All India Congress Committee - AICC
 

انڈین نیشنل کانگریس
24، اکبرروڈ
نئی دہلی۔ 110011انڈیا
فون۔ 23019080 -011
فیکس ۔23017047

Hindi
English
Search
 

 

 

عام آدمی کے بڑھتے قدم

ہر قدم پر بھارت بلند

 

لوک سبھا انتخابات 2009

انڈین نیشنل کانگریس کا

منشور

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

فہرست

 

1 - دیباچہ

 

2 - کانگریس ہی کیوں؟

 

3 - کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت کی حصولیابیاں2004- 2009

 

4 - آگے کی راہ 2009- 2014

 

5 - اپیل

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

1 - دیباچہ

پندرہویں لوک سبھا کے انتخابات جلد ہی ہونے والے ہیں۔

یہ آپ کے لیے مرکز میں نئی حکومت منتخب کرنے کا وقت ہے-

انڈین نیشنل کانگریس عوام سے بصد احترام حمایت چاہتی ہے۔ ہم ہر شہری کی سیکورٹی ، عزت و وقار اور خوشحال زندگی کیلئے مسلسل کام کرنے کا عہد کرتے ہیں۔

انڈین نیشنل کانگریس یہ حمایت 2004-2009 کے دوران کانگریس کی قیادت والی یوپی اے حکومت کی بہترین کارکردگی کی بنیاد پرمانگتی ہے۔

ہم نے 2004 کے اپنے انتخابی منشور میں کئی وعدے کئے تھے۔

ہم نے ان میں سے بیشتر وعدے پورے کئے ہیں۔

انڈین نیشنل کانگریس اپنی اصل قدروں اور نظریے۔ سیکولرزم، حب الوطنی، سماجی انصاف اور سب ہی کیلئے ، خاص طور سے عام آدمی کے لئے معاشی ترقی کی بنیاد پر تازہ حمایت چاہتی ہے۔

ہم اپنی وراثت، خدمت کے ریکارڈ اور مستقبل کی بصیرت کی بنیاد پر نئی حمایت چاہتے ہیں۔ ہم اپنے عوام کی فلاح و بہبود اور خاص طور سے اپنے سماج کے کمزور طبقوں کی بہتری کےلئے کام کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔

انڈین نیشنل کانگریس واحد پارٹی ہے جو سماج کے ہر طبقے سے طاقت حاصل کرتی ہے اور سب ہی کے لئے کشش رکھتی ہے۔

انڈین نیشنل کانگریس واحد پارٹی ہے جس کا ماننا ہے کہ معاشی نمو و فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور معاشی نمو وسماجی انصاف ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں اور دونوں کو ساتھ چلنا لازمی ہے۔

انڈین نیشنل کانگریس واحد پارٹی ہے جس میں تجربہ، نوجوانوں کی طاقت، دانشمندی اور نئی بلندیاں چھونے کا حوصلہ ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

2 - کانگریس ہی کیوں؟

یہ قومی انتخابات ہیں۔

ان انتخابات میں علاقائی، ریاستی اور مقامی سطح کے اہم موضوعات ہوں گے ، لیکن یہ انتخابات مرکز میں ایک ایسی حکومت منتخب کرنے کے لئے ہوں گے جو ہندوستان پر بہتر طریقے سے حکمرانی کرسکے اور عوام کی امیدوں اور تمناں پر پوری اترسکے۔

انڈین نیشنل کانگریس ہی صرف ایسی پارٹی ہے جس نے ہندوستان کو ایک وسیع ملک کے طور پر دیکھا ہے اور ساتھ ہی علاقائی اور مقامی جذبات کی بھی قدر کی ہے۔

انڈین نیشنل کانگریس ایک ایسی پارٹی ہے جس نے مضبوط مرکز، ریاستوں، پنچایتوں اور نگر پالیکاں کے تئیں اپنا عزم ظاہر کیا ہے۔ ہندوستان کے سیاسی نظام میں ان تین سطحوں پر اداروں کے لئے الگ الگ جگہ ہونی چاہئے کیونکہ انھیں مخصوص کام کرنے ہوتے ہیں۔

انڈین نیشنل کانگریس کچھ ریاستوں میں ایسی ہم خیال پارٹیوں کے ساتھ مل کرانتخابات لڑ رہی ہے، جو کانگریس کی ترقی پسندانہ سوچ اور قدروں کی حمایت کرتی ہیں۔ گذشتہ پانچ برسوں تک انڈین نیشنل کانگریس نے مرکز میں ملی جلی سرکار چلائی ہے اور اتحادی پارٹیوں کی رائے پر بھی توجہ دی ہے لیکن ملک کی تعمیر کے بنیادی اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا۔

اس کے باوجود آج کا ہندوستان کیا چاہتا ہے۔ آج ہر ہندوستانی چاہتا ہے کہ قومی سطح پر ایک ایسی پارٹی ہو جسے پورے ملک کی حمایت حاصل ہو۔ انڈین نیشنل کانگریس ہی صرف ایسی پارٹی ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس ایک ایسی پارٹی ہے جس نے مہاتما گاندھی کی قیادت میں نوآبادیاتی حکومت کے خلاف آزادی کی لڑائی لڑی۔ یہی وہ پارٹی ہے جس نے جواہرلال نہروکی قیادت میں جدید ہندوستان کی بنیاد رکھی اور پارلیمانی جمہوریت، سیکولرزم، معاشی ترقی اور سائنس و ٹکنالوجی کو خاص طور سے اہمیت دی۔

اپنے تجربوں سے ہر قدم پر سبق لیتے ہوئے انڈین نیشنل کانگریس نے وقفے وقفے سے پیش آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کےلئے پبلک سیکٹر کی صنعتوں کا قیام پچاس کی دہائی سے ہی شروع کردیا تھا۔اندرا گاندھی کے ذریعہ 60 کی دہائی میں بنکوں کو قومیا نے، 70کی دہائی میں آئے زرعی انقلاب اور 90کی دہائی میں اقتصادی اصلاحات کی وجہ سے گذشتہ پانچ برسوں میں کافی معاشی ترقی ہوئی ہے۔یہی ایک ایسی پارٹی ہے جس کی مستقبل پر نظر ہے اور یہ مانتی ہے کہ بہتر مستقبل ہر ہندستانی کا حق ہے۔

1947سے اب تک کی تمام کامیابیاں ہندستانی عوام کی ہیں۔ ہندوستان کے کسانوں ،کھیتوں میں کام کر نے والے مزدوروں، منظم اور غیر منظم سیکٹروں میں کام کرنے والے ملازمین، مینجروں، سائنس دانوں، انجینئروں، ٹیچروں، ڈاکٹروں، دیگر پیشہ ورانہ کام کرنے والوں،انٹر پر ینیورز اور کاروباری لوگوں کی ہیں۔

یہ انڈین نیشنل کانگریس ہی ہے جس نے یہ کامیابیاں حاصل کرنے کےلئے جواہرلال نہرو ،لال بہادر شاستری، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، پی وی نرسمہا راؤ اور ڈاکٹر منموہن سنگھ جیسے وزرائے اعظم کی شکل میں سیاسی قیادت عطا کی۔


کانگریس بنام بی جے پی : سیکولر ۔روشن خیال قوم پر ستی بمقابلہ تنگ ذہن فرقہ پرستی

انڈین نیشنل کانگریس ہمیشہ ہی ان طاقتوں کے خلاف لڑائی میں پیش پیش رہی ہے جو سماج کو تقسیم کرنا چاہتی ہیں اور نفرت پھیلا نا چاہتی ہیں۔

انڈین نیشنل کانگریس نے ہمیشہ ہی ایسی نظریات کی سخت مخالفت کی ہے جن سے ملک کی تقسیم کا خطرہ لاحق ہوا ہے ۔ان میں ہر طرح کی فرقہ پرستی،لسانی عصبیت،علاقائی تعصب پسندی اور ذات پات شامل ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی قومی سطح پر انڈین نیشنل کا نگریس کی اصل سیاسی حریف بننا چاہتی ہے۔

لیکن انڈین نیشنل کانگریس بی جے پی کے ایسے دعوؤوں کو یکسر مسترد کرتی ہے کیونکہ ملک کے بڑے حصے میں اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔

پھر بھی انڈین نیشنل کانگریس اور بی جے پی کے مابین مقابلہ محض دو پارٹیوں کے ما بین مقابلہ نہیں ہے بلکہ یہ مقابلہ ہندستانی قوم پرستی کے دو نظریوں اور موقف کے مابین ہے کہ ہندستان کیسا ہو؟

انڈین نیشنل کانگریس کی سیکولر اور روشن خیال قوم پرستی میں ہر کسی کےلئے جگہ ہے ۔یہ سب ہی کو ساتھ لےکر چلنے کے نظر یے کے تحت ہے جبکہ بی جے پی کی تنگ نظری اور فرقہ وارانہ قوم پرستی سماج کے ایک بڑے طبقہ کو مساوات اور مساوی حقوق سے محروم رکھتی ہے ۔یہ الگ تھلگ کرنے کا اصول ہے۔

انڈین نیشنل کانگریس کی سیکولر اور روشن خیال قوم پرستی ہندوستان کی کثرت میں وحدت پر مبنی ہے ،لیکن بی جے پی کی تنگ نظری فرقہ پرستی پر مبنی حب الوطنی اس رنگارنگی کو مسترد کرتے ہوئے صرف دکھاوے کےلئے اتحاد کی بات کرتی ہے۔

انڈین نیشنل کانگریس اتفاق رائے اور تعاون کی سیاست کرتی ہے لیکن بی جے پی عوام کو بانٹنے اور نفرت کی سیاست میں مصروف ہے۔جہاں انڈین نیشنل کانگریس عوام میں اتحاد پیدا کررہی ہے،بی جے پی انہیں توڑنے کاکام کرتی ہے۔

تیسرا محاذ ۔افراتفری اور خلفشار کا نسخہ

ایک نام نہاد تیسرا محاذ بھی ہے ،جس میں موقع پرست پارٹیاں جمع ہوگئی ہیں۔ان پارٹیوں میں نہ تو صحیح فہم وصلاحیت ہے اور نہ ہی ان کی سوچ میں پختگی ہے۔یہ محاذ موقع پرستی کی سیاست کرنے اور محض اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل کا ایک پلیٹ فارم ہے ۔یہ متبادل پالیسی کی بات کرتا ہے لیکن اسکی وضاحت نہیں کرپاتا۔ تیسرے محاذ کی پارٹیاں اقتدار میں رہنے پر کچھ اور کام کرتی ہیں اور عوام کے ذریعہ اقتدار سے بے دخل کر دئے جانے کے بعد کچھ اور۔

