All India Congress Committee - AICC
 
 
 

منشور, 2004


 


 

آل انڈیا کانگریس پارٹی کا

پارلیمانی انتخاب ، 2004 کا منشور

 

یہ وقت ہےان بنیادی قدروں کو دوبارہ بحال کرنےکا جن کی بدولت ہندستان دنیا کا سب سے انوکھا ملک ہے

 

یہ وقت ہے اپنی رنگ برنگ کی گوناگونی تہذیب سے لطف اندوز ہونے کا اور اپنے اتحاد کے عہد کو دہرانے کا

 

یہ وقت ہے قانون کی بالا دستی کو دوبارہ قائم کرنےکا اور اپنے سیکولر تانے بانے کو درست کرنے کا

 

یہ وقت ہے معاشی ترقی کو دوبارہ بحال کرنے کا

 

یہ وقت ہے سماجی انصاف اور مساوات کو دوبارہ قائم کرنے کا

 

یہ وقت ہے اپنی زراعت میں نئی جانا ڈالنے کا ۔

 

یہ وقت ہے اپنے نوجوانوں اور خواتین کی امیدوں اور آرزؤں کو دوبارہ زندہ کرنے کا

 

یہ وقت ہے حکمرانی میں شفافیت اوراستقامت دوبارہ قائم کرنے کا

 

یہ وقت ہےمتحدہ ، مشترکہ اور اجتماعی قومیت کے مشعل کودوبارہ روشن کرنےکا

 

یہ وقت ہے سماج کو تقسیم کرنے والی متعصب طاقتوں کومسترد کرنے کا

 

یہ وقت ہے سیاست کو ذمہ داری ، مسابقہ ، اصول شناسی اور رحم پر مبنی سماجی تبدیلی کا ذریعہ بنانے کا۔

 

یہ وقت ہے دوبارہ بنیادی اصولوں کی طرف لوٹنے کا۔ وہ بنیادی اصول جو ہماری ثقافت کی روح ہیں ، وہ بنیادی اصول جوہماری تحریک آزادی کی جان ہیں، وہ بنیادی اصول جو نصف صدی سے خود کفیل ، خود اعتماد اور جدید ہندستان کے معمار ہیں۔

 

٢٠٠٤ کا لوک سبھا الکشن کوئی معمولی الکشن نہیں ہے۔ یہ محض دوسیاسی پارٹیوں کے درمیان الکشن نہیں ہے۔ یہ دومتحارب اقدار اور مکمل مخالف نظریات کی لڑائی ہے یہ الکشن کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ہے۔ کانگریس جس نے ہمیشہ ہندستنان کے شاندار ماضی کے جشن منایا ہے اور ان دیرئینہ روایتوں کا جدید ہندستان کی تعمیر میں استعمال کیا ہے۔ دوسری طرف بی جے پی ن ہندستای تہذیب کی روح اور اسکے بنیادی تصور کو ہمیشہ نقصان بہونچایا ہے۔

کانگریس تسلیم کرتی ہےکہ یہ وقت حصول اقتدار کے تنگ ہدف کو حاصل کرنے کا موقع نہیں ہے۔ یہ ملک کے دستور کے بنیادی اصولوں پر یقین رکنھے والی تمام طاقتوں کو یکجا کرنے کا وقت ہے۔

 

اہم مسائل

 

کانگریس کا ہدف متعسب اور گمراہ کن طاقتوں کو شکست دینا ہے۔ جن کا نہ تو جنگ آزادی میں کوئی حصہ ہے اور نہ ہی مکک کی دستور سازی میں ۔ جن کا ایک ہی مقصد ہے ہماری مزراوں سالوں کی میراث اور مشترکہ قومیت کونقسان پہونچانا ۔

 

کانگریس نے ااس پاک مقصد کے حصول کے لئے الگ الگ صوبوں میں مختلف پارٹیوں کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے۔ تاریخ کو دوبارہ لکھنے اور ہمارے مستقبل کو نیست ونابود کرنے کا منسوبہ رکھنےوالی بی جے پی کو شکست فاش دینے کے لئے کانگریس اور اسکی حلیفجماتعیں متحد ہیں۔ ہندستان کو معاشی ترقی اور سماجی ہم آہنگی کی راہ پر دوبارہ واپس لانے کےلئے ایک قومی متبادل کے طور پر حاضرہیں۔

 

ہمارے ملک کی ہم عصر تاریخ پر کانگریس کی متواتر حکومتوں کے کاناموں کے انمٹ نقوش ہیں۔ آر ایس ایس، بی جے پی اتحاد نے کانگریس کے کاموں کا مذاق اڑانے ، اسکو توڑ مڑوڑ کرپیش کرنے اور غلط تاویل کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ۔

 

یہ کانگریس ہی تھی جسنے جنگ آزادی میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی۔ ہندومہاسبھا اور آر ایس ایس میں کام کرنے والے بی جے پی کے پیش رورہنماؤں نے تو ‘‘ ہندستان چھوڑو ‘‘ تحریک کے دوران مہپاتما گادنھی کے نعرے‘‘ کریں گے یا مری گے‘‘ کا بائیکات کیا تھا۔ یہ کانگریس ہی ہے جس کے ہردل عزیز رہنماوں ، گاندھی جی ، اندرگاندھی جی اور راجیو گاندھی نے ملک کے لئے اپنی جانیں بھی قربان کردیں۔

 

یہ کانگریس ہی تھی جس نے پارلیمانی جمہوریت کو قائم رکھا اور اسکی آبیاری کی ۔ یہ کانگریس ہی تھی جسکی بدولت مکمل وجامع نیشنل چارٹر ، آئین ہند ‘ وجود میں آیا۔ یہ کانگریس ہی تھی جس نے صدیوں سے استحصال و امتیاز کے شکار لوگوں کو باوقار زندگی فراہم کرانے کے للئے سماجی اصلاحات کی مہم کی قیادت کی۔ یہ کانگریس ہی ہے جس نے ہندستان کے سیاسی اتحاد اور سلامتی کی ہمیشہ حفاطت کی ۔

 

یہ کانگریس ہی ہے جس نے پبلک سیکٹر کو وجود میں لایا تاکہ ہندستان کو صنعتی اور خود کفیل ملک بنایا جاسکے، اسکو تکنالوجیکل ترقی کی بلندی پر پہونچایا جاسکے ۔ پسماندہ علاقوں کی ترقی ہوسکے اور کروڑوں ہندستانیوں خصوصاً دلتوں اور آدیواسیوں کو روزگار فراہم ہوسکے ۔

 

یہ کانگریس ہی تھی جس نے زمینداری کے نطام کو ختم کیا اور زمینی اصلاحات کا کام شروع کیا۔ سبز اور سفید انقلاب بھی کانگریسکی دین ہے۔ جن کی بدولت ہمارے کاشتکاروں کی زندگی مین نئی خوشحالی آئی اور ہندستانکو دنیا کا بس سے زیادہ دودھ پیدکرنے والا ملک بنایا ۔

یہ کانگریس ہی تھی جسنے ملک میں سائنسی جذبہ پیداکیا۔ سائنسی اداروں کا ایک ایس ڈھانچہ تیار کیا کہ ہنستان نیوکلیائی، فضائی اور میزئل کی دیناکی ایک طاقت بنا۔ اطلاعاتی انقلاب کی دنیا میں ہم سنگ میل قائم کئے ۔ مئی 1998 میں ہندستان نیو کلیائی ٹسٹ صرف اس لئے کرسکا کہ اسکی بنیاد کانگریس نے تیار کی تھی۔ اگنی جیسی میزائلیں اور انسیٹ جیسے خلائی سیارے کانگریس کی دین ہیں۔

 

کانگریس ہی نے گربت کے خاتمہ اور دیہی علاقوں کی ترقی کے جامع پرگراموں کی شروعات کی ۔ ان پرگراموں نے گاؤں کی غربت کو دور کرنے میں اہم رول اداکیا اور سماج کے سب سے محروم طبقے کی دشواریوںکو دور کرنے مین مددکی۔ آزادی کے وقت جس ملک کی دوتہائی آبادی غربت کی سطح سے نیچے زندگی بسر کررہی تھی آج آزادی کے نسف صدی کے اندر ہی اس ملک کی دوتہائی آبادی غربت کی سطح سے اوپر ہے ۔ ہندستان کا متوسط طبقہ ‘ کانگریس کی قابل فخر پیداوار ہے‘ ۔ کانگریس نے ہی ریزرویشن کے ذریعے دلتوں ، آدیواسیوں اور دیگر پسماندہ طبقوں کو ملک کی ترقی وخوشحالی کا حصہ دار بنایا ۔ انکی فلاح وبہود گی، سماجی واقتصادی ترقی کے لئے متعدد پروگرم شروع کئے۔

 

یہ کانگریس ہی تھی جسنے مہاتما گاندھی کے ‘‘ گرام سوراج کے ذریعے پورن سوراج‘‘ دینے کے نعرہ کا استقبال کیا اور ملک کے گاؤں گاؤں اور محلوں میں زمینی جمہوریت کے ذریعے زمینی فروغ کو بڑھاوا دیا ۔ کانگریس نے ہی پنچایتی راج اور کارپوریشنوں سے متعلق آئینی ترمیم کا خاکہ تیار کیا اور اسکو آئینی حیثیت دلوایا۔

 

کانگریس نے ہی منظم سیکڑ کے کارکنوں اور ٹھیکہ مزدوروں کے لئے روزگار کے تحفط اور ہہتر معاوضے کے لئے جامع قانون بنایا اور ان کو نافذ کیا ۔ کانگریس ہی نے ملک کے تمام محنت کشوں \ کارکنوں کے اس 93 فی صدی حصے کو سماجی تحفظ دینے کا عمل شروع کرایا جو غیر منظم سیکڑمیں موجود ہیں۔

 

یہ کانگریس ہی ہے جس نے اعلی اور تکنیکی تعلیم کے میدان میں ایسے انقلابی اقدامات کئے کہ آج دنیا میں ہندستانی دماغ گران قدر دماغ مانا جاتا ہے۔ یہ کانگریس ہی ہے جس نے آئ آئی ٹی ، آئی آئی ایم اور آرسی سی جیسے اعلی تکنیکی اداروں کو قائم کیا اور ریسرچ لیباریڑیوں کا وسیع جال بچھایا ۔

یہ کانگریس ہی ہے جس نےمعاشی اصلاحات اور اقتصادی آزادی کی شروعات کی ۔ یہ کانگیرس ہی کی پالیسی تھی جس کی بدولت 1998 میں ہندستان دنیا کا چوتھا سب سے بڑا اقتصادی ملک بن گیا اور سب سے بڑھ کر یہ کانگریس ہی ہے جسنھے ملک کے اتحاد کو قائم رکھا۔

 

پھرکانگریس ہی کیوں

 

ہندستان کی تمام سیاسی پارٹیوں میں کانگریس کے ممتاز اور بےمثال ہونےکے پانچ اہم وجوہات ہیں۔

 

اول کانگریس ملک کی پہلی کل ہند جماعت اور قومی سیاسی طاقت ہے جواس وسیع ملک کے ہرخطے میں موجود ہے۔ خواہ اقتدار میں ہو یا نہیں ملک کے کونے کونے، شہروں، قصبوں اور گاؤں میںایک سیاسی قوت کی شکل میں جلوہ فگن ہے۔

 

دوئم کانگریس واحد سیاسی جماعت ہے جسکو ہمارے رنگ برنگے سماج کے ہرطبقے سے طاقت ملتی ہے جس کو ہرطبقہ کی حمایت حاسل ہے اور جوہر طبقہ کی پسند ہے۔ کانگریس تنہا ایسی سیای جماعت ہے جس نے اپنی تنطیم میں دلتوں، آدیواسیوں ، پسماندہ طبقوں، اقلیتوں اور خواتین کے لئے ریزرویشن کا اہتمام کیا ہے۔

 

سویم کانگریس واحد ایسی سیاسی جماعت ہے جسکی حکمرانی کا نظریہ جمہوری قدروں پر مبنی ہے سماجی انصاف ، دیر پا معاشی ترقی اور اقتصادی آزادی کے ساتھ اساتھ سماجی آزادی اس کا مطمح نظر ہے۔ کانگریس کا راستہ گفت و شنید کا راستہ ہے۔ فساد کا راستہ نہیں ۔ کانگریس کا راستہ میل ملاپ اور صلح کل کا راستہ ہے۔ تندی اور تلخی کا نہیں ۔

 

چہارم کانگریس واحد ایسی سیاسی جماعت ہے جسکی حکومت کا نظریہ مستحکسم مرکز کے زریعہ مستحکم صوبوں اور بااختیار علاقائی ازخودسرکاری اداروںکی ساتھ مقصد برآوری کے لئے کام کرنے پر مبنی ہے۔

کانگریس کا نصب العین ہے سیاست سے عوام تک ‘گرام سبھا سے لوک سبھا۔

 

