کانگریسیوں کے نام ایک خط
جولائی2010
پیارے دوستو !
اس مہینے کئی اہم واقعات پیش آئے ۔
جموں و کشمیر میں حالیہ تشددہم سبھی کے لئے تکلیف دہ ہے۔ میں اس بے مقصد تشدد کا شکار ہوئے معصوموں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہوں۔میری دلی تعزیت ان کے خاندانوں کے ساتھ ہے۔ کشمیر میں امن واپس آ رہا ہے اور صوبائی حکومت کو امن قائم کرنے کے لئے تمام ضروری قدم اٹھانے چاہئیں ۔ میرا خیال ہے کہ تشدد کے ان واقعات کے پیچھے مفاد پرست عناصر کا ہاتھ تھا اور انہوں نے تشدد کے لئے لوگوں کو بھڑکایا ۔ ان عناصر کی شناخت کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے ۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ترقیاتی کاموں کو تیزی سے آگے بڑھایاجائے ۔ ترقی ہوتی ہے تو لوگوں کو روزگار ملتا ہے اور کام کے مواقع فراہم ہوتے ہیں۔ دہشت گردی اور تشدد پر قابو پانے کے لئے سب سے بڑا ہتھیار ترقیاتی کام ہیں۔
پاکستان کے ساتھ وزرائے خارجہ سطح پر ایک گفتگو کا دور ابھی ختم ہوا ہے۔ اسی طرح وزرائے داخلہ کے درمیان بھی گفتگو کا آغاز ہونا چاہئے۔ ہند ۔پاک رشتوں کو آگے بڑھانے کے لئے یہ قابل تحسین قدم ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے پڑوسی سے سرحد پار دہشت گردی جیسے اہم مسئلوں پر خاص طور سے گفتگو کریں ۔ ہم نے اس بات پرپھر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اچھے رشتوں کے قیام کے لئے یہ بحث ضروری ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف مؤثرکارروائی کرے۔ ہمیں اس بات پر مسلسل زور دینا چاہئے کہ پاکستان ممبئی پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کی جانچ کا معاملہ سنجیدگی سے لے اور اس بھیانک جرم کے قصورواروں کو قرار واقعی سزا دلائے۔ ہم امن کے سب سے بڑی حمایتی ہیں لیکن دہشت گردی کے معاملوں پر ہم کبھی نرمی نہیں دکھا ئیں گے۔
شہری سماج کے نظریے کو اہمیت دینے کے مقصد سے تشکیل قومی صلاح کار کونسل نے صحیح سمت میں اپنا کام شروع کیا ہے ۔کونسل کی تشکیل اسی لئے کی گئی ہے کہ محروم طبقات کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے سماجی پالیسیوں کی تعمیر میں حکومت کو اصولی اور قانونی طور پر تعاون دیا جاسکے۔مجھے امید ہے کہ کونسل ایسے راستوں کی تلاش اور مشوروں میں اپنا کردار صحیح طور پر نبھا سکے گی، جن سے حکومت کے اہم پروگراموں کو عام آدمی کے حق میں ترجیحی طور پرنافذ کیاجاسکے ۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حال ہی میں اضافہ ہوا ہے۔ قیمتوں میں اضافہ کبھی بھی کسی کو اچھا محسوس نہیں ہوتا پھر بھی کئی اسباب سے یہ کام کرنا پڑتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سماجی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے رقم ملے۔میں اس بات کا خاص طور سے ذ کر کرنا چاہتی ہوں کہ یوپی اے حکومت نے اب تک کے اپنے دورِحکومت میں ہمیشہ اس بات کی کوشش کی ہے کہ عالمی سطح پر بڑھ رہی تیل کی قیمتوں کے باوجود عام آدمی کو اس کے بوجھ سے بچایاجائے ۔ جب کہ این ڈی اے حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں پیٹرول کی قیمتوں میں31 باراور ڈیژل کی قیمت میں28مرتبہ اضافہ کیا تھا ۔ لیکن یوپی اے سرکار نے قیمتوں پرگہری نظررکھی اور 6سال کے عرصے میں صرف 9 بار قیمتوں میں تبدیلی آئی ہے۔ یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ ملک بھر میں کانگریسی یہ سمجھیں کہ قیمتوں میں حالیہ اضافہ کیوں ضروری تھا اور پھر بھی کس طرح اس اضافے کو کم از کم سطح پر رکھا گیا۔یہ بات سبھی کو جاننی چاہئے۔
بہار میں جلد ہی اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔بہار کے انتخابات ہمارے لئے بہت اہم ہیں۔گذشتہ 6 برسوں میں ہماری حکومت نے متعدد ترقیاتی منصوبوں کے لئے بہار کو دی جانے والی رقم میں اضافہ کیا ہے۔ پارٹی رضاکاروں کو یہ پیغام گھر گھر پہنچانا چاہئے ۔ اگر ہم متحد ہوکر اور مل جل کر اس کام کو کریں گے تو کانگریس کو بہار میں ایک نئی زندگی مل جائے گی۔ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن بھی شروع ہونے والا ہے۔قانون سازی کے کاموں کو مکمل کرنے کی طویل فہرست ہمارے سامنے ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس اجلاس میں پارلیمنٹ کاکام بغیر کسی رکاوٹ کے چلے گا اور پارلیمانی جمہوریت کی بہترین روایت کے مطابق قانونی کام کاج کو پورا کرنے پر خاص توجہ دی جائے گی۔ میں کانگریس کے تمام ہی ممبران پارلیمنٹ سے اس کام میں اپنامثبت کردار اداکرنے کی اپیل کرتی ہوں۔
سونیا گاندھی