معاشی اور سیاسی غیر اطمئنانی
فوجی انقلاب کوکچل کرہندستان میںبریٹش حکمرانی کوبچالیا گیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی آزادانہ لوٹ کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ ملکہ اعظم وکٹوریا کوہندستان کی ملکہ کا اعلان کیا گیا اورنئی پاللیسی کا دورشروع ہوا۔ صاف طور پرکہا جائےتوفوجی انقلاب عام لفظوں میںمغربی مفکروں،مذہبی دخل اورتارتارہوتےہوئےہندستانی ریاستداروں کی مخالفت تھی۔ ان پاللیسیوں کوختم کیاجاناتھا۔ لیکن نئی پالیسیاں حقییقت میں زیادہ تنقیدی اورآگےچل کرپرانی پالیسیوں کےبنسبت زیادہ نقصاندہ ثابت ہوئیں۔ ریاستی حکمراں بریٹش حکومت کےہاتھوں کی کٹھ پتلی بن گئے،انہیں مخالفت اوربڑھتی ہوئی طاقت کےخلاف ڈھال کےطورپراستعمال کیا گی۔ حکومت سماجی بدلاؤکوبڑھاوا نہیں دیتی تھی۔اب خاص طورسےتارہوتےہوئےمظالم، اندھی تقلید اورروایت مخالف مذھبی اصولوں اورمذہبی تشدد پھیلانےوالےلوگوں کوہوشیاری سےتحفظ دیا جارہاتھا۔ ان ہی سب پالیسیوں کےبعد میں بریٹش بادشاہت کاچہرہ پروان چڑھا اوراسکی جڑیں مذہبی اختلاف، ذاتی رواج اورچھواچھوت وریاستداری اوراونچےذات والوں کےدرمیان ایک کھائی بن گئی تھی۔
لیکن معاشی استحصال کی پالیسی نے اور بھیانک لیکن موافق شکل اختیارکرلیا۔ بڑھتی ہوئی غریبی اور کسانوں کی بے بسی کے نتیجہ میں عوام میں بیچینی پیداہونا لازمی تھا۔
عوام چاہےہندو ہوں یا مسلمان سبھوں نےجہاں کہیں بھی ممکن ہوا اوربہترطریقےسےاس اعلان کے خلاف جد وجہد کیا۔ ایک نئی انگریزی تعلیمی نظام میں تعلیم یافتہ طبقہ کام کاج چلارہاتھا۔ ہرمغربی چیزکےحمایتی حکومت کو مکمل تعاون دےرہےتھے۔ لیکن انکی اس داستاں نےجلدہی انہیں اپنی اصلی حیثیت کااحساس دلادیا۔ انہیں فوجی منصبوں اورحکومت میں اعلی عہدوںسےالگ تھلگ کردیاگیا۔ لیکن ایک طرف قحط زدہ حالت اوردوسری طرف حکومت کےبے پناہ خرچ اورہندستان کےکارخانوںمیں خوشحالی کےخاتمےکا گمان ہونے میں بہت زیادہ تاخیرنہیں ہوئی۔ ہندستانی شہریوں کے اندرانگریزوں کےاس برتاؤ سے نا امید ی اور پیداہوئی اور اس بےعزتی کو پڑے پیمانےپر محسوس کیا جارہا تھا۔
حکومت کے مختلف کاموں سے،منفی سوچ اورجماعتوں کی انگریزی روایت میں تعلیم یافتہ طبقوں کی تقویت کوٹھیس پہونچی۔ میکٹاف نےپریس کی آزادی کا جورواج شروع کیاتھا اسے ختم کر دیا گیا۔ 1878 میں ملکی پریس پرپابندی لگادی گئی اوربنگال کےامرت بازاررسالہ کوراتوں رات انگریزی ہنانا پڑا۔ 1879میں مذہبی قانون پاس کیا گیا۔ یہ ناامیدی اس وقت اوربڑھ گئی جب مذہبی منافرت کی بنیاد پرانصاف کےپیش نظرذات کی تفریق ختم کرنےکےالبرٹ منشورکو یورپی لوگوں اورسول خدمت کی کڑی مخالفت کیوجہ کردرمیان میں ہی چھوڑدیاگیا۔ یورپ کےلوگوںنےوائسرائےلارڈ رپن کو یہ دھمکی دینےسے بھی گریز نہیں کیا کہ اگریہ بل پاس کیا گیا تو بڑے پیمانےپرتشدد ہوگا۔اس سےہندستانیوں نےایک ایسا سبق سیکھا جسے بھلایا نہیں جاسکتا۔ 1853میں پہلا سوتی کپڑامل کی بنیاد بمبئی میں پڑی۔ 1880 تک ان ملوں کی تعداد 156 ہو گئی۔ اس میدان میں بڑی سرعت سےترقی ہوئی اورلنکاشائرکےدباؤ میں آکر1882میں ہندستان کپاس کی برآمد پرلگے تمام ٹیکس پوری طرح ہٹالئے گئے۔
سماج کی دوسری بیداری
کانگریس کی پیدائش صرف معاشی استحصال اورسیاسی خلاء کی وجہ کر نہیں ہوئی۔ اسمیں شک نہیں کہ کانگریس کےسیاسی مقصد بھی تھےلیکن وہ قومی بیداری انقلاب کا حصہ اوردل کی بات کرنےکیلئےایک اسٹیج بن گئی ۔ کانگریس کی پیدائش سے پچاس سال سےپہلےسےقومی بیداری کی طاقتیں کام کررہی تھیں۔ حقیقت میں راجہ رام موہن رائےکےوقت سےہی سیاسی زندگی میں ہلچل شروع ہوگئی تھی۔ ایک طرح سےرام موہن رائےکو ہندستانی قومیت کا مسیحا اورنئےہندستان کا موجد مانا جاتاہے۔ انکا نظریہ بڑامستفید تھا اوروہ سہی معنوں میں ضدی تھے۔ یہ سچ ہےکہ اپنی اصلاح پسند تحریک میں انہوں نےسب سےزیادہ دھیان اپنےوقت کی سماجی، معاشی حالت پردی۔ لیکن اپنےوقت میں ملک پرہورہےخطرناک سیاسی ظلم کا پورا احساس تھا اورانہوںنےان زیادتیوں سےجلد ازجلد آزادی پانےکیلئےبڑی جانفشانی سےجدوجہد کی۔ 1776میں پیداہوئےراجہ رام موبن رائےکا انتقال 1833میں برسٹل میں ہوا۔ انکا نام ہندستان کےدواہم سماجی اصلاح سےجڑاہوا ہے۔ یہ ہےستی رواج کا خاتمہ،اورملک میں مغربی تعلیم کی شروعات۔ اپنی زندگی کےآخری ایام میں وہ انگلینڈ گئے۔ آزادی کیلئےانکی تڑپ اتنی زیادہ تھی کہ انہوںنےیہ خواہش ظاہر کی کہ جب انکی واپسی کا سفر ہوتوانہیں فرانس کےاس جہازپر لےجایا جائے جس پرآزادی کا پرچم لہراتا دیکھاتھا تاکہ وہ اس پرچم کیلئے فخربیان کرسکیں۔ پرچم کودیکھتےہی وہ چیخ اٹھے‘‘پرچم کی جئےہو‘‘جئےہو‘‘وہ انگلینڈ خاص طورسےمغل شہنشاہ کےسفیربن کربرطانیہ میں اسکےموافقت کی وکالت کرنےگئےتھے۔ لیکن ہاؤس آف کامرس کی تنظیم کےسامنےہندستانیوں کی اجاگر پریشانیوں کا ذکرکرنےسےنہیں چوکے۔ انہوں نےہندستان کی ملکی نظام، ہندستانی عدلیہ نظام اورہندستانی سامان کی حالت کےبارے میں تین خطوط تنظیم کےسامنےپیش کئے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نےانکےتعظیم میں منظم طریقےسےرات کےکھانےکا اہتمام کیا۔ 1832 میںجب بریٹش پارلیمنٹ میں چارٹرقانون پرتبادلہ خیال ہورہاتھا توانہوںنے قسم کھائی کہ اگریہ منشور پاس نہیں ہوا تو وہ بریٹش شہریت ترک کرکےامریکہ میں رہنے لگیں گے۔
