All India Congress Committee - AICC
 
 

 

 

 

 

 

عام آدمی کے بڑھتے قدم

ہر قدم پر بھارت کاسربلند

 

 

 

 

 

کانگریس پارٹی کا عہد

دہشت گردی سے بھارت کی حفاظت

 

 

 

      7 اپریل 2009

        آل انڈیا کانگریس کمیٹی

        24 اکبر روڈ۔ نئی دہلی 110001

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

موضوعات کی فہرست

 

I . سیاق وسباق

II . کانگریس کامنصوبہ: دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جزیات

(الف ) تیاری کی اعلیٰ ترین سطح۔ پہلا ستون

1. لا ئق اور پوری طرح لیس افرادی قوت

2.  قابل عمل انٹیلیٰ جنس اور اچوک تجزیہ

3 . بااختیار اور باہم مربوط سیکوریٹی ایجنسیاں

(ب) تیز رفتار اور فیصلہ کن ردعمل اور اس کی پیروی ۔ دوسرا ستون

1.  خطرات اور حملوں پر فیصلہ کن ردعمل

2.  پختہ اور تیز رفتار تحقیقات اور مقدمہ

III.  اختتام

 

 

 

 

 

 

 

 

 

1. سیاق وسباق

پچھلے دس برسوں میں دہشت گردی دنیا بھر کے ملکوں کو درپیش واحد سب سے اہم مسئلہ کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ اور امریکہ میں 11 ستمبر کے واقعہ سے لے کر اسپین میں ٹرین دھماکوں تک، برطانیہ میں میٹروحملوں سے لے کر انڈونیشیا میں بالی کے بم دھماکوں تک دہشت گردی آج صحیح معنیٰ میں ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔

ہندوستان بھی اس مسئلہ سے محفوظ نہیں ہے۔ درحقیقت ستم ظریفی یہ ہے کہ کثیرالنوع سیکولرازم اور متعدد مذاہب وعقائد کے تئیں عہد بند ہونے کی وجہ سے ہندوستان بہت سے دہشت گرد گروپوں کا پسندیدہ نشانہ بن گیاہے۔ دہشت گردی کے سرچشمے کئی گنابڑھ گئے ہیں۔ اس وقت تسلیم شدہ دہشت گرد تنظیمیں بھی موجود ہیں اور سرکاری حمایت یافتہ دہشت گرد گروپوں، سرکار سے تعلق نہ رکھنے والے دہشت گردوں اور جرائم پیشہ گروپوں کا وجود بھی پایا جاتاہے، جیسا کہ وزیراعظم منموہن سنگھ نے حال میں کہا ہے کہ دنیا میں دہشت گردی سے متعلق مشینری زیادہ جدید ہوتی جارہی ہے اس لئے دہشت گردانہ حملوں کی تعداد اورہیئت بھی شدت سے بڑھتی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی پوری دنیا کی حکومتوں کے لیے ایک غیرمعمولی چیلنج کی شکل اختیار کرگئی ہے اور ہر ذمہ دار حکومت کو اس مسئلہ سے جنگی پیمانہ پرنمٹنا چاہئے۔

ہمارا عہد

کانگریس پارٹی اس چیلنج کا احساس رکھتی ہے۔کانگریس پارٹی نے یہ عہد کررکھا ہے کہ وہ دہشت گردی کے چیلنج سے نپٹنے کے لیے ایک مضبوط اور فیصلہ کن قیادت فراہم کرے گی۔ ہندوستان کے لوگوں سے یہ ہمارا وعدہ ہے۔

اس دستاویز میں بعض ایسے اقدامات کاذ کر کیاگیاہے جو ہندوستان کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے لیے کانگریس پارٹی کی حکمت عملی کا ایک حصہ ہیں۔ کانگریس کے زیر قیادت یوپی اے حکومت نے اپنی موجودہ میعاد کے دوران دہشت گردی کی روک تھام کا جوکام انجام دیاہے، اس کی خصوصیات کے خلاصہ سے دستاویز کاآغاز ہوتاہے۔ ممبئی میں 26/11 کے حملوں کے بعد پچھلے چند مہینوں میں جو متعدد سرگرم اقدامات کئے گئے ہیں، انہیں اس دستاویز میں اجاگرکیاگیاہے۔ اس کے بعد دہشت گردی کی روک تھام کی حکمت عملی کی ان اہم خصوصیات کاذ کر ہے جو کانگریس پارٹی 2009 کے عام انتخابات میں برسراقتدار آنے کی صورت میں اپنائے گی۔ ہماری حکمت عملی جن اقدامات پر مشتمل ہوگی ان میں ٹکنالوجی کا اور زیادہ استعمال، سیکورٹی فورسوں کو اور زیادہ اور بہترسازوسامان سے لیس کرنا، بہتر انٹلی جینس اور تجزیہ کرنے کی بہتر صلاحیت، بہترتال میل، کارروائی کا واضح طریقہ کار، تیز رفتاری کے ساتھ تحقیقات کرنا اور مقدمہ چلانا جیسے اقدامات شامل ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذ کر ہے کہ اس دستاویز میں دہشت گردی کے مسئلہ سے نبردآزمائی کے لیے تنظیمی،انتظامیہ اور ٹکنالوجیکل اقدامات سے بحث کی گئی ہے۔ دہشت گردی کے انسداد کے لیے سیاسی طریقہ کارکی بھی اتنی ہی اہمیت ہے۔ یہ بات ہم نے 2009 کے انتخابات کے سلسلہ میں کانگریس پارٹی کے منشور میں بھی کہی ہے۔

”دہشت گردی کامقابلہ انتھک طریقہ پر چابک دستی اور دانشمندی کے ساتھ کسی خوف اور جانبداری کے بغیر کیا جانا چاہیے۔ دہشت گردی کا مقابلہ لوگ متحدہوکر ہی کرسکتے ہیں، مذہب کے نام پر منتشر ہوکر نہیں۔ کسی ایک مذہب کی یکجائی کے عمل سے، جوبی جے پی جیسی پارٹیوں کی اقدار میں رچابسا ہے دہشت گردی سے نپٹنے کی ہماری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچتاہے۔“