بائیں بازو کی پارٹیاں اس نام نہاد تیسرے محاذ کے قیام کی اصل محرک ہیں جنھوں نے کانگریس کی قیادت والی یوپی اے حکومت کی چار سال تک حمایت کی۔ اس دوران انھوں نے بغیر کسی ذمہ داری کے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرنے کی کوشش کی۔ ہر قدم پرانھوں نے ضابطہ شکنی کی اور ان سب ہی حدود کو پار کیا جو ایک مخلوط حکومت چلانے کےلئے ضروری ہوتی ہیں۔سب ہی اہم معاملوں میں وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے انھیں ہمیشہ باخبر رکھا۔ اس کے باوجود ہماری شرطوں پر کئے گئے غیرفوجی نیو کلیائی معاہدے کے مسئلہ پر بائیں بازوکی پارٹیوں نے حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی اور کسی بھی بات کو سننے سے انکار کر دیا جبکہ یہ واضح تھا کہ معاہد ہ پوری طرح سے ہندستان کے مفاد میں ہے۔

بائیں بازو کی پارٹیاں اور ان کے موجودہ اتحادی سیکولر ہونے کادم بھررہے ہیں، لیکن ان میں سے کئی ماضی میں بی جے پی کے ساتھ رہ چکے ہیں بلکہ انہیں کی وجہ سے ہی بی جے پی آج اتنی بڑی پارٹی بن گئی ہے۔

جیسا کہ ماضی کے تجربہ سے ظاہر ہے، تیسرا محاذ سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے والا محاذ ہے۔قومی سطح پر اسے سہارا دینے والا کوئی نہیں ہے۔یہ اتحاد پیدا کرنے والا نہیں بلکہ افراتفری اور انتشار برپاکرنے والا محاذہے۔

صرف متحد ہندوستان ہی دہشت گردی کا مقابلہ کر سکتا ہے -

ہندستان کی سلامتی ویکجہتی سب سے مقدم ہے۔دہشت گردی دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ ہندستان کےلئے بھی خطرہ بنی ہوئی ہے۔

دہشت گردی نہ تو کسی مذہب کو مانتی ہے اور نہ ہی اس کی کوئی سرحد ہے۔اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ کسی فرقہ یا سیاسی نظر یے تک محدود نہیں ہے۔یہ دہشت گرد اپنی بزدلانہ حرکتوں سے معصوم افراد کو نشانہ بناتے ہیں۔

اب یہ بات واضح ہوجانی چاہیے کہ دہشت گرد ی کا مقابلہ سوچ سمجھ کر ،کسی خوف اور جانبداری کے بغیر مسلسل کیا جانا چاہیے۔

دہشت گردی کا مقابلہ لوگوں میں اتحاد کے ذریعہ ہی کیا جا سکتا ہے، مذہب میں تقسیم ہو کرنہیں۔ بی جے پی کی مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو بانٹنے کی پالیسی سے دہشت گردی کے خلاف ہماری لڑائی کمزور پڑتی ہے۔

ہمارے سماج کو صدیوں سے باندھے ہوئے باریک دھاگے کو کمزور کئے بغیر صرف انڈین نیشنل کانگریس ہی دہشت گردی کا فیصلہ کن طریقے سے منھ توڑ جواب دے سکتی ہے۔

سرحد پار سے مسلط کی جانے والی دہشت گردی کے خاتمے کےلئے بی جے پی کی ڈھیلی ڈھالی خارجہ پالیسی کار گر نہیں ہے۔ان کی اسی پالیسی کی وجہ سے ملک کو کتنی بڑی قیمت ادا کرنی پڑی ہے، پورا ملک جانتا ہے۔اس پالیسی کا نتیجہ ہم کارگل میں دراندازی، قندھار میں گھٹنے ٹیکنے اور”آپریشن پر اکرم“میں پیدا ہوئے تعطل کی شکل میں دیکھ چکے ہیں۔

آج ہندستان کو ایسی موثر خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے جو ہماری روایات سے ہم آہنگ ہو، جو ہمارے اتحاد ومشترکہ مقاصد کے ذریعہ ہمیں مضبوطی فراہم کرے اور اتحاد کی حرارت پیدا کرے۔

نومبر 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت نے سفارتی سطح پر زبردست مہم چلائی،جس نے پاکستان کو پہلی بار یہ ماننے پر مجبور کیا کہ اس کے شہری حملوں کے ذمہ دار تھے۔یہ ہماری سوچی سمجھی خارجہ پالیسی کی ایک اہم فتح تھی۔


متوازن راہ ۔ کانگریس کی راہ

توازن اور اعتدال پسندی کی راہ ہمیشہ ہی کانگریسی پالیسیوں کی نمایاں خصوصیت رہی ہے۔

جہاں پوری دنیا کسادبازاری کی گرفت میں ہے، متوازن اور درمیانی راستے نے ہندوستان کو ان سے بچا لیا

یہ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹروں کے مابین توازن کا نتیجہ ہے، اس میں کوآپریٹیو اور اپنی مدد آپ گروپوں کا اہم رول ہے۔

یہ جدید معیشت اور روایتی صنعتوں کے مابین توازن برقرار رکھنے کی وجہ سے ممکن ہو سکا۔

یہ منظم سیکٹر میں روزگار کے مواقع فراہم کرکے اور غیر منظم سیکٹر میں روزی روٹی کمانے والوں کو تحفظ فراہم کرنے کے درمیان توازن پیدا کرنے کی وجہ سے ہوا۔

یہ ہندوستان کی شہری آبادی کی ضرورتوں کو پوراکرنے اور گاں و قصبوں میں رہنے والے لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کے درمیان توازن پیدا کرنے سے ہوا۔

یہ عالمگیریت سے فائدہ اٹھانے اور ان فوائد کو مقامی لوگوں تک پہنچانے کے توازن کی وجہ سے ہوا۔

یہ حکومت کے ضابطوں اور انٹرپرینیور وپروفیشنل کے آگے بڑھنے کی تمناں کے مابین توازن سے ہوا۔

صرف انڈین نیشنل کانگریس ہی زندگی کے ہر شعبے میں، جن میں اقتصادی اور خارجہ پالیسی شامل ہے اس توازن کو برقرار رکھنے کے حق میں ہے اور اس پر عمل کرتی ہے۔

اب توازن کی پہلے سے بھی زیادہ ضرورت ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

  3 - کانگریس قیادت والی یوپی اے حکومت کی حصول یابیاں: 2009 - 2004

صدر کانگریس سونیا گاندھی کی ان تھک مہم کی وجہ سے 14 ویں لوک سبھا میں انڈین نیشنل کانگریس لوک سبھا میں آٹھ برسوں تک اپوزیشن میں رہنے کے بعد سب سے بڑی پارٹی کی شکل میں ابھر کر سامنے آئی۔ انھوں نے ترقی پسند اتحاد کے قیام میں اہم کردار ادا کیا جس میں کانگریس، انتخاب سے قبل کے اس کے اتحادی اور ہم خیال پارٹیاں شامل ہوئیں۔یوپی اے کی چیرپر سن کی حیثیت سے محترمہ سونیا گاندھی اور وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کم از کم مشترکہ پروگرام تیار کیا جو مخلوط حکومت چلانے کی بنیاد بنا۔

مئی 2004میں عوام کا فیصلہ ایسی حکومت کےلئے تھا جوعام آدمی کی فکر کرتی ہے ،جس میں غریب، دبے کچلے اور محروم طبقے کے لوگ شامل ہیں۔ یوپی اے حکومت نے ان مقاصد کو کافی حد تک پورا کیا ہے۔

مئی 2004میں عوام کی تائید ایسی حکومت کےلئے تھی جو اقتصادی نمومیں تیزی لائے اور روزی روٹی وروزگار کے مواقع پیدا کرے نیز سماجی انصاف کے ساتھ ساتھ ملک کو مجموعی ترقی کی راہ پر گامزن کردے۔ ہماری حکومت نے ان مقاصد کی تکمیل بھی کافی حد تک کی ہے۔

مئی2004میں عوام کی تائید ایسی حکومت کے لیے تھی جو سماج کے کمزور طبقوں کو با اختیار بنائے اور انھیں تعلیم کے میدان میں آگے لے جائے۔ ہماری حکومت نے یہ مقصد بھی کافی حد تک پورا کیا ہے۔

مئی 2004میں عوام کی تائید ایسی حکومت کے لئے تھی جو سماج میں پیدا ہوئی خلیج کو بھر سکے اور ہر طبقے کو ساتھ لے کر چلے اور ان کی آواز بنے ۔یہ مقصد بھی ہماری حکو مت نے کافی حد تک پورا کیا ہے۔

یہ ایک ریکارڈ ہے جو خود بولتا ہے۔


 
2009- 2004 کی اہم کامیابیاں

مئی2004 سے کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے ذریعہ کئے گئے کام ہمارے سامنے ہیں۔انڈین نیشنل کانگریس کا لوک سبھا انتخابات۔2004 کا منشور قومی کم از کم مشترکہ پروگرام کی بنیاد بنا۔ جس کے مطابق پانچ برسوں تک حکومت چلی۔ منشور میں کئے گئے وعدوں کو کانگریس کی قیادت والی یوپی اے حکومت نے پورا کیا ۔

٭ حکومت نے اپنی حکمرانی میں سیکولر اور آئینی قدروں کو بحال کیا۔ انتظامیہ میں کافی شفافیت آئی۔ 2005 میں تاریخی اطلاعات کے حق کاقانون بنا۔ اس نے گاؤوں، قصبوں اور شہروں میں رہنے والے لاکھوں لوگوں کو حکومت سے معلومات حاصل کرنے اور افسران کو جواب دہ بنانے کا کام کیا۔

٭ حکومت نے قومی دیہی روزگار گارنٹی قانون بنایا جس کا نفاذ ملک کے ہر ضلع میں کیا گیا۔ اس کے تحت گاؤوں میں ہر گھر کے ایک فرد کو تعمیرات عامہ کے پروگراموں میں سال میں کم از کم 100دن کام دینے کی ضمانت دی گئی ہے۔ اس سے نہ صرف لاکھوں غریب خاندانوں کی روزی روٹی کے راستے کھلے بلکہ گاؤوں میں پائےدار کمیونٹی اثاثے بھی وجود میں آئے۔

٭ حکومت نے حوصلہ افزا پروگرام بھارت نرمان شروع کیا، جس میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔اس کے تحت ہندوستان کے دیہی علاقوں میں آبپاشی کی سہولیات،پکی سڑکیں،غریبوں کیلئے مکان، پینے کا پانی،بجلی اور فون کی سہولیات فراہم کی گئیں۔

