All India Congress Committee - AICC
 
 
 

حفاظتی ایجنڈا


 



(قوم کو درپیش امور)

سلامتی، دفاع اور خارجہ پالیسی


1۔ بی جے پی \ این ڈی اے کی ناکامیاں

بی جے پی کی زیرقیادت این ڈی اے حکومت کی کارکردگی قومی سلامتی ،خارجہ پالسی اوردفاع کےمعاملےمیں سنگین ناکامیوں سےعبارت ہے۔ این ڈی اے حکومت نےمسلح افواج ٹالے جاسکنے والے بحرانوں میں مبتلا کیا خواہ وہ کرگل رہاہو یا تقریباً سال تک ہندپاک سرحد پر مسلح افواج کی بے سود تعیناتی جس پر بے پناہ اخراجات کرنے پڑے۔

بی جے پی \ این ڈی اے حکومت کرگل لڑائی کےبعد تشکیل دی گئی ماہرین کی کئی کمیٹیوں کےذریعے پیش کردہ متعدد سفارشات کے باوجود دفاعی افواج کی اصلاح اور تشکیل نو کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا ۔

بی جے پی \ این ڈی اے حکومت ہماری دفاعی افواج سے متعلق آلات اورانتظامی سہولتوں کی جیدید کاری اورتجدید کرنے میں ناکام رہی۔ یہ حکومت مسلح افواج کی اعلاکمان سے متعلق اداروں کی تشکیلہ نو کرنے میں بھی ناکام رہی جب کہ کرگل لرائی کے بعد اس قسم کی اصلاح اور تشکیل نو کیلئےقومی اتفاق رائے موجود تھا۔ وہ دفائی افواج کی جدید کاری کے لئے پارلیمنٹ کےذریعےمنظورکردہ تقریبا 24000 کروڑ کی رقم کا موثر استعمال نھی نہیں کرسکی ۔ دفاع کواعلا ترجیح دینےکےبلند بانگ دعووں کے باوجود جی ڈی پی میں دفاعی اخراجات کا تناسب اب تک سب سےکم یعنی 2۔12 فی صد ہوگیا۔ دیکھ ریکھ کے کام میں بڑے پیمانے پر کوتاہی بربرتی گئی جس نتیجےمیں بڑی تعداد میں فضائیہ کے طیارے حادثےکےشکار ہوئے اور آردیننس ڈپوز میں آتش زدگی کے واقعات پیش ائے۔

ہندستان کے قومی انٹلیجنس اداروں کے بندبست کے معاملے میں بھی بی جے پی \ این ڈی اے حکومت کی کارکردگی حد درجہ پست رہی ہے انڈین اہئر لائنز کے طیارے کو کٹھ منڈو سے قندہار اغواکئے جانے کے معاملے میں اور کرگل میں پاکستانی فوج کو دراندازی سے پہلے ہی روک دینے کی غرض سے قبل از وقت انٹلیجنس کے حصول اور استعمال میں ناقابل معافی کوتاہی برتی گئی۔

بی جے پی \ این ڈی اے حکومت انٹلیجنس ایجنسیوں اور مسلح افواج اور وزارت خارجہ کے درمیان ضروری رابطوں میں یقینی بنانے میں ناکام رہی۔ ان کوتاہیوں کی اصلاح کے سلسلےمیں سبرمینیم کمیٹی جیسےماہرین کے گروپوں کی سفارشات الماریوں میں گرد کھارہی ہیں ،جن پرکوئی بھی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

بی جے پی \ این ڈی اے کے پاکستان سے متعلق پالیساں تضادات اورذہنی الجھاؤ کا مظہر ہیں۔ لاہور ہو یا آگرہ بی جے پی \ این ڈی اے حکومت پیشگی تیاری کا ذرا بھی ثبوت نہیں دیا جس کےتباہ کن نتائج ظاہر ہوئے۔ دور اندیشی کی اس کمی کے سبب لاہور کے بعد کرگل اور آگرہ کے بعد ہندپاکستن تعلقات میں کشیدگی میں اضافے کا ایک نیا مرحلہ پیش آیا۔ بی جے پی \ ین ڈی اے حکومت پاکستان کے زیر اہتمام دہشت گردی کی روک تاھم اور اس سے نمٹنے میں پوری طرح ناکام رہی۔

بی جے پی \ این ڈی اے حکومت کی پاکستان سے متعلق پالسی متضاد انتہاؤں اور ابہام سے عبارت رہی ہے۔ وزیر اعظم واجپئی کے دورہ لاہو ر کے بعد کرگل میں پاکستان کی دغابازی سامنے آئی ۔ اس کے باوجود ،جنرل مشرف کو آگرہ سربراہ ملاقات کے لئے مدعو کی گیا جو بری طرح ناکام رہی ۔ اس کے بعد پارلیمنٹ پر دہشت گردوں کا حملہ ہوا جس پر جناب اٹل بہاری واجپئی نے اعلان کیا۔‘‘ اب ہندستان اس پاکستانی مصیبت کا خاتمہ کرکے دم لے گا۔‘‘ اس کے چند ماہ بعد ہی اچانک پاکستان کے ساتھ امن کی پینگیں بڑھائی جانے لگیں ۔ وزیراعظم کا یہ دعوہ مضحکہ خیز ہے پاکستان کےساتھ تعلقات کو معمول پر لانا ان کی اہم ترین کامیابی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وزیر اعظم اور ان کی حکومت پاکستان کے ساتھ معاملہ کرنے میں نقطہ نظر کی وضاحت ، مستقل مزاجی اور یقین سےمحروم رہی ہے۔

