All India Congress Committee - AICC
 

انڈین نیشنل کانگریس
24، اکبرروڈ
نئی دہلی۔ 110011انڈیا
فون۔ 23019080 -011
فیاکس ۔23017047

Hindi
English
Search
 

 

زرعی قرض کی معافی اب 72000 کروڑ روپے تک

کانگریس کا ہاتھ

ان داتا کے ساتھ

امسال اپنی بجٹ تقریر میں جب وزیر خزانہ پی چدمبرم نے 4 کروڑ سے زیادہ کسانوں کو احاطہ کرنے والی 60,000 کروڑ روپے کے زرعی قرض کی معافی کی حوصلہ مندانہ اسکیم کا اعلان کیاتو اسے ایک تاریخی فیصلہ قرار دے کر سراہا گیا۔ سچ تو یہ ہے کہ کسی بھی حکومت نے کبھی اتنی زیادہ تعداد میں پریشان حال کسانوں کو براہ راست نقد راحت پہنچانے کے لیے ہمت نہیں کی تھی۔

لیکن متحدہ ترقی پسند اتحاد کی چیئرپرسن محترمہ گاندھی اور وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ جی کی لائق قیادت کے تحت قومی معیشت چار سال سے 9 فیصد سالانہ سے زیادہ شرح سے بڑھی ہے۔ اس کے نتیجہ میں متحدہ ترقی پسند محاذ کے پاس ٹیکس دہندگان پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر کسانوں کو راحت پہنچانے کے لیے وسائل موجود ہیں۔ معیشت کی حالت اتنی اچھی ہے کہ ٹیکس دہندگان کو بھی بڑی راحت مہیا کروائی گئی ہے۔

لوک سبھا میں بحث کے دوران اپنی تقریر میں کل ہند کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری راہل گاندھی نے کانگریس کے دیگر ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ قرض معافی اسکیم سے متعلق دو برمحل نکات پیش کئے۔ چونکہ مستحق کسانوں کے لیے 2 ہیکٹیر کی موجودہ سیلنگ زمینی پیداواریت کے زمرہ میں نہیں آتی اور بہت کم سینچائی والے علاقوں بالخصوص ودربھ جیسے خشک زمین والے علاقوں کے مستحق کسانوں کو قرض معافی کی اسکیم سے نکالتی ہے۔ انھوں نے تجویز پیش کی کہ زمین کی سیلنگ پیداواریت پر مبنی ہونی چاہیے۔ پیداواری سلسلوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے انھوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ ادائیگی کی آخری تاریخوں کی حد تک مقامی حالات کے تحت طے کی جائے تاکہ ہر ایک مستحق کسان قرض معافی سے فائدہ اٹھا سکیں۔

اسی طرح ترمیم شدہ قرض معافی اسکیم کا اعلان کیا گیا۔ اب یہ زیادہ جامع اور فائدوں پر مشتمل ہے۔ اسکیم مجموعی طور پر 72000 کروڑ روپے کی قرض معافی کی پیشکش کرتی ہے۔ اس کی خاص جھلکیاں مندرجہ ذیل ہیں۔

·                    چھوٹے کسانوں اور متوسط کسانوں کے لیے مکمل قرض معافی

·                    یہ معافی مختصراتی فصل قرضوں اور سرمایہ کاری کریڈٹ پر غیر ادا شدہ قسطوں کا بھی احاطہ کرے گی۔

·                    مختصر مدتی پیداواری قرضوں کے لیے رقوم جو 31 مارچ 2007 تک تقسیم کی گئیں اور غیر ادا شدہ قسطیں 31 دسمبر 2007 کو اور باقی ماندہ غیر ادا شدہ 28 فروری 2008 تک قرض معافی کے لیے مستحق ہیں۔

·                    سرمایہ کاری قرضوں کے لیے ایسے غیر ادا شدہ قرضوں کی قسطیں مع سود تمام قرضوں کے لیے مستحق ہیں جو 31 مارچ 2007 تک تقسیم کئے گئے اور اور ڈیو 31 مارچ 2007 تک اور باقی غیر ادا شدہ 28 فروری 2008 تک۔

·                    متوسط کسان 1 ہیکٹر یا 2.5 ایکڑ زیر کاشت زرعی زمین والے کو سمجھا جاتا ہے۔

·                    چھوٹے کسان 1 ہیکٹر اور 2 ہیکٹر کے درمیان یعنی 5 ایکڑ سے کم کاشت والی زمین والے کسان کو سمجھا جاتا ہے۔ بیشتر ریاستوں میں چھوٹے اور متوسط کسان تمام کسانوں کے 70 تا 94 فیصد کے درمیان ہیں۔

·                    دوسرے کسان یعنی 5 ایکڑ یا 2 ہیکٹیر زمین سے زیادہ والے مالک ایک وقتی قسط راحت حاصل کریں گے۔

·                    تمام خشک اور غیر سینچائی شدہ زمینیں ان اضلاع میں پڑتی ہیں جنھیں اکثر خشک سالی سے متاثر علاقہ کے پروگرام میں شامل کیا گیا ہے، جسے ڈی پی اے پی اور ریگستانی ترقیاتی پروگرام (ڈی ڈی پی) بھی کہا جاتا ہے۔ ایسے اضلاع کی مجموعی تعداد 237 ہے۔