٭ حکومت نے(1) فصلوں کی کم از کم امدادی قیمت میں اضافہ (2) 65000 کروڑ روپئے قرض کی معافی۔ (3) بنکوں سے تین گنا قرض (4) فصلوں کے قرضوں پر سود میں کمی اور (5) آبپاشی کی سہولیات فراہم کر کے کروڑوں کسانوں کو خوشحال بنایا ہے۔

٭ حکومت نے قومی دیہی ہیلتھ مشن نافذ کیا، جس سے گاؤوں میں طبی خدمات کا معیار بہتر ہوا ہے اور ہیلتھ سنٹر تک لوگوں کی رسائی ممکن ہوئی ہے ۔اب بیشتر بچوں کی پیدائش تربیت یافتہ طبی عملہ کی نگرانی میں ہوئی ہے۔ اس کام کےلئے تقریباً 6لاکھ عورتوں کو تربیت دےکر اپنی سماجی ہیلتھ کا رکن (آشا) کی حیثیت سے تعینات کیا گیا۔

٭ حکومت نے سماج کے کمزور طبقوں کو بااختیار بنانے کیلئے مختلف اقدامات کئے ہیں جن میں (1) درج فہرست قبائل اور روایتی طور پر جنگل میں رہنے والے لوگوں کو اپنی جنگلاتی زمین پرکھیتی کرنے کا حق (2) دیگر پسماندہ طبقوں کے طلباءکو سب ہی پیشہ ورانہ اداروں میں ریزرویشن ،(3) عورتوں کو تحفظ فراہم کرنے کےلئے گھریلو تشدد کے خلاف قانون، (4)جائیداد میں عورتوں کو مساوی حقوق اور (5) کا لج و یونیورسٹی میں تعلیم کےلئے درج فہرست ذات ،درج فہرست قبائل،اقلیتوں اور دیگر پسماندہ طبقوں کے طلباءکےلئے وظائف میں زبر دست اضافہ شامل ہے۔

٭ حکومت نے سروشکشا ابھیان کو نئی سمت دی، جس سے ملک میں ابتدائی تعلیم کو کافی فروغ ملا ۔مڈڈے میل کے تحت سب ہی پرائمری اسکولوں میں 15 کروڑ بچوں کو روزانہ کھانا دیا جاتا ہے۔

گذشتہ پانچ دہائیوں میں پہلی بار حکو مت نے بڑی تعداد میں کالج،یونیورسٹیاں ،آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی جیسے اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کئے۔ اعلیٰ تعلیم کےلئے گیارھویں پنچ سالہ منصوبے (2007-2008 سے 2011-2012)میں گذشتہ پانچ سال کے مقابلہ میں پانچ گنا زیادہ رقم خرچ کی جائےگی۔

٭ حکومت نے گذشتہ پانچ برسوں میں ریکارڈ اقتصادی نمو حاصل کی ہے۔ اس کے تحت کئی سیکٹروں میں سرمایہ کاری میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ،جن میں (1) تعلیم وصحت (2) زراعت ودیہی ترقی (3) بجلی اور ریلوے جیسے بنیادی ڈھانچے اور (4) شہروں اور قصبوں میں میونسپل خدمات شامل ہیں۔ اس معاشی ترقی کی وجہ سے ہی ڈیڑھ کروڑ بے زمین خاندانوں کیلئے عام آدمی بیمہ یوجنا کا نفاذ ہو سکا اور غیر منظم سیکٹر کے خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والے 6 کروڑ مزدوروں کو ”راشٹریہ سواستھ بیمہ یوجنا“ کا فائدہ مل سکا۔ اس کے ساتھ ہی بوڑھوں کےلئے اندراگاندھی قومی پینشن اسکیم نافذ کی گئی جس کا فائدہ خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والے 65 سال سے زائد عمر کے لوگوں کو ملے گا۔

٭ حکومت نے جواہر لال نہرو قومی شہری جدید کاری مشن (جے این این یو آر ایم ) کا آغاز کیا اور اس کے لئے ایک لاکھ کروڑ روپئے کا بندوبست کیا۔یہ رقم 63شہروں میں بنیادی ڈھانچے کی جدید اور شہروں میں رہنے والے غریبوں کو بنیادی خدمات فراہم کرنے پر خرچ کی جائےگی۔اس پروگرام کے تحت پانی کی سپلائی،بیت الخلاءاور ٹرانسپورٹ پر 42 ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے کام چل رہا ہے۔ غریبوں کےلئے 14لاکھ مکانوں کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ جس سے63 شہروں میں مکانوں کی دستیابی میں اضافہ ہوا ہے۔ 1400شہروں اور قصبوں میں بجلی کی سپلائی بہتر بنانے کےلئے ایک اہم پروگرام بھی شروع ہو چکا ہے۔

٭ حکومت نے یہ یقینی بنایا ہے کہ ترقیاتی کامو ں کےلئے سب ہی ریاستوں کو مناسب رقم حاصل ہو،جو پہلے کبھی نہیں ہوا۔ مرکز کی طرف سے رقم کی فراہمی میں ریاستوں کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں برتا گیا، جیسا این ڈی اے حکومت کے 1999-2004 کے دوران ہواتھا۔ شمال مشرقی علاقوں اور جموں کشمیر جیسی ریاست کو ترقیاتی کاموں کےلئے کافی رقم ملی اور وہاں بڑے پیمانے پر ترقیاتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ پہلی بار پسماندہ علاقے کی ترقی کےلئے فنڈ قائم کیا گیا۔ اس کے تحت پانچ ہزار کروڑ روپئے مختص کئے گئے، جس سے ملک کے 250غریب ترین اضلاع کی پنچایتوں میں ترقیاتی کام شروع کے گئے۔

٭ حکومت کے کام کاج سے بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کا وقار بلند ہوا ہے ۔کئی ممالک کے ساتھ ہندوستان کی شرطوں پر غیر فوجی نیوکلیائی معاہدے کئے گئے۔ آج ہندوستان کو دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر عزت حاصل ہے ۔صدر کانگریس کی مسلسل کوششوں کی وجہ سے ہی گاندھی جینتی کو اقوام متحدہ نےبین الاقوامی یوم عدم تشدد کی حیثیت سے منظوری دی ہے۔

٭ حکومت کی کوششوں سے داخلی اور خارجی سیکورٹی کے چیلنجز سے نمٹنے میں ملک کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔دہشت گردی سے نمٹنے کےلئے نئی بٹالین قائم کی گئی ہے اور پورے ملک میں انسداد دہشت گردی دستوں کے نئے مراکز بنے ہیں۔ایک نئی قومی تفتیشی ایجنسی بھی قائم کی گئی ہے۔شمال مشرقی اور جموں کشمیر میں جنگجووں سے نمٹنے میں کافی کامیابی ملی ہے۔ جموں کشمیر کے حال ہی میں ختم ہوئے اسمبلی انتخابات میں پولنگ کے بائیکاٹ اور تشدد کی دھمکیوں کے باوجود ووٹروں نے بڑی تعداد میں ووٹ دئے جو کہ اہم بات ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں کے لوگوں میں امن کی کتنی خواہش ہے۔اس کی حمایت انڈین نیشنل کانگریس اور ہندوستان کے وزیراعظم ذاتی طور پر کرتے رہے ہیں۔ سلامتی دستوں نے اپنا دائرہ وسیع کرنے کی نکسلیوں کی کوششوں اور ان کی مذموم حرکتوں کو ناکام بنایا ہے ۔اب ہم کسی بھی طرح کے دہشت گرد انہ خطرے یا حملے سے نمٹنے کےلئے پوری طرح تیار ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

4 - آگے کی راہ

انڈین نیشنل کانگریس جو کہتی ہے اس پر یقین کرتی ہے اور جس پر یقین کرتی ہے وہی کہتی ہے۔

انڈین نیشنل کانگریس وہی وعدے کرتی ہے ،جسے وہ پورا کرسکتی ہے اور وہی کرے گی جس کا اس نے وعدہ کیا ہے ۔

انڈین نیشنل کانگریس اس کی پابند ہے کہ حکومت عوام کے مفاد میں کام کرے کیونکہ وہ عوام پر منحصر اور عوام کےلئے کام کرنے والی حکومت ہوگی۔

انڈین نیشنل کانگریس کا ہمیشہ ہی یہ ماننا رہا ہے کہ حکمرانی کا صحیح مطلب عوام کے روز مرہ کے مسائل کو سمجھنا اور سلجھانا ہے اور اس کے لئے حکومت کو ان کی ضرورتوں کے تئیں جواب دہ ہونا پڑے گا۔یہ منتخب کرنے والے اور منتخب ہونے والے کے مابین ایک اشتراک ہوگا،جس سے عوام اور حکمراں جماعت کے مابین دوری کم کی جاسکے گی۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ نے وزیر اعظم کی حیثیت سے پورے عزم اور وقار کے ساتھ ملک کی قیادت کی ہے۔ اپنی ایمانداری، پختگی،دانشمندی، تجربے اور مہارت کی وجہ سے ملک کی قیادت کرنے اور قومی وبین الاقوامی چیلنجز کا سامنا کرنے کیلئے وہ ایک اہل انسان ہیں۔


تیز رفتار اور مجموعی ترقی کی سمت میں

انڈین نیشنل کانگریس کو اس بات کا علم ہے کہ آج عالمی معیشت گزشتہ 50برسوں کے سب سے بدترین بحران سے دو چار ہے ۔یہ امریکہ اور دیگر ترقی یا فتہ ممالک کی معیشت کی ناکامی کی وجہ سے ہوا ہے۔لیکن ہندوستانی معیشت نے ان بین الاقوامی حالات میں اپنی ساکھ بچائی ہے اور یہ کانگریس حکومتوں کی پالیسیوں کی وجہ سے ہی ممکن ہو سکا ہے۔یہ پنڈت جو اہر لال نہرو کے قائم کردہ پبلک سےکٹر، اندراگاندھی کے ذریعہ بنکوں کو قومیا نے اور راجیوگاندھی کے دور حکومت میں پرائیویٹ سیکٹروں کو تیزی سے پھلنے پھولنے کا موقع ملنے سے ممکن ہوا ہے۔

بی جے پی کے اعلان کردہ انڈیا شائننگ  کے دوران معاشی نمو کی اوسط سالانہ شرح 5.8 فےصد تھی جبکہ کانگریس کی قیادت والی یوپی اے حکومت کے گزشتہ 5 برسوں کے دوران یہ 8.5 فیصد رہی- 09-2008 ضرور مشکل بھرا سال رہا، لیکن پھر بھی معاشی نمو کی شرح تقریباً 7 فیصد رہے گی۔ اس لئے ہماری فوری ترجیح معیشت کو پٹری پر لانے اور کانگریس کی قیادت والی یوپی اے حکومت کے پہلے چار برسوں میں جو شرح نموتھی اسے بحال کرنے کی ہوگی۔

