کانگریسیوں کے نام خط
اگست2010
پیارے دوستو،
اس سال برسات کے سبب ماضی کے مقابلے میں سیلاب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔کئی زندگیاں ختم ہوگئیں اور ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے، ہماری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں، جن کے افراد خانہ سیلاب کی تباہی کی زد میں آئے۔ لیہہ اور متصلہ علاقوں میں اس بار سیلاب سے زبردست تباہی ہوئی ہے۔ ان حالات سے مقابلہ کے لئے فوج نے جس طرح مستعدی سے کام کیا اور لوگوں کوراحت پہنچائی وہ قابل تعریف ہے۔ کئی نجی اداروں اوردیگر لوگوں نے بھی راحتی کاموں میں قابل تعریف کردار ادا کیا۔ کانگریس سیوادل کے کارکنان نے بھی لیہہ جاکر متاثرہ خاندانوں کو راحت رسانی کے کام میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ اس وقت سب سے اہم ضرورت اس بات کی ہے کہ سردیوں کے موسم کے آغاز سے قبل تعمیر نو کاکام پورا کیاجائے تاکہ لوگوں کو سردی سے بچایا جاسکے۔
پارلیمنٹ نے ایٹمی منظوری بل پاس کردیا ہے۔ ہندوستان کیلئے دنیا کے ملکوں کے ساتھ ایٹمی تجارت کرنا ہی ضروری نہیں ہے بلکہ ایک ایسا قانون بھی بے حد ضروری ہے جوایٹمی حادثے کی صورت میں متعلقہ فریقوں پر ذمہ داری عائد کرسکے۔ بھوپال جیسے کسی اور حادثے کونہ توہندوستان اب تسلیم کرسکتا ہے اورنہ ہی کرے گا۔ ہمارے وزیر داخلہ نے واضح طو رپر اس کا تذ کرہ کیا ہے کہ کس طرح اب تک کی سبھی سرکاریں بھوپال جیسے گیس سانحہ کے معاملہ میں خاطر خواہ قدم اٹھانے میں ناکام رہی ہیں۔ اب ہمیں مستقبل کی طرف دیکھنا ہے اوریہ یقینی بنانا ہے کہ اس سانحہ سے متاثر لوگوں کی دیکھ بھال اچھی طرح ہو۔
کچھ فیصلوں کا اعلان ہوگیا ہے اور پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں بھی کئی دیرپا نتیجوں پر فیصلے لینے کیلئے سرکار نے تیاری کررکھی ہے۔اراضی تحویل قانون ،نیاکھاد تحفظاتی بل، عام لوگوں اور کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کےلئے آمدنی ٹیکس میں ترمیم، محصول اکٹھا کرنے کیلئے نئے تیز گام قدم اور گڑبڑیوں کے خلاف آواز اٹھانے والوں کوپورا تحفظ دینے کا انتظام ان میں شامل ہیں۔ کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی نے مگری کے علاقے کو کانکنی کی سرگرمیو ں سے محفوظ رکھنے کا بھروسہ دلایا ہے۔انہوں نے سہولیات سے محروم طبقوں اور قبائلیوں کو یقین دلایا ہے کہ قدرتی وسائل کو نکالتے وقت ان کے بنیادی حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ راہل گاندھی کایہ اعلان کمزورطبقوں کی بہتری کیلئےکانگریس کے روایتی عزم کاازسرنواعادہ کرتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ مسلسل ترقی کا فائدہ محروم طبقوں تک پہنچنے اوران کی آواز سنی جائے، کرناٹک میں بدعنوانی اور غیر قانونی کانکنی کی وجہ سے ہورہی بربادی کے خلاف بھی کانگریس نے آواز اٹھائی ہے ۔ کانگریسوں نے بیلاری ضلع تک پیدل مارچ کیا۔ہم امید کرتے ہیں کہ ملک کے باقی علاقوں میں بھی کانگریسی ایسی غیر قانونی سرگرمیوں کو منظر عام پر لانے میں بہتر کردار اداکرےگی، جن سے ماحولیات اور گاﺅں میں رہنے والوں کی روزی روٹی پر منفی اثر پڑرہا ہو۔
یوپی اے سرکار نے حق اطلاعات قانون کے ذریعہ لوگوں کو حقوق میں بااختیار بنایا ہے ۔جب سے یہ قانون نافذ ہوا ہے ہزارہا عام لوگوں نے کار گر طریقے سے اس کا فائدہ اٹھایا ہے ۔افسوس کی بات ہے کہ اس قانون کی وجہ سے جن لوگوں کا پردہ فاش ہوا ہے وہ تشدد کے راستے اپنارہے ہیں۔ سرکاری اسکیموں میں ہونے والی بدعنوانیوں کو منظر عام پر لانے والوں کے قتل کی خبریں بےحد دردناک ہے۔ ایسے بہادر لوگوں کی حفاظت کے لئے سرکار نے حال ہی میں ایک قانون بنایا ہے۔اور ہم امید کرتے ہیں کہ غلطیاں درست کرنے، بدعنوانیوں کو منظر عام پر لانے اور حقوق کی حفاظت کرنے کے لئے اس قانون کا زیادہ سے زیادہ استعمال ہوگا۔ میں بھی کانگریسیوں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس تاریخی قانون کا بھرپور استعمال کریں اور اس کے ذریعہ بدعنوانیوں کا پردہ فاش کریں۔
سونیا گاندھی