| اقلیتوں کی فلاح وبہبود کے لیے وزیراعظم کا 15 نکاتی پروگرام اور سچرکمیٹی کی سفارشات کی پیروی میں کئے گئے اقدامات A ۔ اقلیتوں کی فلاح وبہبود کے لیے وزیراعظم کا 15 نکاتی پروگرام (1) اقلیتوں کی فلاح وبہبود کے لیے وزیراعظم کے 15 نکاتی پروگرام کا اعلان جون 2006 میں کیاگیاتھا۔ نئے پروگرام میں اس بات کی گنجائش رکھی گئی کہ بعض ترقیاتی پراجیکٹ اقلیتوں کے ارتکازوالے علاقوں میں قائم کئے جائیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ پروگرام میں شامل اسکیموں کے فائدے اقلیتوں کوبھی یکساں طور پر حاصل ہوں۔ اس میں یہ بھی کہا گیاہے کہ جہاں کہیں ممکن ہو اسکیم کے تحت 15 فیصد نشانوں اور رقومات کو اقلیتوں کے لئے مخصوص کردیاجائے۔ 07-2006، 08-2007 اور 31 دسمبر 2008تک کی کچھ حصولیابیاں درج ذیل ہیں۔ سروشکشاابھیان (SSA) کے تحت 07-2006 کے دوران اقلیتوں کے غلبہ والے علاقوں میں 961 پرائمری اسکول تعمیر کئے گئے۔08-2007 کے دوران، ان اسکولوں کی تعداد بڑھاکر 2008 کردی گئی۔ 31 دسمبر 2008 تک 3226 پرائمری اسکول تعمیر کئے جاچکے تھے۔07-2006 کے دوران ان علاقوں میں 1,114نئے اپر پرائمری اسکول کھولے گئے۔08-2007 کے دوران ان کی تعداد 3001 تک پہنچ گئی۔09-2008 کے دورن31 دسمبر 2008 تک2531 نئے اپرپرائمری اسکول تعمیر کئے جاچکے تھے۔ اس طرح ایسے پسماندہ تعلیمی بلاکوں میں جہاں اقلیتوں کی خاطر خواہ آبادی ہے کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیہ (KGBV) کی منظوری 07-2006 میں 97 سے بڑھ کر08-2007 میں 219 ہوگئی۔09-2008 کے دوران 31 دسمبر2008 تک 120 KGBV اسکول تعمیرکئے جاچکے تھے۔ (B) سورن جینتی خود روزگاریوجنا(SGSY) کے تحت 07-2006 کے دوران اقلیتوں سے تعلق رکھنے والےخودروزگاریوں کی مددکی گئی۔08-2007 کے دوران یہ تعداد بڑھ کر 1,43,385 ہوگئی اور 31 دسمبر 2008 تک یہ تعداد 1,86,570 تک پہنچ گئی۔ (C) اندرا آواس یوجنا(IAY) کے تحت 07-2006 کے دوران غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گذارنے والے اقلیتوں سے متعلق کنبوں کی مکانات تعمیر کرنے میں مددکی گئی۔08-2007 میں ایسے کنبوں کے تعدادبڑھ کر 1,55,980 ہوگئی۔09-2008 کے دوران31 دسمبر 2008 تک 2,39,235 کنبوں کے مدد کی جاچکی تھی۔ (D) سورن جینتی شہری روزگاریوجنا(SJSRY) کے تحت 07-2006 کے دوران ہنرمندی کی تربیت میں15,933 فائدہ اٹھانے والوں کے مدد کی گئی۔08-2007 کے دوران یہ تعداد خاطر خواہ بڑھ کر 41,466 ہوگئی۔09-2008 کے لیے اقلیتوں کے سلسلہ میں 22,535 کا نشانہ مقررکیا گیاہے اور 31 دسمبر 2008 تک اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے 20,931 افرادکی مدد کی جاچکی تھی۔ (E)اقلیتوں کو ترجیحی سیکٹرکے قرضے کا تناسب 9 فیصدسے بڑھاکر08-2007 سے 10-2009 تک تین برسوں میں 15 فیصد کرنے کا نشانہ مقرر کیاگیاہے۔ 5 کھرب 86 ارب 62 کروڑ67 لاکھ روپے جوترجیحی سیکٹر کے قرضے کے 9.7 فیصد کے برابر ہیں، اقلیتوں کے مابین تقسیم کئے گئے۔09-2008 کے دوران پی ایس ایل کے قومی نشانہ کے 13 فیصد کے برابر 8 کھرب 67 ارب 74 کروڑ ایک لاکھ روپے تقسیم کئے گئے۔