| گاندھی جی کی آمد سے کانگریس میں آنے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں سیاست کو ایک بالکل نیا مفہوم اور مواد میسر آیا۔ گاندھی جی کے مطابق سوراج کا مطلب محض انگریزوں سے ہندستانیوں کو اقتدار کی متقلی نہیں بلکہ لوگوں کو ایک نئی اور وسیع تراخلاقی اور مادی زندگی سے ہم کنار کرناتھا۔ کانگریس نےاب سہ رخی پروگرام پرعمل شروع کیا جو‘راست اقدام‘ یا مخصوص قوانین کی عدم تشدد پرمبنی نافرمانی ، تعمیری سرگرمیوں اورقانون سازاسمبلیوں میں آئینی احتجاج پر مشتمل تھا۔ تعمیری کام بنیادی طور پر دیہات کی تشکیل سے متعلق تھا جہاں ہندستان کے بیشتر لوگ رہتے تھے۔ ہندستان جیسے کسی ملک میں جہاں غریبی نے بھیانک صورت اختیار کرلی ہو، اقتصادی سرگرمیاں ہی حالات سدھارنے کےکسی بھی منصوبے کا بنیادی حصہ ہوسکتی تھیں، کیونکہ ‘‘ روٹی ہی عوام کیلئے خداتھی‘‘ اقتصادی تعمیرنو کےپروگرام میں کھادی کو مرکزی اہمیت حاصل تھی ۔ چرخہ اور عدم تعاون کا انقلابی خیال گاندھی جی کے فکر وعمل کی دواہم ترین بنیادیں تھیں۔ کانگریس کے اجلاسوں میں بہتر دیہی زندگی اور بہتر دیہی اقتصادی سرگرمیاں پیش کرنے کیلئے نمائشیں لگائی جاتی تھیں ۔ یہ اجلاس بھی ایسی سادہ زندگی کے نمونہ پیش کرتے تھےجو عام لوگوں کی رسائی میں ہو۔ بعد میں یہ اجلاس دیہی علاقوں میں بڑے بڑے خیموں میں منعقد کئے جانے لگے۔ کچھ ہی دنوں میں تعمیری سرگرمیاں اس مرحلےمیں پہنچ گئی جب مختلف سرگرمیوں کیلئےعلاحدہ اور ماہرین پرمشتمل تنظیمیں تشکیل دینی پڑیں ۔ یہ نئی تنظیمیں کانگریس کےانقلابی جوش وخروش کی لازمی بنیادیں تھیں ۔ بحران کےان برسوں میں جب ستیہ گرہ تحریک شروع کی گئی ملک میں سرگرم افراد کی بہت کمی تھی۔ بہت کم لوگ کونسلوں یا مقامی اورمرکزی حکومتوں سےوابستہ تھے۔ بےغرض اورلگن سے کام کرنے والےبیشتر لوگ،جو کانگریس کی طاقت کی بنیاد تھے، دیہات اورقصبوں میں ایسی تعمیری سرگرمیوں میں مصروف تھے جوبظاہرمعمولی اورغیر اہم نظرآتی تھیں مگر یہی سرگرمیاں دراصل شدت پسندانہ تحریکوں کیلئےزمین تیار کررہی تھیں اوران کے زریعے لوگوں کی زندگی کی کایا پلٹ ہورہی تھی۔ کھادی کلکتہ میں 1907 میں منعقد کانگریس کے خصوصی اجلاسوں نے چرخہ چلانےاور کھادی بُننے کو‘‘ ہرمرد، عورت اور بچے کیلئے نظم وضبط اور قربانی کا عمل‘‘ قراردیا۔ ناگپور اجلاس میں اس قرارداد کی توثیق کی گئی ۔ بعد میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے 20 لاکھ چرخوں اور ایک کروڑ افراد اور روپیوں پر مشتمل ایک پروگرام تشکیل دیا۔ 