انڈین نیشنل کانگریس
24، اکبرروڈ
نئی دہلی۔ 110011انڈیا
فون۔ 23019080 -011
فیاکس ۔23017047
Hindi
English
Search
 

 

آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے اجلاس میں چیئر پرسن کی تقریر

سنیچر،17 نومبر - تال کٹورا اسٹیڈیم ، نئی دہلی

 

عز ت مآب وز یر اعظم

 سی ڈبلیو سی اور سی ای سی کے ممبران

 ریاستی صدور اور وزراء اعلی دیگر پارٹی کارکنان آپ تمام کا پرتپاک خیر مقدم

 

ہماری ملاقات تین بہت ہی اہم اور یاد گار ( پہلی جنگ آزادی1857 کی150ویں سالگرہ ، ستیہ گرہ تحریک کی صد سالہ سالگرہ اور آزادی کی60ویں سالگرہ کے ) پس منظر میںہورہی ہے - انقلاب 1857  نو آبادیاتی نظام کے خلاف ہندوستانیوں کی سب سی بڑی تحریک تھی- اس تحریک نے ہمیں بلا تفریق ذات ومذاہب اور علاقہ متحد کیا- ہم 1857کے جذبے کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، مشترکہ تہذیب کے اس جذبے کی باز گشت پوری طاقت کے ساتھ آج بھی سنائی دے رہی ہے-

یہ ہمارے لئے بڑے ہی فخر کی بات ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2 اکتوبر کو عالمی یوم عدم تشدد قرار دیا ہے- ہماری پارٹی کی جانب سے جنوری میں نئی دہلی میں منعقدہ ستیہ گرہ کانفرنس کی یہ بنیادی سفارش تھی لیکن اس کے باوجود ہمیں اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ گاندھیائی خیالات، نصب العین اور ادارے ہمارے ہی ملک میں خطرے سے دو چار ہیں اور خود ان کی آبائی ریاست میں حملے کی زد میں ہے، بی جے پی حکومت والی دیگر ریاستوں میں بھی یہی حال ہے- کہیں تو سماج کے کمزور طبقے کی سیاسی اور سماجی خود مختاری کے لئے ان کی خدمات پر سوالیہ نشان لگائے جارہے ہیں- ہمیں ان کے مقابلہ کے لئے آگے آنا ہے جو گاندھی کی میراث کو نقصان پہنچا تے ہیں اور جو ان کی خدمات کو دوبارہ لکھنے اور مرتب کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں ہمیں ان کی زندگی اور پیغامات سے فیضان حاصل کرتے رہنا چاہئے-

1947 سے آج تک کے اس 6 دہے میں ہندوستان کی ترقی واقعی قابل ذکر پہلو ہے اگر ہم ماضی کے ابتدائی دور پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں کانگریسی (مردوخواتین) کی غیر معمولی حصولیابیوں پر تعجب ہوتا ہے، بابائے قوم مہاتما گاندھی کے قتل اور ہندوستان کی تقسیم نےآزادی کی خوشی پر پانی پھیر دیا- صدیوں کے استحصال ، مغلوبیت اور جمود نے ہندوستان کو مفلس بنا دیا تھا، اپنی زندگی کا بیشتر حصہ آزادی کی جدو جہد میں صرف کرنے کے باوجود بابائے قوم نےجدید ہندوستان کی تعمیر کے لئے جمہوریت ، سیکولرزم، اقتصادی ترقی اور سماجی انصاف کے لئے خود سپردگی کردی اور عظیم چیلنجوں کو قبول کیا، گاندھی جی نے ایک غیر معمولی ٹیم تشکیل دی جس کے تمام لیڈران کی نمایاں خدمات ہیں لیکن ان میں سب سے زیادہ حصہ داری اور ملکی خدمات جواہر لال نہرو کی ہے جن کا جنم دن ابھی تین دن قبل منا یا گیا ہے- جواہر لال نہرو نے معاصر ہندوستان کا خاکہ تیار کیا

ہم پرسول اندرا گاندھی کا جنم دن منائیں گے ، کیا ہم غریبوں کی فلاح اناج میں ہندوستان کو خود کفیل بنانے کے ان کے عزم ، ہندوستان کی پائیدار ترقی اور ماحولیات کے تحفظ کا جذبہ ، ہندوستان کی آزاد خارجہ پالیسی کے لئے جدو جہد میں ثابت قدمی اور ملک کی مضبوطی کے لئے سائنس وٹکنا لوجی کے پھیلاؤ میں ان کی رہنمائی اورخدمات کو فراموش کرسکتے ہیں-

