All India Congress Committee - AICC
 

 

کانگریسیوں کے نام خط

اپریل 2010

 پیارے دوستوں ،

پارلیمنٹ کا اجلاس ایک بار پھر شروع ہوچکا ہے اور ہمارے سامنے پورا سال ہے۔ ہمیں کئی اہم موضوعات پر بحث کرنی ہے ۔مجھے امید ہے کہ بجٹ اجلاس 2010 کے آخری دور میں ہم اپنا قیمتی وقت برباد کرنے کے بجائے پارلیمنٹ کی کارروائی کا استعمال ملک کو درپیش مسائل کا حل نکالنے کےلئے کریں گے۔ ہمارے سامنے کئی اہم بل ہیں جن پر بحث کرنے اور اس اجلاس میں انہیں پاس کرانے کی ضرورت ہے ۔مجھے یقین ہے کہ اس اجلاس میں پارلیمنٹ کی کارروائی کو بامعنیٰ بنانے میں اپوزیشن ہمارے ساتھ تعاون کرے گا تاکہ حکومت کے کام میں تیزی آسکے۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارا ملک بڑے چیلنجوں کا سامنا کررہا ہے اور اس میں سب سے بڑا چیلنج مسلسل بڑھتی ہوئی غریبی اور چیزوں تک غریبوں کی رسائی نہ ہونا ہے ۔ حالانکہ ہماری حکومت غریبی کامقابلہ کرنے اور غریبوں کو بااختیار بنانے سے متعلق پالیسیاں لاگو کررہی ہے لیکن ابھی بھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔ 2004میں اقتدار میں آنے کے بعد سے یوپی اے سرکار نے سماجی ترقی سے وابستہ کئی اہم پروگرام شروع کئے ہیں۔ مہاتما گاندھی نریگااور حق اطلاعات کا قانون ہماری اہم حصولیابیوں میں شامل ہیں۔

غریبوں کو حقیقی ا ور با معنیٰ طور پر با اختیار بنانے کے جذبے کے ساتھ چلتے ہوئے ہم تعلیم کے حق کا قانون نافذ کرنے جارہے ہیں ۔ تعلیم کے حق کے قانون سے ہندوستان کے ہر شہری کو تعلیم حاصل کرنے کا بنیادی حق حاصل ہوگا۔ اس سے غریبوں اور حاشیہ پر چلے گئے لوگوں کو اعلیٰ تعلیم مل سکے گی ،جو انہیں ابھی حاصل نہیں ہے۔ ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ ہمارے نوجوان قومی ترقی میں حصے دار بننے کے لئے تیار رہیں اور ہندوستان کی مسلسل معاشی ترقی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے وسیع مواقع کا فائدہ اٹھائیں۔ ہماری حکومت اس قانون کو نافذ کرنے کے لئے پوری طرح عہد بند ہے ۔ ہمیں پوری امید ہے کہ ریاستی حکومتیں اس ابتدائی قانون کو پوری طرح لاگو کرانے کے لئے آگے آئیں گی اور یہ یقینی بنانے میں تعاون دیں گی کہ لال فیتہ شاہی اور بد عنوانی کے سبب طے شدہ نتائج متاثر نہ ہوں ۔

یوپی اے حکومت اس وقت ایک اور مسودہ قانون کو تیار کرنے میں مصروف ہے جس کا اثر ہمارے ملک میں غریبی اور محروم لوگوں پر نظر آئے گا۔غذا کے حق سے متعلق قانون کو آخری شکل دی جارہی ہے ،کھانے کی ضرورت پوری ہونا ایک بنیادی حق ہوگا۔

ہمارا ملک نکسل واد جیسے بڑے چیلنج کا سامنا کررہا ہے۔ چھتیس گڑھ میں حال ہی میں ہوئے ایک حملے میں سی آر پی ایف کے 73جوانوں کو کھونا پڑا۔ جن جوانوں نے اپنی جان قربان کی ہے ہم ان کے پسماندگان سے تعزیت کرتے ہیں ۔حالانکہ ہمیں دہشت انگیز کارروائی سے فیصلہ کن انداز میں اور سختی سے نپٹنا چاہئے لیکن نکسل واد کی جڑوں تک پہنچنا ضروری ہے ۔ نکسل واد کابڑھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے ذریعہ کی گئی ترقی کی کوششیں نچلے طبقوں تک ٹھیک طریقے سے نہیں پہنچ پارہی ہیں۔ خاص طور سے ہمارے سب سے پچھڑے آدی واسی ضلعوں تک ۔ اس لئے ہماری سرکار سب سے زیادہ پچھڑے اضلاع کے لئے زیادہ بامعنیٰ ترقیاتی اسکیمیں لاگو کررہی ہے ۔

وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کئی اہم بین الاقوامی میٹنگوں میں حصہ لیا۔ نیوکلیائی تخفیف اسلحہ کے موضوع پر تبادلہ خیال کے لئے وہ امریکہ گئے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ شری راجیو گاندھی ایک مساوی تخفیف اسلحہ کے حامی تھے۔ انہوں نے جون1988میں اقوام متحدہ میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا اور تب سے ہندوستان مسلسل اس موضوع پر بین الاقوامی سطح پر رائے عامہ بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ وزیر اعظم کو براسیلا میں آئی بی ایس اے اور بریکس چوٹی کانفرنس میں حصہ لینے کاموقع ملا،جہاں انہو ںنے برازیل ،جنوبی افریقہ ،چین اور روس کے سربراہان مملکت سے بات چیت کی ۔ یہ اہم علاقائی گروپ ہے جہاں نئے عالمی نظام میں ہندوستان اور دیگر ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں کو اپنی اہمیت میں اضافے کااحساس ہوتا ہے۔

اس مہینے ہم نے اپنے ملک کے آئین کے معمار ڈاکٹر بی آر امبیڈکرکا یوم پیدائش منایا جنہوں نے ہر ہندوستانی کی برابری خاص طور سے استحصال زدہ لوگوں کو حقوق کے لئے جدوجہد کی ۔ ان کے یوم پیدائش پر کانگریس پارٹی نے ایک عوامی تحریک کی شروعات کرکے انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے خیالات اور کاموں سے تحریک حاصل کرتے رہنے کا عہد کیا۔

آئیے مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھیں ۔ جے ہند!

 

سونیا گاندھی

 


 

سوانح عمری

 تقریر

انٹر ویو/ گفتگو

گیلری

 ایثار  

مکرر ایثار  

کانگریسیوں کے نام خط

دستاویز

آرکائیوز
اسکرین سیور
 

Sitemap           Search           Feedback

© Copyright AICC 2009 | Privacy policy. Best viewed with IE 5 + browsers at 1024 X 768 resolution.