بی جے پی \ این ڈی اےحکومت کی امریکہ سے متعلق پالیساں بھی اتنی ہی تشویشنا رہی ہیں۔ تادم تحریر ،وزیر خارجہ جناب جسونت سنگھ اور امریکی وزیرخارجہ جناب اسٹروب ٹالباٹ کے درمیان کئی دور کی بات چیت کے نتائج کے بارے میں ملک کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ہندستان جیسے عظیم ملک کو امریکہ کے ساتھ ماتحتی کارشتہ رکھنے کی پستی تک پہنچادیا ہے جس میں امریکہ کو ہندستان کا کوئی پاس ولحاظ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ یہ اس بات کا نتیجہ ہے کہ بی جے پی \ این ڈی اے حکومت ہندستان کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے اہم اور نازک امور پر مناسب توجہ دئے بغیر ترجیحات اور پالییوں سے مطابقت پیدا کرنےکو تیار ہوگئی ۔ حال ہی میں امریکہ کی جانب سےاس اعلان کے بعد پاکستان اس کا غیر ‘ناٹو‘حلیف ہے بی جے پی کے ہند امریکہ تعلقات میں تصورات کی تبدیلی سےمتعلق دعوے کی قلعی کھل گئی ہے۔ اس اعلان نے حکومت ہند کو حیرت زعہ کردیا۔ اس کے بعد حکومت ہند کی جانب سے کیا گیا احتجاج بہت کمزوراور یقین واعتبار سے محروم تھا، بی جے پی \ این ڈی اے حکومت نے ہماری قومی سلامتی پر پاکستان اورامریکہ کے درمیان اثرات کے بارے میں قوم کواعتماد میں نہیں لیا ۔ ان بڑے پیمانے پر پھیلے ہوئے اندیشوں کو بھی رفع کرنے میں ناکام رہی کہ ہندستان نے ہند پاکستان تعلقات میں امریکہ کے ثالثی کے کردار کو تسلیم کرلیا ہے۔

بی جے پی \ این ڈی اے حکومت کی جموں وکشمیر پالیسی واضح نہیں رہی ہے۔ ایک زمانے میں اس کا خیال تھا کہ جموں و کشمیر میں بنیادی مسئلہ پاکستان کے زیر اہتمام سرحد پار دہشت گردی اور بالواسطہ جنگ ہے اور یہ کہ س موضوع پر کوئی گفتگو نہیں کی جاسکتی جب تک کہ سرحد پار دہشت گردی بند نہ ہوجائے۔ مگر اس کے باوجود بی جے پی \ این ڈی اے حکومت پہلے لاہور میں اور حال ہی میں اسلام آباد میں جموں و کشمیر کی علاقائی حیثیت کے بارے میں پاکستان سے بات چیت پر رضا مند ہوگئی ۔ جموں و کشمیر میں رائے عامہ کے مختلف نمائندوں سے بات چیت کے معاملے میں بھی ، اس کے طریقہ کار میں کوئی تو اثر یا شفافیت نظر نہیں آئی ۔ بی جے پی \ این ڈی اے حکومت نے وقتاً فوقتاً مختلف سیاسی گروپوں کے ساتھ جموں و کشمیر کے مستقبل کے بارے میںبات چیت کے لئے کئی خصوصی ایلچی مقرر کئے مگر ان کے اختیارات اور دائرہ عمل کے بارے میں کبھی بھی ملک کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اسی لئے اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ سنجیدہ گفتگو کی فضا قائم نہیں ہوسکی اور حریت جیسے علاحدگی گروپوں کے سااتھ بات چیت آگے نہیں بڑھ سکی۔

آخری بات یہ کہ بی جے پی \ این ڈی اے حکومت نے جان بوجھ کر اور شرارت آمیز طریقے سے پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو ہمارے اپنے سماج کو خانوں میں باٹنے اور بڑے تعداد میں ملک کے مردوں اور عورتوں کی حب الوطنی کو مشکوک بنانے کےلئے استعمال کیا۔ نائب وزیر اعظم کابیان ریکارڈ پرپے کہ صرف بی جے پی ہی پاکستان کے ساتھ رشتہ امن قائم کرسکتی ہے کیوں کہ اس سےوہ ملک کی مذہبی اکثریت کے لئے قابل قبول ہوجائے گی ۔ یہ ایک خطرناک اور تباہ کن خیال ہے اور اس دوقومی نظریے ، کی توسیع ہے جسے کوئی آٹھ دہائی پہلے آر ایس ایس نے پیش کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ جن سنگھ \ بی جے پی ہے جو ہمیشہ پاکستان ( اور چین) کے ساتھ مصالحت کی تمام سنجیدہ کو ششوں میں رخنہ اندازی کرتی رہی ہے ۔ وہ اپنے اسی رخنہ اندازی والے ماضی سے لاتعلق نہیں ہوسکتی۔

2، کانگریس ایجینڈا

دفاع

ہندستان کی علاقائی سالمیت اور اتحاد کو کسی بھی طاہری یا پوشیدہ حملے سےمحفوظ رکھنا حکومت کی سب سے بڑی ذمے داری ہے۔ اس مقسد کے لئے رجیحات پر قطعی اتفاق رائےکے ساتھ واضح دفاعی پالیساں وضع کرنا ضروری ہے۔ ملک کی مسلح افواج کو تمام ضروری وسائل کے فراہمی کے ذریعے طرح تیاری کی حا لت میں رکھنا بہت اہم ہے۔

