| ‘‘ پرچم تمام قوموں کی ضرورت ہے۔ لاکھوں لوگوں نے اس کیلئے جان دی ہے۔ یہ بلاشبہ ایک نوع کی بت پرپستی ہے جسے ختم کرنا گناہ ہوگا۔ کیونکہ پرچم ایک آدرش کا ترجمان ہوتاہے۔ یونین جیک کےلہرائے جانے سے انگریزوں کا سینہ ان جذبوں سے بھرجاتا ہے جس کی طاقت کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ امریکی پرچم کے ستارے اور پٹیاں امریکیوں کیلئے اپنی ایک دنیا کی ترجمانی ہیں۔ ستارہ اور ہلال اسلام میں زبردست بہادری کا سبب ہیں۔‘‘ ‘‘ ہم ہندستانی مسلمانوں ، عیسائیوں ، یہودیوں ، پارسیوں اوران تمام لوگوں کیلئےہندستان ان کا گھرہے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ ایک مشترک پرچم ایسی چیز ہے جس کیلئے جیا اورمرا جاسکتا ہے۔‘‘ ایم .کے. گاندھی ابتدا ہندستان کے قومی پرچم کےارتقا کےعمل سے بیسویں صدی کےدوران ملک کے سیاسی وقعات کی رفتار کا اظہارہوتاہے۔ پرچم کے تئیں لوگوں کےرویے سے مختلف سیاسی رجحانات ، فرقہ وارانہ کشیدگیوں ، جوش وخروش کا انعکاس ہوتا ہے۔ کہاجاتا ہے کہ ہندستان میں پہلا قومی پرچم 7 اگست 1906 کو کلکتہ کے پارسی باغان اسکوائر ( گرین پارک) میں لہرایا گیا۔ یہ پرچم سرخ، پیلی اور ہری افقی پٹیوں پر مشتمل تھا۔ سب سےاوپر کی سرخ پٹی پر ایک قطار میں آٹھ کمل کے پھول ابھرے ہوئےتھے ۔ پیلی پٹی پر گہرے نیلے رنگ سے دیوناگری رسم خط میں وندے مرترم لکھا ہوا تھا۔ ہری پٹی پر بائیں جانب ایک سفید سورج اور دائیں جانب سفید ہلال اور ستارہ بناہوا تھا۔ دوسرا پرچم پیرس میں میڈم کاما اور 1907 (بعض کے مطابق 1908 ) میں جلاوطن کئےگئےان کے ساتھ انقلابیوں نے لہرایا تھا۔ یہ اس کے پہلےوالے پرچم ہی کی طرح تھا سوا اس کے کہ اوپر کی پٹی پر صرف ایک کمل کا پھول ایک سات ستارے تھے جو ‘سپت رشی ‘ کی نمائندگی کرتے تھے۔ اس پرچم کی نمائش برلن میں ایک سوشلسٹ کانفرنس میں بھی کی گئی تھی۔ 1917 میں ہمارے تیسرے پرچم کےلہرائے جانےکےوقت تک ہماری سیاسی جدوجہد ایک فیصلہ کن موڑ لےچکی تھی۔ ڈاکڑاینی بیسنٹ اورلوک مانیہ تلک نےاسےہوم رول تحریک کےدوران لہرایا تھا۔ اس پرچم میں پانچ سرخ اورچار سبز افقی پٹیاں تھیں جنہیں ایک کےبعد ترتیب دیا گیلا تھا اور اس پر ‘سپت رشی‘ کے اندز میں سات ستارے ابھرے ہوئے تھے۔ سب سے اوپر بائیں جانب (ڈنڈے کی طرف) یونین جیک بناہوا تھا ۔ اس سے وقت کی امنگوں اورآرزؤوں کی ترجمانی کی گئی تھی ۔ یونین جیک کی شمولیت ڈومنین کی حیثیت کے مقصد کی علامت تھی۔ مگر یونین جیک کی موجودگی نے اس پرچم کوعام طورپر ناقابل قبول بنادیا۔ اسےجس سیاسی سمجھوتے کی ترجمانی ہوتی تھی وہ مقبول عام نہیں تھا ۔ ایک نئی قیادت کی آرزو کے نتیجےمیں 1931 میں موہن داس کرم چند گاندھی منظرعام پرآئےاوران کے ساتھ ہی پہلا ترنگا بھی وجود میں آیا ۔ اسی زمانے میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے بیزواڈا (اب وجے وتھ) اجلاس کے دوران آندھر کےایک نوجوان نےایک پرچم تیار کیا اوراسے گاندھی جی کو دکھانے لایا ۔ یہ پرچم دو رنگوں ، سرخ اور سبز ، میں تھا جو دوبڑے فرقوں کے ترجمان تھے۔ گاندھی نے ہندستان کے بقیہ فرقوں کی نمائندگی کیلئےایک سفید پٹی اورترقی کی علامت کے طور پرچرخے کا اضافہ کرنے کا مشورہ دیا۔ اس طرح ترنگے کا جنم ہوا مگر ابھی آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے اسے باضابطہ طورپر منظور نہیں کیا تھا تاہم گاندھی کی منظوری سے اسے خاصہ قبول عام حاصل ہوگیا اور اسے تمام کانگریس اجلاسوں میں لہرایا جانے لگا۔ 1931 میں کانگریس کے کراچی اجلاس کےدوران ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں ایک پرچم کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا جو کانگریس کیلئے باضابطہ طورپر قابل قبول ہو۔ ابتک پرچم کے رنگوں کی معویت کےبارے میں کاصےاختلافات سامنےآچکے تھے۔ فرقہ وارانہ چپقلش شروع ہوچکی تھی۔ ملک کےدونوں بڑے فرقےایک دوسرے کا ساتھ چھرنے لگے تھےاور فرقہ وارانہ تعبیروں پر زور دیا جانے لگاتھا۔ اسی دوران پرچم کےانتخاب کے بارے میں رائے معلوم کرنے کیلئے سات افراد کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ کمیٹی نےایک سادہ بھگوا رنگ کا پرچم تجویز کیا جس کے بائیں کنارے پر سرخ اور بھورے رنگ میں چرخہ بنا ہوا ہو۔ AICC نے یہ تجویز قبول نہیں کی ۔ 1931 کا سال پرچم کی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوا ۔ ایک قرارداد منظور کی گئی جس میںقومی پرچم کے طور پر ایک ترنگے پرچم کو اختیار کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ یہ پرچم ، جو موجودہ پرچم کا پیش خیمہ تھا، بھگوا، سفید اور سبز رنگوں پر مشتمل تھا۔ تاہم اس سلسلےمیں واضح کردیا گیا تھا کہ ان رنگوں کی کوئی فرقہ وارانہ معنویت نہیں ہےاور اس کی تعبیر منددرجہ ذیل انداز سے کی جائے: بھگوا برائے جرُات اور ایثار وقربانی سفید برائے حق پرستی اور امن سبز برائے یقین اور مہم جوئی اس پرچم میں سفید پٹی پر ایک چرخہ بھی تھا جس کا عرض تین گنا تھا ۔ اس قرار داد کے ذریعے پہلی بار کانگریس نےترنگے کو قومی پرچم کی حیثیت سے باضابطہ طورپرمنظوری دی۔ اس کے بعد یہی ہمارا پرچم اورہمارے ازاد ہونے کے عزم وارادے کی علامت بن گیا ۔ ائین ساز اسمبلی نے 22 جولائی 1947 کو اسےآزاد ہندستان کا قومی پرچم تسلیم اوراختیار کرلیا۔ آزادی کےنعد پرچم کے رنگ اور ان کی معنویت برقرار رہی اور صرف اتنا فرق آیا کہ چرخے کی بجائے اشوک کے‘ دھرم چکر‘ کو قومی علامت کے طورپر پرچم کا حصہ بنادیا گیا۔ اس طرح کانگریس پارٹی کا ترنگا پرچم بالآخر آزاد ہندستان کےترنگے پرچم کے طورپر تسلیم کرلیا گیا۔ |