پنجم کانگریس ہمیشہ سے نوجوانوں کی پارتی رہی ہے۔ کانگریس بزرگیت اور سینئریٹی کا ہمیشہ احترام کرتی ہے مگر نوجوانوں کی طاقت اور فعالیت صداکانگریس کی پہچان رہی ہے۔ 1989 میں جناب راجیو گاندھی نے ہی رائے دہندگان کی عمر گھٹا کر 18 سال کی تھی۔ راجیو جی نے سوامی ویویکا نند کی یوم پیدائش 12جنوری کو‘ نوجوانوں کا قومی دن ‘اعلان کیا تھا۔ راجیوجی نے نہرو یوتھ سینڑ کی سرگرمیوں کا ملک کے ہرضلع میں توسیع کیا تھا۔

 

کانگریس کبھی بھی محض اصطاحی سیاسی پارٹی نہیں رہی بلکہ ایک وسیع قومی تحریک کی حیثیت سے کام کرتی رہی۔ گذشتہ 118 سالوں میں کانگریس نے مختلف سماجی پس منظر رکھنے والوں کو ملک کی خدمت کے لئے آگے لانے کھے مقصد سے خصوصی طور پر ایک وسیع پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔

 

کانگریس ہندستانی تصور سے اس قدر سرشار ہے جسکی نظیر کوئی دوسری پارٹی نہیں ہے۔

 

کانگریس کے لئے ہندستانی قومیت جامع اور سب کو شامل کرنے والی ہےہ ۔ ایسی قومیت جو اس ملک کے شانداار وراثت کے ہررنگ سے خوشبو اخذ کرتی ہے۔ ایسی قومیت جو تنگ نظر اور متعصب نہیں ہے بلکہ ہماری مشترکہ تہذیب میں سرزمین ہند ہر موجود ہر مذہب کے خدمات کا جشن مناتی ہے۔ ایسی قومیت جوہرہندستانی کا اورہرہندستانی چیز کا احترام کرتی ہے۔ ایسی قومیت جو ہر ہندستانی کو جذباتی طور پر مربوط رکھتی ہے۔ بی جے پی کی‘‘ ثقافتی قومیت ‘‘ ہندستانیوں کو جذباتی طور پر توڑنے کا ہتھیار ہے۔ کانگریس ہندستان کو اجتماعی طورپر جوڑے رکھنا چاہتی ہے۔ بی جے پی پندستان کو تنازعات کے ذریعہ توڑنے کاکام کرتی ہے۔

 

کانگریس کو اس بات کی گہری تشویش ہےکہ بچھلے چند سالوں میں سیکولرزم پر مسلسل خطرناک حملے ہوتے رہے ہیں ۔ کانگریس کے لئے سیکولرزم کا مطلب مکمل آزادی تمام مذاہب کا پورا احترام ۔ سیکولرزم کا مطلب ہے ہرمذہب کے ماننے والوں کو یکساں حقوق اور مذاہب کی بنیاد پرکسی کے ساتھ کوئی تفریق نہیں۔ سب سے بڑھ کر اس کامطلب ہے ہرطرح کے تعصب \ فرقہ پرستی کی شدید مخالفت۔

 

ہمارے سماج میں نفرت اور علیحدگی پیداکرنے کے لئے کسی بھی مذہب کا غلط استعمال کرنا فرقہ پرستی ہے۔ پسندیدہ جذبات کو باہمی عداوت بھڑکانےکیلئے کسی بھی مذہب کا غلط استعمال فرقہ واریت ہے۔ زیادہ تر ہندستانی دوسرے مذہب کے تئیں احترام کا جذبہ رکھتے ہیں۔ زیادہ ترہندستانی دوسرے ہندستانیوں کے ساتھ مل جل کر امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ۔ خواہ ان کا مذہب کچھ بھی ہو ۔ مگر چند ہندستانی اپنے مذہب کے خودساختہ محافظ بن گئے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو سماجی امن کو تہس نہس کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہین جو فرقوں میں منافرت ، مخاصمت اور حسد پیداکرنے کےلئے گمراہ کن بے بنیاد اور من گڑھت ماضی کا ہمیں غلام بناکر رکھنا چاہتے ہیں۔

 

سیکولرزم کی لڑائی کا اصلی میدان یہی ہے۔ یہی اکثریت ۔ اقلیت کے مسئلہ سے بڑا مسئلہ ہے۔ دراصل یہ لڑائی ملک کے تمام مذاہب کی قدروں \ روحوں کو بچائے رکھنے کی کوشش کررہی طاقتوں اور جان بوجھ کر انتخابی مقاصد کی وجہ سے اور ناقابل قبول نظریاتی وجوہات کا حوالہ دے کر اس ملی جلی تہذیب کو تباہ وبرباد کرنے پر آمادہ طاقتوں کے درمیان ہے۔

 

پہلا، کانگریس ملک کی اکیلی کل ہند قومی سیاسی جماعت ہے۔ اکیلی ایسی سیاسی طاقت ، جو اس عظیم ملک کے ہر علاقے مین کوجود ہے۔ اقتدار میں رہے یا اقتدار سے سے باہر ، کانگریس ملک بھر کے گاؤں ،قصبوں اور شہروں میں حقیقی معنوں میں موجود ہے۔

 

دوسرا، کانگریس اکیلی ایسی سیاسی پارٹی ہے، جسے ہمارے رنگ برنگی سماج کے ہر طبقے سے طاقت لمتی ہے، جسے ہر طبقے کا تعاون حاصل ہے اور جو ہر طبقے کو پسند آتی ہے۔ کانگریس اکیلی سیاسی پارٹی ہے، جسنے اپنی تنظیم میں ایس۔ سی ۔ ایس ٹی۔ دوسرے پسماندہ طبقوں ، اقلتیوں اور خواتین کے لئےتحفط کا نظم کر رکھاہے۔

 

تیسرا، کانگریس اکیلی ایسی سیاسی پارٹی ہے، جسکے اقتدار کا دیدار جمہوری اصولوں، سماجی انصاف کے ساتھ ہونے والی معاسشی ترقی اور سماجی اعتدال اور معاشی یکسانیت کی ڈور میں گتھا ہوا ہے۔ کانگریس کہنے میں یقین کرتی ہے، اختلاف میں نہیں ۔ کاگریس وقت کی تبدیلی پر یقین کرتی ہے، شدت میں نہیں۔

 

چوتھا، کنگریس اکیلی ایسی پارٹی ہے، جسکے اقتدار کا دارمدار ایک مضوط مرکز کے ذریعہ مضبوط ریاستوں اور مقامی خود مختار حکومت کو پانے کے لیئے کام کرنےپر منحصر ہے ۔ کانگریس کا مقصد ہے‘‘ سیاست سے لوک نیتئی ، گرام سبھا سے لوک سبھا‘‘۔

 

 

پانچواں ، کانگریس ہمیشہ نوجوانوں کی سیای پارٹی رہی ہے۔ کانگریس بزرگوں اور بڑوں کی صدا عزت کرتی ہے۔ لیکن نوعمر طاقت اور صلاحیت ہمیشہ ہی کانگریس کی پہچان رہی ہے۔ 1989 میں جناب راجیو گاندھی نےہی حق رائے دہیندہ کی عمر گھٹا کر 18 سال کی تھی۔ راجیو جی نے ہی سوامی ویویکا نند کی یوم پیدائش 12 جنوری کو قومی نوجوان سال اعلان کیاتھا۔ راجیو جی نے ہی نہرس یوا کیندر کی کارگزاری کو ملک کے ہر ضلعے میں پھیلایا تھا۔

 

کانگریس کبھی بھی روایتی اصولوں والی سیاسی پارٹی نہیں رہی۔ وہ ہمیشہ ایک مثبت قومی احتجاج کی طرح رہی ہے۔ گذشتہ118 سال میں کانگریس نے مختلف سماجی زمینی حقیقت رکھنے والے لوگوں کو ملک کی خدمت کے لئے ساتھ لانے کے مقصد سے غیر معمولی طرز پر مثبت اسٹیج کی طرح کام کیا ہے۔ کانگریس ہندستانی خیال کی ایسی پارٹی ہے ، جسکی طرح کوئی بھی اور سیاسی جماعت نہیں۔

 

کانگریس کےلئے ہندستانی حب الوطنی سب کو شامل کرنے والی ہے۔ حب الوطنی ، جو اس ملک کا شاہکار ہے کے ہر رنگ سے طمانیت حا صل کرتی ہے ۔ حب الوطنی جو تنگ اور مذہبی نہیں ہے، بلکہ ہماری ملی جلی تہذیب میں ہندستانی زمین پر موجود ہر مذہب کے تعاون کا میلہ مانتاہے۔ نیشنلزم ، جس میں ہرایک ہندستانی کا اور ہر اس چیز کا جو ہندستانی ہے، یکاساں اور باوقار جگہ ہے۔ نیشنلزم ، جو ہندستان کو جذباتی طور پر جوڑ ے رکھتا ہے ۔ ہندستانی عوام پارٹی کی ‘‘ تہذیب نیشنلزم ‘‘ ہندستانیوں کو جذباتی طور پر توڑنے کا ہتھیار ہے۔ کانگریس ہندستان کو باہمی اتفاق کے ذریعہ جوڑے رکھنے کا کام کرتی ہے۔ بھاجپا ہندستان کو اختلاف کے ذریعہ توڑنے کا کام کرتی ہے۔

 

 

کانگریس کو اس بات کی گہری فکر ہےکہ گذ شتہ کچھ سالوں میں سیکولرزم پرسب سے حملے لگاتار ہورہے ہیں۔ کانگریس کیلئے سیکولرزم کا مطلب ہے مکمل آزادی اور سبھی مذہب کی پوری عزت۔ سیکولرزم کا مطلب ہے سبھی مذہب کے ماننے والوں کو یکساں حقوق اور مذہب کے بنیاد پر کسی کےبھی ساتھ کوئی تفریق نہیں۔ سب سے بڑھکر اسکا مطلب ہے ہر طرح کے مذہبی فساد کی ٹھوس مخالفت۔

 

ہمارےسماج میں نفرت اور الگاؤ پھیلانے کےلئےکسی بھی مذہب کا غلط استعمال کرنا مذہبی منافرت ہے۔ ہردل عزیز جذباتوں کو باہم اکسانے کیلئے کسی بھی مذہب کا غلط استعمال کرنا مذہبی منافرت ہے۔ زیادہ تر ہندستانی دوسرے مذہب کے لئے احترام کا جذبہ رکھتے ہیں ۔ زیادہ تر ہندستانی دوسرے ہندستانیوں کے ساتھ مل جل کر امن سے رہنا چاہتے ہیں ، چاہے انکا مذہب کچھ بھی ہو۔ لیکن کچھ ہندستانی اپنے مذہب کے خود محافظ بن گئے ہیں ۔ یہ ہی وہ لوگ ہیں ، جو سماجی ہم آہنگی کو برباد کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ ہی وہ لوگ ہیں، جو ہمیں دو فرقوں میں نفرت پھیلانے کیلئے خود ہی ایجاد کرلئے اور توڑ مروڑ کر بتائی گئئ ماضی کو ہمیں اسکا غلام بناکر رکھنا چاہتے ہیں۔

 

سیکولرزم کی لڑائی کا اصلی میدان یہی ہے۔ یہ اکثریت ، اقلیت کے مسئلے سے کہیں بڑا مسئلہ ہے۔ دراصل یہ جدو جہد اس ملک کے سبھی مذہب کی ساکھ کو بچائے رکھنے کی کوشش کر رہی طاقتوں اورجان بوجھ کر، انتخابی مقصدوں کی وجہ سے اور نا منظور کئے جا سکنے لائق خیالی وجوہات کا حوالہ دے کر اس ملی جلی تہذیب کو برباد کرنے پر آمادہ طاقتوں کے درمیان ہے۔

 

گذشتہ پانچ سالوں میں بھارتیہ جنتاپارٹی کی قیادت والی این۔ ڈی۔ اے۔ حکومت نے۔

 

بے روزگاری کو بے تہاشہ بڑھایا، اور یہ اسی معاشی پاللیسی کا نتیجہ تھا، جنکی وجہ سے۔ ۔۔۔

 

زراعت، دست کرگھا،اور دیگر غیر زراعتی دیہی روزگار کے اور پیداوار اور کانوں کے لاکھوں مزدروں کے ہاس کوئی کام نہیں رہا۔

 

منتخب علاقائی انجمن کےذرئعہ دیا جانے والاروزگارر ختم ہوگیا، کیونکہ سرکار نےپنچائتوں اور نگرپالیکاؤں کو کارگذاریاوراہلکاروں کو مالی سہولیات کےاختیارات تفویض نہیں کئے۔

 