انڈین نیشنل کانگریس ایسی تدابیر کرے گی جن سے ترقی کی رفتار کو قائم رکھا جا سکے۔ تین مالی پیکجوں کا اعلان پہلے ہی ہو چکا ہے،شرح سودمیں کمی کی گئی ہے ، صنعتوں کو زیادہ قرض دینے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے - ان پالیسیوں کے مثبت اثرات آئندہ مہینوں میں دیکھنے کو ملیں گے۔

نئے اقدامات داخلی معیشت کو مضبوطی فراہم کرنے پرمرکوز ہوں گے، جس سے لوگوں کی خریدنے کی طاقت میں اضافہ ہو اور کمپنیوں کو زیادہ سرمایہ حاصل ہوسکے۔ زراعت اور بنیادی ڈھانچے پر سرکاری خرچ، جو گزشتہ پانچ برسوں میں کافی بڑھا ہے مزید بڑھایا جائے گا۔ نئی حکومت کے قیام کے 45 دنوں کے اندر انڈین نیشنل کانگریس10-2009 کیلئے اپنا باقاعدہ بجٹ پیش کرےگی، جس کا اصل مقصد پورا کرے گا۔

اپنے2004کے منشور میں کئے گئے وعدوں کے مطابق کانگریس کی قیادت والی یوپی اے حکومت نے کئی اہم کمیشن قائم کئے ہیں جن میں انتظامی اصلاحات سے متعلق کمیشن، غیر منظم سیکٹر میں انٹرپر ائزز سے متعلق قومی کمیشن ،قومی کسان کمیشن ،قومی نالج کمیشن وقومی مسابقتی پیدا وار کونسل شامل ہیں۔ ان کی اہم سفارشات پر بلا تاخیر عمل کیا جائےگا۔


2014-2009
  کے اہم پروگرام

09-2004  کے دوران شروع کئے گئے ’مختلف مشن ‘ پروگراموں اور اسکیموں کو آگے بڑھاتے ہوئے انڈین نیشنل کانگریس ملک کے عوام کے سامنے مندرجہ ذیل کام کرنے کا وعدہ کرتی ہے۔


ہم ہر شہری کو حتی الامکان تحفظ فراہم کرنے کی ضمانت دیں گے

ہماری پالیسی کسی بھی طرح کی دہشت گردی کو قطعی برداشت نہ کرنے کی ہے۔ اس کے لئے ہم نے اپنے خصوصی سلامتی دستوں اور پولیس فورس کو جدید ہتھیاروں اور ٹکنالوجی سے آراستہ کرنا شروع کردیا ہے تاکہ وہ دہشت گردوں کا مقابلہ موثر طریقے سے کر سکیں۔ اس کام میں مزید تیزی لائی جائے گی۔ خصوصی بٹالینوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا اور انہیں پورے ملک میں اہم مقامات پر تعینات کیا جائے گا۔

شہریت ایک حق ہے اور یہ فخر کی بات ہے۔ ملک میں اطلاعاتی ٹکنالوجی کے پھےلاؤ سے ہر ہندوستانی شہری کو ایک خصوصی شناختی کارڈ فراہم کرانا ممکن ہے جو 2011میں شائع ہونے والے مردم شماری سے متعلق قومی رجسٹر پر مبنی ہوگا۔


ہم دفاعی تیاروں کو ترجیح دیں گے اور دفاع پرمامور فورسز اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنائیں گے

بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے دوران فوج کی جدید کاری کےلئے رکھی گئی 24ہزار کروڑ روپئے کی رقم خرچ نہیں ہوئی۔گذشتہ پانچ برسوں میں ہماری فوجوں کی جدید کاری کا کام کا فی آگے بڑھاہے۔ یہ یقینی بنایا جائے گا کہ یہ عمل جاری رہے۔انڈین نیشنل کانگریس ہندوستان کی فوجوں کو جدید ہتھیاروں، جنگی طیاروں ، بحری جنگی جہازوں اور دیگر تکنیکی آلات سے آراستہ کرےگی تاکہ وہ بری،بحری اور فضائی کسی بھی حملے کا مقابلہ کر سکیں ۔

سابق فوجیوں کے مسائل کو دیکھتے ہوئے ان کی فلاح وبہبود کیلئے کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت نے 2004 میں ایک الگ محکمہ قائم کیا تھا۔یکسوئی سے کام کرنے والے اور تربیت یافتہ سابق فوجی کافی بڑی تعداد میں موجود ہیں، جن کا استعمال ہم ملک کی تعمیر میں کریں گے۔


ہم پولیس میں اصلاحات کے عمل میں تیزی لائیں گے

انڈین نیشنل کانگریس پولیس میں اصلاحات کی ضرورت کو سمجھتی ہے۔اس کے لئے پولیس انتظامیہ اور سیاسی ایگز یکٹیو کے درمیان ایک واضح لائن بنائی جائےگی۔ پولیس فورسزکو رہائش اور تعلیم کی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور انھیں عوام کے تئیں اور زیادہ جواب دہ بنایا جائے گا۔پولیس بھرتی کو مزید موثر اور تربیت کو پیشہ ورانہ بنایا جائے گا تاکہ وہ موجودہ اور نئے خطرات کا سامنا کر سکیں - پولیس فورس کی جواب دیہی کو ادارے کی شکل دی جائے گی۔


ہم قومی دیہی روزگار گارنٹی قانون (این آرای جی اے) کی کامیابی کو مزید آگے بڑھائیں گے

انڈین نیشنل کانگریس نے لوک سبھا انتخابات 2004  کے اپنے منشورمیں قومی دیہی روزگار گارنٹی قانون(این آر ای جی اے)کا وعدہ کیا تھا جو پوری طرح سے کامیاب رہا ہے۔ تجربوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انڈین نیشنل کانگریس اب یہ وعدہ کرتی ہے کہ این آر ای جی اے کے تحت ہر فرد کو 100روپئے یومیہ کے حساب سے 100دن کےلئے کام دیا جائےگا۔


ہم قومی دیہی روزگار گارنٹی قانون کے طرزپر قومی غذائی سےکورٹی قانون بنائیں گے

انڈین نیشنل کانگریس غذائی سیکورٹی کو حق کا درجہ دئے جانے سے متعلق قانون بنائے گی ،جس کے تحت سب ہی لوگوں اور خاص طور سے سماج کے کمزور طبقے کے لوگوں کو مناسب غذا تک رسائی کی ضمانت ہوگی۔شہر یا گاؤں کہیں بھی خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والے ہر ایک خاندان کو انڈین نیشنل کانگریس قانونی طور پر 25 کلو گرام چاول یا گیہوں 3 روپئے فی کلو گرام کی شرح سے ہر ماہ فراہم کرائے گی۔ ہر مہینہ میں مرکزی حکومت کی مدد سے رعایتی شرح پر کمیونٹی کچن قائم کئے جائیں گے تا کہ بے گھر اور باہرسے آنے والے لوگوں کو کھانا مل سکے۔


ہم سب ہی حفظان صحت کی ضمانت لیں گے

قومی دیہی ہیلتھ مشن نے پہلے ہی کام کرنا شروع کر دیا ہے جسے اور بھی موثر طریقے سے نافذ کیا جا ئے گا۔ کانگریس کی قیادت والی یوپی اے حکومت نے غریب خاندانوں کو ہیلتھ بیمہ دینے کےلئے راشٹریہ سواستھ بیمہ یوجنا (آر ایس بی وائی) شروع کی ہے۔علاج پر ہونے والا خرچ،خاص طور سے گاؤوں کے غریب لوگوں کو مقروض بنانے کی اصل وجہ ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس یہ وعدہ کرتی ہے کہ خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والے ہر ایک خاندان کوراشٹریہ سوا ستھ بیمہ یوجنا کے تحت آئندہ برسوں میں شامل کر لیا جائے گا۔ سب ہی ضلع اسپتالوں کو جدید بنایا جائے گا تا کہ ان میں سب ہی کو بہتر طبی سہولیات حاصل ہو سکیں۔


ہم مخصوص لوگوں کے لئے جامع سماجی تحفظ کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے

انڈین نیشنل کانگریس کچھ مخصوص لوگوں کےلئے سماجی تحفظ کو یقینی بنا ئےگی جو خطرے میں ہیں۔ ان میں (1)تنہا عورت کی سرپرستی میں چلنے والا گھر (2)معذور اور ضعیف (3) شہروں میں رہنے والے بے گھر افراد (4)آزاد کرائے گئے بندھوا مزدور (5) قدیم قبائلی گروپ کے افراد اور (6) دلت برادریوں کے انتہائی پسماندہ افراد شامل ہیں۔


ہم سب ہی کو بہتر تعلیم فراہم کرائیں گے

تعلیمی قرض دینے کا دنیا کے سب سے بڑے پروگراموں میں سے ایک ہندوستان میں چل رہا ہے۔گزشتہ پانچ برسوں میں پندرہ لاکھ طلباءکو مختلف پروفیشنل کو رسز کےلئے 26 ہزار کروڑ روپئے قرض کے طور پر فراہم کے گئے۔

انڈین نیشنل کانگریس یہ وعدہ کرتی ہے کہ کسی بھی منظور شدہ کالج یا یونیورسٹی کے منظور شدہ کورس میں داخلہ ملنے پر طالب علم کو ضرورت کے مطابق اسکالر شپ یا قرض کسی ضمانت کے بغیر طویل عرصے کےلئے فراہم کیا جائے گا۔

بچوں کی بہتر تعلیم کیلئے ہم نے ملک کے ہر بلاک میں ماڈل اسکول قائم کرنے شروع کئے ہیں ۔ آئندہ پانچ برسوں میں ہر سال ہم ہر بلاک میں مزید ایک ماڈل اسکول قائم کریں گے۔

انڈین نیشنل کانگریس یہ بھی وعدہ کرتی ہے کہ تعلیم کو نتیجہ بخش بنانے پر زیادہ توجہ دی جائے گی نہ کہ صرف داخلہ پر ۔ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اساتذہ کی ٹریننگ پر زیادہ توجہ دی جائے گی تاکہ اسکولوں کا ماحول بہتر ہو سکے۔

اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے بڑے پیمانے پر کام کئے گئے ہیں۔ گذشتہ دو برسوں میں 8 نئے انڈ ین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی)سات نئے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، پانچ نئے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ، 30 نئی سینٹرل یونیورسٹیاں ،20 نئے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹکنالوجی اورتعلیمی اعتبار سے محروم اضلاع میں 374 نئے کالج قائم کئے گئے ہیں۔انڈین نیشنل کانگریس یہ وعدہ کرتی ہے کہ ان منصوبوں کو موثر طریقے سے نافذ کیا جائے گا۔


