All India Congress Committee - AICC
 
 
 
 

اقتصادی ایجنڈا


 



جی ڈی پی کی نمو

این ڈی اے حکومت دوسری چوتھا ئی ( 2004-2003 ) کے دوران جی ڈی پی کے 4۔8 فی صد عدد پر بڑاناز کرتی ہے۔ مگراس کا انحصاراس بات پر ہےکہ 2003-2002 کی دوسری چوتائی میں خط بنیاد کیاتھا اوریہ خط بنیاد نیچا تھا کیوں کہ اس چوتھائی میں زراعت میں 3۔5 فی صد گراوٹ آئی تھی۔ 2004- 2003 کے پہلے چھے ماہ کے دوران ، جی ڈی پی کی نمو 4۔8 فی صد نہیں بلکہ 7 فی صد تھی ۔ اور یہ 7 فی صد کا عدد بھی 2003- 2002 میں نیچے خط بنیاد اور 2003 میں بھرپور مانسون کا مرہون منت تھا۔ اب بھی معیشت کے ایسی مسلسلل ترقی کی جانب بڑھنے کے آثار کہیں بھی نظر نہیں آتے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی کے دور اقتدار کے دوران ، شرح نمو میں 1990 کی دہائی کے وسط میں اس کےنقطئہ عروج کے مقابلے میں شدید گراوٹ آئی ہے۔

 

Growth rates of real GDP at factor cost by industry of origin (1993-1994 prices)
 


زراعت

اہم بڑے زمروں میں ترقی کے سلسلے کو سنگین نقصان پہنچاہے۔ مثلاً آٹھویں منصوبے کے دوران زراعت اور متعلقہ زمرے میں جی ڈی پی ( فیکڑ لاگت پر ) میں 4.62 فی صد کی سالانہ اوسط شرح سےاضافہ ہوا۔ مگر نویں منصوبے کے دوران ، شرح نمو گر کر 2.02 فی صد کے سالانہ اوسط تک پہنچ گئی ۔ آٹھویں منصوبے کے دوران ، غلے کی پیداوار یت ( کلوگرام \ ہیکڑ ) میں 3.22 فی صد کی سالانہ اوسط شرح سے اضافہ ہوا ۔ مگر نویں منصوبے کے دوران اس کی شرح 5.43 فی صد رہی ۔ اناج کی اوسط مجموعی دست یابی ( گرام فی کس یومیہ ) آٹھویں منصوبے کےدوران 443.50 کے مقابلے میں گھٹ کر نویں منصوبے کے دوران 431.25 ہوگئی ۔ زراعت میں سرمایہ کاری ( جی ڈی پی کے فی صد تناسب کے طور پر ) 1990 کی دہائی کے وسط میں 1.6 فی صد کے مقابلے میں 2003- 2001 میں گھٹ کر 1.3 فیصد رہ گئی ۔ مجموعی زرعی سرمایہ کاری میں سرکاری سرمایہ کاری کا حصہ 1993-94 میں 33 فی صد کے مقابلے میں گھٹ کر 2000-2001 میں 23.5 فی صد ہوگیا ۔ نجی زمرے کی سرمایہ کاری اس فرق کو پورا نہیں کرسکی ۔ نجی زمرے کی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے لئے زراعت میں سرمایہ کاری زمرے کی سرمایہ کاری ضروری ہے۔ نجی زمرے کے ذریعے سرمایہ کاری اوسط اور بڑے آب پاشی پراجکٹوں میں سرمایہ کاری کا بدل نہیں بن سکتی۔ زراعت کو غذا ئی فصلوں سے غیر غذا ئی فصلوں اور فصلوں سے دیگر سرگرمیوں تک پھیلانے کا عمل تقریباً رک گیا ہے۔ کسانوں کو نقصانات کے اثرات ختم کرنے کا انتظام کئے بغیر ہی نقصانات کے روبرو کر دیا گیا۔ این ڈی اے حکومت کو یہ احساس نہیں ہے کہ موثرخریداری کے طریقہ کاار کی ناموجودگی میں اور اس بات کو یقینی بنائے بغیر کہچھوٹےاور بہت چھوٹےکسانوں کو جن کے پاس زائد پیداوار بہت کم ہوتی ہے چاول اور گیہوں کی خریداری قیمت میں اضافہ کرنا تباہ کن ہوسکتا ہے ۔


صنعت

آٹھویں منصوبے کے دوران اوسط صنعتی شرح نمو 8 فی صد تھی جو نویں منصوبے کے دوران گرکر4.6 فی صد کی رہ گئی ۔ نومبر2002-2003 کے میں ، بنیادی ڈھانچے کی صنعتون ( بجلی ، کوئلہ ، تیار فولاد ، سیمنٹ ، خام پڑولیم ، صاف پڑولیم مصنوعات ) کی شرح نمو 4.8 فی صد کی حد تک کم تھی۔ اپریل سے نومبر2003 کے دوران یہ شرح نمو گرکر 4.2 فی صد ہوگئی اور صاف پڑولیم مصنوعات کے سوا باقی تمام صنعتوں میں سست رفتاری آگئی ۔ 2002-3 میں بجلی پیداوار 3.0 فی صد کی معمولی شرح سے بڑھی ۔ اپریل سے نومبر 2003 کے دوران شرح نمو3.1 فی صد پر ٹھہری رہی۔ زبردست مانسون کے پیش نظر مانگ میں دوبارہ اضافے کے باوجود 2003-04 کے دوران صنعتی شرح نمو 70-6.5 فی صد آگے نہیں بڑھے گی ۔ صنعتی سرمایہ کاری میں سست رفتاری برقرار ہے اور پیداوای زمرہ آمدنی اور روزگار کے اہم ذریعے کی حیثیت سے اپنا تایخی کردار ادا نہیں کررہا ہے۔

بچت اور سرمایہ کاری


حکومت نجی زمرے کی سرمایہ کاری کے لئے ساز گار ماحول پیدا نہیں کررہی ہے۔ یہ کوئی تعجب کی بات کی نہیں ہہے کہ اگرچہ ای ایل آر ( اسٹیٹو ٹری لکویڈیٹی ریشو) کا تقاضا ہے کہ بینک فنڈ کا 25 فی صد حصہ حکومت کی سیکوریٹیز میں لگایا جائے مگر اس کا حقیقی عدد 40 فی صد کے قریب ہے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ بینک قرضوں کی طلب کہیں نظر نہیں آتی ۔

1995- 96 میں کانگریس حکومت کا آخری سال تھا مقامی بچت کی مجمودی شرح 1.25 فی صد نقطئہ عروج کو پہنچ گئی تھی ۔ اس کے بعد سے اس میں مسلسل گراوٹ ظاہر ہورہی ہے ۔ 96-1995 میں ، سرکاری زمرے کی بچت شرح جی ڈی پی کا 2.0 فی صد تھی 02-2001 میں ، وہ آخری جس سے متعلق اعداد وشمار دستیاب ہیں ، یہ شرح جی ڈی پی کی 2.5 فی صد ہونے تک منفی تھی جسے 1995-96 کے بعد سے جی ڈی پی کے 4.5 فی صد کا تدارک تھی ۔1995-96 میں معیشت میں مجموعی سرمایہ سازی کی شرح جی ڈی پی کے 26.5 فی صد کی سب سے زیادہ حدتک جاپہنچی 02-2001 میں یہ گرکر 22.4 فی صد رہ گئی ۔ نجی کارپوریٹ زمرے میں سرمایہ سازی کی شرح 96-1995 میں جی ڈی پی کے 9.6 فی صد کی سب سے زیادہ حد سے گرکر 02-2001 میں 4.8 فی صد ہوگئی سرکاری زمرے میں مجموعی سرمایہ سازی کی شرح 96-1995 میں جی ڈی پی کے 7.7 فی صد گھٹ کر 02 - 2001 میں 6.3 فی صد رہ گئی۔