ملک میں روزگار کےاہم سرچشمےچھوٹی صنعتوں اور کا ٹج صنعتوں اورکاٹج انڈسڑی اور زراعت میں سرمایہ کاری اور ترقی کی شرح رک گئی ۔

 

سرکاری ملازمت اور پبلک سیکڑ میں روزگار کم کرنے کےپروگرام نافذ کئے گئے۔

 

آزادی کے بعد منظم روزگارفراہم کرانے کا سب سے بڑا ذریعہ پبلک سیکڑ پر نظر یاتی حملہ ہوا اور منافع بخش پبلک انڑپرائزز اس کا خاص طور پر نشانہ بنے۔

 

معاشی ترقی کی شرح غیر مستحکم ہوئی اور نیچے کی طرف جانے لگی ۔ جسکی وجہ سے سال دوسال معاشی فروغ کی شرح میں ہوری بہتری ختم ہوگئی جبکہ 1992 سے 1997 کے درمیان 7% فیصد سالانہ تک ہوگئی تھی ۔

 

گذشتہ پانچ سالوں کی معاشی ترقی کی شرح کا سالانہ اوسط گھٹ کر 6 فیصد رہ گیا اور ان پانچ میں سے دو سال تو ایسے رہے، جب یہ شرح گر کر 4 فیصد ہی رہ گئی تھی اور اس طرح اس شرح میں گھٹنے بڑھنے کا پنڈولم ادھر سے ادھر جھولتا رہا۔

 

کسانوں اورکھیت مزدوروں کو ناقابل برداشت تکلیف سہنی پڑی، جسکا نتیجہ یہ نکلا کی بہت سے کسانوں کو خود کشی کرنے پرمجبور ہونا پڑا اورکاشتکار مفلسی ، محرومی کا سامنا کرتے رہے۔

 

ملک کا دفاع کمزور ہوا، کیونکہ ہمارے محافظ دستوں کو جدید ساز سامان کیلئے مختص کئے گئے عربوں روپئے کی رقم کو سرکار نے خرچ نہیں کیا۔

 

سماجی ہم آہنگی متائثر ہوئی

 

گجرات میں جان بوجھکر فرقہ وا رانہ فسادکرائے گئے ۔

 

میشنریوں کے خلاف ہوئے تشدد کی ستائش کی گئی ۔

 

ویشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل جیسی فرقہ پرست اور فسطائی تنظیوں کو نفرت پھیلانے کی کھلی چھوٹ دی گئی ۔

 

اسکولوں کےنصاب کو تبدیل کیا گیا۔ اورایسا کرنے کے لئے تاریخ کی کتابوں کودوبارہ لکھنے کا فم دکھایا گیا تاکہ مذہبی نفرت پھیلا ئی جاسکے اورباوقار دانشور اداروں کی پیشہ وارانہ آزادی کو ختم کرکے ان کی خود مختاری کو تہس نہس کردیا گیا۔

 

انتظامیہ کےدیانتدای کو نقصان پہونچایا گیا۔ بدعنوانی کو بڑھاوا دیا گیا، جس سے دفاع، مواصلات ، ڈی ڈی اے ، پٹرول پمپ کی الاتمنٹ ، شیربازار اور یو۔ ٹی آئی جیسے گھوٹالےہوئے ۔

 

پارلیمانی جمہوریت کےکلیدی اداروں کی بے حرمتری کی گئی اور CEC, NHRC, CAG ,PACاور CVC جیسے اہم اداروں کے ذریعہ سرکارکی ناکامیوں اور بدعنوانیوں کے بارے میں دی گئی ریپورٹوں کو پوری طرح نظر انداز کیا گیا ۔ اور تو اور CBI کا بیجا استعمال کرنے سے بھی حکومت نہیں ہچکچائی۔

 

خارجی پالیسی کی آزادی کو ختم کیا گیا اقوام متحدہ کو کنارے کئے جانے کی کوششوں پر بھی سرکار خاموش رہی اور دنیا س متعلق اہم مسئلوں پر ہندستان کےرخ کو دنیا کے سامنے رکھنے کی سرکار نےکوئی پرواہ نہیں کی۔ پاکستان کے ساتھ ہندستان کےرشتوں کے معاملے میںبھی سرکار اپر نیچے ہوتی رہی۔

 

وزیر اعظم اپنی باتوں پر کبھی اٹل رہے ہی نہیں ہر اہم ملکی مسئلے پر وہ بار بار اپنی بات بدلتے رہے وزیر اعظم کی باتوں میں نہ تو مستقل مزاجی رہی اور نہ ہی وضاحت پھرچاہے وہ ۔۔۔۔۔

 

ایودھیا کا معاملہ رہا ہو یا سیکولرزم کےتحفظ کا

 

گجرات کے قتل عام کامسئلہ ہو

 

پاکستان سےرشتے کی بات رہی ہو

 

جموں و کشمیر میں الگ الگ جماعتوں کے ساتھ الگ الگ گفتگو کا مسئلہ رہا ہو؛ یا آر۔ ایس۔ ایس۔ سےتعلق کا معاملہ۔

 

بابری مسجد کےانہدام کے معاملے میں عدالت میں اور لبراہن کمیشن کےسامنے ملزم ہوتے ہوئے بھی نائب وزیر اعظم اور وزیرداخلہ کا عہدہ سنبھالے رہے۔ انکےدورحکومت میں ملک کی راجدھانی میں اور دیگر مقامات پر محافظت سے متعلق خطرناک خامیاں سامنے آتی رہیں ۔ چارسال قبل وزیر داخلہ نے بڑی شان سے اعلان کیا کہ وہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی ائی۔ ایس۔ آئی کی ہندستان میں تخریب کاری کے سلسلے میں ایک سفید دستاویز جاری کرینگے مگر ملک آج تک اس سفید دستاویز کے جاری ہونے کا انتظار کررہا ہے۔ یہ حقیقت سب کےسامنے ہی کہ گذشتہ تین چاربرسوں میں دھشت گرد ی کی سب سےخطر ناک وارداتیں ہوئیں۔ لیکن وزارت داخلہ نےاتنے سنگین معاملوں کی تفتیلش تک نہیں کرائی۔ اور ان معاملوں کسی کی جوابدہی طئے نہیں کی ۔ وزیر اعظم اور نائب وزیر اعظم دھشت گردی سے ہرقیمت پر لڑنے کا اپنا راگ الاپتے رہے مگر یہ بھی کھوکھلا دکھاوا ہی ثابت ہوا۔

 

وزیر خارجہ تین خونخواردھشت گردوں کو خود لےکر قندھار تک چھوڑنے گئے۔ انہیں دہشت گردوں نے بعد میں جموں و کشمیر کےبے گناہ لوگوں \ عورتوں ، بچوں کو قتل کرانے کا اپنا کام جاری رکھا۔ حال ہی میں پاکستانی خفییہ ایجنسی کےسابق سربراہ منظورضیاء نے تسلیم کیاکہ جناب جسونت سنگھ کے ذریعے افغانستان لے جاکر چھوڑ گئے دھشت گردوں نے ہی 13 دسمبر کو ہندستانی پالیمنٹ پر ہوئے حملے کاپلان تیار کیاتھا۔

 

بھا رتیہ جنتا پارٹی نام نہاد، خوشنما احساس یعنی(Feel good facter) کو لیکر انتخانی میدان میں اتری ہے۔ یہ محض فریب ہے اصلیت یہ ہے کہ جانب اٹل بہاری واجپائی کی قیادت والی سرکار کے دور اقتدار میں معاشی نمو کی شرح 80 کے دہائی میں کانگریسی سرکاروں کے دورسے بھی بہت کم رہی ہے اور 1992سے 1996کے درمیان کانگریسی سرکار کے دور میں معاشی نموکی شرح سےتو وہ کوئی مقابلہ ہی نہیں کرسکتی ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی NDA سرکار کے دور حکومت میں پبلک اور نجی سرمای کاری کی شرح بھی کم ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہےکہ غیر ملکی زرمبادلہ کا ذخیرہ بھراہوا ہے ۔ کیونکہ سرمایہ کاری ہوہی نہیںرہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ سود کی شرح کم ہوگئی ہے ۔ بھلے ہی قرض لینے والوں کو کچھ فائدہ پہونچا یا ہو لیکن ان کروڑوں لوگوں کےخسارے کا کیا جواب ہے، جنہوں نے پنے زندگی بھر کی کمائی بچت کھاتوں میں جمع کر رکھی تھی اور اب وہ اپنی جمع رقم کی قیمت کو اپنے سامنے دن بدن گھٹتے دیکھ رہے ہیں؛

 

بی جے پی کا دعوہ ہے کہ قومی شاہراہوں کی ترقی کا پروگرام نیشنل ہائیوے انتًظامیہ کے ذریعہ نافذکیا گیا جو بے مثال ہے۔ حقیقت یہ ہےکہ NHAI) 1995 ) میں کانگریس کی سرکار نے قائم کیا تھا۔ اس کے زیادہ تر پروگرام کانگریس سرکارکےہی دور میں تیار ہوگئے تھے۔ بی جے پی کی قیادت والیNDA سرکار نے صرف کانگریس کے دور میںبنے نیشنل ہائیوے کو ایکسپریس شاہراہ میں تبدیل کرنے کا کام ہاتھ میں لیا ہے۔ دھیان دینے کی بات یہ بھی ہے کہ نئے نیشنل ہائیوے کا استعمال کوئی بھی بغیرقیمت ادا کئے استعمال نہیں کرسکتا ہے۔ فیس اداکرنے کے بعد ہی آپ نیشنل مارگ پر چل سکتے ہیں۔ کانگریس سرکاروں کے دورمیں ا1950 سے 1990کے درمیان بنے نیشنل مارگ کا بالکل مفت استعمال کرنے کا سب کو حق تھا۔

 

بی جے پی کی قیادت والی NDA سرکار کے دورمیں ہی شیر شیربازاراور یو ٹی آئی کے گھوٹالے ہوئے۔ اس معاملےکی جانچ کے لئے نامزد پارلیمانی تفتیش کمیٹی نے بھی کہا ہےکہ اکتوبر 1999 میںNDA سرکار بننے کے بعد کے اٹھارہ مہینوں میں ہی یہ گھوٹالے ہوئے۔ ان گھوٹالوں میں کروڑوں متوسط طبقوں کےخاندانوں، بزرگوں، پنشن یافتہ لوگوں اور بیواؤں کے پسینےکی کمائی بالکل بہہ گئی ۔ ان گھوٹالوں کا مرکز وزیر اعظم اور نائب وزیر اعظم کے پارلیمانی حلقئوں میں کام کررہے کوآپریٹیو بینک تھے۔

 

ایک ویڈیو فلم میں بھاریتہ جنتا پارٹی کے صدراور دوسرےNDA لیڈروں کو رشوت لیتےدکھایا گیا ۔ یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد وزیر دفاع نے زور شور سے یہ اعلان کرتے ہوئے استعفی دے دیا کہ وہ تب تک دوبارہ وزیر نہیں بنیں گے، جب تک کے وہ اس معاملے میں پاک صاف ثابت نہیں ہوتے۔ لیکن تفتیش مکمل ہوئے بغیر ہی وہ دوبارہ وزیر دفاع بن گئے اوراس کھولی دھاندلی کو لےکرحزب مخالف پارلیمنٹ میں انکا مسلسل بائیکاٹ کرتی رہی ۔

 

گودھرا کے افسوس ناک حادثے کے بعد بی جے پی اور اسکی مدد گار جماعتوں نے گجرات میں قتل عام کیا۔ فرقہ وارانہ فساد کی جانچ کیلئے بنائے گئے زیادہ تر کمیشنوں نے آر ایس ایس کو فساد کیلئے مجرم ٹھرایاہے۔ 001 کےفرقہ وارانہ فساد کیلئے سپرم کورٹ تک نے گجرات سرکار کوسازباز کیلئے بار بار پھٹکار لگائی ہے۔ صرف یہی ایک وجہ کافی ہے کہ ہندستانی بی جے پی کومکمل طورپر مسترد کردیں ۔

 

ایک کے بعد اجاگر ہوئے گھوٹالوں نے ثابت کردیا ہے کہبی جے پی نے بد عنوانی کو اسکی انتہا تک پہونچا دیا ہے ۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ ہندستانی بی جے پی کومسترد کردیں۔

 

بی جے پی کی اقتصادی پالیسوں نےغریب اور امیر، مٹھی بھر قسمت والوں اور بے شمار کم نصیبوں ، دیہی اور شہری، ہندستانی اورملک کے مختلف علاقوں کے درمیان کی خلیج کو بے تہاشہ بڑھادیا۔ یہ بھی ایک وجہ بی جے پی کوپوری طرح مستردکردہں۔

 

 

