All India Congress Committee - AICC
 

انڈین نیشنل کانگریس
24، اکبرروڈ
نئی دہلی۔ 110011انڈیا
فون۔ 23019080 -011
فیکس ۔23017047

Hindi
English
Search
 

 

قومی دیہی روز گار ضمانتی قانون- 2005

 

متحدہ ترقی پسند محاذ حکومت کے ایک اہم عزم کی تکمیل

قومی دیہی روز گار قانون2005  دیہی علاقوں میں غربت اور بے روز گاری دور کرنے کی سمت میں ایک انقلابی قدم ہے - متحدہ ترقی پسند محاذ حکومت یہ محسوس کرتی ہے کہ روز گار کے حصول کے لئے گاؤں سے شہروں کی جانب بھاگنا ضروری نہیں ہے- اس سے کسی بھی علاقہ کا مسئلہ حل نہیں ہو تا، شاید بڑھتا ہی ہے - اس لئے بغیر کسی سیاسی تفریق کے پہلے مرحلے میں ملک کے 200 ایسے پسماندہ ضلعوں کو نشان زد کیا تھا جہاں سے غربت کے خاتمے کے اس پروگرام کو شروع کیا-

جناب راہل گاندھی نے پہل کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ اس موضوع کو اٹھا یا کہ اس منصوبے کو ملک کے سبھی ضلعوں میں نافذ کیا جائے- اسی تناظر میں وہ ایک وفد کو لے کر وزیر اعظم کے پاس اس مطالبے کو لے کر گئے اور انہیں اس کام میں کامیابی ملی-

اس طرح اس پروگرام کو 2008 - 04- 01 سے ملک کے سبھی ضلعوں میں نافذ کیا گیا ہے- متحدہ ترقی پسند محاذ کی موجودہ مر کزی حکومت کیلئے یہ قانون نافذ کرنا ایک عہد ہے ایک عزم ہے-

قومی دیہی روز گار ضمانتی قانون- 2005

پس منظر

متحدہ ترقی پسند محاذ حکومت اپنے کم از کم مشترکہ پروگرام کے تحت پابند عہد تھی کہ درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست طبقات سمیت دیہی علاقوں کے غریبوں کی زندگی کو بہتر بنانے اور ان کی غریبی دور کرنے کے مقصد سے قومی دیہی روز گار ضمانتی قانون بنائے گی-

یہ قانون سماجی ورکروں، غیر سرکاری تنظیموں ، تجربہ کار منتظمین اور دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں سے صلاح ومشورہ کے بعد بنا یا گیا ہے- پارلیمنٹ میں اس قانون کو منظور کر  پہلے ملک بھر میں اس کے مسودے پر بڑے پیمانے پر غور فکر ہوا تھا- یہ قانون سماج اور سرکار کے درمیان تعاون کا  اور مختلف سیاسی جماعتوں کے ما بین تبادلہ خیال کی ایک بڑی مثال ہے-

اس قانون کے نفاذ سے دیہی علاقوں کے غریبوں کی زندگی میں ایک نیا دور شروع ہو گا، گاؤں کے باشندوں کا سر فخر سے اونچا ہوگا، خواتین میں خود اعتمادی پیدا ہوگی، بچوں کے چہروں پر خوشی آئے گی اور سبھوں کیلئے بھر پور ترقی کا ماحول بنے گا-

روز گار ضمانتی قانون دیہی ہندوستان کی اقتصادی تاریخ میں تبدیلی کی اہم شروعات ہے - اس سے ملک گاؤں کی زندگی میں بنیادی تبدیلی آئے گی، باشندگان گاؤں کو سماجی مساوات اور انصاف کا موقع ملے گا- اس قانون میں ایسا انتظام کیا گیا ہے کہ دیہی علاقوں میں رہ رہے غریب خاندانوں کو ان کے گزر بسر میں تحفظ ملے اور انہیں تلاش روز گار میں قرب وجوار کے قصبوں اور شہروں کی جانب نہ بھاگنا پڑے- متحدہ ترقی پسند محاذ حکومت اس قانون کے ذریعہ گاؤں اور دور دراز کے علاقوں میں رہنے والی ملک کی دو تہائی آبادی کی اقتصادی ترقی کے تئیں کوشاں ہے-

اس قانون کے نافذ ہونے سے پنچایتوں کو مالی اور انتظامی حقوق ملیں گے- اس قانون کے ذریعہ دیہی علاقوں میں پائیدار اور مستقل قسم کے تعمیراتی کام ہو سکیں گے- اس سے گاؤں کے غریبوں کے لئے ایسا ڈھانچہ کھڑا ہو گا- جو طویل مدت تک انہیں روز گار فراہم کرانے میں مدد گار ہوگا- اس قانون کے ذریعہ کئے جانے والے کام اس طرح کے ہوں گے کہ وہ غریبوں کی زندگی گزارنے کا ذریعہ بنےکے ساتھ ، زمین کی پیدواری صلاحیت بھی بڑھائیں - درج فہرست ذاتوں اوردرج فہرست قبائل کو موقع ملے گا کہ وہ کھیتی کی اپنی زمین کی سینچائی کےلئے بہتر انتظام کر سکیں-

اس قانون کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کے ذریعہ کئے جانے والے کاموں میں مکمل شفافیت رہے گی اور گاؤں و آس پاس کے علاقوں کی ترقیاتی اسکیموں میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شامل کرنے کا موقع ملے-

اعلامیہ

قومی دیہی روز گار قانون کا مقصد ملک کے دیہی علاقوں کے خاندان کے بالغ اراکین کو ایک سال میں کم سے کم 100 دنوں کی مزدوری - روز گار فراہم کرانا ہے تا کہ دیہی علاقوں میں روز گار کے مواقع محفوظ ہوں اور مزدوری کے خواہاں لوگوں کو کام ملے-