سرمایہ بازار نظم وضبط کی ناکامی اور گھوٹالوں کا شکار رہا ہے۔ کیتن پاریکھ گھوٹالا اور یوٹی آئی میں گراوٹ نظم و ضبط کی ناکامی اور اس کے ساتھ ہی ناقابل قبول نوعیت کی سیاسی اور نوکر شاہی کی مداخلت کا مظہر ہے۔

روزگار


1983 اور 94-1993 کے درمیان ، روزانہ صورت حال کی بنیاد پر روزگار کی شرح نمو2.7 فی صد تھی مگر ۔ 94- 1993 اور 2000-1999 کے درمیان یہ شرح گرکر 1.07 فی صد ہوگئی ۔ 94-1993 اور 2000-1999 کے درمیان ، بے روزگاروں کی حتمی تعداد میں سالانہ 4.74 فی صد کی شرح سے اضافہ ہوا۔ آٹھویں منصوبے کی مدت کے دوران ، روزگار میں اضافے کی شرح سرکاری زمرے میں ٠0.38 فی صد اور نجی زمرے میں 2.10 فی صد تھی۔ یہ دونوں شرحیں نویں منصوبےکی مدت کے دوران گرکر سرکاری زمرے میں منفی حد ( 0.29 - فی صد) تک پہنچ گئیں جب کہ نجی زمرے میں 0.33 فی صد کا معمولی اضافہ ظاہر ہوا ۔ حالیہ برسوں کے دوران منتظم زمرے سے متعلق روزگار کے اعداد و شمار سے گراوٹ ظاہر ہوتی ہے ۔

مالی کارکردگی


مرکز اور ریاستوں کے سرکاری مالیاتی نظام بھرپور تشکیل نو کا تقاضا کرتاہے تاکہ بنیادی ڈھانچے اور سماجی زمروں مثلاً تعلیم اور صحت میں سرمایہ کاری کے لئے وسائل پیدا کئے جاسکیں ۔ بی جے پی کی زیر قیادت حکومت نے اس تبدیلی کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی ۔ مالی یافت کابیشتر حصہ سود کی ادائیگی اور اجرتوں ، تنخواہوں اور پنشن ، دفاع اور سبسیڈ یوں پر صرف ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے اہم سرکاری زمروں میں سرمایہ کاری کے لئے سرمایہ فراہم کرنے کی بہت کم گنجائش بچتی ہے۔ بھاری اور مستقل مالی خساروں کو قرضوں کے ذریعے ہورا کرنے کی روش کے سبب قرضوں کی صورت حال دھماکہ خیز ہوگئی ہے۔ مرکز اور ریاستوں کے سرکاری قرضے اب جی ڈی پی کے 8.5 فی صد تک جا پہنچے ہیں ۔ اگر متعلقہ ذمے داریوں مثلاً گا رنٹیوں کو بھی حساب میں رکھا جائے تو یہ عدد اور زیادہ ہوگا ۔ بی جے پی کی زیر قیادت حکومت نے سرکاری اخراجات کی روش کے بڑھتے ہوئے بگاڑ کو دوست کرنے یا مالی یافت میں سست رفتار اضافے سے نمٹنے کے لئے لائق اعتبار قدم نہیں اٹھائے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ اب ممدودی مالی وسائل ریاست کو لازمی عوامی خدمات کی بڑھتی ہوئ مانگ پوری کرنے کی اجازت نہیں دیتے ۔

آٹھویں منصوبے کے دوران ترقیاتی اخراجات مجموعی اخراجات کا اوسطاً 50.95 فی صد تھے ۔ نویں منصوبے کے دوران یہ شرح گھٹ کر 45.20 فی صد ہوگئی ۔ ترقیاتی اخراجات میں بھی پسماندہ طبقوں کی بہبود سے متعلق اخراجات آٹھویں منصوبے کے دوران گھٹ کر0.79 فی صد تھے جو نویں منصوبے کے دوران گھٹ کر 0.65 فی صد رہ گئے۔ درجہ فہرست زاتوں سے متعلق خصوصی مرکزی امداد آٹھویں منصوبے کے دوران مجموعی ترقیاتی اخراجات کی 0.58 فی صد تھی جو نویں منصوبے کے دوران کم ہوکر 0.47 فی صد رہ گئی ۔

اگر اخراجات کی اصلاح کا عمل ناکام ہوگیا ہے تو مالیہ کی اصلاح کا حال بھی اس سے بہتر نہیں ہے ۔ ناسرمایہ کاری کا عمل اونے پونے فروخت کرنے کا معاملہ بن کر رہ گیا ہے۔ سرکاری اداروں کی تشکیل نو کرنے اور ان کی قد روقیمت میں اضافی کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ۔ اس کی بجائے ان اداروں کو غیر شفاف انداز سے فروخت کئے جانے سے ان کی قیمت میں گراوٹ آئی ۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر سی اے جی کی رپورٹوں مین بھی تبصرہ کیا گیا ۔ تیل اور ٹیکس کےزمروں کی نجی کاری کےمعاملے پر مختلف وزیراکثر کھلے عام جھگڑتے نظر آتے ہیں ۔ ہندستان کی واحد ‘ فارچوں 500 ‘ کمپنی آئی اوسی کے بارے میں سمجھا جاتا ہےکہ اسےختم کر اور فروخت کردیا گیا ہے۔ 1990-91 کے دوران جی ڈی پی میں مرکزی ٹیکس مالیہ کی شرح 10.1 فی صد تھی ۔ آج اگر اسکے عارضی عدد 9.6 فی صد کوقبول بھی کرلیا جائے تب بھی یہ 1990-91 کے عدد کے مقابلے میں کم ہے۔ راست ٹیکسوں سے متعلق کیلکر ٹاسک فورس کی سفارشات میں ذاتی انکم ٹیکس اور اس کے ساتھ ہی کارپوریٹ انکم ٹیکس ادارکرنے والوں کے ذریعے ٹیکس کی چوری کو کم کرنےپر زور دیا گیا تھا۔ مگر ان پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ اسی دوران جی ڈی پی میں بالواسطہ ٹیکس کی شرح 91- 1990 میں 7.9 فی صد سے گھٹ کر 03- 2002 میں 5.8 فی صد ہوگئی۔ بالواسطہ ٹیکسوں سے متعلق کیلکر ٹاسک فورس کی سفارشات کو بھی روبہ عمل نہیں لایا گیا۔ بی جے پی کے چھے سالہ دور اقتدار میں مرکز اور ریاستوں کا مالی خسارہ مسلسل جی ڈی پی کے 10 فی صد کے اوسط پر رہا جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ خساروں میں سے ایک ہے۔