اگر ہم ہرقسم کی فرقہ پرستی کے ایجنڈے پر قابو نہیں پاتے تو ہمیں دہشت گردی پر قابو پانے کی امید نہیں کرنی چاہیے۔ دہشت گردی کے انسداد میں کانگریس پارٹی کی حکمت عملی اور بی جے پی کی حکمت عملی میں یہی بنیادی فرق ہے۔ پورے ملک کو معلوم ہے کہ بی جے پی کے زیرقیادت این ڈی اے کی نام نہاد ”ہم طاقتور ہیں“ پالیسیوں کی کتنی بھاری قیمت چکانی پڑی۔ کرگل میں غفلت، قندھار میں دہشت گردوں کی حوالگی اور پراکرم کارروائی میں تعطل۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے واقعات ہیں جن کا زیادہ چرچانہیں ہوا۔مثلاً1998-2004 کے دوران جب شری ایل کے اڈوانی وزیرداخلہ تھے انڈین پولیس سروس IPS میں بھرتی کے معاملہ میں بے حسی اور انتہائی لاپروائی ، جس نے ہمارے سیکورٹی ڈھانچہ میں ایک دراڑ پیدا کردی اور دہشت گردی سے نپٹنے کی ہماری تیاری کو کمزور کردیا۔اس کے علاوہ قومی آئی ڈی کارڈ پراجیکٹ جوبی جے پی کے زیرقیادت این ڈی اے حکومت کے دورمیں مکمل طورپر نظر انداز کردیاگیا۔

 

یہ صرف انڈین نیشنل کانگریس ہے جو دہشت گردی کے عفریت کا منہ درمنہ اور فیصلہ کن طریقہ سے لیکن ان نازک لڑیوں کو کمزور کئے بغیر مقابلہ کرسکتی ہے، جنہوں نے صدیوں سے ہمارے معاشرہ کو متحد کررکھا ہے۔

 

II.  کانگریس کا منصوبہ: دہشت گردی کافیصلہ کن جواب دینے کی جزیات

 یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ہندوستان نے پچھلے دس برسوں میں این ڈی اے اور یوپی اے حکومتوں کے دور میں بڑھتی ہوئی اور پیچیدہ ترہونے والی دہشت گردی کے واقعات کاسامنا کیاہے۔ دہشت گردی کے واقعات کادونوں ہی حکومتوں نے الگ الگ طریقوں سے جواب دیا ہے لیکن یوپی اے حکومت نے اپنی تمام کوششیں ایک ایسی حکمت عملی پر مرکوز کردی ہیں جس کا مقصد نہ صرف یہ کہ دہشت گردی کے واقعات کا بھر پور جواب دینا ہے بلکہ اس طرح کے معاملات کا پہلے سے اندازہ لگانے کے لیے سرگرم ہوجانا اور اس لعنت سے نپٹنے کے لیے صلاحیتوں کو باضابطہ طور پر فروغ دینا بھی ہے۔ اس سلسلہ میں ایک ہمہ جہت حکمت عملی اختیار کرنا لازمی ہوگیاہے۔

جیسا کہ وزیرداخلہ شری پی چدمبرم نے کہاہے”ہم نے اپنے لیے دومقاصد مقرر کئے ہیں۔ پہلا ۔ روز بروز جدت اختیار کرنے والے دہشت گردی کے خطرات سے نپٹنے کے لیے تیاری کی اپنی سطح میں اضافہ کرنا اور دوسرے دہشت گردی کے خطرہ یادہشت گردانہ حملہ کی صورت میں اختیار کئے جانے والے طرز عمل اور اس کا جواب دینے میں سرعت پیدا کرنا۔

اس حصہ میں ہم ان اقدامات کا خلاصہ بیان کریں گے جوکانگریس کے زیرقیادت یوپی اے حکومت نے دہشت گردی کی روک تھام کی اپنی حکمت عملی کے طور پر کئے ہیں اور کچھ ایسے اقدامات پر بھی بحث کریں گے جن پر کانگریس پارٹی اگلی میعاد کے لیے برسراقتدار آنے کی صورت میں عمل کرے گی۔ وزیر داخلہ کے بیان کی بنیاد پر ان اقدامات کو مندرجہ ذیل زمروں میں رکھا جاسکتا ہے۔

(A) تیاری کی اعلیٰ ترین سطح

(1) لائق اور پوری طرح لیس انسانی ذرائع

(2) قابل عمل خفیہ معلومات اور ان کا بھر پور تجزیہ

(3) بااختیاراور آپس میں تال میل رکھنے والی سیکوریٹی ایجنسیاں

(B) فوری اور فیصلہ کن رد عمل اور اس کی پیروی میں بھرپور کارروائی

(1) خطرات اور حملوں کی صورت میں فیصلہ کن کارروائی۔

(2) پختہ اور تیزرفتار تحقیقات اور مقدمہ چلایاجانا۔

 

 

(A) تیاری کی اعلیٰ ترین سطح۔ پہلا ستون

دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی میں ہمارے پہلے ستون میں صلاحیت کوبڑھایا جانا اور دہشت گردی کی روک تھام سے متعلق مشینری کے تیار رہنے کے عمل کو بہتر بنایاجانا شامل ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ صلاحیتوں میں منظم طریقہ پر اور تیاری کے عمل میں مختلف سطحوں پر اضافہ کیا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ہم کوئی کسرنہیں اٹھارکھیں گے اور اخراجات کو آڑے نہیں آنے دیں گے۔

(1) لائق اور پوری طرح لیس انسانی ذرائع

ہم نے یہ یقینی بنانے کا عہد کررکھا ہے کہ ہمارے پاس بہترین تربیت یافتہ اور پوری طرح لیس افرادی قوت ہو، جو دہشت گردی کی کارروائی کا جواب دینے اور اس پر قابوپانے میں ہماری مددکرے۔

کانگریس کے زیرقیادت یوپی اے حکومت نے ہماری افرادی قوت کی صلاحیتوں کو بڑھاوا دینے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات شروع کئے ہیں۔

پولیس بھرتی کا طویل مدتی منصوبہ ۔ ہم نے سب ہی پولیس فورسوں میں افسروں کی سطح پر بڑھتی ہوئی ضرورتوں کا اندازہ لگانے کی خاطر2009-2020 کے لیے پولیس میں بھرتی کا منصوبہ بنانے کی غرض سے ایک پینل مقرر کیاہے۔ ان پولیس فورسوں میں ریاستی پولیس فورس، مرکزی پولیس تنظیمیں (CPOs) اور مرکزی نیم فوجی فورسیں(CPMFs) شامل ہیں۔ اس وقت جاری توسیع کے منصوبوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیاگیاہے۔1.1.2009 کو انڈین پولیس سروس کاڈر(IPS) میں 557 افسران کی کمی تھی اور جیسا کہ وزیر داخلہ نے حال ہی میں کہا ہے اس کی واحد وجہ 1998-2004 کے دوران این ڈی اے حکومت کی بے توجہی تھی۔ اس وقت شری ایل کے اڈوانی وزیرداخلہ تھے۔آئی پی ایس کاڈر کا بھرتی کانشانہ پر اسرار طریقہ پر 85 سے کم کرکے 36 کردیاگیا۔ 1999-2000 اور پھر 2001 میں بھی 36 افسران ہی بھرتی کئے گئے۔ اس کے نتیجہ میں زبردست اور ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ وزارت داخلہ کو اب پتہ چلاہے کہ ”رٹائرمنٹ وغیرہ کے سبب خالی ہونے والی اسامیوں کے بارے میں جو اندازہ لگایا گیا وہ مبہم اور بادی النظر میں غلط تھا“ اور یہ کہ ”CPMFs اور CPOs سمیت پولیس فورسوں کی توسیع کا حساب کتاب لگانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی“ کانگریس پارٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ 31.5.2009 تک پینل کی رپورٹ پیش کئے جانے کے بعد اس خامی کو فیصلہ کن طریقہ پر ہمیشہ کے لیے دور کردے۔