کانگرس ، اگر اقتدار میں آئی ، تو

١۔ وہ ملک کے دفاعی اداروں اور مسلح افواج کی اصلاحات اور تشکیل نو سے متعلق سفارشات کو تیزی کے ساتھ روبہ عمل لائے گی۔
٢۔ کانگریس ڈیفنس ملڑی کو تینوں افواج (آرمی ، بحریہ اور فضائیہ ) کے ہیڈ کوارٹر سے مربوط کرے گی جس میں فوجی افسروں دفاعی پالیساں وضع کرنے اور قومی دفاع کے اعلاتر بندوبست کے عمل میں شرکت کاموقع دیا جائے گا۔
٣۔ کانگریس ملک کے دفاع کے لئے تمام ضروری مالی و سائل مختص کرے گی جس میں ملک کو درکار دفاعی ٹکنالوجی کی تحقیق اور فروغ اور جدید کاری کے لئے خصوصی رقم شامل ہوگی۔ ڈی آر ڈی او کے کام کاج پر نظر ثانی کی جائے گی تاکہ اس میں ایک نئی فعالیت پیدا کی جاسکے۔
٤۔ کانگریس قومی دفاع کے لئے انسانی وسائل کو فروغ دینے اور استعمال کرنے کے اقدامات کرے گی۔
٥۔ کانگریس ہندستن کی نیوکلیائی اور میزائل صلاحیتیوں سے متعلق اعلا تر کمانڈ کو تحریک دینے کے لئے تمام ضروری قدم اٹھائے گی۔
٦۔ کانگریس بطور خاص ایشائی خطے میں سلامتی کے بدلتے ہوئے ماحول کے پس منظر میں ان صلاحیتوں کے تحفظ اور انہیں ایک مناشب سطح پر برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی۔
٧۔ کانگریس مسلح فواج کےئ کارکنوں کی مالزمت کی شرائط اور حالات میں بہتری لانے کی کوشش کرے گی۔
٨۔ کانگریس ملک کی افواج کے سبک روش اہل کاروں اور ان کے گھر والوں کی باز آبادکاری اور بہود پر بھی خصوصی توجہ دے گی ۔ وزارت دفاع میں سابق فوجیوں کی بہبود سے متعلق ایک علاحدہ محکمہ قائم کیا جائے گا اور سابق فوجیوں کے کوآپریٹیو اداروں کو بڑے پیمانے پر دست کاری ، خواندگی ، راشن کی دکانوں کے بندسبست وغیرہ قومی تعمیر کے مشاغل میں شریک کیا جائے گا۔
٩۔ کانگریس تنظیمی امور پر توجہ دے گی جو مسلح افواج کو ایک عرصے سے متاثر کررہے ہیں اور مسلح افواج کے اداروں میں بھرتی کے ذریعے مناسب سطحوں کو یقینی بناکر ان مسائل کو حل کرنے کے لئے با مقصد اقدامات کرے گی۔
١٠۔ کانگریس قومی دفاع کی ان اعلاذمے داریوں کے پیش نظر جو مسلح افواج انجام دیتی ہیں ان کی تنخواہوں اور پنشن کو معقول تر بنائے گی تاکہ مسلح افواج کے اہل کاروں کو زیادہ فائدہ پہنچ سکے۔

قومی سلامتی

کانگریس قومی سلامتی کے معاملے کو خالص فوجی مقاصد کے محدود دائرے میں نہیں دیکھتی ۔ اس کے سیاسی ، اقتصادی اور ترقیاتی ، پہلوؤں پر بھی نظر رکھتی ہے۔

کانگریس ایک جامع ، کثیر رخی قومی سلامتی پالسی وضع اور نافذ کرے گی جس میں توانائی کی سلامتی ، غذائی سلامتی ، اچھی حکمرانی اور ملک کو درپیش مرکز گریزانہ رجحانات جیسے اہم امور کا احاطہ کیا جائے گا۔

بی جے پی \ این ڈی اے حکومت کے ذریعے کئے گئے ادارہ جاتی انتظامات نمائشی نوعیت کے تھے۔ حقیقی لحاظ سے، مرتب اور منظم ادارہ جاتی انتظامات کے ذریعے سلامتی کو مرکزی اہمیت نہیں دی گئی ۔ قومی سلامتی نے کونسل ، جو1999 میں قائم کی گئی تھی، ادارہ جاتی ربط و اتحاد کے ساتھ کام نہیں کیا۔ قومی سلامتی سےمتعلق اہم فیصلے محض چند افراد کی شرکت سےغیرمستقل انداز سےکئےگئے جن میں سلامتی سے متعلق کابینہ کمیٹی ، اسٹریٹجک پالسی گروپ ( جوکلیدی اہمیت کے سکریڑیوں ، افواج کےسربراہوں اورانٹلیجنس ایجینسیوں کے سربراہوں پر مشتمل ہے ) اور قومی سلامتی مشاورتی بورڈ ( این ایس اے بی ) کے افسروں کو شریک نہیں کیا گیا۔ اسڑیٹجک پالسی گروپ اور قومی سلامتی مشاورتی بورڈ کے درمیان کوئی منظم ربط وتعلق نہیں رہا۔ اسی طرح قومی سلامتی مشیر اور این ایس اے بی کے درمیان بھی پابندی کے ساتھ کوئی ربط و تعلق نہیں رہا۔

کانگریس سلامتی سے متعلق کا بینہ کمیٹی کے اجلاس پابندی کے ساتھ کرائے جانے کو باضابطہ شکل دے گی۔ وہ قومی سلامتی مشیر ، اسٹریٹجک پالیسی گروپ اور قومی سلامتی مشاورتی بورڈ کے درمیان منظم اور ادارہ جاتی ربط و تعلق کو یقینی بنائے گی۔

کانگریس حکومت ہند کی انٹلیجنس ایجنسیوں اورقومی سلامتی مشاورتی بورڈ اور اسی کے ساتھ انٹلیجنس ایجنسیوں اور وزارت دفاع وخارجہ کے درمیان ضروری فربطے کو یقینی بنائے گی۔

