| انقلاب 1857 ہندوستان کی آزادی کی پہلی جنگ 2007 کو ہندوستان کی آزادی کی پہلی لڑائی کی150 ویں سال گرہ کے طور پر دیکھا جانا چاہئیے- اسے انگریز حکومت کے خلاف ہندوستانیوں کی بغاوت کے طور پر دیکھا گیا ہے- یہ ہندوستان کی بغاوت کی شکل میں منگل پانڈے کے ذریعہ بیر کپور میں 29مارچ 1857 میں کی گئی بغاوت سے شروع ہوا- یہ پلاسی کی جنگ1757کے ٹھیک ایک صدی بعد پیش آیا جہاں اڑیسہ، بہار اور بنگال کے آخری حکمراں نواب سراج الدولہ کو غداروں کے تعاون سے انگریزوں نے شکست دے کر اس علاقے پر اپنا تسلط قائم کر لیا- اس کے فورا بعد میرٹھ میں پوری ایک ریجیمنٹ نے انگیزوں کے خلاف بغاوت کردیا اور اس کی آگ پورے شمال اور وسطی ہندوستان میں پھیل گئی، رانی لکشمی بائی اور دیگر حکمرانوں نے اس لڑائی میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے نمائندگی کی اور اسے ایک ملک گیر شکل دے دی جو دہلی تک پہنچ گئی۔ جہاں تمام ہندوستانیوں نے علاقائی مذہبی اور سماجی اختلافات سے اوپر اٹھ کر بہادر شاہ ظفر کو اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا- آزادی کی پہلی لڑائی میں ہندو مسلم اتحاد کا مضبوط اور انوکھا منظر دیکھنے میں آیا جو ہماری تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے جس سے آنے والی نسلوں کو امید، ہمت اور سبق حاصل ملے گا- انگریز حکومت نے اس بغاوت کو ظلم اور اپنی طاقت سے دبا دیا لیکن اس نے ملک کے عوام کو بہادری، قربانی اور ملک پروری کے جذبے سے سرمشار کردیا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اتحاد واتفاق کی عظیم دولت سے مالا مال کردیا جس نے ہندوستان میں جمہوریت اور سیکولر اقدار کی بنیاد رکھی اور آئین ہند میں بھی اپنا مقام بنا یا- 1944 میں نہرو جی نے احمد نگر قلعہ کے جیل سے جہاں انگریزوں نے انہیں قید کیا تھا کہا'' یہ فوجی بغاوت سے زیادہ تھا اور جلد ہی اس نے ایک ملک گیرآزادی کی تحریک کی شکل اختیار کر لی- بغاوت کی اس صدی کے موقع پر 10 مئی 1957 کو پنڈت جواہر لال نہرو نے ایک بڑے جلسے کو خطاب کیا اور اس لڑائی سے ملک کو ذاتی، مذہبی اور علاقائیت سے اوپر اٹھ کر ایک مضبوط اور ہم آہنگ ہندوستان بنانے میں اپنی قربانیاں دینے کی گزارش کی- آزادی کی پہلی لڑائی کے بعد انگریز حکومت نے انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا اور بھید بھاؤ کی پالیسی اختیار کر کے تعلیم، حکومتی خدمات اور مسلح افواج میں ہندوستانی معاشرہ میں نقب لگایا- کانگریس پارٹی نے انگریزوں کی بھید بھاؤ کی پالیسی کے خلاف لڑائی لڑی اور آج بھی کانگریس پارٹی فرقہ واریت کے خلاف لڑائی لڑرہی ہے- ہندوستان کی آزادی کی پہلی لڑائی کے 150 سالوں کے بعد اپنے مادر وطن کی آزادی لئے اپنی زندگی قربان کرنے والےشہیدوں جو تمام مذاہب فرقے اور علاقوں سے تعلق رکھتے تھے کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انڈین نیشنل کانگریس یہ عہد کرتی ہے کہ وہ ہندوستان کی وحدت کو قائم رکھے گی اور تمام مذاہب وذاتوں کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی بنائے رکھے گی- |