 

  •  پولیس فورسوں میں خالی اسامیوں پر بھرتی:

اسی طرح کانگریس کے زیرقیات یوپی اے حکومت نے ریاستی پولیس فورسوں میں تمام سطحوں پر موجود خامیوں کو دور کرنے پر توجہ دی ہے۔ ان میں کانسٹبل، سب انسپکٹر اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی سطح پر افرادی قوت کی انتہائی کمی جیسی خامیاں شامل ہیں۔ ریاستوں کو اکسایا گیاہے کہ وہ بھرتی کے عمل میں تیزی لائیں۔ کانگریس پارٹی یقینی بنائے گی کہ 31.3.2010 سے پہلے پہلے ان سطحوں پر تمام خالی جگہوں کو پر کردیاجائے۔ اس کے علاوہ یہ بھی یقینی بنایا جائے گا کہ ہر بلاک میں کم از کم ایک پولیس تھانہ ہو، ہر پولیس تھانہ میں مناسب تعداد میں اور ہتھیاروں سے اچھی طرح لیس پولیس نفری موجود ہو، ہر ریاست کے تمام پولیس تھانے ایک دوسرے سے اور ضلع وریاستی صدر دفتر سے مربوط ہوں اور ہر تھانہ میں کم از کم ایک پولیس اہلکار خاص طور پر خفیہ معلومات اکٹھا کرنے کے لیے موجود ہو۔ کانگریس پارٹی یہ خیال رکھے گی کہ پولیس فورس کی جدید کاری کی اسکیم کو پلان میں شامل کیاجائے تاکہ اسے ریاستی حکومتوں کی موزوں ترجیح حاصل ہوجائے۔ اس اسکیم کے لیے گرانٹ پانچ برسوں میں پانچ گنا کردی جائے گی۔

  • سردار ولبھ بھائی پٹیل نیشنل پولیس اکاڈمی حیدرآباد

بھارت کی پہلی پولیس تربیتی اکاڈمی میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی آنی چاہیے۔دوبارہ مرتب کئے گئے نصاب میں دہشت گردی کے انسداد، جنگل کی لڑائی اور تکنیکی نوعیت کی خفیہ معلومات پر توجہ دی جائے گی۔ تربیت اور پڑھائی کے نئے طریقے بھی شروع کئے جائیں گے۔ عالمی دہشت گردی کے پس منظر میں افسروں کو ایسی تربیت اور معلومات فراہم کی جائے گی کہ وہ پولیس فورسوں کی مؤثر قیادت کرسکیں۔

  • شورش پسندی کے انسداد اور دہشت گردی کی روک تھام کے اسکول

پورے ہندوستان میں شورش پسندی کے انسداد اور دہشت گردی کی روک تھام کے 20 اسکول قائم کئے جائیں گے۔ ان کے ذریعہ حکومت سیکوریٹی افراد کو خصوصی تربیت فراہم کرے گی اور انہیں جدید نوعیت کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی سے نپٹنے کے لیے تیار کیاجاسکے گا جو اس وقت درپیش ہے۔

 

  • 100 دن کا لائحہ عمل: وزارت داخلہ نے 100 دن کا جو لائحہ عمل تیارکیا ہے وہ 31.5.2009 تک پورا ہوجائے گا۔ برسراقتدار آنے کی صورت میں کانگریس دومزید منصوبے تیار کرے گی۔ ان میں سے ایک 2009-10 کے باقی ماندہ 10 مہینوں کے لیے ہوگا اور دوسرا نئی حکومت کی پوری میعاد کے لیے ہوگا۔ پورا منصوبہ 15 مائیکروں مشنوں کا احاطہ کرے گا جن کی نشاندہی قومی پولیس مشن نے کی ہے۔مائیکرومشن پولیس کے قومی مشن کی طرف سے مقررکردہ وقت کے اندر پانچ سال کی مدت میں پورے کرلئے جائیں گے۔

مذ کورہ بالا اقدامات پر پوری طرح عملدر آمد کو یقینی بنانے کے علاوہ کانگریس پارٹی برسراقتدار آنے کی صورت میں مندرجہ ذیل قدم اٹھانے کا وعدہ کرتی ہے۔

  • وی آئی پی/وی وی آئی پی سیکوریٹی پربھرپور نظرثانی: ہماری بہترین تربیت یافتہ جدید فورس کا ایک غیر متناسب حصہ VIPs اور VVIPs کی حفاظت کے لیے تعینات کیاگیا ہے۔ گذشتہ دہائی میں اس طرح کی سیکوریٹی فراہم کرنے میں جو افرادی قوت صرف کی جارہی ہے اس میں کئی گنااضافہ ہوگیاہے اس کے نتیجہ میں ہماری سیکوریٹی فورسوں پر بہت بار پڑاہے اوردہشت گردی سے مقابلہ کرنے کے لیے ان کی فراہمی اور فورس کے مؤثر ہونے میں کمی آئی ہے۔

اپنی اگلی میعاد میں کانگریس یہ وعدہ کرتی ہے کہ وہ VIP /VVIP سیکورٹی کے پورے معاملہ کا بھرپور جائزہ لے گی، ضرورت کے مطابق تبدیلیاں کرے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ انتہائی تربیت یافتہ سیکورٹی فورس کو دہشت گردی سے مقابلہ کے لیے ہی تعینات کیاجائے۔ یہ جائزہ چھ ماہ کے اندر اندر مکمل ہوجائے گا اور ایسے افراد کو جنہیں خطرہ لاحق ہے سیکوریٹی فراہم کرنے کے متبادل انتظامات کئے جائیں گے۔