ہم قومی سطح پر مہارت کے فروغ کےلئے پروگرام شروع کریں گے

ہندوستان ایک نوجوان ملک ہے جس کی 70فیصد سے زائد کی آبادی 35سال سے کم عمر کی ہے۔اس بڑے طبقہ کی طاقت کو بروئے کار لانے کیلئے انڈین نیشنل کانگریس چاہتی ہے کہ جلد از جلد مہارت کے فروغ کےلئے ایک خصوصی مشن قائم کیا جائے جس سے نوجوانوں کےلئے روزگار کے مواقع بڑھ سکیں۔ کانگریس کی قیادت والی یوپی اے حکومت مہارت کے فروغ سے متعلق قومی مشن پر 30 ہزار کروڑ روپئے خرچ کرےگی، جس سے ہمارے نوجوانوں کا مستقبل سنوارا جا سکے گا۔ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو اس میں شامل کرنے کےلئے زیادہ فنڈ کا انتظام کیا جائے گا تا کہ نوجوان مختلف طرح کی مہارت حاصل کرسکیں۔


ہم کسانوں اور ان کے خاندانوں کی بہتری کےلئے اسکیموں میں توسیع کریں گے

انڈین نیشنل کانگریس یہ وعدہ کرتی ہے کہ چھوٹے اور معمولی کسانوں کو ملک میں کم شرح سود پر قرض دستیاب کرایا جائے گا۔ یہ اسکیم گذشتہ پانچ برسوں میں شروع کی گئی اسکیموں سے الگ ہوگی۔قرض معافی کی ایک بڑی اسکیم کے تحت پہلے ہی 3.68 کروڑ کسان خاندانوں کو فائدہ پہنچایا جا چکا ہے۔ انڈین نیشنل کا نگریس یہ وعدہ کرتی ہے کہ کسانوں کوسود پر بھی راحت دی جا ئے گی جو مقررہ وقت پر بنک کے قرض جمع کرتے ہیں۔

انڈین نیشنل کانگریس یہ یقینی بنانا چاہتی ہے کہ زراعت ایک منافع بخش پیشہ ثابت ہو۔اس مقصد کے حصول کےلئے اقدامات کئے جائیں گے۔زرعی تنوع اور دیہی صنعت کاری کو صحیح طریقے سے آگے بڑھا یا جائےگا۔ ڈیری،ماہی پروری، باغبانی اور ریشم کی پیداوار کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

چائے، کافی، ربر ،مسالے،کاجو اور ناریل جیسی فصلوں کیلئے خصوصی ضرورتوں پر توجہ دی جائے گی۔

بنجر زمین کو قابل استعمال بنانے اور شجرکاری پر خاص طور سے زور دیا جائے گا۔

انڈین نیشنل کانگریس جامع فصل بیمہ اسکیم نافذ کرے گی اور ان علاقوں کے کسانوں کےلئے آمدنی کا ذریعہ تلاش کرنے کی کوشش کرے گی جہاں موسم سازگار نہیں ہوتے۔انڈین نیشنل کانگریس کسانوں کو ان کے ٹھکانوں سے اناج کی وصولی اور کم از کم امدادی قیمت دینے کا وعدہ کرتی ہے۔اناج کے بغیر رکاوٹ نقل وحمل ،اس کی پروسیسنگ اور اس سے ہونے والی آمدنی میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں گی۔

انڈین نیشنل کانگریس صنعتی پروجکٹوں کیلئے کسانوں کی زمین حاصل کئے جانے کی صورت میں انھیں اس کے عوض بازار کے مطابق قیمت دلانے کی حامی ہے۔انڈین نیشنل کانگریس یہ بھی چاہتی ہے کہ ایسی زمین پر قائم ہونے والے صنعتی کارخانے میں کسانوں کا بھی شیئر ہو۔اس سلسلہ میں قومی باز آباد کاری وآبادکاری بل 2007بی جے پی کی رکاوٹ کی وجہ سے منظور نہیں ہو سکا،جو 15ویں لوک سبھا میں منظور کرایا جائےگا۔زمین کو تحویل میں لینے سے متعلق قانون 1894میں بھی ترمیم کی جائے گی تا کہ زمین مالکان کے مفاد کا تحفظ ہو سکے۔


ہم کو آپریٹیو اداروں کے کام کاج کو جمہوری اور پیشہ وارانہ شکل دیں گے

ہندوستانی کو آپریٹیو تحریک کے پانچ لاکھ اداروں میں 22کروڑ ممبران ہیں۔جو دنیا کی سب سے بڑی تحریک ہے۔یہ ادارے ہماری ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ انڈین نیشنل کانگریس ہمیشہ ہی ان کو آپریٹیو اداروں کو جمہوری، خودمختار اور پیشہ وارانہ طریقے سے کام کرتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہے جس کےلئے آئینی تحفظ سمیت کئی مناسب قانون بنائے جائیں گے۔


ہم سماج کے کمزور طبقوں کو بااختیار بنانے پر مزید زور دیں گے

انڈین نیشنل کانگریس سماج کے کمزور طبقوں جیسے درج فہرست ذاتوں، درج فہر ست قبائل،پسماندہ طبقوں، اقلیتوں اور عورتوں کو بااختیار بنانے پر یقین رکھتی ہے۔ اس کام کو اور آگے بڑھایا جائےگا اور ان طبقوں کو تعلیم اور خاص طورسے تکنیکی تعلیم دے کر ان کی صلاحیت کو بروئے کار لایا جائے گا۔آدی واسی اور دلت طبقوں کے لڑکے اور لڑکیوں کو پرائمری، سکینڈری اور یونیورسٹی سطح کی مفت تعلیم دی جائے گی۔ درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے کم از کم ایک لاکھ لڑکے لڑکیوں کو ہر سال مرکزی حکومت کو چنگ کے لئے فیس دے گی۔درج فہر ست ذاتوں اور درج فہرست قبائل سے تعلق رکھنے والے طلباءوطالبات کو دی جانے والی قومی اسکالرشپ میں اضافہ کیا جائے گا۔

انڈین نیشنل کانگریس یہ بھی یقینی بنا ئے گی کہ درج فہرست ذاتوں کے خصوصی منصوبے اور درج فہرست قبائل کے ذیلی منصوبے ، جنھیں تین دہائی قبل اندرا گاندھی نے نافذ کیا تھا،اپنی آبادی کے مطابق بنایا جائے۔ وزیراعظم کی خصوصی بھرتی مہم کے تحت حکومت نے53 ہزار خالی پڑی درج فہرست ذاتوں قبائل کی محفوظ اسامیوں پر راست بھر تی یا ترقی دے کر تقرری کی گئی۔یہ عمل آگے بھی جاری رہے گا۔

انڈین نیشنل کانگریس درج فہرست ذاتوں قبائل کے لوگوں کو پرائیوٹ سیکٹرمیں شراکت دینے کی حامی ہے ۔ا س کے لئے قومی سطح پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ ہماری پارٹی یہ بھی وعدہ کرتی ہے کہ موجودہ ریزرویشن پالیسی کے تحت استفادہ حاصل کر رہی درج فہرست ذاتوں قبائل اور دیگر پسماندہ طبقوں کے ریزرویشن سے چھیڑ چھاڑ کئے بغیر معاشرتی اعتبار سے پسماندہ طبقوں کیلئے الگ سے ریزرویشن کا بندوبست کرے گی۔

مئی 2004میں پہلی بار اقلیتی امور کی وزارت قائم کی گئی اور راجندر سچر کمیٹی تشکیل دی گئی،جسے مسلم فرقہ کی سماجی، معاشی اور تعلیمی صورت حال معلوم کرنی تھی۔سچر کمیٹی کی سفارشات کے نفاذ کا کام جاری ہے اور جلد ہی یکساں مواقع سے متعلق کمیشن کا باقاعدہ قیام عمل میں آئے گا۔پہلے دو برسوں میں ہی میٹرک سے قبل ، میٹرک کے بعد اور پیشہ وارانہ کو رسز کےلئے تقریباً 4لاکھ طلباءکو وظیفے دئے گئے ہیں جس کا 50فیصد حصہ طالبات کو ملا ہے۔ جون2006میں وزیراعظم کے 15نکاتی پروگرام کا آغاز ہوا،جس میں مرکزی حکومت نے اقلیتوں کی بہبود کےلئے مالی ہدف مقرر کئے ہیں۔ ملک کے 90 اقلیتی غلبہ والے اضلاع میں خصوصی ترقیاتی پیکج نافذ کیا گیا ہے۔

انڈین نیشنل کانگریس یہ یقینی بنائے گی کہ اقلیتوں کے آئینی حقوق کا مکمل تحفظ ہو سکے اور انتظامیہ میں ان کی نمائندگی میں اضافہ ہو جس سے وہ یہ محسوس کر سکیں کہ حکومت ان کی بہبود کےلئے کام کررہی ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس نے کیرالہ، کرناٹک اور آندھرا پردیش میں سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی سیکٹر میں سماجی و معاشی پسماندگی کی بنا پر ریزرویشن دینے کی پہل کی ہے۔ ہم قومی سطح پر اس کے نفاذ کی کوشش کریں گے۔ وقف جائیدادوں کے فروغ کےلئے وقف ڈیولپمنٹ کارپوریشن قائم کیا جائے گا۔ ایک نیشنل یونانی یونیورسٹی بھی قائم کی جائے گی اور مولانا آزاد ایجوکیشن فانڈیشن کا فنڈ دوگنا کیا جائے گا۔

انڈین نیشنل کانگریس نے پنچایتوں اور نگر پالیکاں میں عورتوں کےلئے ریزرویشن کا بندوبست کیا۔ آج پنچایتوں میں 40 فیصد ممبران عورتیں ہی ہیں۔ انڈین نیشنل کانگریس اس بات کو یقینی بنائے گی کہ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کےلئے 37 فیصد ریزرویشن کا بل پندرھویں لوک سبھا میں منظور ہوجائے اور سولہویں لوک سبھا کے انتخابات عورتوں کے ایک تہائی ریزرویشن کی بنیاد پر کرائے جائیں۔

آئندہ پانچ برسوں میں انڈین نیشنل کانگریس اس بات کو یقینی بنائے گی کہ دیہی خواتین کی آبادی میں سے تقریباً نصف اپنی مدد آپ گروپ میں شامل ہوں تاکہ انھیں بنکوں سے کم شرح سود پر قرض مل سکے۔ انڈین نیشنل کانگریس سرکاری ملازمتوں میں بھی عورتوں کو ایک تہائی ریزرویشن دینے کے حق میں ہے۔

