لوک سبھا انتخابات 2009 کے لئے جاری
انڈین نیشنل کانگریس کے
انتخابی منشورکی نمایاں خصوصیات
کانگریس ہی کیوں؟
صحیح معنیٰ میں واحد قومی پارٹی
کار کردگی کا ریکارڈ
-
کانگریس پارٹی کا ریکارڈ مکمل نشوونما اور اور ترقی کے اس کے عہد کا آئینہ دار ہے۔
-
کانگریس کے زیرقیادت یوپی اے حکومت نے 2004 میں عوام سے کئے گئے اپنے وعدے پورے کئے ہیں اور وہ اپنا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھے گی۔ایک متحد اور سیکولر ہندوستان کے لیے جو دہشت گردی کامقابلہ کرسکتا ہے اور اسے شکست دے سکتا ہے۔
-
صرف کانگریس پارٹی ہی ایک متحد اور سیکولرہندوستان میں یقین کرتی ہے اور اس کے لیے کام کرتی ہے۔
-
صرف ایک متحد اور سیکولر ہندوستان ہی ایسے طریقے پر دہشت گردی سے نمٹ سکتا ہے جس سے ہمارے معاشرہ کے سیکولر تانے بانے کاتحفظ ہو۔ تمام ہندوستانیوں کے لیے ایک وژن جس میں کمزور طبقات،خواتین اور نوجوانوں کواختیارات حاصل ہوں۔
-
ہمارے پاس اپنے متنوع معاشرہ کے تمام طبقوں کے لیے وژن اور پروگرام موجود ہیں۔
-
ہمارے کام خواتین کے ساتھ مساوات، کمزور طبقات کو اختیارات دینے کسانوں کے لیے اقتصادی تحفظ اور نوجوانوں کے لیے مواقع کے ہمارے عزم کے آئینہ دار ہیں۔
وزیراعظم :دیانتدار دانشمند اور صحیح فیصلہ کرنے والے
-
ڈاکٹر منموہن سنگھ کی شکل میں ہمیں ایسے وزیراعظم ملے ہیں جوبے مثال صفات، بے نظیر تجربہ ،عظیم الشان شہرت اور شک وشبہ سے بالاتر ،دیانتداری کے حامل ہیں۔
-
ان کی دانشمندی، علم اور تجربہ کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے کیوں کہ ملک کو نئے چیلنجوں کاسامناہے۔
کانگریس کے زیرقیادت یوپی اے حکومت کا رپورٹ کارڈ
وعدے کئے گئے اور ان پر عمل ہوا۔
اچھی حکمرانی
اطلاعات حاصل کرنے کے حق سے متعلق قانون 2005 ٴ
غریبوں کے لیے روز گار۔
روزگار تلاش کرنے والے ہردیہی کنبہ کو 100 دن کا روزگار فراہم کرنا، جس کی قانونی طورپر پابندی لازمی ہو،روزی روٹی کو یقینی بنانا اور کمیونٹی اثاثے قائم کرنا۔
دیہی ترقیات
جواہرلال نہرو قومی شہری جدید کاری مشن(JNNURM)
صحت اور تعلیم
قومی دیہی صحت مشن (NRHM)
-
ابتدائی صحت مراکز کے معیار اور ان تک رسائی پر زور ۔
-
غریب لوگوں کو صحت خدمات فراہم کرنے کے لیے6لاکھ 50 ہزار خواتین کو تربیت دی گئی اور انہیں سماجی صحت کارکنوں (ASHAS) کادرجہ دیاگیا۔
-
سروشکشا ابھیان (SSA)اور دوپہر کے کھانے کی اسکیم۔
این ڈی اے حکومت کے مقابلہ میں پرائمری تعلیم کے لیے مختص رقم میں پانچ گنا اضافہ۔
کمزور طبقات کو بااختیار بنانا
خواتین کے حقوق
درج فہرست ذاتیں،قبیلے، دیگرپسماندہ طبقات اور اقلیتیں ۔
ریکارڈ سطح کی اقتصادی کارکردگی
بھارت کی نموکے لیے ایک نیاراستہ
سماجی سیکٹرپرزبردست خرچ
دیہی ترقیات
بھارت نرمان
آبیاشی، سب ہی موسموں میں کام آنے والی سڑکوں میں توسیع، غربیوں کے لیے مکانات، پینے کے پانی کی فراہمی، تمام دیہات میں بجلی اور ٹیلی فون کی سہولیات کے ذریعہ دیہی ہندوستان کی شکل تبدیل کرنے کاپروگرام کسانوں کے لیے اقتصادی تحفظ