1858 میں یونیورسیٹیوں کا قیام عمل میں آیا اور1861 اور1863 کےدرمیان ہائیکورٹ اورکونسل کاقیام ہوا۔ فوجی انقلاب سےکچھ ہی دن پہلےبیوہ کی دوبارہ شادی قانون، اورعیسائی مذہب اختیارکرنےسےمتعلق قانون پاس کیا گیا۔1860 کےسال میں مغربی تعلیم اورادب میں نزدیکی رشتہ قائم ہوا۔ مغربی قانونی اورپارلیمنٹری احکام اپنائےجانےسےقانون اوردستور کےمیدان میں نئےزمانےکا استقبال ہوا۔ مشرق پرمغرب کی تہذیب کےاثرات نےہندستانی عوام کےاعتماد، جذبات پرگہرا اثر ڈالا۔ صرف بنگال، بمبئی، اورمدراس ریاستوں میں ہی نئےطرز پرتھوڑی بہت تعلیم مہیا ہوئی۔ ان ریاستوں میں بھی تعلیم یافتہ لوگوں کی تعداد بہت کم تھی۔ فوجی انقلاب کےبعد کےحالات میں ان تعلیم یافتہ لوگوں کواپنی اہمیت کوظاہرکرنےکا کافی موقع ملا۔ ان لوگوں نےاپنےانگریزآقاؤں کی طرح سوچناشروع کردیا اورمغرب سےآنےوالی ہرچیزکی حمایت اورطرفداری کی۔ انگریزوں کی اندھیرگردی کا یہ دوربنگال میںخاص طورسےمرکوزتھا۔
لیکن جلد ہی ان خیالوں کی مخالفت ہونے لگی اوریہ مخالفت کئی شکل میں سامنے آئی۔ کبھی مغرب اورمشرق اختلاط کی شکل میں کبھی ماضی کی واپسی کے بیداری کی شکل میں۔
راجہ رام موہن رائےکی زندگی میں بوتےگئےمذہبی بدلاؤ کےپودھےپھلدارہونےلگے۔ راجہ رام موہن رائےکےنائب کیشوچندر سین نےبرہمن سماج کی دوردورتک تشہیرکی اوراسکےاصولوں کونئےسماج کےموافق بنانےکی جہت دی۔ انہوںنےخوداعتمادی تحریک پراپنی توجہ مرکوزکی اورانگلینڈ کےاصلاح پسندوں کی حمایت کی۔ 1872 میں قانونی شادی دستور3 پاس کرانے میں انکی بہت بڑی کوشش تھی۔
بنگال میںبرہمن سماج کےاشتہارکا پورے ملک پراثرپڑا۔ پونامیں اس احتجاج میں ایم۔ جی۔ راناڈے کی قیادت میں التجائجیہ سماج بنا۔ایم۔ جی ۔ راناڈے کوسماجی اصلاِح احتجاج کےعلمبردارکی شکل میں یادکیاجاتا رہےگا۔ یہ احتجاج طویل عرصےتک کانگریس سےجڑارہا۔ اس اصلاحی احتجاج کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ یہ ماضی کی روایتوں اورملک میں صدیوں سےچلےآرہی تقلیدوں اورمنّتوں کا مخالف تھا۔ مخالفت کا یہ جذبہ مغربی تنظیموں کی غیرضروری جگمگاہٹ سےپیداہوئی تھی اوراس سے جڑی ہوئی سیاسی اہمیت نےاسےاورتنقیدی بنادیا۔ ملک کی روایتی منّتوں کی مخالفت کی اس تبدیلی کا اصلاحی احتجاجوں کے ذریعہ مخالفت ہونافطری تھا۔