انڈین نیشنل کانگریس کا ماننا ہے کہ درج فہرست ذاتوں قبائل کی عورتوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ کاروبار کی ترقی سے متعلق پروگرام کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے سرکاری ٹھیکوں اور دیگر کاموں میں انھیں پوری ترجیح دینے والی پالیسی اختیار کی جائے گی۔

بنکروں، ماہی گیروں اور عورتوں، تاڑی نکالنے والوں، چمڑے کا کام کرنے والوں ، باغات میں کام کرنے والے مزدوروں، تعمیراتی کام کرنے والے مزدوروں، کان میں کام کرنے والے ، بیڑی بنانے والے مزدوروں کے سماجی تحفظ سے متعلق اسکیموں میں توسیع کی جائے گی۔

انڈین نیشنل کانگریس معذور افراد کوجن میں نابینا افراد بھی شامل ہیں، زندگی کے ہر شعبے میں یکساں مواقع دینے کے لئے پرعزم ہے۔ اس کی ابتدا تمام قوانین اور پروگراموں پر نظر ثانی سے ہوگی، جس کے بعد ان کی خامیاں دور کی جائیں گی۔


ہم ہر طرح کی فرقہ پرسی اور ذات پات کے سبب ہونے والے مظالم کا سختی سے مقابلہ کریں گے

انڈین نیشنل کانگریس یہ عزم کرتی ہے کہ وہ ہر طرح کی فرقہ پرستی کے ساتھ سختی سے نمٹے گی اور جو لوگ کمزور طبقوں، جیسے دلت اور عورتوں پر ظلم کرتے ہیں، ان سے سختی سے پیش آئی گی۔ انڈین نیشنل کانگریس کا یقین ہے کہ ذاتیات، مذہبی جنون اور فرقہ پرستی کے شکار لوگوں کو معاوضہ اور باز آباد کاری کا حق دینا ہر حکومت کے لئے لازمی ہونا چاہئے۔ انڈین نیشنل کانگریس اس کےلئے ایک قانون کی تجویز پیش کرے گی جس سے قومی انسانی حقوق کمیشن کو فرقہ وارانہ اور ذات پات سے متعلق تشدد کی جانچ اور کارروائی پر نگرانی کا اختیار حاصل ہوگا۔

انڈین نیشنل کانگریس اسکول کے تعلیمی نصاب کو ایک قومی ادارے کے تحت لائے گی ، چاہے یہ اسکول کسی بھی ادارے یا فرقے نے قائم کیا ہو۔


 
ہم بچوں اور خاص طور سے لڑکیوں کی ضرورتوں پرتوجہ دیں گے

2006 میں پہلی بار بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے ایک قومی کمیشن قائم کیا گیا۔ اسے یہ یقینی بنانا تھا کہ مختلف قوانین کے ذریعہ بچوں کو دیے گئے حقوق کا تحفظ ہو اور انھیں آگے بڑھایا جائے۔ بچوں کے کام کرنے اور کم سنی کی شادی پر روک لگانے کے لئے ایسے قانون بنائے گئے۔ بچوں اور خاص طور سے لڑکیوں کی بہتر غذا کے لئے نئی اسکیمیں گذشتہ پانچ برسوں میں نافذ کی گئیں۔ گذشتہ سال 18 لاکھ آنگن واڑی کارکنوں اور معاونین کی اجرت میں اضافہ ہوا۔

انڈین نیشنل کانگریس بچوں کی مجموعی ترقی کی اسکیم کے تحت مارچ 2012تک ہر بستی میں آنگن واڑی فراہم کرے گی جس میں 6سال تک کے بچوں کو غذائیت سے بھر پور کھانا اور ابتدائی تعلیم دی جائے گی۔ شہروں اور قصبوں میں دوسری جگہوں سے آئے ہوئے مزدوروں کے بچوں کی خصوصی ضرورتوں کو نئے پروگرام کے تحت مختلف سماجی تنظیموں کے تعاون سے پورا کیا جا ئے گا۔بچوں میں غذ ائیت کی کمی کو دور کرنے کےلئے پہلے سے ہی متعدد پروگرام چلائے جارہے ہیں،انھیں اور موثر طریقے سے نافذ کیا جائے گا۔

انڈین نیشنل کانگریس صنفی تناسب میں عدم توازن کو درست کرنے کی غرض سے لڑکیوں کےلئے خصوصی پروگرام شروع کرے گی اور ان کی تعلیم کو یقینی بنا ئے گی۔جن اضلاع میں صنفی تناسب اچھا نہیں ہے اور لڑکیوں کا داخلہ کم ہے وہاں کی لڑکیوں کے کھاتے میں امدادی رقم جمع کردی جائے گی جو ان کی پرائمری، مڈل، سکنڈری اور ہائر سکنڈری اسکول کی تعلیم پر خرچ ہوگی۔


ہم منتخبہ پنچایتی اداروں کو مالی اعتبار سے مضبوط بنائیں گے

ملک میں تقریباً ڈھائی لاکھ منتخبہ پنچایتی ادارے ہیں جن میں تقریباً 32لاکھ منتخب نمائندے ہیں۔ یہ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی سخت محنت سے ہی ممکن ہو سکا ہے۔ان اداروں کے ذریعہ ہی ہم بہتر حکمرانی اور معاشی ترقی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔انڈین نیشنل کانگریس پنچایتوں کو آئینی طور پر فنڈ فراہم کرنے اور اس کے بہتر کام کاج کی حامی ہے۔گرام پنچایتوں کو سالانہ مختص کی جانے والی رقم میں خاص طور سے اضافہ کیا جائے گا۔یہ رقم ترجیحی بنیاد پر گرام سبھا کی اجازت سے خرچ کی جائے گی۔

انڈین نیشنل کانگریس پنچایتی اداروں کی تکنیکی صلاحیت بڑھائے گی اور اس بات کو یقینی بنا ئے گی کہ یہاں زیادہ سے زیادہ اطلاعاتی ٹکنالوجی کا استعمال ہو، تاکہ یہ ادارے موثر طریقے سے کام کرسکیں۔


ہم تین برسوں میں سب ہی گاؤوں کو براڈ بینڈ نیٹ ورک سے جوڑدیں گے

پورے ملک میں براڈ بینڈ کنکٹی وٹی میں کافی اضافہ ہوا ہے۔انڈین نیشنل کانگریس یہ وعدہ کرتی ہے کہ اطلاعاتی ٹکنالوجی کے انقلاب سے حاصل ہونے والی سہولیات کو زیادہ سے زیادہ شہروں اور قصبوں تک پہنچائے گی۔ ہم یہ بھی وعدہ کرتے ہیں کہ تین برسوں کے اندر ہرگاؤوں کو براڈ بینڈ نیٹ ورک سے جوڑدیا جائے گا۔ اس سے گاؤوں میں غیرزراعتی ملازمتوں کی نشاندہی میں مدد ملے گی اور ہمارے دیہی نوجوانوں کےلئے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس طرح سے دیہی علاقوں میں اطلاعاتی ٹکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کاراجیوگاندھی کا خواب پورا ہوگا۔ زمینوں کے ریکارڈ محفوظ کرنے اور دیگر کاموں میں کمپیوٹر کا استعمال بڑے پیمانے پر ہونے لگا ہے۔


ہم چھوٹے کاروباریوں اور چھوٹے ودرمیانی درجہ کے کاروباری اداروں پر خصوصی توجہ دیں گے

چھوٹے اوردرمیانی درجہ کے کاروباری ادارے اور خود روزگار ہماری صنعت وسروس سیکٹر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں- یہ ہمارے نوجوانوں کےلئے ملازمت کے مواقع پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہیں۔

انڈین نیشنل کانگریس کلسٹر کی شکل میں چھوٹے ودرمیانی کاروباری اداروں کو فروغ دینے کا وعدہ کرتی ہے۔ملک کے مختلف حصوں میں ٹیکسٹائلز، فوڈ پروسیسنگ، ہینڈلوم، دستکاری، اشیائے صرف،کھادی ،جوٹ اور دیگر روایتی صنعتوں کے کلسٹر پہلے سے ہی موجود ہیں ۔چھوٹے اور درمیانی شہروں کے ایسے کلسٹروں کو مالی،تکنیکی ،بازار اور بنیادی ڈھانچہ کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔


ہم مالی بندوبست اور کم مہنگائی کے ساتھ معاشی نمو کی راہ پر بڑھتے رہیں گے

2009- 2004 کے تجربوں کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ معاشی ترقی زیادہ مواقع پیدا کرتی ہے۔جس سے حکومت، تعلیم، صحت، زراعت ،سماجی تحفظ اور بنیادی ڈھانچے پر زیادہ خرچ کر سکتی ہے۔کانگریس کی قیادت والی یوپی اے حکومت کے پہلے چار برسوں میں اوسط معاشی نمو کی شرح تاریخ میں پہلی بار 9 فیصد رہی۔ہم اسے برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے اور اپنے نوجوانوں کےلئے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔انڈین نیشنل کانگریس لازمی زرعی اور صنعتی اشیاءکے تعلق سے کم مہنگائی کے ساتھ اونچی شرح نمو کر برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی۔

انڈین نیشنل کانگریس اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ مالی ذمہ داریوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے آگے بڑھائے گی تا کہ سماجی اور بنیادی ڈھانچے پر مرکز کے خرچ کرنے کی صلاحیت میں مستقل اضافہ ہوتا رہے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ سب ہی سبسڈ یز اِن لوگوں تک پہنچیں جو اس کے حقدار ہیں۔ انڈین نیشنل کانگریس اس کے لئے اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش جاری رکھے گی۔

ہندوستان کی ترقی کےلئے سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹر کی حصہ داری لازمی ہے۔انڈین نیشنل کانگریس بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کی بغیر سوچے سمجھے نجکاری کو بڑھاوا دینے کی پالیسی کو مسترد کرتی ہے۔ اس کا موقف ہے کہ ہندوستان کے لوگوں کا یہ حق بنتا ہے کہ پبلک سیکٹر کی کمپنیوں میں کچھ شیئر ان کے ہوں جبکہ بیشتر شیئر حکومت کے پاس ہوں۔پبلک سیکٹر کے پیداواری سیکٹر جیسے (توانائی، ٹرانسپورٹ اور ٹیلی کام )اورمالیاتی سیکٹر جیسے بینک اور بیمہ کمپنیاں پبلک سیکٹر میں ہی رہیں اوران کی ترقی ودیگر کمپنیوں سے مسابقت کےلئے ان کی مدد کی جائے گی۔

