History

 


 


نواب سید محمد بہادر

 1869     1919
صدر - کراچی 1913 
 


نواب سید محمد  پیدائش 1869 انتقال 12فروری 1919  ۔

 نواب سید محمد بہاررجنوبی ہند کےایک دولت مند مسلمان میرہمایوں بہادر کےبیٹے تھےجن کا شمار وہاں کےامیر ترین لوگوں میں تھا۔جناب بہادرایک پرخلوص قوم پرست مسلمان تھےجنہوں نےانڈین نیشنل کانگریس کےابتدائی دنوں میں بڑی مدد کی تھی اوراس کیلئےمالی اورذہنی وسائل فراہم کئےتھے1987میں انڈین نیشنل کانگریس کےتیسرےاجلاس کےموقع پرجناب ہمایوں بہادر نےکانگریس رہنماؤں کومالی امدادی دی تھی،نواب سید محمد اپنی ماں کی جانب سےٹیپو سلطان کےوارثوں میں تھے۔ وہ ٹیپوسلطان کےچوتھے بیٹےسلطان یاسین کی بیٹی شہزادی شاہ رخ بیگم کے پوتے تھے۔

ان کی سرگرم سیاسی زندگی مدراس اوردہلی میں مرکوز تھی۔وہ ایک زمانےمیں جب مسلم لیگ جوخصوصی مراعات کا مطالبہ کرنےوالی انتہا پسند تنظیم نہیں بنی تھی ۔ قوم پرست ہونے کے سبب وہ کبھی مسلم لیگ کے رکن نہیں بنے۔

وہ عام اورتکنیکی دونوں قسم کی تعلیم کےبارے میں وسیع النظری کےساتھ سوچتےتھے۔بیسویں صدی کےاوائل میں ہندستان کی زبردست ناخواندگی پرانہیں بڑارنج ہوتاتھا۔ان کا کہناتھا کہ ریاست کی بنیادی ذمےداری ابتدائی اسکولوں کےذریعےلوگوں کی تعلیم کاانتطام کرناہے۔ان کایقین تھا کہ کسی ریاست کااستحکام اورریاست سےلوگوں کی وفاداری جوسماجی توازن کےدوستون ہیں تعلیم یافتہ شہریوں کی بنیاد پرہی قائم کئےجاسکتےہیں ۔ان کا یہ خیال بھی تھا کہ حکومت کوتکنیکی تعلیم پر زیادہ توجہ دینی چاہیےجو صنعتی ترقی اور لوگوں کی اقتصادی بہبود میں مددگار ہوسکتی ہے۔

نواب سید محمد بہادر1894میں انڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہوئےاوراس کےسرگرم رکن بن گئے۔انہوں نےاپنی تمام تقریروں اورخطبات میں اس بات پرزوردیا کہ ہندؤوں اورمسلمانوں کوبھائیوں کیطرح رہناچاہیےاوریہ مختلف مذاہب ان کوعلاحدہ نہیں بلکہ انہیں جوڑنےکا ذریعہ ہونےچاہیں ۔ان کاگہرا یقین تھا کہ انڈین نیشنل کانگریس ہندستان کےلوگوں کومتحد کرکےایک مضبوط ملک کی تعمیر کرے گی ۔

 

نواب سید محمد کوسیاست میں عظیم رہنماگوپال کرشن گوکھلےکا پیروہونےکاسبب نرم خیال رہنماقراردیاجاسکتا ہے۔وہ انقلابی سرگرمیوں میں یقین نہیں رکھتےتھےاورسیاسی آزادی سےمتعلق ان کا مقصد سلطنت برطانیہ سےعلاحدگی حاصل کرنا نہیں تھا۔وہ انگریزوں کی انصاف پسندی کےقائل تھے۔لہذا سلطنت برطانیہ کےتحت خود حکومت ہی ابتدائی ہندستانی رہنماؤں کا بنیادی مقصد تھا اورجناب سید محمد بہادر بھی انہی میں شامل تھے۔وہ جنوبی افریقہ میں جاری نسلی امتیازات اورہندستانیوں کو مساوی جقوق سےمحروم کئےجانے پرسخت برہم تھے۔ وہ پہلی عالمی جنگ کےبعد سلطنت عثمانیہ کو پار پار کئے جانےکیلئےبھی برطانوی حکومت کی شدید نکتہ چینی کی تھی۔ان کاخیال تھاکہ تمام ہندستانی مسلمانوں کو متحد ہوکر ترکی سلطنت اور خلافت کو خاتمے سے بچانے کیلئے کوشش کرنی چاہیے ۔

نواب سید محمدعوام کوسماجی طورپراوپراٹھانےکی کوششوں کےحامی تھے۔وہ 1903میں مدراس مہاجن سبھا کےصدر رہے۔ان کےقوم پرستانہ خیالات کےسبب ہی انہیں 1913میں انڈین نیشنل کانگریس کاصدرمنتخب کیاگیا۔وہ مدراس کے پہلےمسلم شیرف تھےاور1896میں اس عہد پرفائز کئےگئے۔انہیں 1900میں مدراس قانون سازکونسل اور1905میں امپریل قانون ساز کونسل کا رکن نامزد کیاگیا۔

نواب سید مجمد کو حکومت برطانیہ کی جانب سے1897 میں نواب کا خطاب دیاگیا جب انہوں نے ملکہ وکٹوریہ کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات میں شرکت کی تھی۔

 

اے ۔ کرشن سوامی

‘‘بعض صوبوں میں قدیم دیہی تنظیم کی تجدید اورگاؤں پنچایتوں کے قیام کےعمل میں پس وپیش نمایاں ہےجب کہ ہندستان کےتمام انتظامی اداروں میں مقامی اورمیونسپل انتظامی ڈھانچےکی توسیع سےمتعلق تجاویز پرغوروخوض میں ٹال مٹول کا رویہ پایاجاتا ہےکیوں کہ اکثرضرورت اس زیادہ احتیاط پسندی پر مبنی پابندیوں کے ذریعے اس سلسلے میں پیش رفت کو روکنے کا خیال ظاہر کیا جاتا ہے۔ ‘‘

نواب سید محمد بہادر کے خطبئہ صدارت سے ماخوذ، اجلاس انڈین نیشنل کانگریس ، 1913، کراچی

 


وقت کی لکیر

کانگریس کے گذشتہ صدور

کل ہند کانگریس کے اجلاس

1885سے 1946

کانگریس قیام کی زمینی حقیقت

آزادی کی جنگ

کانگریس اور تحریک آزادی

جدوجہد آزادی پر دوبارہ نگاہ

مہاتماگاندھی کی سیتہ گرہ کے مراکز

قومی پرچم

تعمیری پروگرام اور کانگریس