کسانوں کے قرضوں کی معافی کاقومی پروگرام
کسانوں کے ساتھ بہتررویہ
قومی سلامتی
بہترطور پر آراستہ اور تیار سیکوریٹی نظام
قومی تحقیقاتی ایجنسی کا قیام
دہشت گردی سے متعلق معاملات کی تحقیقات اور مقدمہ چلائے جانے کے لیے ایک نئی خصوصی ایجنسی۔
جموں وکشمیر کا تحفظ
بھارت کی نئی عالمی ساکھ
کامیاب خارجہ پالیسی
مستقبل کاراستہ2014-2009
کام کے مجوزہ ایجنڈے کی جزیات
ہم ہر شہری کے لیے ممکن حدتک زیادہ سے زیادہ سیکوریٹی کی ضمانت دیں گے۔
-
دہشت گردی کوذرابھی برداشت نہ کرنے کو یقینی بنائیں گے۔
-
پورے ملک میں اور زیادہ جدید فورسزقائم کریں گے اور مامور کریں گے۔
-
اپنی سیکوریٹی فورسزکو جدید ترین ہتھیاروں ،ٹکنالوجی اور تجزیہ کرنے والے آلات کی فراہمی کاعمل جاری رکھیں گے۔
-
وی آئی پی اور وی وی آئی پی کی سیکوریٹی کا ایک جامع جائزہ لیں گے اور یہ یقینی بنائیں گے کہ جدید ترین فورسزکو قومی سلامتی کی ذمہ داریوں سے نہ ہٹایاجائے۔
ہرشہری کے لیے 2011 تک قومی آئی ڈی کو یقین بنایا جائے گا۔ ہم NREGA کی کامیابی سے فائدہ اٹھائیں گے اور اس اسکیم کو اور آگے بڑھائیں گے۔
NREGA کے طرز پر ہم ایک قومی فوڈسیکوریٹی ایکٹ بنائیں گے۔
-
خوراک کی فراہمی کے حق کا قانون وضع کریں گے جس سے تمام لوگوں خاص طورپر معاشرہ کے انتہائی کمزورطبقوں کے لیے مناسب مقدار میں خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
-
خط افلاس سے نیچے زندگی گذارنے والا ہر کنبہ قانون کے تحت ہر مہینہ3 روپے کلوگرام کے حساب سے 25 کلوگرام چاول یاگیہوں پانے کامجاز ہوگا۔
-
شہروں میں بے گھرلوگوں اور دوسری جگہوں سے بے گھر ہوکر آنے والوں کے لیے امدادی قیمت پر اجتماعی باورچی خانے قائم کئے جائیں گے۔
ہم سب کے لیے صحت ،کے تحفظ کی ضمانت دیں گے۔
-
قومی دیہی صحت مشن(NHRM)کی کامیابی کو آگے بڑھائیں گے اور مزید تیزی کے ساتھ اِس پر عمل کریں گے۔
-
یہ یقینی بنائیں گے کہ خط افلاس سے نیچے زندگی گذارنے والے ہر کنبہ کاراشٹریہ بیمہ یوجنا(RSBY) کے تحت اگلے تین برسوں میں احاطہ کرلیاجائے۔
ہم معیاری تعلیم کو ہر ایک کے لیے قابل رسائی بنائیں گے۔
-
کسی بھی تسلیم شدہ کالج یایونیورسٹی میں داخل ہونے والے تمام طلباءکو ضرورت کی بنیاد پر اسکالرشپ یاتعلیمی قرضہ دیاجائے گا۔
-
صرف داخلہ لینے پر نہیں بلکہ تعلیم کے شعبہ میں تمام سطحوں پر علم حاصل کرنے اور اس کے نتائج پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔
-
اگلے پانچ برسوں تک ہرسال، ہر بلاک میں ایک اور ماڈل اسکول کا اضافہ کیاجائے گا۔
-
ٹیچروں کی تربیت اور اسکولوں کے ماحول کی بہتری کا ایک بڑا پروگرام شروع کیاجائے گا۔
ہماری حکومت کے تحت اعلیٰ تعلیم کی توسیع کے پروگرام پر بروقت عملدرآمد کویقینی بنایاجائے گا۔ اس کے تحت 8 نئے IITs اور7 نئے IIMs سائنسی تعلیم اور ریسرچ کے 5 نئے ادارے 30 نئی مرکزی یونیورسٹیاں، اطلاعاتی ٹکنالوجی کے 20 نئے ہندوستانی ادارے اور تعلیمی اعتبار سے پسماندہ 374 نئے کالج قائم کئے جائیں گے۔