ہندوستان میں مصنوعی صنعتوں نے حالیہ برسوں میں دوبارہ قدم جمائے ہیں۔ان میں خاص طور سے زیادہ مزدوروں والی صنعتوں کو آگے بڑھایا جائے گا۔غیر ملکی سرمایہ والی کمپنیوں میں برآمدات کو فروغ دینے پر زیادہ زور دیا جائے گا۔ انڈین نیشنل کانگریس یہ یقینی بنائے گی کہ ایسی پالیسی بنے جس سے تیل کی پیداوار ،معدنی وسائل جیسے کوئلہ اور خام لو ہے کے سیکٹر پرائیویٹ سرمایہ کاری کو فروغ مل سکے۔ انڈین نیشنل کانگریس اس بات کو یقینی بنائے گی کہ پرائیویٹ کمپنیوں میں کارپوریٹ گورننس کا اعلیٰ معیار بر قرار ہے تاکہ چھوٹے شیئر ہو لڈروں اور سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔ اس لئے اچھی کارپوریٹ گورننس اور جواب دہی کےلئے ضابطے بنائے جائیں گے۔


ہم یکم اپریل 2010 سے سامان وسروس ٹیکس نافذ کریں گے

کانگریس کی قیادت والی یوپی اے حکومت نے پورے ملک میں ویٹ کو کامیابی کے ساتھ نافذ کیا ہے۔اس سے ریاستوں کی آمدنی میں کافی اضافہ ہوا ہے۔اب انڈین نیشنل کانگریس یہ وعدہ کرتی ہے کہ ہمارا اگلا قدم گڈس اینڈ سروس ٹیکس (جی ایس ٹی)نافذ کرنے کا ہوگا۔ایک بارجی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد تمام مرکزی اورریاستی سطح کے ٹیکس جیسے ویٹ،ایکسائز ڈیوٹی ،سروس ٹیکس، تفریحی ٹیکس ،لگزری ٹیکس وغیرہ ختم ہو جائیں گے۔ اس سے عام آدمی کو کافی راحت ملے گی۔جی ایس ٹی سے پورے ملک میں ایک طرح کا بازار دستیاب ہوگا، جس سے ہمارے کسانوں، کاریگروں اورتاجروں کو راحت ملنے کے ساتھ ساتھ روزگار بھی بڑھے گا۔ ریاست کی مالی حالت اورخاص طور سے پنچایتوں اورنگرپالیکاؤوں کی حالت اس سے بہتر ہوگی۔


ہم شہری گورننس کو پوری طرح سے نئی شکل دیں گے

ہماری بیشتر آبادی گاؤوں میں رہتی ہے ۔لیکن ہندستان میں شہروں کی بڑھتی آبادی کے ساتھ ساتھ شہروں اورقصبوں میں بنیادی ڈھانچے میں بہت زیادہ اضافہ نہیں ہو سکا ہے۔اس کے لئے کم لاگت کی سماجی ہاؤسنگ اور بیت الخلاءکی تعمیر کےلئے ایک بڑا پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے شہر رہنے کے قابل ہو سکیں۔انڈین نیشنل کانگریس شہروں کی اہمیت سمجھتے ہوئے یہ وعدہ کرتی ہے کہ شہری انتظامیہ کےلئے وہ اپنا نیا ماڈل پیش کرے گی،جس میں مالی اعتبار سے مضبوط خود مختار ادارے ہوں گے۔


ہم اپنے نوجوان کو حکمرانی میں شراکت کے نئے مواقع فراہم کریں گے

انڈین نیشنل کانگریس نے نوجوانوں پر ہمیشہ ہی اعتماد کیاہے۔ راجیو گاندھی نے 18سال کے نوجوانوں کو ووٹ کا حق دیا اور سوامی وویکا نند کے یوم پیدائش 12 جنوری کو قومی یوتھ ڈے کے طور پر منانے کا اعلان ۔ اطلاعاتی ٹکنالوجی میں آئے انقلاب نے ہمارے نوجوانوں کےلئے ملک میں نئی راہیں کھولی ہیں۔

انڈین نیشنل کانگریس نوجوانوں کےلئے ایک قومی رضاکار کو ر قائم کرے گی،جس میں 18سے 23سال کے نوجوانوں کو دوسال تک ملک کی تعمیر کی مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملے گا۔جس کے لئے انہیں مناسب اجرت دی جائے گی۔

انڈین نیشنل کانگریس نوجوانوں کوحکومت کے مختلف اداروں میں شامل کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس کے لئے سب سے پہلے پنچایتوں اور نگر پالیکاؤں میں 35سال سے کم عمر کے مردوں اور عورتوں کےلئے کچھ سیٹوں کا ریزرویشن اس طرح کیا جائے گا کہ اس کا اثر درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل، پسماندہ طبقے اور عورتوں کےلئے موجودہ ریزرویشن پالیسی پر نہ پڑے۔

انڈین نیشنل کانگریس نے وقفہ وقفہ سے نوجوان مردوں اور عورتوں کو پارٹی میں شامل کرکے ایسی اہم ذمہ داریا ں دی ہیں۔نوجوان لیڈر راہل گاندھی کی قیادت میں انڈین نیشنل کانگریس نے سماج کے تمام طبقوں کے نوجوانوں کو انڈین یوتھ کانگریس اور نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی )میں شامل کرنے کے لئے ایک خصوصی مہم چلا ئی ہے۔ کسی بھی سیاسی پارٹی کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ آج پنجاب اور اتراکھنڈ میں سیکڑوں منتخب نوجوان لیڈر ان ہیں۔ یہ مہم اب گجرات اور تمل ناڈو میں شروع کی گئی ہے۔ بعد ازاں یہ ملک کے باقی حصوں میں بھی شروع کیا جائے گی۔ یہ انڈین نیشنل کانگریس کا اپنے نوجوانوں کےلئے نئے سیاسی مواقع فراہم کرنے کا عزم ایک عملی مظاہرہ ہے۔


ہم ہندوستان کے قدرتی ماحولیات کا تحفظ کریں گے اور اس کی خوبصورتی بحال کرنے کےلئے قدم اٹھائیں گے

انڈین نیشنل کانگریس نے مقدس گنگا کو ”قومی ندی“قرار دیا ہے۔ وزیراعظم کی سر براہی میں اس کی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کےلئے گنگا ندی بیسن اتھارٹی قائم کی گئی ہے۔اس اتھارٹی کو خصوصی اہمیت دی جائے گی- پانی کی سیکورٹی بہت ضروری ہے جس کے لئے انڈین نیشنل کانگریس مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر ایسے قدم اٹھائے گی جس سے پانی کی فراہمی کے تحفظ کو فروغ مل سکے۔

ہندوستان میں حیاتیاتی تنوع کو مختلف اسباب کی بنا پر خطرات لاحق ہیں۔ انڈین نیشنل کانگریس اس کے لئے ایک تحریک چلانے کےلئے پر عزم ہے تاکہ ان حیاتیاتی وسائل کا تحفظ ہو اور ان کا صحیح استعمال ہو سکے۔

آب وہوا میں تبدیلی بھی آج دنیا کے سامنے ایک چیلنج کے طور پر ابھری ہے۔ ہندستان میں اس کے اثرات مختلف شکلوں میں نظر آنے لگے ہیں ۔کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت نے اس کے لئے پہلے ہی ایک قومی نیشنل پلان نافذ کیا ہے۔یہ اونچی معاشی شرح نمو واعلی معیار زندگی کےلئے ہمارے عوام کی تمناؤں کی تکمیل کی غرض سے اٹھائے گئے قدم کا اعتراف ہے۔یہ ایکشن پلان پوری طرح سے نافذ کیا جائے گا۔

ہم سائنس اور ٹکنالوجی کے بنیاد ی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تجدید کریں گے

پنڈت جواہر لا نہرو کی چھوڑی ہوئی سب سے بہترین میراث کی شکل میں ہمارے پاس سائنس اور ٹکنالوجی کا بنیادی ڈھانچہ ہے، جس نے زراعت، نیوکلیائی توانائی،دفاع، خلائی پر وگرام، صنعت، توانائی،ٹیلی مواصلات اور اطلاعاتی ٹکنالوجی جیسے سیکٹروں میں اہم رول ادا کیا ہے۔انڈین نیشنل کانگریس سائنسی وتکنیکی اداروں کو فروغ دینے اور ان میں ملکی وغیر ملکی سائنس دانوں کی دلچسپی بڑھانے کےلئے پرعزم ہے۔


ہم عدالتوں میں ہونے والی تاخیر کے خاتمے کےلئے عدالتی اصلاحات کریں گے

گرچہ حالیہ برسوں میں سپریم کورٹ میں مقدموں کو نمٹانے میں ہونے والی تاخیر میں کمی آئی ہے،لیکن ہائی کورٹ اور ضلعی عدالتوں میں ہونے والی تاخیر اب بھی باعث تشویش ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس کا ہمیشہ سے ہی یہ موقف رہا ہے کہ انصاف میں تاخیر ناانصافی کے برابر ہے۔اسلئے ہم عدالتی اصلاحات کو آگے بڑھائیں گے تاکہ مقدموں کی سماعت اور فیصلہ وقت پر ہو سکے۔ اس کے تحت گرام نیایا لیہ ایکٹ بنایا گیا،جو 2004 کے ہمارے منشور میں کئے گئے وعدوں میں سے ایک تھا۔ اس قانون کو پارلیمنٹ نے گذشتہ سال ہی منظوری دی ہے - دیہی عدالتوں کے قیام سے دیہی علاقوں میں عام آدمی کو جلد اور کم خرچ پر انصاف مل سکے گا۔


ہم ہر علاقے کی تمناؤں پر خصوصی توجہ دیں گے

انڈین نیشنل کانگریس کو اس بات کا علم ہے کہ کچھ بڑی ریاستوں کے پسماندہ علاقوں کی ترقی نہیں ہوسکی ہے ۔جس کی وجہ سے علیحدہ صوبوں کے قیام کے مطالبے میں اضافہ ہواہے۔ہم نے ان علاقوں کےلئے کئی اہم اسکیمیں اور پروگرام شروع کئے ہیں۔ایسے علاقوں میں الگ الگ طرح کے مسائل ہو سکتے ہیں اور ان کا تدارک بھی الگ طریقے سے ہو سکتا ہے۔اس لئے انڈین نیشنل کانگریس ان علاقوں کے مطالبات کی تکمیل کی پوری کوشش کرے گی۔