قومی مشاورتی کونسل کی

 چیئر پرسن محترمہ سونیا گاندھی

کی لوک سبھا میں18/ اگست2005 کو کی گئی تقریر کے اقتباسات

میں قومی روز گار ضمانتی بل کی حمایت کیلئے کھڑی ہوئی ہوں- میں سمجھتی ہوں کہ یہ تاریخی موقع ہے - آج ہم 2004 کےکانگریس پارٹی کے انتخابی منشور کا سب سے اہم وعدہ وفا کررہے ہیں- آج ہم  یوپی اے حکومت کے کم از کم مشترکہ پروگرام کا سب سے زیادہ اہمیت کے حامل عہد کی تکمیل کررہے ہیں-

جو لوگ ملک کے دیہی علاقوں میں رہتے ہیں یا ان علاقوں کا خوب دورہ کرتے ہیں انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہاں ایسے لوگوں کی کتنی بڑی تعداد ہے جنہیں روز گار کی ضرورت ہے اور وہ موثر کام کی تلاش میں کس طرح بھٹک رہے ہیں- بنیادی ڑھانچہ کی کتنی زیادہ کمی ہے اور وہ کمی بالکل صاف دکھائی دیتی ہے-

قومی روز گار گارنٹی کے اس قابل لحاظ بل کے ذریعہ ہم ان دونوں مسائل  کا حل تلاش کر رہے ہیں اور اپنے گاؤں میں ایک بنیادی تبدیلی لانے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ ہمیں احساس ہے کہ ہماری دو تہائی بہنیں اور بھائی انہیں گاؤوں میں رہتے ہیں- اس بل کے ذریعہ ہم انہیں ان کے حقوق دینے کی شروعات کررہے ہیں -جس سے وہ مستقبل میں ایک بہتر زندگی جی سکیں-

ہم نے قومی روز گار ضمانتی پروگرام کی موجودہ شکل پر پہلی بار2002 میں گوہاٹی کے کانگریسی وزرائے اعلی کی کانفرنس میں تبادلہ خیال کیا تھا- اس کے بعد ماؤنٹ آبو میں اور2003 میں سری نگر کی کانفرنس میں اس پر گفتگو ہوئی- ہم نے محسوس کیا کہ روز گار کا تحفظ دینا اور دیہی علاقوں میں بنیادی وسائل کی فراہمی کےلئے ڈھانچہ کو بڑھانا بہت ضروری ہے-اس طرح سے ایسا بل ہماری پارٹی کے2007 کے انتخابی منشور 2004 کے انتخابی منشور کا ایک مرکزی موضوع بنا-

1970 کی دہائی میں جب مہاراشٹر میں خشک سالی کا بحران آیا تھا تو اس وقت وزیر اعلی وی پی نائک اور گاندھی وادی وی ایس پاگے نے اندرا جی کی حمایت سے مہاراشٹر میں روز گار گارنٹی منصوبہ (پروگرام) نافذ کیا تھا- آنے والے برسوں میں اس منصوبہ کو قومی سطح پر نافذ کرنے کی کوششیں ہوئیں لیکن کسی نہ کسی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو سکا-

مجھے یاد ہے کہ 1980 میں اندرا جی نے دیہی بے روز گار ضمانتی پروگرام شروع کیا تھا- 1987 میں راجیو گاندھی نے جواہر روز گار منصوبہ کا آغاز کیا - پھر1993 میں جب ۔ڈاکٹر منموہن سنگھ جی ، پی وی نرسمہا راؤ کی وزارتی کونسل میں وزیر مالیات تھے ، اس وقت 120 پسماندہ ضلعوں میں امپلائمنٹ اینشو رنس اسکیم شروع ہوئی- ان تمام پروگراموں میں بنیادی اصول روز گار کی کار گزاری گارنٹی تک محدود تھی لیکن ہمارا قومی دیہی روز گار ضمانتی پروگرام مہاراشٹر کے روز گار ضمانتی منصوبہ کی طرح قانونی ضمانت کے اصول پر مبنی  ہے- یعنی یہ قانون کی طرح نافذ ہوگا-

یہ بل سماجی رضا کاروں، خدمت خلق سے متعلقہ تنظیموں ، تجربہ کار افسروں اور خود دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے ساتھ وسیع تر تبادلہ خیال کے بعد تیار ہوا ہے- قومی مشاورتی کونسل کو اس کی خاص باتوں (نکات) کو تفصیل سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا ہے- پارلیمنٹ کی مستقل کمیٹی اور دیگر وزارتوں نے بھی اس پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا ہے - اس پر باریکی سے عوامی بحث بھی ہوئی ہے - سیاسی بھید بھاؤ کے بغیر، سماج اور سرکار کے بیچ آپس میں کس طرح تعاون کے ساتھ کام ہو سکتا ہے، یہ بل اس کی ایک زندہ جاوید مثال ہے-

ایک طرح سے قومی روز گار ضمانتی پروگرام (منصوبہ) کی شروعات کے طور پر یوپی اے حکومت نے کام کے بدلے اناج کا ایک قومی پروگرام ملک کے 150پسماندہ ترین اضلاع میں نافذ کیا تھا۔ کام کے بدلے اناج، پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے میں ایوان کو یہ یاد دلائے بغیر نہیں رہ سکتی کہ آج سے تین سال قبل ہمارا اناج کا ذخیرہ 6 کروڑ ٹن سے بھی زیادہ تھا اور اس وقت کئی صوبے ، خاص طور سے وہ ریاستیں جہاں کانگریس کی حکومتیں تھیں، مستقل خشک سالی کی مار جھیل رہے تھے- اس وقت ہماری پارٹی نے تب کی این ڈی اے حکومت سے بار بار گزارش کی تھی کہ قومی روز گار گارنٹی پروگرام کے وعدے کے طور پر ملک میں '' کام کے بدلے اناج '' کا ایک قومی پروگرام شروع کیا جائے جس سے لاکھوں لوگوں کی زندگی بچائی جا سکے - ہمارے گودام اناج سے بھرے ہوئے تھے لیکن بھوک سے بے حال تھے- این ڈی اے حکومت نے ہماری بار بار کی گزارش کو نظر انداز کردیا-