بی جے پی NDA کو ایک مکھوٹے کے طور پر استعمال کررہی ۔NDA کےچہرے کے پیچھے خود کو چھپا رہی ہے۔ بی جے پی ہمارے ملک کے باشندوں کو گمراہ کر رہی ہے۔ بی جے پی سماج میں پھوٹ ڈالنےکے اپنے پرگرام کو ترک نہیں کیا ہے ۔ یہ بھی ایک وجہ ہےکہ ہندستانی بی جے پی کو ہوری طرح خارج کردیں۔

 

تسلسل کے ساتھ تبدیلی

 

کانگریس کی پالیسیوں کا جنم ہمیشہ سیاسی طور پر متحد ، معاشی طور پر خوشحال ، سماجی طور پرمنصفانہ، اور ثقافتی طور پر ہم آہنگ ہندستان کی تعمیر کا نظریہ سامنے رکھ کر ہوتا رہا ہے ۔ ان پالیسیوں کو کبھی بھی بغیرسوچے سمجھے اصولوں یا کھوکھلی ہٹ دھرمیوں یا منتروں میں تبدیلی نہیں نہیں دیا گیا۔ کانگریس نے ہمیشہ وقت کی ضرورتوں کے مطابق ان پالیسوں میںمثبت تبدیلی کےلئے گنجائش رکھی۔ کانگریس عملی رہی ہے ۔ کانگریس ہمیشہ نئے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کو تیار رہی۔ نتیجتاً ، بنیادی اصولوں سے وفاداری کے جذبے نے نئی ضرورتوں کے مطابق خود کو تیار کرنے کے کام میں کبھی رکاوٹ محسوس نہیں ہونے دی۔

 

1950 کے دہائی میں زمینی اصلاحات ، گروہی ترقی ، پبلک سیکڑ، زراعتی ، صنعتی ، آبپاشی ، تعلیمی، سائنسی اور دیگر بنیادی ڈھانچوں کو فروغ دینے کی ضرورت تھی۔ کانگریس نے ضرورتوں کی تکمیل کو یقینیی بنایا ۔

 

1960 اور 1970 میں غربت دورکرنے کیلئےہنگامی اقدامات ، زراعت اوردیہی ترقی کےمیدانوں میں ایکد م نئی پیش قدمی ، تیل کے گھریلو ذخیرے کا بتہ لگانے اور اسکی توسیع کرنے اور کاشتکاروں، بنکروں ، چھوٹی صنعتوں تاجروں کو ترجیح دینے کے ساتھ بڑی صنعتوں کا دھیان رکھنےاور دیگر سماجی ضرورتوں اور امیدوں کو پورا کرنے کےلئے بینکوں کو قومیانے کی ضرورت تھی ۔ کانگریس نے ان تمام کا کو پوراکرنے کیلئےان چیزوں کو یقینی بنایا ۔

 

1980 کی دہائی میںلوگوں کی پریشانیوں کو دور کرنے اوراکیسویں صدی کے چیلنجوں سے مقابلہ کرنے کیلئے صنعتوں کی جدید کاری کے مقصد سے سائنس اور ٹکنالوجی پراز سرے نو زور دینے کی ضرورت تھی۔ اس عید میں ہندستان کو الکٹرونکس، کمپوٹر اورمواصلات میدانوں میں بھی تیزرفتار ترقی کی ضرورت تھی ۔ کانگریس نے ان تمام ضروتوں کو پوراکرنے کو یقینی بنایا۔

 

1990 کےدہائی میںدینا کے بدلتےاقتصادی نظام میں ہندستان کومقام بہتربنانے اور اقتصادی تری کی رفتار کو تیز کرنے کے لئے اقتصای اصلاحات اور معاشی آزادی اور ہرائیوٹ سیکڑ کی شدید ضرورت تھی ، اقتصادی ترقی میں سرکار کے رول کی تشکیل جدید ، آئین کی منظور شدہ پنچایتی راج کے اداروں اور کارپوریشنوں کو لوکل سلف گورنمنٹ کی اکائیوں کے طور پر قائم کرنے بھی وقت کی اہم ضرورت تھی۔ کانگریس نے اس کے قیام کو یقینی بنایا۔

 

کانگریس اہل وطن سے ایک سچا وعدہ کرنا چاہتی ہے کہ وہ تمام لوگوں کے درمیان امن پھرقائم کرے گی ۔ سماجی ہم آہنگی پر زور دے کر سیکولرنظام کو مضبوط بنائے گی ، ثقافتی رنگارنگی اور ملک کے قانون کی بالا دستی کو یقینی بنائے گی ۔ اور ملک کے ہرخاندان کے لئے محفوظ اقتصادی مستقبل کی تعمیر کرے گی۔

 

ملک بھر میں سماجی ہم آہنگی اور اتحاد کو قائم رکھنے کیلئے بغیر کسی خوف وہراس اور جانبداری کے قوانین نافذ کئے جائیں گے۔ اس معاملہ میں کسی بھی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔

 

چھ بنیادی اصول

 

حکمرانی کیلئے کانگریس کے پاس چھ بنیادی اصول ہین۔

 

سماجی

 

نفرت پھلانے والوں اور تفرقہ پیداکرنے والوں کے خالاف سخت سے سخت کاروائی کرکے سماجی ہم ہنگی و اتحاد قائم رکھنا۔

 

روزگاربرائے نوجوان

 

محفوظ اور باآور روزگار کو بڑاھاوا دینے کے لئے ہر سال تقریبا ایک کروڑروزگار کے مواقع پیدا کرنا اور ہر خاندان کے کم سے کم ایک ممبر کو روزگارمہیا کرانا۔

 

دہی ترقی

 

ملک بھرکےکسانوں اور کھیت مزدوروں کے فروغ کے لئے انکی آمدنی میں اضافہ کرنا۔

 

متوسط طبقوں کے پیشہ وروں اور تاجروں کی تحلیقی توانائیوں کا بھرہور استعمال کرنا ۔

 

خواتین کو بااختیار بنانا

 

خواتین کو سیاسی حقوق دیکربااختار بنانا اورانکو تعلیمی،اقتصادی اور قانونی برابری دیناا۔

 

یکساں مواقع

 

دلتوں آدیواسیوں ، پسماندہ طبقوں اور مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو ہر معاملے میں کیساں مواقع مہیا کرانا۔

 

یہ چھھ بنیادی تررجیحات کانگریس کی تمام پالیسوں کی بنیاد ہیں۔ کانگریس ہمیشہ کہتی رہی ہے کہ معاشی آزادی اور عالمگیری کی معنویت اسی وقت ممکن ہے جب وہ اپنا ہدف علاقائی سطح پر اقتصادی ترقی اور سماجی تبدیلی کو بنائیں ۔ جس ہندستان کے چھ لاکھ گاؤں خوشحال بننیں ، شہری غریبوں کی حالت میں بہتری آئے اور دیہی اور شہری علاقوں کے غریبوں کو بلاواسطہ فائدہ پہونچے۔

 

کانگریس اقتصادی اصلاحات کی جڑوں کومزید وسیع اور گہری بنائے گی ۔ ہمارا سب سے پہلا ہدف ہوگا اقتصادہ نمو کی شرح ہرسال ٨ سے ١٠ فی صد کے درمیان حاصل کرنا اور اسی سطح پر برقرار رکھنا اور اسکو کاشتکاری کے میدان میں ٤ساڑھے ٤ فی صد کی اور سنعت کے میدان ١٠ فی صد کی سالانہ اوسط نمو کی شرح قطعی قبول نہیں کی جاسکتی ہے۔

 

روزگار

 

آئندہ ایک دہائی تک اقتصا دینمو کی شرح کوملک بھر میںآٹھ سے دس فیصد کے درمیان برقرار رکھنا کانگریس کا مکمل ہدف ہوگا تاکہ روزگار کےمواقع تیزی سےمہیا کرانے کی اہم ضرورت پوری کی جاسکے ۔ تیز رفتار اور وسیع اقتصادی ترقی روزگار کے مواقع بڑھانے کی بنیادی شرط ہے۔ گذشتہ پانچ سالوں میں منطم سیکڑ میں روزگار کے مواقع بڑھانے کے لئے کوئ کسر باقی نہیں رکھے گی۔ روزگار پیدا کرنے والی اقتصادی ترقی تیز کرنے کے لئے مالی مراعات دئے جائیں گے ۔

 

زراعت میں مسلسل ہونے والی ترقی روزگر کرنے کے مواقع پیداکرے گی ۔ ملک کے وسطی ، مشرقی ، شمالی مشرقی ریاستوں کو زراعت کے معملے میں اپنی اصل صلاحیت کا احساس ہونا بھی باقی ہے، باغبانی ، ڈیری صنعت ، شجر کاری ماہی پروری اور اگروپرسیسینگ جیسے دیہی ترقی کے پروگراموں کے ذریعے بھی روزگرکے موقع پیداکئے جائیں ۔ ان کاموں کے لئے ضروری سرمایہ کاری ، قرض ، بندی اور تکنیکی سہولتیں مہیا کرائی جائینگی ۔ زراعتی پیداوار اوراشیاء کے لئے مستحکم اور دیر پا برآمد کی پالیسی کا اعلان بھی کیا جائئیگا ۔

 

کانگریس کھادی اور دیہی صنعت کمیشن کے کام کاج میں بہتری لائیگی اس کو موزوں ، مبننی پرتحقیق ، تکنالوجی ، خریداروں پر مبنی ، تنظیم بنایئی جائیگی ۔ نارمل صنعت ہینڈلوم ، پاورلوم ، دستی مصنوعات، اشیاء خوردنی کی صنعت ، ریشم کی ترقی ، چمڑا ، چینی مٹی کے برتن بنانے کا کام وغیرہ کے جدید کاری کی نئے پروگرام بنائے جائینگے۔

 

قومی روزگر کی ضمانت کا قانون فورا بنایا جائیگا۔ اس قانون کے تحت ہر ایک دیہی خاندن کو ہر سال کم سے کم معاوضے کی شرح پر ہرسال میں کم سے کم ١٠٠ دنوں کا روزگار دینے کی قانونی ضمانت دی جائے گی۔ یہ روزگار ملک کی مستحکم دولت کو فروغ دینے والے عوامی ترقی کے پروگرام کے تحت دئے جائیں گے۔

 

ٹکسٹائیلس ، دستکاری،نگینے و زیورات ، چمڑے ، سافٹویر ، انجییرنگ اوراشیاء صرف درآمدات پر زیادہ زور دینے سے بھی روزگار کے مواقع بڑھینگے۔ عالمی تجارتی انجمن کے ذریعہ طے شدہ قوانین کی وجہ سے 2005 سے ٹکستائیل صنعت کو عالمی منڈی میں زیادہ توجہ ملے گی اس لئے اس سنعت پر خصوصی دھیان دیا جائیگا۔

 

چھوٹی صنعتوں میں ضروری سرمایہ کی قلت ، تکنیکی اور مارکیٹنگ کی کمی ، آدائیگی میں تاخیر اورانسپکٹروں کے ذریعہ کی جانے والی زیادتی جیسی مشکلات کو دور کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔ چھوٹی صنعتوں کے فروغ کے لئے جامع قدم اٹھائے جائیں گے۔

 

ازخود روزگار کو اپنی اصل روزگار کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لئے مکمل تعاون دیا جائے گا اور از خود روزگار کے لئے قرض کی سہولت کو آسان بنایا جائے گا۔ صرف سافٹ وہر اوراعلاقائی تکنالو جی سے متعلق خدمات کو یا صرف تجارت ، تقسیم کاری اور حمل ونقل کی خدمات کو یا صرف مالیاتی اور مواصلاتی خدمات کو ہی اس کا فائدہ حاصل نلیں ہوگا بلکہ سیاحت جیسی خدمات کو بھی اس سہولیات کا فائدہ حاصل ہوگا ۔

 

قومی اور بین الاقوامی سیاحتکو وسیع پیمانے پر فروغ دینے کے لئے ضروری بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا جائے گا ۔ خدماتی صنعت کے فروغ میں حائل ہونے والے قوانین کی اصلاح کی جائے گی اور انہیں ضرورت کے مطابق تبدیل کیا جائے گا۔

 

غیر رسمی سیکڑ میں کام کررہے انٹر پرائزز کے کام کاج پر نظر رکھنےئ کے لئے کانگریس ایک قومی کمیشن قائم کرے گی ۔ یہ کمیشن اس سیکڑ انڑپرائزز کے سامنے تکنک حاصل کرنے ، قرض لینے اور بازار بنانے میں آرہی دشوایوں کو بھی دیکھے گا اور وقتاً فوقتاً کی جانے والی اصلاحات کو مشورہ دیتا رہے گا۔ منظم طور پر روزگار حاصل کرسکنے کے نوجوانوں کی صلاحیت کو بڑھانے کے لئےثانوی تعلیم کو پیشہ ورانہ بنائے جانے کی جد وجہد کی جائے گی ؛ ملک کے ہر ترقیاتی بلاک میں عوامی نجی حصہ داری کے بنیاد پر کم از کام ایک صنعتی تربیتی ادارہ قائم کیا جائے گا۔ روزگار کے مراکز کے نظام کو ہورے ملک میں اتنا مستعد بنایا جائے گا کہ وہ مزدوروں کے مطالبہ اور فراہمی کے درمیان مرکزی رول ادا کرسکیں ۔

