| ہندوستان میں عام آدمی وہ شخص ہے جو نظام کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں رکھتا خواہ غریب ہے یا امیر، ہندو، مسلم،سکھ یا عیسائی، تعلیم یافتہ یا غیر تعلیم یافتہ اگر وہ نظام کے ساتھ مربوط نہیں وہ ایک عام آدمی ہے۔ ہم اسے عام آدمی کہتے ہیں لیکن درحقیقت وہ ایک مثالی شخصیت ہے۔ وہ بڑی صلاحیتوں ذہانت اور طاقت کامالک ہے۔ وہ اپنی زندگی کے ہر دن میں اس ملک کی تعمیر کرتا ہے لیکن پھر بھی ہمارا نظام اسے ہر قدم پر کچلتا ہے۔ ہم اس وقت تک ایک قوم کی تعمیرنہیں کر پائیں گے جب تک کہ ہم عام آدمی کو تسلیم کرنا اور اس کا احترام کرنا شروع نہیں کریں گے۔ ہم ہر گز ایک قوم کی تعمیر نہیں کر پائیں گے جب تک کہ ہم ایک ایسا نظام تشکیل نہیں دیں گے جس میں اس آدمی کی ترقی جس کو وہ جانتاہوپرمبنی نہ ہو بلکہ جو کچھ وہ جانتا ہے اس پر مبنی ہو۔ یہ ہماری نئی نسل کا چیلنج ہے۔ | ”ہم سب ایک شاندار ماضی والی پارٹی ہیں ہم سب مستقبل کی پارٹی ہیں،اس لئے ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ ہر ایک ہندوستانی کی امید کو پورا کرے۔ یہ ہماری پکار اور احساس فرض ہے۔ اس مکمل اجلاس سے یہ پیغام جانے دیجئے کہ کانگریس اپنی طاقتوں سے باخبر، اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے۔ ہم سب مل کر اپنی طاقتوں کو مضبوط بنائیں گے۔ ہم سب مل کر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔ ہم سب مل کر پوری کوشش کریں گے کہ خود کو ایسا قابل اعتماد ثابت کر دیں کہ عوام ہم پر اعتماد کرتے رہیں۔“ |