اس لئے ہم کو جو کانگریس اور یوپی اے میں ہیں، اس بات کا اطمینان ہے کہ اس بل کے ذریعہ ہم آج ان کروڑوں لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کررہے ہیں جنہیں اس کی حقیقی معنوں میں ضرورت ہے-

اس بل میں کئی خاص باتیں ہیں- میں ان میں سے کچھ کا ذکر کرنا چاہتی ہوں - پہلی خاص بات یہ ہے کہ پنچایتی اداروں کا مرکزی کردار ہوگا-اس سے پنچایتوں کو مالی اور انتظامی طور پر مستحکم ہونے کا موقع ملے گا- بل کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس کے تحت صرف ابتدائی نوعیت کے ہی تعمیراتی کام نہیں ہوں گے - منصوبے میں آبی وسائل کو فروغ دینے، پانی کے ذخائر کا دوبارہ استعمال کرنے، تالابوں کو گہرا کرنے ، جنگلوں میں ہر یالی لانے اور بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے کے کام ہاتھ میں لئے جائیں گے - پہلی بار ایسا ہوگا کہ درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے مالکانہ حق کی زمین پر سینچائی کرنے کا کام کیا جا سکے گا- ان سبھی کاموں میں خواتین کو مزدوری پر رکھنے پر زور رہے گا اور انہیں ترجیح ملے گی - تیسری خاص بات یہ ہے کہ بل میں یہ صاف پابندی لگائی گئی ہے کہ تعمیراتی امور کی تکمیل کا ذمہ ٹھیکیداروں کو نہیں دیا جائے گا-

ان خصوصیات کے علاوہ یہ بات بھی غور کرنے لائق ہے کہ روز گار ضمانتی بل کے نفاذ کے تین ماہ قبل ہی ہم شہریوں کو اطلاعات حاصل کرنے کا حق دینے کے لئے ایک بل منظور کر چکے ہیں - یوپی اے حکومت کےذریعہ بنا یا گیا ''حق اطلاعات قانون'' این ڈی اے حکومت کے ذریعہ بنائے گئے ''اطلاعات کی آزادی قانون" سے  بہت آگے ہے-

اطلاعات کا حق دینے والے نئے قانون سے منصوبے کا نفاذ زیادہ بہتر طریقے سے ہو سکے گا اور عوامی نگرانی کا عمل بھی بڑھے گا- اس قانون سے پنچایتوں اور ضلع انتظامیہ کی جوابدہی بھی زیادہ ہو جائے گی - مثال کے طور پر  اب نہ تو ماسٹر رول خفیہ رکھے جاسکیں گے اور نہ ہی یہ بات چھپائی جاسکے گی کہ آخرتعمیراتی امور میں صحیح معنوں میں کتنی رقم خرچ ہو رہی ہے- اس سے یہ ہوگا کہ صرف انہیں ہی کام پر رکھا جائے گا جنہیں اصل میں کام کی ضرورت ہے اور وہی منصوبے ہاتھ میں لئے جائیں گے جن کی لوگوں کو ضرورت ہے-

روز گار ضمانتی منصوبہ ملک کی صد فیصد اقتصادی ترقی کا متبادل نہیں ہے - اقتصادی ترقی اور روز گار کی ضمانت دینے والے منصوبے ساتھ ساتھ چلنے چاہئیں ، ہم روز گار ضمانتی منصوبہ کو مذہبی عطیہ یا شہرت حاصل کرنے کے لئے بے روز گاروں کی جھولی میں پھینک دی جانے والی شے نہیں سمجھتے ہیں-روز گار کی ضمانت دینے والا قانون تو اقتصادی اصلاحات کا انسانیت نواز چہرہ ہے ، اقتصادی ترقی کے دائرہ عمل کو مزید مستحکم بنانے اور اسے مزید مساوات بخشنے کا ایک بڑا قدم ہے -

روز گار گارنٹی منصوبہ کانگریس پارٹی  اور یوپی اے حکومت کا سماجی تبدیلی لانے کی سمت میں اٹھائے جارہے اقدامات کا حصہ ہے- یہ ہماری حکومت کے ذریعہ گزشتہ سوا سال میں اٹھائے گئے ان قابل ذکر اقدامات کا جزو ہے جن کے تحت بنیادی تعلیم کے لئے حکومت مستقل زیادہ سرمائے فراہم کرارہی ہے- اسکول میں بچوں کو ظہرانہ دینے کےلئے  چلا ئے جارہے مڈڈے میل منصوبہ کےلئے پہلے سے زیادہ پیسہ خرچ کیا جارہا ہے اور صحت نیز خواتین واطفال بہبود کے شعبہ میں حکومت ماضی کے مقابلے کہیں زیادہ سرمایہ مہیا کرارہی ہے- یہ ایسے اقدام ہیں جن کے لئے یوپی اے حکومت پوری طرح کوشاں ہے-

