| انڈین نیشنل کانگریس کا دستور اشاریہ دفعہ .1 اغراض ومقاصد دفعہ.2 آئیں ہند سے وفاداری دفعہ.2A پارٹی کا پرچم دفعہ.3 تشکیلی اجزاء دفعہ.4 علاقائی تقسیم دفعہ.5 رکنیت دفعہ.5B سرگرم رکنیت دفعہ.5C سرگرم اراکین کی تربیت دفعہ.5D رکنیت کی تجدید دفعہ.6 کانگریس کمیٹی کی مدت کار دفعہ.6A خواتین \ ایس۔ سی\ ایس ۔ ٹی \ او۔ بی ۔ سی اور اقلیتوں کیلئے ریزرویشن دفعہ.7 سرگرم اراکین اور پارٹی فنڈ کے لئے عطیات کا رجسٹر دفعہ.8 ابتدائی کمیٹیاں اور ووٹروں اور امید واروں کی اہلیت دفعہ.9 ذیلی کانگریس کمیٹیاں دفعہ.10 ضلع کانگریس کمیٹی دفعہ.11 پردیش کانگریس کمیٹی دفعہ.12 مندوبین دفعہ.13 آل انڈیا کانگریس کمیٹی دفعہ.14 موجودہ اراکین کے ذریعہ منتخب اراکین دفعہ.14A اراکین بہ اعتبار عہدہ دفعہ۔ 15 سبجکٹ کمیٹی دفعہ۔ 16 مکمل کانگریس اجلاس دفعہ۔17 خصوصی اجلاس دفعہ۔ 18 صدر کا انتخاب دفعہ۔ 19 ورکنگ کمیٹی دفعہ۔20 خازن دفعہ.21 جنرل سکریڑیز دفعہ.22 رکنیت کی جانچ دفعہ.23 انتخابی تنازعات دفعہ.24 انتخابی مشینری دفعہ25A پارلیمانی بورڈ دفعہ.25B انتخابی کمیٹیاں دفعہ.26 خالی عہدے دفعہ.26A سیل اور شعبے دفعہ.27 متفرقات دفعہ.28 دستورمیں ترمیمات دفعہ.1 اغراض ومقاصد انڈین نیشنل کانگریس کا مقصد ہنددستان کے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی ، پرامن اور آئینی طریقوں سے ہندستان میں پارلیمانی جمہوریت پر مبنی سوشلسٹ ریاست کا قیام ہے جس میں سب کو مساوی مواقع اور سیاسی ، اقتصادی اور سماجی حقوق حاصل ہوں اور عالمی امن اور بھائی چارے کیلئے کام کرے۔ دفعہ۔2 آئین ہندسے وفاداری انڈین نیشنل کانگریس ازروئے قانون قائم آئین ہند اور سوشلزم اور جمہوریت کے اصولوں سے سچی وفاداری اور وابستگی رکھتی ہے اور ہندستان کے اقتدار اعلا ، اتحاد اور سالمیت کو برقرار رکھے گی۔ دفعہ۔2A پارٹی کاپرچم انڈین نیشنل کانگریس کا پرچم تین کیسریا، سفید اور سبز ، تین رنگوں کی افقی پٹیوں پر مشتمل ہوگا جن کے مرکز میں نیلے رنگ میں چرخہ کی تصویر ہوگی۔ یہ پرچم خالص کھادی سے بنایا جائیگا۔ دفعہ۔3 تشکیلی اجزاء انڈین نیشنل کانگریس مکمل اور خصوصی اجلاسوں کے علاوہ مندرجہ ذیل اجزاء پر مشتمل ہرگی۔ 1 - آل اندیا کانگریس کمیٹی 2 - ورکنگ کمیٹی 3 - پردیش کانگریس کمیٹیاں 4 - ضلع و شہر کانگریس کمیٹیاں 5 - ضلع کانگریس کمیٹی کے ماتحت کمیٹیوں مثلاً بلاک یا حلقے کی کانگریس کمیٹیوں اور متعلقہ پرد یش کانگریس کمیٹی کے ذریعے مقررہ کردہ دیگر ماتحت کمیٹیاں نوٹ؛ اس دستور میں جہاں جہاں لفظ ' پردیش ‘ آیا ہے اس میں سیاق وسباق کے مطابق علاقائی کا مفہوم بھی شامل ہوگا، اسی طرح لفظ ' ضلع، میں ' شہر‘ کا مفہوم شامل ہوگا۔ دفعہ۔4 علاقائی تقسیم (9) پردیش کانگریس کمیٹیاں عموماً مندرجہ ذیل ریاستوں میں تشکیل دی جائینگی جن کے صدر مقامات ان کے سامنے درج ہیں۔ ریاست صدرمقام 1- آندھرا - حیدرآباد 2 - ارونا چل - ایٹانگر 3 - آسام - گوہاٹی 4 - بہار - پٹنہ 5 - دہلی - دہلی 6 - گوا - پناجی 7 -گجرات - احمد آباد 8 - ہریانہ - چنڈیگرہ 9 - ہماچل - شملہ 10 - ۔جموں وکشمیر - سرینگر 11 - کرناٹک - بنگلور 12 - کیرالا - تریوندرم 13 - مدھیہ پردیش - بھوپال 14 - مہاراشٹرا - ممبئی 15 - منی پور - امپھال 16 - ۔میگھالیہ - شیلانگ 17 - میزورم - ایزال 18 - ناگا لینڈ - کوہیما 19 - اڑیسہ - بھونیشور 20 - راجستھان - جےپور 21 - پنجاب - چندی گڑہ 22 - سکّم - گنگٹوک 23 - تمل ناڈ - چینئی 24 - تریپورہ - اگرتلا 25 - اترپردیش - لکھنئو 26 - مغربی بنگال - کولکتہ (ب) علاقائی کانگریس کمیٹیاں مندرجہ ذیل علاقوں میں تشکیل دی جائیں گی جس کے مرکزی مقامات کے نام ان کے سامنے درج ہیں۔ علاقہ صدرمقام 1 - جزائر انڈومان ونکوبار - پورٹ بلیئر 2 - چندی گڑہ - چندی گڑہ 3 - دادر- نگر- حویلی - سیلواسا 4 - دمن ودیو - موئی دمن 5 - پانڈی چیری - پانڈی چیری 6 - لکش دیپ - کاورتّی (س) پردیش کانگریس کمیٹی ورکنگ کمیٹی کی پیشگی اجازت سے اپنا صدر مقام تبدیل کرسکتی ہے۔ (د) ورکنگ کمیٹی ،پردیش کانگریس کمیٹی یا متعلقہ کمیٹیوں کی مرضی معلوم کرنے کے بعد، ایک نیا پردیش تشکیل دے سکتی ہے، کسی موجودہ پردیش کو ختم کرسکتی ہے، موجودہ پردیشوں کو ایک دوسرے میں ضم کرکے ایک کوئی ایک پردیش بناسکتی ہے یا کسی دوسرے پردیش کے کسی ضلع یا ضلع کے ایک یا کئی حصوں کو کسی پردیش کے سپرد کرسکتی ہے۔ ( ای) ورکنگ کمیٹی کو اختیار ہوگا کہ وہ انڈین یونین کے ان علاقوں کو جو کسی بھی پردیش کانگریس کمیٹی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے جس طرح بھی مناسب سمجھے نمائندگی دے اور آیا ہدایت دے کہ فلاں علاقے یا اس کے کسی حصے کو کسی پڑوسی پردیش میں شامل کرلیا جائے۔ دفعہ۔5 رکنیت اے - ہروہ شخص جس کی عمر 18 سال یا اس سے زیادہ ہو اور جو دفعہ۔١ کو تسلیم کرتا ہو فارم ‘اے، میں تحریری اعلان کرکے اور صرف 3 روپے کی تین سالہ فیس اداکرکے کانگریس کا ابتدائی رکن بن سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ کسی فرقہ پرست یا دیگر قسم کی کسی ایسی سیاسی پارٹی کا رکن نہ ہو جو اپنی الگ رکنیت ، دستور اور پروگرام کی حامل ہے۔ ب - کوئی بھی شخص اپنی مستقل رہائش کی جگہ یا اس جگہ جہاں وہ اپنا کاروبار یا کام کرتا ہو کے علاوہ کسی اور جگہ پارٹی کی ابتدائی رکنیت حاصل کرنے کا اہل نہیں ہوگا۔ ت - ابتدائی اور سرگرم رکنیت کی مدت سال یکم جنوری یا رکن بننے کی تاریخ کے بعد تیسرے سال کی 31 دسمبر تک ہوگی کمیٹی بنا سکتی ہے یا کسی دوسرے پردیش کی کمیٹی \ کسی ضلع کمیٹی یا ضلع کی ایک یا کئی کمیٹیوں کو کسی پردیش کمیٹی کے سپرد کرسکتی ہے۔ ث - ہر بلاک ، حلقہ اور شہر ، قصبہ کی کانگریس کمیٹی اپنے دائرہ عمل کے ابتدائی اراکین کا مستقل رجسٹر رکھے گی اور اس کی نقلیں مقررہ ضابطوں کے تحت ضلع کانگریس کمیٹی کو فراہم کریگی۔ ج - ابتدائی رکنیت کی تجدید مطلوبہ رکنیت فیس جمع کرانے کے ساتھ ہی عمل میں آجائے گی۔ چ - کوئی بھی ابتدائی رکن تین برسوں میں 25 ابتدائی رکن بنا کر سرگرم رکن بن سکتا ہے، اگر وہ دفعہ (١٣) میں درج شرائط پر پورا اترتاہو۔ ح - ابتدائی اور سرگرم اراکین کے ذریعے ادا کی گئی تین سالہ فیس مندرجہ ذیل تناسب سے مختلف کانگریس کمیٹیوں میں تقسیم کی جائے گی۔ اے آئی سی سی 10 فی صد پی سی سی 25 فی صد ڈی سی سی 25 فی صد ماتحت سی سی 40 فی صد نوٹ۔ ضلع کانگریس کمیٹی کے نیچے کی مختلف ماتحت کانگریس کمیٹیوں میں تناسب کے لحاظ سے تقسیم کئے جانے والے ابتدائی اور سرگرم اراکین کے عطیات کے 40 فی صد حصے کا تعین متلعقہ پردیش کانگریس کمیٹی کرے گی۔ دفعہ۔5.B سرگرم رکنیت مندرجہ ذیل زمروں کے اشخاص ، جو ابتدائی رکن ہوں، سرگرم رکن بننے کے اہل ہوں گے۔ 1 - پنچایتوں ، بلاک ڈیولپمنٹ کمیٹیوں ، ضلع پریشدوں، نوٹیفائڈ ایریا کمیٹیوں ، ٹاون ایریا کمیٹیوں ، میونسپل کمیٹیوں ، میونسپل کارپوریشنوں ، دیگر مقامی اداروں ، میڑو پالٹن کونسلوں ، ریاستی قانون ساز اداروں اور پارلیمنٹ کے اراکین ؛ II - وہ لوگ جو ورکنگ کمیٹی کے ذریعہ تسلیم شدہ تنظیموں سے سرگرم وابستگی رکھتے ہوں III - مجاہد آزادی جو تحریک آزادی میں شرکت کے سبب قید ہوئے ہوں یا نکالے گئے ہوں یا روپوش رہے ہوں یا سزا پاچکے ہوں؛ VI - وہ شخص جو لگاتار دوسال تک ابتدائی رکن رہاہو؛ V - صدر کانگریس کے ذریعے منظور شدہ کوئی بھی شخص ہر سرگرم رکن کو مندرجہ ذیل شرائط پوری کرنی ہوں گی اور فارم کی ‘ بی، میں اپنے دستخط کے ساتھ اعلان کرنا ہوگا کہ ۔ 6 - وہ 21 سال یا اس سے زیادہ عمر کا ، کی ہے؛ 7 - وہ مصدقہ کھادی پہننے کا ، کی عادی ہے ؛ 8 - وہ الکحل والے مشروبات اور نشیلی دواؤں سے دور رہتا \ رہتی ہے؛ 9 - وہ نہ تو کسی بھی شکل میں چھوا چھوت پر یقین رکھتا \ رکھتی ہے اور نہ اس پر عمل کرتا \ کرتی ہے اور اسے دور کرنے کے لئے کام کرنے کا عہد کرتا \ کرتی ہے ؛ 10 - وہ مذہب یا ذات برادری کی تفریق کے بغیر ایک متحدہ سماج پر یقین رکھتا ہے۔ 11 - وہ ورکنگ کمیٹی کی طرف سے دیا گیا چھوٹے سے چھوٹا کام بشمول جسمانی کرنے کو تیار ہے۔ 12 - وہ اپنے اوپر لاگو سیلنگ قوانین سے زیادہ جائیداد کا \ کی مالک نہیں ہے۔ 13 - وہ سیکولرزم ، سوشلزم اور جمہوریت کے اصولوں پر یقین رکھتا \ رکھتی ہے اور اس کے فروغ کے لئے کام کرے گا \ گی ؛ براہ راست یا بالواسطہ طور پر ، کھلے عام یا کسی اور طریقے سے ، پارٹی فورموں کے توسط کے بغیری پارٹی کی تسلیم شدہ پالسیوں اور پروگراموں پر کوئی مخالفانہ نکتہ چینی نہں کرے گا \ گی ؛ 14 - وہ اے آئیسی سی کے ذریعے منظور شدہ رسائل خریدے گا \ گی۔ دفعہ۔ 5.C سرگرم اراکین کی تربیت 1 - ہر سرگرم رکن کو ورکنگ کمیٹی کی ذریعے طے شدہ کم سے کم تربیت سے گذرنا ہوگا؛ 2 - کسی بھی سرگرم رکن کو مندرجہ ذیل چناؤ پارٹی ٹکٹ پر لڑنے کا حق نہیں ہوگا جب تک کہ وہ ورکنگ کمیٹی کے ذریعے طے شدہ کم سے کم تربیت سے گذرنے کا عہد نہ کرے 1 - آل انڈیا کانگریس کمیٹی 2 - پردیش کانگریس کمیٹی 3 - ضلع \ شہر کانگریس کمیٹی کی ایگزیکیٹو 4 - پارلیمنٹ ، ریاستی قانون ساز ادارہ ، میڑوپالٹن کونسل یا مقامی ادارہ۔ 3 - کوئی بھی شخص جب تک کہ سرگرم رکن نہ وہ پارٹی ٹکٹ پر پارلیمنٹ ، ریا ستی قانون ساز ادارے یا مقامی ادارے کے چناؤ کے لئے منتخب نہیں کیا جائے گا۔ دفعہ ۔5.D رکنیت کی تجدید سرگرم رکنیت کی تجدید ، رکنیت تجدید فارم (سی) بھر کر کی جاسکتی ہے۔ دفعہ۔6 کانگریس کمیٹی کی مدت ہر کانگریس کمیٹی اور اس کے عہدے داروں ، ایگزیکیٹو کمیٹی اور اراکین کی مدت کار عموماً تین سال ہوگی۔ ضلع کانگریس کمیٹیوں ، ان کی ایگزیکیٹیو کمیٹیوں اور پردیش کانگریس کمیٹیوں اور ان کی ایگزیکیٹیو کمیٹیوں کے اجلاس پابندی کے ساتھ ضابطوں میں درج مقررہ مدت کے اندر ہوں گے۔ پارٹی کا کوئی عہدے دار بلاک \ ضلع \ پردیش کانگریس کمیٹی کی سطح پر عموماً دولگاتار مدتوں سے زیادہ عہدے پر نہیں رہے گا۔ دفعہ۔6.A خواتین \ ایس سی \ ایس ٹی \ اوبی سی اقلیتوں کا ریزرویشن مختلف کمیٹیوں میں 33 فی صد سیٹیں خواتین کے لئے مخصو ص ہوں گی۔ مختلف کمیٹیوں میں کم سے کم 20 فی صد سیٹیں ایس سی \ ایس ٹی \ اوبی سی اور اقلیتوں کے لئے مخصوص ہونگی ۔ دفعہ 6۔اے ، (بی۔ اے) 6 میں درج مندرجہ بالا معاملات کے باوجود کانگریس صدر کو مندرجہ بالا زمروں کی طبقاتی نمائندگی کے فی صد تناسب میں رعایت دینے کا اختیار ہوگا۔ دفعہ۔7 سرگرم اراکین اور پارٹی فنڈ کے لئے عطیات کا رجسڑ 1 - رجسڑ ضلع کانگریس کمیٹیان سرگرم اراکین کا ایک مستقل رجسڑ تیا ر کریں گی ۔ مستقل رجسڑ ڈی سی سی کے صدر کے ذریعے مصدقہ نقل پی سی سی کو فراہم کی جائے گی ۔ ضلع کانگریس کمیٹیاں اراکین کے لئے شناختی کارڈ جاری کرے گی جس پر اراکین کے متعلقہ ڈی سی سی اور پی سی سی کے صدور کے دستخط شدہ فوٹو گراف لگے ہوں۔‘‘ ب - پردیش کانگریس کمیٹی اپنے دائرہ عمل کےتمام سرگرم اراکین کے مستقل رجسٹر کی مصدقہ نقل اے آی سی سی کے دفتر کو فراہم کرے گی اور اسے اس میں وقفے وقفے سے ہونے والی کسی بھی تبدیلی سے باخبر رکھے گی۔ س - رجسٹر میں ہر رکن کا پورانام ، پتہ ، عمر ، پیشہ ، رہائش کی جگہ اور رکنیت حاصل کرنے کی تاریخ درج ہوگی۔ د - رکنیت ، رکن کی موت، استعفے ، برخاستگی یا عطیہ جمع نہ کرنے اور رکنیت کی تجدید نہ کرنے پر ختم ہوجائیگی ۔ 2 - پارٹی فنڈ کے لئے سرگرم اراکین کے عطیات ہرسرگرم رکن کو ورکنگ کمیٹی کے ضابطوں کے مطابق اپنی آمدنی کا ایک خاص حصہ پارٹی فنڈ کے لئے بطور عطیہ پیش کرنا ہوگا۔ دفعہ ۔