 

ہرسال ١مئی کو سالانہ روزگر ریپورٹ قوم کے سامنے رکھی جائےگی۔ اس سے ظاہر ہے کہ کانگریس روزگار کے مواقع بڑھانے کی اپنے عہد کو کتنی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

 

کسان اور کھیت مزدور

 

وسائل کی تقسیم میں کانگریس سب سے پہلے زراعت کی پالیسی پر کام کرے گی۔ پسماندہ اورغریب علاقوں پر دھیان دے کر زراعت میں عوامی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جائے گا۔ اس کے تحت سینچائی ، بجلی لگانا، گودام کی تعمیر ، خرید وفرخت ، تحقیق اور توسیع کے کام شامل کئے جائیں گے۔

 

امداد باہمی پرمبنی تمام یہی قرض کے نظام کی تشکیل جدید کی جائےگی۔ آئندہ تین سالوں میں زراعتی قرض کےلئے مہیا کرائے جانے والی رقم کو دوگنا کردیا جائیگا ۔ اور چھوٹے کاشتکاروں کے لئے ادرتی قرض کی سہولت کی توسیع کی جائے گی۔

زراعت کےلئے ملنے والے قرضوں اور ان پر لگنے والی اونچی سود کی شرح سے راحت دینے کے لئے فوی اقدامات کئے جائیں گے۔

 

تمام عوامی ٹیوب ویلوں کو دوست اور کار گر بنانے کے لئے ایک متعین میعاد کا پروگرام شروع کیا جائیگا ۔ ملک کے غریب ضلعوں میں جدید سینچائی کے ٹیوب ویلوں کی تعمیر کا کام تیز کیا جائے گا۔

 

سوکھی زمین پر کاشتکاری کے لئے خصوصی ٹلنالوجی استعمال کرنے کا ایک پروگرام شروع کیا جائیگا۔ ملک کے بنجر اور نیم بنجر علاقوں کے ١٠٠ ضلعوں میں زراعتی ترقی کا ایک جامع پروگرام شروع کیا جائیگا ۔ پندھارا ترقیاتی پروجکٹ وسیع پیمانے پر تیز رفتاری سے شروع کیا جائے گا۔ اور گذشتہ کئی برسوں سے رکے پڑے بنجر زمین ککے ترقیا تی منصوبوں کو بھی دوبارہ شروع کیا جائے گا۔

 

ایگرو پروسیسنگ صنعت اورزراعت سے متعلق دیگر سرگرمیوں مثلاً ڈیری ، ماہی گیری ، اکواکلچر ، باغبانی ، ریشم سازی کو نئی سرمایہ کاری اور تکنیکی سہولیات فراہم کرکے آگے بڑھایا جائے گا۔ بنجرزمین کوزرخیز بنانے اور شجر کاری کے پروگراموں پر ازسرنو زوردیا جائے گا۔

 

تجارت کےقوانین زراعت کے حق میں ہوں گے اور ایسے قدم اٹھائے جائیں گے کہ کاشتکاری منافع میں اضافہ نہ ہو۔ کاشتکاروں کو پورے ملک میں اپنی پیداوار کو اعلی اور اچھی اجرت ملےگی اور پسماندہ اور غریب ریاستوں اور ضلعوں کے کاشتکاروں کی پیداوار خرید نے اور اسے فروخت کرنے پر سرکاری ادارے خاص طور پر دھیان دیں گے۔

 

فصل اور مویشیوں کے لئے انشورنس نافذ کی جائیں گی ساتھ ہی کانگریس زراعتی استحکام فنڈ مقرر کرنے کے امکانات پر غور کرے گی تاکہ کاشتکاروں کوبلاواشطہ مالی امداد دی جاسکے۔ خاص طور پر ملک کے ایسے علاقوں میں جوماحولیات کے اعتبار سے غیر محفوظ ہیں۔

 

ایسے قوانین کومنظم طورپرختم کردیا جائے گا جو زراعتی اشیاء اور زراعتی پیداوار پروسیسینگ کے مفت آمد ورفت میں رخنہ پیداکرتی ہیں تاکہ کاشتکاروں کی آمدنی میں کوئی دشواری پیش نہ آئے ۔ کاشتکاری میں کام آنے والی چیزوں کو مہیا کرنے والے اداروں میں کاشتکاروں کا اثر زیادہ ہوگا۔ کھیت مزدوروں کے لئے کم سے کم معاوضہ کے قانون کو کانگریس مکمل طورپرعمل درآمد کرئے گی ۔ تمام کاشتکاری کے کارکنوں کے لئے جامع تحفظاتی قانون نافذ کیا جائے گا۔ اس قانون کے تحت فاضل زرخیز زمین لوگوں میں تقسیم کرنے کی مہم دوگنی کردی جائے گی۔

اس مقامی سطح پر محصولیاتی انتظامیہ کو جدید بنانے کا کام تیز ہوگا اور تمام زمین کے مالکوں کا ریکارڈ تازہ رکھنے کے لئے قومی سط کی ایک مہم چلائی جائے گی تمام سرکاری اداروں کے جمہوتی ، خود مختاری اور پیشہ وارانہ کارگذاری کو یقینی بنانے کے لئے کانگریس آئینی ترمیم کی پیشکش کرے گی جیساکہ کانگریس نے پنچایتوں کو اختیارات تفویض کرنے کے لئے کیا تھا۔

 

خواتین اور بچے

 

کانگریس عہد کرتی ہے کہ لوک سبھا اور اسمبلی مین خواتین کے لئے ایک تہائی سیٹیں مختص کرنے کےلئے دستورمیں ترمیم کرنے کی کوشش کریگی۔

 

شادی کیلئے کم سے کم عمر ، جہیز کی مخالفت ، ستی کی مخالفت ، خواتین پر ہونے والے مظلم کا تدارک، بیواؤں کی فلاح وبہبود گی اور خواتین کی کم سے کم اجرت جیسے اہم مسئل سے متعلق سماجی قوانین پر موثر عمل آوری کے لئے مہم شلائی جائے گی۔ طفل کشی اور دلتوں کو مارنے کے معاملے میں سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی ۔ شادیوں کے رجسٹریشن کو قانون کے ذریعے لازمی بنایا جائے گا۔

 

پنچایتوں اور نگر پالیکاؤں کے ذریعے خرچ کی جانے والی رقم کی تیس فی صدی حصہ خواتین اور بچوں کے فلاح وبہبود پر خرچ کیا جائے گا۔ کھیتوں مین مزدوری کرنے والی اور کھیتی کرنے والی عورتوں کے فلاح وبہبود پر خصوصی توجہ دی جائے گی دیہات کی عورتوں اور انکی تنظیموں کو پینے ککے پاننی کی سپلائی ، صفائی ستھرائی ابتدائی تعلیم ، صحت ، غذا ، بایوگیس ، پانی کے پمپوں کی دیکھ بھال اور شجرکای کی ترقیاتی اسکیموں کی ذمہداری سنبھالنے کا اہل بنایا جائے گا۔ زندگی کے ہرمیدان میں خواتین کو مکمل مساوات کا حق دینے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے اور اسکو ایک عملی حقیقت کی شکل دی جائے گی۔ خاص طور پر امتیاز وتفریق کے قوانین کو تبدیل کیا جائے گا تاکہ خواتین کو ازدواجی جائداد میں مساوی حصہ مل سکے ، ازدواجی زندگی میں مساوی اختیار مل سکے اور مکان اور زمین وغیرہ میں مساوی مالکانہ حق حاصل ہوسکے ۔ تمام ریاستوں کو جلد ازجلد فیملی کورٹ قائم کرنے کے لئے ہمت افزائی کی جائے گی۔

خاص طور پر دلت ، آدیواسی ، غربت کی سطح سے نیچے زندگی بسرکرنے والی دیہاتی اور تنگ حال خواتین کے لئے باہمی تعاون حمایت پر مبنی چھوٹی سرمایہ کاری کے اسکیم شروع کی جائے گی ماحولیات کے لحاظ سے غیر محفوظ علاقوں میں پیداواریت اور بازار کے باہمی امدادی اداروں کے کام کاج کی ہمت افزائی کی جاے گی۔

 

ہندستان کے کچھ صوبے میں خاص طور پر جنوب ریاستیں زرخیزی کے اخری سطح پر پہنچ چکی ہیں ۔ اور باقی ریاستیں اس دہائی میں پہنچ جائینگی ۔ لیکن آج کے حالات کے مطابق ملک کے چار پانچ صوبے اس دہائی میں میل کے اس پتھر تک پہنچ جائیں گے ۔ کانگریس اس ضمن میں کامیاب صوبوں کے ذریعے وہاں اس کو نافذ کرنے کی پیش قدمی کرے گی ۔ آبدی پر کنڑول صرف حکومت کا پروگرام نہیں ہوسکتا ہے یہ پورے سماج کی ہی ایک مہم ہونی چاہیے ۔ ملک کے ایسے ایک سوپچاس ١٥٠ ضلعوں میں یہ مہم چلانے کے لئے لوگون کی ہمت افزائی کی جائے گی جہاں شرح پیدائش اب بھی سب سے زیادہ ہے۔

 

صحت اور تعلیم

 

کانگریس عہد کرتی ہےکہ کامیاب گھریلو اخراجات کےکم سے کم چھ فیصد حصہ تعلیم پر خرچ ہوگا اور اس رقم کا نصف حصہ ابتدائی اور ثانوی تعلیم پر خرچ کیا جائے گا۔ معیاری عمدہ تعلیم تک سب کی رسائی کو آسان بنانے کے لئے کانگریس اپنا عہد پوراکرنے کے لئے تمام مرکزی ٹیکسوں پر ذیلی ٹیکس لگایا جائے گا ۔ ایک قومی تعلیمی کمیشن قائم کیا جائے گا جو ملک کی ترجیحات کے پیش نظر وسائل کو تشخیص کرنا اور ان پروگرموں کے نفاز پر نگاہ رکھے گی ۔

 

کانگریس کے دو میں سائنس ، ٹکنالوجی، سماجی علوم اورانتظامی علوم کے میدان میں کام کرنے والے تمام اعلی تعلیمی اداروں کو حاصل خود مختاری کو دوبارہ بحال کیا جائے گا۔ کانگریس یقنی بنائے گی کہ NCERT, ICSSR, ICHR, UGC وغیرہ جیسے اداروں میں تقرری کی بنیادی شرط تعلیمی لیاقت اور پیشہ ورانہ مہارت ہوگی۔

 

کانگریس یہ بھی یقینی بنائے گی کہ کسی بھی فرد کو صرف اس لئے تعلیم حاصل کرنے کے حق سے محروم نہیں ہونا پڑے کہ وہ غریب ہے اور اونچی سے اونچی اور اہم تعلیمی اداروں کےک دروازے غریب سے غریب فرد کے لئے کھلے رہیں۔ قرض وظیفہ کی تعداد میں اضافہ کرے اور بینکوں کے ذریعہ تعاون دینے کا انتطام کرنے کے علاوہ کانگریس HDFC کے طرز پر تعلیمی قومی فینانس کمپنی قائم کرے گی ۔ یہ کمپنی سائنس ، انجیرئننگ اور مڈیسین کے میدان میں کالج اور یونیوسیٹی کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے آسان شرطوں پر قرض دے گی ۔ دلت اور آدیواسی طلبہ -طالبات کے لئے ہرسطح کی تعلیم بالکل مفت ہوگی۔

 

پورے ملک کے ابتدائی اور ثانوی اسکولوں میں دوپہر کے عمدہ کھانے کا ایک قومی پروگرام شروع کیا جائے گا۔ ایک جامع طفل ترقیاتی اسکیم ICDS کو عام کیا جائے گا او ہرنو آبادی میں ایک مکتب کھولا جائے گا جو چھ سال سے کم عمر کے بچوں کا خاص طور پر خیال رکھے گی۔

 

کانگریس آئندہ تین سال میں گھریلو آمدنی کا دوسے تین فیصد حصہ صحت پر خرچ کرے گی اور صحت کی بنیادی سہولتوں کو سب سے زیادہ ترجیح د ے گی ۔ اس کے بعد کے پانچ سالوں تک گھریلو آمد نی کا ٥ فی صد حصہ خرچ کیا جائے ۔

 

کانگریس کی کئی ریاستی حکومتوں نےصحت انشورنس کے نئے پروگرام شروع کئے ہیں ۔ غریبی سطح سے نیچے رہنے والے لوگوں کے لئے ایک صحت انشورنس پروگرام قومی سطح پر شروع کرنے کی پیکش کی جائے گی۔ عوامی انجمنوں اور پنچایتی راج اداروں کے ذریعے ترقی پر مبنی صحت پروگرام کانگریس شروع کرے گی ۔