(2) قابل عمل انٹیلی جنس اور جامع تجزیہ

جیساکہ وزیراعظم نے 6.1.2009 کو وزراءاعلیٰ  کی کانفرنس میں کہاتھا کہ نئے دور کی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے جو ترجیحات ہیں ان میں سے ایک معلومات کا بہترطورپر تجزیہ کرنا اور ان معلومات کو ایسی خفیہ اطلاعات میں تبدیل کرنا ہے جس پر کارروائی کی جاسکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ مرکز اور ریاستوں دونوں کی رسائی معلومات (ڈاٹا) تک ہو اور ان کے اندر یہ صلاحیت ہو اور ان کے پاس ایسے وسائل ہوں جس کے ذریعہ اس معلومات کا اس طرح تجزیہ کرسکیں کہ اس سے دہشت گردی کی روک تھام کی کوششوں کو تقویت ملے۔

کانگریس کے زیرقیادت یوپی اے حکومت نے ان صلاحیتوں کے سلسلہ میں مندرجہ ذیل اقدامات کئے ہیں۔

  • ملٹی ایجنسی مرکز(MAC) دہلی میں ایک بااختیار ملٹی ایجنسی سینٹر(MAC) قائم کیاگیاہے اور اسے ریاستی راجدھانیوں کے ملٹی ایجنسی سینٹروں(S-MACs) کے ساتھ مربوط کردیاگیاہے۔اس کے علاوہ ریاستی راجدھانی کے ملٹی ایجنسی سینٹر اور ریاست میں پولیس کے خصوصی برانچ کے ساتھ بھی رابطہ جوڑدیاگیا ہے۔ یہ تمام مراکز ہفتہ میں ساتوں دن چو بیس گھنٹے کام کررہے ہیں اور قانونی طور پر اس بات کے پابند ہیں کہ تمام دیگرایجنسیوں کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ کریں۔ خفیہ معلومات صحیح معنیٰ میں جمع کی جارہی ہیں ان کا تبادلہ کیاجارہا ہے اور ان کا تجزیہ کیاجارہا ہے۔ کانگریس یہ یقینی بنائے گی کہ انٹیلی جنس نیٹ ورک کو ہر ممکن طریقہ پر مستحکم بنایا جائے۔

  • ہمہ مقصدی قومی شناختی کارڈ (MNIC) پراجیکٹ اور قومی آبادی رجسٹرپروگرام:

کانگریس کے زیر قیادت یوپی اے حکومت ہرشہری کو ہمہ مقصدی قومی شناختی کارڈ(MNIC-SMART CARD) جاری کرنے کے ایک واضح لائحہ عمل پر کام کررہی ہے۔ شری ایل کے اڈوانی نے حال ہی میں ایک نرالا بیان دیاہے کہ اگر بی جے پی 2009 کے انتخابات میں برسراقتدارآئی تووہ MNIC پراجیکٹ شروع کرے گی۔ یہ ایک ایسا عجیب وغریب بیان ہے جس سے غفلت اور غنودگی یاحقائق کی تردید کی عکاسی ہوتی ہے۔ حقیقت تویہ ہے کہ MNIC پراجیکٹ کانگریس کے زیرقیادت یوپی اے حکومت کے تحت آگے بڑھ چکاہے۔ جب کہ بی جے پی  گہری غفلت میں ہے۔ شناختی کارڈ کاخیال شری راجیوگاندھی کے ذہن کی دین ہے۔ان کی حکومت نے اس سلسلے میں پہلے آزمائشی پروگرام پر راجستھان میں عمل کیاتھا۔ آزمائشی پراجیکٹ کا خاکہ 2003 میں مرتب کیاگیا تھا لیکن این ڈی اے حکومت کے دور میں یہ بے حس وحرکت ہوگیا اور یوپی اے حکومت کے برسراقتدار آنے پر ہی اس پر عمل شروع ہوا۔ آزمائشی پراجیکٹ پر عمل ہوا اور یہ 31.3.2008 کو ختم ہوا۔12 لاکھ شناختی کارڈ جاری کئے جاچکے ہیں جب کہ 24 لاکھ 64 ہزار لوگوں کے بارے میں معلومات (DATA) مرتب کرلی گئی ہیں28.1.2009 کو ایک یو آئی ڈی اتھاریٹی آف انڈیا (UIDAI) کا قیام عمل میں آیا۔ 2011 کی مردم شماری کے ساتھ ساتھ قومی آبادی رجسٹر(NPR) کی تیاریاں چل رہی ہیں۔NPR تیارہوجانے پر تمام باقاعدہ شہریوں کو MNICs جاری کردئے جائیں گے۔ اس دوران صورت حال کی شدت کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیاہے کہ ساحلی دیہات اور قصبات کا NPR 2009-10 میں بنادیاجائے اور ان ساحلی دیہات وقصبات اور پورے انڈمان نکوبار جزائر کے باقاعدہ باشندوں کے لیے کارڈ جاری کردئے جائیں۔برسراقتدار آنے کی صورت میں کانگریس پارٹی یہ یقینی بنائے گی کہ مندرجہ بالا اقدامات پر پوری طرح اور بروقت عمل کیاجائے۔ اس کے علاوہ کانگریس عوام سے یہ وعدہ بھی کرتی ہے کہ وہ مندرجہ ذیل اقدامات کرے گی۔

  • عالمی معیار کاقومی سیکوریٹی معلوماتی نظام (DATABASE) کانگریس یہ یقینی بنائے گی کہ عالمی معیار کاایک مربوط قومی سیکورٹی معلوماتی نظام قائم کیاجائے جس تک ضرورت کے مطابق سیکوریٹی ایجنسیوں کی رسائی ہو اور جو دیگرمتعلقہ اطلاعاتی نظاموں سے مربوط ہو، تاکہ دہشت گردی کے تمام خطرات کاپتہ لگایا جاسکے اوران کا ہروقت تدارک کیا جاسکے اس طرح ہماری پہلے سے روک تھام کی اور حملہ کے بعد، کی جانے والی کارروائیوں کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا- ایک قومی انٹیلی جنس گرڈ(NATGRID)کے قیام میں بھی پیش رفت ہورہی ہے۔ اس گرڈ کے قیام کا مقصد ہندوستان میں ENFORCEMENT انٹیلی جنس اور انفور سمینٹ ایجنسیوں کو درکار معلومات عجلت کے ساتھ اچوک اور محفوظ طریقہ پر فراہم کرنا ہے۔ استعمال کرنے والی ایجنسیوں اور معلوماتی نظاموں کی نشاندہی کردی گئی ہے۔NATGRID پروگرام دوسال کے اندر تین مرحلوں میں پورا ہوجائے گا۔