دوستو:

اس سے قبل ہماری ملاقات حیدر آباد کے پلینری میں جنوری میں ہوئی تھی تب سے کانگریس کی نمائندگی والی متحدہ ترقی پسند اتحاد حکومت نےڈاکٹر منوہن سنگھ کی دانشورانہ قیادت میں کامن منی مم پروگرام کےبہت سارے وعدوں کو پورا اور لاگو کیا ہے اور یہ وہ وعدے ہیں جو خود ہماری پارٹی کے ایجنڈے میں شامل ہیں-

جب ہم گزشتہ ساڑھے تین سالہ حکومت کی کارکردگی پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں اطمینان ہوتا ہے اب ہمیں ان چیزوں پر بھی نظر ڈالنا چاہئے جو ہم نے مکمل کرلیے ہیں-

میں نے اس سے قبل بھی کہا تھا کہ حکومتی نظم ونسق میں اپنا مقام بحال کرنے کے لئے اختلافات ہماری قدیم روایت کا ایک حصہ ہے جسے ہم نظر انداز نہیں کرسکتےہماری حکومت میں قومی دیہی روز گار گارنٹی ایکٹ کی حقیقی تعبیر ہوئی اور ملک کے تمام اضلاع میں اس کی توسیع اور نفاذ ہوا- بڑے بڑے پروگرام جیسے ، بھارت نرمان، جواہر لال نہرو شہری تجدید کاری مشن، قومی دیہی صحت مشن، راجیو گاندھی گرامین ودھوتی کرن یوجنا، سرو شکشا ابھیان کے بہتر نتائج سامنے آئے ہیں- ہماری حکومت نے کسانوں کی بھلائی کے لئے خصوصی توجہ دی ہے اور کسانوں کی خود کشی والے علاقے کے لئے خصوصی پیکج کا اعلان کیا- ہمیں یقین ہے کہ 25.000کروڑ روپے کی راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا دوسری سبز تحریک کا باعث بنے گا، ہم نے پسماندہ اضلاع کے لئے متعدد خصوصی اسکیموں کا اجراء کیا ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق غیر کانگریسی حکومت والی ریاستوں سے ہے- یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہماری پارٹی غربت کے معاملے میں بی جے پی کی نمائندگی والی این ڈی اے کی طرح تقسیم اور تفریق کی سیاست نہیں کرتی، سماج کے پسماندہ طبقے کو خود مختار بنانا ہمارے ایمان کا ایک حصہ ہے- اس کے لئے ہم نے بہت سے اقدامات کئے ہیں- اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں اسکالر شپ کی توسیع ہوئی ہے- خواتین کی اہمیت کو بڑھانے،دلت، گردیواس اور دیگر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو تعلیمی مواقع فراہم کرانے کے لئے نئے قوانین وضع کئے گئے ہیں گزشتہ دو سالوں میں 50.000 درج فہرست ذات وقبائل کے افراد کو مرکزی حکومت میں ملازمت ملی ہے- اقلیتوں کی فلاح ان کی سیکورٹی اور اقتصادی ترقی کے مواقع کی فراہمی صدیوں سے ہماری پارٹی کی بنیادی ترجیح رہی ہے- ہماری حکومت نے خاص کر ان کی تعلیم کے لئے متعدد اقدام کئے ہیں اور سچر کمیٹی کی سفارشات پر مبنی ایک جامع ایکشن پلان تیار کررہی ہے- غیر منظم سیکٹر میں مزدوروں کے تحفظ کا قانون بنالیا گیا ہے- دو نئی بیمہ پالیسی زمین سے محروم مزدوروں کے لئے عام آدمی بیمہ یوجنا اور غریب ترین فیملی کے لئے قومی صحت بیمہ یوجنا جاری کردی گئی ہے- نو آباد کاری سے متعلق ایک نئی پالیسی بہت جلد کابینہ میں پاس ہو جائے گی- تاریخی قبائلی بل پاس ہو چکا ہے ، وزیر اعظم خود نیشنل لینڈ ریفارمس کونسل کی نگرانی کررہے ہیں اور ہم نے اسے بہت ہی اہم مسئلہ قرار دیا ہے- کانگریس حکومتوں کو لینڈ ریفارمس کا ایجنڈا زوروشور کے ساتھ جاری رکھنا چاہیئے-