ہم پورے ملک میں،صلاحیت کو فروغ دینے کے پروگرام پر عملدرآمد کریں گے۔
-
صلاحیت کے جامع فروغ کا پروگرام شروع کریں گے جس سے نوجوانوں کی روزگار حاصل کرنے کی صلاحیت کو بڑھاواملے اور لوگوں کے حالات بہتر بنانے کے عمل سے رونما ہونے والے نتائج سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔
-
صلاحیتوں کے فروغ کے قومی مشن میں 3 کھرب روپیہ کی سرمایہ کاری کریں گے اور یہ یقینی بنائیں گے کہ صلاحیتوں کا وسیع ترنوعیت کااور جامع اظہار ہو۔
ہم کسانوں اور ان کے کنبوں کی بھلائی کی اسکیموں کو توسیع دیں گے۔
-
ملک میں ہر چھوٹے اور برائے نام زمین رکھنے والے کسانوں کی کم شرح سود پر بینک قرضوں تک رسائی کویقینی بنائیں گے اور جوکسان وقت پر قرضہ ادا کردیتے ہیں، ان کے سود میں راحت فراہم کریں گے۔
-
زرعی تنوع،زرعی اشیاءکی ڈبہ بندی اور دیہی صنعت کاری کے پروگرام پر منظم طریقے پر عمل کریں گے۔
اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کم از کم امدادی قیمت (MSP) اور وصولیابی قیمت کسانوں کو ان کے گھروں پر ہی مہیا کرادی جائے۔
یہ یقینی بنائیں گے کہ قومی باز آباد کاری بل 2007 پاس ہوجائے جو بی جے پی کی رخنہ ڈالنے والی کوششوں کی وجہ سے منظور نہیں ہوسکاہے۔ہم معاشرہ کے کمزور طبقوں کو بااختیار بنانے پر اور بھی زیادہ زور دیں گے۔
-
پنچائتوں اور نگرپالیکاﺅں میں، خواتین کے لیے ریزرویشن کی کامیابی سے حوصلہ پاکر اگلے قدم کے طورپر یہ یقینی بنایاجائے گا کہ لوک سبھا اور ریاستی قانون ساز اداروں میں خواتین کے لیے 33 فیصد سیٹیں ریزروکرنے سے متعلق بل منظور کرایاجائے۔
-
یہ یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی کہ پورے ملک میں دیہی علاقوں میں رہنے والی خواتین کی آدھی تعداد کو بینکوں سے وابستہ اپنی مدد آپ گروپوں کا ممبر بنادیا جائے۔
-
یکساں مواقع سے متعلق ایک کمیشن قائم کیاجائے۔
-
غیر منظم شعبہ کے کارکنوں کے لیے سماجی تحفظ کی اسکیموں میں توسیع کی جائے اور یہ یقینی بنایاجائے کہ معذور افراد کو بھی یکساں مواقع فراہم ہوں۔
-
دلتوں اور آدی واسی طبقوں سے تعلق رکھنے والے لڑکوں اور لڑکیوں کو تمام سطحوں پر یعنی پرائمری،ثانوی اور یونیورسٹی سطح پر مفت تعلیم فراہم کی جائے۔
-
پرائیویٹ سیکٹر میں درج فہرست ذاتوں اور قبیلوں کے لیے مثبت پالیسیوں پر عمل کیاجائے۔
-
درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبیلوں سے تعلق رکھنے والے کم از کم ایک لاکھ طلباءکے لیے ہر سال انٹرینس امتحان کی کوچنگ فیس اداکی جائے۔
ہم بچوں خاص طور پر لڑکیوں کی خصوصی ضرورتوں پر خاص توجہ دیں گے۔
-
یہ یقینی بنایا جائے گاکہ بچوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق قومی کمیشن کے تحت جو 2006 میں قائم کیاگیاتھا بچوں کے حقوق کا بدستور تحفظ کیاجائے جس کی ضمانت قوانین میں دی گئی ہے۔