·                    ان 237 اضلاع میں دوسرے کسانوں کے لیے ایک وقتی قسط راحت 25 فیصد یا 20,000 ہوں گے جو بھی زیادہ ہو اور 25 فیصد نہ ہو جیسا کہ بجٹ میں اعلان ہوا ہے۔

·                    اس کا مطلب ہے دوسرے کسانوں کے لیے بڑی راحت بطور مثال اگر کسی کسان کا اوور ڈیو اصل پیکیج کے تحت 20,000 روپے ہے، اسے 5000 روپے حاصل ہوں گے، اب کسان 20,000 روپے کی قرض معافی پائے گا ۔ اگر پہلے کسان کا بقایا قرض 60,000 روپے ہے، پہلی پیکیج کے تحت وہ 15,000 روپے حاصل کرے گا، اب وہ 20,000 روپے کی قرض معافی پائے گا۔

·                    اوسطاً ان علاقوں میں بڑے کسان (5 ایکڑ سے زیادہ زمین والا) تقریباً 19,908 روپے کا مختصر مدتی مفصل قرض رکھتا ہے اور سرمایہ کاری قرض کا اوسط حجم 13224 ہے۔ ان اعداد کے مطابق ان 237 اضلاع میں 60 تا 65 فیصد بڑے کسان نہ صرف 25 فیصد راحت حاصل کریں گے بلکہ مکمل قرض معافی بھی۔

سادہ عمل درآمد، واضح رہنما خطوط

·                    کوئی درخواست، کوئی سرٹی فکیٹ کہ تیاری نہیں، کوئی دستاویز منسلک نہیں کرنا۔ کچھ نہیں کرنا

·                    ہر ایک برانچ منیجر کو دو فہرستیں تیار کرنی ہیں۔

·                    پہلی فہرست چھوٹے اور متوسط کسانوں کے لیے ہوگی جو مکمل قرض معافی حاصل کریں گے۔

·                    اس فہرست میں کسان کا نام، قرض کی رقم جو اس کے ذمہ واجب الادا ہے اور قرض کی کل معافی درج ہوگی۔

·                    دوسری فہرست دوسرے کسانوں پر مشتمل ہوگی۔ ایک وقتی قسط راحت 25 فیصد اور کچھ ضلعوں میں 25 فیصد یا 20,000 روپے جو زیادہ ہو، ہوگی۔

·                    دونوں فہرستوں کو قطعی شکل دی جائے گی اور فہرستیں قرض دینے والے ادارے کی شاخ کے نوٹس بورڈ پر لگا دی جائیں گی۔

·                    کوئی بھی کسان بینک شاخ تک جا کرفہرست دیکھ سکتا ہے۔ وہ اپنا نام یا تو قرض معافی فہرست یا قرض راحت فہرست میں پائے گا اور قرض معافی یا قرض راحت کی رقم بھی اس فہرست میں شائع کی جائے گی۔

·                    فہرست بینک تیار کرے جوکہ نوٹس بورڈ پر لگا دی جائے گی اور قرض معاف۔ کسان کو کچھ نہیں کرنا ہے۔

·                    ایک وقتی قسط راحت کی صورت میں کسانوں کو 75 فیصد باقی ادا کرنا ہے۔ وہ 30 جون 2009 سے قبل باقی رقم تین قسطوں میں ادا کر سکتا ہے۔

·                    30 جون 2009 تک دوسرے کسان کی بقایا رقم پر کوئی سود نہیں لگایا جائے گا۔

·                    کسانوں کو کوئی شکایت ہو جیسے فہرست میں اس کا نام صحیح درج نہیں یا اس کا نام فہرست میں بالکل نہیں تو ایسی صورت میں وہ شکایات کے ازالہ کے افسر کے پاس شکایت کر سکتا ہے۔

·                    ہر ایک بینک سے کہا گیا ہے کہ اپنے زون کے ہر ایک ضلع میں شاخوں کی تعداد کو ملحوظ رکھتے ہوئے جتنا ضروری ہو شکایت ازالہ افسران مقرر کریں۔ شکایت براہ راست بینک کو یا شکایت ازالہ افسر کو بھیجی جا سکتی ہے۔

·                    تمام شکایات کو جمع کیا جائے گا اور ان کے ازالہ پر نظر رکھی جائے گی۔

·                    تمام شکایتوں کا ازالہ 30دن کے اندر کردیا جائے گا۔

·                    یہ ایک سادہ اوررکاوٹ سے پاک طریقہ کار ہے۔

·                    جس لمحہ قرض معافی ہو جاتی ہے اور قرض راحت مل جاتی ہے کسان کو بینک کی شاخ کی طرف سے ایک سند جاری کر دی جائے گی کہ اسے قرض معافی یا قرض راحت دی جا رہی ہے۔

·                    صرف ایک کاغذ جو کسان کو سنبھال کر رکھنا ہے، وہ سرٹی فکیٹ ہے جو اسے حاصل ہوگا۔

·                    اس اسکیم سے 4,30,00,000 کسان مستفید ہوں گے جو 70 تا 94 فیصد ہیں۔ قرض معافی 30 جون 2009 تک مکمل ہو جانی ہے۔

 

 

غربت سے نجات خیرات یا قسمت کا معاملہ نہیں ہے، یہ ایک حق ہے

راہل گاندھی ، جنرل سکریٹری اے آئی سی سی

 


 

Sitemap           Search           Feedback

© Copyright AICC 2009 | Privacy policy. Best viewed with IE 5 + browsers at 1024 X 768 resolution.