اقتصادی ترقی کی شرح یقیناً متاثر کن ہے اس ترقی سے حکومت کے لئے ملازمت اور پیداواری آمدنی میں اضافہ ہورہا ہے آمدنی ہی سے سماجی اور انفرادی اسٹرکچر میں عوامی سرمایہ کاری کے بڑے مواقع پیدا ہوئے ہیں-

افراط زر کی شرح میں کمی آئی ہے، ہماری حکومت بنیادی ضروریات کی چیزوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ اس سےعام آدمی کے بوجھ میں اضافہ ہوتا ہے، ہم نے انقلابی حق اطلاعات قانون پیش کیا ہے- ہماری خارجہ پالیسی خود مختار اور آزاد ہے- ہم نے اپنے پڑوسی ممالک اور دیگر اہم ملکوں کے ساتھ رشتوں کو ایک نئی جہت اور ایک نیا معیار دیا ہے- عوام کے لئے ہم نے پہلی مرتبہ سالانہ ترقی کی رپورٹ، پیش کی، ہمیں امید ہے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اس میں مزید اضافہ کریں گے-

بلا شبہ ہم نے قومی سیاست اور اقتصادیات کی سیاست میں بنیادی فرق پیدا کیا ہے لیکن اس کے باوجود مجھے ایک چیز کی جانب سے مایوسی ہوئی ہے جسے میں ایمانداری کے ساتھ آپ سے کہنا چاہتی ہوں- ہم ابھی بھی پارلیمنٹ میں خواتین کے لئے ریزرویشن کے راجیو گاندھی کے خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں کرسکے ہیں- مجھے امید ہے کہ اس پر بہت جلد عمل ہوگا-

پارلیمنٹ میں بی جے پی کے عدم تعاون اور سرکشی کے رویہ کے باوجود ہماری حکومت کی حصولیابیاں بے شمار ہیں- ہمارے وزیر اعظم اور ہماری پارٹی پر بی جے پی کے حملے کی مذمت کے لئے ہمارے پاس الفاظ نہیں ہیں- ہم بھی اپوزیشن میں تھے لیکن ہم نے حدود پار نہیں کیے اور ہمیشہ پارلیمنٹ کے مان ومریادا کوبرقرار رکھنے کی کوشش کی، قومی مفاد کے مسئلہ پر ہم نے ہمیشہ تعاون کیا

بی جے پی کی نمائندگی والی این ڈی اے حکومت کے برخلاف ہماری حکومت عوامی مفاد کے مسئلہ پر بار بار بحث ومباحثہ کے مواقع فراہم کرتی ہے اس کے باوجود بی جے پی اور اس کی اتحادی پارٹیاں پارلیمنٹ کی کارروائی میں رخنہ اندازی پر آمادہ ہے پھر بھی ہم رکے نہیں ہیں- ہم اپنے عہدو پیمان کو پورا کرنے کے لئے ثابت قدم ہیں-

دوستو: آج ہمارے ملک کے عروج کا دور ہے- ہم جوئی اور خود اعتمادی کا ماحول ہے آج ہندوستان اپنی محنت اور کار کردگی سے دنیا کو جوڑدیا ہے ہماری پارٹی کے کارکنان کی محنتوں اور کوششوں کا ثمرہ ہے اور جو کانگریس کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے-

1950میں زمین کی اصلاح کی سخت ضرورت تھی ، عوامی ترقی صنعتی کار خانے کے لئے پبلک سیکٹر کا قیام ، نئے علاقہ کی ترقی، سینچائی انفراسٹرکچر اور سائنس وٹکنا لوجی میں سرمایہ کاری کی ضرورت تھی کانگریس نے اسے یقینی بنا یا اور اس سے کہیں زیادہ ہوا-

1960 اور70 کو غربت پر براہ راست حملہ، اناج میں خود کفیل ہونے، ہندوستان کی اقتصادی ترقی اور آزادی کو بر قرار رکھنے نیز سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کےلئے بینکوں کو قومیانے اور مستقل کرنے کا سال قرار دیا گیا، کانگریس نے اسے بھی یقینی بنا یا اور ایسا ہوا-