ذخائر

ہندستان کے زرمبادلہ کے ذخائرکے 100 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ ہوجانے پر خوشی منائی جارہی ہے۔ مگر اس جشن کے دوران ہمیں صورت حال کی نزاکت کونہیں بھولنا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ذخائر برآمدات یا راست سرمایہ کاری کے ذریعے نہیں بلکہ بنیادی طور پر غیر مقیم ہندستانیوں کی جمع کردہ رقوم اور بیرونی ادارہ جاتی سرمایہ (ایف آئی آئی ) کی آمد کے ذریعے جمع ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر وسائل راتوں رات ہوسکتے ہیں ۔ اس کے سااتھ ہی 100 ارب ڈالر مالیت کے زرمبادلہ کے ذخائر ہمیں معیشت میں سرمایہ کاری کی رفتار بڑھانے کا موقع نہیںدیتے ۔ بیرونی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے ذریعے اپنی رقوم واپس لینے ، تیل کی عالمی قیمتوں اور زرمبادلہ کی تجارتی مانگ میں اضافے کی ہنگامی صورت حال کا لحاظ رکتھے ہوئے ، محفوظ سرمایہ کی ایک سال کی درآمدات کا فی ہونی چاہیں ۔ محفوظ سرمایہ کے ایک حصے کو ، جو ذخیرہ کرنے کی ضرورت سے زائد ہو، مادی اور سماجی دونوں قسم کے بنیادی ڈھانچے میںسرمایہ کاری کےلئے استعمال کیا جاسکتا تھال بشرطے کہ حکومت اسے مختلف ضرورتوں میں توازن قائم رکھتے ہوئے خوش اسلوبی سے استعمال کرسکے ۔ حکومت ایسا نہیں کرسکی ، بالکل اسی طرح جیسے وہ غلے کے ذخائرکو ترقیاتی عمل کو مضبوط تر کرنے میں بری طرح ناکام رہی ۔ اسی دوران ، ایزروبینک آف انڈیا کو یہ امکان درپیش ہے کہ اس کے ذریعے اب کوئی اہم مداخلت ممکن نہیں ہوگی ۔ لہذا امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت بڑھے گی اور اس سے ہندستان کی برآمدات کونقصان پہنچے گا۔ اس قسم کی صورت حال سے تمٹنے کی کوئی تیاری نظر نہیں آتی ۔


مادی بنیادی ڈھانچہ


ٹیلی مواصلات کے فروغ اور نیشنل ہائی وے ڈیولپمنٹ پروگرام (NHDP) کے باوجود ، مادی بنیادی ڈھانچے کی صورت حال ابتر ہے جس سے تجارتی لاگتوں میں اضافہ ہوتاہے ۔ مادی بنیادی ڈھانچے کی کئی پہلو ہیں اور ان میں ریلوے ، سڑکیں ، بندرگاہیں ، ہوائی اڈے ، شہری ہوابازی ، بجلی ، ٹیلی مواصلات ،شہری میونسپل خدمات شامل ہیں ۔ 2001 کی انڈین رلیویز رپورٹ کی سفارشات کو روبہ عمل نہیںلایا گیا ہے۔ اس طرح مختلف ریلوے سلامتی جائزہ کمیٹیوں کی سفارشات پر بھی عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔ نگرانی اور دیکھ ریکھ میں مستقل کوتاہی کے سبب ٹرین کاسفر زیادہ سے زیادہ حادثوں کا شکار اور خطرناک ہوگیا ہے۔ این ایچ ڈی پی کو کچھ کامیابی حاصل ہوئی ہے مگر یہ بھی محض کام چلاؤ قسم کی ہے۔ رابطے کی سڑکوں کاکہیں وجود نہیں ہے۔ ہندستان کے 40 فی صد گاؤں اب بھی ہرموسم میں ٹھیک رہنے والی سڑکوں سے محروم ہیں ۔ حکومت وزیر اعظم گرام سڑک یوجنا کے حوالے دیتی رہتی ہے مگر اس کی حقیقی کامیابی کا اندازہ کرنے کے لئے معتبر اعداد وشمار دستیاب نہیں ہیں ۔ حکومت کا دعوہ ہے کہ تمام شہروں اور80 فی صد گاؤں میں بجلی پہنچ گئی ہے۔ مگر 60 فی صد دیہی گھروں اور 20 فی صد شہری گھروں کو اب بھی بجلی فراہم نہیں ہے۔ ٹیلی مواصلات کے اشاریوں میں بہتری ضرور آئی ہے مگر متعلقہ پالسی اب بھی مستقل مزاجی اور شفافیت سے عاری ہے۔ ان دنوں ترقی کو مادی بنیادی ڈھانچے کے تین اہم عناصر ، بجلی ، سڑک اور پانی کا ہم معنی سمجھا جاتا ہے ۔ دراصل یہی چیزیں ہیں جن کی تمام ہندستانی شہریوں کو ضرورت ہے ۔ مگر اس بات کےپیش نظر کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران بجلی پیدا وار کی شرح نمو سالانہ 3.5 فی صد ہے زیادہ نہیں رہی ہے، حقیقی ترقی ہماری ضرورتوں سے بہت کم ہے ۔


سماجی بنیادی ڈھانچہ

سماجی بنیادی دھانچہ فراہم کرنے سے متعلق کارکردگی بھی کچھ بہتر نہیں ہے۔ کل ہند غریبی کا شرح کے 1980 کی دہائی کے اوائل میں 44 فی صد سے 2000-1999 میں 26۔1 فی صد تک گرجانے کے بارے میں بڑی بڑی باتیں کی جارہی ہیں ، مگر اس شرح میں بیشتر گراوٹ پہلے والے کانگریس کے زمانے میں آئی تھی۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ 96-1995 کے بعد غریبی میں کمی کا سلسلہ عملاً بالکل ٹھپ پڑگیا۔

تعلیم اور صحت

سماجی بنیادی ڈھانچے کے دو اہم دائروں ، تعلیم او رصحت کے معاملے میں بھی ویسی ہی غیر اطمئنان بخش کار کردگی ظاہر ہوئی ہے۔ خواندگی کی شرح میں اضافہ ضرور ہوا ہے مگر 35 فی صد آبادی اب بھی ناخواندگدہ ہے اور مردم شماری میں استعمال کی گئی خواندگی کی تعریف بھی ٹھیک نہیں ہے۔ مردوں اور عورتوں کی شرح خواندگی میں اب بھی خاصا فرق ہے اور ایس سی اور ایس ٹی لوگوں میں خواندگی کی شرح آبادی میں ان کے تناسب کے لحاظ سے نہیں بڑھی ہے۔ اسکولوں میں داخلے کی شرح میں اضافہ نطر آتاہے مگر اس کے باوجود تعلیم چھوڑنے والے طلبہ کی تعداد اب بھی زیادہ ہے۔ لاکھوں بچے اب بھی اسکول کے باہر ہیں ۔ جی ڈی پی میں صحت پر ہونے والے سرکاری زمرے کےاخراجات کا تناسب گھٹ رہا ہے۔ ملیریا واپس آگیا ہے ، ہولیو کا خاتمہ نہیں کیا جاسکا ہے۔ بہت سے لوگ پھر سے ٹی بی کے شکار ہورہے ہیں ۔ پینے کے صاف پانی اور صفائی کی کمی کے سبب آبادی کا ایک بڑا حصہ پانی سے ہونے والی بیماریوں میں متبلاہے۔ یو این ڈی پی کے ایک حالیہ جائزے میں ایچ آئی وی \ ایڈس کی بڑھتی ہوئی سنگینی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

این ڈی اے حکومت کی یہ کار کردگی قابل قبول نہیں ہے۔
ہندستان اس سے بہتر کا مستحق ہے ۔