  • جرائم اور مجرموں کا پتہ لگانے والا نیٹ ورک اور نظام (CCTNS) کانگریس جرائم اور مجرموں کاپتہ لگانے والے ایک نئے نیٹ ورک اور نظام کے قیام کا عہد کرتی ہے جس کا مقصد پولیس کے کام کاج کے طریقہ کو بہتر بنانا، DATA جمع کرنا، جمع شدہ معلومات کو کھنگالنا، جرائم کی تحقیقات اور مقدمہ چلائے جانے کے عمل پر نگاہ رکھنا،اور اطلاعی ومواصلاتی ٹکنالوجی (ICT) کے مؤثر استعمال کے ذریعہ شہریوں کو درکار خدمات فراہم کرناہے۔ پولیس تھانہ کی سطح پر جرائم اور مجرموں سے متعلق معلومات جمع کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کی غرض سے ایک اہم سوفٹ ویئرتیار کیاجائے گا۔ ٹیلی کوم کے موجودہ نظام کو کام میں لاتے ہوئے ایک مخصوص مواصلاتی نیٹ ورک قائم کیاجائے گا۔ افقی اور عمودی ربط مہیاکرنے کی خاطر ریاست اور علاقائی نیٹ ورک(SWAN),NICNET,CDMA,VSAT) اور دیگر ممکنہ اور قابل بھروسہ ٹکنالوجیوں کا استعمال کیاجائے گا۔ اس پر پلان اسکیم کے طورپر عمل کیاجارہا ہے اور یہ 2011-12 تک مکمل ہوجائے گی۔

  • بہتر اور زیادہ کارگر انٹیلی جنس کو فروغ دینے کے لیے اچوک وسائل: کانگریس یہ وعدہ کرتی ہے کہ دہشت گردی کی روک تھام سے متعلق معلومات کی تشخیص کے لیے ہماری قومی سیکوریٹی ایجنسیوں کی رسائی تجزیہ کرنے کے بہترین آلات تک ہوگی۔ اندرون ملک یا باہر سے حاصل کرکے بہترین ٹکنالوجی سیکوریٹی ایجنسیوں کو مہیا کرائی جائے گی۔ ہم تجزیہ کرنے والی نئی تکنیکوں کی شروع کرنے کے کام میں تیزی لائیں گے جیسا کہ وزیراعظم اپنے حالیہ عوامی بیانوں میں پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں۔ان تکنیکوں میں Threat Assesment Modeling, Artificial Neural Networks اورThree Dimensional Modeling of Critical Infrastructure جیسی تکنیکیں شامل ہیں۔ اس سے اس بات کو یقینی بنانے میں مددملے گی کہ جہاں تک ہمارے ملک کی معلومات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت کا تعلق ہے، ہم صف اول میں کھڑے ہوئے ہیں۔

  • دہشت گردی پر قابو پانے کی شہریوں کی مہم۔ ہم ملک سے دہشت گردی کو اپنے شہریوں کی سرگرم حمایت اور تعاون کے بغیر جڑسے اکھاڑکرنہیں پھینک سکتے۔ کانگریس پارٹی کو یقین ہے کہ اس مہم میں عوام اور طبقوں کو مرکزی کردار ادا کرنا ہے۔ اس لیے ہم دہشت گردی کی روک تھام کی کوششوں میں عوام کو شریک کرنے کے لیے ایک ہمہ جہت مہم چلائیں گے، جو ہماری حکومت کی تشکیل کے تین مہینے کے اندر زبردست طریقہ پر شروع ہوجائے گی۔ کانگریس کے زیرقیادت حکومت کو دہشت گردی کی روک تھام کے اقدامات کے بارے میں شہریوں کے گروپوں کی طرف سے متعدددرخواستیں موصول ہوچکی ہیں جن پر غور کیا جارہا ہے۔(اس میں CITIZENS AGAINST TERROR کا شہریوں کا چارٹربھی شامل ہے) ہماری مہم میں لوگوں کو شامل کرنے کے سلسلے میں مندرجہ ذیل جزیات ہر عمل کیاجائے گا۔

(a)شہریوں کو مشتبہ سرگرمیوں کی نشاندہی کرنے اور ان کی اطلاع دینے پر آمادہ کرنے کی خاطر انہیں تعلیم دینا اور معلوماتی مہم چلانا۔

(b) پُرخطر ریاستوں اور شہروں میں رہنے والے شہریوں کے لیے اپنے بچاؤ کا تربیتی پروگرام چلایا جانا۔

(c) پورے ملک میں ایک یکساں ٹول فری (TOLL FREE) مہیا کرانا جس پرشہری مشتبہ افراد یا مشکوک کارروائیوں کے بارے میں اطلاع دے سکیں۔

(d) مختلف طبقوں کو آلات (مثلاً سمندری سفر کرنے والے ماہی گیروں کو موبائل فون) فراہم کرنا تاکہ وہ دہشت گردی سے متعلق مشتبہ سرگرمیوں کے بارے میں سیکوریٹی ایجنسیوں کو واقف کراتے رہیں۔

3 ۔ بااختیار اور آپس میں تال میل رکھنے والی سیکوریٹی ایجنسیاں

ملک کی سلامتی کے تحفظ کے لیے متعدد ایجنسیاں اور فورسیں خدمات انجام دے رہی ہیں ان میں سے ہرایک ایجنسی کے سپردکچھ مخصوص ذمہ داریاں کی گئی ہیں۔ کانگریس پارٹی یہ یقینی بنائے گی کہ ہر ایک ایجنسی کو جوابدہ بنایا جائے۔ ایجنسیوں کے مابین تال میل حکمرانی کا ایک اہم اصول ہوگا۔

کانگریس پارٹی کا ایک خاص عہد یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کی روک تھام کی ایجنسیوں اور قومی سیکوریٹی ایجنسیوں کے مابین تعاون کی سطح میں بہتری لائی جائے تاکہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی اطلاع بھی چھوٹنے نہ پائے اور دہشت گردی کا بروقت مقابلہ کیاجاسکے۔ اس کے علاوہ یہ بھی یقینی بنایا جائے گا کہ ہم اپنی محاذی سیکوریٹی ایجنسیوں کو زیادہ اختیارات اور فنڈفراہم کریں تاکہ انہیں اپنے مقررہ مقاصد پر مؤثر طور پر عملدرآمد کے لیے اختیار مل جائے۔

کانگریس کے زیرقیادت یوپی اے حکومت نے اس سلسلہ میں پہلے ہی بہت سے اہم اقدامات شروع کردئے ہیں۔