8 ابتدائی کمیٹیاں اور ووٹروں اور امیدواروں کی اہلیت اے - ابتدائی کمیٹیاں کسی بنیادی اکائی کے ابتدائی اراکین اس کے صدر اور ایگزیکیٹو کمیٹی کا انتخاب کریں گے۔ صدر ایگزیکیٹیو کمیٹی کے اراکین میں سے ایک سیکریڑی کا تقرر کرے گا۔ بی - ووٹر ہررکن جس کانام دفعہ (٩) اے ٥ کے تحت تیار مستقل رجسڑ میں درج ہوگا ماتحت کانگریس کمیٹی کے اراکین کے چناؤ میں ووٹ دینے کا حق دار ہوگا۔ سی - امیدوار صرف ایک سرگرم رکن ہی ابتدائی کمیٹی کے علاوہ کسی بھی کانگریس کمیٹی کا رکن منتخب کئے جانے کا اہل ہوگا۔ دفعہ۔ 9 ماتحت کانگریس کمیٹیاں اے - پی سی سی پنچایت ڈیولپمنٹ بلاک یا پنچایت سمیتی یا پنچایت یونین ، جیسا بھی صورتحال کا تقاضہ ہو، کے لئے ایک ماتحت کانگریس کمیٹی تشکیل دے گی اور اس کا نام بلاک کانگریس کمیٹی ہوگا۔ بی - اگر کسی شہری یا کسی لحاظ سے خصوصی علاقے میں ، ورکنگ کمیٹی کی پیشگی منظوری کے بعد پی سی سی کے ذریعے طے شدہ ایسے کسی علاقے کے لئے کوئی ماتحت کانگریس کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے تو اس کمیٹی کو بھی بلاک کانگریس کمیٹی کے نام سے جانا جائے گا۔ ڈی - پی سی سی کوئی اور کانگریس کمیٹی مثلاً گاؤں کمیٹی ، ایریا کمیٹی یا پڑوس کمیٹی تشکیل دے سکتی ہے جو دویا زیادہ ابتدائی کمیٹیوں پر مشتمل ہو سکتی ہے اور وہ بلاک کانگریس کمیٹی کے ماتحت ہوگی ۔ ای - وہ ابتدائی کمیٹی متعلقہ علاقے کی بلاک کانگریس کمیٹی کے ماتحت ہوگی۔ ایف - ہرابتدائی کمیٹی بلاک کانگریس کمیٹی کے لئے ایک مندوب چنے گی۔ کوئی بھی سرگرم رکن جس کانام بنیادی اکائی کے رکن کی حیثیت سے درج ہو امید وار ہونے کا اہل ہوسکتا ہے۔ یہ نمائندہ بلاک کانگریس کمیٹی کا رکن ہوگا ۔ جی - بلاک کانگریس کمیٹی اپنےماتحت ابتدائی کمیٹیوں کے صدور اور ابتدائی کمیٹیوں کے ذریعے منتخب اراکین پر مشتمل ہوگی۔ ایچ - جہاں دیگر ماتحت کمیٹیاں مثلاً گاؤں کمیٹی، ایریا کمیٹی یا پڑوس کمیٹی موجود ہو وہاں ایسی کمیٹیوں کے صدور کو بلاک کانگریس کمیٹی کے اراکین کے ذریعے اپنا رکن منتخب کرلیا جائے گا مگر انہیں بلاک کانگریس کمیٹی کے عہدے داروں یا ڈی سی سی اور پی سی سی کے مندوبین کے کسی بھی چناؤ میں ووٹ دینے کا اختیار نہیں ہوگا۔ دفعہ ۔10 ضلع کانگریس کمیٹی ہر ضلع کانگریس کمیٹی ، پردیش کانگریس کمیٹی کے ذریعے مقرر علاقے کا احاطہ کرے گی اور مندرجہ ذیل پر مشتمل ہوگی۔ الف - ورکنگ کمیٹی کے ذریعے متعین ضابطوں کے مطابق ہر بلاک کانگریس کمیٹی کی جانب سے خفیہ بیلٹ کے ذریعے منتخب ڈی سی سی کے 6 اراکین : ط - ڈی سی سی کے تمام سابق صدر جو 365 دن کی مکمل مدت پوری کرچکے ہوں اور اس کے بعد بھی سرگرم رکن رہے ہوں؛ سی - پی سی سی کے وہ اراکین جو ضلع میں رہتے ہوں یا وہاں سے منتخب ہوئے ہوں۔ د - بلاک کانگریس کمیٹی کے اراکین، اس شرط کے ساتھ کہ وہ پی سی سی کا صدر یا سکریڑی بننے کے اہل نہیں ہوں گے۔ ر - مرکزی اور ریاستی قانون ساز کانگریس پارٹی کے ضلع سے متعلق اراکین ، بشرطے کہ وہ سرگرم رکن ہوں ۔ ف - ضلع میونسپل کارپوریشنوں ، میونسپلٹیوں اور ضلع بورڈوں \ ضلع پریشدوں یا جن عہدوں میں کانگریس پارٹیوں کے لیڈر، بشرطے کہ وہ سرگرم رکن ہوں ؛ ج - ورکنگ کمیٹی کے ذریعے متعین ضابطوں کے مطابق ڈی سی سی ایگزیکیٹیو کے ذریعے منتخب کئے گئے اراکین دفعہ۔11 پردیش کانگریس کمیٹی اے - پردیش کانگریس کمیٹی مندرجہ ذیل پر مشتمل ہوگی : بلاک کمیٹی کے ذریعے منتخب اراکین 1 - ہربلاک کانگریس کمیٹی خفیہ بیلٹ کے ذریعے پی سی سی کے لئے ایک مندوب منتخب کرے گی اور یہ مندوب پی سی سی کا رکن ہوگا۔ 2 - پی سی سی کے علاقے میں رہنے والا یا کاروبار یا پیشہ ورانہ سرگرمیاں رکھنے والا کوئی بھی سرگرم رکن عموماً متعلقہ پی سی سی کے علاقے کی کسی بھی بلاک کمیٹی سے آنے والے مندوب کے چناؤ کا امید وار ہونے کا اہل ہوگا، اس شرط کے ساتھ کہ (1) چناؤ کی شرطیں اور عمل ورکنگ کمیٹی کے ذریعے متعین ضابطوں کے مطابق ہوگا۔ 2 - مندرجہ ذیل پردیشوں اور مرکزی علاقوں میں پردیش \ مرکزی علاقہ کانگریس کمیٹی کے منتخب اراکین کی تعداد ریاستی \ علاقائی قانون ساز اسمبلی کے اراکین کی مجموعی تعداد کے برابر ہوگی۔ 1 - ارونا چل 2 - گوا 3 - منی پور 4 - میگھالیہ 5 - میزورم 6 - ناگالینڈ 7 - پانڈی چیری 8 - سکّم 9 - تری پورہ (3) جزائر انڈمان و نکوبار ، دادر نگر حویلی ، دمن و دیو، لکش دیپ اور چنڈیگرہ کی علاقائی کانگریس کمیٹیوں سے فی کمیٹی 25 اراکین ہوں گے۔ ب - پی سی سی کا سابق صدر جو 365 دن کی مکمل مدت پوری کر چکا ہو اور اس کے بعد بھی سرگرم رکن رہاہو؛ س - ضلع کانگریس کمیٹیوں کے صدور ، اس شرط کے ساتھ کہ وہ پی سی سی کا صدر یا سکریڑی بننے کے اہل نہیں ہوں گے؛ د - اےآئی سی سی کے اراکین جو پردیش میں رہتے ہوں ؛ ر - کانگریس قانون ساز پارٹی کے ذریعے منتخب اراکین جن کی تعداد پی سی سی یا ڈی سی سی کے اراکین کی تعداد کا 5 فی صد ہو اور یہ تعداد زیادہ سے زیادہ 15 ہوسکتی ہے۔ ف - ورکنگ کمیٹی کے ذریعے متعین ضابطوں کے مطبق پی کسی سی ایگزیکیٹیو کے ذریعے مناسب نمائندگی حاصل نہ کرپانے والے خصوصی عناصر یا دیگر افراد میں سے منتخب کئے گئے اراکین ۔ بی پی سی سی ہر رکن پی سی سی کو سا لانہ 50 روپے کی فیس اداکرے گا جس میں سے 5 روپے اے آئی سی سی کو بطور مندوب فیس اداکئےجائیں گے۔ یہ رکن پی سی سی کے لئے منتخب ہونےکے تین ماہ کے اندر کانگریس فنڈ کے لئے ہر تین سال پر 100 روپے جمع کرے گا اور اسے پی سی سی میں جمع کرکے اس کی رسید حاصل کرے گا۔ یہ رکن پی سی سی کے سکریٹری کے دستخط سے یہ سند حاصل کرے گا کہ وہ ایک رکن ہے اور اس نے کانگریس فنڈ جمع کیا ہے ۔ کوئی بھی رکن ، جو مقرر مدت میں اپنا عطیہ ادا کرنے یا فنڈ جمع کرنے میں ناکام رہے گا، بقایا جات کی ادائیگی نہ کرنے تک ، ایک رکن کی حیثیت سے کام کرنے ، جس میں پی سی سی کی میٹنگ میں شرکت کا حق بھی شامل ہے، کے حق سے محروم رہے گا۔ پی سی سی ورکنگ کمیٹی کے ذریعے مقررہ تاریخ کے اندر اے آئی سی سی کے دفتر کو اپنے اراکین کی مصدقہ فہرست ارسال کرے گی ۔ نوٹ؛ پی سی سی یہ فیصلہ کرے گی کہ کانگریس فنڈ کس تناسب سے ماتحت کانگریس کمیٹیوں میں تقسیم کیا جائے۔ سی - ہر پردیش کانگریس کمیٹی محاذی تنظیموں کی سرگرمیوں میں تال میل رکھنے کا کام کرے گی اور عموماً ضلع کانگریس کمیٹیوں کے توسط سے کام کرے گی۔ بی - اے آئی سی سی کی عمومی نگرانی اور کنڑول کے تحت ، اپنے پردیش کی کانگریس کمیٹیوں کے معاملات کی ذمے داری ہوگی اور اس مقصد کے لئے اپنا دستور وضع کرے گی جو پارٹی کے دستور سے ہم آہنگ ہو اور جو ورکنگ کمیٹی کی پیشگی منظوری سے ہی عمل میں آئے گا۔ سی - ورکنگ کمیٹی کو پردیش میں کانگریس کی تنظیم کے کام کی سالانہ رپورٹ پیش کرے گی جس میں آڈٹ شدہ حسابات بھی شامل ہوں گے۔ ڈی - مندرجہ بالا دفعہ (سی) اے) 5 اور کلاز بی ) کے مطابق ورکنگ کمیٹی کے ذریعے مقررہ تاریخ سے پہلے ، اراکین کی فیس میں سے اے آئی سی سی کا حصہ اےآئی سی سی کو ادا کرے گی۔ ای - وہ پردیش جہاں ورکنگ کمیٹی کے ذریعے مقررہ تاریخ پر یا اس سے پہلے پی سی سی کی تشکیل کا عمل نہیں کیا ہوگا۔ ورکنگ کمیٹی کے اختیارات کے تحت کانگریس اجلاس میں نمائندگی پانے کے حق سے محروم کیا جاسکتا ہے۔ ایف - اگر کوئی پردیش کانگریس پارٹی دستور کے تحت یا ورکنگ کمیٹی کی ہدایات کے مطابق کام نہیں کرتی تو ورکنگ کمیٹی موجودہ پی سی سی کو معطل کرسکتی ہے اور پردیش میں کانگریس کا کام چلانے کے لئے ایک عارضی کمیٹی تشکیل دے سکتی ہے ، جی - ہرپردیش کانگریس کمیٹی \ علاقائی کانگریس کمیٹی ، اے آئی سی سی کی ورکنگ کمیٹی کی ہدایات \ رہنما خطوط کےمطابق ، اس پی سی سی \ آر سی سی سےمتعلق غیر منقولہ جائیداد اور اسی کے ساتھ ہی دیگر کانگریس کمیٹیوں مثلاً ضلع کانگریس کمیٹی ، بلاک کانگریس کمیٹی اور پی سی سی \ آرسی سی کے ماتحت دیگر کمیٹیوں سے متعلق جائیداد کی دیکھ ریکھ کے لئے ایک ٹرسٹ قائم کرے گی ۔ مذکورہ ٹرسٹ کے بورڈ آف ٹر سٹیزمیں چیئرمین اور دیگر بہ لحاظ عہدہ ٹرسٹیوں کے بشمول تین سے کم اور 9 سے زیادہ ٹرسٹی نہیں ہوں گے۔ بورڈ اف ٹرسٹیز کا تقرر پی سی سی \ آرسی سی کے ذریعے کیا جائے گا اور یہ اے آئی سی سی کی ورکنگ کمیٹی کے منظور کردہ افراد پر مشتمل ہوگا۔ پی سی سی \ ار سی سی کا صدر ٹرسٹ کا بہ لحاظ عہدہ چیئرمین ہوگا۔ اے آئی سی سی کا خازن اور متعلقہ پی سی سی \ آر سی سی کا انچارج اے آئی سی سی جنرل سکریٹری بورڈ کے بہ لحاظ عہدہ اراکین ہوں گے۔ چیئرمین اور دو بہ لحاظ عہدہ اراکین کو چھوڑکر ، بورڈ آف ٹرسٹیز کی مدت کار تین سال ہوگی ۔ تمام جائیداد مذکورہ ٹرسٹ کے نام پر رہیں گی اور اگر کسی خاص معاملےیا صورت میں ایسا ممکن نہ ہو تو ایسے میں اس معاملے کا تعین ورکنگ کمیٹی کی ہدایات کے مطابق کیا جائے گا۔ دفعہ۔12 مندوبین پردیش کانگریس کمیٹیوں کے تمام اراکین انڈین نیشنل کانگریس کے مندوبین ہوں گے۔ دفعہ۔13 آل انڈیا کانگریس کمیٹی آل انڈیا کانگریس کمیٹی مندرجہ ذیل پر مشتمل ہوگی۔ الف - پی سی سی کے اراکین کے ذریعے واحد قابل منتقلی ووٹ کے نظام کے تحت مناسب نمائندگی کی بنیاد پر منتخب اراکین کی کل تعداد کا آٹھواں حصہ ،بشرطے کہ یہ تعداد پانچ سے کم نہ ہو۔ تاہم چنڈیگرہ ، جزائر انڈمان ونکوبار ، دادرو نگر حویلی ، دمن ودیو اور لکش دیپ کی علاقائی کانگریس کمیٹیوں سے فی کمیٹی چار اراکین منتخب کئے جائیں گے۔ بی - کانگریسی صدر سی - کانگریس کے سابق صدور جو 365 دن کی اپنی مکمل مدت پوری کرچکے ہوں اور اس کے بعد بھی کانگریس کے سرگرم رکن رہے ہوں ۔ ڈی - پردیش کانگریس کمیٹیوں کے صدور ، بشرطےکہ وہ اے آئی سی سی کا عہد دار بننے کے اہل نہیں ہوں گے۔ ای - پارلیمنٹ میں کانگریس پارٹی کا لیڈر ایف - قانون ساز اداروں ، مرکزی علاقوں اور میڑوپالٹن کونسلوں میں کانگریس پارٹی کے لیڈر۔ جی - کانگریس پارٹی کے ذریعے واحد قابل منتقلی ووٹ کے نظام کے تحت منتخب 15 اراکین ۔ ایچ ورکنگ کمیٹی کے ذریعے متعین ضابطوں کے مطابق مناسب نمائندگی حاصل نہ کرپانے والے خصوصی عناصر اور دیگر افراد میں سے ورکنگ کمیٹی کے ذریعے منتخب اراکین ۔ بی - صدر کانگریس ، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کا صدر ہوگا \ ہوگی بی - آئی سی سی کانگریس کے ذریعے طے شدہ کام کے پروگرام پر عمل درآمد کرائے گی اور اسے اپنی مدت کے دوران پیش آئے معاملات اور حالات سے نمٹنے کا اختیار ہوگا۔ سی اے آئی سی سی کو کانگریس س متعلق تمام امور میں باضابطگی پیداکرنے کے لئے ایسے ضابطے وضع کرنے کا اختیار ہوگا جو اس دستور سے ہم آہنگ ہوں اور تمام ماتحت کانگریس کمیٹوں کے لئے ان کی پابندی لازمی ہوگی۔ ڈی - اے آئی سی سی کا اجلاس کبھی بھی ہوسکتا ہے جب ورکنگ کمیٹی اس کی ضرورت محسوس کرے مگر یہ اجلاس سال میں دوبار سے کم نہیں ہوں گے یا یہ اجلاس ووٹنگ کے مکمل اختیارات کے حامل اے آئی سی سی کے مجموعی اراکین کی 70 فی صد تعداد کی طرف سی ورکنگ کمیٹی کو پیش کردہ مشترکہ درخواست پر منعقد ہو سکتاہے ۔ اس درخواست میں وہ مقصد بیان کیا جانا ضروری ہوگا جس کے تحت درخواست گذار اے آئی سی سی کا اجلاس طلب کئے جانے کے خواہش مند ہیں ۔ ایسا طلب کردہ اجلاس درخواست موصول ہونے کے دوماہ کے اندر منعقد کیا جائے گا، بشرطے کہ ایک سال میں اس قسم کی دو سے زیادہ درخواستیں پیش نہیں کی جائیں گی۔ کسی بھی طلب کردہ اجلاس میں ورکنگ کمیٹی کی طرف سے زائد امور بھی عذر کے لئے پیش کئے جاسکتے ہیں ۔ ای - طلب کردہ اجلاس کو چھوڑ کر اے آئی سی سی کے تمام اجلاسوں میں کم سے کم دوگھنٹے ایسی تجاویز وغورکے لئے مخصوص ہوں گے جن کے لئے اے آئی سی سی کے اراکین کی جانب سے باضابطہ نوٹس اس سلسلے میںمقرر ضابطوں کے مطابق دیا گیا ہو۔ ایف - اے آئی سی سی کے کسی بھی اجلاس میں کورم 100 اراکین کی مجموعی تعداد کے پانچویں حصے پر مشتمل ہوگا۔ جی - اے آئی سی سی کا ہررکن 100 روپے سالانہ عطیہ اداکرے گا اور اے آئی سی سی کا رکن منتخب ہونے کے تین ماہ کے اندر کانگریس فنڈ کے لئے 200 روپے حاصل کرے گا اور اس کی رسید حاصل کرے گا۔ اسے اے آئی سی سی کے کسی ایک جنرل سکریڑی کے دستخط سے باضابطہ طور پر رکنیت کا ایک سند نامہ دیا جائے گا۔ کوئی بھی رکن، جو مقررہ مدت کےاندر اپنا عطیہ ادانیہں کرپاتا اے آئی سی سی سبجیکٹ کمیٹی یا کانگریس کےکسی بھی اجلاس می شرکت سےمحروم رہےگا تا وقتے کہ وہ اپنے بقایا جات ادا کردے۔ نوٹ؛ اےآئی سی سی کے کسی رکن کے لئے پردیش کانگریس کمیٹی کے لئے بھی فنڈ حاصل کرنا ضروری نہیں ہے۔ دفعہ۔14 موجودہ اراکین کے ذریعے منتخب اراکین ورکنگ کمیٹی اور پردیش اور نچلی سطحوں کی ایگزیکیٹیو کمیٹیاں ورکنگ کمیٹی کے ذریعے متعین ضابطوں کے مطابق اے آئی سی سی ، پی سی سی اور دیگر متعلقہ نچلی سطح کی کمیٹیوں کے مجموعی اراکین کی 15 فی صد تعداد کو اپنے آپ میں سے منتخب کرسکتی ہیں ۔ اے آئی سی سی ، پی سی سی اور نچلی سطحوں پر اس طرح منتخب اراکین کو کسی بھی تنظیمی چناؤ میں ووٹ دینے کا حق نہیں ہوگا اور نہ وہ تنظیم میں کوئی چناؤ لڑیں گے ۔ تاہم کوئی شخص ، جو باہم منتخب رکن ہو ایسا ہونے کے سبب عام انداز سے کسی بھی کمیٹی کی مکمل رکنیت حاصل کرنے سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ دفعہ A.14 بہ لحاظ عہدہ اراکین پنچایت \ نگر پالیکا، قانون اسمبلیوں ، قانون ساز کونسلوں ، لوک سبھا ، راجیہ سبھا سے وابستہ کانگریس پارٹی کے تمام اراکین بالترتیب اکائی ، قصبہ ، ضلع ، پی سی سی کمیٹی کی سطحوں پر کانگریس کمیٹیوں کے بہ لحاظ عہدہ رکن ہوں گے۔ دفعہ۔15 سبجیکٹ کمیٹی اے - کانگریس اجلاس سے پہلے ، کانگریس صدر کی صدارت میں اے آئی سی سی کی کمیٹی کی حیثیت سے میٹنگ ہوگی۔ ورکنگ کمیٹی اور اگر اجلاس سے پہلے نئے سدر کا انتخاب ہوا وہ اور اس کی طرف سے ابھی کوئی ورکنگ کمیتی مقرر نہ کی جاسکی ہوتو اس صورت میں صدرکے ذریعے مقرر کردہ اسٹیرنگ کمیٹی ، کو کانگریس اجلاس سے متعلق قراردادوں کے مسودے سمیت تمام پروگرام سبجیکٹ کمیٹی کو پیش کرے گی ۔ مجوزہ قراردادیں سبجیکٹ کمیٹی \ اے آئی سی سی کے اراکین کو اجلاس سے کم سے کم دوہفتے پہلے دست یاب کرائی جائیں گی۔ قراردایں ترتیب دینے میں ، ورکنگ کمیٹی یا اسٹیرنگ کمیٹی ، پردیش کانگریس کمیٹیوں کی منظورکردہ قراردادوں اور اے آئی سی سی کے اراکین کے ذریعے دی گئی قراردادوں سے متعلق نوٹس کو زیر نظر رکھے گی۔ ط - سبجیکٹ کمیٹی پروگرام پر غور کرے گی اور کھلے اجلاس میں پیش کی جانے والی قراردادیں ترتیب دی گی۔ جہاں تک ممکن ہوگا، ان تجاویز پر غور کے لئے چارگھنٹے کا وقت مخصوص کیا جائے جن کے بارے میں پردیش کا نگریس کمیٹی یا اے آئی سی سی کے اراکین کی جانب سے باضابطہ طور پر مطلع کیا جا چکا ہو۔ دفعہ۔16 مکمل کانگریس اجلاس اے - کانگریس کا اجلاس تین سال میں ایک بار ورکنگ کمیٹی یا اے آئی سی سی ، جیسی بھی صورت ہو ، کے ذریعے مقرر تاریخ اور مقام پر منعقد کیاجائے گا۔ بی - کانگریس اجلاس ، صدر کانگریس اور دیگر تمام مندوبین پر مشتمل ہوگا۔ سی (1) کانگریس اجلاس میں سب سے پہلے سبجیکٹ کمیٹی کے ذریعے اس کی منظوری کے لئے پیش کردہ قراردادوں پرغور کیا جائیگا۔ (2) اس کے بعد اجلاس مندرجہ بالا شق (1) میں شامل نہ ہونے والی کسی بھی قابل لحاظ معاملے پر غور کرسکتا ہے مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ اجلاس کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے ٤٠ مندوبین نے اسے کانگریس کے سامنے پیش کرنے کی اجازت دینے کے لئے صدرسے تحریری درخواست کی ہو۔ اس میں بھی یہ شرط ہوگی کہ ایسا کوئی بھی معاملہ پیش کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جس پر سبجیکٹ کمیٹی کے اجلاس میں پہلے سے غور نہ کیا گیا اور اسے اجلاس میںشریک اراکین کی کم ازکم ایک تہائی تعداد کی تائید حاصل نہ ہوئی ہو۔ ڈی - وہ پردیش کانگریس کمیٹی ، جس کے دائرہ عمل میں کانگریس اجلاس منعقد کیا جائے گا، کانگریس اجلاس منعقد کرنے سے متعلق تمام ضروری انتظامات اور اس مقصد سے ایک استقبالیہ کمیٹی تشکیل دے گی جو اس کی عمومی ہدایات کے تحت عمل کرے گی اور جس میں ایسے افراد بھی شامل کئے جاسکتے ہیں جو اس کے رکن نہ ہوں۔ ای - استقبالیہ کمیٹی اپنے اراکین میں سے اپنے چیئرمین اور دیگر عہدے داروں کا انتخاب کرے گی۔ ایف - استقبالییہ کمیٹی اجلاس کے اخراجات کے لئے فنڈ جمع کرے گی اور مندوبین کے استقبال اور قیام کے تمام انتظامات کرے گی ۔ وہ سامعین کے لئے بھی انتظامات کرسکتی ہے۔ جی - استقبالیہ کمیٹی کے ذریعے جمع کردہ رقوم اور اخراجات پردیش کانگریس کمیٹی کی طرف سے مقرر کردہ آڈیٹر یا آڈیٹروں کے ذریعے آڈٹ کئے جائیں گے، اور فرد حسابات معہ آڈٹ رپورٹ پردیش کانگریس کمیٹی کی طرف سے کانگریس اجلاس کے اختتام کے چھے ماہ کے اندر ورکنگ کمیٹی کو پیش کی جائے گی۔ استقبالیہ کمیٹی کے پاس بچ رہنے والی فاضل رقوم اے آئی سی سی اور پی سی سی کے درمیان برابر برابر تقسیم کردی جائے گی۔ دفعہ۔17 خصوصی اجلاس اے - کانگریس کا خصوصی اجلاس طلب کیا جائے گا اگر اے آئی سی سی اس بارے میں فیصلہ کرے یا پردیش کانگریس کمیٹیوں کی اکثریت اپنی قرار دادوں کے ذریعے صدر کانگریس سے اس کا خصوصی اجلاس بلانے کے لئے درخواست کرے۔ بی - ایسے کسی بھی اجلاس کا اہتمام اس اجلاس کے انعقاد کے لئے منتخب پر دیش کی پردیش کانگریس کمیٹی کے گی۔ دفعہ۔