کانگریس وقفے وقفے سے قومی سلامتی کے لئے ذمے دار مختلف اداروں کے کام کاج کے آڈٹ اور اصلاح کے لئے قدم اٹھائے گی ۔ وہ بالخصوص حکومت ہند کی انٹلیجنس ایجنسیوں کی تشکیل نو کرے گی تاکہ کثیر رخی مہارتوں کو شامل کرکے ان کی انسانی وسائل کی بنیادوں کو بہتر کیا جاسکے ۔ کانگریس مناسب جدید تکنیکی آلات او سہولتوں کی فراہمی کے ذریعے انٹلیجنس ایجینسیوں کی عملی صلاحیتوں کی جدید کاری کو یقینی بنائے گی۔

کرگل لڑائی کے بعد انٹلیجنس ایجنسیوں کی اصلاح سے متعلق ماہرین کے گروپ کی سفارشات کو ، جو گذشتہ چار برس سے گرد کھا رہی ہیں روبہ عمل لایا جائے گا۔ کانگریس انٹلیجنس ایجیسیوں کی موثر کارکردگی ہی نیں ان کی جواب دہی کو بھی یقینی بنائے گی۔

ہندستان کے کئی حصوں میں دہشت گردی اور باغیانہ سرکرمیاں سلامتی کے نقطئہ نظر سے سنگین مسائل کے طور پر ابھری ہیں ۔ شمال مشرق اور وسطی ہندستان کے قبائلی علاقوں میں انتہا بسند گروپوں کی سرگرمیاں سنگین چیلنج ہیں ۔ کانگریس دہشت گردی اور باغیانہ سرگرمیوں کے دوہرے چیلنج سے موثر انداز سے نمٹنے کے لئے ایک جامع اور کثیر رخی حکمت عملی روبہ عمل لائے گی۔ قومی سلامتی کے نیٹ ورک کو جدید اور چست درست بنایا جائے گا اور انٹلیجنس کے حصول ، بنیادی انسانی حقوق کے احترام اور پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی جس سے سلامتی کے عمل کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔

خارجہ پالسی

ایک تبدیل ہوتی ہوئی اور اتھل پتھل کے شکار دنیا میں ہندستان کے قومی مفادات کے پیش نظر، بیرونی تعلقات کے بندوبست کے سلسلے میں ہندستان کی آزادی انتخاب کو برقرار رکھنا کانگریس کا اہم ترین مقصد ہوگا۔ یہ ہندستان کی خارجہ پالسی کا جوہر ہے جس پر جواہر لال نہرو نے قومی اتفاق رائے پیدا کیا تھا، ایک ایسا اتفاق رائے جسے بی جے پی \ این ڈی اے حکومت میں زمانے میں زائل کردیا گیا۔
کانگریس ، ریاستوں کے درمیان مساوات ، امن پسندی ، اقتصادی بہبود اور سمجھ بوجھ کا عنصر داخل کرے گی تاکہ وہ بین الا قوامی صورت حال کی تبدیلیوں اور طاقت کےھ عالمی توازن کا سامنا کرسکے۔

کانگریس ہندستان اور دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان ، دونوں کے باہمی فائدے کے لئے ، برابری کے رشتے قائم کرنے کو سب سے زیادہ اہمیت دے گی تاکہ یک طرفگی کے رجحانات میں کمی لائی جاسکے اور ایک ایسا عالمی نظام تشکیل دیا جاسکے جس میں ریاستوں کے درمیان تعلقات متوازن رہیں ۔

کانگریس امریکہ ، ہورپی یونین ، روسی وفاق ، چین ، جاپان اور آسیان ملکون کے سااتھ تعلقات کو اعلا اہمیت دے گی۔

کانگریس ہندستان اور اس کے قریبی پڑوسیوں کے درمیان تعلقات کو پروان چڑھانے اور وسیع تر کرنے کو اعلاترین ترجیح دے گی۔

کانگریس ، جنوب ایشیا کی تنطیم برائے علاقائی تعاون ( سارک) کو تقویت دے گی اور اس کی سرگرمیوں کو وسیع ترکر گی تاکہ اسے امن ، استحکام اور جنوبی ایشیا کے عوام کی فلاح و بہبود کے مقاصد کے لئے ایک موثر علاقا ئی تنظیم بنایا جاسکے ۔ کانگریس ایک جنوب ایشیائی پارلیمنٹ تشکیل دینے کے لئے کام کرے گی۔ وہ آبی بندوبست ، توانائی اور دیگر اہم امور سے متعلق اہم علاقائی پراجمت روبہ عمل لائے گی۔

کانگریس ہندستان اور امریکہ ، ہورپی یونین ، روس ، جاپان اور آسیان ملکوں کے درمیان اسٹریٹجک رشتوں مین بہتری اور توسیع کے لئے کام کرے گی۔

کانگریس 1972 کے تاریخی شملہ سمجھوتےاور1996 تک مختلف کانگریس حکومتوں کے ذریعے کئے گئے معاہدوں اور اعتماد ساز اقدامات کے دائرے میں رہتے ہوئے مگر اس کے ساتھ ہی ہندستان کے دفاعی تقاضوں کے بارے میں چوکنا اور پاکستان کی طرف سے پیش آنے والے کسی بھی خطرے کا جواب دینے میں ثابت قدم رہتے ہوئے ، پاکستان کے ساتھ ایک مستحکم ، عملی اور باہمی تعاون پر مبنی رشتہ استوار کرنے پر خصوص ی توجہ دے گی۔

وسطی ایشیا، مغربی ایشیا اور خلیج کے خطے کی خصوصی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ، کانگریس ان خطوں کے ملکوں کے ساتھ سیاسی ،اقتصادی اور تکنالونی کے دائروں میں اشتراک وتعاون کو فروغ دینے کے لئے کام کرے گی۔

