All India Congress Committee - AICC
 
 
 

دستاویز


نیوکلیائی تعاون معاہدہ کے اہم حقائق

ملک میں ان دنوں ہند- امریکہ سول نیوکلیائی معاہدہ کو لے کر بحث تیز ہوگئی ہے۔ عام لوگ اب اس بات کو سمجھنے لگے ہیں کہ جولائی 2005 کو ہند- امریکہ مشترکہ بیان کے بعد ایٹمی معاہدہ پر جو اتفاق رائے بنی تھی، وہ ملک کے مفاد میں ہے لیکن اس معاہدہ کو لے کر سبھی مفاد پرست اور ترقی مخالف طاقتیں یکجا ہوکر سیاسی بدنیتی پر محمول شبہ پیدا کرنے والی بے بنیاد اور جھوٹی مہم میں مصروف ہیں۔ ایسی ہی طاقتوں نے آزادی کے بعد سے ملک اور عوام کے مفاد میں کانگریس کے اقدامات کی مخالفت کرکے اس میں رکاوٹ پیدا کرنے کی پوری کوشش کی۔ چاہے پنڈت جواہر لال نہرو کے ذریعہ زمینداری کے خاتمہ کے لیے لایا گیا قانون ہو یا پھر محترمہ اندرا گاندھی کے ذریعہ پری وی پرس کا خاتمہ یا بینکوں کو قومیانے جیسے اقدامات ہوں، ان طاقتوں نے سب کی مخالفت کی۔ ملک کو ایٹمی قوت کا حامل ملک بنانے کے لیے 1998 میں جب پوکھرن میں پہلا ایٹمی تجربہ کیا گیا تب بھی یہ طاقتیں مخالفت میں ایک ساتھ کھڑی تھیں۔ اسی طرح جب ملک کو اکیسویں صدی میں مضبوط ہندوستان بنانے کے لیے راجیو گاندھی نے ملک میں اطلاعات و مواصلات انقلاب اور کمپیوٹر کے دور کی شروعات کی تب انھیں طاقتوں نے یکجا ہوکر بےروزگاری پھیلنے کا ہوا کھڑا کیا۔ ملک میں جگہ جگہ مظاہرے کئے گئے۔ جبکہ ملک میں آج بڑے پیمانہ پر روزگار کے مواقع مہیا ہوئے اور ہر طبقہ اس کا فائدہ اٹھا رہا ہے اور انفارمیشن کے شعبہ میں دنیا کے دیگر ممالک میں ہندوستان کا اہم مقام ہے اور ملک کی اس میں اربوں روپے کی تجارت ہے۔ انھیں طاقتوں نے پنچایتی راج قانون کی بھی مخالفت کی۔ جس کی وجہ سے آج دلت، پسماندہ، خواتین اور سماج کا ہر طبقہ حصہ دار بنا۔ راجیو گاندھی کی فراخ دلانہ اقتصادی پالیسی، برآمدات پر مبنی معاشی پالیسی اور ٹیکنالوجی کو معاشی نظام سے جوڑنے کی کوشش ہو یا پھر نئی اقتصادی پالیسی کی اس ملک میں شروعات ہو، ان طاقتوں نے ہمیشہ ملک کو دنیا کی بڑی طاقتوں کا غلام بنانے کا الزام عائد کیا جبکہ انھیں پروگرام اور پالیسیوں کی وجہ سے دنیا کی بڑی طاقتوں میں ہندوستان کا اہم مقام ہے۔ آج پوری دنیا ہندوستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔

70 کی دہائی میں اندرا گاندھی نے ہند- روس اتحاد قائم کیا تھا۔ ان طاقتوں نے اس وقت یہ الزام عائد کیا تھا کہ ملک کے اقتدار اعلیٰ کے ساتھ سودا کیا گیا تھا اور ہندوستان کی خارجہ پالیسی گروی رکھ دی تھی۔ 40 سال کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ اتحاد ہندوستان کے لیے ہر مشکل گھڑی میں کام آیا اور آج ہندوستان کی خارجہ پالیسی دنیا میں قابل احترام اور ممتاز ہے۔ اسی طرح جب ہند- امریکہ سول نیوکلیائی معاہدہ پر ترقی مخالف طاقتوں نے ملک میں شکوک پھیلانا شروع کئے اور حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے موقع پرست اتحاد قائم کیا تو یو پی اے حکومت نے پارلیمنٹ میں اعتماد کی تجویز پیش کرنے کا حوصلہ مندانہ قدم اٹھایا۔ لوک سبھا میں تحریک اعتماد کے دوران حکومت نے ایٹمی معاہدہ کے تمام پہلو اور فائدے پارلیمنٹ کے سامنے رکھے۔ جبکہ اپوزیشن دیگر موضوعات اور شور و ہنگامے میں مصروف رہا۔ کیونکہ ان کے پاس ایٹمی معاہدہ پر کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ پورے ملک نے ان مباحث کو دیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک اعتماد پر ووٹنگ میں پارلیمنٹ نے حکومت کو اپنی حمایت دی۔ اس لیے ایک بار پھر ثابت ہوگیا کہ کانگریس ملک کی ترقی، وقار، خوشحالی اور ہندوستان کو دنیا کی بڑی طاقت بنانے کے لیے اپنے پروگراموں کے ساتھ آگے بڑھتی رہے گی اور راستے میں آنے والے ہر چیلنج کا مقابلہ ملک کے عوام کے تعاون سے قبول کرتی رہے گی۔

 

ایٹمی معاہدہ کا سچ

سچ یہ ہے کہ نہ تو ہند- امریکہ 123 معاہدہ اور نہ ہی آئی ای ای ایف سیکورٹی ان دونوں میں ہندوستان کو نیوکلیائی تجربہ نہ کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ یہ ہمارا حق ہے کہ ہم جب چاہیں اپنا ایٹمی تجربہ کر سکتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس معاہدہ سے ہندوستان پر کسی طرح کی پابندی نہیں ہے کہ ہم اپنے ہتھیاروں کی تعداد نہ بڑھا سکیں اور ہم اپنی فوجوں اور ری ایکٹروں پر رقم خرچ نہ کریں۔ اس معاہدہ میں کوئی بھی ایسا قانون نہیں ہے جو کہ ہمیں ایٹمی ہتھیاروں کی کسی دیگر ممالک سے جانچ کروانے پر مجبور کرتا ہو اور نہ ہمارے دفاعی نیوکلیائی سسٹم کو بنانے میں کسی بھی طرح کے رکاوٹ پیدا کرتا ہو۔ ہم جب چاہیں جیسے چاہیں ایٹمی ہتھیار اور دفاعی نیوکلیائی ہتھیار بنا سکتے ہیں اور رکھ سکتے ہیں۔

یہ بھی سچ ہے کہ آج دنیا کے سبھی ترقی یافتہ ممالک نیوکلیائی توانائی پر انحصار کر رہے ہیں جیسے فرانس 70 فیصد، جاپان 90 فیصد اور مستقبل میں یہ 100 فیصد ہوجانے کی امید ہے۔ ہم صرف اس کا 33 فیصد ہی استعمال کر رہے ہیں۔ کیونکہ کوئلہ اور پٹرول اس قدر مہنگا ہو گیا ہے کہ اس کی فراہمی کرنا مشکل کام ہے۔ ہمارے ملک کے عوام، کسانوں، صنعتوں اور دفاع کو توانائی/ بجلی کی کتنی ضرورت ہے، اس سمجھوتے کے بعد مستقبل میں ہم اس میں سبھی ضرورتوں کو پوری کرتے ہوئے بھرپوربجلی حاصل کر سکتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ آج ہمیں اپنے ملک میں بجلی بنانے کے لیے دستیاب ایٹمی ایندھن مہیا نہیں ہو پا رہا ہے، جس کی وجہ سے ایٹمی ری ایکٹر پوری صلاحیت سے نہیں چل پا رہے ہیں اور جب تک ان 45 ممالک کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرتے ہمیں یہ ایندھن دستیاب نہیں ہوسکتا۔

یہ سچ ہے کہ یہ ایٹمی ایندھن سمجھوتہ صرف امریکہ کے ساتھ ہی نہیں بلکہ دنیا کے 45 دیگر ممالک کے ساتھ جیسے فرانس، روس، برطانیہ، جرمنی، جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں کے ساتھ ہے اور جیسے ہی سمجھوتہ این ایس جی سے منظور ہو جاتا ہے تو ہندوستان کسی بھی ملک سے ایندھن حاصل کر سکتا ہے۔ جیسے ہی ہمارے پاس اس ایندھن کی مقدار بھرپور ہو جائے گی تو امریکہ جیسا ملک بھی ہم سے دوستی کرنا چاہے گا۔