حصہ ۔ 4 ایجنڈا برائے کانگریس

بطور خاص غریبوں ، کمزوروں اور پسماندہ طبقوں سمیت سب کے لئے اقتصادی ترقی ۔

کانگریس پارٹی تیز رفتار اقتصادی کے اس رجحان کو مزید تقویت دے گی جو 1980 کی دہائی اور1990 کی دہائی کے وسط میں کانگریس دور حکومت کے دوران قائم ہوا تھا ۔ کانگریس کے لئے ترقی کا مطلب محض تیز رفتار اقتصادی نمو نہیں بلکہ اقتصادی ترقی وہ مخصوص انداز ہے جس سے آبادی کے تمام طبقوں کو فائدہ پہنچے اور جس سے سماجی انصاف کویقینی بنایا جاسکے اور غریبی ، بھوک ، ناخواندگی ، بدخوراکی ، خراب صحت اور سماج کے کمزور اور پسماندہ طبقوں کے خلاف تمام امتیازات کا خاتمہ کرنے میں مدد ملے۔ ہم چاہتے ہیں کہ متوسط طبقہ زندگی کی سہولتوں تک زیادہ سے زیادہ رسائی حاصل کرکے خوش حال بنے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کارپوریٹ سیکڑ جتنی تیز رفتار سے اگے بڑھ سکتا ہو بڑھے مگر اس کے ساتھ ہی وہ کم وسائل والے لوگوں کو دولت مند بننے میںمدد دینے کی ذمے داری بھی ادا کرے۔ تقدیر کے ساتھ یہی وہ وعدہ ہہے جس کا ذکر نہرو جی نے ہندستان کی آزادی کے لمحے میں کیا تھا ۔ اندرا جی کے لئے غریبی ہٹاؤ ، کا بھی یہی مطلب تھا۔ یہی وہ ترقیاتی عمل ہے جسے راجیو جی غیر مرکوز ترقی کے زریعے جاری کرنا چاہتے تھے۔

لیذا کانگریس اعلان کرتی ہے کہ وہ گذشتہ 8 فی سد کی شرح نمو کو دوبارہ حاصل کرے گی، صرف سال کی دوچوتھائیوں کے لئے ہی نہیں بلکہ ایک طویل عرصے تک کیلئے اور اگلے چند برسوں میں 10 فی صد کی اقتصادی شرح نمو حاصل کرنے کے لئے کام کرے گی ۔ کانگریس پارٹی اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گی کہ یہ ترقی علاقائی طور پر متوازی ہو اور اس سے سماج کے تمام طبقوں کو فائدہ پہنچے ۔ کانگریس حکومت ترقی کے عمل کی رہنمائی کرے گی اور مندرجہ ذیل ترجیحی اہمیت کے حامل قومی مقاصد کو حاصل کرنے کے عمل میں عام لوگوں کو شامل کرے گی۔

بے روز گاری کا خاتمہ
غریبی کا خاتمہ
بھوک کا خاتمہ
ناخوندگی کا خاتمہ
سارے ملک میں تمام لوگوں کے لئے ابتدائی صحت خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا۔

زرعی زمرے کی ترقی کے تمام ترامکانات کو بحال کرنا ، جسے بی جے پی حکومت نے حد درجہ نظر انداز کیا ہے اور جہاں ملک کے بیشتر لوگ رہتے ہیں ۔

لوگوں کو جواب دہی کے ساتھ ترقی سے ہم کنار کرنا۔

ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے مناسب وسائل فراہم کئے جائیں گے اور انہیں پروگراموں کی تشکیل ، عمل آوری اور نگرانی میں عوامی شرکت کے زریعے پوری جواب دہی کے ساتھ مہیا کرایا جائے گا۔

10 فی صد اقتصادی شرح نمو کیطرف

تیز رفتاری ترقی کو یقینی بنانے کے لئے تین بنیادی ضرورتیں ہیں ۔۔

سرمایہ کاری کی شرح میں اضافہ

کانگریس پارٹی ملکی اور بیرونی دونوں قسم کی سرمایہ کاری میں ضافے کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرے گی ۔ اسی کے ساتھ تعلیم اور صحت سمیت ، تمام ترسماجی و اقتصادی بنیادی ڈھانچے میں سرکاری سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے بھی ہر ممکن کوشش کرے گی ۔ زراعت اور دیہی ترقی کی سرمایہ کاری کی ضروریات کو سب سے زیادہ ترجیح دی جائے گی ۔ نجی سرمایہ کاری کی شرح میں اضافے کے لئے ، کانگریس پارٹی آٹھویں منصوبے کے ، اصلاحات کے بعد والے عرصے کے دوران سیکھے گئے سبق کا فائدہ اٹھائے گی ۔ اس مقصد کے لئے مندرجہ ذیل اقدامات کئے جائیں گے۔

!) سرمایہ کاری کی راہ میں حائل تمام نوکرشاہی اور انتظامی رکاوٹوں کا خاتمہ ۔ اس کے لئے سرمایہ کاری کے لئے اجازت کا کوئی فام حاصل کرنے کی ضرورتوں کو ختم کردیا جائے گا۔ اس سلسلے میں محدود ضابطہ بندی اور کنڑول بہر حال ضروری ہوگا۔ جس میں مندرجہ ذیل چیزیں شامل ہوں گی۔

الف) دفاعی لحاظ سے حساس صنعتوں کی فہرست
بی) پانی اور ناپائیدار قدرتی وسائل کے ستعمال سمیت ماحول کے بیجا استعمال کی روک تھام سے متعلق مخصوص ضآبظے ،
سی) سرمایہ کاری کے ذریعے دولت کے ارتکاز اور اجارہ داری میں اضافے کی صورت میں ضابطہ بندی کی کارروائی ۔

اسی سلسلے میں حکومت کا عمل دخل صرف اس وقت کارروائی کرنے تک محدود ہوگا جب یہ معلوم ہوکہ مقررہ ضابطوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے، اور حکومت کی ایسی تمام کارروائی عدالتی جانچ کے تابع ہوگی۔ یہ ایک لحاظ سے ہمارے ملک میں لائسنس پرمٹ راج کے مکمل خاتمے کا اعلان ہوگا۔

!!) کانگریس حکومت سرمایہ کاروں ، خاص طور پر نئے اور چھوٹے تاجروں ، خود روزگار یافتہ لوگوں ، تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ، خصوصی طور پر دیہی صنعتوں ، ہاؤسنگ اور گندی بستیوں کی صفائی کے دائروں میں، مناسب قرضوں اور سبسیڈی کے ذریعے حوصلہ افزائی کرے گی۔

اس پالیسی کا جواز ان تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے میں مدد دینا اور وسیع سماجی فوائد اور روزگار کے امکانات رکھنے والے زمروں میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے حوصلہ افزائی کرنا ہوگا، جو بازار سے مالی وسائل بہ آسانی حا صل نہیں کرسکتے۔ غیر رسمی زمرے کی صنعتوں کو تکنیکی اور قرضوںاور مارکیٹنگ سے متعلق دینے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ تقریباً 90 فی صد محنت کش ان صنعتوں میں لگے ہوئے ہیں ۔ اس سلسلے میں ٹھوس سفارشات پیش کرنے کے لئے ایک قومی کمیشن قائم کیا جائے گا۔

!!!) کار کردگی اور پیداوار یت میں تیز رفتار اضافے میں مدد دینے کے لئے ، کانگریس ترقی اور سرمایہ کاری کے عمل کو فروغ دینے کی غرض سے مضبوط وسرکاری نجی شراکت داری قائم کرے گی ۔