-
یہ یقینی بنایاجائے گا کہ بچوں کی مربوط ترقیاتی اسکیم (ICDS) پر مارچ 2012 تک سب جگہ عمل کیاجائے اور ہر رہائشی گوشہ میں ایک آنگن واڑی قائم کی جائے۔
-
بچیوں کے سلسلہ میں خصوصی ترغیبات فراہم کی جائیں، لڑکے اور لڑکیوں کی تعداد میں جو فرق ہے، اسے صحیح کیاجائے اور بچیوں کی تعلیم کو یقینی بنایاجائے۔
-
ایسے اضلاع میں جہاں لڑکوں کے مقابلہ بچیوں کی تعداد کافی کم ہے، بچیوں کے لیے مالی ترغیبات فراہم کی جائیں جوان کے پرائمری، مڈل، سیکنڈری اور ہائرسیکنڈری اسکول کی تعلیم مکمل ہونے پر ان کے کھاتہ میں جمع کرادی جائیں۔
ہم تمام دیہات کو تین سال کے عرصہ میں ایک براڈبینڈنیٹ ورک سے منسلک کردیں گے۔
ہم چھوٹے صنعت کاروں اور چھوٹی اور درمیانہ درجہ کی صنعتوں پر خصوصی توجہ دیں گے۔
-
چھوٹی اور درمیانہ درجہ کی صنعتوں اور پہلی نسل کے صنعت کاروں کے ساتھ نیاطریقہ اپنایا جائے گا اور یہ یقینی بنایاجائے گا کہ انہیں زیادہ آسانی سے قرضہ مل سکے۔بہت سارے ضابطوں اور فارموں سے انہیں آزاد کرایا جائے اور انسپکٹروں کے چنگل سے انہیں چھڑایاجائے۔
-
چھوٹی اور درمیانہ درجہ کی صنعتوں کی ترقی کے لیے ایک مربوط علاقہ وار حکمت عملی اپنائی جائے گی۔ ان علاقوں کو جوزیادہ تر چھوٹے اور درمیانہ درجہ کے قصبات میں واقع ہوں گے انہیں مالی امداد، ٹکنالوجی، مارکیٹنگ اور بنیادی ڈھانچہ کی سہولتیں فراہم کرائی جائیں گی۔
ہم مالیاتی احتیاط اور کم افراط زر کے ذریعہ اعلیٰ نشوو نما کا راستہ اختیار کریں گے۔
-
ہم کانگریس کے زیرقیادت یوپی اے حکومت کے تحت حاصل کی گئی شرح نمو کو برقراررکھنے کی کوشش کریں گے۔ (یہ ہماری میعاد کے پہلے چار برسوں میں 9 فیصد تھی جوکہ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حاصل کی گئی تھی۔)
-
شرح نمو پر بہت زیادہ زور دیں گے کیوں کہ اس سے نوجوانوں کے لیے مفید روزگار کے مواقع حاصل کرنے کی رفتار تیزہوتی ہے۔
-
تھوڑے افراط زر کے ساتھ اعلٰی شرح نمو حاصل کریں گے خاص طور پر ضروری زرعی اور صنعتی اشیاءکی قیمتوں کی مناسبت سے ۔
-
مالی ذمہ داری کا طریقہ برقرار رکھیں گے تاکہ سماجی اور فزیکل بنیادی ڈھانچہ میں سرمایہ کاری کی مرکزی صلاحیت مسلسل بڑھتی رہے۔
-
سبسڈی کو ہدف بنائیں گے تاکہ یہ صرف صحیح معنیٰ میں ضرورت مندوں اور معاشرہ کے غریب طبقوں تک پہنچے۔
-
اسے یقینی بنائیں گے کہ سرکاری سیکٹر کی کمپنیوں کے کچھ شیرزہندوستان کے لوگوں کی ملکیت بھی ہوں۔
-
سامان تیار کرنے والی صنعت کی امداد کریں گے جس کا حالیہ برسوں میں احیاءہواہے،خاص طور پر ایسی صنعتیں جہاں زیادہ لوگ کام کرتے ہیں۔
پرائیویٹ کمپنیوں میں کام کاج کے اعلیٰ معیار کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس کا مقصد کم تعداد میں شیرز رکھنے والوں اور چھوٹے سرمایہ کاروں کے مفادات کاتحفظ کرناہوگا۔
