All India Congress Committee - AICC
 

 

کانگریسیوں کے نام خط

ستمبر 2010

 پیارے دوستوں ،

مانسون سے مسلسل تباہی ہوتی رہی ہے۔ میں اترا کھنڈ اور اترپردیش کے دورے پر گئی تھی جہاں وسیع تر علاقہ میں سیلاب سے ہوئے نقصان کو دیکھا۔ سیلاب کے پانی سے اترپردیش بہار، ہریانہ اور پنجاب کے حصوں میں بھی تباہی ہوئی ہے۔ مرکزی حکومت ہر طرح سے مدد دے رہی ہے، لیکن ریاستی حکومتوں کو بھی یہ یقینی بنانا چاہئے کہ مرکزی امداد کا ان سیلاب زدگان کی باز آبادکاری کیلئے صحیح طریقے سے استعمال ہوجوراحت کیمپوں میں رہنے کےلئے مجبور ہیں۔ ہندوستان کے متعدد علاقوں میں قدرتی آفات نے پھر سے ہماری توجہ موثر وقدرتی آفات مینجمنٹ کا عمل شروع کرنے کی ضرورت کی طرف مبذول کرائی ہے۔
جموں وکشمیر میں گذشتہ کچھ مہینوں کے دوران تشدد وکشیدگی کی حالت قائم رہی ۔کئی سال بعد ایسا ہوا ہے۔اس سے قبل کی مدت کے دوران مسلسل استحکام قائم رہا اور کامیابی کے ساتھ جمہوری طریقے سے انتخابات ہوئے۔ ہمارے سیاسی نظام میں جموں وکشمیر کا خصوصی مقام ہے۔ یہ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔ اس لئے اس خطہ میں امن کی بہت اہمیت ہے۔ تشدد اس کا کوئی حل نہیں ہے اور اسے روکا جانا چائے۔خاص طورپر کشمیری نوجوانوں میں پیدا غصے کے اسباب کی طرف توجہ دی جانی چاہئے۔ ہمیں ان کی مناسب توقعات کی قدر کرنی چاہئے۔ وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے دہلی میں کل جماعتی میٹنگ منعقد کرکے ان کے مسئلے کے حل کے لئے موثر قدم اٹھایا ہے۔اس کے بعد وزیر داخلہ کی قیادت میں کل جماعتی نمائندہ وفد نے بھی جموں وکشمیر کا دورہ کیا ہے۔ اس وفد نے سرینگر اور جموں کے مختلف رہنماﺅں اور گروپوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ ہمیں امید ہے کہ مسلسل مذاکرات اور ٹھوس پالیسی کے نتیجہ میں تشدد کا جاری دور ختم ہوجائے گا۔ راحت کا اعلان 4 ستمبر کو مرکزی حکومت نے کیا تھا۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے 30ستمبر کو رام جنم بھومی بابری مسجد ملکیت کے معاملے میں اپنا فیصلہ سنایا ہے ۔ملک کے عوام کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے انہوں نے اس فیصلے کے تئیں ایک سنجیدہ اور پرامن رویہ اختیار کیا۔کسی بھی علاقہ سے کسی ناپسندیدہ واردات کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
کانگریس پارٹی، رام جنم بھومی بابری مسجد ملکیت معاملے میں عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہے۔ پھر بھی ہمیں اپیل دائر ہونے پر سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے۔ اس درمیان کانگریس پارٹی تنازعہ سے متعلق فریقوں کے ذریعہ خوشگواراور پر امن معاہدہ کی کوششوں کا استقبال کرتی ہے۔ یہ تذ کرہ کرنا اہمیت کا حامل ہے کہ اس فیصلے سے 6دسمبر 1992 کو بابری مسجد مسمار کئے جانے کا عمل معاف نہیں ہوجاتا ہے کیوں کہ وہ ایک شرم ناک مجرمانہ حرکت تھی جس کیلئے اس حرکت کو انجام دینے والوں کو سزا ضرور ملنی چاہئے۔ فرقہ پرست طاقتوں کے ذریعہ فیصلے کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کسی بھی کوشش سے قوم کے وسیع تر مفاد کا ہی نقصان ہوگا اوراس سے ملک کے رخ امن خیر سگالی کے جذبے کو نقصان پہنچے گا۔
کانگریس پارٹی کے سامنے اگلے چیلنج کے طو رپر بہار اسمبلی چناﺅ ہے۔ ہماری پارٹی کے لوگوں کو اپنے مخالفوں سے متحد ہوکر مقابلہ کرنا ہے۔ ایسا کرکے ہم اپنی تنظیم کو ہی مضبوط کریں گے اور پارٹی کو فتح سے ہم کنار کریں گے۔
آخر میں میں تمام پارٹی کارکنان اور ساتھیوں کو مجھ پر ازسرنو اعتماد کرنے اور صدارت کے عہدہ کے لئے انتخاب کرنے پر شکریہ ادا کرنا چاہوں گی۔ میں یہ عہدہ احترام وانکساری کے ساتھ قبول کرتی ہوں۔
یہ تہواروں کا موسم ہے۔ ہم نے ابھی ابھی مسلم بھائیوں وبہنوں کو عیدکی مبارکباددی ہے۔ میں دسہرہ اور دیوالی کے تہواروں کی بھی مبارکباد دیتی ہوں ۔

سونیا گاندھی

 


 

سوانح عمری

 تقریر

انٹر ویو/ گفتگو

گیلری

 ایثار  

مکرر ایثار  

کانگریسیوں کے نام خط

دستاویز

آرکائیوز
اسکرین سیور
 

Sitemap           Search           Feedback

© Copyright AICC 2009 | Privacy policy. Best viewed with IE 5 + browsers at 1024 X 768 resolution.