1980 میں ہندوستان کو پنچایتی اداروں اور انفارمیشن ٹکنا لوجی کی اور لے جانے اور صنعت کی تجدید کاری کے لئے اقتصادی اصلاح کی ضرورت تھی کانگریس نے اسے بھی یقینی بنا یا اور ایسا ہوا-

1990 میں اقتصدای ترقی کے نئے مواقع فراہم کیئےاور عوامی سیکٹر میں صرفہ کو بڑھانے کے لئے حکومتی صلاحیتوں کو بڑھا یا، کانگریس نے اس طرح کے مواقع فراہم کئے اور کرے گی- 21ویں صدی ہمیں پالیسیاں بتانے اور اس پر عمل کی دعوت دے رہی ہے جو ہندوستان کو عالمی اقتصادی طاقت بتا کر ابھارے گی اسی اثنا میں اقتصادی ترقی کے فوائد کو سماج کے غریب طبقوں تک پہنچانے اور اسے خود مختار بتانے کو یقینی بتا نا ہوگا- کانگریس نے ان مقاصد کو پورا کرنے کے لئے اپنی پالیسیوں کی وضاحت کردی ہے

میں یہ ساری باتیں کیوں کہہ رہی ہوں

میں یہ سب باتیں صرف اس وجہ سے کہہ رہی ہوں کہ یہ ایک روایت بن گئی ہے دوڑتے رہو اور ماضی کو کوئی اہمیت نہیں دیتے-

تاریخی اور سیاسی پس منظر کو غور کئے بغیر پالیسیوں اور پروگراموں کو نظر انداز کردینا سب سے آسان ہے میں یہ نہیں کہتی کہ غلطی ممکن نہیں ہے لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ آج ہماراملک جہاں پہنچ چکا ہے اس کی وجہ کامیاب کانگریس حکومت کا سلسلہ جاری رہنا ہے-

غربت، عدم غذائیت، بے روز گاری اور عدم مساوات آج بھی ایک سچائی ہے لیکن اگر لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا معیار زندگی بلند ہو جاتا ہے اور متوسط طبقہ ایک مر تعش طاقت کے طور پر ابھرا ہے تو اس کی وجہ کانگریس کی پالیسی اور اس کا وزن ہے-

ساتھیو!

 مجھے یہ کہتے ہوئے بڑی خوشی ہے کہ جموں وکشمیر کے حالات میں ادھر کافی بہتری آئی ہے- وہاں امن وسکون کیلئے بڑی خواہش دکھائی دیتی ہے- ترقیاتی کاموں میں تیزی آئی ہے-

لیکن یہ بہت تکلیف اور افسوس کی بات ہے کہ کچھ شہروں میں دہشت گردانہ حملوں کے واقعات رونما ہوئے ہیں- لیکن یہ اپنے آپ میں بڑی بات ہے کہ ان عظیم حادثات کے درمیان بھی لوگوں نے بے مثال تحمل اور برداشت کا ثبوت دیا ہے-

ہمارے ملک کے لوگوں کی اس سے بڑی تعریف کیا ہو سکتی ہے کہ ایسے دہشت گردانہ واقعات کے باوجود فرقہ واریت اور تشدد کا ماحول نہیں بنا-

ہماری مخلوط حکومت نے ان دہشت گردانہ واقعات کا (سیاسی) فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی- جب کہ بی جے پی کی قیادت میں قومی جمہوری محاذ کی حکومت نے اپنی پالیسی کے لحاظ سے یہی کیا تھا- ہمارا عزم مصمم ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جدو جہد کریں گے-

کئی ریاستوں میں نکسلی تشدد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے- وزیر اعظم نے اسے داخلی سلامتی کے لئے سب سے بڑا چیلنج کہا ہے- میں اس (خیال) سے پوری طرح متفق ہوں- اب اس سے کار گر طریقے سے نمٹنے کے اپائے جلد سے جلد ہونے چاہئیں-

یہ شمال مشرق کے بعض حصوں کیلئے بھی سچ ہے، جہاں انتہا پسندی سے نبرد آزمائی چیلنج بنا ہوا ہے ہم نے مذاکرات کی تجویز رکھی ہے- لیکن لوگوں کا تحفظ اور امن کا ماحول بنا نا بھی ہماری ذمہ داری ہے-

ہم نے ہمیشہ تسلیم کیا ہے کہ اس طرح کے Extremismکو قانون اور انتظام اور سماجی نقطئہ نظر دونوں طریقے سے دیکھنا چاہئیے-