ہمارا ملک کامیابیوں کی کئی کہانیوں سے بھرا ہوا ہے جس سے ہمیں نیا حوصلہ ملتا ہے  مگر پھر بھی وسیع پیمانے پر نا ہمواریوں کو دیکھ کر دل کو تکلیف پہنچتی ہے اور انہیں دور کرنا ہمارے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے - ہمارے ملک نے کامیابی کی کوششوں کی عظیم بلندیوں کو چھوا ہے جن پر ہمیں فخر ہے لیکن پھر بھی وسائل کی عدم فراہمی کی بہت بڑی خلیج ہمارے سامنے ہے اور اس خلیج کو پاٹنے کےلئے ہمیں اپنی کمر کسنی چاہیئے - ہم سب جانتے ہیں کہ غریبوں کی زندگی کتنی نا ہموار ہے- کس قدر نا انصافی ہے - خاص طور سے تب اور دکھ ہوتا ہے جب ہم اپنے آس پاس اتنی فضول خرچی اور زیادتی دیکھتے ہیں- روز گار ضمانتی قانون ملک کے ان کروڑوں ضرورتمندوں اور ان کے بچوں کو ایک بہتر زندگی دینے کی کوشش ہے ، جن کا یہ حق ہے کہ وہ بھی با عزت زندگی گزاریں-

ایک وقت آئے گا اور مجھے مکمل اعتماد ہے کہ وہ دن اب دور نہیں جب اس ملک کو روز گار ضمانتی (منصوبہ) جیسے پروگرام کی ضرورت ہی نہیں رہے گی - لیکن تب تک ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اس امید میں تو بیٹھے نہیں رہ سکتے کہ اقتصادی اصلاحات کے قدم اکیلے ہی ہمارے ملک کے دیہاتوں میں روز گار کے مناسب (کافی) مواقع پیدا کردیں گے-

میں اس قانون کے نفاذ سے جڑی مالی مشکلات پربھی کچھ کہنا چاہتی ہوں - جس  پر کچھ تنقید ہوئی ہے - مگر میرا کہنا ہے کہ 7 فیصد سالانہ کی رفتار سے آگے بڑھ رہی ملک کی شرح نمو، سماجی تبدیلی کےلئے ہورہی قابل ذکر مداخلت کیلئے یقینا ہی وسائل فراہم کرسکتی ہے اور اسے فراہم کرانا چاہئیے- اس منصوبہ کی تکمیل کیلئے خرچ ہونے والے سرمایے  کا سب سے بڑا حصہ تو مرکزی حکومت کو ہی مہیا کرانا ہے مگر ریاستی حکومتوں کو بھی اس منصوبہ کے نفاذ اور اس کی نگرانی ونگہبانی کی عظیم ذمہ داری پوری کرنی ہے-

مجھے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں اس موقع کا استعمال اس بات کے لئے بھی کرنا چاہئے کہ وسیع تر معاشرتی مفادات کی تکمیل کیلئے حکومت اپنے اخراجات میں کمی کی سمت میں بنیادی قدم اٹھائے- ہمیں اپنے بہت سے منصوبوں اور پروگراموں کو اکائیت بخشنے کی ضرورت کو بھی سمجھنا چاہیے- یوپی اےحکومت کی بھارت نرمان یوجنا میں سینچائی اور دیہی سڑکوں کی تعمیر کا کام بھی شامل ہے اور ہم اس کے لئے روز گار ضمانتی منصوبہ کا استعمال کرسکتے ہیں-

اس بل میں مکمل یقین رکھنے والے ایک فرد کی حیثیت سے میں اس حقیقت کو بھی جانتی ہوں کہ اس کے تعلق سے بعض لوگوں میں تشویش (پائی جارہی ہے ) اور ناگواری دکھائی دے رہی ہے - ایسے لوگوں کے شبہات کو پوری طرح خارج نہیں کیا جاسکتا، اس کا حل نکالنے کی ضرورت ہے - ہم خود کو بے کار کسی خوش فہمی میں کیوں رکھیں! ہم سب یہ جانتے ہیں کہ ہمارے تمام منصوبے بالکل اسی طرح پایہ تکمیل کو نہیں پہنچتے ، جس مقصد کے تحت وجود میں آتے ہیں- ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ منصوبوں کا فائدہ غریبوں تک ہمیشہ نہیں پہنچ پا تا ہے - خرچ کئے جانے والے سرمائے کا بڑا حصہ منصوبوں کی تکمیل کے عمل میں کہیں گم ہو جاتا ہے - لہذامرکزی وریاستی حکومتوں کو تعمیراتی عوامل کو بہتر کرنا ہوگا اور سیاسی جماعتوں کو منصوبوں کی نگرانی  میں خود سر گرم کردار نبھانا ہوگا- سب سے لازمی تو یہ ہے کہ ہم'' سب چلتا ہے'' رویے سے خود کو مکمل طور پر آزاد کریں-

اپنی بات ختم کرنے سے پہلے وزیر اعظم  کو ذاتی طور پر شکریہ کہنا چاہتی ہوں- ان کی قیادت میں پیش ہورہے اس بل کے  نشانہ کو ان کی بھر پور حمایت رہی ہے- انہیں بہت سے پہلوؤں میں توازن پیدا کرنا پڑا مگر وہ ہمیشہ مضبوطی سے اس بل کے پیچھے کھڑے رہے اور اس طرح ان کروڑوں لوگوں کے ساتھ کھڑے رہے جن کی بہتر زندگی اس بل کی کامیابی پر منحصر ہے-

ہم صحیح معنوں میں ایک انقلابی قانون پاس کرنے کا کام کررہے ہیں- ایک ایسا قانون جس کے دوررس مثبت نتائج بر آمد ہوں گے-مگر اصل چیلنج تو اب شروع ہو رہا ہے - کیونکہ ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ یہ قانون اسی طرح کام کرے جس طرح سوچ کر ہم اسے بنارہے ہیں- اور دیہی ہندوستان کے ہمارے کروڑوں بھائی بہنوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائیں-

اسی کیلئے میں کوشاں ہوں، اسی کیلئے کانگریس پارٹی کو شاں ہے- اسی کیلئے یوپی اے حکومت کو شاں ہے-