شمال مغرب میں سوامی دیانند سرسوتی کےذریعہ قائم آریہ سماج اورجنوب میں رہبانیت احتجاج نےمغربی تعلیم وتمدن کےساتھ آئی شاطراورمذہبی جذباتی جنون کوپھلینےسےروکنے کیلئےدیوارکاکام کیا۔ یہ دونوں ہی احتجاج پورے وطن پرست تھے۔ صرف دیانند سرسوتی کی پیروی سے پیداہوئےآریہ سماج کی وطن پرستی کچھ زیادہ تنقیدی تھی ۔ آریہ سماج نےویدوں اورویدی تہذیب کی فضیلت اوراہمیت کی تشہیرتو کی لیکن ساتھ ہی وہ کارآمد سماجی اصلاح کاروں کی حمایت نہیں تھی۔ اس طرح اس نےملک میں ایک مظبوط پیروکار کا جذبہ پیداکیاجو اسکی وراثت اورماحول کےعین موافق اعتدال کی نشانی تھا۔ اس نےہندومذہب کےمذہبی اندھی تقلیدوں اوراس وقت کی سماجی برائیوں کےخلاف اسی طرح سےجدوجہد کیاجیسےبرہمن سماج نےبت پرستی اورکئی ازواج رواج کے خلاف کوشش کی تھی۔
رہبانیت احتجاج نےاپنےمذاکرے اورہمدردی کا احاطہ تودنیا کےلحاظ سے رکھا لیکن سابقہ تہذیب کی شانداراورعظیم روایتوں کےدوبارہ قیام پرخاص زوردیا اسی جذبے سےمتاثرہوکر محترمہ اینی بنسٹ نے ہندستان کےمذہبی جگہ بنارس میں ایک کالج کی سفارش کرنے کے ساتھ ساتھ مغرب کی اہمیت پر پابندی لگانےمیں بھی مددکی اور ایک بارپھر اس قدیم ملک کی طرف رخ کیا۔
ہندستان میں کانگریس کےوجود سےقبل قومی بیداری کی شروعات صوفی راماکرشنا پرم ہنس کی قیادت میں بنگال میں ہوئی ۔ سوامی راماکرشنا نےبعد میں سوامی وویکانند کےذریعہ سےمشرق اورمغرب تک اپنا پیغام پہنچایا راماکرشنا تحریک صرف جھاڑپھونک اورقدامت پرستی سےمنسلک تنظیم نہیں تھی، بلکہ یہ خالص رہبانیت سےجڑی تھی جس نےعام اجتہاد یا سماجی خدمت کےسچےفرض سےکبھی مہنھ نہیںموڑا۔
امریکہ میں توفانی ہندو‘کےنام سےمشہورسوامی وویکانند نےامریکہ، یورپ، مصر، چین اورجاپان میں صرف ہندستان کا پیغام ہی نہیں پہچایا بلکہ وہ خود بھی مغربی تہذیب سےبہت متاثر ہوئےاورانہوں نےہندستان میں ہمالہ سےکنیاکماری تک دوبارہ استفادہ کا نیا پیغام دیا۔ انہوں نےآزادی ، برابری کےساتھ ساتھ عوامی بیداری پر خاص زوردیا۔ وہ مغرب کی ترقی اورہندستان کے تفکر کا مشرن چاہتے تھے۔ انکی تقریروں اور تحریروں کا ایک ہی اہم پہلوتھا ‘‘ بے خوف اور مظبوط بنو کیونکہ کمزوری گناہ ہے موت کا دروازہ ہے‘‘۔
سوامی وویکانند کےہم خیال لیکن ان سے بہت بعد کی نسل کےمعمارتھے رابندرناتھ ٹیگور۔ ٹیگورخاندان نےانسیویں صدی میں بنگال میں کئی سماجی اصلاح کی تحریکوں میں خاص کردار اداکیا۔ اس خاندان ئےملک کو کئی نامورلیڈراور فنکار دئے۔ ہندستانی عوام پرٹیگورکا اثراورانکےادب، شاعری، ڈرامہ، سنگیت، سماجی اورثقافتی زندگی کی اورسیاسی رجہان پرٹیگور کےعکس کی خوبصورتی اورتزئین کاری کا سحر لازمی ہے۔ یہ عکس انسان کی شخصیت اور ذہن کی ایسی نایاب مثال ہے جو جذباتی نسلوں کو متاثر کرتا رہےگا اورنئےرنگ دیگا۔ حقیقت میں ٹیگورکا کام مشرق اورمغرب، نئےاورقدیم اور ملک میں ابھر تی حب الوطنی اوردیناکےاراکین کے بیچ کا اچھوتا تال میل ہے۔