مثلاً اگر کوئی کارپوریٹ ادارہ اپنے ذیلی اداروں کے ذریعے اپنا کاروبار پھلاتاہے اور اس کے تحت چھوٹی اکئیوں کی مدد کرتا ہے ، سرمایہ کی پر اکائی پر زیادہ لوگوں کو روزگار فراہم کرتاہے یا گر کوئی پسماندہ علاقوں میں تجارت قائم کرتا ہے اور سڑکوں ، پانی کی فراہمی جیسے دیہی بنیادی ڈھانچے کو فروغ دیتا ہے یا اگر کوئی تعلیمی سہولتیں مہیا کراتا ہے یا صحت عامہ کی سہولتوں کی توسیع کرتا ہے تو حکومت ان سرمای کاری کی سرگرمیوں میں سرمایے اور سود پر خصوصی سبسیڈی فراہمی کرے یا کارپوریٹ ٹیکسوں میں ایک نئی قسم کی ترقیائی چھوٹ کی سہولت دے کر مدد کرے گی۔

یہی اصول سماجی زمرے کے علاوہ دیگر دائروں میں بھی لاگو کیا جاتا ہے ۔ مثلاً قومی شاہراہوں اور شہری مکان سازی جیسی تعمیراتی سرگرمیوں سے وابستہ نجی کمپنیوں کو اس بات کے لئے بڑھاوا دیا جاسکتا ہے کہ وہ سڑکوں کے سلسلے کو مضافات اور دیہی علاقوں تک لے جائیں یا شہروں کی گندی بستیوں کی صفائی اور دیہی مکان سازی کے پروگراموں میں شریک ہوں اور اسی کے لئے خصوصی سبسیڈی ، سود کی شرح میں کمی اور دیگر کئی اور سرکاری سہولتوں کی شکل میں ان کی مدد کی جائے گی۔

حکومت سرکاری اور نجی زمروں کے درمیان موثر شراکت کو ممکن بنائے بنانے کے لئے مناسب مالی پالسی اقدامات کرے گی ۔ اہم ترین ضرورت ٹیکسوں کی شرح میں کمی لانے کے بجائے یہ ہے کہ پالسیوں کے استحکام کو یقینی بنایا جائے ، غیر مستقل مزاجی ختم کی جائے اور ٹیکسوں کے بدوبست میں لوگوں کو پریشان کرنے اور من مانے پن کا سلسلہ روکا جائے۔

١v) اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ ملک کی اقتصادی بنیادوں پرسرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رہے، حکومت ملک کے مجموعی اقتصادی استحکام کا تحفظ کرنے کی ہرممکن کوشش کرے گی جس کے لئےمالی خسارے پر قابو پانا ایک لازمی ضرورت ہے ۔ 2007-2008 تک مالیہ کا خسارہ کرنے کے لئے مرکز اور ریاستوں کے درمیان باہمی ربط کے تحت کوشسیں کی جائیں گی۔

سرمایہ کاری کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ

!) حکومت کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو ٹیکس رعایتوں ، قرضے حاصل کرنے کی سہولت میں اضافے اور تیز تر آر D & R سرگرمیوں کے لئے امداد کے ذریعے پیداواری نظام کی تشکیل نو کرنے میں مدد بڑھاوا دے گی ۔ اگلے پانچ برسوں کے دوران رسرچ ڈیولپمنٹ پر ہونے والےقومی اخراجات کو جی ڈی پی کا ٢ فی صد کرنے کی ہرممکن کوشش کی جائے گی۔

!!) حکومت ہر شعبے میں ، جہاں تک ممکن ہوگا ٹکنالوجی درآمدات کے ضابطوں میں نرمی لائے گی ۔ سرمایہ کاروں کو ٹکنالوجی درآمد کرنے کے لئے حکومت سے کوئی خصوصی اجازت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی ۔

!!!) محنت مرکوز اور بھاری پیداوار والے شعبوں مثلاً تعمیرات ، ہاؤسنگ ، دیہی صنعیتں ، گندی بستیوں کی صفائی ، ہلکی پیداوار اکائیاں اور سب سے بڑھ کر زراعت میں( سنچائی کی اور پانی کے انتظام کے ذریعے ) اور اسی کے ساتھ ہند مرکوز صنعتوں مثلاً اطلاعائی ٹکنالوجی میں تیز رفتار سرمایہ کے ذریعے مجموعی طور پر ساری معیشت کیلئے، سرمائے کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ اہم محنت مرکوز صنعتوں کی ترقی کی صلاحیت میں بھرپور اضافے کے لئے ٹھوس سفارشات پیش کرنے کی غرض سے خصوصی مشن قائم کئے جائیں گے ۔

سرمایہ کاری کے لئے وسائل میں اضافہ


!) حکومت خاص طورپر مالیہ کے خسارے کو کم سے کم کرکے سرمایہ جاتی اخراجات پر سختی سے قابو رکھ کر مالی نظم وضبط بحال کرے گی ۔ اس کے لئے محصولات میں اضافہ ضروری ہے۔ حکومت مرکز میں ٹیکس اور جی ڈی پی کے تناسب کو کم سے کم 12 فی صد رکھنے کاعزم کرے گی جیسا کہ 1980 کی دہائی کے اوائل میں کانگریس حکومت کے زمانے میںتھا۔

!!) مذکورہ بالا سرکاری ۔ نجی شراکت کی حوصلہ افزائی کے ذریعے اور اس کے ساتھ ہی سخت نگرانی کا نظام قائم کرکے سرمایہ جاتی اخراجات کی پیداوار ہت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ نگرانی کےنظام کے تحت افسروں کی ذمے داریاں طے کی جائے گی جو ان کے لئے بنیادی سطحوں کے اداروں مثلاً پنچایت ، گرام سبھا اور مقامی تنظیموں کو جواب دہ ہوں گے۔

!!!) شرح نمو کو بڑھاکر سالانہ 10 فی صد کرنے کیلئے سرمایہ کاری کی شرح میں تقریباً 35 فی صد تک اضافہ کرنا ہوگا جیساکہ چین میں ہے اور جو سرمایہ بازاری کی تجدید کے ذریعیے ہندستان میں بھی کسی طرح ناممکن نہیں ہے۔ بنک کاری، بیمہ ، قرضوں اورحصص بازار پر مشتمل مالی زمرے کو مالی اثاثوں کی شکل میں بچت میں اضافے کیلئے سازگارماحول پیدا کرکے مضبوط تر کرنا حد درجہ ضروری ہوگا۔

ہمارے لئے باہر سے آنے والی بچت رقوم ، خاص طور پر براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کا دائرہ پھیلانے کے لئے ہرممکن کوشش کرنا ضروری ہوگا جو بیرونی سرمائے کی آمد کی دیگر صورتوں کے مقابلے میں بیرونی سرمایہ حاصل کرنے کا نہیں زیادہ بہتر اور محفوظ تر طریقہ ہے۔

اچھی طرح وضع کیا گیا ضابطہ بندی کا طریقہ کار قائم کرنا بھی ضروری ہوگا تاکہ تجارتی اداروں کے ایک دوسرے میں ضم ہونے یا دوسرے تجارتی اداروں کو حاصل کرنےکےذریعے بڑھنے والےاجارہ جاری کےسلسلے پرقابو رکھا جاسکے، غیر مقابلہ جاتی بازاروں کی قیمتوں کو ضابطےکےتحت لایا جاسکےاور بنک کاری ، بیمہ اور ٹیلی مواصلات سمیت خصوصی بازاروں کے درمیان مقابلے کو یقینی بنایا جاسکے۔

بے روزگاری کا خاتمہ

!) تیز تر اقتصادی شرح نمو مکمل روزگار کی سمت بڑھنے کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ 1983 سے1993 کے درمیان روزگار میں اضافے میں لچک کی شرح 5.41 فی صد تک پہنچ گئی تھی۔ گذشتہ سال یہ شرح گھٹ کر 0.15 فی صد ہوگئی ۔ اگر اسی لچک کو جزوی طور سے بحال کردیا جائے تو بے روزگار کا مسئلہ خاصی بڑی حد تک حل کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لئے اقتصادی نمو کے عمل کو چھوٹی آب پاشی میں اضافے ، دیہی معیشت کے غیر زرعی زمرے ، سڑکوں اور دیہی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور اس کے علاوہ ہاوسنگ ، شہری گندی بستیوں کے خاتمے اور محنت مرکوز پیداوار کے ذریعے زیادہ تر زراعت پر مرکوز رکھنا ہوگا۔

