-
انڈین نیشنل کانگریس ایسی سیاسی پارٹی ہے جس نے ملک کی جنگ آزادی میں قائدانہ رول ادا کیا تھا اور اس کی قیادت میں آزاد ہندوستان کو ایک ناقابل شکست عالمی طاقت کا مقام حاصل ہوا ہے۔ جمہوریت کے حقیقی جذبہ کے تحت امریکہ کے ساتھ 123معاہدہ پر چل رہی بحث کا پارٹی خیر مقدم کرتی ہے۔
-
جوال لال نہرو کی قیادت میں ہندستان نے ایٹمی توانائی پروگرام کی شروعات کی تھی اور بین الاقوامی تعاون اس پروگرام کا ایک لازمی عنصر تھا۔ ہندستان نے اس پروگرام کے لئے امریکہ، کناڈا، فرانس اور اس وقت کے سوویت روس سے مدد حاصل کی تھی۔
-
ہندستان کے دفاع سے متعلق مفادات کا خیال رکھتے ہوئے اور نیوکلیائی متبادل کو کھلا رکھتے ہوئے اندرا گاندھی کی قیادت میں ہندستان نے نیوکلیائی عدم توسیع معاہدہ پر دستخط کرنے سے اس بنیاد پر انکار کردیا تھا کہ یہ معاہدہ امتیازی سلوک پر مبنی ہے۔
-
انڈین نیشنل کانگریس نے ہمیشہ سے ہی قومی مفاد ات کو سیاست سے بالا تر رکھا ہے۔ اس نے ہندستان کی یکجہتی اور اس کی آزادی کی حفاظت کی ہے اور اس کا بھی حق محفوظ رکھا ہے کہ بین الاقوامی امور پر رد عمل ظاہر کرتے وقت اس کا حق ہے کہ اس کے فیصلہ کا عمل آزاد ہو۔ کانگریس پارٹی ہندستان کی آزادی اور اس کے تمام قومی مفادات کے تحفظ کے لئے ہمیشہ سختی سے پابند عہدہے اور رہے گی۔
-
l 1974 ۔ اندرا گاندھی کی بیباکانہ قیادت میں ہندوستان نے پر امن مقاصد کے لئے ایک ایٹمی دھماکہ کیا تھا۔ اس کے نتیجہ میں پوری دنیا نے ہندوستان کے ساتھ ایٹمی تعاون ختم کردیا لیکن ہندوستان نے اپنی تکنیکی مہارت کی بنیادپر ایٹمی پروگرام کی ترقی کو جاری رکھا۔ امریکہ کی قیادت میں ایک نیوکلیائی سپلائر گروپ کی تشکیل کی گئی جس کا بنیادی مقصد ہندوستان کو نیوکلیائی تکنیکی سازو سامان اور آلات سے محروم رکھنا تھا۔
-
l 1998 مئی 1998میں ہندستان نے اپنے نیوکلیائی متبادل کا استعمال کیا۔ یہ اس لئے ممکن ہوسکاکیونکہ سالوں سے کانگریس کی حکومت اس بات کے لئے پابند عہد تھی کہ قومی دفاع اور اسٹریٹجک آزادی کو مضبوط کرنے کے مفاد میں کم ازکم قابل اعتماد نیوکلیائی طاقت کی ترقی ہونی چاہئے!
-
سال 2004کے لوک سبھا انتخابات کے لئے کانگریس چناوی منشورمیں اس عہد کا اعادہ کیاگیا تھا”ایک قابل اعتماد ایٹمی اسلحہ پروگرام کو جاری رکھتے ہوئے دنیا کو ایٹمی اسلحہ سے پاک کرنے کے لئے قائدانہ رول ادا کرے گی اور دنیا میں نیوکلیائی اسلحہ سے آزاد عالمی نظام کے لئے کام کرے گی۔
-
2005 - جولائی کے مشترکہ بیان کے تحت ہندستان نے برابری کے اصول کی بنیاد پراپنی ذمہ داریاں اور عمل کے نظام کو نبھانے کا اور ان فائدوں کو حاصل کرنے کا فیصلہ لیا جو دیگر ایسے ترقی یافتہ نیوکلیائی تکنیک کے حامل ممالک کو دستیاب ہیں جیسے کہ امریکہ۔
-
یہ معاہدہ ہندوستان کو ایک ایسی ریاست جس کے پاس ترقی یافتہ نیوکلیائی تکنیک ہے کے خصوصی زمرہ میں رکھتا ہے اور امریکہ کی طرح ہی دونوں فریق کو ”وہی فائدہ اور مواقع“ فراہم کرتاہے اور ہندوستان کو ایک نیوکلیائی طاقت کے طور پر تسلیم کرتاہے۔
-
123 قرار کے تحت مکمل سو ل نیوکلیائی توانائی تعاون کا انتظام ہے۔ اس قرار میں وہ سبھی باتیں شامل ہیں جو مارچ 2006 کے وعدوں میں کہی گئی ہیں۔ اس میں ایندھن کی فراہمی کی یقین دہانی ہے۔ اس کا مستقبل میں دفاعی طریقوں سے تعلق اور اس میں رکاوٹ پیدا ہونے کی حالت میں درستگی کے طریقوں کا بھی ذ کر ہے۔ اس میں اس کا بھی انتظام ہے کہ ہندوستان کے ایٹمی ری ایکٹر کو تاحیات ایٹمی ایندھن کے لئے ایک خصوصی فنڈ تیار کیا جائے گا جس سے ایندھن کی فراہمی میں کسی طرح کی رکاوٹ کا مقابلہ کیا جائے۔ یہ قرار ہندوستان کو اس بات کا حق دیتا ہے کہ وہ استعمال کئے گئے ایندھن کو دوبارہ استعمال کرسکے۔
-