قومی روز گار ضمانتی قانون کے سلسلے میں عام طور پر پوچھے جانے والے سوال اور ان کے جواب

قانون کا مقصد

سوال : دیہی روز گار ضمانتی قانون کے نفاذ کا مقصد کیا ہے؟

جواب : اس قانون کا مقصد دیہی خاندانوں کو بہتر جسمانی محنت والے کاموں میں روز گار مہیا کرانے کی ضمانت دے کر انہیں اپنی زندگی جینے کی حفاظت فراہم کرنا ہے-

قانون کی قابل ذکر خصوصیات

سوال : اس قانون کی خصوصیات کیا ہیں؟

جواب : اس قانون کی قابل ذکر خصوصیات درج ذیل ہیں-

(الف) تاریخی قانون  __ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایسا قانون بنایا گیا ہے کہ ہر دیہی خاندان کو اپنے ہی گاؤں میں ایک سال میں کم سے کم 100 دنوں کا ضمانت شدہ روز گار حاصل کر کے اپنی زندگی گزارنے کا حق حاصل ہوگا-

(ب) کام مانگنے کا حق __ ہر دیہی خاندان کو حکومت سے سو دنوں کا کام مانگنے کا حق ہوگا- یعنی ایسا نہیں ہوگا کہ حکومت کام کرانے نہ کرانے کےلئے آزاد ہوگی- حکومت کو اسے سو دنوں کا کام دینا ہی ہوگا، جو کام مانگنے آئے گا-

( ج ) بے روز گاری بھتہ __ اگر حکومت کسی خاندان کے مطالبہ پر اسے کام نہیں دے پائے گی تو بدلے میں اسے ایسے خاندان کو متعینہ شرح پر بے روز گاری بھتے کی ادائیگی کرنا ہوگی-

( د ) گاؤں کے باشندوں کے ذریعہ کاموں کا انتخاب __ گاؤں کے باشندے خود طے کریں گے کہ اس قانون کے ذریعہ ان کے گاؤں میں ترقی کا کون سا کام ہونا چاہئیے-

( ذ ) خواتین کو اولیت __ اس قانون کے تحت روز گار کی فراہمی میں خواتین کو اولیت دی جائے گی- ایک تہائی روز گار انہیں ہی فراہم کرائے جائیں گے-

( ر ) مکمل شفافیت __ منصوبوں کو مکمل شفافیت کے ساتھ نافذ کیا جائے گا - مزدوری کی ادائیگی سب کے سامنے کی جائے گی- مسٹر رول اب خفیہ نہیں رکھے جائیں گے اور گاؤں کے باشندوں کو حق ہوگا کہ وہ کاموں کے بارے میں مکمل جانکاری لے سکیں -

( ز ) ٹھیکیداروں پر پابندی __ روز گار ضمانتی منصوبہ کے تحت ہونے والے کام ٹھیکیداروں کے توسط سے نہیں کرائے جائیں گے-

( ژ ) پنچایتوں کا رول __ منصوبہ بنانے اور ان کی تکمیل کے عمل میں پنچایتیں ہی ہر سطح پر فیصلے لیں گی ان کا ہی کردار فیصلہ کن ہوگا-

( س ) مزدوروں کےلئے سہولیات __ تعمیری کام کے مقام پر کام کرنے والے مزدوروں کو بہت سی سہولیات دی جائیں گی-کام کرتے وقت کسی وجہ سے زخمی ہو جانے پر مزدور کے مفت علاج کا انتظام کیا جائے گا - کام کے وقت کسی حادثے کی وجہ سے کسی مزدور کی موت ہو جانے پر کسی مزدور کے مستقل طور پر معذور ہو جانے پر معاوضہ دینے کا انتظام قانون میں کیا گیا ہے-

سوال :  قومی دیہی روز گار ضمانتی منصوبہ سے کون فیض اٹھائے گا؟

جواب : - 1 - دیہی علاقوں میں ایسے ہر خاندان کو فائدہ ہوگا جس کے بالغ رکن صحیح جسمانی محنت کرنا چاہتے ہوں- 2 - پورے گاؤں کو فائدہ ہوگا- کیونکہ ہونے والے تعمیراتی کاموں سے گاؤں میں ایسی مستقل عوامی جائیداد بن جائے گی جس سے گاؤں کے غریبوں کو گزر بسر کرنے کا بہتر موقع میسر آئے گا- 3  - پنچایتی راج اداروں کو فائدہ حاصل ہوگا کیونکہ وہ انتظامی سطح پر بھی حقوق سے آراستہ ہوں گی اور مالی اعتبار سے بھی  خود کفیل ہوں گی-

سوال : - قومی دیہی روز گار منصوبہ پہلے سے نافذ باقی مزدوری پروگراموں سے کس لحاظ سے مختلف ہے؟

جواب : - 1 - اب تک دیہی علاقوں میں روز گار ملنے کی کوئی قانونی گارنٹی نہیں تھی- اس منصوبہ میں کم سے کم 100 دنوں کا روز گار ہر سال پانے کا قانونی حق ہوگا-   2- نئے منصوبہ میں لوگوں کی شراکت پہلے سے بہت زیادہ ہوگی- یہ منصوبہ صد فیصد شفافیت پر مبنی ہوگا- اور اس منصوبہ میں لوگوں کی جوابدہی پہلے سے کہیں زیادہ ہوگی- 3 - نیا منصوبہ مطالبہ پر مبنی ہے - پہلے کے منصوبے سپلائی پر منحصر ہوتے تھے- یعنی نئے منصوبے کے تحت کام مانگنے والوں کو کام دینا ہی ہوگا-جب کہ پہلے یہ ہوتا تھا کہ اگر حکومت کو کہیں کام کرنا ہوتا تھا تو وہاں کے لوگوں کو کام ملنے کی امید ہوتی تھی- 4 - اس منصوبہ میں 100 دنوں کے کام کی ضمانت ہے- جب کہ پہلے کے منصوبوں میں یہ ہوتا تھا کہ کسی کام کو پورا کرنے کے لئےایک رقم طے کردی جاتی تھی اور جب اتنے پیسے کا کام ہو جاتا تھا تو کام بند ہو جاتا تھا-

