| کانگریس صدر کی اختتامی تقریر آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی میٹنگ تال کٹورا اسٹیڈیم- نئی دہلی 17 / نومبر 2007 جناب وزیر اعظم اور ساتھیو، اب ہماری یہ میٹنگ ختم ہورہی ہے- مجھے خوشی ہے کہ آپ میں سے کافی لوگوں نے اپنی بات کہی- لیکن جیسا کہ اکثر ہوتا ہے، بہت سے ساتھی اپنی بات نہیں کہہ پائے- (یہ اور بات ہے کہ جن ساتھیوں کو بولنے کا موقع ملا، ان میں سے کئی لوگوں کو رکنا بھی پڑا- کیونکہ ان کی بات ختم ہی نہیں ہو رہی تھی- خیر ایسے پروگراموں میں یہ عام بات ہے ) آج پارٹی کی آئین میں جو ترامیم ہوئی ہیں، ان میں اس بات کا بھی خیال رکھا گیا ہے سبجکٹ کمیٹی کی شکل بدلنے سے اب پارٹی کے عام اجلاس(بڑے کنونش) میں زیادہ لوگوں کو اپنی بات کہنے کا موقع ملے گا- آج ہم نے جو سیاسی قرارداد یں منظور کی ہیں اس میں عام طور سے سیاسی، اقتصادی اور خارجی امور سے متعلق وہ تمام موضوعات ہیں جو عام طور پر الگ الگ تین تجاویز کے توسط سے سامنے آتے ہیں- سماجی اور دوسرے تازہ سوال بھی اس میں شامل ہیں- اگر دائرہ اور وقت کی حد نہیں ہوتی تو کچھ اور باتیں بھی (سامنے )آتیں- ویسے جناب وزیر اعظم نے آج تفصیل سے حکومت کے کاموں پر روشنی ڈالی ہے- وہ پارٹی کی توقعات کے تئیں حساس ہیں- بہت سارے ساتھیوں نے اپنی اپنی ریاستوں کے سلسلے میں مختلف باتیں کہی ہیں ظاہر ہے کہ شمال مشرق(North East)اور جموں وکشمیر کے مسائل الگ قسم کے ہیں- ہم ان پر الگ سے دھیان بھی دیتے ہیں- مگر باقی ریاستوں کے دو درجے ہیں ایک تو وہ، جہاں کانگریس کی حکومتیں ہیں- اور دوسری وہ جہاں ہم اپوزیشن میں ہیں- جہاں ہماری حکومتیں ہیں، ان کے بارے میں کچھ باتیں سویرے کہہ چکی ہوں- جہاں ہم اپوزیشن میں ہیں- وہاں ہمارے ورکروں کیلئے بڑے چیلنج ہیں- لیکن ان چیلنجوں کا کوئی متبادل بھی نہیں ہے- جو بھی راستہ نکلے گا ، وہ جدو جہد سے ہی نکلے گا- ہمیں خود کو عوام کے دکھ درد سے جوڑنا ہوگا اور دکھ تکلیف سہہ کر ان کی آواز بلند کرنی ہوگی- جہاں ہماری سرکاریں ہیں، وہاں سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ سرکاری اور پارٹی دونوں میں پورا تال میل ہو- ہماری منزل ایک ہے- دل ودماغ ایک رہیں گے تو منزل بھی ضرور ملے گی- ان ریاستوں میں وزرائے اعلی اور پارٹی صدور کی خاص ذمہ داری ہے- آج زیادہ تر مقررین نے نوجوانوں کے کردار کے تعلق سے اپنے خیالات رکھے ہیں- یہ بالکل واضح ہے کہ اگر عمر کے لحاظ سے ہم ہندوستان کے معاشرے کو دیکھیں تو اس میں نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے- یہ بھی ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ دنیا میں جب بھی نئی تاریخ رقم ہوئی ہے اس میں نوجوانوں کی شراکت اور کردار سب سے اہم رہے ہیں- آنے والے وقتوں میں ہمارے نوجوان طبقے کو بھی بڑی بڑی ذمہ داری نبھانی ہے- جیسا کہ ہمارے پیش رونے کیا تھا- ہمیں اس کی مکمل تیاری کرنی ہے- ہم نےیہ بات اکثر کہی ہے اور آپ سب جانتے ہیں پھر بھی میں اعادہ کرنا چاہتی ہوں سوال یہ ہے کہ سیاسی اور عوامی زندگی میں کیوں ہیں؟ظاہر ہے کہ ہم اپنے سماج اور ملک کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں-ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے تئیں ہمارا فرض ہے- اس کے اور گہرے معنی یہ ہیں کہ سماج کے جن طبقوں کی زندگی میں کوئی کمی ہے- کوئی تکلیف ہے- کچھ کمیاں ہیں- ان کے تئیں ہمارے دل میں ہمدردی ہے- غریب اور کمزور کا ساتھ دینا کانگریس کا رواج ہے اور ہمارے لئے یہ اطمینان کی بات ہے کہ ہم اس رواج پر قائم ہیں- جیسا کہ میں نے صبح کہا، آنے والے وقت میں مختلف چیلنجوں کا سامنا کرنا ہے- مجھے امید ہے کہ آپ ان کے لئےہر طرح سے تیاری کریں گے- اب پارٹی کے دستور میں ترامیم کے بعد ہمیں اپنی پارٹی کی ممبر سازی مہم میں بھی تیزی لانی ہے- معاشرہ کے سبھی طبقوں کے لوگوں کو اپنی تنظیم سے جوڑنا ہے- تنظیمی انتخابات کے دوران ایماندار اور سپردگی رکھنے والے ورکروں کے ساتھ انصاف کرنا ہے- انہیں مناسب مقام دینا ہے- کانگریس کی پالیسیاں اور پروگرام واضح ہیں- آپ سب اپنی اپنی سطح پرلیڈر ہیں آپ جانتے ہیں کہ کانگریس کی منزل کیا ہے- سوال اس راستے پر مضبوطی سے چلنے کا ہے- میرے یا راہل کے پاس کوئی جادوئی چھڑی نہیں ہے- جو کچھ ہونا ہے وہ سب آپ کے تعاون سے ہونا ہے- اس لئے مجھے پورا یقین ہے کہ آپ ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھائیں گے اور ہم سب کو اپنی منزل حاصل ہوگی اس اعتماد کے ساتھ اپنی بات ختم کرتی ہوں- لیکن اس سے پہلے میں اس حادثہ پر افسوس ظاہر کرتی ہوں جومیڈیا اور حفاظتی دستوں کے درمیان ہوا ہوئی ہے- جیسا کہ مجھے معلوم ہوا ہے- خوشی کی بات یہ ہے کہ آپسی سمجھ سے یہ معاملہ حل کر لیا گیا ہے- انہی الفاظ سے ساتھ میں آپ سب کو یہاں آنے کےلئے پورے جذبے سے حصہ لینے کے لئے مبارکباد دیتی ہوں- لیکن مبارکباد کا یہ کام تب تک پورا نہیں ہوگا جب تک میں آپ سب کی طرف سے دہلی پردیش کانگریس کمیٹی، اپنے تمام کارکنان، وزیر اعلی اور ان کے معاونین سلامتی اور دوسرے انتظامات سے جڑے سبھی اہلکاروں اور ملازمین کو مبارکباد نہ دوں- اس لئے میں آپ سب کی طرف سے انہیں بھی دلی مبارکباد دیتی ہوں- جے ہند |