کانگریس چین کے ساتھ ہندستان کے تعلقات کو معمول پر لانے، مضبوط اور وسیع تر کرنے کا عمل جاری رکھے گی کیونکہ چین ایشیا کی سلامتی اوراستحکام کو متاثر کرنے والا اہم ترین ملک ہے ۔ کانگریس چین کے ساتھ مستحکم اور باہمی تعاون اور استفادے پر کبنی تعلقات کو یقینی بنانے کے لئے 1988 سے 1996 تک کانگریس حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ کانگریس منظم اور مسلسل بات چیت کے ذریعے چین کے ساتھ سرحدی امورکا عملی انداز سے تصفیہ کرنے کے لئے بامقصد طورپر پیش قدمی کرے گی۔

کانگریس اقوام متحدہ اور اس کے آدرشوں اور مقاصد سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔ کانگریس اقوام متحدہ کے نظام کی اصلاح ، بین الاقوامی امن وسلامتی کے قیام میں اس کےمرکزی کردار کی بحالی اور اقوام متحدہ کی رکنیت میں اضافے کے پیش نظر اس کے داروں کو زیادہ نمائندہ بنانے کو اعلا اور ترجیحی اہمیت کا معاملہ سمجھتی ہے۔

کانگریس ، اگر اقتدار میں آئی تو ان مقاصد کے حصول کے لئے اقوام متحدہ کے دیگر رکن ملکوں کے ساتھ بامقصد مذاکرات کا سلسلہ شروع کرے گی۔

کانگریس ہمارے خطے میں اور دوسرے مقامات پر ہونے والی سیاسی اور اقتصادی تبدیلیوں کے پیش نظر ناوابستگی کی پالسی کو ایک نئی سمت دے گی۔

ہندستان کی نیوکلیائی اسلحہ اور میزائل صلاحیتوں کے پیش نظر نیو کلیائی اسلحہ کےحامل دیگر ملکوں کے ساتھ ہندستان کے تعلقات کا بندوبست ایک اہم معاملہ ہے ۔ ایک ذمے دار نیوکلیائی اسلحہ کے حامل ملک کی حیثیت سے ہندستان کے اعتبار میں اضافہ کرنے اور اسی طرح کے دیگر ملکوں کے ساتھ مساوات قائم کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی، تاکہ بین الاقوامی سلامتی کے ماحول کو مستحکم کیا جاسکے ۔ کانگریس پاکستان اور چین کے ساتھ نیوکلیائی اور میزائل تصادم کے اندیشوں کو کم سے کم کرنےکی غرض سےمعاہدوں کی صورت میں معتبر ، شفاف اور لائق توثیق اعتماد ساز اقدامات کے سلسلے میں پیش قدمی کرے گی۔ اسی کے ساتھ ہی کانگریس اجتماعی ہلاکت کے ہتھیاروں کے خاتمے سے متعلق ایک مقرر میعاد والے غیر امتیازائی بین الاقوامی معاہدے کےلئے بی عہد بند ہے۔ کانگریس اس مقصد کے تحت موثر بین الاقوامی سمجھوتون کےلئے صلاح مشورے اور مذاکرات میں شریک ہوگی۔

کانگریس بین الاقوامی دہشت گردی کو زبردست اور شدید تشویش کا حامل معاملہ سمجھتی ہے ۔ کانگریس اس خطرے کی کسی بھی شکل کا مقبلہ کرنے کے لئے تمام تر بین الاقوامی اقدامات کی تائید کرے گی۔

کانگریس ہندستان کے خلاف کئےجانے والے دہشت گردانہ تشدد کا سختی سے ، فیصلہ کن انداز میں اور فوری جواب دے گی۔ کانگریس افریقہ ، جنونی امریکہ اور لاطینی امریکہ کے ملکوں کے ساتھ تعلقات استوارکرنے پر خصوصی اہمیت دے گی۔ ایشیا پیسفک خطے کے ملکوں مثلاً آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے ساتھ تعلقات فروغ دینے پر بھی اتنی ہی اہیمت دی جائے گی ۔

کانگریس دیگر علاقائی گروپوں مثلاً آسیان اور اے پی ای سی کے ساتھ ہندستان کے تعلقات کو مضبوط تر کرنے سے متعلق بامقصد کوششوں کی تجدید کرے گی ۔ کانگریس ایک ایسے بین الاقوامی اقتصادی نظام کے قیام کے لئے کوشش کرے گی جس میں ڈبلو ٹی او کا انتظام ہو ۔

فروغ پذیر معیشت ، انصاف پر مبنی سماج
بھوک اور بے روزگاری سے رہائی
کانگریس پارٹی کااقتصادی نظریہ

حصہ ۔1 تعارف ؛ ہمار ریکارڈ

کانگریس واحد قومی سیاسی پارٹی ہے، اور رہی ہے جو ہمارے لوگوں کے تمام طبقوں ،تمام ذات برادریوں، تمام مذاہب اور تمام لسانی اور ثقافتی گروپوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ آج ہندستان دنیا کی سب سےھبری معیشتوں میں شامل ہے جس کے پاس بھاری صنعتوں پر مشتمل ایک وسیع صنعتی بنیاد ہے اور ایک بڑا بنیادی ڈھانچہ ہے، جس نے زرعی انقلاب کے ذریعے غذائی خود کفالت حاص کرلی ہے اور جو ایک زبردست سائنسی اور تکنیکی انفرادی قوت سے لیس ہے ۔ کانگریس مغرور نظر آئے بغیر یہ سب کرنے کا اعزاز حاصل کرسکتی ہے۔