اس طرح کے Extremismسے نبرد آزمائی کے لئے آدی باسی علاقوں کی ترقی سے جڑی انتظامیہ کو زیادہ حساس ہونے کی ضرورت ہے- اگر اس کا مقابلہ کرنا ہے تو ان علاقوں میں زمینوں کی ملکیت اور جبری قبضہ کے مسائل پر بطور خاص توجہ دینی ہوگی-لیکن تعاون کیلئے ہر وقت تیار مر کزی حکومت کی مدد سے متعلقہ ریاستی حکومتوں کیلئے قانون وانتظام کو مضبوط کرنے اور لگاتار سیاسی اقدام اٹھانے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے- یہ قومی چیلنج ہے اور اس کا قومی جواب بھی ہونا چاہئے- اب میں آپ کو امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ کے سلسلے میں کچھ الفاظ کہنا چاہتی ہوں جس پر حالیہ مہینوں میں خوب سیاسی بحث ہوئی ہے-

جواہر لال نہرو کے زمانے سے ہی خود انحصاری ہماری پالیسی تھی- لیکن اپنی شرطوں پر بین الاقوامی تعاون اس خود انحصاری کا ایک جز ولا ینفک ہے-

اس سمجھوتے سے ہمیں کچے مال اور جدید تکنیک دونوں سہولیات ملیں گی اس سے ہمیں کئی دوست ممالک سے اپنی کاشت، صعنت، گاؤں اور شہروں کیلئے ہماری سب سے بڑی ضرورت، بجلی کیلئے زیادہ مدد ملے گی-

وزیر اعظم نے ملک کو مطمئن کراتے ہوئے کئی بار (اس بات کا) اعادہ کیا ہے کہ اس سمجھوتے سے ہمارے قابل افتخار جوہری منصوبوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا-

میں تسلیم کرتی ہوں کہ ہمارے محاذ کے حامی جماعتوں کے بیچ جوہری معاہدہ کے بعض نکات کو لے کر الگ الگ رائے ہے- ہم ہم خیالی بنانے کےلئے مذاکرات کررہے ہیں-

میں اس موقع پر پھر یہ اعادہ کرنا چاہتی ہوں کہ ہم ایک وسیع Universal Nuclear Disarmamentکے لئے پابند عہد ہیں- جس کامنصوبہ عمل راجیو جی نے 1988 میں اقوام متحدہ کے اجلاس عام میں پیش کیا تھا- اس منصوبہ عمل کو آج پوری دنیا میں نئے نئے حامی مل رہے ہیں- ہماری حکومت اسے آگے بڑھا رہی ہے-

ہم متحدہ ترقی پسند محاذ کو پورے تال میل کےساتھ چلانے کیلئے پابند عزم ہیں-(سیاسی) گٹھ جوڑ کا مطلب ہے ، سبھی فریقوں کا مثبت تعاون لیکن کسی گٹھ جوڑ میں کام کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ہمیشہ کیلئے اپنی سیاسی شناخت (جگہ )کھو دیں-

میں آپ کے سامنے سیدھے یہ قبول کرتی ہوں کہ توازن ہے، ایک سیاسی چیلنج ہے، لیکن ہمارا یہ یقینی خیال ہے کہ ہمیں کانگریس کو اپنی پہلے کی جگہ (پہلے جیسے مقام ) پر پہنچا نا ہے-

کانگریس اکیلی(واحد) پارٹی ہے جو ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے (ایک حصہ سے دوسرے حصہ ) تک ، ہر گاؤں، قصبہ اور شہر میں بالکل صاف طور پر موجود ہے-

کانگریس اکیلی (واحد) پارٹی ہے جس کو کثیر المشرب معاشرہ کے ہر طبقہ کی حمایت سے طاقت ملتی ہے یہ ہمارے لئے ووٹوں کی سیاست نہیں ہے بلکہ ہمارے اصولوں کا حصہ ہے-

کانگریس اکیلی (واحد) پارٹی ہے جو سیکولر قدروں میں یقین کے ساتھ ہی تیز اور مساوی اقتصادی ترقی کو جوڑتی ہے-

سیدھی سی بات ہے کہ سماجی انصاف اور معاشرتی خیر سگالی کے بغیر اقتصادی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنا ممکن نہیں ہے-ہم ایسی سیاست کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں جو اقتصادی ترقی کو اس کے وسیع اور سماجی تناظر سے علیحدہ کرتی ہے-

ساتھیو!