 

اقلیتیں

 

کانگریس تمام مزہبی اور لسانی اقلیتوں کے لئے موثراور ایجابی عمل پر یقین رکھتی ہے۔ کانگریس نے کیرالا اور کرناٹک میں سرکاری ملازمتوں اور سرکار کے ذریعہ چلائے جانے والے تعلیمی اداروں میں مسلمانوں کو ریزرویشن اس بنیاد پر دیا ہے کہ مسلم طبقہ سماجی اور تعلیمی طور پرپسماندہ ہے۔ کانگریس اس پالیسی کومسلمانوں اور دیگراقلیتوں کے لئے سماجی اور تعلیمی طورپر پسماندہ لوگوں کے لئے ملکی سطح پر نافذ کرنے کی پابند ہے ۔ کانگریس نے ریزرویشن کی یہ سہولت ان تمام فرقوں کے معاشی طور پسماندہ لوگوں کے لئے بھی نافذ کرنے کی پابند ہے جنہیں ابھی یہ سہولت نہیں مل رہی ہے۔

 

کانگریس فرقہ وارانہ ہم اہنگی قائم رکھنے کےلئے ہرممکن اقدامات کرے گی۔ حساس علاقوںپر خاص طورپر دھیان دیا جائے گا ۔ سماجی مساوات کے معلملوں کی تفتیش کاکام ایک ایجنسی سے کرانے ، اس طرح کے واقعات کے مقدمات خصوسی عدالتوں میں چلانے اورجان ومال اور عزت نفس کے لئے مساوی معاوضے کی ادائیگی کے لئے ایک ایسا جامع قانون بنایا جائے گا جو اسطرح کے معاملوں کے ہرپہلو پرمشتمل ہوگا۔

 

اقلیتون کے پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں کو مرکزی یونیورسیٹیوں سے بلاواسطہ منسلک کرنے کے لئے اقلیتوں کے تعلیمی اداروں کے لئے ایک کمیشن مقرر کیا جائے اوراس کے لئے دستور مین ترمیم کی جائے گی۔ خاص طور پرخواتین کو جدید اور تکنیکی تعیلم سے آراستہ کرنے کے لئے خصوسی اقدامات کئے جائیں گے۔ ایسے علاقوں مین جہاں بنکر اور دستکار جیسے ہنر مند لوگ بڑی تعداد میں ہیں ، جدید متوسط درجے کے تکنیکل ادارے قائم کئے جائیں گے۔ قومی اقلیتی ترقیاتی کارپوریشن اور ریاستی اقلیتی ترقیاتی کارپوریشن کو براہ راست مالی امداد فراہم کرنے والے ادارے بنائے جائیں گے۔

 

 

ایودھیا متنازعہ پر کانگریس کاموقف بالکل واضح ہے ۔ اس معاملے سے متعلق تمام فریقوں کو عدالت کےفیصلے کا انتظار کرنا چاہیے ۔ اگر کوئی بات چیت ہونی ہے تو وہ اس تنازع سےمتعلق فریقوں کے درمیان ہونی چاہیے۔ مذہبی مقامات کی تحفظ کےبارے میں 1992 میںوضع کردہ قانون ( جس کے تحت ایودھیا کے علاوہ بقیہ کسی بھی مذہبی مقامات پرکوئی بھی تنازع باقی نہیں رہے گا اور 15 اگست 1947 کو ہر مذہبی مقام کی حیشیت برقرار رہے گی ) کو سختی سے نافذ کیا جائے گا۔

 

دلت اورآدیواسی

 

پرائیوٹ سیکڑا کے ذریعے کی جانے والی تجارت میں دلتوں اورآدیواسیوں کے ذریعہ چلائے جانے والےروزگار کومناسب حصہ دلوانے کے تھوس اقدامات کئے جائیں گے تاکہ دلت آدیواسیوں میں کانگریس قومی حمایت تیار کرنےکا کام کریگی۔ تاکہ دلت، آدیواسیوں میں تہذیبی ثقافت کی ترقی ہو۔ انہیں کاروبار میں بینک سے قرض بھی آسان شرطوں پر دئےجائینگے۔

 

ریاستی حکومتوں سے درخواست کی جائئیگی کہ وہ آدیواسیوں کو چھوٹے جنگل پیداوارپر مالکانہ حق دینے کے لئے قانون بنائیں اور جنگلوں میں کام کرنے والے آدیواسیوں کو خاص کر اسکا فائدہ پہونچایاجائے۔

 

تامم مختص کوٹے ، جنمیں ترقی شامل ہے مقررہ پروگرام کے تحت کئے جائیں گے ۔ خاص طورپر درجہ اول اور دوئم کی خالی جگہوں کو پر کرنے کے لئے خصوصی تقرری مہم چلائی جائے گی ۔

دلتوں اور آدیواسیوں کے مالکانہ حقوق کی آراضی کو چھوٹی ابپاشی اسکیم کے دائرے میں لانے کے لئے ایک قومی مہم شروع کی جائے گی ۔ زمین کی حدبندی اور زمین کی ازسرنو تقسیم کے قانون کے ذریعے بے زمین لوگوں کو زمین فراہم کی جائے گی۔

 

جنگلوں پر انحصار کرنے والے آدیواسیوں کی اقتصادی ترقی کو تیز کرنے اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان ہم آہنگی پیدداکرنے کی ضرورت ہے ۔ 1980 کا جنگلاتی تحفظ ایکٹ جنگلوں کو برباد ہونے سےمحفوظ رکھتا ہے۔ مگر ساتھ ہی ساتھ یہ غورطلب ہے کہ اس قانون کے نفاذ میں سختی کی وجہ سے آدیواسیوں کی معاشی ترقی کے فوائد سے محروم ہونا پڑاہے۔ ان مسائل پر دھیان دینے اور ان ماحولیاتی تحفظ ککے دائرے میں حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ترقیاتی پروجیکٹس کی وجہ سے اجڑنے والے آدیوسی خاندانوں کے لئے راحت اور باز آبادکاری کے پروگرام کوبھی جشت اور درست کرنے کی ضرورت ہے۔

 

مختلف صوبوں کے آدیواسی علاقوں میں بڑھنےوالی بے اطمئنانی کو مد نظر رکھتے ہوئے کانگریس آدیواسی علاقوں کی ترقیاتی پروگراموں کا ازسرنو تجزیہ کرے گی اور ترقی کے نئے طریقے تلاش کرے گی ۔ سرکارکو جنگلوں سے ہونے والی آمدنی آدیواسیوں کے ترقیاتی پروگراموں کے لئے اضافی مالی امداد کے طورپر علیحدہ رکھی جائے گی۔

 

غذائی تحفظ

 

کروڑون ہندستانیوں کو غذائی تحفظ فراہم کرنے والی عوامی تقسیم کار نظام (PDS ) کے ساتھ پچھلے کچھ سالوں میں کافی چھیڑ خانی کی گئی ہے۔ ایسا اسلئے ہوا کہ عوامی تقسیم کارنظام کے توسط سے لوگوں نے اشیاءخریدنی کم کردی ہے۔ نتیجتا اشیاء خوراک کا بھنڈار بڑھتا جارہا ہے۔ کانگریس خاص طورپر ملک کے غریب ترین اور پسماندہ بلاک میں عوامی تقسیم کار سسٹم کو مستحکم کرے گی اور مقامی سطح پراس کے نظم ونسق مین خواتین اور سابق فوجیوں کی کوآپرییٹواداروں کو شامل کرے گی ۔ عوامی تقسیم کا سسٹم کا مرکزی ہدف غربت کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنےوالوں کو بنایا جائے گا اور ایسے خاندانوں کی شناخت کا کام ہر دوسال میں ایک مرتبہ ہوکرے گا۔ پنچایتں ایسےخاندانوں کی شناخت زمین کی ملکیت ، پیشہ اور خاندانی حیثیت وغیرہ کی بنیاد پر کریں گی ۔ ہماری آبادی کا ٦-٨ فی صد حصہ بری طرح متاثر ہے ۔ اور اس طبقے کے لوگ ان مقامات پر بھی عوامی تقسیم کار سسٹم سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کرسکتے ہیں ۔ جہاں یہ سسٹم تھیک سے بھی کام کررہا ہے وہاں پنچایتوں کے ذریعے ایسے طبقوں تک اناج پہونچانے کے خاص انتطام کئے جائیں گے ۔

بھوک کی دہلیز پر کھڑے خاندانوں کو ایک کارڈ جاری کئے جائیں گے اناج کی قلت والے علاقوں میں اناج بینک قائم کئے جائیں گے۔

 

یہ بڑے شرم کی بات ہے آج بھی ہندستان مین پیدا ہونے والے بچوں میں سے ایک تہائی بہت کم وزن کے ہوتے ہیں ۔ یہ بچیوں کے قلت تغذیہ کو ثابت کرتاہے جو بعد میں ماں بننے کے بعد کمزور بچے کو جنم دیتی ہیں ۔ خاص طور پر بچیوں کے لئے خصوصی تغذیہ کا پروگرام وسیع پیمانے پر شروع کیا جائے گا۔

 

پنچایتی راج

 

جناب راجیو گاندھی کی اعلی بصیرت اور انتھک کوششوں کی بدولت ایک دہائی قبل پنچایتوں کو آئینی خود مختاری ملنے کے بعد انہیں مکمل مالی وسائل اور عملی پروگرام دئےجانے کی ضرورت ہے ۔ عالمگیریت اور معاشی اصلاحات مستحکم ، فعال اور لوکل سلف گورنمنٹ کے اداروں پرمبنی ہونا چاہیے ۔

 

کانگریس غربت کے خاتمہ اوردیہی ترقی کے لئے مختص مکمل فنڈ کو پنچایتوں کے کھاتے مین گرام سبھا کو پنچایتی راج سسٹم کی بنیاد بنایا جائے گا۔ مقامی سطح پر مستحکم مالی نظام کےلئے مناسب محاسبہ کے نطام قائم کئے جائے گا۔

غیر رسمی اورغیر منظم سیکڑ

 

ہمارے ملک میں تقریبا 93 فیصد ملازمین غیر منظم سیکڑ میں کام کررہے ہیں ۔ حالانکہ منظم سیکڑ میں روزگار کے مواقع اور حصے کو تیزی سے بڑھانے کیلئےہرممکن قدم اٹھا یا جا ئے گا۔ کانگریس غیر منظم سیکڑ میں کام کرنےوالے کارکنوں کی فلاح وبہبودگی اور بہتری کو یقینی بنائے گی ۔ کچھ صوبوں میں کانگریس حکومتوں نے اس سمت میں ازسرنو ٹھوس اقدامات کئے ہیں مگر ملکی سطحپر سماجی انشورنس پر اسکیم اور صحت عامہ کے پروگرام کے ذریعے اس سمت میں ازسرنو ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ گذشتہ کانگریسی حکومتوں کے ذریعے غیر منظم سیکڑ میں کام کرنےوالے بنکروں ، دستکاورں ، ماہی گیروں ، چمڑا مزدروں ، باغبانوں تاڑی اور بیڑی کا کام کرنے والوں وغیرہ کے لئے خصوصی سماجی تحفظ کےپروگراموں کی توسیع کی جائے گی۔

 

غیرمنظنم سیکڑمیں میں انٹرپرائزز کو درپیش مشکلات کا پتہ لگانے اور دور کرنے کےلئے ایک نیشنل کمیشن قائم کرے گی ۔ یہ کمیشن ایسے انڑپرئزز کو تکنیکی ، مارکیٹنگ اور قرض کی امداد کےلئے مناسب سفارشات کرے گا۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ایک نیشنل فنڈ بھی قائم کیا جائے گا۔ قرض اور تحفظ سے متعلق ایک آسان ضابطہ ان انٹرپرائزز پر نافذ ہوگا۔ غیر منظم سیکڑ میں کام کرنے والے لوگوں کو خراب صحت، بے روزگای ، اور بڑھاپے کے خطروں کا سامنا کرنے والی بہتر سے بہتر تدابیر اختیار کئےجائیں گے۔

 

شہروں اور قصبوں کی زندگی کو آسان بنانے والے اور غیر رسمی سیکڑوں میں کام کرنے والے ہاکروں ، خونچے والوں ، کھانے پینے کا سامان بیچنے والوں وغیرہ کو اپنا کام چلانے کے لئے قانونی طور پر گنجائش فراہم کی جائے گی تاکہ وہ غیر قانونی ، جبری وصولی ، سامان ضبط کرلینے اور جگہ خالی کرانے اور تشدد کاشکار ہونے جیسی دشواریوں سے بچ سکیں ۔

 

سماجی اور طبعی ڈھانچہ

 