1922 میں گاندھی جی کی گرفتاری کے بعد کانگریس ورکنگ کمیٹی نے تعمیری کام پر خصوصی توجہ دی اور سیاست سےغیر متاثر رہ کر ایک خصوصی مہارت والی تنظیم کی حیثیت سے کام کرنے والا کھادی کا ایک خصوصی شعبہ قائم کیا ۔ دیہی صنعیتں کھادی کو بدحالی کے شکار دیہات کی اقتصادی حیات نو کیلئے محض ایک مرکزی نقطے کی حیثیت حاصل تھی ۔ اس کے علاوہ ان فنون اور دست کاریوں پر بھی توجہ دی جانی تھی جو دیہی عوام کی زندگی میں زبردست اقتصادی اہمیت رکھتی تھیں ۔ کانگریس نےاس مقصد کے تحت 1934 میں واردھا میں ایک کل ہند تنظیم برائے دیہی صنعت قائم کی جوایک اپنے طور پر کام کرنے والی ، خود مختار اور غیر سیاسی تنظیم تھی ۔ اس کے مقاصد میں دیہات کی تشکیل نو اور نوتعمیر ، دیہی صنعتوں کو نئی زندگی دینا اور دیہات کا اخلاقی اور مادی فروغ شامل تھا۔ گاندھی جی کی رہنمائی میں کام کرنے کیلئے ایک بورڈ تشکیل دیا گیا جس کے سکریڑی ڈاکڑ کماراپآ مقرر کئے گئے۔ اس تنظیم نے فوری طورپر ایک پروگرام جاری کیا جس کا مقصد دیہات میں صفائی اور خوراک اور دییہی صنعتوں کی صورتحال کو بہتر کرنا تھا۔ اس تنظیم کی ماہرانہ تحقیق اور رہنمائی فراہم کی جس سےان کوششوں میں بھی فائدہ پہنچا جواس تنظیم کےدائرے سے باہر کئے جارہےتھے۔ واردھا میں واقع اس کےصدر دفترنےمختلف چھوٹی صنعتیں چلانےکےعلاوہ دیہی کامگاروں کو تربیت بھی فراہم کی۔ ہندستانی تعلیمی سنگھ ہندستان کا ایک اور زبردست مسئلہ تعلیم کا تھا۔ خواندگی کی شرح حددرجہ کم اور ٹھری ہوئی تھی ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ برطانوی ہندستان کے بجٹ میں اس زبردست کمی کو پورا کرنےکیلئے مناسب رقم مختص نہیں کی جاتی تھی دوسرے یہ کہ نظام تعلیم ہندستانی عوام کیلئےحد درجہ نامناسب تھا۔ گاندھی جی کی بے پناہ ذہانت نےایک بار پھر تعلیم کا ایک نیا نظام ترتیب دیا جسے ‘بنیادی قومی تعلیم‘ کہا جاتاہے۔ کانگریس کےہری پورا اجلاس میں قومی تعلیم سے متعلق ایک قرار داد منظور کی گئی ۔ اس میں کہا گیا تھا۔ ‘‘ قومی تعلیم کو ایک نئی بنیاد اور ملک گیر پیمانے پر ازسرنو استوار کرنا لازمی ہے۔ اب جب کہ کانگریس کو خدمت اور ریاستی پراثر اندز اورحاوی ہونے کےنئے مواقع میسر آرہے ہیں، ضروری ہے کہ اس تعلیم کو بروئےکار لانےاور اس سلسلے میں دیگر تمام ضروری اقدامات کی رہنمائی کیلئے بنیادی اصول مرتب کئے جائیں ۔ کانگریس کی رائے ہے کہ ابتدائی اور ثانوی مرحلوں میں بنیادی تعلیم دی جانی چاہیے‘‘۔ ہندستانی تعلیمی سنگھ ( آل انڈیا ایجوکیشن بورڈ) اپریل 1938 میں تشکیل دیا گیا۔ اس نے خاصی پیش رفت کی ۔ دوصوبوں ، سی پی اور یوپی ، نے اسے ابتدائی تعلیم کی سرکاری پالسی کے طور پر قبول کرلیا۔ صوبائی حکومتوں نے بہار، اڑیسہ ، بمبئی ، مدراس ، کشمیر اور دیگر مقامات پر تربیتی مراکز قائم کئے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ ، دہلی ، مسولی پٹّم اور گجرات کے غیر سرکاری تعلیمی مراکز اور بچوں کے متعدد اسکول اس کے علاوہ تھے۔ بعد میں نئی ‘ تعلیم‘ کی اسکیم شروع کی گئی جس میں ملک کےممتاز ماہرین نے تعاون دیا۔ اس کا مقصد ہر عمر کے لوگوں کو بچپن سے موت تک تعلیم دینا تھا۔ اس کا ایک اور مقصد ایک نئے طرز حیات کی تربیت دینا تھا۔ اس میں تعلیم بالغان کو حددرجہ اہمیت دی گئی اور اس اسکیم کے شروع ہوتے ہی تیزی سے پیش رفت حاصل ہوئی ۔ واردھا ہندستان کی قومی زبان کے طور پر ایک مشترک ہندستانی زبان فروغ دینے سے متعلق منظم سرگرمیوں کا بھی مرکز تھا۔ چھواچھوت کا خاتمہ کانگریس نے اپنی نئی سرگرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی چھواچھوت کے خاتمے کو مرکزی اہمیت دی۔ گاندھی جی نے اپنے برت اور پونا معاہدے کے بعد اپنا بیشتر وقت اس کام پر صّرف کیا ۔ ہریجنوں کی حالت سدھارنے سے متعلق کام کیلئےایک علاحدہ تنظیم بنائی گئی اور فنڈ مختص کیا گیا۔ اس تنظیم کی بے شمار شاخیں قائم کی گئیں اور بہترین سماجی کارکنوں کو اس سرگرمی کا نگراں بنایا گیا۔ ہندستانی سیوادل کانگریس نے 1938 میں رضاکاروں کی تربیت اور تنظیم کا کام ایک خصوصی تنظیم ، ہندستانی سیوادل ، کے سپرد کیا جس کا صدر مقام صوبہ کرناٹک میں تھا۔ جسمانی تہذیب وتربیت کیلئے ایک اکیڈمی قائم کی گئی اورملک ک مختلف مقامات پر تربیتی مراکز کھولےگئے۔ ڈاکڑ ہردی کر نے سول نافرمانی تحریک کے دوران ، خاص طورپر کانگریس کیلئےممبرسازی ، دھرنے دینے اور کانگریس کو پرامن کارکنوں کی ایک فوج فراہم کرنے میں نہایت اہم کردار اداکیا۔ کانگریس والوں کیلئے لازمی پروگرام ان تنظیموں کی سرگرمیوں کےعلاوہ گاندھی جی اور کانگریس کےزیراثر کی اور سرگرمیاں بھی جاری رہیں ۔ بعد میں گاندھی جی نے گانگریس والوں کیلئے کوئی نہ کوئی تعمیری کام لازمی قرار دیتے ہوئے ان سرگرمیوں کے دائرے اور تعداد میں خاصا اضافہ کیا جس کی تفصیل انہی کے الفاظ میں یہاں پیش کی جاتی ہے ۔ فرقہ وارانہ اتحاد سیاسی اتحاد ایک ایسے سماجی انقلاب سے حاصل ہوگا جس کےزیر اثر فرقہ وارانہ جذبات اور طرز حیات پوری طرح ختم ہوجائے گا۔ اس انقلاب کے آغاز کیلئے لازمی ہے کہ ہرکانگریسی ہندستان کے کروڑوں باشندوں میں ہرایک کے ساتھ ہم آہنگی کے رشتے استوارکرے۔ ہندستان میں جداگانہ انتخابات نے مصنوعی عدم مطابقین پیدا کرتی ہیں اوران مصنوعی چیزوں سے جنہیں قانون ساز اداروں میں ایک محاذ بناکر عمل میں لایا جارہا ہےزندہ اور متحرک اتحاد جودلوں کا اتحاد ہوحاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اس کےباوجود کانگریس کو چاہیے کہ قانون سازاداروں کیلئےاپنےامیدوارکھڑے کرے تاکہ رجعت پسندوں کوان میں داخل ہونےسے روکا جاسکے۔ چھواچھوت کا خاتمہ یہ محض ایک سیاسی ضرورت ہی نہیں بلکہ جہاں تک ہندؤوں کا تعلق ہےیہ ہندومذہب کی بقاء کیلئےناگزیر ہے۔ ہندو کانگرسیوں کوچاہیےکہ وہ عدم تشدد کےجذبےسےنام نہاد ‘سناتنی‘ ہندؤوں کو پہلےسے کہیں زیادہ با اثر طریقےسےسمجھانے کی کوشش کریں۔ یہ کام سوراج کی تعمیر کا لازمی حصہ ہے۔ شراب بندی طب کےماہرین کوچاہیے کہ نشے کےعادی لوگوں کواس سے باز رکھنے کے طریقے ایجاد کریں ۔ عورتوں اورطلبہ کیلئے دردمندانہ خدمت کے ساتھ اس اصلاح کو فروغ دینے کا خاص موقع ہے۔ کانگریس کمیٹیاں تھکے ماندے مزدوروں کی تفریح کیلئےمراکز قائم کرسکتی ہیں۔ تعمیر کا کام کرنےوالےکارکن قانونی شراب بندی کو آسان اور کامیاب کرسکتےہیں خواہ وہ اس کیلئے راہ ہموار کرنے کیلئے کچھ بھی نہ کریں ۔ کھادی کھادی پر اس کے تمام تر مضمرات کے ساتھ عمل کیا جانا چاہیے ۔ اس کا مطلب ہے مکمل سودیشی ذہنیت اور تمام ضروریات زندگی کی تکمیل کے وسائل ہندستان کے اندر ہی حاصل کرنے کا عزم اور وہ بھی گاؤں والوں کی محنت اور ذہانت کے توسط سے۔ اس کلئے بیشترلوگوں کی ذہنیت اور مزاج میں انقلابی تبدیلی ضروری ہے اس کے علاوہ کھادی کا مطلب ضروریات زندگی کی پیداوار اور تقسیم کے عمل کو غیرمرکوز کرنا بھی ہے ۔ بھاری صنعتوں کا مرکز اور ملک گیر پیمانے پر واقع ہونا ضروری ہوگا مگر وہ اس وسیع ترقومی اقتصادی سرگرمی کا بہت چھوٹا سا حصہ ہوں گی جو بنیادی طور پر دیہیات میں مرکوز ہوں گی۔ ہر جس کے پاس کچھ زمین ہے وہ اس پرکم ازکم اپنےاستعمال کیلئے کپاس اگا سکتاہے۔ پر کتائی کرنےوالا ، اپنی کپاس نہ ہونے کی صورت میں اسے خاصی مقدار میں خرید سکتا ہےاور اسے ایک پٹرے اور لوہے کی رولنگ پن کی مدد سے اوٹ سکتا ہے ۔ کتائی کی کیلئے گاندھی جی دُھنش تکلی ، استعمال کرنے کی پرزور سفارش کرتے ہیں۔ دیگر دیہی صنعتیں دیہی معیشت ہاتھ سے پسائی کرنے، ہاتھ سے کوٹنے ، صابن سازی، کاغذ سازی، ماجس سازی، چمڑا کمانے ، تیل نکالنےوغیرہ لازمی دہیی صنعتوں کے بغیر ادھوری ہے۔ کانگریس کےلوگ ان میں دلچسپی لے سکتے ہیں۔ گاؤں کی صفائی اگر بیشتر کانگریس والوں کا تعلق دیہیات سے ہے، اور ایسا ہونا چاہیے ، توپھر انہیں ہمارے گاؤوں کو ہرلحاظ سے صفائی ستھرائی کا نمونہ بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ نئی یا بنیادی تعلیم یہ بہت سے کانگرسیوں کیلئےایک نیا میدان کار ہے۔ اس تعلیم کا مقصد گاؤں کے بچوں کو جدید گاوں والوں کی شکل دینا ہے۔ یہ جسم اور ذہن دونوں کو فروغ دیتی ہےاوربچوں کو اپنی زمین سے جوڑے رکھتی ہے مگراس کے ساتھ ہی ان کی آنکھوں کو مستقبل کا ایک روشن خواب بھی دیتی ہے جس کی تعبیر حاصل کرنے کیلئے وہ اسکولی تعلیم شروع ہونے کے ساتھ کوششیں شروع کردیتے ہیں ۔ جولوگ اس تعلیم میں دلچسپی لینا چاہیں وہ سیواگرام میں سنگھ کے سکریڑی سے رابطہ کر سکتے ہیں ۔ تعلیم بالغاں اس کا بنیادی مطلب زبانی تعلیم کےذریعےبالغوں کی حقیقی سیاسی بیداری ہے۔ اس کےساتھ ہی ادبی تعلیم بھی جاری رہےگی۔ اس تعلیم کوکم کرنےکیلئے کئی طریقےاستعمال کرنےکی کوشش کی جارہی ہے۔ صحت اور صفائی کی تعلیم صحت مند رہنے کا فن اورصفائی سے متعلق معلومات مطالعے اور عمل کا ایک علاحدہ موضوع ہے۔ کسی بھی منظم معاشرے میں لوگ صحت اور صفائی کے اصولوں سے واقف ہوتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ کسی بھی کانگریسی کو تعمیری پروگرام کے اس پہلو کونظر انداز نہیں کرنا چاہیئے۔ خواتین اگر چہ ستیہ گرہ نے ہندستان کی عورتوں کو خود بہ خود ان کی تاریکیوں سے باہر نکال لیا ہے، پھر بھی کانگریس والوں نےابھی تک اس بات کی اہمیت محسوس نہیں کی ہے کہ عورتوں کو سوراج کی جدوجہد میں برابرکا حصےدار بنایا جائے۔ کانگریس کے لوگوں کو ہندستان کی عورتوں کواوپراٹھانےکی کوششوں کا اعزازحاصل کرنا ہےتاکہ وہ مشترک خدمات میں معزز حصے دار ہونے کی مکمل حیثیت حاصل کرسکیں۔ صوبائی زبانیں یہ بات عدم تشدد پر مبنی سوراج کا لازمی حصہ ہےکہ ہرشخص کو تحریک آزادی میں اپنے طور پر دمات انجام دینی ہیں۔ عوام ایسا تبھی کرسکتے ہیں جب اس سلسلےکی ہربات انہیں ان کی اپنی زبان میں بتائی جائے۔ قومی زبان ہندی بلاشبہ ملک گیر سطح پر رابطے کی زبان ہے کیونکہ بیشتر لوگ اس زبان کو جانتے اور سمجھتے ہیں اور دوسری زبان والےبھی اسے بہ آسانی سمجھ لیتے ہیں ۔ اگر ہم لوگوں کو اپنی اس زبان سے محض ظاہری محبت ہے تو ہمیں ہندستانی پڑھنے اور سیکھنے میں اتنے ہی مہینے لگانے چاہیں جتنے سال ہم نے انگریزی سیکھنے میں لگائے ہیں۔ اقتصادی برابری اقتصادی برابری عدم تشدد پر مبنی آزدی کی شاہ کلید ہے۔ اقتصادی برابری کیلئے کام کرنا سرمائےاورمحنت کے درمیان ازلی کشمکش کو ختم کرنے کیلئے کام کرنا ہے۔ اس کا مطلب ہے ایک جانب چند دولت مندوں کو نیچے لاکر سب کے برابر کرنا جن کے ہاتھوں میں ملک کی بیشتر دولت مرکوز ہے اور دوسری جانب کروڑوں بھوکے ننگے عوام کو اوپر اٹھانا۔ اگر دولت اور دولت سے حاصل ہونے والی طاقت کو رضاکارانہ طرپر ترک اور اسے سب کی بھلائی کیلئے استعمال نہ کیا گیا تو ایک خونیں انقلاب یقینی ہے۔ کسان جب کسان ، اپنی عدم تشدد کی طاقت کا شعورحاصل کرلیتے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کا سامنا نہیں کرسکتی ۔ مگرانہیں کسی بھی حال میں اقتدار کی سیاست کا مہرہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ جولوگ کسانوں کو منظم کرنے کیلئے گاندھی جی کے طریقے سے واقف ہیں انہیں چمپارن ، کھیڑا ، باردولی اور برساد کی تحریکوں کے مطالعے سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ محنت مزدور احمدآباد لیبر یونین ایک ایسا نمونہ ہے جس کی تقلید سارے ملک کو کرنی چاہیے۔ خالص اور محض عدم تشدد اس کی بنیاد ہے ۔ اس کے اپنے اسپتال ، مل مزدوروں کے بچوں کیلئے اسکول ، تعلیم بالغان کےمراکز، اپنا چھاپہ خانہ ، کھادی ڈپو اوررہائش گاہیں ہیں۔ اسےپوری طرح عدم تشدد پرمبنی کامیاب ہڑتالیں کرنےکا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اسکےتحت مل مالکان اور مزدوروں کے درمیان تعلقات بڑی حد تک رضاکارانہ اور باہمی بات چیت سے طے پاتے ہیں۔ آدی باسی آدی باسیوں کی خدمت اگرچہ تعمیری پروگرام میں 16ویں مقام پر درج کی گئی ہے مگر اس کی اہمیت کسی بھی لحاظ سے کچھ کم نہیں ہے۔ جزامی کسی ہندستانی کے ذریعے خالص دردمندی اور جذبئہ خدمت کے ساتھ چلایا جانے والا واحد ادارہ واردھا کے نزدیک منوہر دیوان کا ادارہ ہے۔ یہ ادارہ ونوبا بھاوے کے فیضان اور رہنمائی کے تحت کام کررہا ہے۔ طلبہ | کسی بھی جماعتی سیاست میں شریک نہ ہوں ۔ | | 1. | | سیاسی ہڑتال نہ کریں۔ | 2. | | ایثار وقربانی کے طور پر کتائی کریں۔ | 3. | | کھادی اور دیہی مصنوعات کا استعمال کریں۔ | 4. | | وندے ماترم یا قومی پرچم کو دوسروں پرزبردستی نہ تھوپیں۔ | 5. | | اتحاد پیداکریں۔ | 6. | | پڑوسیوں کو ابتدائی طبی امداد پہنچائیں۔ | 7. | | قومی زبان ، ہندستاننی، کو اس کی موجودہ دونوں شکلوں میں سیکھیں۔ | 8. | | جوبھی نئی چیز سیکھیں اسے اپنی مادری زبان میں ترجمہ کریں اور اطراف کے دیہات میں اپنے ہفتہ واردوروں کے موقع پر اسے تقسیم کریں ۔ | 9. | | پوشیدہ طور پر کچھ نہ کریں اوراپنی جان جوکھم میں ڈال کر عدم تشدد کے ذریعے فسادات پر قابو پانے کی کوشش کریں ۔ اورجب جدوجہد اپنے نقطئہ عروج کو پہنچ جائے تو اپنے اداروں کو چھوڑدیں اور ضرورت ہوتو ملک کی آزادی کیلئے اپنے آپ کو قربان کردیں۔ | 10. | | ساتھی لڑکیوں کے ساتھ سنجیدگی ، بردباری اور بلند اخلاق بہادری کا برتاؤ کریں۔ | 11. | | | | |