درخواست دہند گان کا رجسٹریشن اور روز گار

سوال : - کام ملنے کی  اہلیت کیا رہے گی؟

جواب : - دیہی علاقوں میں رہنے والا 18 سال کی عمر کا یعنی کوئی بھی بالغ شخص کام پا سکے گا- کام کرنے کی خواہش رکھنے والے کو ایسی جسمانی محنت  کرنے کےلئے تیار رہنا ہوگا جس کے لئے کسی صلاحیت کی ضرورت در پیش نہ ہو-

سوال : - روز گار کے حصول کا طریقہ کیا ہے؟

جواب : - ہر خاندان کے بالغ اراکین کو اپنا نام، پتہ اور عمر کی تفصیلات گرام پنچایت میں لکھوانی ہوں گی- پنچایتیں مناسب جانچ پڑتال کے بعد ایسے ناموں کا رجسٹریشن کر لیں گی- سبھی ناموں کا رجسٹریشن کرنا پنچایت کیلئے لازمی ہوگا- یہ نام 5 سال کیلئے رجسٹرڈ ہوں گے-

سوال : - خاندان کے اراکین کو کیسے معلوم ہوگا کہ ان کے ارکان کا رجسٹریشن کر لیا گیا ہے ؟

جواب : - رجسٹریشن ہوتے ہی ہر خاندان کو ایک ''جاب کارڈ " دیا جائے گا-

سوال : - کیا 'جاب کارڈ ' ملنے پر روز گار خود بخود مل جائے گا ؟

جواب : -  نہیں - جاب کارڈ یا رجسٹریشن کارڈ ملنے کا مطلب ہے کہ شخص کو روز گار ملنے کا قانونی حق حاصل ہوگیا ہے- روز گار پانے کےلئے فرد کو گرام پنچایت یا پروگرام افسر کو ایک تحریری درخواست دینا ہوگی- اپنی درخواست کی رسیدفرد کو تاریخ کے ساتھ لے لینی چاہیے- روز گار چاہنے والے فرد کو اپنی درخواست میں یہ بھی لکھنا ہوگا کہ وہ ایک بار میں مستقل 14 یوم تک کام کرنے کیلئے تیار ہے-

سوال : - اگر کسی شخص کو پہلے سے کوئی روز گار ملا ہوا ہے اور وہ اپنا یہ کام چھوڑ کر فوراً اس نئے منصوبے کے تحت کام کرنا چاہتا ہو تو اسے کیا کرنا چاہیے ؟

جواب : - ایسے فرد کو اپنی درخواست سابقہ کام چھوڑنے سے پہلے ہی جمع کردینا چاہیے اور اس میں یہ لکھ دینا چاہیے کہ وہ کس تاریخ سے نئے منصوبہ کے تحت کام شروع کرنا چاہتا / چاہتی ہے-

سوال : - ایک درخواست گزار کتنے دنوں کا روز گار حاصل کرسکتا ہے-

جواب : - کوئی بھی شخص کتنے ہی دنوں کا روز گار پانے کیلئے درخواست دے سکتا ہے اور اسے کتنے بھی دنوں کا روز گار دیا جائے جاسکتا ہے - ایک خاندان کو کل ملا کر جتنے دنوں کا بھی روز گار ملنے کی صلاحیت ہوگی، اس کے اراکین کو اتنے دنوں کا روز گار مہیا کرایا جائے گا-

سوال : -  کئی لوگ ایک ساتھ مل کر روز گار کے حصول کیلئے ایک ہی درخواست دے سکتے ہیں؟

جواب : - ہاں - اجتماعی طور پر درخواست دی جاسکتی ہے -

سوال : - درخواست دینے کے بعد روز گار کب دیا جائے گا ؟

جواب : - پندرہ دنوں کے اندر - فرد جس دن درخواست دے گا، اس سے 15 دنوں کے اندر اسے روز گار دیا جائے گا- اگر کسی شخص نے روز گار پانے کے لئے کوئی تاریخ درخواست میں لکھی ہے تو اس تاریخ سے 15 دنوں کے اندر اسے روز گار فراہم کرادیا جائے گا-

سوال : -  روز گار کون حاصل کرائے گا ؟

جواب : -  گرام پنچایت -

روز گار کے دن

سوال : - کیا ہر خاندان کے ہر بالغ رکن کو سال میں 100 دنوں کا روز گار ملے گا؟

جواب : -  جی نہیں- ایک خاندان کو 100 دنوں کا روز گار دیا جائے گا- خاندان میں کام چاہنے والے اگر ایک سے زائد بالغ رکن ہیں تو 100 دنوں کا کام ان کے بیچ تقسیم کیا جا سکے گا-

سوال : - اگر کسی خاندان کا کوئی بالغ فرد سال میں کچھ ماہ کیلئے پہلے سے ہی کام کررہا ہو تو کیا وہ بھی اس منصوبہ کے تحت روز گار پاسکتا ہے ؟

جواب : -  جی ہاں - وہ بھی روز گار پاسکتا ہے- بشر طیکہ وہ جسمانی مزدوری کرنے کا خواہاں ہو اور اس کا خاندان اس سال 100 دنوں کا کام پانے کی اہلیت رکھتا ہو-

سوال : - کیا منصوبہ کے تحت صحت مند اور نیم صحت مند روز گار کی بھی ضمانت ہے ؟

جواب : - اس منصوبہ میں صرف جسمانی طور پر مکمل صحت مند مزدوری کی ہی گارنٹی ہے- لیکن منصوبہ نافذ کرنے کیلئے ضروری نیم صحت مند یا ان فٹ مزدوروں کو بھی کام پر رکھا جاسکتا ہے-