کانگریس ہی وہ پارٹی ہے جو حقیقی معنوں میں اچھی حکمرانی دے سکتی ہے ۔ ملککے اتحاد اور سالمیت کو محفوط رکھ سکتی ہے اور مستحکم پالیسوں اور پالیسی سازی اور پالسی اصلاحات کی آزمودہ مہارتوں کے ساتھ سلامتی کا ماحول فراہم کرسکتی ہے ۔ ہماری پالیسوں میں 1950، 1960 ، 1970 اور 1980 کی دہائیوں کے دوران تبدیل ہوتی ہوئی عالمیصورت حال کے پیش نظر ترمیم کی جاتی رہی اور 1990 کی دہائی کے دوران ان میں زیادہ ڈرامائی تبدیلیاں لائی گئیں ۔ لیکن اس کےباوجود ہم پوری دیانت داری کے ساتھ ان تبدیلوں کو اقتصادی ترقی اور سماجی انصاف کے مقاصد سے ہم آہنگ رکھنے میں کامیاب رہے۔

ہماری قومی معیشت آج ایک ایسے مرحلے میں ہے جب درست پالیسوں اور انہیں روبہ عمل لانے والی صحیح حکومت کی موجودگی میں ہم سالانہ 10 فی صد تک کی بلند شرح سے اقتصادی نمو کرسکتے ہیں او راگلے دس برس میں بے روزگاری ، غریبی ، بھوک ، ناخواندگی کاخاتمہ کرسکتے ہیں اور ملک بھرمیںتمام لوگوں کے لئے ابتدائی صحت کی فراہمی کو یقینی بناسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہم اپنے کسانوں کو خوش حال بناسکتے ہیں ، اپنے دلتوں ، پسماندہ طبقوں ، قبائلیوں اور کم مراعات یافتہ اقلیتوں کی صلاحیتوں کو فروغ دے کر بہتر مواقع فراہم کرسکتے ہیں اور اس طرح دولت پیداکرسکتے ہیں ، اور عورتوں کو بااختیار بنا سکتے ہیں ۔

حصہ ۔2 ہندستانی معیشت کی تبدیلی اور اقتصادی اصلاحات کا نفاذ


ہم نے 1980 سے 1997 کے دوران ہندستانی معیشت کی شکل تبدیل کی اور اسے تیز رفتار نمو کی راہ پر ڈال دیا۔ آٹھویں منصوبے کے گذشتہ تین برسوں کے دوران ، شرح نمو 7۔5 فی صد تک جا پینچی ۔ اگر یہ رجحان برقرار رہتا تو نویں منصوبے کی مدت کے دوران (2002-1997 ) شرح نمو 7۔5 فی صد کے قریب بہنچ جاتی ۔ مگر غیر کانگریس حکومت اور بی جے پی کےاس اقتدار کےان برسوں کے دوران شرح نمو 5۔5 فی صد تک گرگئی جو چھٹے منصوبی کی مدت (1985 - 1980 ) سے بھی کم تھی۔

غیر کانگریس حکومتکیبد انتظامی کے نتیجے میں ملک اپنی امکانی صلاحیتوں کے مقابلے میں پیداوار کابھاری نقصان سہنا پڑا ۔ نویں منصوبے ( 2002-2003 ) کے بعد کے ایک سال کے دوران شرح میں مزید گراوٹ آئی اور وہ 5.4 فی صد سے کم ہوگئی ۔ اس سال ملک کو 170000 کروڑ روپے سے زیادہ کی امکانی پیداوار کا خسارہ برداشت کرنا پڑا۔

خوش قسمتی سے اس سال بہتر مانسون کے طفیل زرعی پیداوار بڑھ گئی ۔ ایسا پہلے بھی کئی بار ہو چکا ہے۔ حالیہ تاریخ کی صرف دومثالیں دیکھئے ۔ ( 1997-1996 ) کے دوران زرعی نمو 8.8 فی صد تھی جب کہ اس سے پہلے سال منفی شرح سامنے آئی تھی ۔ اس طرح 1988-1989 میں زراعت میں 4.15 فی صد کا اضافہ ہوا جب کہ اس گذشتہ سال منفی نمو ( ٪ ١) سامنے آئی تھی ۔ مگراسے اطمئنان بخش نمو کی بنیاد کا عمومی اشاریہ نہیں مانا جاسکتا۔

تسلسل کے ساتھ تبدیلی

آزادی کے بد کے برسوں میں دنیا کے مخالفانہ فوجی اتحاد ہماری آزادی کو چنوتی دے رہے تھے ۔ سیاسی اور سلامتی کو ماحول بھی تیسری دنیا کے بیشتر ملکوں کو حاصل ہونے والی نئی نئی آزادی کے لئے ایک خطرہ بنا ہوا تھا ۔ ناوابستہ تحریک اس ماحول کا مقابلہ کرنے کی ضرورت کی پیداوار تھی اور جواہرلال نہرو کے تحت ہندستانی قیادت اس میں پیش پیش تھی۔ اقتسادی ترقی میں خود کفالت اور عالمی اجارہ داریوں یا بالا دستیوں کے خلاف اجتماعی مزاحمت نے ہمیں اپنے عوام کی بھلائی کے لئے خود مختاری کے ساتھ فیصلے کرنے کا اعتماد بخشا۔

کانگریس کی پاللیسوں کے نتیجے میں 1980 اور 1990 کی دہاہیوں کےدوران ملک کی شرح نمو میں بھاری اضافہ ہوا ۔ ان پالسیوں کے سبب خط افلاس کے نیچے زندگی گذارنے والوں کی تعداد کے تناسب میں بھی بھاری کمی آئی ۔ 1980 کی دہائی کے دوران ہماری اقتصادی پالسیوں کو ایک نیا رخ دیا گیا اور یہ عمل 1996-1991 کے دوران تیز تر ہوگیا ۔ ان پالیسی اصلاحات کی کامیابی کا دار ومدار صرف عالمی اقتصادی ماحول کی تبدیلیوں پر ہی نہیں ان اصلاحات کی منصوبہ بندی اور نفاذ کے طریقوں پر بھی تھا۔ وسیع سرکاری زمرے کی بنیاد نے صنعت و تجارت کے روایتی اور نئے ابھرتے ہوئے دائروں میں جراء ت مندانہ پیش قدمی کے لئے زمین فراہم کی ۔ ہماری اصلاحات کے تین پہلو قابل غور رہے ہیں ۔