وسیع ڈھانچےکی بنیاد عوامی نجی شرکت کے ذریعہ قائم ہوگی۔ دیگر چیزوں کے علاوہ یہ عوامی اخراجات اور پرائیوٹ نظم ونسق پر مبنی ہوسکتاہے۔ ڈھانچے کی سہولتوں میں سرکاری امداد دی جائے گی اور ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے بجٹوں سے مہیا کرایا جائے گا۔

 

گذشتہ چند سالوں میں ریلوے کو بہت نقسان ہوا ہے اور ریلوں کے تحفظ کو سب سے زیادہ دھکا لگاہے۔ ریلوے کے سماجی اور معاشی پہلوؤں کو دھیان میں رکھتے ہوئے کانگریس ریلوں کے وسیع نیڑورک کی جدید کاری کرگی۔

 

کانگریس ملک کی ترقی کا کام تیز کریگی اور آبپاشی کی صلاحیت کا بھر پور استعمال کریگی ، 2002 تک آبپاشی کی موجودہ صلاحیت ختم ہونے لگے گی ۔ جس کے لئے طویل المدت فنڈ کی فراہمی کی جائے گی ۔ اس کے باوجود زرخیز کھیتوں کا 5|2 حصہ بارش کے پانی پر منحصر ہوگا ، خاص طور پر ملک وسطی حصہ میں جہاں آدیواسیوں کی آبادی سب سے زیادہ ہے کانگریس اور اسکے حلیف ملک کے اس حصے کےلئے وسیع پیمانے پر پروگرام تیار کرکے نافذ العمل بنائیں گے۔

 

کانگریس ایک خصوصی پوگرام شروع کریگی ۔آئندہ تین سے پانچ سالوں میں ہر گھر میں بھروسے مند بجلی کی پیداوار کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کیلئے غیر ملکی زرمبادلے ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار کےلئے موجودہ عوامی سرمایہ کاری کے پروگرام میں استعمال کرے گی ۔ بجلی کی پیداوارمیں عوامی سرمایہ کاری کی بڑی اہمیت ہے۔ جبکہ نجی سیکڑ بجلی کی تقسیم کے معاملہ میں زیادہ وسیع رول اداکرسکتاہے ۔ پانی کی قلت کو دور کرنے کے لئے اضافی پانی کا انتظام کرنے کےلئے اور ملک کےزمینی پانی کے وسائل کی سطح کو بڑھانے لئے ایک مقامی فرقوں پر مبنی بارش کے پانی کو جمع کرنے کا ایک قومی پروگرام شروع کیاجائے گا۔ اس کے ذریعے ہرسال کم سےکم ایک فصد اضافی پانی کو جمع کیا جاسکے گا۔

کانگریس عوامی - نجی مشارکت کے اصول پر مبنی شہری جید کاری کے پروگرام شروع کرنے کی پابند ہے۔ اس پروگرام کے تحت شہری وسائل حمل ونقل ، پانی کی سپلائی، صفائی ستھرائی اور آلودگی پر کنٹرول کے نظام کی جدید کاری پر زور دیا جائے گا اور بلدیاتی انتظامیہ کی تشکیل نو کی جائے گی اور مالی طورپر اسکو خودکفیل بنایا جائے گا۔

 

شہر میں رہنے والے غریبوں اور جھگیوں کی ضروتوں کی تکمیل کے لئے سماجی رہائشی اسکیم شروع کی جائےگی ۔ سستے مکان کی تعمیر کےلئے بڑے پیمانے پر تکنالوجی کو فروغ دیا جائے گا۔

 

دفاع قومی تحفظ اور خارجہ پالیسی

 

مسلح افواج کی جدید کاری میں غیر ضروری تاخیر کا سلسلہ ختم کیا جائے گا اور جو رقم جدید کاری کے لئے مختص کی گئی ہے کانگریس اسکا بھر ہور استعمال کرے گی ۔ کانگریس ایک بھروسے مند نیو کلیائی اسلحے کے پروگرام کو جاری رکھنےکی پابند ہے۔ اس کے ساتھ وہ اپنے نیوکلیائی طاقت رکھنے والے پڑوسی ملکوں کے ساتھ واضح مصدقہ اور اعتماد پر مبنی دوستانہ تعلقات قائم رکھنے کے طریقوں کو بروئے کار لانےگی۔ سابق فوجیوں کے فلاح وبہبود کے پروگراموں پر ٹھوس دھیان دیا جائے گا قومی تعمیر کےاہم کاموں میں شامل کیا جائے گا ۔ وزارت دفاع می سابق فوجی کے فلاح وبہبود گی کے لئے ایک علیحدہ شعبہ قائم کیا جائے گا ۔ مدت سے زیر التوا ایک پنشن کے کے مسئلہ کو دوبارہ جانچاجائیگا اور مناسب حل جلد از جلد تلاش کرنےکی کوشسیں کی جائیں گی۔

کانگریس نیشنل سیکورٹی کونسل کو ایک پیشہ ورانہ اور فعال ادارہ بنائے گہ۔ کرگل سے متعلق سبرمنیم کمیتی کی رہورٹ کو پالیامنٹ میں زیر بحث لایا جائے گا اور اپنے خفیہ نیٹورک کو چاک وچوبند بنانے کے لئے اس کمیٹی کی سفارشات کو فوراً نافذ کیا جائے گا۔

 

جموں وکشمیر سمیت تمام

عوامی انتظامیہ کی ذرائع میں معمولی تبدیلی کیلئے اور اسے موئثر طرز پر مرکوز کرکے جوابدہ بنانے کیلئے مزید منصوبہ بنانےکا کام کیا جائیگا۔ اسکےلئے انتظامیہ اصلاح کمیشن کا قیام کیا جائیگا۔ ایک طرف جہاں بنیادی نظام کو اولیت دی جائیگی ، دوسری طرف عام آدمی کو سہولتیں دینےکی لئے ای۔ انتظامیہ یعنی نشرکی ٹکنالونی پر انتطامی نظام کو کارگر پیمانے پر تیزی سے عمل میںلایا جائیگا اور خاصکر زمین سے تعلق سے ریکارڈ رکھنے میں اسکا استعمال ہوگا۔

 

سبھی سرکاری ایجنسیاں اور خاصکر ان ایجنسیوں کو جن سے عام شہریوں کا ہر روز سابقہ بڑتاہے، جوابدہی اورذمہ داری کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ خبر پانے کے ختیار کے مرکزی قانون کو عام لوگوں کیلیے اور ترقی یافتہ ، معنی خیز اور کارآمد بنایا جائیگا۔ اس قانون کے عمل پر اور تیکھی نگاہ رکھی جائیگی ۔ قانون میں موجود سہولت کو بغیر کسی وجہ کے تاخیر کرنے ، جانکاری دینے سے انکار کرنے اور خبر دینے کے معاملوں میں ہونے والی نا انصافی گڑبڑی سے لڑنے کیے لئے اور سختی سے عمل میں لایا جائیگا۔ اگر ضروری ہوا تو مختلف معاملوً میں ہورہی بدعنوانی کو لے کر سرکار کو ہوشیار کرنے کا کام کرنے والوں کو آئینی تحفظ دینے کا انتظام کیا جائیگا۔

 

پولیس والے بغیر تعصب ، پیشیور ، طریقے اور انسانی طرز سے کام کریگی ۔ ہولیس والوں کے خاندان کی تعلیم اور رہائش جیسی خاص پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے ٹھوس قدم اٹھائے گی جائئینگے۔ خواتین کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں ہولیس بل میں شامل ہونے کے لئے اکسایا جائیگا۔

 

عدالتوں میں ہونے والی تاخیر کو روکنے کے لئے فورا قدم اٹھا ئے جائینگے۔ خاصطور سے نچلی عدالتوں اور ہائی کورٹ میں مقدموں کے فیصلے میں لگنے والے وقت کو کم کرنے کے لئے تیزی سے کام کیا جائیگا۔ قانونی صلاح لینا آسان بنایا جائیگا۔ اختلاف کو دور کرنے کےلئے عوامی طریقوں کو مضبوط بنایا جائیگا ۔ انصاف پنچایتوںمیں نئا دستور عمل میںلایا جائیگا۔

 

کانگریس انتخابی اصلاح کے لئے گہرائی سے لگی ہے۔ کانگریس پہلی ایسی سیاسی جماعت ہے جسنے پارٹی کے لئے خزانہ جمع کرنے میں شفافیت لانے کےلئے ایک کمیٹی کا نظم کیا۔ اس کمیٹی کو صفائی پر عمل کرنے کےعمل میں آگے بڑھ رہی ہے۔ کانگریس ہی اکیلی ایسی سیاسی جماعت ہے ، جس نے گذشتہ سال بہتر عدلیہ کے ذریعہ دئے گئے اس رخ کا استقبال کیا کی انتخاب میں کھڑے ہونے والے امیدواروں کو اپنے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے عوامی طور پر ایک حوالہ دینا ہوگا، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اسکے حمایتی جماعتوں نے سپرم کورٹ کے اس حکم کی مخالفت کی۔

 

کانگریس بدعنوان اور کالی دولت کی اصلی وجہوں سے نبٹنے کا کام کریگی ۔ ناحق لاد دئے گئے اصولوں کو الجھاکر اپنی وثوق کھو چکے یا نا اہل ثابت ہوچکے قانونوں کو الوعدہ کر کے، سیاسی جماعتوں کو ملنے والےپیسے کے خرچ کو شفاف بناکراور انتخاب میں سرکار کی طرف سے اقتصادی مدد کر کے اس بیماری پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ کانگریس جانتی ہے کہ بد عنوانی کے دیو نے ہرسطح پرکیسا واویلا مچا رکھاہے اور عام آدمی کس پوری طرح پریشان ہو چکا ہے ۔ کانگریس ملک کو اس ناسور سے آزاد کرانے کے لئے اٹل ہے۔

 

کارخانے

 

صنعت کی ترقی کا دوبارہ قیام سب سے اہم ہے۔ ذاتی اندراج کو بڑھاوا دینے کے قدم اٹھائے جائینگے ۔ ہر ایک غیر ملکی کو پیسہ لگانے کو منظوری دینے کا عمل کواور شسفاف بنایا جائیگا۔ دنیا کےنقشے پراپنی جگہ اور موئثر بنانے کے لئے ملکی کارخانے کو ہر معاملے میں بڑھاوا دیا جائیگا۔ گھیریلو اور خارجی رواج کو بڑھاوا دیا جائیگا اور پیشیورطریقے سے چلانے والی بہتر تنظیمیں اس بات پرنگاہ رکھینگی کی صاف آزاد اورغیرجانبدار ہے یا نہیں اورطئے کریگی کہ ایسا ہو۔

 

کانگرس بنیادی اور سیاسی زمرے میں عام کام کے طریقوں کو مضبوط بنائے گی۔ نامکمل ڈھانچے کی تعمیر کیلئے بی عوامی علاقےکو ترجیح دی جائیگی۔ ایسا کرنےسے ان جگہوں کی سرکاری مشنری کو کارگر کمپنی بننے میں مدد ملیگی۔

عوامی حصہ اب بھی کئی نئے اوروسیع ہورہے اقتصادی ۔ حلقوں میں باہمت نیویشکوں کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ اسیی سرکاری کمپنیوں کی پہچان کی جائیگی ، جنہیں نیا اصول لاکر پھر سے کھڑا کیا جا سکتاہے۔ عوامی زمرے کا سب سے بڑا فائدہ اب بھی ئنی ذرائع شروع کرنے میں ہے، جبکہ ذاتی علاقے کا سب سےبڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ ان سہولتوں کو کاروباری طور پرچلا سکتاہے۔ عوامی اور ذاتی میدان کی حصے داری شروع کی جائیگی۔

 

کانگریس ذاتی کرنے کےعمل کو سب سےآخری عمل کےطورپر ہی استعمال کریگی ۔ محض وقتی مقصد کو پورا کرنےکیلئے وینویش نہیں ہوگا، جیسا کہ بھاجپا کی قیادت والا این۔ ڈی ۔ اے۔ کرتی رہی ۔ ڈس انوسٹمنٹ سےملنی والی دولت کااستعمال سماجی فلاح کےطئے شدہ پروگرام کو پورا کرنے میں ہی ہوگا۔ کانگریس یہ بھی طئے کریگی کہ وینویش سےمقابلہ بڑھے ۔

 

کانگریس ایک قومی درآمد مقابلہ سوسائیٹی کا قیام عمل میںلا ئیگی تاکہ اشیاء خوردنی ،کپڑے ،انجیرنگ سےمتعلق چیزیں،دوائیں، چمڑے صنعتی مشین اورنشریہ ٹکنالونی(Hardware )ہارڈوہر جیسی چیزیں بنانے والی صنعتوں کو پالیسی کے تحت صلاح مشورے کے لئے ایک اسٹیج مل سکے۔ ایسا ہونے سے ان صعتوں کو نئی طاقت ملیگی اور انکی پیداوار کی شرح قائم رہ سکے گی ۔ گھریلو سامان اور کاریگری کے سازوسامان بنانے والی صنعت ملک بھر میں کئی قصبوں اورشہروں کی رگ جاں ہے۔ اس صنعت کو جدید بنایا جائیگا اور اسے بہتر ٹکنکی نیویش اور مارکیٹ کا تعاون دیا جائیگا۔