!!) پیشہ وارانہ تربیت اور مہارتیں پیداکرنے کے لئے مناسب سہولتیں فراہم کرنی ہوگی جس سے حد درجہ کم پیداواریت میں بہتری آئے گی۔ اور اس کے ذریعے مزدوروں کو کام پر رکھنے کی حوصلہ افزائی ہوگی ۔ نجی زمرے تو منیجمینٹ ، انجینرنگ اور اعلا ٹکنالوجی ک سطح پر تربیت کی لاگت کے ایک حصے کو برداشت کرنے کے لئے کہا جاسکتا ہے جب کہ نچلی سطح کی مہارتوں والے پیشوں اور نیم مہارتی پیشوں کے لئے تربیت کی لاگت بڑی حد تک سرکاری زمرے کواٹھانی ہوگی ۔

!!!) روزگار کے دائرے کو پھیلانےکے ان عمومی اقدامات کے ساتھ ہی، حکومت بڑے پیمانے پرروازگار کی ضمانت دینے والےاقدامات کرے گی ، بعض مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ روزگار ضمانت اسکیم کو عام کرنے پر ریاستی جی ڈی پی کے ایک فی صد سے زیادہ لاگت نہیں آئے گی اور مرکزی حکومت کو اس سلسلے میں ان ریاستوں میں مدد کرنی چاہیے جو یہ خرچ برداشت نہیں کرسکتیں ۔ کانگریس پارٹی مرحلہ وار انداز سے ایک جامع دیہی روزگار ضمانت اسکیم کو روہ عمل لانے کا تہیہ کرتی ہے۔

v!) مڑوپالیٹن شہروں اور شہری علاقوں میں ، کانگریس پارٹی شہری تجدید اور بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینے کا ایک بڑا قوی پروگرام جای کرے گی تاکہ بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کئے جاسکیں ۔ اس پروگرام میں کم لاگت کے مکانات کی تعمیر اور گندی بستیوں کی صفائی کو نمایاں جگہ دی جائے گی۔

غریبی کا خاتمہ

بے روزگاری کی طرح غریبی کےخاتمے میں بھی تیز تر اقتصادی شرح نمو سے بڑی مدد مل سکتی ہے۔ اگر ہماری معیشت نے نویں منصوبے کے دوران ، اس کی امکانی صلاحیت کے مطابق، 7.5 فی صد کی شرح سے نمو کیا ہوتا تو غریبی کی کل ہند شرح 2000-1900 میں 26.1 فی صد کےمقابلے میں گھٹ کر15 فی صد تک آگئی ہوتی۔ دیہی علاقوں میں بے حد غریبی کے پیش نظر کسانوں ، خاص طور پر چھوٹے اور بہت چھوٹے کسانوں کی پیداواری صلاحیت اور آمد نی بڑھانے کی کوششیں حد درجہ اہم ہیں ۔ لیکن ترقی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ریاست کو غریبی مخالف پروگرام چلانے کی ضرورت نہیں رہی ۔ اقتصادی نمو کی کارکردگی خراب ہو تب بھی غریبی کا خاتمہ کرنا لازمی ہے۔ کل ہند روزگار ضمانت اسکیم ایک موثر غریبی مخالف اقدام ہوگا جس کے تحت غریب ترین لوگوں ، خاص طور پر بے زمین مزدوروں کو فائدہ پہنچایا جائے گا۔

اسی طرح ، تمام غریبی مخالف پروگراموں میں لازمی طور پر بچوں کو توجہ کا مرکز بنایا جانا چاہیے۔ مڈ ڈے میل اسکیم اور انٹگریٹڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ اسکیم ( آی سی ایس ڈی) کو تغذیہ فراہم کرنے کی بہتر اور موثر خدمات کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

کانگریس چاہتی ہے کہ مڈ ڈے میل کا سلسلہ گرمیوں کے مہینوں میں بھی جاری رہے، خواہ اسکول بند ہی کیوں نہ ہوں ۔

آنگن واڑی ( بچوں کی دیکھ بھال کا مرکز)

چھوٹے بچوں کو تغذیے کی کمی اور صحت کی خرابی سے بچانے ، اور کام کرنے والی ماؤوں کو بچوں کی دیکھ بھال کرنے سے برالذمہ کرنے کا ایک لازمی ذریعہ ہے۔ اسےہرگاؤں ، میں فراہم کی جانےوالی بنیادی سہولتوں میں شمار کیا جانا چاہیے۔

کئی اور گروپ بھی ہیں جو حقیقی معنی میں بھوک کےسب سے زیادہ شکار ہیں۔ ان سب میں بے سہارا ضعیف لوگ، معذور افراد اور بےشوہرعورت کی زیر کفالت کنبے شامل ہیں، ان گروپوں کی امداد کیلئے خصوصی اقدامات مرتب کرنے کی ضرورت ہے جن میں ضعیفی کی پنشن ، بیواؤں کیلئے پنشن اور تقسیم عامہ کے نظام کے تحت نہایت رعایتی قیمتوں پر اناج کی فراہمی شامل ہے۔ کانگریس ملک کے69 غریب ترین اضلاع میں جہاں غریبی اپنی بد ترین شکل میں نظر آتی ہے اچھی طرح سوچےسمجھےغریبی مخالف پروگرام جاری کرے گی۔ اس اقدام کےذریعے، ان اضلاع میں مادی اور سماجی بنیادی ڈھانچے کو اس حد تک بہتر بنانا ممکن ہوگا کہ وہاں کے لوگوں کو خط افلاس سےاوپر،مجموعی طورپر معقول اخراجات کی سطح تک اٹھایا جاسکے۔ اس سے ملک میں غریبی کی صورت حال پر ایک اہم ضرب لگے گی۔

بھوک کا خاتمہ

بھوک کے خاتمے کے لئے ایسی کثیر رخی حکمت عملی جس کے تحت غریبی کے شکار لوگوں کی آمدنی کی صلاحیت برھائی جاسکےاور غلےکی پیداوار بڑھانے کےاقدامات ضروری ہیں ۔ بے روزگاری اور غریبی کے خاتمے کے لئے کارگر اسکیم بھوک کا خاتمہ کرنے میں بھی کارگر ہوگی ۔ مگر بھوک کا مسئلہ غریب لوگوں کی غذائی وسائل تک رسائی کے ساتھ ساتھ غذاکی مستقل دست یابی سے تعلق رکھناہے اور اس سب کا رشتہ ملک کی غذائی سلامتی سے ہے۔ غریبی مخالف پروگرام اور روزگار کی توسیع کے پروگرام غریبوں کی آمد نی یا وسائل پر ان کےاختیار میں اضافہ کرکے غذائی وسائل تک ان کی رسائی میں اضافہ کرتے ہیں ۔ ان پروگراموں کے ساتھ اور ان کو مکمل کرنے کے لئے ایسے محروم خاندانوں کی مدد کی غرض سے جن کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے، سماجی امداد کے اقدامات ( ضعیفوں اور بیواؤوں کے لئے پینشن ) بھی ضروری ہوں گے۔