اب میں راست (طور پر) پارٹی تنظیم کے بارے میں کچھ کہنا چاہتی ہوں-

میں سمجھتی ہو کہ جس ‘Anti-incumbency’کی بڑی چرچہ ہوتی ہے وہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے ہونا ہی ہے اور جس سے بچا نہیں جاسکتا-

اگر ہم پوری طرح مستعد ہیں، اگر ہم عوام سے مستقل رابطہ میں ہیں، اگر ہم انہیں کامیابی کے ساتھ اپنے کاموں کی جانکاری دیتے ہیں اور ان کاموں کا اثر ان کی روزانہ زندگی میں دکھائی دیتا ہے تو مجھے کوئی شک نہیں ہے کہ ہمیں رائے عامہ کا اعتماد پھر سے ملے گا اور بہتر عوامی تائید(حمایت/ قبولیت) ملے گی-آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی حیثیت سے آپ کو پارٹی کے اصولوں اور پروگراموں کی تشہیر کے تئیں متحرک (فعال) رہنا ہے ہمارے اہم منصوبوں کے عمل کے سلسلے میں پارٹی اور حکومت کو ضروری اطلاعات دینے میں بھی آپ کو کلیدی کردار نبھانا ہے-

آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ ہم نے قومی سطح پر پارٹی کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام (Training Programme)شروع کردیا ہے- مسقبل میں درپیش چیلنجوں کےلئے ضروری تشہیری اشیاء اور لٹریچر تیار کرنے کےلئے بھی میں نے ایک کمیٹی کی تشکیل کی ہے- آپ کو یاد ہوگا کہ حیدر آباد کنونش میں پارٹی آئین میں ترمیم کے لئے بعض مشورے آئے تھے- اس لےلئے بھی میں نے ایک گروپ بنا یا تھا- اس نے اپنی سفارشیں دے دی ہیں اور ان ہی کی بنیاد پر آج ہی پارٹی آئین میں بعض ترامیم پیش ہونے والے ہیں-

گزشتہ حیدر آباد کنونشن کے بعد کئی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے ہیں- ان چناؤ سے نتیجہ نکلتا ہے کہ لوگوں میں پارٹی کےلئے جو امکانات ہیں، انہیں ہم ووٹوں میں نہیں بدل پائے یہ امکانات ہر جگہ دکھائی دیتی ہے-

یہ اتر پردیش کے بارے میں بھی صحیح تھا، وہاں ہم ہارے ہیں اور اتر پردیش میں یقینی طور پر پارٹی کو زمینی سطح سے ازسرنو بنانے کی ضرورت ہے-

کچھ اور ریاستوں میں آپسی لڑائی نے ہمیں شکست سے دو چار کیا جب کہ ہمیں وہاں بالکل نہیں ہار نا تھا- یہ بات ہمیں ان صوبوں میں خاص طور سےدھیان میں رکھنی ہے- جہاں ہماری جیت کے روشن امکانات ہیں-

بہار، تمل ناڈو اور مغربی بنگال جیسی ریاستوں میں ہمارے سامنے مشکل (ترین) چیلنج ہیں- وہاں اس کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے کہ ہم آپسی اختلاف کو بھولا کر اپنے پیروں پر کھڑے ہوں- آئندہ ماہ دو ریاستوں کے انتخابات کے علاوہ 2008 میں کئی ریاستوں میں ہمارا سخت امتحان ہوگا- اس کے بعد2009 میں آپ جانتے ہیں کہ لوک سبھا کے انتخابات ہونے ہیں-

میں یہاں وہ بات از سر نو دوہرا نا چاہتی ہوں، جو میں نے پہلے بھی کہی ہے- اور وہ یہ کہ ہم کانگریسیوں اپنے عہدے اور Seniorityوغیرہ کو بھلا کر ڈسپلن کے ساتھ متحد ہو کر، منظم ہو کر، خود سپردگی کے ساتھ اپنے منزل (کو پانے) کےلئے کام کرنا ہے-

اگر ہماری پارٹی مضبوط ہے تو ہر (ایک) رکن کو، ہر(ایک) ورکر کو اس سے طاقت ملے گی-

لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہو؟

یہ تبھی ممکن ہے'جب ہم پارٹی میں' رہنماؤں اور کارکنوں کا ایک نیا طبقہ تیار کرنے( بنانے) کےلئے اپنے تنظیمی انتخابات کے قابل اعتماد شفاش نظام قائم کریں- اور جتنا کام ، جتنا نتیجہ، اتنا فائدہ، کا اصول وضع کر کے از سر نو پارٹی بنائیں-