ہم اپنے ملک کی توانائی سیکورٹی کو یقینی بنائیں گے

گزشتہ دو برسوں میں توانائی کی پیداوار میں کافی تیزی آئی ہے۔اس تیزی کو قائم رکھا جا ئے گا اور یہ یقینی بنایا جائے گا کہ کم از کم 12سے 15ہزارمیگاواٹ کا اضافہ ہر سال ہو سکے۔ جس کے لئے کوئلہ،پن بجلی ،نیو کلیائی توانائی اور لائق تجدید توانائی استعمال کی جائے گی۔دیہی الیکٹری فکیشن اور اس کی سپلائی میں ہونے والے بجلی کے نقصان کو روکنا ہماری ترجیح ہوگی۔انڈین نیشنل کانگریس نیوکلیائی توانائی گھریلو اور غیر ملکی تکنیک کی بنیاد پر فروغ دینے کی کوشش کرے گی جو غیر فوجی نیو کلیائی معاہدے سے ممکن ہو گیا ہے۔تیل وقدرتی گیس کی پیداوار میں تیزی لائی جائے گی۔تیل کی درآمد کےلئے سفارتی کوششوں میں تیزی لائی جائے گی۔انڈین نیشنل کانگریس غریب خاندانوں کو رعایتی شرح پربجلی سپلائی کرنے کی اسکیم نافذ کرے گی۔


ہم اپنی وراثت کے تحفظ اور اس کے فروغ کےلئے مزید قدم اٹھائیں گے

ہمارے ملک ہندوستان کی صدیوں پرانی شاندار وراثت ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس اس وراثت کو تحفظ فراہم کرے گی اور اسے اس طرح سے فروغ دےگی کہ نئی نسل اس کی قدروں کو اپنا سکیں۔اس کام کو عملی شکل دینے کےلئے قومی ہیری ٹیج کمیشن قائم کیا جائے گاجو ہماری متنوع ثقافت اور میراث کی بنیادوں کو پختگی عطا کرنے والا آلہ ثابت ہوگا۔


ہم آزاد اور ہندستان کے مفاد والی خارجہ پالیسی جاری رکھیں گے

انڈین نیشنل کانگریس نے ہمیشہ ہی ہندوستان کے قومی مفاد کو سب سے اوپر رکھا ہے ،جس کی وجہ سے کئی بار اسے ملک وبیرون ملک تنقید ومخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ساتھ ہی انڈین نیشنل کانگریس کا یہ بھی موقف ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک، خاص طور سے ایشیا کے ممالک کے ساتھ رابطہ قائم رکھنا بھی ضروری ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں میں ہماری خارجہ پالیسی کے اچھے نتائج سامنے آئے ہیں جس کی سب سے اچھی مثال غیر فوجی نیوکلیائی تعاون کےلئے امریکہ، روس، فرانس، اورقزاقستان کے ساتھ ہوئے معاہدے ہیں۔ہندستان کی سوچی سمجھی خارجہ پالیسی اور سفارتی کوششوں کی وجہ سے پاکستان کو نومبر 2008 میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں میں اپنے شہریوں کے ملوث ہونے کی بات قبول کرنی پڑی۔انڈین نیشنل کانگریس پاکستان کے ساتھ ہمیشہ پرامن اور قریبی اقتصادی رشتے کے قیام کی حامی رہی ہے۔انڈین نیشنل کانگریس نے ہمیشہ دونوں ممالک کے لوگوں ،خاص طور سے نوجوانوں کے مابین روابط بڑھانے کی کوشش کی ہے،لیکن ممبئی حملوں سے بات چیت او ر دیگر کوششوں کو دھچکا لگا ہے ۔اب اس کا انحصار پاکستان پر ہے کہ وہ ممبئی حملوں کے ذمہ دار عناصر کے خلاف ٹھوس کاروائی کرکے اس تعطل کو دور کرے۔اگر وہ ایسا کرتا ہے اور اپنی سر زمین سے چلائے جانے والے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو تباہ کردیتا ہے تو کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت مثبت جواب دینے میں تاخیر نہیں کرے گی۔

انڈین نیشنل کانگریس کی سری لنکا کے تئیں یہ خارجہ پالیسی رہی ہے کہ اس ملک میں سب ہی نسل کے لوگوں اور خاص طور سے تمل بولنے والوں کے مسائل کا قابل احترام حل نکل سکے تاکہ وہ سری لنکا میں اپنے حقوق کا استعمال بہتر طریقے سے کر سکیں۔انڈین نیشنل کانگریس 1987 کے ہند۔سری لنکا امن معاہدے کے مطابق دونوں فریقوں کے مابین مفاہمت کےلئے مدد کی پیش کش کرتی ہے ،کیونکہ 1987 کا معاہدہ مسئلہ کے سیاسی حل کی واحد بنیاد ہے۔

انڈین نیشنل کانگریس نیپال اور بنگلہ دیش میں کثیر پارٹی جمہوریت کی بحالی کا خیر مقدم کرتی ہے۔وہ دونوں ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کےلئے پوری کوشش کرے گی،جس سے باہمی مفاد کا تحفظ ہوسکے۔انڈین نیشنل کانگریس یہ بھی مانتی ہے کہ دونوں ممالک سےکورٹی سے متعلق ہندستان کی تشویش پر توجہ دیں گے۔

انڈین نیشنل کانگریس نے ہمیشہ ہی فلسطینی عوام کی جائز اور امن پر مبنی تمناؤں کی حمایت کی ہے اور فلسطینی ریاست کے جلد ازجلد قیام کا مطالبہ کرتی ہے۔

مسلسل سفارتی کوششوں کی وجہ سے 2004سے ہندوستان کے ساتھ امریکہ ،روس ،چین ،جاپان اور دیگر یوروپی ممالک کے رشتوں میں کافی بہتری آئی ہے اور تعلقات کا فی مضبوط ہوئے ہیں۔ ہندستا ن نے افریقی ممالک کے ساتھ بھی رشتوں کو مضبوطی فراہم کرنے کےلئے نئی کوششیں شروع کی ہیں۔جسکی وہاں کافی تعریف ہوئی ہے ۔ان رشتوں کو مزید وسعت دی جائے گی۔


ہم ترقی میں سمندرپاررہنے والے ہندستانیوں کی شراکت بڑھائیں گے

انڈین نیشنل کانگریس ملک کے دیگر عوام کی طرح مختلف شعبوں میں سمندر پار رہنے والے ہندستان کے ذریعہ کئے گئے نمایاں کاموں پر فخر محسوس کرتی ہے۔انڈین نیشنل کانگریس سمندر پار ہندوستانیوں کے ذریعہ بھیجی گئی رقم سے ملک کی مالی حالت میں کافی بہتری آنے کی اہمیت کو سمجھتی ہے۔اس لئے مئی 2004 میں سمندر پار ہندوستانیوں کے امور کی وزارت قائم کی گئی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انڈین نیشنل کانگریس سمندر پار ہندوستانیوں کے رول کو کتنی اہمیت دیتی ہے۔کیونکہ اس سے ہماری معاشی،سائنسی اور تکنیکی ترقی میں تیزی آئی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کام کرنے والے لاکھوں ہندستانی شہریوں کو تحفظ فراہم کرانے کیلئے متعدد اقدامات کئے گئے ہیں اور یہ سب ترجیحات کی بنیاد پر کیا جارہا ہے۔ابھی تعلیمی اداروں کی تجدید کاری میں سمندر پار مقیم ہندوستانیوں کے رول کو یقینی بنانے اور کاروبار کے میدان میں بھی نئی سہولیا ت فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ ایسی چار یونیورسیٹیاں قائم کی جائیں گی جن میں 50فیصد نشستیں پی آئی او این آر آئی طلباءکیلئے محفوظ ہوں گی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

5- اپیل

انڈین نیشنل کانگریس گزشتہ تقریباً 125 برسوں سے ملک کی عوامی زندگی کے مرکز میں ہے ۔

اس میں ہندوستان کے تمام صحت مند نظریات شامل ہیں،جو دیگر کسی پارٹی میں نہیں ہیں۔

اپنی لمبی تاریخ میں انڈین نیشنل کانگریس کی پالیسوں، ترجیحات اور اس کے پروگراموں میں معاشی طور پر خوشحال، سماجی انصاف پر مبنی، سیاسی اعتبار سے متحد اور ثقافتی اعتبار سے ہم آہنگی پر مبنی ہندستان کا تصور رہا ہے۔

نئے چیلنجز کا سامنا کرنے کےلئے اس نے کبھی اپنے بنیادی اصولوں کے ساتھ سمجھو تہ نہیں کیا۔ملک کے عوام نے بار بار انڈین نیشنل کانگریس میں اپنے یقین اور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔انڈین نیشنل کانگریس کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ لوگوں کی امیدوں کو پورا کر سکے۔گزشتہ 6دہائیوں میں بہت کچھ کیا جاچکا ہے ،لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

انڈین نیشنل کانگریس اپنی کامیابیوں پر فخر کرتے ہوئے انکساری کے ساتھ لوگوں کے سامنے آئی ہے۔لیکن وہ جانتی ہے کہ قوم کی حیثیت سے اس کے سامنے ابھی بہت سے کام ہیں۔

انڈین نیشنل کانگریس ہندوستان کے عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنا ووٹ اس کی خدمات، پختہ یقین اور چار ٹرکی بنیاد پر دیں۔

اس منشور کے ذریعہ انڈین نیشنل کانگریس اپنے اس عہد کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ عقیدے، اقرار،اہلیت اور ہمدردی کی بنیاد پر سماجی واقتصادی تبدیلی کو یقینی بنانے میں پیش پیش رہے گی۔

اس منشور کے ذریعہ انڈین نیشنل کانگریس خدمت کے جذبہ کے تحت جدید ہندستا ن کی بنیاد کو مضبوط بنانے کے اپنے سیاسی عزم کا اعادہ کرتی ہے۔

اس منشور کے ذریعہ انڈین نیشنل کانگریس اپنے ملک کے عوام کے سامنے عہد کرتی ہے کہ وہ اپنے وعدوں کو یکسوئی کے ساتھ پورا کرے گی۔


ہندوستا ن کے مقصد کو ووٹ دیجئے: انڈین نیشنل کانگریس کو ووٹ دیجئے۔

کثرت میں وحدت کو ووٹ دیجئے : انڈین نیشنل کانگریس کو ووٹ دیجئے۔

معاشی ترقی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ووٹ دیجئے: انڈین نیشنل کانگریس کو ووٹ دیجئے۔

معاشی ترقی اور سماجی انصاف کو ووٹ دیجئے: انڈین نیشنل کانگریس کو ووٹ دیجئے۔

سیکورٹی ،استحکام ،تسلسل اور ایمانداری کو ووٹ دیجئے :انڈین نیشنل کانگریس کو ووٹ دیجئے ۔

کانگریس کو دیا گیا ہر ووٹ آپ کے اور آپ کے بچوں کے روشن مستقبل کےلئے ووٹ ہے۔

 

 


 

Sitemap           Search           Feedback

© Copyright AICC 2009 | Privacy policy. Best viewed with IE 5 + browsers at 1024 X 768 resolution.