خواتین کیلئے سہولیات

سوال : - کیا خواتین کو روز گار کی فراہمی میں اولیت ملے گی؟

جواب : - جی ہاں - خواتین کو ترجیح دی جائے گی اور ایک تہائی مزدور خواتین ہی ہوں گی-

سوال : - کیا خواتین کو بھی مردوں کے مساوی ہی مزدوری دی جائے گی؟

جواب : - ہاں - مزدوری کے معاملہ میں خواتین اور مرد مزدوری میں کوئی امتیاز نہیں برتا گیا ہے- دونوں کو برابر مزدوری ملے گی-

سوال : -  اگر کسی خاتون کے بچے چھوٹے ہوں تو کیا وہ انہیں اپنے ساتھ کام کے مقام پر لے جاسکے گی؟

جواب : - جی ہاں - ماں اپنے 6 سال سے کم عمر کے بچوں کو اپنے ساتھ کام کے مقام پر لے جاسکے گی اور کام کی جگہ پر بچوں کیلئے شیڈ بھی فراہم کرائے جائیں گے-

سوال : -  مگر شیڈ میں بچوں کی نگہداشت کون کرے گا؟ ماں کو تو کام کرنا ہوگا ؟

جواب : -  اگر شیڈ میں پانچ یا اس سے زیادہ بچے ہوں گے تو ان کی نگہداشت کیلئے ایک خاتون مزدور کو ذمہ داری دی جائے گی اور اس خاتون مزدور کو پوری مزدوری بھی ملے گی -

مزدوری اور ادائیگی

سوال : - مزدوروں کو کتنی مزدوری ملے گی؟

جواب : - مزدوری (محنتانہ) کم سے کم 60 روپے روز ہوگا- الگ الگ ریاستی حکومتیں اپنے یہاں کھیت مزدوروں کو دی جانے والی کم ازکم یومیہ مزدوری کی ادائیگی کرسکیں گی- مگر یہ رقم 60 روپیہ فی دن سے کم نہیں ہو سکتی اگر مرکزی حکومت مزدوری کی کوئی اور شرح طے کرے گی تو ریاستوں کو وہی رقم دینی ہوگی-

سوال : - مزدوری رقم میں ملے گی یا اشیاء  کے طور پر ؟

جواب : - مزدوری پوری طرح نقد بھی دی جاسکتی ہے اور کچھ نقد نیز کچھ اشیاء کے طور پر بھی- مگر مزدوری کا کم سے کم 25 فیصد حصہ نقد ہی دیا جائے گا؟

سوال : - کیا روز کے کام کی مزدوری روز مل جایا کرے گی؟

جواب : - مزدوری کی ادائیگی ہر ہفتے ہوا کرے گی - مزدوری ہر حال میں 15 دنوں کے اندر دینا لازمی ہوگا-

سوال : - کیا مزدوری ہر روز دیے جانے کی کوئی امید ہے ؟

جواب : - پوری مزدوری تو نہیں مگر اس کے ایک حصے کی ادائیگی روزانہ کی بنیاد پر کئے جانے کا انتظام کیا گیا ہے-

سوال : - مزدوری کی ادائیگی کتنی شفاف ہوگی؟

جواب : -  پوری طرح شفاف طریقے سے مزدوری کی ادائیگی کی جائے گی - نقد مزدوری یا بے روز گاری بھتہ کی ادائیگی کی تاریخ کا اعلان پہلے سے ہی کردیا جایا کرے گا - طے تاریخ کو مزدوری کی رقم سیدھے اسی شخص کے ہاتھ میں دی جائے گی جس سے کام لیا گیا ہے- ادائیگی کے وقت گاؤں کے متعدد لوگ موجود رہا کریں گے اور ان کے سامنے رقم دی جائے گی-

سوال : - اگر روز گاراسی گاؤں میں مہیا نہیں کرا یا جاتا ہے اور کام پر جانے کے لئے فرد کو سفر کرنا پڑتا ہے تو اس کے سفر کا خرچ کون دے گا؟

جواب : - اگر کام پر پہنچنے کیلئے کسی کو 5  کلو میٹر سے زیادہ کا سفر کرنا پڑتا ہے تو اسے سفری خرچ کے طور پر 10  فیصد اضافی مزدوری دی جائے گی -

بے روز گاری بھتہ

سوال : - بے روز گاری بھتہ کسے ملے گا؟

جواب : - اگر کام پانے کے حقدار کسی درخواست دہندہ کو اس کی درخواست کے 15 دنوں میں کام نہیں دیا جاتا ہے یا اس نے جب سے کام کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے تب سے 15 دنوں کے اندر روز گار مہیا نہیں کرا یا جاتا ہے تو اسے بے روز گاری بھتہ دیا جائے گا -

سوال : -  بے روز گاری بھتے کے طور پر کتنی رقم دی جائے گی ؟

جواب : - ایک سال میں پہلے 30 دنوں تک مزدوری کی رقم کا ایک چوتھائی بے روز گاری بھتہ کے طور پر ملے گا اگر اس کے بعد بھی روز گار مہیا نہیں کرایا جاتا ہے تو مزدوری کی رقم کا نصف بے روز گاری بھتہ کی شکل میں ملے گا-

سوال : - ایک درخواست دہندہ کو روز گار نہیں ملنے پر کتنے دنوں کا بے روز گاری بھتہ ملے گا ؟

جواب : - زیادہ سے زیادہ 100 دنوں کا - درخواست دہندہ نے جتنے دنوں کی مزدوری کےلئے درخواست دی ہوگی اگر اسے اتنے دنوں کا روز گار مہیا نہیں کرا یا جاتا ہے تو وہ اتنے دنوں کےلئے بے روز گاری بھتہ پانے کا حقدار ہوگا-

