجوان فرقہ پرستی اور بھید بھاؤکو ٹھکرا کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ ان کے خواب، ان کے خیالات، ان کی خواہشات ملک کو ایک سنہرے مستقبل کی جانب لے جائے گی۔ آج کانگریس پارٹی کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اس نوجوان نسل کے خواب کو ان کی خواہشات اور فکروں کو سمجھیں اور اپنائیں اور انہیں پورا کرنے کے لیے کوشش کریں۔ ساتھ ہی ساتھ ملک کے کئی پچھڑے علاقوں کے لوگ ابھی بھی غریبی اور بھکمری سے جوجھ رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی کو ان طبقات تک پہنچنا ہوگا اور انہیں آواز دینی ہوگی۔ تبھی کانگریس پارٹی گاندھی جی اور نہرو جی کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کر سکتی ہے۔ ہمارے لیڈران کو اس پر غور کرنا ہوگا۔مجھے یقین ہے کہ کانگریس کے نوجوان لیڈر راہل گاندھی جی ملک کے نوجوانوں کے دل اور دماغوں کو جیت کر کانگریس پارٹی اور ہندوستان کو ایک نئی منزل تک لے جانے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ ان خیالات کے ساتھ میں آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اپنے ملک اور اپنی پارٹی کے مستقبل کے بارے میں گہرائی سے غور و فکر کریں گے۔
جے ہند!