یہ تبھی ممکن ہے، جب ہم نوجوانوں، خصوصی طور پر کمزور طبقوں اور دیہی نوجوانوں کو اپنی جانب متاثر (گرویدہ) کریں خود سے جوڑیں اور انہیں ذمہ داری کے عہدے (تفویض کریں) دیں-

ہمیں اپنے کو خود سپردگی اور خلوص کے ساتھ مستقل لوگوں کی فکر سے جوڑنا ہے-

ہمیں خود کو سماج ، سماجی ورکروں اور عوامی تحریکات سے جوڑنا ہے-

ساتھیو! پارٹی سب سے اوپر ہے اس سےاوپر کوئی لیڈر نہیں ہے کوئی لیڈر نہیں ہے کوئی گروہ نہیں ہے-ایک جمہوری تنظیم کی حیثیت سے پارٹی کے اندر صلاح ومشورہ اور بحث کی آزادی ہے- لیکن یہ دھیان رکھنا ہے کہ جب تک کسی مدعےپارٹی اپنی آراء ظاہر نہیں کرتی، تب تک کسی کو بھی عوامی سطح پر الگ الگ اپنی رائے نہیں دینی ہے اور جب ایک بار اپنا موقف ظاہر کردے، تو اس کے بعد پارٹی کے خیال سے الگ کسی کی بھی نجی رائے کو بالکل قبول نہیں کیا جا سکتا

میں یہ واضح کرنا چاہتی ہوں کہ پارٹی نے ہی ہمارے بہت سارے ساتھیوں کو وزراء کے طور پر کام کرنے کا موقع دیا ہے- جب کہ بہت سارے دوسرے لوگ بھی اس کے قابل تھے- ایسی صورت میں ان کے اوپر ایک خاص ذمہ داری ہے-

انہیں پارٹی ورکروں کے تئیں جوابدہ اور جہاں ہم اقتدار میں نہیں ہیں ، وہاں پارٹی کی فکر کے تئیں حساس ہونا ہے- وہ جہاں کہیں بھی اپنے دوروں میں جائیں، وہاں پارٹی دفاتر میں ضرور جانا ہے-

جہاں تک دوسرے عہدیداروں کا سوال ہے ، میں چاہتی ہوں کہ وہ ورکروں تک پہنچیں ، ان کے لئے دستیاب رہیں، ضلعوں اور قصبوں میں زیادہ وقت گزاریں اور اس طرح سے پارٹی کی سرگرمیوں کو جاویدانی بخشتے رہیں-

کانگریسیوں کو خواہ مرد ہوں ، یا خواتین، جو حکومتوں یا تنظیم کے کسی عہدے پر فائز ہوں، انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ وہ ان جگہوں پر پارٹی کی وجہ سے ، صرف پارٹی کی وجہ سے بیٹھے ہیں- صرف ان عہدوں پر متمکن ہو جانے سے کام پورا نہیں ہو جاتا- یہ ان کا فرض ہے کہ وہ ہر سطح پر پارٹی کو مضبوط بنانے کیلئے سر گرم طریقے سے کام کریں-

ساتھیو!

پارٹی کے تئیں ان کی ایمانداری اور سپردگی سے بڑی طاقت ہے-

اسی کے بل پر ہم سب کو ایک طویل راستہ طے کرنا ہے-

جس طرح لوگوں میں بیداری بڑھی ہے- اسی طرح ہم سے ان کی توقعات بھی خوب بڑھی ہیں-

سیاسی مقابلہ روز سخت سے سخت ہوتا جارہا ہے-

ہمارے بھارت میں تیزی سے تبدیلیاں ہورہی ہیں- ان تبدیلیوں کے تئیں ہمارا ردعمل بروقت اور کار گر ہونا چاہئیے-

ساتھیو!

ہمیں اپنے عزم میں مصمم رہنا ہے، اپنے نظریات میں ایک رہنا ہے، اپنے کام میں ڈسپلن رکھنا ہے، اپنے اس تنظیم کے مفادات کو سب سے اوپر رکھنا ہے، جس کے ہم معزز رکن ہیں-

جے ہند