پہلا یہ کے شروع ہی سے اقتصادی ترقی معہ سماجی انصاف کو واضح طور پر ان اصلاحات کا مقصد قرار دیا گیا۔ کانگریس پارٹی کے لئے اقتصادی ترقی ہمیشہ سے سماجی تبدیلی ،غریبی کے خاتمے ( غریبی بٹاؤ ) ، کمزور اور ہسماندہ طبقوں کو اوپر اٹھانے ، تعلیم ، صحت اور رہائشی انتظامات کے فروغ ، خاص طور سے ان لوگوں کےلئے جنہیں بازار کی فراہم کردہ خدمات تک رسائی حاصل نہیں ہے، عورتوں کی با اختیار کاری اور مثبت اقدامات اور خصوصی پروگراموں کے ذریعے دلتوں ، اقلیتوں ، درجہ فہرست ذاتوں اور درجہ فہرست قبائل کے تحفظ کا ذریعہ رہی ہے۔

دوسرے یہ کہ اقتصادی پالیسوں کے تحت بازار کی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے عمل ردّ عمل کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی ۔ لائسنس اور پابندیوں کو جو اس زمانے میں ضروری تھیں جب قومی اور بین الاقوامی بازار بہت زیادہ ترقی یافتہ نہیں تھے اور بازار کے عمل کی خامیاں دولت اور آمدنی کی نا انصافیوں میں اضافے کا سبب بنی رہی تھیں ،1980 کی دہائی میں خیر باد کہہ دیا گیا اور 1990 کی دہائی میں یہ عمل تیز تر ہوگیا ۔ مگر اصلاحات کی رفتار اور ترتیب اس طرح رکھی گئی کہ بازار کی طاقتیں ان تبدیلیوں کے ساتھ مطابقت پیدا کرسکیں اور ان کے فوائد ان پر ہوری واضح ہوجائیں ۔ اصلاحات کے سلسلےنے معیشت کی نمو اور خط افلاس سے تنیچے زندگی گذارنے والے لوگوں کی تعداد میں کمی لانے میں کامیابی حاصل کی تو ان کی عام قبولیت میں اضافہ ہوا اور انہیں نظام میں جذب کرنے کےعمل کو فروغ حاصل ہوا۔ جب 1991 کے بیرونی بحران کے جواب میں کانگریس حکومت نے جامع اور زیادہ تیز رفتار اصلاحات کا سلسلہ شروع کیا تب بھی اصلاحات کے مختلف پہیلوؤں کی آمیزش اورترتیب کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا گیا ۔ یہ بات کہ ان اصلاحات کے نتیجےمیں اقتصادی نمو کے لئے بہتر میکرو اقتصادی حالات پیدا ہوئے ہیں اب دنیا بھرمیں بڑے پیمان پر تسلیم کی جارہی ہے۔

اصلاحات کے اس عمل کی تیسری خصوصیت پالیسوں کا استحکام اور ان پالیسون کو روبہ عمل لانے والی حکومت تھی۔ اب یہ بھی تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ بازار کے عاملوں کی پیداوار یا سرمایہ کاری سے متعلق طرز عمل سب سے زیادہ پالسی میں ہونے والی تبدیلیوں سے وابستہ توقعات سے متاثر ہوتاہے۔ کانگریس حکومت اور اس کی پالسیوں کے استحکام نے حالات کو استحکام بخشا اور بازار کے عاملوں نے اس استحکام میں نہایت مثبت رویہ ظاہر کیا۔

اس کےاثرات واضح طور پر1993 سے 1996 کے درمیان تجی سرمای کاری میں زبردست اضافے کی صورت میں دیکھے جاسکتے ہیں ۔ تیز رفتار اصلاحات جاری کئے جانے کے بعد جلد ہی صنعت اورزراعت کے شعبوں میں نجی سرمایہ کاری میں تیز رفتار اضافہ ہوا ۔ 1992-1991 اور1996 -1995 کےعرصوں کے دوران نجی سرمایہ کاری میں اضافے کی شرح 17۔5 فی صد رہی۔ گذشتہ چند ماہ کے دوران بی جے پی حکومت کے ‘‘فیل گڈ ‘‘ عوامل کے بارے میں ہونے والے شور شرابے کے باوجود ، اب بھی اس بات کےشواہد بہت کم ہیں کہ نجی زمرے نے اس سے متاثر ہوکر اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہو۔ دست یاب اعداد و شمار سے ظاہر ہوتاہے کہ سرکاری اور نجی دونوں قسم کی سرمایہ کاری میں قابل لحاظ گراوٹ آئی ہے 1996-1995 میں سرمایہ کاری کے نقطئہ عروج کے بعد جی ڈی پی کے ایک حصے کے طور پر ظاہر کیا گیا۔