18 صدرکا انتخاب اے - مرکزی الکشن تھارٹی کا چیئرمین صدر کے انتخاب کے لئے بہ لحاظ عہدہ رٹر ننگ افسر کے فرائض انجام دے گا۔ بی - کوئی بھی دس مندوب مشترکہ طور پر کسی بھی مندوب کا نا ئب صدر کانگریس کی حیثیت سے انتخاب کے لئے تجویز کرسکتے ہیں ۔ سی - رٹر ننگ افسر مجوزہ تمام کاموں کی فہرست شائع کرے گا اور کوئی بھی شخص جس کا نام تجویز کیا گیا ہو نام تجویز کئے جانے کے سات دن کے اندر رٹرننگ افسر کو ` تحریری اطلاع دے کر اپنی امیدواری واپس لے سکے گا۔ ڈی - رٹرننگ افسر واپس لئے گئے ناموں کو خارج کرکے بقییہ امیدواروں کے نام فوری طور پر شائع کرے گا اور انہیں پردیش کانگریس کمیٹیوں کو ارسال کرے گا۔ اگر نام واپس لئے جانے کے بعد صرف کوئی ایک امیدوار باقی رہتا ہے تو اس کے باضابطہ طور پر اگلے کانگریس اجلاس کا صدر منتخب ہونے کا اعلان کردیا جائیگا۔ ای - ورکنگ کمیٹی کے ذریعے مقررہ تاریخ پر، جوعموما چناؤ لڑنے والے امیدواروں کےناموں کے آخری اعلان کے بعد سےسات روز پہلے نہیں ہونے چاہیے، ہرمندوب کو، صدر کےانتخاب کے لئےمدرجہ ذیل طریقے سےاپنا ووٹ درج کرنے کا حق ہوگا۔ اگر صرف دوامید وار ہیں تو مندوب ووٹنگ کے کاغذ پر جس پر امیدواروں کے نام لکھے ہوں گے، اسی امیدوار کے حق میں اپنا نام درج کرے گا۔ اگر دوسے زیادہ امیدوار ہین تومندوبین کو ان امیدوارون کے نام کے سامنے جن کوووٹ دیا جا رہا ہے، 1،2 وغیرہ اعداد لکھ کر اپنی کم ازکم دو ترجیحات درج کرنی ہوں گی۔ اگر مندوب دو سے زیادہ ترجیحات درج کرتاہے تو اسے مسترد کردیا جائے۔ ووٹنگ کے بعد ووٹنگ کاکاغذ وہاں موجود بیلٹ بکس میں ڈال دیا جائے گا۔ ایف - پردیش کانگریس کمیٹیاں بیلٹ بکس کو فوری طورپر اے آئی سی سی کو ارسال کریں گی۔ جی - رٹر ننگ افسر بیلٹ بکس موصول ہونےکےبعد جلد ازجلد ہرامید وار سے متعلق پہلی ترجیح کے ووٹوں کی گنتی کرے گا۔ پہلی ترجیح کے 50 فی صد سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار کے صدر منتخب ہونے کا اعلان کردیا جائے گا۔ اگر کسی بھی امیدوار کو 50 فی صد سے زیادہ پہلی ترجیح کےووٹ حاصل نہیں ہوتےتواس صورت میں پہلی ترجیح کے سبب سے کم ووٹ پانے والے امیدوار کا نام خارج کردیا جائے گا اور اب بقیہ امیدواروں کے ووٹوں کی گنتی کرتے ہوئے ووٹروں کے ذریعہ درج کی گئی دوسرے ترجیح کے ووٹ گنے جائیں گے۔ اس طرح درج شدہ ترجیحات کے مطابق ووٹوں کی منتقلی کے بعد ہر اگلی گنتی میں سب سے کم ووٹ پانے والے امیدواروں کے اخراج کے عمل کے دوران جس امیدوار کو 50 فی صد سے زیادہ حاصل ہوں گے اسے ہی صدر منتخب قرار دیا جائے گا۔ ایچ - مندرجہ بالا طریقے سے منتخب صدر کے انتقال یا استعفے وغیرہ جس میں کسی وجہ سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورت حال میں ، اے آئی سی سی کے ذریعے باضابطہ صدر کا انتخاب کئے جانے سے پہلے جب تک ورکنگ کمیٹی کسی عبوری صعدر کا تقرر نہیں کرتی تب تک سب سے سینئر جنرل سکریڑی صدر کے معمول کی ذمے داریاں انجام دے گا۔ آئی - صدر اپنے منتخب ہونےکے بعد اور اپنی مدت کار کے دوران منعقد ہونے والے کانگریس اجلاس کی صدارت کرے گا اور وہ ورکنگ کمیٹی نہ ہونے کے دوران اسکے تمام اختیارات کا استعمال کرے گا۔ دفعہ۔ 19 ورکنگ کمیٹی اے - ورکنگ کمیٹی صدر کانگریس، پارلیمانی کانگریس کے لیڈر اور 23 دیگر اراکین پر مشتمل ہوگی جن میں 12 اراکین ورکنگ کمیٹی کے ذریعے متعین ضابطوں کے مطابق اے آئی سی سی کےذریعے منتخب کئے جائیں گے اورباقی اراکین کا تقرر صدر کرے گا۔ صدر ورکنگ کمیٹی کے اراکین سےایک خازن اور ایک یا زیادہ جنرل سکریٹریوں کا تقرر کرے گا۔ صدر کو اے آئی سی سی منتخب اراکین میں سے ایک یا زیادہ سکریٹریوں \ جوائنٹ سکریٹریوں کے تقرر کا اختیار ہوگا۔ سکریڑی \ جوائینٹ سکریٹری صدر کی طرف سے تفویض کی جائے والی ذمے داریاں انجام دیں گے۔ ورکنگ کمیٹی کے اراکین کا تقررعموما اے آئی سی سی کے اراکین میں سے ہوگا مگر بعض معاملات میں ، وہ مندوبین بھی اس شرط کے ساتھ کہ جو اے آئی سی سی کے رکن ہوں اس کے رکن مقرر کئے جاسکتے ہیں ، اس طرح تقرر پانے والا مندوب اگر اپنے تقرر کے چھے ماہ کے اندر اے آئی سی سی کارکن منتخب نہیں ہوگا تو وہ ورکنگ کمیٹی کارکن نہیں رہ سکے گا۔ بی - ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کے لئے کورم کی تعداد آٹھ ہوگی۔ سی - ورکنگ کمیٹی کانگریس کی اعلاترین عاملہ اختیارات کی حامل ہوگی اور اسے کانگریس اور اے آئی سی سی کے ذریعے طے شدہ پالیسوں اور پروگراموں پر عمل درآمد کا اختیار ہوگا اور وہ اے آئی سی سی کو جواب دہ ہوگی ، ورکنگ کمیٹی دستور کی دفعات کی تعبیروتشریح اورنفاذ سےمتعق تمام امور میں حتمی اختیارات کی حامل ہوگی ۔ ڈی - ورکنگ کمیٹی اے آئی سی سی کے ہراجلاس میں اے آئی سی سی کی گذشتہ میٹنگ کی کارروائی کی رپورٹ اور اس کے ساتھ ہی اجلاس کی کارروائی کا ایجنڈا بھی پیش کرے گی اور ان غیر رسمی قراردادوں کے لئے وقت مقرر کرے گی جن کے بارےمیں اے آئی سی سی کے اراکین کی جانب سے اس سلسلے میں متعین ضابطوں کےمطابق ، باضابطہ نوٹس دیا گیا ہو۔ ای - ورکنگ کمیٹی تمام کانگریس کمیٹیوں اور تنظیموں کے ریکارڈوں ، کاغذات اور حسابات کی جانچ کے لئے ایک یا زیادہ آڈیٹروں یا انسپکٹروں یا دیگر افسروں کا تقرر کرسکتی ہے ایسی تمام کمیٹیوں اور تنطیموں کے لئے آڈیٹروں ، انسپکٹروں یا دیگر افسروں کو تمام مطلوبہ معلومات فراہم کرنا اور انہیں تمام دفاتر ، حسابات اور دیگریکارڈوں تک رسائی دینا لازمی ہوگا۔ ایف - ورکنگ کمیٹی کو اختیا ہوگا کہ وہ ۔ (1) تنظیم کو خوش اسلوبی سے چلانےکے لئے ضابطے وضع کرے ۔ ایسے ضابطے جلد از جلد اے آئی سی سی کے غور کے لئے پیش کئے جائیں گے ۔ (2) ایسی ہدایات جاری کرے جو پارٹی دستور سے غیر ہم آہنگ نہ ہو اور ان تمام معاملوں سے متعلق ضابطے وضع کرے جن کے بارے میںضابطے موجود نہیں ہیں ۔ (3) تمام پردیش کانگریس کمیٹیوں اور ماتحت کمیٹیوں اور ان کے ساتھ ہی استقبالیہ کمیٹیوں کی نگرانی کرے، انہیں ہدایات دے اور ان پر کنٹرول رکھے۔ (4) اے آئی سی سی کے سوا کسی بھی کمیٹی یافرد کے خلاف ایسی تادیبی کارروائی کرے جو وہ مناسب سمجھتی ہو۔ (5) خصوصی صورت حال میں ، دفعات (9 ( اے، 5( بی 5 ، بی 8 اور (سی 8 کے نکات کے نفاذ میں چھوٹ نہ دے۔ جی - ورکنگ کمیٹی ہرسال اے آئی سی سی کے ذریعے مقرر کردہ آدیٹر یا آڈیٹروں سے اے آئی سی سی کے حسابات کا سالانہ آڈٹ کرائے گی۔ ایچ - ورکینگ کمیٹی اس تاریخ کا تعین کرے گی جس کے ماتحت ، ضلع ، پردیش اور آل انڈیا کانگریس کمیٹیوں کی تشکیل مکمل کرلی جائے ۔ آئی - ورکنگ کمیٹی آل انڈیا کانگریس کمیٹی سے متعلق غیر منقولہ جائیداد کے انتظام کے لئے ٹرسٹ قائم کریگی۔ مذکورہ ٹرسٹ کے بورڈ آف ٹرسٹیز کا تقرر ورکنگ کمیٹی کےذریعے کیا جائے گا اور اس کے ٹرسٹیوں کی تعداد اس کے چیئرمین اور دیگر بہ لحاظ عہدہ ٹرسٹیوں کے بشمول پانچ سے کم اور نو سے زیادہ نہیں ہوگی۔ صدر کانگریس ٹرسٹ کا ( بہ لحاظ عہدہ) چیئرمین ہوگا اور اے آئی سی سی کا خازن اور اے آئی سی سی کے انتظام کا ذمے دار جنرل سکریٹری بورڈ کے بہ لحاظ عہدہ ٹرسٹیوں کو چھوڑکر باقی اراکین کی مدت کار تین سال ہوگی ۔ جائیداد مذکورہ ٹرسٹ کے نام ہوگی اور اگر کسی صورت \ صورتوں میں ایسا ممکن نہ ہو تو اس معاملے کا تعین ورکنگ کمیٹی کی ہدایات کے مطابق کیا جائے گا۔ جی - کسی خصوصی صورت حال سے نمٹنے کے لئے ، کانگریس کمیٹی کو اختیار ہوگاکہ وہ کانگریس کے مفاد میں جو بھی اقدام مناسب سمجھے کرے، اس شرط کے ساتھ کہ اگر ورکنگ کمیٹی کو ئی ایس اقدام کرتی ہے جو اس دستور کے مطابق اس کے اختیارات سےباہر ہے تو اسے اس اقدام کو جلد ازجلد توثیق کے لئے اے آئی سی سی کے سامنے لانا ہوگا مگر اس میں چھے ماہ سے زیادہ عرصہ نہیں لگنا چاہیے۔ دفعہ۔20 خازن کانگریس کے فنڈ کا ذمے دار ہوگا اور تمام تر سرمایہ کاری ، آمد نی اور اخراجات کا حساب رکھے گا۔ دفعہ۔21 جنرل سکریڑی اے - جنرل سکریڑی صدر کے عمومی کنٹرول کے تحت اے آئی سی سی دفترکے انچارج ہوں گے۔ بی - جنرل سکریڑی کانگریس اجلاس کے اختتام کے بعد جلد از جلد ، اجلاس کی کاروائی کی رپورٹ اور ساتھ ہی اس کے آڈٹ شدہ حسابات کی تیاری اور اشاعت کے لئےذمے دار ہوں گے۔ سی - جنرل سکریڑی اے آئی سی سی اور ورکنگ کمیٹی کےکام کاج بشمول آڈٹ شدہ حسابات کی رپورٹ تیار کریں گے جس میں گذشتہ رپورٹ جمع کرائے جانے کےبعد کے عرصے کا احاطہ کیا جائے گا اور اس رپورٹ کو کانگریس کے مکمل اجلاس سے پہلے ہونےوالی اے آئی سی سی کی پہلی میٹنگ میں پیش کریں گے۔ دفعہ۔22 رکنیت کی جانچ سینٹرل الیکشن اتھارٹی پردیش الیکشن اتھارٹی کے ذریعے رکنیت کی جانچ کا انتظام کرے گی۔ اراکین کی جانچ سے متعلق اپیلیں پردیش الکشن اتھارٹی کے ذریعے نمٹائی جائیں گی ۔ پردیش الکشن اتھارٹی مناسب سطحوں پر جانچ کمیٹی کی تشکیل کرے گی۔ دفعہ۔23 انتخابی تنازعات پردیش الکشن اتھارٹی آزادانہ اور صاف ستھرے انداز سے تنظیموں انتخابات کرانے کے سلسلے میں تمام ضروری اقدامات کرے گی ۔ کسی بھی انتخابی تنازعے کا فیصلہ بھی پردیش الکشن اتھارٹی کرے گی۔ پردیش انتخابی اتھارٹی کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں سنٹرل الکشن اتھارٹی کےذریعے نمٹائی جائیں گی۔ دفعہ۔24 انتخابی مشینری اے - الکشن اتھارٹی - ورکنگ کمیٹی اے آئی سی سی کی ایک مرکزی تنظیمی انتخاب اتھارٹی تشکیل دے گی جس کے اراکین کی تعداد تین سے کم اور پانچ سے زیادہ نہیں ہوگی ۔ اور ان میں ایک رکن اس اتھارٹی کا چیئرمین ہوگا۔ اتھارٹی کے چیئرمین اور اراکین ، اس اتھارٹی کے چیئرمین اور اراکین کی حیثیت سے اپنی مدت کار کے دوران کسی بھی تنطیمی عہدے پر نہیں رہیں گے۔ یہ اتھارٹی تنظمی انتخابات کرانے کے علاوہ تنطیمی انتخابات کےلئے ممبر سازی کے عمل کی نگرانی بھی کرے گی ۔ یہ اتھارٹی ممبرسازی کے عمل سے لے کر انتخابات کی تکمیل کے مرحلے تک پورے انتخابی عمل کی تاریخوں کو تعین بھی کرے گی۔ بی - سینٹرل الیکشن اتھارٹی کا چیئرمین ، صدرکانگریس اور ورکنگ کمیٹی کے اراکین کے انتخابات کے لئے بہ لحاظ عہدہ رٹرننگ افسر کے فرائض بھی انجام دے گا۔ سی - اے آئی سی سی کی سینٹرل الیکشن اتھارٹی پردیش کانگریس کمیٹی کی سطح پرایک پردیش الیکشن اتھارٹی تشکیل دے گی جس کے اراکین کی تعداد تین سے کم اور پانچ سے زیادہ نہیں ہوگی، اور ان میں سے ایک رکن اس اتھارٹی کا چیئرمین ہوگا۔ الیکشن اتھارٹی کی مدت کار تین سال ہوگی۔ اس اتھارٹی کے چیئرمین اور اراکین اپنی مدت کار کے دوران کسی بھی تنظیمی عہدے پر نہیں رہیں گے ۔ سینڑل الیکشن اتھارٹی پردیش یا علاقائی رٹرننگ افسر کا تقرر کرے گی ۔ ڈی - سنڑل الکشن اتھارٹی ، تنظیمی انتخابات کو خوش اسلوبی سے انجام دینے کے لئے تمام ضروری ضابطے وضع کرے گی۔ ای - پردیش رٹر ننگ افسر پردیش میں کانگریس کے تمام انتخابات کرائے گا۔ وہ پردیش کانگریس کمیٹی ، علاقائی کانگریس کمیٹی اور ضلع کانگریس کمیٹیوں سےصلاح مشوریہ کرکے ضلع رٹر ننگ افسروں اور ایسے دیگر افسروں کا تقرر کرے گا جو پردیش یا مرکزی علاقے میں انتخابات کو خوش اسلوبی سے انجام دینے کے لئے ضروری ہوں۔ پردیش رٹرننگ افسر وہ تمام دیگر ذمے داریاں بھی انجام دے گا جو سنٹرل الکشن اتھارٹی کی جانب سے وقفے وقفے سے اس کے سپرد کی جائیں ۔ ایف - پردیش رٹرننگ افسر کے عہدے کی مدت عموماً ایک سال ہوگی مگر وہ اس وقت تک اپنے عہدے پر برقرار رہے گا جب تک سنٹرل الکشن اتھارٹی کی جانب سے متعین متعلقہ ضابطوں کے مطابق نئے پردیش رٹر ننگ افسر کا تقرر نہ ہوجائے یا اسے اس کے عہدے سے ہٹا نہ دیا جائے۔ دفعہ۔ 25 اے پارلیمانی بورڈ ورکنگ کمیٹی ایک پارلیمانی بورڈ تشکیل دے گی جو صدر کانگریس اور نو دیگر اراکین پر مشتمل ہوگا ان اراکین میں سے ایک رکن پارلیمنٹ میں کانگریس پارٹی کا لیڈر ہوگا اور صدر کانگریس بورڈ کا چیئرمین ہوگا۔ اس بورڈ کا مقصد قانون ساز کانگریس پارٹیوں کی پارلیمانی سرگرمیوں کی نگرانی اور ان میں تال میل پیداکرنا ہوگا، اور یہ اس سلسلے میں ضابطے بھی وضع کرے گا۔ دفعہ۔ 25 انتخابی کمیٹیاں اے - ایک مرکزی انتخابی کمیٹیاں تشکیل دی جائے گی جو پارلیمانی بورڈ کے اراکین اور اے آئی سی سی کے ذریعے منتخب نو دیگر ممبروں پر مشتمل ہوگی اور اس کا مقصد ہوگا۔ 1 - ریاستی اور مرکزی قانون سازاداروں کا حتمی انتخاب کرنا ۔ 2 - انتخابی مہم چلانا۔ بی - پردیش انتخابی کمیٹی پی سی سی \ ٹی سی سی کے صدر ، کانگریس قانون ساز پارٹی کے لیڈر اور یا مرکزی علاقے کے معاملے میں اسمبلی \ مٹروپالٹن کونسل میں کانگریس پارٹی کے لیڈر اور ایسے اراکین پر مشتمل ہوگی جن کی تعداد دس سے زیادہ اور چار سے کم نہ ہو اور جن کا انتخاب پی سی سی یا ڈیٹی سی سی کے عام اجلاس کے ذریعے کیا جائےگا ۔ اگر کمیٹی کے اراکین اجلاس میںموجود اور ووٹ دینے والے اراکین کی تین چوتھائی تعداد کےذریعے منتخب کرلیے جائیں گے تو ان کے منتخب ہونےکا اعلان کردیا جائے گا ۔ اس الکشن کےلئےووٹنگ بیلٹ کے ذریعے ہوگی اور ووٹر کو ہر بیلٹ پیپر پر اتنے ووٹ درج کرنے ہوں گے جتنی کہ کمیٹی کے لئے منتخب کئےجانے والے اراکین کی تعداد ہوگی۔ اگرمنتخب کئےجانے والے ہررکن کی تین چوتھائی اکثریت حاصل نہ ہوسکے تو واحد قابل منتقلی ووٹ کے نظام کے تحت نیا الیکشن کرایا جائے گا۔ پی سی سی یا ٹی سی سی کا صدر ، پر دیش یا علاقائی انتخابی کمیٹی کا بہ لحاظ عہدہ چیئرمین ہوگا۔ سی - مندرجہ بالا طریقے سے تشکیل شدہ پردیش یا علاقائی انتخابی کمیٹی ، مرکزی انتخابی کمیٹی کو مرکزی اور ریاستی قانون ساز اداروں کے لئے امیدواروں کے نام تجویز کرے گی۔ ڈی - مرکزی انتخابی کمیٹی پردیش انتخابی کمیٹی کو امیدواروں کے انتخاب اور دیگر انتخابی معاملات کے بارے میں رہنمائی دینے کے لئےتمام ضروری ضابطے وضع کرے گی۔ دفعہ۔ 26 خالی عہدے اے - اس دستور کے تحت قائم مندوب یا کسی کمیٹی یابورڈ کے رکن کا عہدہ، استعفے ، برطرفی یا موت کے سبب خالی ہوجائے گا۔ بی - تمام خالی عہدے ، اگر کوئی اور طریقہ تجویز نہ کیا گیا ، اسی طریقے سے بھرے جائیں گے جس طرح عہدہ خالی کرنے والے رکن کو چنا گیا تھا اور اس طریقے سے منتخب رکن خالی عہدے کی بقیہ مدت تک اسی عہدے پر رہے گا۔ سی - کوئی بھی کمیٹی یا بورڈ ، ایک بار باضابطہ طور پر قائم ہوجانے کے بعد، اس کے خالی ہوجانے کی وجہ سے کا لعدم قرار نہیں دیا جائے گا، جب تک کہ اس ضابطے کےبرخلاف کوئی ضابطہ موجو نہیں ہے۔ دفعہ۔ اے 26 سیل اور شعبے اے - صدر کانگریس سیل \ شعبے قائم کرسکتا ہے جو اپنی دی گئی ذمے داریاں انجام دیں گے۔ بی - ان سیلوں \ شعبوں کے چیئرمین \ اراکین کا تقرر صدر کانگریس کے ذریعے کیا جائے گا۔ سی - ایسے سیل \ شعبے کا چیئرمین پردیش کا نگریس کمیٹیوں کے مشورے سے پردیش سطح پر سیلوں \ شعبوں کے چیئرمین اور اراکین کا تقرر کرسکتا ہے۔ دفعہ27 متفرقات اے - کوئی شخص دومتوازی کمیٹیوں کا رکن نہیں ہوگا۔ بی - کوئی کمیٹی اپنےاختیارات کسی چھوٹی کمیٹی یا فرد کے سپرد کرسکتی ہے ۔ سی - گذشتہ مرد م شماری کے آبادی سے متعلق اعداد و شمار کانگریس کے تمام مقاصد کی بنیاد ہوں گے۔ ڈی - جب کبھی بالکل چھوٹے سے حصہ کی قدروقیمت کا سوال کھڑا ہوگا وہاں نصف حصہ یا اس سے زیادہ کو اکائی کے محور پر تسلیم کیا جائے گا اور نصف حصہ کو صفر کے برابر مانا جائے گا جائے گا۔ ای - اس دستور میں جہاں جہاں بھی لفظ ‘ووٹ ‘ یا اس کی کوئی تصرفی شکل موجود ہے ،اس سے مراد جائز ووٹ ہے۔ ایف - بلاک ، ضلع اور پردیش کانگریس کمیٹیاں اپنے اراکین میں سے اپنی ایگزیکیٹوکمیٹیوں کے صدر، نائب صدور ، خازن اور اراکین کا انتخاب کریں گی۔ ان کمیٹیوں کے صدر ، سکریٹریوں کا تقرر کریں گے۔ جی - اراکین اور کمیٹیوں کے درمیان اور کمیٹیوں کے اندر ، اس دستورکی دفعات، شمولات ، تعبیرات وتشریحات یا اس میں قائم کئے گئے ضابطوں کے بارے میں اٹھے کسی بھی سوال کے تنازعے کا فیصلہ اس دستور میں بیان کردہ مناسب اتھارٹی کے ذریعے کیا جائے گا، اور اس اتھارٹی کا فیصلہ حتمی ہوگا اور اس کی پابندی انڈین نیشنل کانگریس کے تمام اراکین اور کمیٹیوں کے لئے لازمی ہوگی، اوران میں سے کسی کو بھی اس کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کا حق نہ ہوگا۔ ایچ - کوئی بھی رکن جو اپنی غیر موجودگی کی پیشگی اطلاع کے بغیر کسی بھی کانگریس کمیٹی کے لگاتار تین اجلاسوں میں شریک نہیں ہوگا، وہ متعلقہ کمیٹی کا رکن نہیں رہ جائے گا۔ دفعہ 28 دستور میں ترمیم اس دستورمیں کوئی ترمیم، تبدیلی یا اضافہ صرف کسی کانگریس اجلاس ہی میں کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اے آئی سی سی کو،کانگریس اجلاس نہ ہونے کی صورت میں بھی ،دفعہ۔1 کےمندرجات کو چھوڑکر ، دستور میں ترمیم ، تبدیلی یا اضافہ کرنےکا اختیار ہوگا، اگرورکنگ کمیٹی والے چاہے، اس شرط کے ساتھ کہ اے آئی سی سی کے ذریعےایسی کوئی بھی ترمیم ، یا اضافہ ، اس غرض سے خصوصی طور منعقعد کی جانےوالی میٹنگ میں موجود اور ووٹ دینے والے اراکین کی دوتہائی کی تائید کے بغیر نہیں کی جائے گی اور اس میٹنگ کی تاریخ سےکم سے کم ایک ماہ پہلےہررکن کو مجوزہ تبدیلیوں کےبارے میں مطلع کیا جائےگا۔ اے آئی سی سی کےذریعے کی گئی تبدیلیوں کوتوثیق کےلئے کانگریس کےاگلے اجلاس میں پیش کیا جائےگا مگر یہ توثیق کئے جانے سے پہلے بھی اے آئی سی سی کے ذریعے متعین تاریخ سے عمل میں لائی جا سکتی ہیں ۔ |