  • دہشت گردی مخالف سخت قوانین: کانگریس کے زیرقیادت یوپی اے حکومت نے کامیابی کے ساتھ ایک قانون بنایاہے جس میں دہشت گردی کی روک تھام کی حکمت عملی اور انسداد دہشت گردی ایجنسیوں کو زیادہ اختیارات دئے گئے ہیں۔ غیرقانونی سرگرمیوں سے متعلق ترمیمی قانون 2008 میں دہشت گردوں کی تشریح میں وسعت پیدا کی گئی ہے، مشتبہ دہشت گردی کو گرفتار کرنے اور ان کے اثاثے منجمدکرنے کے لیے سیکوریٹی ایجنسیوں کو زیادہ اختیار دے دئے گئے ہیں۔اس کے علاوہ اس قانون کے تحت فرد جرم عائد کرنے سے پہلے زیرحراست رکھے جانے کی مدت بڑھادی گئی ہے اور بعض حالات میں ثبوت مہیا کرنے کا بوجھ دہشت گردی کے ملزموں پر ڈال دیاگیا ہے۔ہم نے ضابطہ فوجداری میں ترمیم بھی کی ہے اور ایک قومی تحقیقاتی ایجنسی قائم کی ہے۔

  • بااختیار قومی سیکوریٹی فورسیز/ایجنسیاں: ہم نے محاذی قومی سیکوریٹی فورسوں/ایجنسیوں کو مزید اختیار دے دیے ہیں تاکہ ان کے پاس دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے مناسب فنڈ، وسائل اور تیزی سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہو۔ ڈائریکٹرجنرلوں(CPMs , (DGs کے خصوصی DGs اور انٹیلی جنس بیوروکے ڈائریکٹر کو حاصل مالی اختیارات میں خاطر خواہ اضافہ کردیاگیاہے۔اس سے ان تنظیموں کے سربراہ دہشت گردی کے انسداد کی کارروائیوں کے لیے درکار گاڑیاں، اسلحہ اور گولہ بارود، سامان کا ذخیرہ، مشینری اور سازوسامان، کپڑے اور خیمے تیزرفتاری سے حاصل کرسکیں گے۔ سینٹرل انڈسٹریل سیکوریٹی فورس (CISF) قانون میں ترمیم بھی کی گئی ہے، جس کے تحت سیکوریٹی فورس اپنی خدمات پرائیویٹ، مشترکہ اور کوآپرٹیوسیکڑوں کے اداروں اور تنصیبات تک بڑھاسکے گی۔

  • سمندری اور ساحلی سیکوریٹی: کانگریس کے زیرقیادت یوپی اے حکومت سمندری اور ساحلی سیکوریٹی کو مستحکم کرنے کے لیے ایک جامع تجویز پر عمل کررہی ہے۔ مجموعی سمندری سیکوریٹی کے لیے جواتھاریٹی ذمہ دار ہوگی وہ ہندوستانی بحریہ ہے۔ اس میں ساحلی اور سمندری سیکوریٹی بھی شامل ہے۔ ہندوستانی بحریہ کی مدد کوسٹ گارڈ، ریاستی بحری پولیس اور دیگر مرکزی اورریاستی ایجنسیاں کریں گی۔ایک ساحلی کمان قائم کی جائے گی اور کوسٹ گارڈ کے ڈائریکٹر جنرل کو اس کا کمانڈر بنایاجائے گا۔ وہ مرکزی اور ریاستی ایجنسیوں کے درمیان تال میل کے ذمہ دارہوں گے۔ اس کے علاوہ بحری اثاثوں اور اڈوں کے تحفظ کے لیے ایک ہزار افراد پر مشتمل ساگرپراہری بل بھی تشکیل دیاجائے گا۔

 

(B) تیزرفتاراور فیصلہ کن ردعمل اور پیروی۔ دوسرا ستون

سیکوریٹی انتظام کابنیادی اصول یہ ہے کہ سیکوریٹی فورسیں قومی سلامتی کو درپیش تمام خطرات کی مزاحمت کرسکیں، پتہ لگاسکیں اور بے اثر کرسکیں۔ دہشت گردانہ حملوں کی روک تھام کے نظام کی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ ساتھ کانگریس یہ یقینی بنائے گی کہ حکومت ،ملک کو اس طرح تیار کرے کہ وہ مخصوص خطرات یاحملوں کی صورت میں فیصلہ کن رد عمل کا اظہار کرسکے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ بلارکاوٹ تال میل ہو، کارروائی کاطریقہٴ متعین ہو، تیزرفتاری اور مؤثر طورپر تحقیقات ہو نیزمقدمہ چلایاجائے تاکہ دہشت گردوں کو سزادی جاسکے اور سرعت کے ساتھ انصاف ہو۔ اگلی میعاد میں کانگریس پارٹی کی حکومت کایہ دوسرا ستون ہوگا۔

1 ۔ خطرات اور حملوں پر فیصلہ کن ردعمل

خطرات حملوں کی شکل اختیارنہ کرسکیں اور حملوں کا منفی اثر کم سے کم ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ خطرات اور حملوں پر فوری اور فیصلہ کن ردعمل ظاہرکیا جائے۔ غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی سرگرمیوں کو ناکام بنانے کے لیے جوابی انٹیلی جنس اقدامات وضع کئے جانے چاہیے۔ دہشت گردی کامقابلہ کرنے کے پروگرام اس طرح وضع کئے جانے چاہیے کہ وہ امکانی دہشت گردوں کے لیے انتباہ اور سخت مزاحم کاکام کریں۔ اوپر جن اقدامات کاذ کر کیاگیا ہے مثلاًبہترسامان سے لیس سیکوریٹی ایجنسیاںNATGRID ،CCTNS اور MAC میکانزم ان سب سے اس بات کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ ہم خطرات پر فوری اور مؤثر ردعمل ظاہر کریں۔

