لوک سبھا انتخابات - 2009
انتخابی منشور کا اجراٴ
24. اکبر روڈ، نئی دہلی
24، مارچ 2009
وزیر اعظم جی،
پرنب جی،
میڈیا کے نمائندوں!
میں آج کے اس پروگرام میں آپ کا خیر مقدم کرتی ہوں-
ہمارے 2009 کے انتخابات کا منشور آپ کے ہاتھوں میں ہے- آپ دیکھیں گے کہ اس میں جو وعدے ہم نے 2004 میں کئے تھے- ان میں سے بیشتر پورے کئے ہیں-
ہمارے اس انتخابی منشور میں آئندہ پانچ برسوں کے لئے کانگریس کے پروگرام ہیں- اس میں ملک کے ہر باشندے کی حفاظت، عزت اور خوشحالی کے لئے کانگریس پارٹی کا پختہ عزم پوشیدہ ہے-
یہ انتخابات ملک گیر نوعیت کے ہیں - انڈین نیشنل کا نگریس ایک ایسی اکلوتی قومی پارٹی ہے جو ملک میں ہر جگہ موجود ہے اور جس کا زاویہٴ نظر پوری طرح ملک گیر ہے-
ہمارے منشور اور ہمارے کام دونوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کانگریس اور دوسری پارٹیوں میں کیا فرق ہے- کانگریس کے ذہن میں ہمارے ملک کی کیسی تصویر ہے اور دوسروں کے خیالات کیسے ہیں- کانگریس کا نظریہ بالکل واضح ہے - شروع سے آج تک ہماری جدو جہد ایک جمہوری اور سماجی انصاف پر مبنی ہندوستان کی تعمیر وتشکیل کے لیے ہے- ان ہی نظریات کی بنیاد پر ہندوستان آگے بڑھ سکتا ہے- ان ہی نظریات کی بنیاد پر ہم کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرسکتے ہیں- خواہ معیشت کا موجودہ چیلنج ہو یا دہشت گردی سے مقابلہ-
لیکن یہ بھی ایک سچائی ہے کہ ان چیلنجوں کا مقابلہ بھی ہم تبھی کرسکتے ہیں جب سارا ملک اور پورا ہندوستانی سماج ملکی معاملات میں جذباتی طور پر متحد ہو اور یہ محسوس کرے کہ ہماری کثرت میں ہی ہماری طاقت ہے - چیلنجوں کا سامنا کرنے اور ملک کی ترقی کے لیے یہ ضروری ہے کہ ایک ایسی حکومت کے ہاتھوں میں ملک کی باگ ڈور ہو، جو استحکام،تسلسل اور قومی یکجہتی کی علامت ہے، جس کو ان تینوں اصولوں سے عقیدت ہے اور جس کے پاس تجربہ اور قابلیت ہے- اس عہدے کے ایک سے زیادہ دعویدار ہو سکتے ہیں لیکن ڈاکٹرمنموہن سنگھ جی کے سامنے کوئی نہیں ٹھہرتا-
میں امید کرسکتی ہوں کہ ہماری پانچ سال کی حصولیابیوں اور کاموں اور ہم جو کچھ آئندہ کرنے والے ہیں، ان پر ملک کے باشندے یقین کر کے کانگریس پارٹی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کو عوامی حمایت دیں-
آپ سب کی یہاں تشریف آوری کے لیے بہت بہت شکریہ-
اب میں ڈاکٹر منموہن سنگھ جی سے گزارش کروں گی کہ وہ چند الفاظ کہیں-