اقتصادی اصلاحات کار کی حیثیت سے، بی جے پی کی ناکامیاں

بی جے پی حکومت کامیاب اصلاحات کی مذکورہ بالا تینوں خصوصیات میں سے کسی کی بھی اہل قرار نہیں دی جاسکتی ۔ پہلی بات یہ کہ ان لوگوں کا ذہن اصلاحات کےنصب العین اور مقاصد یا ان سے متعلق اپنےعزائم کے بارے میں واضح نہیں تھا۔ کانگریس کے برخلاف ، بی جے پی نہ تو ہندستان کی جدید کاری کے کسی ورثے کی حامل تھی اورنہ معیشت کے ایسےجامع فروغ کی علم بردار تھی جس سماج کےتمام طبقوں کو فائدہ پہنچے۔ جب اصلاحات جاری کی گئی تھیں تو بی جے پی کے وہ لیڈر،جو آج حکومت کی سربراہی کررہے ہیں ، اصلاحات کی مخالفت میں سب سے زیادہ شورشرابا کررہے تھے ۔ وہ 1980 کی دہائی میں اندار جی کے ذریعے جاری کی گئی اصلاحات کو بھی نہیں سمجھ سکے تھے، جو اس طرح ملک کی مجموعی ترقی کیلئے اپنےغریبی ہٹانے کے خواب کی تعبیر حاصل کرنا چاہتی تھیں۔ اسی طرح وہ راجیو جی کے دوراندیشی کو بھی سمھنے سےقاصر رہے جس کا مقصد تھاکہ ہندستان عالمی سطح پرحقیقی معنی میں اپنا کردار اداکرے اور یہ کہ اس کے فوائد پنچایتی راج کے ذریعے نچلی سطحوں تک پہنچائے جاسکیں ۔

دوسری بات یہ کہ بی جے پی حکومت نے اقدامات کے لئے واضح طور پر ظاہر کردیا ہے کہ اس کے پاس اصلاحات کے کسی موزوں نقشے کا کوئی تصورنہیں ہے۔ وہ واضح طور پر اس مالیاتی نظم و ضبط میں یقین نیں رکھتی جس میں یہ بات شامل ہے کہ بے سود اور غیر ضروری اخراجات پر قابو پایا جائے اور ٹیکسوں کے مناسب بندوبست کے ذریعے مالی یافت میں اضافہ کیا جائے اور اس طرح مالی خسارے میں کی لائی جائے ۔ یہ بات ان اصلاحات کے جاری کئے جانے کے وقت ان کے طرز عمل سے ظاہر تھی اور بی جے پی \ این ڈی اے حکومت کے ذریعے ملک کی مالی پالسی کے بندوبست کے طریقے سے بھی ظاہرہوئی ہے۔ 1996- 1991 کے دوران کانگریس کی حکومت نے مالی خسارے اور خاص طورپر ریویو خسارے میں کمی لانے کی جو بھی کوششیں کی تھیں ، بی جے پی حکومت نے ان پر پانی پھیر دیا ۔

1991سے1996 تک تجارت اور شرح مبادلہ کے دائروں میں کانگریس کی پالسیوں کے بارے میں عام پر یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ ان کے سبب ہندستان کی ترقی کے لئے بیرونی ما حول میں زبردست بہتری آئی تھی ۔ تجارتی پالسی کی اصلاحات ، شرح مبادلہ اور صنعتی پالیسوں نے ہماری برآمدات کے مقابلے کی صلاحیت کو بڑھا وا دیا ہے۔ در آمد کی نرم کاری اور شرح مبادلہ سےمتعلق پالیسوں کے سبب برآمدات سے ہونے والی آمدنی اور درپردہ مالی یافتوں کو غیر قانونی حوالہ بازار کو منتقل کرنے کی ترغیبات میں بھاری کمی آئی ہے۔ معیشت کے دروازے کھولے جانے سے بیرونی راست سرمایہ کاری اور پورٹ فولیو آمد میں اضافے کے ذریعے ہندستان کے بیرونی قرضوں میں ناقابل قبول اضافے کے بغیر قرضوں کی ادائیگی کا بندوبست ممکن ہوگیا ۔اسکے باوجود ، بی جے پی حکومت ہندستان کے بیرونی اقتصادی ماحول میں آنے والی اس بہتری معیشت میں سرمایہ کاری کے عمل کو تیز کرنے کے لئے استعمال نہیں کرسکی ۔ گذشتہ دوبرسوں میں بین الاقوامی سرمایہ بازار کی صورت حال اور امریکہ اور دیگر اہم معیشتوں کے شرح سود سے متعلق طرز عمل کے نتیجے میں ہندستان کے زرمبادلہ کے دفاتر میں بھاری اضافہ ہوا ہے ۔ پھر بھی بی جے پی حکومت ایسی کوئی کار گر پالیسی خاکہ نہیں بنا سکی جس کے تحت زرمبادلہ کی اس بہتر صورت حال کو معیشت مین ایک نیا تحریک پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا۔

تیسرے یہ کہ بی جے پی کی زیر قیادت حکومت کی اقتصادی پالسیاں اکثر و بیشترپس و پیش اور غیر مستقل مزاجی کی شکار رہی ہیں ۔ تجارت اور محصولات کی پالسیوں ، مالی پالسیوں ، سرمایہ کاری کی پالسیوں اور ضابطہ بندی کی پالسیوں میں اکثر و پیشتر منظم مفادات کے لمحائی دباؤ کے تحت ردو بدل یا ترمیم کی گئی ۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورت حال خاصی بڑی حد تک سرمایہ کاری میں سست رفتاری سبب بنی ہے۔
 


 

 

 

 

 آئین

منشور 2004

حفاطتی ایجنڈا

گذارش

 اقتصادی ایجنڈا

چارج شیٹ

آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی میٹنگ 21اگست 2004

بھارت کا نیو کلیئر توانائی پروگرام اور امریکہ کے ساتھ 123 عہد نامہ

قرض معافی بڑھ کر72,000 کروڑ روپئے ہوئی
کانگریس کا ہاتھ، انّداتا کے ساتھ

اے آئی سی سی میٹنگ 17 نومبر 2007 تالکٹورا اسٹیڈیم، نئی دہلی

جناب راہل گاندھی جی کا مرکزی بجٹ پر پارلیمنٹ میں تقریر 08 - 03  - 13

82 واں مکمل اجلاس، حیدرآباد

آرکائیوز