 

کانگریس ایک ایسی جگہ جو جدید اورعالمی پیمانے پراسکی اقتصادیات ہو اسکےلئےاپنے وعدے پرقائم ہے۔ جو اپنے سماجی ضرورتوں کو بھی پورا کرتا ہو۔ اقصادیات میں مقابلہ کو آسان بنایا جائےگا۔ بینکوں کےقرض دینےکےطریقےکو کارگر بنائے کیلئےپوری طرح ہمت افزائی کی جا ئیگی اورانہیں زراعت ، صنعت فائدہ مند زراعت ، چھوٹے کارخانے اور انکے تانے بانے کو بڑھا نےوالی کارگزاری کو قرض مہیا کرانے کیلئے خاص طورپر کہا جائیگا۔ سود کی شرح ایسی ہونی چاہیے،جو صرف پیسہ لگانے کو ہی بڑھا وانہ دیں بلکہ بچت کرنے والوں کو بھی مناسب فائدہ پہنچائیں ۔

 

دفائی تحفظ ، قومی تحفظ اور خارجہ پالیسی

 

کانگریس یہ یقینی بنائیگی کہ ہماری حفاظتی فوج کو جدید بنانےوالی ہرتاخیر کودور کیا جائے اوراسے کام کیلئے رکھی گئی جمع دولت کا پورا ہورا استعمال ہو۔ کانگریس ایک ذمہ دار پڑوسی کی حیثیت سےایک پروگرام کا مستحکم اردہ رکھتی ہے ، مگر اسکے ساتھ ہی وہ اپنے قریبی پڑوسیوں کے ساتھ مستند اور قویارادی پر مربوط رشتے رکھنے کے طریقے بھی طئے کریگی ۔ سابق فوجیوں کےفلاح مستفید منصوبے بنانے پر بھی ٹھوس کام کیا جائیگا اور انہیں ملک کی تعمیر کے اہم کاموں میںشامل کیا جائیگا۔ وزارت تحفظ میں الگ سے سابق فوجی فلاح کا شعبہ قائم کیا جائیگا۔ کافی وقت س موخر ‘‘یکساں عہدہ یکساں وظیفہ ‘‘ کے مدًے ہر پھر سے غور کیا جائیگا اور اسکا جلد سے جلد مناشب نتیجہ اخذ کیا جائیاگا۔

 

کانگریس ایک موجودہ صورتحال کے مدنظر قومی تحفظ صلاح کار کمیٹی قائم کریگی اور قومی تحٍفظ کمیٹی کو ایک کارگر تنظیم کی شکل دیگی ۔ کارگل کے معاملے میں سبرامنیم کمیٹی کی ریپورٹ پر پارلیمنٹ میں فورا بحث کرائی جائیگی اور اپنی خفیہ ایجنسی کو مضبوط کرنے کیلیتے اس کمیٹی کی سفارش پر فورا عمل کیا جائیگا۔

 

جموں وکشمیر کے ساتھ مسئلوں پر پاکستان سے بات چیت کی کانگریس شروع سے ہی طرفددار رہی ہے اور ہم نے اس مسئلے پر بھاجپا کی طرح بار بار اپنا رویہ بدلا نہیں ۔ کانگریس نے 1972میں ہوئے تاریخی شملہ معاہدہ کی بنیاد پر پاکستان سے ہر رسمی اور غیر رسمی بات چیت کی وکالت کی ۔ اسکے ساتھ ہی کانگریس کا یہ بھی پختہ عزم ہے کہ پاکستان کو سرحد پار ہونے والی ہردہشت گردی پرپوری طرح اور سختی سے بندش لگانی چاہیے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو ہندستان کو اپنے شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری کا پاس کرنا ہی ہوگا۔

ہم چین اور مشرقی ایشاء کے ملکوں کے ساتھ تجارت اور نیویش کے رابطے کو وسیع کرینگے۔ کانگریس مغربی ایشاء اور دوسرے غیر جانبدار ملکوں کے ساتھ ہندستان کے رشتوں کو دوبارہ قائم کریگی ۔ روس، جاپان اوریورپی ممالک سےاپنےقدیم رشتوں کو ہم اوربہتر بنائنگے۔ امریکہ کے ساتھ ہم سائنس، ٹکنالوجی ، پالیسی اورتجارتی تعاون کی راہ پر چلینگے۔ کانگریس جنوبی ایشاء علاقی تعاون تنظیم ؛ سارک ‘‘ کو مضبوط بنانے کی قیادت کریگی اور اس علاقے کےسبھی ملکوں کے ساتھ ملکر بجلی اور پانی کی سہولیت سے جڑے اہم منصوبے شروع کی جائینگی تاکہ سبھی کو اسکا فائدہ ملے۔

 

علاقائی ترقی

 

ہمیشہ کی ہی طرح کانگریس علاقائی ترقی کیلئے توازن کے ساتھ کام کریگی۔ ہندستان کے شمالی مشرقی علا قے پر خاص دھیان دئےجانے کی ضرورت ہے اورہم اس علاقے کو ترقی کے معاملے میں خاص درجہ دینگے۔ شمال مشرق میںسڑک ، بجلی ، زائرین ، دوربینی اور ہسپتال کو لے کر خاص دھیان دیا جائیگا۔ قانون کےنظام کو قائم کئے بغیر اور دہشت گرد سے سختی سے لڑے بغیر شمال مشرق ریاستوں میں ترقی کسی بھی قسم کی گنجائش نہیں ہے ۔ شمال مشرق ہمارے لئے مشرقی ایشاء سےرشتوں کا اہم دروازہ بن سکتاہے، جس کےساتھ ہندستان نئے تجارتی رشتوں کی شروعات کر رہی ہے۔ کانگریس ریاستوں کے درمیان لگاتار بڑھ رہی غیر برابری سے بھی فکرمند ہے، جسکی وجہ سے اتر پردیش اور بہار جیسے صوبے سماجی ترقی اورمعاشی ترقی کےمعاملےمیں دوسری ریاستوں سے پچھڑ گئےہیں ۔اچھے نظام کی آخری ذمہ داری تو صوبائی سرکاروں کی ہی ہے، لیکن پچھڑے صوبوں کی صلاحیت ، اقتصادیات اور دوسری پالیساں اپنا کر بہتر بنانے میں مرکز بھی اہم کردار ادا کر سکتاہے۔

 

ریاستی سطح پراصلاحوں کےاہمیت کو دیکھتے ہوئے کانگریس ایک نظم اصلاح کمیشن کا قیام کریگی ۔ صوبوں کےتعاون سے بنائےجانے والےاس کمیشن کےذریعہ بنیادی سماجی سہولتوں کےمدنظربہتر بنانے اور ترقی کی رفتارکو تیز کرنے کا کام کیا جائیگا۔ سماجی کام میں نیویش کو بڑھانے میں ریاستوں کی راہ آسان بنانے کےمقصد سے ان پر سے قرض کے بوجھ کے دباؤ کو سلسلےوار اور شفاف طریقہ اپنا کر دور کیا جائیگا۔

 

اقتصادی پالیسی

 

کانگریس اگلے پانچ سالوں میںمرکزی سرکار کے خسارے کو ہوری طرح ختم کرنے کے اپنے ٹھوس ارادے کو دہراتی ہے۔ اس سے سماجی اور اخلاقی ڈھا نچے کیلئے زیادہ سہولت اور نیویش کا انتطام ہو سکے گا۔ اقتدار میں آنے کے 30 دنوں کے اندر ہی اس سلسلے میں ایک روپیہ دیش کے سامنے رکھ دیا جائیگا تاکہ اس مدّے پر قومی مفاہمت قائم ہو سکے۔

 

ٹیکس دہندہ کے دائرہ کو مثبت بنانے کیلئے کانگریس نہایت اہم ٹکس اصلاح نافذ کریگی ۔ اس سے ٹیکس دہندہ کی تعداد بڑھیگی اور ٹیکس انتطامیہ ٹیکس دینےوالوں کے لئے زیادہ دوستانہ بنیگا۔ کانگریس کا مانا ہےکہ اس دہائی کے آخر تک، بغیر ٹیکس میں کوئی زیادتی کئے ہی، ٹیکس اور گھریلو پیداوار کے موجودا 14-15 فیصد سے بڑھاکر ٹیکس 18 فیصد تک لے جایا جا سکتاہے۔ قیمت کےسلسلےمیں ٹیکس کاروبار اور صنعتی دنیا سے تعاون لے کر اور اسکےمشورے سے نافذ کیا جائئگا۔ اس سے ہندستانی صنعتی دنیا کےکام کرنے کی صلاحیت بڑھیگی اور ٹیکس کی چوری بھی رکے گی۔

 

منشور پر عمل

 

ملک کے باشندو کی رائےعامہ ملنے کے100 دنوں کےاندر کانگریس اپنے منشور میںدئے گئے وعدہوں اور کئےگئے وعدوں کی بنناد پر حکومت چلانے اورمقصد کے حصول کرنے کی جانکاری دیتے ہوئےایک معاشی کام کا منصوبے کا اعلان کریگی۔ ہر سال 2 اکتوبر کو کانگریس اپنےانتخابی منشور میں کہی گئی باتوں پرعمل کے بارے میں ملک کےسامنے‘‘ عوامی دستاویز ‘‘ پیش کیا کریگی۔

 

کانگریس اپنے ملک کے باشندوں کے سامنے ہوری ایمانداری کے ساتھ حاضر ہے ۔ کانگریس کو اپنی ذمہ داریوں اور آنے والے دنوں کی مقابلے کا احساس ہے۔

 

کانگریس کی حمایت میں دیا جانے والا ووٹ ہندستان کی یکجہتی کی حفاظت کے لئے اور ہماری ہم آہنگی کے میلے کے لئے دیا جانے والا ووٹ ہے۔

یہ سماجی پالیسی میں استقامت کو دیا جانے والا ووٹ ہے۔ یہ ساتھ خارجہ پاہیسی کو دیا جانے والا ووٹ ہے۔ یہ راج کاج اور انتطامیہ میں پاکیزگی کو دیا جانے والا ووٹ ہے۔

 

کانگریس کو دیا جانے والا ووٹ ہندستان کے لئے ایسے نظریے کو دیا جانے والا ووٹ ہے، جسمیں اسکے ہر شہری کو یکساں اور باوقار جگہ حاصل ہے اور جسمیں سبکو اپنی امیدوں کو پورا کرنے کے لئے مواقع یکساں حاصل ہیں۔

 

 

 

گذارش

 

کانگریس اپنے لئے آپ سے ووٹ کی درخواست کررہی ہے اپنے تعاون ، اپنی صلاحیتوں ، اپنی سرکاروں اور اپنے منشور کی بنیادپر۔

 

کانگریس کو صدیوں سے ملک کے باشندوں کا تعاون اور اعتماد مل رہا ہے۔ کانگریس نے ہمیشہ اس اعتماد کو بڑے پیمانے پر ہورا کرنے کی کوشش کی ہے ۔

 

سماج کے ہر طبقے اور سماجی ہم آہنگی کے لئے کانگریس کو ووٹ دیجئیے۔۔

 

سماج کے ہر طبقے فائدہ پہنچانے والی اور ہر ہندستانی کی خواہشوں کو پورا کرنے والی اقتصادی ترقی کیلئے کانگریس کو ووٹ دیجئیے۔

 

سب سے بہلے دہی ہندستان میں خوشحالی لانے والی معاشی ترقی کیلئے کانگریس کو ووٹ دیجئیے۔

 

راج کاج اور انتظامیہ میں شفافیت، وفاداری، حساسیت اور تفکر کے لئے کانگریس کو ووٹ دیجئے۔

 

کانگریس کو ووٹ دیجئیے۔

 

 

جئے ہند!

 

 

 


 

 


 

 آئین

منشور 2004

حفاطتی ایجنڈا

گذارش

 اقتصادی ایجنڈا

چارج شیٹ

آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی میٹنگ 21اگست 2004

بھارت کا نیو کلیئر توانائی پروگرام اور امریکہ کے ساتھ 123 عہد نامہ

قرض معافی بڑھ کر72,000 کروڑ روپئے ہوئی
کانگریس کا ہاتھ، انّداتا کے ساتھ

اے آئی سی سی میٹنگ 17 نومبر 2007 تالکٹورا اسٹیڈیم، نئی دہلی

جناب راہل گاندھی جی کا مرکزی بجٹ پر پارلیمنٹ میں تقریر 08 - 03  - 13

82 واں مکمل اجلاس، حیدرآباد

آرکائیوز