یہ بھی سچ ہے کہ ہم نے اپنے سول اور غیر سول ری ایکٹروں کو علیحدہ کر دیا ہے جو ری ایکٹر تحفظات میں نہیں آتے وہ ہمارے ملک کی اپنی ضرورتوں کے لیے کافی ہے۔

یہ سچ ہے کہ ہم نے اپنی ریسرچ اور ترقی کے ذریعہ کو دنیا سے دور رکھا ہے تاکہ اس پر کسی کا کوئی اثر اور دباﺅ نہ پڑ سکے۔

یہ سچ ہے کہ انڈین نیشنل کانگریس نے ہمیشہ اپنے ملک کا فائدہ کیا ہے اور اسے اپنی پارٹی کے مفاد سے بالاتر رکھا ہے اور کبھی بھی سیاسی و نجی مفاد کو آڑے نہیں آنے دیا ہے۔ یہ معاہدہ بھی قومی مفاد کا ایک حصہ اور ثبوت ہے۔

سچ یہ ہے کہ اگر ہم اپنے ملک سے غریبی مٹانے کا خواب پورا کرنا چاہتے ہیں اور ملک میں شرح ترقی کو بڑھانا چاہتے ہیں تو نیوکلیائی توانائی ہی اس کا واحد متبادل ہے اور اس سمجھوتہ کا نتیجہ یہ ہوگا کہ زیادہ توانائی پیداوار ہو گی جس کا اثر سارے گاﺅں، شہر اور صنعتوں کے لیے زیادہ بجلی مہیا کرنا ہے۔ یہ 123 معاہدہ دو برابر کے ساجھیداروں کے مابین کا سمجھوتہ ہے اور اس میں کوئی کم یا زیادہ نہیں ہے اور اس معاہدہ سے ہندوستان کو دیگر ممالک جیسے فرانس، روس، برطانیہ اور جاپان وغیرہ جیسے ترقی یافتہ ممالک سے توانائی کے حصول کی راہ کھل جائے گی۔

سچ یہ ہے کہ ہمارا ملک آج ترقی کے راستے پر تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس کو بجلی کی سخت ضرورت ہے جوکہ ہمارے پاس کافی مقدار میں نہیں ہے۔ ہم نے عوام سے یہ وعدہ کیا ہے کہ راجیو گاندھی بجلی کاری اسکیم کے تحت ’بھارت نرمان‘ کے لیے بجلی ملک کے ہر کونہ میں مہیا کرائی جائے اور جب بجلی نہیں ہوگی تو یہ کس طرح ممکن ہو جائے گا۔

سچ یہ ہے کہ آج ہمیں ایٹمی ٹیکنالوجی سے قریب بھی نہیں ہونے دیا جارہا ہے اور گزشتہ 33-34 سالوں سے ہمیں اس تکنیک سے دور رکھا ہوا ہے۔ 123 سمجھوتے سے ہمیں تعاون ملے گا۔ اس میں ایندھن فراہمی کی یقین دہانی ہے۔ اس کا ہمیشہ کے لیے تحفظاتی اقدامات کا بھی ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ مستقبل میں کسی طرح کی رکاوٹ ہونے پر اسے درست کرنے کا بھی طریقہ ہے۔ اس سے ہندوستان کے ایٹمی ری ایکٹروں کے لیے ہمیشہ کام کرنے والے ایٹمی ایندھن کا محفوظ فنڈ بھی تیار کیا جا سکتا ہے، جس سے مستقبل میں اس ایندھن کی دستیابی میں کسی بھی طرح سے رکاوٹ کا مقابلہ کیا جا سکے اور اس معاہدہ سے ملک کو یہ بھی حق ہوگا کہ وہ استعمال شدہ ایٹمی ایندھن کا دوبارہ استعمال کر سکتا ہے۔ مذکورہ تمام باتیں دسمبر 2006 میں امریکی کانگریس کے ذریعہ پاس کئے گئے قانون میں ہیں۔

یہ سچ ہے کہ اس سمجھوتہ سے ہماری حکومت کے دروازے سول ایٹمی توانائی کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ کھل جائیں گے اور ہم کسی بھی ترقی یافتہ ملک سے جوکہ اس ایٹمی معاہدہ کے دائرہ میں آتے ہیں، کسی بھی طرح کا سامان خرید اور فروخت کر سکتے ہیں۔