یہ واضح ہے کہ 123معاہدہ ہمارے نیوکلیائی پروگرام کی آزادی کی قیمت پر نہیں ہے۔ یہ ہمارے تین سطحی نیوکلیائی پروگرام کی قیمت پر بھی نہیں ہے اور نہ ہی ہماری ترقی اور ریسرچ کی قیمت پر ہے۔ ہماری سرکار ان تینوں باتوں کے لئے پابند عہد ہے۔
-
123 معاہدہ کسی بھی طرح ہندوستان کے ذریعہ ایٹمی تجربہ کے حق پر کوئی اثر نہیں ڈالے گا۔ ایسا کرنا ہندوستان کے قومی مفاد میں ہے۔ مستقبل میں کوئی ایٹمی تجربہ کرنے کا فیصلہ ہمارا اپنا آزادانہ فیصلہ ہوگا اور پوری طرح ہندوستان سرکار پر منحصر ہوگا۔
-
123 معاہدہ ہندوستان پر کوئی پابندی نہیں لگاتا کہ اسے سی ٹی بی ٹی ایف ایم سی ٹی پر دستخط کرنا پڑے۔ لیکن ہم نیوکلیائی تجربہ پر رضاکارانہ طریقہ سے روک کے لئے پابند عہدہیں ہم نیوکلیائی عدم توسیع کانفرنس میں ایف، ایم، سی ٹی پر سمجھوتہ مذاکرات کرنے کے لئے پابند عہدہیں۔
-
ہندوستان کی ذمہ داری صرف 123قرار کی شرائط اور انتظامات میں محدود ہے ہائیڈ ایکٹ ایک ایسا قانون ہے جو امریکی انتظامیہ کو ہندوستان کے ساتھ دوطرفہ نیوکلیائی تعاون کے لئے معاہدہ کرنے کے واسطے سمجھوتہ مذاکرات کرنے کا اہل بناتاہے۔
-
سرکار نے 123 قرار کو لیکر امریکہ کے ساتھ مذاکرات بڑی ہی شفا فیت کے ساتھ کئے ہیں اس سلسلہ میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بحث ہوئی ہے۔ حکومت نے اپنے حلیف، معاونوں اور سائنسدانوں کے ذریعہ ظاہر کی گئی تشویشات اور فکر کو دور کیا ہے۔
-
متحدہ ترقی پسند محاذ حکومت اور کانگریس پارٹی دونوں ہی تین سطحی نیوکلیائی پروگرام کے تئیں اور ملک میں بڑی مقدار میں دستیاب تھوریم کے ذخیرہ کو استعمال کرنے کے لئے پابند عہد ہے۔
-
l اگر ہم اپنے ملک سے غریبی مٹانے کا نشانہ پورا کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے لئے یہ انتہائی اہم ہے کہ ہم اپنی موجود ہ 8.10 فیصد سالانہ معاشی ترقی کی شرح کو بنائے رکھیں۔ ہندوستان کی شرح نمو کو زیادہ رفتار دینے میں توانائی کی فراہمی میں کمی ایک اہم رکاوٹ ہے۔ اس تناظر میں نیوکلیائی توانائی ہی ایک منطقی متبادل ہے اور اس کے ذریعہ سے ہمارے توانائی فراہمی پروگرام میں ایک بہت بڑا مدد گار ہوسکتا ہے۔ آج نیوکلیائی توانائی سے ہمیں صرف 3فیصد (3700 Mwe) توانائی حاصل ہوتی ہے۔ جب کہ فرانس جیسا ملک اپنی ضرورت کا 80فیصد حصہ نیوکلیائی توانائی سے حاصل کرتا ہے۔ سال 2020 تک اپنے ملک کی ایٹمی توانائی پیدا وار کو بڑھاکر2020 میگاواٹ تک لے جانے کے لئے ہمارا بلند خوا ہشاتی منصوبہ ہے اور اسے سال 2030 تک دوگنا کرنے کا ارادہ ہے۔
-
مستقبل میں ہم دیگر قابل تجدید توانائی کے ذرائع اور دیگر ذرائع سے توانائی کی پیداوار بڑھانا چاہتے ہیں۔ اس کے ذریعہ ہندوستان توانائی سیکورٹی اور ماحولیات کی حفاظت کی دوہری ذمہ داریوں کا سامنا کرے گا۔
-
نیوکلیائی تکنیک، آلات اور سازوسامان دستیاب ہونے کے بعد ہندوستان کو اس کا بہت فائدہ حاصل ہوگا۔ کیونکہ اس کی وجہ سے ہندوستان کے سبھی ری ایکٹر پوری صلاحیت کے ساتھ چل سکیں گے۔ اور بھی نئے ری ایکٹر تیزی سے قائم کئے جائیں گے۔ اس کے نتیجہ میں زیادہ توانائی کی پیداوار ہو گی اور جس کا مطلب ہوگا ہمارے کسانوں، گاؤں اور صنعتوں کے لئے زیادہ بجلی۔
-
123 قرار دو ممالک کے درمیان دوبرابری کے ساجھیدار وں کا سمجھوتہ ہے۔ اس سے دیگر ممالک کے ساتھ جیسے کہ فرانس، روس سے بھی سول نیوکلیائی توانائی تعاون کی راہ کھل جائے گی۔
-
کانگریس پارٹی نیوکلیائی عدم توسیع اور عالمی سطح پر دنیا کو ایٹمی اسلحہ سے مکمل پاک کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے اور یہ واضح کرتی ہے کہ اس کی بنیاد وہی ہونی چاہئے جسے راجیو گاندھی نے 1988میں اقوام متحدہ کے ایٹمی اسلحہ سے پاک دنیا پر خصوصی اجلاس میں تجویز پیش کی تھی۔