سرکاری زمرے کی ایجنسیوں کے پاس بڑی مقدار میں غلے کا ذخیرہ اور اس کے ساتھ ہی ملک میں بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی تغذیے کی خراب سورت حال غذائی سلامتی کی پالسیوں کو درپیش پالسی چیلنج کا اشاریہ ہے۔ کانگریس پارٹی اگلے پانچ برسوں میں غریبی کی لعنت سے نجات حاصل کرنے کے لئے جامع قومی حکمت عملی اختیار کرنے کا عزم کرتی ہے۔


ناخواندگی کا خاتمہ

بے روزگاری، غریبی اور بھوک کےخاتمے سے متعلق پروگرام ایک دوسرے کیلئے باعث تقویت ہیں۔ ناخواندگی کا خاتمہ ، بنیادی تعلیم کے پھیلاؤ اور تمام لوگوں کو ابتدائی صحت خدمات کے دائرے میں لانےکےپروگرام غریب اور محروم لوگوں کو ترقی کرنےاورغریبی کے شکنجےسے باہر نکلنے کا زیادہ سے زیادہ اہل بنانے میں بہت بڑی حد تک مددگارہوں گے ۔ کانگریس پارٹی ملک کےتمام بچوں کو، ان کے والدین کی آمدنی اور طبقاتی حیثیت کے لحاظ کے بغیر ، معیاری بنیادی تعلیم فراہم کرنےکے عزم کا عادہ کرتی ہے۔ کچھ عرصے بعد ، حکومت کو دس سال کی لازمی اسکولی تعلیم فراہم کرنے کی ذمے داری قبول کرنی پڑے گی۔ اس مقصد کے تحت تعلیم پر سرکاری خرچ کو جی ڈی پی کے6 فی صد تک بڑھانا ہوگا اور کم ازکم 50 فی صد اخراجات ابتدائی تعلیم کیلئے مختص کرنے ہوں گے۔ کانگریس پارٹی ابتدائی تعلیم کی فراہمی کو عام کرنے کے پروگرام کیلئے مالی وسائل مہیہ کرنے کی غرض سے تمام مرکزی ٹیکسوں پر ایک ذیلی ٹیکس لگائے جانے کی حمایت کرے گی۔

دس سال کی لازمی اسکولی تعلیم کے علاوہ ، پیشہ ورانہ تربیت کے نظام کو ہنرمندی کے ایک لائق اعتبار ذریعے کے طورپر بحال کرنا ضروری ہے۔ یونیورسیٹی اور اعلا تعلیم سرکاری وسائل کے لئے ترس رہی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اعلا تعلیم کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے سرکاری اور نجی زمرے کے باہمی اشتراک کا خاصا امکان پایا جاتا ہے ۔ مگر اعلا تعلیم سے وابستہ وسیع خارجی معاملات کے پیش نطر ، یہ وہ شعبہ نہیں جسے پوری طرح بازار کی قوتوں پر چھوڑدیا جائے۔

سب کے لئے ابتدائی صحت خدمات کی یقینی فراہمی


کانگریس پارٹی اگلے پانچ سال میںصحت سے متعلق سرکاری اخراجات کو جی ڈی پی کے دو فی صد تک بڑھانے کا عزم کرتی ہے جس می اعلا ترین ترجیح ابتدائی صحت خدمات کو دی جائے گی ۔

صحت کے معاملات کا دارومدار غذا کی دست یابی ، صاف پانی کی فراہمی صفائی اور گندگی کے انتظام پر ہے۔ اس کا تعلق احتیاطی اور معالجاتی صحت خدمات سے بھی ہے ۔ اور ان صحت خدمات میں دیہی اور شہری ہندستان اور پسماندہ اور زیادہ ترقی یافتہ اضلاع کے درمیان زبردست فرق پایا جاتاہے اور اس کاتعلق اس بات سے بھی ہے کہ ان خدمات کی فراہمی کی نوعیت سرکاری ہے، نجی ہے یا رضاکارانہ ۔ اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحت خدمات کی بڑھتی ہوئی ہوئی لاگت غریبوں کے مقروض ہونے کا ایک بڑا سبب ہے۔ دراصل سرکاری زمرے کے ذریعے ابتدائی صحت خدمات کی بڑے پیمانے پر توسیع کے لئے مالی وسائل کی فراہمی کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے۔ جہاں بھی ممکن ہوگا صحت خدمات کی لاگت کے کم ازکم کچھ حصے کو پورا کرنے کے لئے صحت بیمہ پر انحصار کیا جائے گا۔

اس وقت نجی زمرے کے ذریعے صحت خدمات کی فراہمی کے سلسلے میں ضابطہ بندی کا نظام بڑی حد تک ناموجود ہے اور اسے وضع کیا جانا ضروری ہے۔ سرکاری زمرے کو ناکافی مالی وسائل اور مناسب افرادی قوت رکاوٹیں درپیش ہیں ۔ ان میں سے کئی رکاوٹیں پنچایتی راج اداروں کو اختیارات منتقل کرکے اور صحت خدمات فراہم کرنے والوں کی مقامی جواب دہی میں اضافہ کرکے دور کی جاسکتی ہیں ۔

زراعت ؛ زرعی زمرے کی نمو کی مکمل صلاحیت کی بحالی

موجودہ حکومت کی اہم ترین ناکای زراعت اور زرعی زمرے میں نظر آتی ہے جس سے دوتہائی ہندستانی شہری وابستہ ہیں ۔ کانگریس 4.5 فی صد کی سالانہ شرح سے زراعت کی مسلسل نمو سے متعلق سرمایہ کاری کی ضرورتیں پوری کرنے کو اعلا ترین ترجیح دینے کا عہد کرتی ہے۔

زراعت میں نجی زمرے کی سامایہ کاری ، دیہی بنیادی ڈھانچے ( سڑکیں ، بجلی ، آب پاشی ، زرعی صنعتیں ، مویشیوں کی صحت سے متعلق خدمات) میں سرکاری زمرے کی سرمایہ کاری کا بدل نہیں ہوسکتی ۔ زراعت کے لئے منصوبہ جاتی رقوم میں قابل لحاظ اضافہ لازمی ہے۔

کھادوں ، آب پاشی ، بجلی اور بیجوں پردی جانی والی سبسیڈی کےذریعے ہونے والے سرکاری اختیارات کی عدم مرکوزیت کے ذریعے پانی استعمال کرنے والوں کی تنظیموں ، بنیادی ترقیاتی کمیٹیوں اور پنچایتی راج اداروں کی شرکت ضروری ہے۔ سبسیڈی کا سلسلہ اس کے نشانے سے متعلق رہنا چاہیے مگر دوسروں کیلئے قیمتوں میں اضافہ فراہمی میں بہتری سے مشروط ہونا چاہئے۔

کو آپریٹیو اداروں اور خود امدادی گروپوں کی تجدید کے ذریعے طلب رخی تشکیل دے کر زراعت کی مجموعی قدر میں اضافہ کی جانا ضروری ہے۔ لوگوں اور گروپوں کی یکجائی قابل قبول ہوسکتی ہے۔ بٹائی اور بٹے داری پر عائد پابندیوں کو اٹھانا یا کسان کی زمین پر موجود درختوں کو املاک کاحصہ ماننا قرضوں کے مسائل کو حل کرنے کے دیگر طریقے ہیں۔ زرعی تجارت اور اعلا قدر کی مصنوعات پر زیادہ سے زیادہ زور دیتے ہوئے پھیلتی ہوئی زرعی معیشت کے تقاضوں کو موثر انداز سے ہورا کرنے کے لئے دیہی قرضوں کے نظام کی تشکیل نو ضروری ہے۔