یہ سچ ہے کہ اس ایٹمی معاہدہ نے ہندوستان کو اس جگہ پر لاکر کھڑا کر دیا ہے جس کے پاس آج ترقی یافتہ نیوکلیائی تکنیک ہے۔ جس سے ہمیں اسی طرح کے فائدے ہوں گے، جس طرح آج امریکہ کو ہے۔ اس سے ہمیں دیگر ممالک سے ایٹمی تکنیک منتقل، ایٹمی پرزے، ری ایکٹر اور مشینیں وغیرہ کی لین دین اور استعمال کا پورا حق حاصل ہوگا۔

سچ یہ ہے کہ اس معاہدہ کے بعد ہندوستان دنیا میں ایک بڑی طاقت بننے جارہا ہے۔ اس سمجھوتہ پر دستخط چین نے بھی کر رکھا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس سمجھوتے پر دنیا کے متعدد مسلم ممالک نے بھی دستخط کئے ہوئے ہیں۔ اس سے ہمارے ملک پر کسی طرح کا برا اثر نہیں پڑے گا بلکہ یہ سمجھوتہ ہمارے ملک کے مفاد میں ہے۔

سچ یہ ہے کہ ہندوستان کو آگے بڑھانے کے لیے اور نوجوانوں کے مستقبل کو سنوارنے کے لےے ہمیں چھ طرح کی ٹیکنالوجی جیسے:-

(1) ایرواسپیس ایویونکس

(2) ایڈوانس کمپیوٹنگ

(3) کمپوزٹ مٹیریل

(4) الیکٹرانک سے متعلق سینسرز

(5) ٹیلی کام انفارمیشن سیکورٹی

(6) میرین انجینئرنگ وغیرہ کو ہم باہر کے ممالک سے نہیں لے سکتے۔ اس معاہدہ کے بعد ہندوستان ان تمام تکنیک کو بڑی آسانی سے حاصل کر سکتا ہے جو کہ ہمارے ملک کو ترقی اور مضبوطی کے راستے پر لے جائے گا۔

سچ یہ ہے کہ اس سمجھوتے کے بعد ہماری پبلک و پرائیوٹ سیکٹر کی بڑی کمپنیاں غیر ممالک کے ساتھ کروڑوں کی تجارت کریں گی جیسے کہ بھارت ہیوی الیکٹریکلس، ہندوستان کنسٹرکشن، لارسن اینڈ ٹیوبرو اور این ٹی پی سی وغیرہ۔

سچ یہ ہے کہ اس معاہدہ کے بعد ہم امریکی سرکار اور دیگر ممالک کے ساتھ بڑے پیمانے پر اور اعلیٰ تکنیک کی مدد سے آپس میں کروڑوں کی تجارت کر سکیں گے۔

سچ یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی کمپنیاں جیسے بوئنگ لاکیڈ مارٹن اور ریتھون نے اپنی تجارت کو بڑھانے کے لیے ہندوستان میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے۔ یہ کمپنیاں ہندوستان کی صنعتوں کے ساتھ آؤٹ سورسنگ اور اپنے حساس پروجیکٹ لے کر ہندوستان آئیں گی، جس سے ہمارے ملک کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار کے نئے اور زیادہ سے زیادہ مواقع ملیں گے اور ملک میں خوش حالی آئے گی۔

سچ یہ ہے کہ ملک کے سابق صدر اور نیوکلیائی سائنس داں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام سمیت ملک کے تمام اہم سائنس دانوں اور این ڈی اے کے دور حکومت میں قومی سیکورٹی صلاح کار اور اس وقت کے اہم مذاکرات کار برجیش مشرا نے کہا ہے کہ موجودہ نیوکلیائی معاہدہ ملک کے لیے سب سے اچھا ہے اور یہ معاہدہ ملک کے لیے عطیہ ثابت ہوگا۔

 


 

 آئین

منشور 2004

حفاطتی ایجنڈا

گذارش

 اقتصادی ایجنڈا

چارج شیٹ

آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی میٹنگ 21اگست 2004

بھارت کا نیو کلیئر توانائی پروگرام اور امریکہ کے ساتھ 123 عہد نامہ

قرض معافی بڑھ کر72,000 کروڑ روپئے ہوئی
کانگریس کا ہاتھ، انّداتا کے ساتھ

اے آئی سی سی میٹنگ 17 نومبر 2007 تالکٹورا اسٹیڈیم، نئی دہلی

جناب راہل گاندھی جی کا مرکزی بجٹ پر پارلیمنٹ میں تقریر 08 - 03  - 13

82 واں مکمل اجلاس، حیدرآباد

آرکائیوز