اس سلسلہ کے بعض دیگر اقدامات جو پہلے ہی شروع کردے گئے ہیں، یہ ہیں۔

  • خطرات پر فوری ردعمل ظاہر کرنے کے لیے ریاستوں کو امداد: کانگریس کے زیرقیادت یوپی اے حکومت نے ریاستوں کو فنڈ سمیت بہت سی امدادی سہولتیں فراہم کی ہیں تاکہ وہ خطرات اور حملوں کی صورت میں فیصلہ کن رد عمل ظاہر کرنے کے لیے تیاری کرسکیں۔ ریاستی حکومتوں کو مشورہ دیاگیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خطرہ یادہشت گردانہ حملہ کی صورت میں ریاستی سطح پر ایک کمان ڈھانچہ تیار کریں، جیسا کہ وزیرداخلہ نے کہاہے کہ ” اس سلسلہ میں کوئی ابہام یاالجھن نہیں ہونی چاہیے کہ انچارج کون ہے، مختلف فورسوں پر مجموعی حکم کس کاچلے گا، حالات کے تقاضہ کے مطابق فورسوں کو کون تعینات کرے گا اور کارروائی کی کامیابی کے لیے کون جوابدہ ہوگا۔ ان تمام پہلؤں کی پوری طرح وضاحت ہونی چاہیے اور ان کے بارے میں ریاست کے محکمہ پولیس کو اوراُن فورسوں کو واقف کرادیا جانا چاہیے جن کی خدمات دہشت گردی کے خطرہ یادہشت گردانہ حملہ کے وقت طلب کی جائیں گی۔“ کانگریس کی حکومت ریاستوں کو ان کی تیاری کی سطح میں اضافہ کے لیے ہر ممکن امداد فراہم کرنے کاسلسلہ جاری رکھے گی۔

  • طیاروں کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار: یہ یقینی بنانے کے لیے کہ ہماری سیکوریٹی فورسیں خطرات یاحملوں کی صورت میں بروقت کارروائی کرسکیں، کانگریس کے زیرقیادت یوپی اے حکومت نے مرکزی حکومت اور قومی سلامتی گارڈ (NSG) کو یہ اختیار پہلے ہی دے دیا ہے کہ وہ قوم کے مفاد پر فوری طورپر طیارے حاصل کرسکتی ہیں۔ اس سے خطرات یاحملوں کی صورت میں سیکوریٹی فورسوں کو تیزرفتاری سے پہنچائے جانے کی ہماری صلاحیت میں زبردست اضافہ ہوگا۔

  • ملک بھر میں این ایس جی کے اڈے: ہم نے عہد کیا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں قومی سلامتی گارڈ (NSG) کے اڈے قائم کئے جائیں گے تاکہ خطرہ یاحملہ کی صورت میں پورے ملک میں سرعت کے ساتھ ردعمل ظاہر کرنے کی صلاحیت پیداہو۔ ابتدائی طور پر چارشہروں میں اس طرح کے اڈے قائم کئے جارہے ہیں۔ ہمارا وعدہ ہے کہ ان اڈوں کو پورے ملک میں قائم کردیا جائے گا۔ ممبئی، کولکتہ، چنئی اور حیدر آباد کے این ایس جی کے اڈے30.6.2009 سے کام کرنے لگیں گے۔ اس کے علاوہ فوج کی ایک خصوصی فورس بنگلور میں قائم کردی گئی ہے جو دہشت گردی کی روک تھام کرنے والی فورس کے طورپر کام کرے گی۔

اسی طرح این ایس جی کے اڈے قائم ہونے تک مسلح افواج اور (CPMFs) سے اسی طرح کی فورسیں دیگر بڑے شہروں میں قائم کردی جائیں گی۔

مندرجہ بالااقدامات کے علاوہ برسراقتدار آنے کی صورت میں کانگریس حکومت مندرجہ ذیل فاضل قدم بھی اٹھائے گی۔

  • خطرہ کی سطح کے مطابق مواصلاتی پروٹوکول اور کارروائی کا معیاری ہدایت نامہ:

دہشت گردی کے خطرات یاحملوں کی صورت میں کم سے کم وقت ضائع ہو، اسے یقینی بنانے کے لیے ہم جس سطح کا خطرہ اسی سطح کی کارروائی کامواصلاتی پروٹوکول قائم کریں گے تاکہ عوام کی حفاظت سے وابستہ اہل کاروں اور عام لوگوں کے ساتھ خطرہ پر مبنی خاص رنگوں کے نظام کے ذریعہ رابطہ قائم کیاجاسکے۔

ہم کارروائی کا ایک معیاری ہدایت نامہ (MANUAL) بھی مرتب کریں گے جس میں یہ بتایا جائے گا کہ مختلف قسموں کے خطروں اور حملوں کی صورت میں مختلف قومی سیکوریٹی ایجنسیوں کی ذمہ داری کیاہوگی۔ کارروائی کے معیاری ہدایت نامہ کے مطابق سیکوریٹی فورسیں اور عام آدمی خطرہ کی صورت میں تیاری کرسکیں گے اور تیزرفتاری سے حفاظتی اقدامات شروع کرسکیں گے۔ رنگوں سے متعلق کوڈ نظام کے ذریعہ سیکوریٹی ایجنسیاں خود بخود خطرہ کی سطح کے مطابق کارروائی شروع کرسکیں گی۔

رنگوں کے کوڈ نظام میں پانچ سطح کے خطروں کے لیے پانچ الگ الگ رنگ استعمال کئے جائیں گے۔ مثال کے طورپر سخت خطرہ کی صورت میں لال رنگ، زیادہ خطرہ کی صورت میں عنبری رنگ، بڑھے ہوئے خطرہ کے لیے پیلارنگ، چوکسی کے لیے نیلا رنگ اور کم خطرہ کے لیے ہرارنگ۔ مثال کے طورپر اگر اس طرح کی خفیہ اطلاع ملتی ہے کہ دہشت گرد کسی شہرپر حملہ کرسکتے ہیں اور خطرہ کی جوسطح اس وقت اس شہرپر لاگو ہے اسے بڑھاکر لال رنگ کا کردیاجائے گا جس کاخود بخود مطلب یہ ہوگاکہ کارروائی کے ہدایت نامہ کے مطابق حفاظتی اقدامات شروع کردئے جائیں۔ اس ہدایت نامہ میں عوام اور میڈیا کے لیے اقدامات کی بھی نشاندہی کی گئی ہوگی۔

  • بحران پر قابوپانے والا مستقل گروپ (وارروم) : ہم دہشت گردی کے واقعات کا جواب دینے کے لیے تیار رہنے کے سلسلہ میں بحران پر قابو پانے والاایک مستقل گروپ بھی قائم کریں گے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ اس پر بروقت عمل در آمد کیا جائے۔ اس ”وارروم“ کے دوخاص کام ہوں گے۔

(A) دہشت گردی کے خطرہ یا واقعہ کی صورت میں جنگ جیسی حالت کی سی نگرانی رکھنا اور کنٹرول کرنا۔