کام کی جگہ پر سہولتیں

سوال : - مزدوروں کو کام کے مقام پر کیا سہولتیں دی جائیں گی ؟

جواب : - کام کی جگہ پر پینے کا صاف پانی، آرام کرنے کیلئے اور بچوں کو رکھنے کیلئے شیڈ اور ابتدائی طبی علاج کیلئے " فرسٹ ایڈ میڈیکل باکس " فراہم کرائے جائیں گے-

سوال : - اگر کوئی مزدور کام کی جگہ پر زخمی ہو گیا تو کیا ہوگا ؟

جواب : - اگر روز گار کے دوران مزدور کام کرتے ہوئے زخمی ہو جاتا ہے تو ریاستی حکومت اس کا مفت علاج کرائے گی - یہ علاج مزدور کا حق ہے-

سوال : - اگر زخمی مزدور کو اسپتال میں بھرتی کرانا پڑتا ہے تو اخراجات کون برداشت کرے گا؟

جواب : - زخمی مزدور کو ریاستی حکومت اسپتال میں داخل کرائے گی ، اس کے علاج اور ادویات کا مکمل خرچ اٹھائے گی اور اسپتال میں اس کے رہنے کا مفت انتظام کرے گی اس کے علاوہ زخمی مزدورکو اس کی مزدوری کی رقم کا نصف بھتہ کے طور پر دے گی-

سوال : - اگر کسی مزدور کی کام کی جگہ پر کسی حادثہ کی وجہ سے یا کسی اور سبب سے موت ہو جاتی ہے یا وہ مستقل طور پر معذور ہو جاتا ہے تو کیا ہوگا؟

جواب : - رجسٹرڈ مزدور کی کسی حادثے میں یا کسی اور سبب سے بھی کام کی جگہ پر موت ہو جانے پر اس کے وارث کو 25 ہزار روپے بطور معاوضہ دیے جائیں گے- اگر کوئی مزدور جائے تعمیر پر مستقل طور پر معذور ہو جاتا ہے تو اسے بھی 25 ہزار روپے دیے جائیں گے-

گرام سبھا اور پنچایتی راج ادارے

سوال : - اس منصوبہ میں گرام سبھا کا کردار کیا ہے؟

جواب : - منصوبہ کے تحت شروع کئے جانے والے کاموں کی سفارش گرام سبھا گرام پنچایت سے کرے گی پنچایت کے دائرہ اختیار میں شروع ہونے والے کاموں کی نگرانی گرام سبھا کرے گی- کاموں پر ہونے والے خرچ کے سماجی حساب کتاب یعنی سوشل آڈٹ بھی گرام سبھا ہی کرے گی-

سوال : - تو پنچایتوں کا کیا کردار رہے گا؟

جواب : - پنچایتی راج اداروں کا اس منصوبہ میں بہت ہی اہم رول ہے - دیہی روز گار ضمانتی منصوبہ کے تحت ہونے والے سبھی کاموں کی پلاننگ اور ان کے نفاذ کی ذمہ داری گرام پنچایتوں ، بلاک پنچایتوں اور ضلع پنچایتوں کی ہی ہوگی-

سوال : - کیا پنچایتی راج ادارے ہی کام کرنے والی ایجنسی بھی بن سکتے ہیں؟

جواب : - ہر سطح پر پنچایتی راج ادارے اس منصوبہ کے تحت کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے والی ایجنسیوں کا کردار نبھا سکتے ہیں-

سوال : - گرام پنچایت کے ذمہ کیا کام رہے گا؟

جواب : - گرام پنچایتیں اپنے دائرہ اختیار میں رہنے والے سبھی خاندانوں کے ایسے بالغوں کا رجسٹریشن کریں گی جو اس منصوبہ کے تحت روز گار پانے کی اہلیت رکھتے ہوں-

2 - ایسے تمام بالغوں کو وہ '' جاب کارڈ '' جاری کریں گی - گرام سبھا کی سفارشات کی بنیاد رپر گرام پنچایت اپنے علاقہ میں شروع کئے جانے والے منصوبوں کی شناخت کریں گے اور ان کا تخمینہ لگانے اور انہیں منظور کرنے کےلئے پروگرام افسر کے پاس بھیجیں گے-

3 - گرام پنچایت ایک ترقیاتی منصوبہ ہمیشہ تیار رکھے گا اور ممکنہ کاموں کی ایسی فہرست بنائے گا جنہیں کام کے مطالبے کی صورت میں ہاتھ میں لیا جا سکے -

4 - درخواست دہند گان کے درمیان روز گار گارنٹی کا کام بھی گرام پنچایت کرے گا اور ان کے کام کی رپورٹ بھی وہی لے گا-

5 - اس منصوبہ کے تحت ہونے والے کاموں کی مجموعی لاگت کے کم سے کم نصف لاگت کے کام گرام پنچایت کو ہی پورا کرنے کےلئے دیے جائیں گے-

سوال : - بلاک سطحی پنچایت کا کیا رول ہوگا؟

جواب : - بلاک سطح کے منصوبوں کو بلاک پنچایت سفارش کرے گی اور انہیں منظوری کیلئے ضلع پنچایت کو بھیجے گی- بلاک پنچایت گرام پنچایتوں کے ذریعہ شروع کئے گئے کاموں کی نگرانی بھی کرے گی اور بلاک سطح پر ہونے والے کاموں کی دیکھ بھال اور نگرانی بھی اس کے ہی ذمہ ہوگی-

 

 

 


 

Sitemap           Search           Feedback

© Copyright AICC 2009 | Privacy policy. Best viewed with IE 5 + browsers at 1024 X 768 resolution.