31 دسمبر2008 تک 7 کھرب 15 ارب 66 کروڑ58 لاکھ روپے تقسیم کئے جاچکے تھے۔جو اقلیتوں کے لیے مقرر کردہ نشانہ کا 82.47 فیصد ہے۔ (F) شہری غریبوں کے لیے بنیادی خدمات (BSUP) کے تحت ایسے 12 شہروں کے لیے جہاں اقلیتوں کی کافی آبادی ہے۔101 پراجیکٹ (جن کی لاگت 52 ارب 34 کروڑ39 لاکھ روپے تھی)منظور کئے گئے۔مربوط ہاﺅسنگ اور سلم ترقیاتی پروگرام (IHSDP) کے تحت 09-2008 کے دوران اقلیتوں کے خاطر خواہ آبادی رکھنے والے 90 قصبات کے لیے 16 ارب 60 کروڑ 16 لاکھ روپے کے لاگت والے 117 پراجیکٹ منظور کئے گئے۔ (3) سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کی نمائندگی بڑھانے کی اسکیمیں ۔ (A) جنوری 2007 کے دوران افرادی قوت اور تربیت کے محکمہ کی طرف سے سرکاری ملازمتوں اور سرکاری ملکیت والے اداروں میں اقلیتوں کی نمائندگی بڑھانے کے سلسلہ میں نظرثانی شدہ رہنماخطوط جاری کئے گئے۔اس کے بعد سے بھرتی میں جو 07-2006 میں 6.95 فیصد تھی اضافہ ہوا اور 08-2007 کے دوران مرکزی وزارتوں کے محکموں میں یہ فیصد بڑھ کر 8.65 ہوگیا۔ (B) جولائی 2007 میں کوچنگ اور اس سے متعلق اسکیم شروع کی گئی جس کا مقصد اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے طلباءاور امیدواروں کی صلاحیت اور معلومات بڑھانا تھا تاکہ وہ سرکاری ملازمتوں،سرکاری سیکٹر کے اداروں اور نجی سیکٹر میں روزگار حاصل کرسکیں۔ 14 ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کے لیے 08-2007 کے دوران 4147 امیدواروں کی کوچنگ کی خاطر ساٹھ تجاویز منظور کی گئیں۔09-2008 کے دوران 20 ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں 31 مارچ 2009 تک 5522 طلباءکے کوچنگ کے لیے 72 تجاویز منظور کی جاچکی ہیں۔ (B) اقلیتی طبقوں کے لیے خصوصی اسکیمیں۔ (1) اقلیتی طبقوں سے تعلق رکھنے والے طلباءکے لیے اسکالرشپ کی اسکیمیں۔ (A) اقلیتی طبقوں سے تعلق رکھنے والے طلباءکے لیے اسکالر شپ کی تین اسکیمیں شروع کی گئی ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ طالبات کو بھی ان سب ہی تین اسکیموں میں خاطر خواہ حصہ ملے 30 فیصد اسکالر شپ ان کے لیے مخصوص کئے گئے ہیں۔یہ اسکیمیں اس طرح ہیں : (I) لیاقت اور وسائل سے وابستہ اسکالر شپ:08-2007 کے دوران عملدر آمد کے پہلے سال 17258 اسکالر شپ دئے گئے۔ اس کا 29.02 فیصد حصہ طالبات کے حصہ میں آیا۔ 09-2008 کے دوران26,195 اسکالر شپ دیے گئے ہیں جن کا 32.01 فیصد حصہ طالبات کو ملا۔ (II) میٹرک کے بعد کے اسکالرشپ: عملدرآمد کے پہلے سال 08-2007 کے دوران 57112 اسکالر شپ دئے گئے جن کا 56.80 فیصد حصہ 09-2008 کے دوران طالبات کو ملا۔ 2008-09 (III) کے دوران پری میٹرک کے 1.5 لاکھ کے اسکالرشپ منظور کئے گئے جن میں سے 50.89 فیصد حصہ خاتون طلباءکے حق میں گیا۔ (2) خصوصی علاقہ ترقیاتی پروگرام 08-2007 کے دوران ایسے 90 اضلاع کی نشاندہی کی گئی جہاں اقلیتوں کا ارتکاز ہے اور جو بنیادی سہولتوں اور سماجی اقتصادی اعتبار سے پسماندہ ہیں۔ 