 24 .B گھنٹے نظر رکھنے/ نگرانی کرنے کا کام انجام دینا۔

2 ۔ پختہ اور تیزرفتار تحقیقات اور مقدمہ چلایا جانا۔

بر وقت کارروائی کرنے کی بہترین صلاحیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی یقینی بنائیں گے کہ تحقیقات اور مقدمہ چلایا جانے کا عمل سرعت کے ساتھ ہو، منصفانہ اور مؤثر ہو اور دہشت گردی کرنے والوں کو سزادلائی جائے۔ اس سلسلہ میں ہم نے کارروائی پہلے ہی شروع کردی ہے۔ غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق (ترمیمی) قانون میں جس کاذ کر اوپر کیاجاچکا ہے تحقیقاتی ایجنسیوں کو اور زیادہ اختیارات دئے گئے ہیں کہ وہ بروقت اور مؤثرچھان بین کریں۔کانگریس کے زیرقیادت یوپی اے حکومت نے مندرجہ ذیل اہم قدم بھی اٹھائے ہیں۔

  • دہشت گردی جتنی پیچیدگی اور جدیدیت اختیار کرتی جارہی ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ بات ہمارے سامنے بالکل واضح ہوگئی کہ ایک ایسی خصوصی ایجنسی کے قیام کی ضرورت ہے جو دہشت گردی سے متعلق واقعات کی تحقیقات پر توجہ رکھ سکے۔ اس ضرورت کے مدنظرہم نے ایک نئی قومی تحقیقاتی ایجنسی (NIA) قائم کی ہے اور اسے دہشت گردی سے وابستہ معاملات کی مؤثر تحقیقات کے وسیع اختیارات دئے ہیں۔NIA کو نہ صرف یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ دہشت گردوں کے جرائم کی تحقیقات کرے بلکہ اسے یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ خفیہ اطلاعات کی بنیادپر کہ دہشت گردانہ کارروائی کی کوشش کی جاسکتی ہے یادہشت گردانہ کارروائی کے لیے دوسروں کو اکسایا جاسکتا ہے، وہ ان معاملات کی چھان بین کرسکتی ہے۔ اس طرح کی ایجنسی کے کام شروع کردینے کی ضرورت کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک ڈائریکٹر جنرل کا تقرر کردیاگیاہے اور ایک ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نیز دوانسپکٹر جنرلوں سمیت 94 پوسٹوں کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ کانگریس یہ بھی وعدہ کرتی ہے کہ اگر وہ برسراقتدار آئی تو مندرجہ ذیل اقدامات کرے گی۔

  • تیزرفتاری سے مقدمات چلانے کے لیے تیز رفتار عدالتی ٹاسک فورس: ہم ایک ٹاسک فورس قائم کریں گے جو ایک عدالتی اور انتظامیہ فریم ورک کی سفارش کرے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ قومی سلامتی اور دہشت گردی سے متعلق مقدمات 90 دن کے اقدر مکمل اور فیصل ہوجائیں۔ ٹاسک فورس اپنی سفارشات 31.8.2009 تک پیش کردے گی اور ہمارا وعدہ ہے کہ سفارشات وصول ہونے کے 30 دن کے اندر اندر ان پر عمل شروع ہوجائے گا۔

  • سیاسی جائزہ: داخلی سلامتی اور دہشت گردی کے انسداد کی روز مرہ کی ذمہ داری سیکوریٹی ایجنسیوں پر ہوگی۔ اور انہیں یہ اختیار ہوگاکہ ضرورت کے مطابق اقدامات کرسکیں۔ کانگریس حکومت وزیرداخلہ اور وزیراعظم کی نگرانی میں ایک جائزہ نظام قائم کرے گی۔ وزیرداخلہ سال میں کم از کم ایک مرتبہ ہر ریاست میں سیکوریٹی صورت حال کے جائزہ کا موجودہ طریقہ برقرار رکھیں گے۔ وزراء داخلہ کی ایک کانفرنس ہر چھ ماہ میں ایک مرتبہ اور وزرائے اعلیٰ  کی کانفرنس سال میں ایک مرتبہ وزیراعظم کی صدارت میں ہوگی۔ سیاسی سطح پر ان جائزوں اور کانفرنسوں کے ذریعہ وسیع ترپالیسی مسائل پر اتفاق رائے پر مبنی حل نکالے جائیں گے اور ان کے ذریعہ بہترین نتائج حاصل کرنے کے لیے ریاستوں کو بہترین اقدامات کرنے میں مددملے گی۔

 

 

III -  اختتام

جیساکہ مندرجہ بالا امور سے ظاہر ہوتا ہے کانگریس کے زیرقیادت یوپی اے حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کی ہماری صلاحیتوں کو بڑھاوادینے کے لیے بہت سے پختہ اور فیصلہ کن اقدامات شروع کردئے ہیں۔بھارت کی تاریخ میں اس طرح کے اقدامات کی کوئی نظیرنہیں ملتی، لیکن غیرمعمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات کی ہی ضرورت ہوتی ہے اور اس کی شروعات ہم نے کی ہے۔

ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ابھی بہت کچھ کیا جاناباقی ہے۔ جیسا کہ وزیراعظم نے حال ہی میں کہاتھا۔” مجھے اعتراف ہے ابھی بہت کچھ کیاجانا ہے اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ مرکزی اور ریاستی دونوں حکومتوں کو چاہئے کہ وہ اس قومی کام میں تیزرفتاری ، پوری صلاحیت اور لگن کے ساتھ جٹ جائیں۔“

اگر برسراقتدارآئی تویہ کانگریس حکومت کے لیے مشن نمبرایک ہوگا۔

جیساکہ کانگریس پارٹی کے منشور میں کہاگیاہے:

” ہم ہرایک شہری کی زیادہ سے زیادہ حفاظت کی ضمانت دیں گے۔ہماری پالیسی دہشت گردی کو بالکل بھی برداشت نہ کرنے کی ہے خواہ یہ کسی بھی ذریعہ سے شروع ہو۔“

ہم آج ہندستان کے عوام کے ساتھ مستقبل کے لیے غیرمتزلزل عزم اور قابل عمل منصوبہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ہم نے بنیاد رکھ دی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ جو حکمت عملی اور منصوبہ ہم نے مرتب کیا ہے اور پیش کیا ہے اس پر تیز رفتاری اورمکمل طریقہ پر عمل کیاجائے۔ یہ ہمارا آپ سے وعدہ ہے کہ کانگریس پارٹی نئی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے اس منصوبہ پر عمل کرے گی اور ہندوستان کادہشت گردی سے تحفظ کرے گی۔

 

 

 


 

Sitemap           Search           Feedback

© Copyright AICC 2009 | Privacy policy. Best viewed with IE 5 + browsers at 1024 X 768 resolution.