| گاندھی جی کی آمد کانگریس کا ایک فعال تنظیم بننا جواہرلال نہرو گاندھی جی کانگریس کی تنظیم میں شامل ہوئے تو انہوں نے فوری طورپر اس کے دستور کو پری طرح تبدیل کردیا۔ انہوں نےاسے ایک جمہوری اور عوامی تنظیم بنادیا۔ یہ پہلے بھی جمہوری مزاج کی حامل تھی مگر اب تک اس کادائرہ صرف طبقہ خواص تک محدود تھا۔ اب کسان بھی اس میں شامل ہونے لگے اور اس نئی شکل وصورت میں یہ ایک زبردست دہیی تنظیم نظر آنے لگی جس میں متوسط طبقے کی بھی مضبوط موجودگی تھی۔ کانگریس کے اس دیہی کردار میں ابھی اور اضافہ ہونا تھا ۔ صنعتی مزدور بھی اس کی جانب راغب ہوئے مگر علاحدہ تنظمیمی حیثیت سے نہیں بلکہ انفرادی طور ۔ نئی تکنیک پرامن طریقوں پر مبنی عملی اقدامات کو اس تنظیم کی بنیاد اور مقصد بنایا جانا تھا۔ اب تک صرف بات چیت اور قراردایں منظورکرنے یا دہشت گردانہ سرگرمیوں کی راہ اختیار کی گئی تھی۔ ان دونوں طریقوں کو ترک کردیا گیا اور دہشت گردی کو بطور خاص کانگریس کی بنیادی پالسی کے منافی قراردیا گیا۔ عملی اقدامات کی ایک نئی تکنیک اختیار کی گئی جو اگرچہ پوری طرح پرامن تھی مگر جوبات غلط ہو اسے تسلیم نہ کرنا بھی اس کا لازمی حصہ تھا اور اس لحاظ سے پیش آنے والی تکلیفوں اور مصائب کو بہ رضاورغبت قبول کرنا بھی اس میں شامل تھا۔ گاندھی جی ایک عجیب ٹیڑھے بانکے امن پرست تھے اور توانائی سے بھرے ہونے کے سبب ہر لمحہ سرگرم عمل رہے تھے۔ تقدیر یا جسے وہ برا سمجھتے تھے اس کے آگے سرجھکانا انہیں نہیں آتا تھا۔ وہ مزاحمت کرنے والے آخری تھے مگر یہ مزاحمت پر امن اور با اخلاق ہوتی تھی۔ عملی اقدامات کے دو پہلو اور رخ تھے۔ اس کا ایک پہلو بیرونی اقتدار کو چیلنج کرنے اور اس کی مزاحمت کا تھا۔ دوسری جانب وہ عملی اقدامات تھے جن کے تحت ہمیں خود اپنی سماجی برائیوں سے لڑنا تھا۔ کانگریس کے بنیادی مقصد ، ہندستان کی آزادی اور پرامن طریقئہ سے جدوجہد کے علاوہ کانگریس کے اہم مقاصد میں قومی اتحاد جس کے تحت اقلیتوں کے مسئلے کو حل کیا جانا تھا، دبے کچلے طبقوں کو اوپر اٹھانا اور چھوا چھوت کی لعنت کا خاتمہ شامل تھا۔ یہ محسوس کرتے ہوئے کہ برطانوی اقتدارکا بڑی حد تک خوف ، سماجی حیثیت اور وقاراور لوگوں اور ان بعض طبقوں کے چاہے ان چاہے تعاون پرٹکا ہوا تھا جن کے مفادات برطانوی اقتدار سےجڑے ہوئے تھے، گاندھی جی نےان بنیادوں پر حملہ شروع کیا۔ خطابات ترک کرنے کا ماحول بنایا گیا اوراگرچہ بہت کم خطاب یافتگان نےاس پر عمل کیا مگر ان برطانوی خطابات کیلئےعوامی احترام کا جذبہ ختم ہوگیا اور انہیں تذلیل کی علامت سمجھا جانےلگا۔ نئےمعیاراوراقدار قائم کئے گئےاورایک ایسا ماحول پیدا ہوگیا جس میں وائسرائےنے درباراور شہزادوں کی شان وشوکت اور کرّ وفر اچانک حددرجہ مضحکہ خیز ، فحش اور شرم ناک معلوم ہونے لگا، خاص طورپر اس لحاظ سے کہ ہ سب عوام کی بے انتہا غریبی اور بدحالی کے پس منظر میں کیا جارہا تھا۔ دولت مند لوگ اب اپنے ٹھاٹھ باٹ کی نمائش کیلئےاتنے بیتاب نظر نہیں آتے تھے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے کم ازکم ظاہری طورپر نسبتاّ کم درجےکا رہن سہن اختیار کرلیا اور لباس اوروضع قطع کے لحاظ سے انہیں غریب لوگوں سے الگ کرپانا مشکل ہوگیا۔ کانگریس کے پرانےرہنما جن کی پرورش ایک مختلف اور آرام آسائش کے ماحول میں ہوئی تھی، ان نئے طریقوں سے بہ آسانی ہم آہنگ نہیں ہوسکے اور عوام کےابھار سے پریشان ہواٹھے ۔ مگر سارے ملک میں یہ جذبات اتننی شدت سے موج زن تھے کہ یہ لوگ بھی کچھ نہ کچھ اس متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔ تاہم ایک چھوٹا سا حلقہ اس کی تاب نہ لاسکا اور الگ ہوگیا ۔ اس میں جناب ایم۔ اے جناح بھی شامل تھے۔ کانگریس سےان کی علاحدگی کا سبب ہندومسلم سوال پر اختلاف رائے نہیں بلکہ یہ تھا کہ وہ اپنےآپ کو نئےاور زیادہ ترقی یافتہ نظرئے سے ہم آہنگ نہ کرسکے اوراس سے زیادہ یہ کہ انہیں کانگریس میں بھرے ہوئے، الٹے سیدھے کپڑے پہنے اور ہندستانی میں باتیں کرتےلوگ ناپسند تھے۔ چندبرسوں تک وہ منظر سے بالکل غائب رہے، یہاں تک کہ انہوں نے ہندستان چھوڑ کر چلے جانے کا فیصلہ کرلیا۔ انہوں نے برطانیہ میں سکونت اختیار کرلی اور کئی برس وہیں رہے۔ بے عملی کی ضد کہا جاتا ہے اوراس میں صداقت بھی ہے کہ ہندستانی ذہن لازمی طورپر صبروتوکل پسند ہوتاہے۔ زندگی کے تئئیں یہ رویہ بہت پہلے سے چلا آرہا ہے۔ فلسفےکی ایک طویل روایت نے بھی اسے تقویت دی ہے۔ مگر اس کے باوجود گاندھی جی ، جو خاص ہندستان کی تمائندگی کرتے تھے، صبروتوکل پر مبنی بے عملی کے روئے کی ضد تھے۔ ان میں بے پناہ توانائی اور جذبئہ عمل تھا۔ وہ تیزی سے ہیش رفت کرنے والے ایسے شخص تھے جو خود بھی متحرک رہا اور دوسروں کو بھی حرکت وعمل پر آمادہ کیا۔ انہوں نے ہندستان کے لوگوں کے تسلیم ورضا اور صبر توکل کے روئے کو تبدیل اور اس کے خلاف جدوجہد میں دوسرے کسی بھی شخص سے کہیں زیادہ کوششیں کیں۔ گاندھی جی نے ہمیں گاؤں میں پہنچایا اور سارا دیہات حرکت وعمل کےنئے پیغام کے بے شمار علم برداروں کی سرگرمیوں سے گونج اٹھا۔ کسانوں میں ہلچل پیداہوئی اور وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے کی حالت سےباہر آنے لگے۔ ہم لوگوں پر بھی اس کے ذرا مختلف مگر اتنے ہی دور رس اثرات مرتب ہوئے کیونکہ ہم نے پہلی بار کسانوں کو ان کی مٹی کے جھونپڑوں کی قربت میں دیکھا جب کہ بھوک کا مہیب سایہ ان کا پیچھا کررہا تھا۔ ہم نے ہندستان کی اقتصادیات کو کتابوں اور عالموں کی تقریروں س کہیں زیادہ دیہات کے ان دوروں سے سیکھا ۔ ہمیں جو جذباتی تجربہ پہلے ہی ہوچکا تھا ان دوروں سے اس میں مزید شدت اور استحکام پیدا ہوا اور اب ہمارے لئےاپنے پرائے طریقوں اورمعیاروں کی جانب پلٹنے کا کوئی امکان ہی نہیں رہ گیا، اس کے باوجود کہ ممکن ہے آگے چل کر ہمارے خیالات بدل جائیں۔ گاندھی جی اقتصادی ، سماجی اور دیگرامور کے بارے میں نہایت مضبوط خیالات رکھتے تھے۔ انہیں نےاپنےان تمام تصورات کو کانگریس پر تھوپنے کی کوشش کبھی نہیں کی ۔ وہ اپنی تحریروں میں ان تصورات کو مسلسل فروغ دیتے رہےاوران میں تبدیلیاں بھی لاتے رہے۔ انہوں نےاحتیاط کے ساتھ قدم بڑھائے کیونکہ وہ لوگوں کو اپنے ساتھ لانا چاہتے تھے۔ بہت زیادہ لوگوں نےان کے خیالات کو پوری طرح قبول نہیں کیا ۔ بعض کو ان کے بنیادی نقطئہ نظر سے ہی اختلاف تھا۔ مگر بہت سے لوگوں نےان خیالات کو ان کی اس بدلی ہوئی شکل میں قبول کیا جس میں انہیں اس وقت موجود حالات کےمطابق کانگریس کا حصہ بنایا گیا۔ گاندھی جی کا فکری تناظر دولحاظ سےغیر واضح مگر خاصے مضبوط اثرات کا حامل تھا۔ اس کےتحت ایک تو ہرچیز کا بنیادی پیمانہ یہ تھا کہ یہ عوام کیلئے کس قدر فائدہ بخش ہےاور دوسرے یہ کہ ذرائع ہمیشہ اہم ہوتے ہیں اورمقصد خواہ کتنا ہی درست کیوں نہ ہو ان کے درست ہونے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ مقاصد کی کمان ذرائع کے تحت ہوتی ہےاور وہی انہیں تبدیل بھی کرتے ہیں۔ اخلاقی قانون پرعقیدہ گاندھی جی بنیادی طورپر مذہبی آدمی تھے۔ وہ اپنے وجود کی تمام گہرائیوں سے ایک ہندو تھے مگر ان کا مذہب کا تصور کسی کڑپن یا رسم ورواج پر مبنی نہیں تھا۔ اس کا تعلق بنیادی پر اخلاقی قانون پر ان کے گہرے یقین سے تھا جسے وہ سچائی یا محبت کا قانون کہتے تھے۔ سچائی اور عدم تشدد ان کیلئے ایک ہی چیز یا ایک چیز کے دوپلہو تھے اور ان دونوں لفظوں کو ہم معنی طور پر استعمال کرتے تھے ۔ وہ ہندو مذہب کی اصل روح کو سمجھنے کے دعوے دار تھے اور اس کےتحت انہیوں نے ہر اس رسم ورواج کومسترد کردیا جو اس سےمتعلق تھے ان کی عینیت پسندانہ تعبیر کے مطابق نہیں تھی انہوں نے ان تمام رسوم ورواج کو من گھڑت اور بعد میں کیا گیا اضافہ قرار دیا۔انہوں نے کہا ۔‘‘ میں غلام بننے سے انکار کرتاہوں‘‘ ۔ انہوں نے ایک بار کہا کہ وہ ان رسوم ورواج کو نہ تو سمجھ سکتے ہیں نہ اخلاقی بنیادوں پر ان کا دفاع کرسکتے ہیں۔ اور اسی لئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اس چیز کو غالب وبرتر سمجھتے ہوئے جسے وہ اخلاقی قانون کہتے تھے، اپنی راہ الگ بنانے، اپنے آپ کو تبدیل کرنےاور زندگی اورعمل کا پانا ایک فلسفہ مرتب کرنے کیلئے آزاد تھے۔ اس فلسفے کے صحیح یا غلط ہونے پر بحث ضرور ہوسکتی تھی۔ مگر ہرچیز اور خاص طورپر اپنے آپ کو یکساںپیمانے پر پرکھنے پر زور دیتے تھے۔ سیاست اور زندگی کے دیگر شعبوں میں اس کی وجہ سے ایک اوسط آدمی کیلئے دشواریاں اور بعض اوقات غلط فہمیاں پیداہوسکتی تھیں، مگرکوئی بھی دشواری انہیں ان کے منتخب راستےسے ہٹانہ سکی ، حالانکہ انہوں نے اپنے آپ کو حالات کی تبدیلی کے مطابق تبدیل کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ ہراصلاح جو انہوں نے تجویز کی ، ہرمشورہ جو انہوں نےدوسروں کو دیا سب سےپہلے اور براہ راست خود ان پر لاگو ہوتا تھا۔ وہ ہمیشہ اپنے آپ سے آغاز کرتے تھے اوران کے ہرقول فعل میں ہاتھ اور دستانے کا سا تعلق ہوتا تھا ۔ لہذا کسی بھی حال میں ان کی اندرونی وحدت کبھی ختم نہیں ہوئی اور زندگی اور اقدامات میں ایک عضوی مکمل پن موجود رہا۔ ان کے خوابوں کا ہندستان ان کا ہندستان کا وہ کیا تصور تھا جسے وہ اپنی آرزؤوں اور آدرشوں کے مطابق صورت دینے کی کوشش کرتے رہے؟ ان کا کہتا تھا؛ میں ایک ایسے ہندستان کیلئے کام کروں گا جہاں غریب ترین شخص کو بھی محسوس ہوکہ یہ اس کا ملک ہے، جس کی تعمیر میں اس کا بھرپور حصہ ہے اور ایک ایسا ہندستان جہاں لوگوں کا کوئی اونچا اور نیچا طبقہ نہ ہو، ایسا ہندستان جہاں تمام فرقے مکمل ہم آہنگی سے رہیں۔۔۔۔۔ ایسے ہندستان میں چھواچھوت ، نشہ آور مشروبات اور نشیلی دواؤں کی لعنت کیلئے کوئی جگہ نہ ہو۔۔۔۔۔ عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق حاصل ہوں۔۔۔۔۔۔۔ یہی میرے خوابوں کا ہندستان ہے ۔ گاندھی جی کو اپنے ہندوورثے پر فخر تھا۔ انہوں نے ہندومذہب کو ایک آفاقی تصور اور شکل وصورت دینے کی کوشش کی اور تمام مذاہب کو سچا جانا۔ انہوں نے اپنے ثقافتی ورثے کو تنگ نہیں بنایا۔ انہوں نے لکھا کہ ہندستانی ثقافت نہ پوری طرح ‘‘ ہندو ہے، نہ اسلامی اورنہ کچھ اور اس میں یہ سب کچھ حل ہوگیاہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا۔‘‘ میں چاہتا ہوں کہ جہاں تک ممکن ہو میرے گھر میں تمام سرزمینوں کی ثقافت کی ہوائیں چلیں ۔ مگر میں نہیں چاہتا کہ کسی بھی ہوا میں میرے پاؤں اکھڑ جائیں۔ میں دوسروں کے گھروں میں زبردستی داخل ہونے والے ، کسی بھکاری یا غلام کی طرح نہیں رہنا چاہتا۔‘‘ جدید افکار سے متاثر ہو نے کے باوجود انہوں نے اپنی جڑوں کو نہیں چھوڑا اور ان سے چمٹے رہے۔ عوام سے ہم آہنگی اور اس طرح گاندھی جی نے لوگوں کے روحانی اتھاد کو بحال کرنے اور اوپر کے ایک چھوٹے سے مغرب زدہ طبقہ خواص اور عوام کے درمیان کھڑی ہوئی دیوار ڈھانے ، پرانی جڑوں کے حیات بخش عناصر کو ازسرنو تلاش کرنےاورعوام کو نیند سے اور جمود کی حالت سے بیدار کرکے انہیں متحرک کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ ان کی یک رخی مگر پھر بھی کثیر الجہات طبیعت میں جس غالب عنصر کا سراغ ملتا تھا وہ تھا عوام کے ساتھ ان کی ہم آہنگی، ان کے ساتھ جذباتی اشتراک اور نہ صرف ہندستان بلکہ دنیا بھر کے دبے کچلےاور مفلوک الحال لوگوں کے ساتھ ایک حیرت انگیز رشتئہ اتحاد ۔ ان بدحالی میں ڈوبے ہوئے لوگوں کو اوپراٹھانے کے ان کے جوش وخروش میں مقابلے میں مذہب کو بھی ثانوی حیثیت حاصل تھی ۔ ان کا کہنا تھا۔ ‘‘ کونی بھی نیم فاقہ زدہ ملک نو مذہب کا حامل ہوسکتا ہےاور نہ فن کا نہ تنظیم کا ، جو بھی کروڑوں فاقہ کش لوگوں کےفائدے میں ہو میرے نزدیک خوبصورت ہے۔ ہمیں سب سے پہلے لوگوں کو زندگی کی تمام ضروری چیزیں فراہم کرنی چاہیں ، زندگی کی تمام چمک دمک اور ارائشیں اس کے بعد خود بہ خود آجائیں گی۔ ۔۔ میں ایک ایسا فن اور ادب چاہتاہوں جو کروڑوں لوگوں سے ہم کلام ہوسکے۔‘‘ یہ کروڑوں غم زدہ او محروم لوگ انہیں آسیب کی طرح ڈراتے تھےاوران کیلئے ہرچیز انہی کے گرد طواف کرتی تھی۔ کروڑوں کیلئےانکی حالت ایک ابدی نگرانی یا ابدی کیفیت جذب کی سی تھی ۔ ان کے الفاظ میں وہ‘‘ ہر انکھ کاہر آنسو بوچھ دینا چاہتے تھے۔‘‘ لہذا یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہےکہ اس حیرت انگیز توانائی ، خود اعتمادی اور غیر معمولی قوت سے بھر پور، ہرفردکی برابری اور آزادی کے علم بردار مگر اس تمام چیزوں کو غریب ترین لوگوں کے پیمانے سے تولنے والےاس شخص نے ہندستان کے عوام کو اپنا گرویدہ کرلیا اور وہ بھی کسی مقناطیس کی طرح ان کی طرف کھینچے چلے گئے۔ گاندھی جی عوام کیئے ماضی اور مستقبل کے درمیان ایک پل بنانے اور موجودہ بدحالیوں کو زندگی اور امید سے بھر پور مستقبل کی طرف جانے والی راہ میں تبدیل کرنے کا وسیلہ تھے۔ اور یہ معاملہ صرف عوام ہی کا نہیں بلکہ دانش وروں اور دیگر لوگوں کا بھی تھا، حالانکہ ان کے ذہن اکثر پریشان اور الجھن کے شکار ہوجاتے تھے اور ان کیلئےایک عمر کی عادتوں کو بدل پانا مشکل تھا۔ اس طرح گاندھی جی نے نہ صرف اپنے پیروکاروں بلکہ ان کو بھی جو ان کے مخالفوں میں تھےاورایسے بہت سےغیر جابندار لوگوں کو جو ابھی اپنا ذہن نہیں بناپائے تھےایک زبردست نفسیاتی انقلاب سے دوچار کردیا۔ گاندھی جی کو کانگریس پر غلبہ حاصل تھا مگر یہ ایک خاص قسم کا غلبہ تھا کیونکہ کانگریس ایک فعال ، باغیانہ اور کثیر رخی تنظیم تھی۔ جس میں طرح طرح کے خیالات کے لوگ تھے اور اسے بہ آسانی ایک یا دوسری طرح سے ہانکا نہیں جاسکتا تھا۔ گاندھی جی اکثر دوسروں کی مرضی کے مطابق اپنے موقف میں تبدیلی لے آتے تھے ۔ بعض اوقات وہ ایک کوئی مخالفانہ فیصلہ بھی قبول کرلیتے تھے۔ مگر بعض اہم ترین امور پر وہ بے لچک رہتے تھے اور ایسے کئی موقع ائے جب ان کے اور کانگریس کے درمیان علاحدگی کی نوبت آپہنچی ۔ مگر وہ ہمیشہ ہندستان کی آزادی اور شدت پسندانہ قوم پرستی کی علامت اور ملک کو غلام بنائے رکھنے والوں کے بے لچک مخالف بنے رہے اور ان کی یہی حیثیت تھی جس کی وجہ سے لوگ ان کے گرد جمع رہے اور ان کی قیادت کو قبول کرتے رہے، اس کے باوجود کہ دیگر امور میں وہ ان سے اختلاف رکھتےتھے ۔ جب کوئی سرگرم مہم جاری نہ ہو تو لوگ ان کی قیادت کو ہمیشہ اس طرح قبول نہیں کرتے تھے مگر جدوجہد کے گرم ہونے کے دوران ان کی علامتی حیثیت حددرجہ اہم ہواٹھتی تھی اور پھر دیگر ساری چیزیں غیر اہم ہوجاتی تھیں۔ کانگریس گاندھی کی راہ پر انڈین نیشنل کانگریس اور بڑی حد تک سارے ملک نے 1920 میں گاندھی جی کےنئےاور غیر دریافت شدہ راستےکو اختیار کرلیا اور باربار برطانوی طاقت س ٹکرلی ۔ یہ ٹکراؤ ان نئے طریقوں اوراس وقت موجود صورتحال دونوں کے لحاظ سے ناگزیر تھا مگر اس سب کے پس پشت جو مقصد کارفرتھا وہ کوئی سیاسی حکمت عملی اور داؤ پیچ نہیں بلکہ ہندستان کے لوگوں کو مضبوط کرنا تھا کیونکہ وہ اسی قوت کےذریعے ہی آزادی حاصل اور برقرار رکھ سکتے تھے۔ ایک کے بعد ایک کئی سول نافرمانی تحریکیں جاری کی گئیں جن میں زبردست تکلیفیں درپیش آئیں مگر یہ تکلیفیں خود بلائی گئی تھیں اور اسی لئےطاقت اور توانائی کا ذریعہ تھیں ۔ یہ ایسی تکلیفیں نہیں تھیں جو ان کیلئے تیار نہ ہونے والے لوگ تکلیفوں کیلئے تیار نہیں تھے انہیں بھی حکومت کی بھیانک استبدادی کارروائیوں کے جال میں پھنس کر دکھ جھیلنے پڑے اور کبھی کبھی ان تکلیفوں کو دعوت دینے والے تکلیفوں کی تاب نہ لاسکےاور ٹوٹ گئے ۔ کانگریس نے کبھی بھی ، اس وقت بھی جب اس کی حالت بہتر نہیں تھی ، کسی برتر طاقت یا بیرونی اقتدار کےآگے گھٹنے نہیں ٹیکے ۔ وہ ہمیشہ ہندستان کی آزادی کی شدید خواہش اور بیرونی تسلط کے خلاف جدوجہد کے عزم کی علامت رہی ۔ اسی وجہ سے ہندستان کے لوگوں کی غالب تعداد اس کی ہم نوا اور ہم درد رہی اور قیادت کیلئے اس کی جانب دیکھتی رہی کیونکہ بہت سے لوگ اتنےکمزوور وناتواں اورایسے حالات کےشکار تھے کہ خود کچھ نہیں کرسکتے تھے ۔ کانگریس ایک سیاسی جماعت بھی تھی او کئی جماعتوں کا مشترکہ پلیٹ فارم بھی ، مگر بنیادی طور پر وہ اس س کے علاوہ کچھ اور بھی تھی کانگریس بے شمار ہندستانیوں کی گہری تمناؤں اورآرزؤوں کی ترجمانی تھی۔ |