یہ قانون اوراحتجاج حقیقت میں نئی قومی بیداری اورامنگ کےماحصل تھےاوریہی آہستہ آہستہ قدم درقدم آگےچلکر ہندستانی قومی کانگریس کی شکل میں تبدیل ہوئی۔
کل ہند تنظیم کا خیال
کانگریس کی پیدائش کا سہرااکثر ایلن آکٹووین ہویوم کو دیا جاتا ہے جنہوں نےوائسرائےلارڈ افرین کے زیراثراس کی شروعات کی تھی۔ اس طرح انگریزوں کو ہندستانی حب الوطنی کا مورث اعلی مانا جاتاہے۔ یہ سچ ہے کہ ہویوم1885میں ہوئے کانگریس اجلاس کےمنتظم تھے۔ لیکن آگے چلکر یہ صاف ہوگیا کہ حقیقت میں کانگریس ملک میں سراٹھارہی مختلف سیاسی،اقتصادی اور سماجی طاقتوں کا تعاون بھی ہے۔
بریٹش حکمرانوں کا زیادہ بیدارطبقہ ملک میں بڑھتی ہوئی غیراطمئنانی سےناآشنا نہیں تھا۔ اس وقت ایک غیرذمہ دارحکمراں ایک طرف برسراقتدارتھا دوسری طرف ایک بڑی تعداد دھکتےہوئےآتش فشاں پرکپکپاتی بیٹھی تھی۔ جناب ہویوم نےاس بات کےبہت سارے ثبوت جمع کئےکہ ملک کی بھوکی اورپریشان حال تعداد کےذریعہ انقلاب آنا ممکن ہے۔ انہوں نےاس عوامی مقبولیت کوغیرمضرراہ کیطرف موڑنے کےطریقوں اوراس کےحل کوڈھونڈنے کی کوشش کی۔
انہوں نے1مارچ 1883 کو کلکتہ ہونیورسیٹی کےسند یافتہ کوایک خط لکھا اورآل انڈیا طرزپر دستور کےساتھ تحریک چلانے کیلئے 1884 میں کل ہند قومی اتحاد کا قیام کیا جسکی نشست بعد میں ہونا میں ہونی تھی۔ شروع شروع میں حکومت نےاس تنطیم کو تحفظ دیا لیکن بعد میں اسے محسوس ہوا کہ تنظیم اسکے ہاتھوں سے نکلتی جارہی رہی ہے اورپھر تحفظ واپس لے لیا گیا ۔ بعد میں اس تنطیم کو غدّارِ وطن کا کارخانہ کہا گیا اور لارڈ افرین نے تو اس ہندستانی عوام کی بہت چھوٹی سی تعداد کا قائد بتایا۔
بعد میں بنگال میں انڈین اسوسییشن اورپونا میں راناڈے کی قیادت میں عام جلسہ اورمدراس میں بڑاعوامی جلسہ جیسی مقبول عام تنظیمیں بنیں 1877 اوراسکےبعد کےسالوں میں سرندر ناتھ بنرجی نے ہندستانی ہوم رول اوراس وقت کےسیاسی سوالوں کےمعاملے پررائےعامہ تیارکرنے کیلئے پورے ہندوستان کا سفر کیا۔ 1877 میں انہوں نےدلی دربارمیں حصہ لیااور وہیں پہلی بارآل انڈیا طرز پرقومی احتجاج شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس طرح حکومت کے ذریعہ قومی کانگریس کے قیام کی پہل کرنےاورسہرا لینےاور اسےاپنےاختیار میں رکھنے کا راستہ صاف ہوا۔