ریاستی سطح پر بہت سے ایسی پابندیاں ہیں جن سے ریاستوں کے درمیاناور ریاستوں کے اندر نقل و حرکت میں رکاوت پیدا کرتی ہیں انہیں یا تو ہٹا دیا جانا چاہیے یا معقول بنایا جانا چاہیے ۔ اناج اور دیگر زرعی پیداوار کی نقل وحرکت پر عائد پابندیاں لازماً ختم کردی جانی چاہئے اور زرعی پیداوار کا ایک مشترکہ قومی بازار پیدا کیا جانا چاہیے ۔ زرعی پیداوار کے فروخت کے نظام پر ایک نئی نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے تاکہ پھیلتی ہوئی زرعی معیشت کے چیلنج کا سامنا کیا جاسکے ۔

زرعی تحقیق کے قومی نظام پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ تحقیقی سرگرمیوں کو بنجر زمینوں پر کاشت کاری ، سنچائی سے محروم علاقوں ، تحقیق کی کم توجہ پانے والی فصلوں ، سوکھے اور کیڑوں کامقابلہ کرسکنے والی قسموں او رکٹائی کے بعد والی ٹکنالوجی پر مرکوز کیا جانا چاہیے ۔ توسیعی خدمات کی ترجیحی بنیادوں پر جدید کاری بھی ضروری ہے۔

آفات کی صورت حال میں تباہی پر قابو پانے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی ۔ تمام فصلوں اور تمام ملک کا احاطہ کرنے والی جامع فصل بیمہ اسکیم وضع کی جانی چاہیے ۔ اگر چہ عام زرعی بیمہ قابل عمل نہیں ہوگا مگر ایک زرعی استحکام فنڈ قائم کیا جاسکتا ہے ۔ تاکہ سیلاب یا سوکھے جیسی قدرتی آفات کے وقت ادائیگی یا آمد نی کے سلسلے میں امداد فراہم کی جاسکے ۔

وسیع تر ہوتی ہوئی بین الا قوامی تجارت کے تقاضوں کو پوراکرنے کے لئے زرعی پیداوار اور تیار غذاؤں سے متعلق ایک پائیدار اور طویل مدتی برآمداتی ۔ درآمداتی پالسی وضع کی جانی چاہیے۔

١٩٨٠ کی دہائی کے دوران بنجر زمینوں پر کاشت کاری اور بارش کے زیر اثر کاشت کاری کو فروغ دینے سے متعلق راجیو گاندھی جی کے مشن طرز کے اقدامات کے نتیجے میں تلہن اور دالوں جیسی فصلوں کی پیداوار میں ڈرامائی اضافہ ہوا تھا۔ مشنری جذبہ اب ختم ہوچکا ہے۔ اس کی تجدید کی جانی چاہیے۔

زرعی اصلاحات ، خاص طور پر ان ریاستوں میں جہاں ان کی پیچ رفت سست رہی ہے، کو اعلا ترجیح دی جانی چاہیے اور اس کے ساتھ ہی منقسم اور ذیلی طور پر تقسیم زمینوں کو یکجا کرنے کے اقدامات کئے جانے چاہیں ۔ مدت کاشت سے متعلق اصلاحات اتنی ہی اہم ہیں جتنی کہ زمینوں کی حد بندی کا نفاذ ۔ زمین کے رکارڈوں کی کمپیوٹ کاری کواولین اہمیت حاصل ہے۔ تمامزمین مالکوں ، خاص طورپر بہت چھوٹے کسانوں کے لئے پٹے داری کویقینی بنایا جانا چاہیے۔ بہت چھوٹے کسان اکثر اس حق سے محروم کردئے جاتے ہیں ۔ کانگریس پارٹی دیہی تبدیلی کےایک بڑے ذریعےکے طور پر کوآپریٹیو تحریک کو نئی زندگی دینے اور کوآپریٹیو اداروں کو نوکرشاہی کے غیر ضروری دباؤ اور عمل دخل سے آزاد کرنےکے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔


ترقی ، جواب دہی کے ہمراہ

مذکورہ بالا کم از کم مقاصد کو حاصل کرنے سے متعلق پروگراموں کے ساتھ ساتھ سماجی ، دیہی اور شہری ترقی کے ایسے پروگرام بھی ضروری ہیں جن کے ذریعے اقتصادی ترقی کے ثمرات کو تمام لوگوں ، خاص طورپر وہ جنہیں بازار کی قوتوں کے ذریعے نظر انداز کردیا جاتا ہے، کے دروازے تک لایا جاسکے ۔

جناب راجیو گاندھی کے پنچایتی راج یا ترقی کوبنیادی سطحوں تک پہنچانے کے خواب نے اس چیلنج کا سامنا کرنے کی راہ دکھادی ہے اورکانگریس پارٹی ،مقامی اداروں اور انتظامیہ کے شرکتی اور غیرمرکوز طریقئہ کار کے ذریعے ان پروگراموں کی فراہمی اور جواب دہی کا ایک نیا نظام قائم کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ یہ پروگرام مقامی سطح کی تنظیموں ، گرام سبھاؤں اور پنچایتوں کے ذریتے شرکتی انداز سے وضع کئے جانے چاہییں اور انہی کو ان کی ترجیحات بھی طے کرنا چاہیے ۔ مرکزی مالی امداد اور ریاستوں کو دی گئی رقوم کو مکمل شفافیت اور جواب دہی کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔

جواب دہی ، ذمے داریاں طے کرنے اور نگرانی اور نفاذ کاطریقہ قائم کرنے کا سلسلہ سرکاری خراجات کی تمام سطحوں تک ہونا چاہیے ۔ حکمرانی کے انداز میں تبدیلی لانے، ترقیاتی پروگراموں پر سرکاری پیسے خرچ کوموثر اور کارگر بنانے اور تمام سرکاری پالیسوں کو روبہ عمل لانے کا یہی طریقہ ہے۔

 


 

 


YEARS

AGRICULTURE,

FORESTRY,

FOGGING,

MINING &

QUARRYING

MANUFACTURING, CONSTRUCTION, ELECTRICITY GAS & WATER SUPPLY

TRANSPORT, COMMUNICATION & TRADE

FINANCING, INSURANCE, REAL ESTATE & BUSINESS SERVICES

PUBLIC ADMINISTRATION, DEFENCE & OTHER SERVICES

GDP

1980-85

5.84

5.84

5.3

7.82

5.08

5.66

1985-90

3.5

7.44

6.48

10.78

7.08

5.96

1990-91

4.6

7.4

4.9

7.7

4.1

5.6

1991-92

-1.1

-1.0

2.5

12.0

2.6

1.3

1992-97

4.62

8.04

8.84

8.02

5.1

6.68

1997-02

2.02

4.62

7.92

7.52

9.1

5.48

 

 

 آئین

منشور 2004

حفاطتی ایجنڈا

گذارش

 اقتصادی ایجنڈا

چارج شیٹ

آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی میٹنگ 21اگست 2004

بھارت کا نیو کلیئر توانائی پروگرام اور امریکہ کے ساتھ 123 عہد نامہ

قرض معافی بڑھ کر72,000 کروڑ روپئے ہوئی
کانگریس کا ہاتھ، انّداتا کے ساتھ

اے آئی سی سی میٹنگ 17 نومبر 2007 تالکٹورا اسٹیڈیم، نئی دہلی

جناب راہل گاندھی جی کا مرکزی بجٹ پر پارلیمنٹ میں تقریر 08 - 03  - 13

82 واں مکمل اجلاس، حیدرآباد

آرکائیوز