09-2008 سے خاص طور سے تعلیم، صلاحیت کی ترقی، روزگار، صفائی ستھرائی ، ہاﺅسنگ، پینے کے پانی اور بجلی کی فراہمی کے فروغ کے لیے ایک کثیر شعبہ جاتی ترقیاتی پروگرام شروع کیاگیاہے۔تمام اضلاع میں ترقیات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کے لیے سروے کا کام کیاگیا۔ ہریانہ، اترپردیش، جنوبی بنگال، آسام، منی پور، بہار، میگھالیہ، جھارکھنڈ، اڑیسہ اور انڈمان نکوبار جزائرکے 47 اضلاع کے منصوبے منظور کئے گئے ہیں اور 31 مارچ 2009 تک 2 ارب 70 کروڑ85 لاکھ روپے جاری کئے جاچکے ہیں۔ 3۔ مولانا آزاد ایجوکیشن فاﺅنڈیشن (MAEF) 08-2007تک ایم اے ای ایف کے لیے رقم ایک ارب روپے سے بڑھا کر 2 ارب 50 کروڑ روپے کردی گئی تاکہ وہ تعلیمی ترقی کی اپنی سرگرمیوں میں توسیع کرسکے۔ 09-2008 کے دوران مزید 60 کروڑ روپے کی رقم منظور کی گئی۔ فاﺅنڈیشن نے اپنے آغازسے پورے ملک میں 881 غیر سرکاری تنظیموں کے لیے ایک ارب 15 کروڑ 36 لاکھ روپے منظور کئے ہیں۔09-2008 کے دوران فاﺅنڈیشن نے 12,064 طالبات کو 31 جنوری 2009 تک 14 کروڑ 48 لاکھ روپے مالیت کے اسکالرشپ منظور کئے۔ 4۔ اقلیتوں کے لیے قومی ترقیاتی ومالی کارپوریشن (NMDFC) 08-2007 کے دوران این ایم ڈی ایف سی کا منظور شدہ سرمایہ6 ارب 50 کروڑ سے بڑھ کر 7 ارب 50 کروڑ روپے اور پھر 09-2008 کے دوران 8 ارب 50 کروڑ روپے کردیاگیا۔ اپنے قیام سے 31 جنوری 2009 تک این ایم ڈی ایف سی نے 25 ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں فائدہ اٹھانے والے 425156 کو 11 ارب 72 کروڑ 36 لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی۔09-2008 کے دوران 51198 فائدہ اٹھانے والوں کو ایک ارب 30 کروڑ 72 لاکھ روپے تقسیم کئے گئے۔ اصولی طور پر یہ بات مان لی گئی ہے کہ این ایم ڈی ایف سی کی تنظیم نوکی جائے۔ 5 ۔ اوقاف کی ترقی کے اقدامات کابینہ نے اقلیتوں کی قومی ترقیاتی اور مالی کارپوریشن کی تنظیم نو کے لیے اصولی طور پر منظوری دے دی ہے۔ این ایم ڈی ایف سی کی تنظیم نو کے ایک حصہ کے طورپر ایک قومی وقف ترقیاتی ایجنسی قائم کی جائے گی۔ وزیراعظم نے 10-2009 کے سالانہ منصوبہ میں مندرجہ ذیل اقدامات کے لیے مناسب گنجائش رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔ (a) ریاستی وقف بورڈ کے ریکارڈ کو کمپیوٹرپر لایاجائے (b) ریاستی وقف بورڈ کی مالی مدد کی جائے اور (c) مرکزی وقف کونسل کو گرانٹ فراہم کرے تاکہ وہ اپنے انتظامی اخراجات پورے کرسکے ۔غیر منصوبہ جاتی اخراجات میں رقم کی گنجائش رکھی جائے۔اقلیتوں کے امور کی وزارت اس کے مطابق کارروائی کررہی ہے۔وزارت نے اوقاف سے متعلق مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پر غورکرنے کے بعد 1995 کے وقف ایکٹ میں ترمیم کے لیے کابینہ کو فراہم کئے جانے کی غرض سے ایک مسودہ گشت کرایاہے۔ (c) سچرکمیٹی کی سفارشات کی پیروی میں کئے گئے اقدامات (a) سرکاری سیکٹر کے تمام بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے اضلاع میں اپنی مزید شاخیں قائم کریں جہاں اقلیتوں کی کافی آبادی ہے۔08-2007 کے دوران اس طرح کی 23 شاخیں کھولی گئیں۔09-2008 کے دوران 31 دسمبر 2008 تک 329 نئی شاخیں قائم کی جاچکی ہیں۔ (b) یکساں مواقع کمیشن کے ڈھانچے اور کام کاج کے جائزہ اور سفارش کے لیے ماہرین کا ایک گروپ قائم کیاگیاتھا جس نے 13 مارچ 2008 کو اپنی رپورٹ پیش کردی۔ اس سلسلے میں ایک تجویز مختلف وزارتوں کے زیرغورہے۔ (c) تعلیم، مکانات اور روزگار کے شعبوں میں فرق کا اندازہ لگاکر ایک موزوںDiversity Index وضع کرنے کے لیے قائم کئے گئے ماہرین کے گروپ نے 24 جون 2008 کو اپنی رپورٹ پیش کردی۔ماہرین کے اس گروپ کی سفارشات زیرغور ہیں۔ (d) سماجی مذہبی طبقوں کے لیے سماجی اقتصادی اور بنیادی سہولتوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے کی غرض سے ایک نیشنل ڈیٹابینک اعداد وشمار اور پروگراموں پر عملدر آمد کی وزارت میں قائم کیاگیاہے۔ (e) منصوبہ بندی کمیشن میں ایک خود مختار مطالعہ اور جائزہ اتھارٹی (AMA) قائم کی گئی ہے جس کا مقصد موزوں اور صحیح فیصلہ کرنے کے لیے جمع شدہ اعداد وشمار اور معلومات کا تجزیہ کرناہے۔ (f) مدرسہ جدید کاری پروگرام پر نظر ثانی کی گئی ہے تاکہ ٹیچروں کو بہترتنخواہ فراہم کرکے کتابوں، پڑھائی کے سازوسامان اور کمپیوٹروں کے لیے اضافہ شدہ امداد اور پیشہ ورانہ مضامین وغیرہ کی شروعات کے ذریعہ اس پروگرام کو زیادہ پرکشش بنایاجاسکے۔یہ اسکیم جسے اب مدرسہ تعلیم میں معیاری بہتری کانام دیا گیا ہے، انسانی وسائل کے فروغ کی وزارت کے ذریعہ شروع کی گئی ہے۔ 09-2008 کے دوران 14 ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام،علاقوں کے 14539 مدرسوں کے لیے 49 کروڑ 50 لاکھ روپے جاری کئے گئے۔ (g) اقلیتوں کی طرف سے قائم کردہ اور چلائے جانے والے ابتدائی ثانوی اور سینئرسیکنڈری اسکولوں کی ڈھانچہ جاتی ترقی کی غرض سے مالی امداد کے لیے مرکزکی نگرانی میں ایک نئی اسکیم شروع کی گئی ہے۔ جس کے لیے گیارہویں منصوبے کے دوران ایک ارب 25 کروڑ روپے مخصوص کئے گئے ہیں۔ (h)۔2005 کے قومی نصابی خاکہ کی روشنی میں تعلیمی تحقیق اور تربیت کی قومی کونسل (NCERT) نے تمام جماعتوں کے لیے نصابی کتابیں تیار کی ہیں۔ (i) اقلیتوں اور درج فہرست ذاتوں اور قبیلوں کے لیے سماجی ضرورتوں کے جائزہ کی خاطر مرکز شروع کرنے کے لیے 13 یونیور سٹیوں میں سے ہر ایک کو 40 لاکھ روپے فراہم کئے گئے۔ (1) سرکاری اہل کاروں کو کام کے تئیں حساس بنانے کی غرض سے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن نے ایک تربیتی طریقہ کار وضع کیاہے۔ اسے عملدر آمد کے لیے تمام مرکزی اور ریاستی تربیتی اداروں کو بھیج دیاگیا ہے۔ لال بہادر شاستری نیشنل اکادمی آف ایڈ منسٹریشن (LBSNAA)نےمنظم سول سروسز کے افراد کو حساس بنانے کی خاطر ایک طریقہ کار وضع کیاہے جو ان کے تربیتی پروگراموں میں شامل کردیاگیاہے۔ (j) چھوٹے اور درمیانہ درجہ کے قصبات کے لیے شہری ڈھانچہ جاتی ترقیاتی اسکیم (UIDSSMT)کے تحت ایسے 69 قصبات کے لیے جہاں اقلیتوں کی کافی آبادی پائی جاتی ہے16 ارب 2 کروڑ 20 لاکھ روپے کی زائد مرکزی امداد منظور کی گئی ہے۔ اس میں 09-2008 کے دوران 31 جنوری 2009 تک 6 ارب 59 کروڑ 37 لاکھ روپے جاری کئے جاچکے تھے ۔ |