ہم یکم اپریل 2010 سے اشیاءاور سروس ٹیکس(GST) کاسلسلہ شروع کریں گے۔
-
ہم اعتدال پسند طریقہ پر اشیا کاٹیکس اور سروس ٹیکس (GST)شروع کریں گے، جو ویٹ کی کامیابی کے بعد اگلافیصلہ کن قدم ہوگا۔ایک مرتبہGSTپر عملدرآمد شروع ہوجانے کے بعد دوسرے تمام مرکزی اور ریاستی سطح کے ٹیکس مثلاً ویٹ، ایکسائزڈیوٹی، سروس ٹیکس تفریحی ٹیکس، لگثرری ٹیکس وغیرہ ختم کردئے جائیں گے جس سے عام آدمی کو کافی راحت ملے گی۔
-
GSTسے ہمارے کسانوں، دستکاروں اورچھوٹے صنعتکاروں کے لیے ایک بے جوڑ قومی مشترکہ مارکیٹ فراہم ہوگی اور اس سے روزگار کو فائدہ حاصل ہوگا۔ ریاستی مالیات اور خاص طورپر پنچائتوں اور نگرپالیکاﺅں کی مالیات کی بنیاد مضبوط ہوگی۔
ہم شہری حکمرانی کو بالکل ایک نئی شکل دیں گے۔
-
شہری انتظامیہ کا ایک نیا نمونہ قائم کریں گے، جن میں مالی طورپر مضبوط بلدیاتی ادارے مرکزی کردار ادا کریں۔
-
کم لاگت والے مکانات کی تعمیر اور حفظان صحت کا ایک زبردست پروگرام شروع کیاجائے گا جس سے ہمارے دیہی علاقے زیادہ قابل رہائش ہوسکیں۔ہم اپنے نوجوانوں کو حکمرانی میں شرکت کے لیے ایک اچھے سودے کی پیش کش کریں گے۔
-
نوجوانوں کوبااختیار بنانے کے اپنے وعدہ پر عمل جاری رکھیں گے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کا آغاز راجیوگاندھی نے کیاتھا جنہوں نے 18 سال کی عمر کے تمام لوگوں کو ووٹ دینے کاحق دیا اور 12 جنوری کو سوامی وویکانند کے یوم پیدائش کو نوجوانوں کاقومی دن قراردیا۔
-
نوجوانوں کی ایک رضاکار قومی کورکے قیام کاخاکہ تیار کریں گے اور اسے روبہ عمل لائیں گے تاکہ 18 سے 23 سال کی عمر کے نوجوان مرداور عورتیں دوسال تک کے لیے مثبت نوعیت کی قومی تعمیری سرگرمیوں میں شرکت کرسکیں۔
-
سرکاری اداروں میں نوجوانوں کو شامل کرنے کی شروعات کی جائے گی۔ آغاز کے طور پر پنچائتوں اور نگرپالیکاﺅں میں 35 سال سے کم عمر کے مردوں اور عورتوں کے لیے کچھ سیٹ ریزروکی جائیں گی۔
ہم عدالتی اصلاحات کے لیے کام کریں گے تاکہ عدالتوں میں ہونے والی تاخیر کم ہو۔
-
یہ یقینی بنائیں گے کہ گرام نیایالیہ ایکٹ پر عمل کیاجائے جو پارلیمنٹ نے پچھلے سال منظورکیاتھا۔
-
پنچائتوں کے صدر دفتر میں گرام نیایالیوں کے قیام اور دیہی علاقوں میں متحرک عدالتوں کے ذریعہ عام آدمی کوتیز رفتاری سے کم خرچ اور خاطر خواہ انصاف مل سکے گا۔
ہم اپنے ملک کے لیے توانائی کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔
-
یہ یقینی بنائیں گے کہ ہر سال مختلف وسیلوں سے 12 سے 15 ہزار میگاواٹ بجلی تیارکرنے کی صلاحیت کااضافہ کیاجائے۔
-
یہ یقینی بنائیں گے کہ دیہی علاقوں کی بجلی کاری اور بجلی کی تقسیم کے دوران ضائع ہونے والی بجلی کو کم کرنے کے کام کو اولین ترجیح دی جائے۔
-
دیہی اور غیر ملکی دونوں طرح کی ٹکنالوجی کے ذریعہ نیوکلیائی بجلی کا حصہ بڑھایاجائے جو ہمارے حکومت کے ذریعہ کئے گئے غیر فوجی نیوکلیائی سمجھوتوں کی وجہ سے ممکن ہوگیاہے۔
ہم اپنے ورثہ کے تحفظ اور اسے فروغ دینے کے لیے مزید اقدامات کریں گے۔
ہم ترقی میں بیرون ملک رہنے والے ہندوستانیوں کی شرکت میں تیزی لائیں گے۔
-
سمندر پار رہنے والے ہندوستانیوں کے امور کی وزارت کی کامیاب سرگرمیاں جاری رکھنے کو یقینی بنائیں گے۔ یہ وزارت مئی 2004 میں قائم کی گئی تھی اور اس کا مقصداپنے ملک کی ترقی میں بیرونی ملکوں میں رہنے والے ہندوستانیوں کے رول کو زیادہ سے زیادہ بڑھاناتھا۔
-
چار نئی یونیورسٹیاں قائم کریں گے جن میں 50 فیصد سیٹیںNRI/PIOطلباءکے لیے ریزرو ہوں گی۔
ایک اپیل
-
انڈین نیشنل کانگریس ہمارے ملک کی عوامی زندگی میں تقریباً 125 سال سے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔
-
اس پارٹی میں اپنے اندر دوسری پارٹیوں کے برخلاف ہندوستان کا تصور شامل ہے۔
-
اپنی پوری تاریخ میں انڈین نیشنل کانگریس نے اپنی ترجیحات، پالیسیوں اور پروگراموں کے ذریعہ اقتصادی طور پر خوشحال، سماجی طور پر انصاف پسند، سیاسی طور پر متحد اور ثقافتی طور پر مربوط بھارت کا تصور پیش کیاہے۔
-
بنیادی اصولوں کی پابندی نے، نئے اور ابھرتے ہوئے چیلنجوں کاجواب دینے کی راہ میں کبھی رکاوٹ نہیں ڈالی ہے۔
-
ہمارے ملک کے عوام نے بار بار انڈین نیشنل کانگریس پراپنے اعتماد کا اظہار کیاہے۔
-
انڈین نیشنل کانگریس کی یہ انتھک کوشش رہی ہے کہ ہمارے عوام کی توقعات کو پورا کیاجائے۔
-
پچھلی چھ دہائیوں میں بہت سی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں ۔
-
لیکن اب بھی بہت کچھ کیاجانا باقی ہے۔
-
انڈین نیشنل کانگریس عوام کے سامنے انتہائی انکساری، اپنی کامیابیوں پر فخر لیکن ایک قوم کی حیثیت سے ہمیشہ اپنے کاموں کا احساس رکھنے والے کی حیثیت سے سامنے آئی ہے۔
-
انڈین نیشنل کانگریس ہندوستان کے عوام سے اپیل کرتی ہے وہ اسے اس کی خدمات، اس کے عہد، اس کی فکر اور اس کے کردار کی بنیاد پر ووٹ دیں۔
-
اس منشور کے ذریعہ انڈین نیشنل کانگریس اپنے اس عزم کی تجدید کرتی ہے کہ وہ یقین کامل، عہد، استعداد اور دردمندی کی بنیاد پر سماجی اقتصادی تبدیلی کا ایک اہم ذریعہ بنی رہے گی۔
-
اس منشور کے ذریعہ انڈین نیشنل کانگریس خدمت کی سیاست اور ایک جدید ہندوستان کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی سیاسیت کے لیے خود کو دوبارہ وقف کرتی ہے۔
-
اس منشور کے ذریعہ انڈین نیشنل کانگریس اپنے ملک کے عوام سے اپنے اس عزم کا عہد کرتی ہے کہ وہ اپنے وعدوں کو یکسوہوکر پورا کرے گی۔
-
ہندوستان کے لیے ووٹ دیجے۔ انڈین نیشنل کانگریس کو ووٹ دیجئے۔
-
فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ساتھ اقتصادی ترقی کے لیے ووٹ دیجئے۔انڈین نیشنل کانگریس کو ووٹ دیجئے۔
-
سلامتی، استحکام، تواتر اور سالمیت کے لیے ووٹ دیجئے۔ انڈین نیشنل کانگریس کو ووٹ دیجئے۔
-
کانگریس کے لیے ووٹ ،آپ کے اور آپ کے بچوں کے مستقبل کے لیے ووٹ ہے۔
کانگریس
عام آدمی کے بڑھتے قدم
ہر قدم پر بھارت بلند